Topics

سوال : انسان کو اللہ نے کتنا اختیار دیا ہے حضور قلندر بابا اولیا ء ؒنے فر ما یا ہے کہ انسان کوئی کام اپنے سے ارادہ سے نہیںہے

 

عام طریقے سے اس سوال کا جواب جو سمجھ میں آجا تا ہے وہ حضرت علی کرم واللہ وجیہہ سے منسو ب ہے وہ نماز کے لئے مسجد میں جا رہے تھے ایک صاحب آئے انہوں نے کہا کہ صاحب یہ بتا ئیے انسان کو کتنا جبر حاصل ہے اور کتنا قدر حاصل ہے ۔ یعنی مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے اختیارات میں اتنا مجبور ہے اور کتنا با اختیار ہے۔ حضرت علی کرم و اللہ وجیہہ نے اس شخص سے کہا ؛اپنی ایک ٹانگ اٹھا ئو پیر اٹھائو زمین سے اس شخص نے اپنا ایک پیر اٹھا لیا ایک پیر پر کھڑا ہو گیا حضرت علی نے فرمایا کہ وہ دو سرا پیر بھی اٹھا ئوتو وہ جب دو سرا پیر نہیں اٹھا سکا تو ظاہر ہے دو سرا پیر اٹھا ئی ہی نہیں سکتا وہ گر جاتا حضرت علی نے فرمایا کہ بس جب انسان جبرو قدر کا یہی مسئلہ ہے انسان کو اتنا اختیار ہے۔ اگر وہ دو ٹانگوں پر چل رہا ہے تو وہ ایک ٹانگ یا ایک پیر اٹھا سکتا ہے اور دوسرا پیر نہیں اٹھا سکتا ۔

تو ایک پیر اٹھا نے میں توبا اختیار ہے لیکن دو نوں پیر اٹھا نے میں وہ با اختیار نہیں ہے مجبور ہے گر جا ئے گا کھڑا نہیں رہے سکتا ۔ یہ بات جو ہے واقعی ہے لیکن اگر اس کو علمی اعتبار سے یا روحانی علم کی روشنی میں بیان کیا جا ئے تو یہ جبرو قدر کا مسئلہ آج سے نہیں ہے ۔  یہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے زمانے سے چلا آرہا ہے لو گوں نے جبرو قدر کے مسئلے کے او پرہزاروں ہزاروں کتابیں لکھ لی بڑے بڑ ے مشاوراتیں ہو ئیں بڑے بڑے فلسفے بنے بڑے بڑے دانشوروںنے اپنے عقل و شعور کا ثبوت دیالیکن یہ مسئلہ حل نہیں ہو ۔  بات پھر وہی ہے اگر اللہ تعالیٰ شیطان کو چھوٹ نہ دے دیتے تو ظاہر ہے نہ شیطان وسوسہ ڈالتا نہ آدمی گناہ کرتا اب جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو چھوٹ  دے دی وسوسہ ڈالنے کی اور قرآن میں بھی یہ ہے شیطان تمہارا دشمن ہے تمہا رے آگے سے بھی آکر تمہیں بہکا ئے گا، تمہا رے پیچھے سے بھی آکر تمہیں بہکا ئے گا ،تمہارے دائیں با ئیں سے بھی آکر تمہیں بہکا ئے گا ،تمہارے اندروسو سہ ٖڈالے گا اب تمہارا کام یہ ہے کہ وسوسے کو اس کی جو شیطنت ہے اس کو قبول نہ کرو اب مسئلہ وہی ہے قبول کس طرح نہ کر یں تو یہ علمی اعتبار سے صدیا ں گزر گئی یہ مسئلہ حل نہیں ہوا۔

 غالب نے بھی کہا ہے (نا حق تہمت ہے خودمختاری کی   جو کر یں ہیں آپ کر یں ہیں بس ہمیں بد نام کیا )غالب نے بھی کہا خود مختاری کو لیکن ان کا فارسی میں بھی بڑا اچھا شعر ہے (قال دریا تخت بدم کر گئی   دامن تربدہو شیار با شقیں ) اللہ تعالی نے بندے کو ایک تختے پر با ندہ کر رسیوں سے اور دریا کے ا ندر ڈبو دیا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ کہے رہے ہیں خبر دار کپڑے نہیں بھیگنے چا ہئے مقصد یہ ہے کہ بہت سارے لوگوں نے بڑی جدو جہداور کو شش کی کہ یہ اختیار کا مسئلہ کیا ہے جبرو قدر کیا ہے انسان کہاں تک مجبور ہے کہاں تک اختیارات حاصل کرنے کی قدرت حاصل ہے ۔

 اس سلسلے میں حضور قلندر بابااولیا ء ؒ نے اپنی کتاب لوحِ قلم میں کا فی تفصیل روشنی ڈالی اور با لاخر انہوں نے یہی فرمایا کہ انسان جو ہے نظر تو یہ آرہا ہے پیروں کے بل چل رہا ہے لیکن صورت حال یہ ہے کہ زمین پر پیروں کے بل جو انسان چل رہا ہے positive  ہے اس کا جو Negative ہے وہ الٹا ہے اور وہ خلا ء میںلٹکا ہوا ہے اور صورت یہ ہے کہ پیر اوپر ہے سر نیچے یہ سب جا نتے ہے Negative، positive  جو ہے با لکل الگ ہوتا ہے Negative  با لکل الگ ہوتا ہے Negative  با لکل الٹا ہوتا ہے الٹے کا جب سیدھا آتا ہے اس کو positive کہتے ہیں تو اصل جو ہے اگر آپ انسان کو فو ٹو سمجھ لیں تو اس فوٹو کا جو positive  ہو گا ظاہر وہ الٹا ہوگا نہیں Negative  جو ہو گا وہ الٹا ہو گا Negative  سے جب آپ positive بنا ئیں گے تو وہ سیدھا ہو گا۔

  تو اب میں نے بھی اس سلسلے میں اپنی بصارت کے مطا بق جیسے اور لو گوں نے سو چا میں نے بھی سوچا تو اگر ہم اس اختیار جبرو قدر کے اختیار کی بنیاد پر غور کر یں کائنات کی تخلیق پر غور کریں تو بات بہت آسانی سے میرے خیال میں سمجھ میں آجا تی ہے اور اس میں کوئی بات ایسی نہیں ہے انسان کو اللہ تعالیٰ نے مجبور پیدا کر دیاہے تو جب مجبور پیدا کر دیا تو کیسا گناہ کیسی دوذخ کیسا عذاب کسی تکلیف صورت حال یہ ہے کہ یہ ساری کائنات information ا طلاعات پر قائم ہے اور اس کی مثال اس کا مشاہدہ ہر آدمی اپنی زندگی میں کرتا ہے کہ اگر اسے یہ اطلاع ملتی ہے کہ یہ میرا بیٹا ہے تووہ اس کا بیٹا ہوتا ہے ،اگر اسے یہ اطلا ع ملتی ہے کہ یہ میرا دوست ہے ،اب اطلا ع کی بہت ساری صورتیں ہیں مثلاً یہ اس نے شادی کی، شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے اولاد سے نوازا کیاتو اب یہ شادی جو ہے یہ بھی ایک information ہے اطلاع ہے اب یہ ہے کہ پہلے وہ ایک تھا اب اس نے شادی کر لی اب اس کی بات سمجھ میں آگئی ہے کہ یہ میری بیوی ہے اور خاتون کی اطلاع میں یہ بات آگئی ہے کہ یہ میرا شوہر ہے۔ ان اطلاعا ت کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے اولاد عطا کی تو دونو ںمیں یہ اطلا ع information بنی کے یہ میری ہی اولاد ہے۔

 اسی صور ت سے بھوک پیاس کا مسئلہ ہے کہ جب تک کسی آدمی کے اندر پیاس کا تقاضہ نہیں ابھر تا یعنی اسے پیاس نہیں لگتی تو وہ پانی نہیں پیتامقصد یہ ہے کہ جب ہمیں پانی پینے کی اطلاع ملتی ہے یا پا نی پینے کا خیال ہمارے اندر آتا ہے تو اور پانی پینے کے خیال کا نام ہم نے پیاس رکھ لیا، کھانا ہم اس وقت تک نہیں کھا تے جب تک ہمیں بھوک نہیں لگتی تو اس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ جب تک ہمیں یہ اطلاع فرا ہم نہیں کی جا تی بھئی تمہارے جسم کو غذا کی ضرور ت ہے اب بھو کا رہناجو ہے وہ کمزوری کا با عث ہو گا ۔

جب ہمیں یہ اطلاع فراہم ہوتی ہے کہ ہمیں کچھ نہ کچھ غذا چا ہئے زندگی کے لئے تو اس اطلا ع informationکا نام ہم نے بھوک رکھ لیا اسی صورت سے کبھی ہمیں یہ اطلا ع ملتی ہے کہ ہمارا کوئی خدانخوستہ قریبی عزیز خدا کا پیارا ہو گیا اس اطلا ع کی بنیاد پر ہم رو نے لگتے ہیں ہم پریشان ہو جا تے ہیں، کبھی ہمیں یہ اطلاع ملتی ہے کہ فلاں دو ست ہمارا اس کو اللہ نے بڑی ترقی ہمت تر قی دی یا ما ل دو لت میں تر قی دی، جب ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ ہمارا ایک بھا ئی جو بس کنڈیکٹر تھا وہ وزیر بن گیا ظاہر ہیں ہمیں بڑی خوشی ہو گئی اللہ میاں نے دیکھو ہمارے دو ست کو اتنا بڑا رتبہ دے دیاتو یہ جو اطلاع ہے وہ وزیر بن گیایا جو اطلا ع ہے وہ چپڑاسی بن گیا یا بس کا کنڈیکٹر بن گیا تو یہ بھی ایک خبر ہے اس خبر کی بنیاد پر ہم خوش ہو تے ہیں یا غمگین ہو تے ہیں۔

 اب مثلاً ہم زندہ ہیں تو ہم اس بات کو تسلیم کرے یا نہ کر ے لیکن ہمارے شعور میں برابر یہ اطلاع آرہی ہے کہ ہم زندہ ہیں ،ہم زندہ ہیں ،ہم زندہ ہیں اس اطلاع کی بنیاد پر ہم زندہ ہیں لیکن جب یہ اطلاع زندگی سے متعلق ہے اس کا ختم ہو جاتا ہے ہم مر جا تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہواہمیں یہ اطلاع ملی کہ ا ب ہماری زندگی ختم جب آدمی مر نے لگتا ہے تو اس کو پتا چل جاتا ہے کہ اب زندگی ختم بلکہ کہنا بھی شروع کر دیتے ہیں ۔بوڑھے لوگ بھئی اب کیا ہے اب تو آخری وقت ہے اب تو یار یہ دعا کرو اللہ وہاں کی اچھی کر ے ، لوگ سے کہنے شرو ع کر دئیے کہ اب وہ مرنے کی اطلاعا ت ہیں اس کو آہستہ آہستہ قبول کر نا شروع کر دیتا ہے اور جب ان اطلا ت کو پو ری طرح قبول کرنا شروع کرلیتا ہے ۔  تو نتیجہ یہ نکلا ساری زندگی اور زندگی کے سارے تقاضے اطلا عات پر قائم ہے اگر اطلاع ملتی رہتی ہے تو آدمی حرکت کرتا ہے اور اگر اطلا ع نہیں ملتی تو آدمی حرکت نہیںکرتا وہ مر جا تا ہے یا منجمد ہو جا تا ہے تو اب جو یہ کا ئنات کا سارا سسٹم بنا وہ دراصل اطلاعا ت کے اوپر بنا۔

  خبر ہے خبر آرہی ہے مسلسل اب مثلا ً ہمیں یہ اطلاع ہے یا علم ہے ہمارا کہ آگ ہمیں جلا دیتی ہے ساتھ سا تھ ہمیں یہ بھی اطلا ع ملی اگر آگ پر کوئی چیز پکا ئی جائے تو کھا نا تیار ہو جاتا ہے زیادہ پکا ئی جا ئے تو گوشت بھی جل جا تا ہے پانی بھی جل جا تا ہے ہنڈیا بھی جل جاتی ہے ۔اب ہمیں یہ ا طلا ع ہے کہ آگ جلاتی ہے لیکن آگ پانی کو جلا تی ہے جب پانی کو جلا تی ہے اس کا مطلب ہے ہر چیز کو جلا تی ہے اب گو شت جب آپ پکا تے ہیں تو گو شت میں پانی ڈالتے ہیں تو جو چیز گوشت کو گلا نے والی ہے وہ پانی کا پکنا ہے جب نیلی آگ جلے گی پانی کے اندر آگ کی جوheat گر می ہے وہ پانی کے اندر منتقل ہو گی جیسے جیسے پا نی کے اندر وہ heat منتقل ہو گئی پانی ابلے کا جوش کھا ئے گا اس پا نی کے اندر جو heat پیدا ہو جا ئے گی اس heatکی بنیاد پر گو شت گلتا ہے ۔اگر پانی کے نیچے آپ برف رکھ دیں اور اس ہنڈیا میں گوشت ڈال دیں کبھی بھی نہیں گوشت گلے گا۔

 پا نی اگر کھول جا ئے گا یعنی پانی آگ بن جا ئے گا یا آگ کے روپ میں خود کو ڈھال دے گا یا اس کی ماہیت تبدیل ہوجا ئے گی گر م مثلا ً آگ میں ہاتھ ڈالیں ہاتھ جلے گا اور کھولتا ہوا پا نی ڈالیں تب بھی آگ جلے گا تو اس کا مطلب ہے کہ کھولتے ہوئے پا نی میں آگ کی ما ہیت پیدا ہو جائے گی۔ اور جب آگ کی ما ہیت پانی میں پیدا ہوئی تو اس heat نے گوشت کو گلا دیا اوار آپ کیلئے کھا نا تیار ہو گیا تو اب یہ بات آپ لوگوں کی سمجھ میں آگئی ہے یہ ساری کی ساری کائنات پیدا ئش سے لیکر مرنے تک اور پیدا ئش کے اور موت کے درمیان جتنا بھی عر صہ ہے وہ سوائے اطلا ع کے سوائے انفا رمیشن کے کچھ نہیں ہے۔  اب صاحب ہم زندہ ہیں یہ بھی اطلا ع ہے ، ہم مر گئے یہ بھی اطلا ع ہے، ہم کھا نا کھا رہے ہیںیہ بھی اطلا ع ہے ، ہم سو رہے ہیں یہ بھی اطلاع ہے ا ب دیکھیں اب آپ کام کر تے ہے سارا دن اب رات کو جب آپ تھک کے چور ہو جا تے ہیں آپ کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں اب آپ کے ذہن میں ایک ہی تقاضہ ہوتا ہے کہ سونا چاہئے ،  سو نا چا ہئے تاکہ جسم کو آرام ملے تو یہ سو نا چا ہئے تاکہ جسم کو آرام ملے اس کو بھی اطلا ع کے علاوہ آپ کوئی نام نہیں دے سکتے ۔

  یعنی ایک خبر آپ کومسلسل مل رہی ہے اب سو جا ئو گے تو اعصاب کو آرام ملے گا ۔اور نہیں سوئے گے تو یہ اعصاب جو ہیں اور زیادہ تھک جا ئیں گے۔اور زیادہ کھنچ جا ئیں گے ٹینشن ہو جا ئے گا، کوئی دماغی مر ض لا حق ہو جا ئے گا آپ سو جا ئو جب آپ اس اطلا ع کو قبول کر تے ہیں تو سو جا تے ہیں صبح کو پھر اٹھتے ہیں پھر کام شروع کر دیتے ہیں ۔اب یہ ایک نظام بن گیا کا ئناتی جو سسٹم ہے ،یہ جو کائناتی نظام ہے ،یہ جو کائناتی حیات ہے، وہ ساری کی ساری انفارمیشن پر اطلا ع پر قائم ہے ۔اب ان اطلاعا ت کو کیسے سمجھا جا ئے ان اطلاعات میں معنی کس طرح پہنا ئے جا ئیں ۔ اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبروں کاسلسلہ شروع کیا۔ ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبر کہے جا تے ہیں اللہ کو پتا ہے کتنے ہیں ،  کہا جا تا ہے ایک لا کھ چو بیس ہزار ان پیغمبروں کی تعلیمات پر جب ہم فکر کر تے ہیں غور کر تے ہیں تو ہمیں ایک بات نظر آتی ہے کہ پیغمبروں نے information  میں اوراطلا ع میں معنی پہنانے کا عمل نو ع انسانی کو منتقل کیا ۔

مثلاً اب بکر ی ہے بکر ی کو بھی بھوک لگتی ہے انسان کو بھی بھو ک لگتی ہے ۔تو بھوک لگنے کی اطلاع میں بکر ی اور انساان دونوں برابر ہیں ۔ پیاس بکر ی کو بھی لگتی ہے پیاس انسان کو بھی لگتی ہے ، گرمی انسان کو بھی لگتی ہے گر می جب دیکھئے بہت زیادہ گر می ہوتی ہے تو بکر ی بھی تلا ش کر کے درخت کے سائے کے نیچے چلی جا تی ہے یا کہیں کنواں ہو گا پا نی ہو گانہر ہوگی وہاں جا کر بیٹھ جا ئے گی یہی صورت انسان کی بھی ہے انسان بھی گر می سے بچنے کے لئے سایہ تلاش کر ے گا ۔لیکن انسان میں اور بکر ی میں یہ فرق ہے کہ انسا ن کو اطلاعات میں اس طرح کے معنی پہنا دیتا ہے کہ وہ بکر ی محتاج ہے اس بات کی کہ کہیں درخت ہو تو سائے میں بیٹھے ۔ لیکن انسان کواللہ تعالیٰ نے یہ اختیار دے دیا ہے جنگل میں بیانان میں، شہر میں، بستی میں چھت ڈال کے رہے سکتا ہے ۔ بکر ی جو ہے چھت نہیں ڈال سکتی بکر ی جو ہے گھر نہیں بنا سکتی تو پیغمبروں نے جو علوم انسان کو نو ع انسانی کو منتقل کئے تو وہ اطلاع میں دراصل اچھا ئی اور برا ئی کو الگ الگ بنا کر پیش کئے ۔

  پیغمبروں نے اس اطلاع میں یہ حد بندی قائم کی کہ اگر اس اطلا ع کو آپ اس طرح قبول کر ے گے تو یہ اللہ تعالیٰ کے لئے پسندیدہ ہے اور اس اطلاع کو آپ اس طرح قبول کر کے عمل کرے گے یہ اللہ تعالیٰ کے لئے نا پسندیدہ ہے۔مثلا ً آپ کو بھوک لگ رہی ہے تو اب بھوک بکر ی کو بھی لگ رہی ہے بھوک آپ کو بھی لگ رہی ہے بکر ی جہاں سے دل چا ہئے منہ مار کے اپنا پیٹ بھر لے گی اب بکر ی کو یہ اطلاع نہیں ہے اگر کسی کے حق کو مار لیا جا ئے تو یہ بات ناپسندیدہ ہے لیکن انسان کو پیغمبروں کے ذریعے یہ علم منتقل ہو گیاکہ اگر محنت مزدوری کر کے پیٹ بھرو گے تو یہ اللہ تعالیٰ کے لئے پسندیدہ ہے لیکن اگر تم کسی کے حق میں ڈاکا مار کر چوری کر کے جیب کا ٹ کے یا ظلم سے حق چھین کر اپنا پیٹ بھرو گے تو یہ عمل جو ہے یہ اللہ تعالیٰ کے لئے نا پسندیدہ ہے۔  اب مثلا ً جہاں تک کھا نے پینے کا تعلق ہے ایک آدمی محنت مزدوری کر کے آٹا خریدتا ہے ۔

ایک آدمی رشوت لیکر آٹا خریدتا ہے تو محنت مزدوری کر کے جو آٹا خریدتا ہے آٹا بھی وہی ہوتا ہے جورشوت کے پیسوں سے خریداجاتا ہے ۔محنت مزدوری کر کے ایک مزدور جب اپنے گھر میں آٹا لیجا تا ہے اوراس گھر کی خاتون جو ہے اس آٹے کو گوندتی ہے تو توے پر روٹی ڈالتی ہے پکاتی ہے تو اس کی روٹی بھی ویسے کی پکتی ہے جیسے رشوت کے آٹے کے پکتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ محنت مزدوری سے جو آٹا جو گھر میں لا یا گیا اس کی روٹی تو میٹھی ہوتی ہو اور رشوت سے اور چھین جھپٹ کے آٹے سے جو روتی پکائی گئی جب اس کو کھا ئیں تو لوگ کڑوا تھو تھو کر یں مزہ دونو ں کا ایک ہی ہوتا ہے لیکن صورت یہ ہے کہ پیغمبر ان علیہ الصلوٰ ۃ و السلام نے یہ اطلا ع فراہم کر دی ہے اگر اللہ کے بنا ئے ہوئے قانون کے مطا بق روٹی کھا ئو گے اور اپنے بچوں کو روٹی کھلا ئو گے تو وہ انسانوں کے لئے جا ئز ہے ۔تو اگر بھیڑ بکریوں کی طرح ڈھول ڈنگر کی طرح جہاں سے جی چا ہا منہ مار دیا اورروٹی کھا لی جیسے کتے ایک دو سرے سے چھین جھپٹ کے روٹی کھا لیتے ہیں تو کتے کے اوپر کوئی قانون نا فذ نہیں ہے اگر انسان کتوں کی طرح ایک دوسرے سے چھین جھپٹ کے روٹی کھائے تو ان کے اوپر قانون نافذ ہو جاتا ہے۔

  اس لئے قانون نا فذ ہو جا تا ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کے ذریعے یہ علم منتقل کر دیا ا نفا رمیشن میں جو معنی تمہیں پہنا نے ہیں وہ معنی  پہنا نے ہیں جو اللہ اور اللہ کے رسول کے مطا بق ہو۔  جتنے بھی آپ کام کر تے ہیں یا زندگی کا کوئی بھی عمل کر تے ہیں جا ئز نا جائز میں آپ بچنے کی کوشش کرتے ہیں۔یہ ا یسے نظر نہیں آئے گا یہ ایک کام جو نا جا ئز ہے وہ اللہ تعالیٰ کے لئے ناپسندیدہ ہے چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لئے نا پسندیدہ ہے اس لئے آپ کا ضمیر خبردار کرتا ہے اورجو چیز اللہ تعالیٰ کے لئے نا پسندیدہ نہیں ہے اس پر آپ کا ضمیر مطمئن ہے ۔ لیکن یہ ضمیر کا مطمئن ہو نا یا ضمیر کا غیر مطمئن ہونا یہ بھی information   اطلاعا ت پر قائم ہے ۔  پیغمبروں کے ذریعے،  قرآن پاک کے ذریعے، آسمانی کتابو ں کے ذریعے جو علوم آپ کو منتقل ہے یعنی انفارمیشن اطلا عات آپ کو منتقل ہو ں وہ اطلاعات یہ ہیںکہ information  اطلاع جو آسمان سے آپ کے اندر آرہی ہے اس کے اندرآپ کو معنی پہنانے ہیں تو انسان کا اختیار ہے۔

  جبر اور قدر کا مسئلہ جو ہے کہ انسان معنی کس قسم کے پہنا ئے۔ انسان کو اس بات کا اختیار نہیں دیا گیا کہ وہ information  کو رد کر دے یا اطلاع کو رد کر دے انسان کو اس بات پر اختیار دیا ہے کہ اس information   میں وہ معنی کو ن سے پہنا رہا ہے ۔پیغمبرانِ طرز فکر کے مطابق معنی پہنا رہے ہیں یا شیطانی طرز فکر کے مطابق معنی پہنا رہا ہے ۔  اگر شیطانی طرز فکر کے مطابق معنی پہنا رہا ہے تو یہ عذاب ہے اور اگر رحمانی طرز فکر کے مطابق وہ معنی پہنا رہا ہے تو یہ ثواب ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کے لئے پسندیدہ ہے او ر یہ کہنا کہ صاحب ہم تو مجبور ہیں ۔ تو کہے کے مجبور ہو اللہ تعالیٰ نے کہا دیکھو بھئی آگ جو ہے وہ جلا دیتی ہے آپ کا تجر بہ بھی یہ ہے آ گ جلا دیتی ہے ۔سردی جب آتی ہے آپ اسی آگ سے کام لیتے ہیں جناب کمروں میں آگ جلا لیتے ہیں ہیٹر جلائیں ،کو ئلے جلا ئیں ۔

گر می جب ہوتی ہے آپ اس آگ سے دور ہو جا تے ہو اس کو دور کر دیتے ہے تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ اطلاع فراہم کر دی ہے کہ آگ کا وصف یہ ہے کہ وہ آدمی کو جلا دیتی ہے اگر اسے کنڑول میں نہ لیا جا ئے اور اسے صحیح جگہ استعمال نہ کیا جا ئے تو کوئی آدمی یہ کہے صاحب میں تو بھٹی میں ہاتھ ڈالو گا اب بھٹی میں اس نے ہاتھ ڈال دیا او ر وہ جل گیا ۔ دوسرے دن وہ کہہ اللہ میاں نہ آگ بنا تے نہ میرا ہاتھ جلتا بھئی اگر اللہ تعالیٰ نے آگ بنا ئی ہے تو اللہ تعالیٰ نے آگ کے استعمال کا علم بھی دے دیا ہے کنواں میں گر جا ئیں آپ گڈے میں،  کہے گا صاحب کیسی بری بات ہے اس فلاں صاحب نے کنواں بنا یا میں گر گیا نہ کنواں بنتا نہ میں گرتا  لیکن بھا ئی یہ تو سو چو اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ بھی تو بتا دیا ہے کہ اگر تم گڈے میں گر ے توڈوب جا ئو گے اگر تم کنواں نہ کھودتا تو پانی کہاں سے آتا پا نی کی ضروریات کی کفالت کیسے ہوتی۔

 تو انسان جبرو قدر کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ چا ہتا ہے کہ وہ اطلاعا ت کا ردو بدل کر ے وہ نہیں کر سکتا مثلا ً وہ چا ہئے میں پا نی نہیں پیوں گا وہ نہیں کر سکتاپا نی پینا اس کی مجبوری ہے ۔جہاں تک پانی پینے کا تعلق ہے انسان مجبور ہے کیسا پا نی پئے ،ٹھنڈا پئے ،گرم پئے ،لسی پئے ،رس پئے ،بوتل پئے، اس میں خود مختار ہے ۔ پانی پینا جو ہے وہ جبر ہے، کھا نا کھا نا جو ہے وہ جبر ہے، کوئی آدمی بغیر کھا نا کھا ئے زندہ نہیں رہے سکتا ، کوئی آدمی بغیرپانی پئے زندہ نہیں رہے سکتا ،، کوئی آدمی بغیر سوئے صحت مند نہیں رہے سکتا ،، کوئی آدمی بغیر بیدار ہو ئے اور متحرک ہو ئے صحت مند نہیں رہے سکتا ،اگر کوئی آدمی کام نہ کر ے اور چار پا ئی پر بیٹھ جا ئے وہی کھا نا کھا ئے وہی پانی پئے وہی ضروریات زندگی پوری کر ے مہینے دو مہینے میں وہ اس قا بل ہی نہیں رہے گا کہ وہ کھڑا ہو سکے ۔

رہے گا بھئی ؟  اس کی ٹانگیں جم جا ئیں گی ۔پھر وہ قابل بھی جب ہو گا جب فزیو تھراپی ہو گی ڈاکٹر آئیں گے حکیم آئیں گے اور یہ تیل ما لش اور کیا ۔تو انسان کھا نے پر بھی مجبور ہے ، انسان ہنسنے پر بھی مجبور ہے ، انسان بیدار ہونے پر بھی مجبور ہے ، انسان کوئی نہ کوئی کام کرنے پر بھی مجبور ہے ،  لیکن اس مجبوری کے ساتھ ساتھ وہ اس بات پر با اختیار ہے کہ وہ اس مجبوری کے عمل کو کس طرح اختیار کر ے اور اس مجبوری کے عمل میں وہ کس طرح زندگی گزارے اس کا اسے اختیار ہے مثلا ً ایک آدمی چو ری بھی کر کے بھی پیٹ بھر سکتا ہے ، جسے میں نے آپ سے عرض کیا کہ چوری کے پیسے سے بھی وہ آٹا ہی آئے گامٹی تو نہیں آئے گی چو ری کے پیسوں کی آپ روٹی کھا کر دیکھیں اس میں کوئی کرواہٹ نہیں ہو گئی کوئی تبدیلی نہیںہو گئی کوئی بدبو نہیں آئے گی تو اب جیسے ایک محنت مزدوری کے پیسے سے آپ آٹا خرید رہے ہیں اس میں کوئی خاص نمایاں شیریں نہیں پیدا ہو گی ،اس میں کوئی خوشبو نہیں آجا ئے گی وہ بھی روٹی ہو گی وہ بھی اسی طرح تیار ہو گی آٹے میں پانی جا ئے گا گھر میں گوندے گا پھر توے پر روٹی پکے گی ۔

لیکن یہ جو پیٹ بھر نے کی جو اطلاع ہے یہ مجبوری ہے کہ بغیر پیٹ بھرے آدمی زندہ نہیں رہے سکتا۔  ا ب اس پیٹ بھر نے کے عمل کو آپ نے کس طرح پو را کیا یا آپ جس طرح پو را کر ے گے اس پر آپ کو اختیار حاصل ہے ۔ ساری زندگی پر اپ غور کر یں تو آدمی ایک طرف مجبور ہے ایک طرف با اختیا ر ۔

  تو بااختیار ہے اب ایسا بھی ہے ساری چیزیں ایسی بھی ہیں اگر آپ کو کچھ نہ ملے کھا نے کو ایسے حالات پیداہو جا ئے کہ موت واقع ہونے لگے تو اللہ اور اللہ کے رسول کی طرف سے حرام کھا نے کی آجا زت ہے لیکن اگر آپ اسی جگہ ہیں جہاں آپ کو کھانا مل سکتا ہے تھوڑی سے بھوک رکھ کے بھی اگر آپ کو تھوڑی سے پریشانی بھی ہو تو حرام آپ نہیں کھا سکتے اس لئے اللہ کو پتا ہے بغیر کھا ئے پئے کوئی آدمی زندہ نہیں رہے سکتا اب اگر ایسا وقت آپڑا ہے کہ کوئی حلال چیز دستیاب نہیں ہے تو حرام چیز کھا کر زندہ رہے ،اب قانون بنا دیا یعنیinformation   کو قبول کر کے اطلاعا ت آپ اسے پہنا رہے ہیں اللہ اور اللہ کے رسول کے قوانین کے مطا بق یا شیطان کے قوانین کے مطابق اب اس میں آپ کو شیطانی قوانین کے مطا بق جو آپ کو عمل پہنا یا جا رہا ہے اس کی بھی آپ کو اجا زت نہیں ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ جو ہے بندے کو ضائع نہیں کرتا اللہ تعالیٰ بندے کی زندگی کو ختم نہیں کرتا ۔  اپنے قاعدے اور ضابطے وہ ختم کرتا ہے۔

  وہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چا ہتا بندے بھوکے مر جائیں ٹھیک ہے وہ حرام کا لقمہ یا گوشت یا جو بھی چیز ہے اس نے کھا لیا ایک وقت کھا لیا دوسرے وقت جب اسے کھا نا دستیاب ہو گیا پھروہی چیز جو اس کے لئے حلال تھی حرام وہ پھرحرام ہو گئی ۔بات یہ ہے کہ اس کو اختیارات استعمال کرنے میں نیت جو ہے نیت سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا ارشاد ہے انعمل عمال و بے نیات…کہ اعمال کا جو درومدار جو ہے وہ نیت پر ہے یعنی معنی پہنانے کے اوپر اب ایک آدمی نماز پڑھتا ہے بہت اچھا عمل ہے لیکن اس نماز کے عمل میں اس کی نیت یہ ہے کہ لو گ مجھے دیکھیں اور لوگ مجھے نمازی سمجھیں اور مجھے نمازی سمجھ کر میرادب کر یں میرا احترام کریں۔  تو یہ عمل یعنی آپ نے اس وقت وہ عمل کرتا ہے وہ عمل اس کا ہے اللہ تعالیٰ کے لئے دیکھئے نماز وہ نہیں پڑھ رہا جس کی نیت میں یہ بات ہے کہ لو گ مجھے نیک سمجھ کے نمازی سمجھ کے میری عزت کر یںوہ بھی نماز پڑھ رہا ہے کسی کوکچھ پتا نہیں کہ اس کی نیت میں کیا ہے وہ کیا سوچتا ہے ۔

 جو آدمی خالی اللہ کی خوشنودی کے لئے نماز پڑھ رہا ہے اب اس کے ذہن میں کیا ہے اب لوگوں کو پتا نہیں ہے لیکن وہ خود جو معنی پہنا رہا ہے اس عمل میں نیت جو کررہا ہے نیت کا مطلب ہے عمل میں معنی پہنا رہا ہے اب روزہ رکھتا ہے آدمی سارے دن بھو کا رہتا ہے اب کسی کوکیا پتہ غسل خانے میں جا کر پا نی پی لے ،  کمرے میں جا کر پا نی پی لے،  وضو کر رہا ہے وضو کے کر تے کرتے پا نی پی لے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو لوگوں کو تو پتا نہیںہے لیکن اس کی نیت میں واقعہ ہے اس نے اس information  کو جو خالصتاً ایسا عمل ہے جس کہ جزا خود اللہ ہے اس کو اس نے غلط نیت کر کے خراب کر دیا ہے ۔اب وہ سارے دن بھو کا رہتا ہے اس لئے رہتا ہے بھو کا کہ بھئی اللہ نے کہا ہے روزے کی جزا میں خو د ہوں اور میں آٹھ دس با رہ گھنٹے بھو کا بھی رہے لیا مر تو نہیں جا ئو گا ۔

  وہ عمل سنجیدہ ہو گیا اور دو چار دن بعد اسے ایسی عادت پڑ جاتی ہے نہ اسے بھوک لگتی ہے نہ پیاس لگتی ہے وقت مقرر سے پہلے بلکہ یہ دیکھنے میں آیا آپ لوگوں کو تجربہ ہو گا کہ رمضان شریف جا نے کے بعد دو تین دن دل بہت برا ہوتا ہے آدمی کے اندر سے دل برا ہوتا ہے یا ر کیسا تھا افطاری ہوتی تھی لو گ اکھٹے ہو تے تھے آذان ہوتی تھی انتظار کر تے تھے اب کوئی انتظارہی نہیں ہے کوئی رونق ہی نہیں ہے یعنی وہ بھوکا رہنے کے عمل کی بھی عادت پڑ گئی اور اللہ تعالیٰ کے لئے چو نکہ نیت تھی اللہ تعالیٰ کے لئے آدمی بھو کاپیساتھا تو اس میں اس کو ایسی لذت ملی کہ جب رمضان شریف گئے اور روزہ آپ نے نہیں رکھا تو آپ نے اس لذت کو یاد کیا اور اس خلاء کو محسو س کیا یہ جبر و قد ر کا مسئلہ تو بڑا لمبا ہے ہم تو بھئی بہت چھوٹے سے آدمی ہیں ہمیں تو پتا نہیں کب سے بحث چل رہی ہے صدیاں گزر گئیں لیکن مختصر یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیت کرنے کا اختیار دیا انسان نیت کرتا ہے۔ کسی عمل کوکرنے نہ کرنے پر اسے اختیار نہیں دیا لیکن اسے عمل پرنیت کرنے پر اختیار دیا ۔

 جہاں انسان کا اختیار زیربحث آتا ہے معنی پہنانے کی حد تک نیت کرنے کی حد تک،  وہ با اختیار ہے اور جہاں عمل کا تعلق آتا ہے تو وہ جبر ہے اس کو روحانی لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ لوح محفوظ پر تقدیریں لکھی ہیں ۔ایک تقدیر کو مبرم کہتے ہیں ، او ر دوسری کوتقدیرمعلق کہتے ہیں ۔  تو مبرم تقدیر کا مطلب یہ ہے کہ انسان جہاں مجبورمحض ہے مثلا ً کوئی انسان اپنی مرضی سے پتے درخت یا پا نی سے پیدا نہیں ہو تے پیدا ئش کے لئے ضروری ہے کہ ماں ہو لیکن ماں سے پیدا ہو نے کے بعد جب اس کو عقل و شعور آجا ئے گی اب وہ اپنی زندگی کے بہت سارے فیصلے اپنے اختیار سے کر ے گا۔ بہت سارے فیصلے جو ہیں اپنے والدین کے اختیار سے کرے گا مثلا ً چھوٹے بچے ہو تے ہیں دو تین سال کے انہیں کوئی اختیارہی نہیں ہوتا ماں باپ نے کپڑے پہنا دئیے انہوں نے پہن لئے ، نہیں پہنا ئے نہیں پہنے،  دودھ پلا دیا دودھ پی لیا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے بچے ہیںچار پا نچ سال کے آپ نے دیکھا ہو گا کہ اس کا اختیار استعمال نہیں کرتا انہیں علم ہی نہیں ہے کہ اختیار استعمال ہوتا یا نہیں ہوتا تو ہماری جو زندگی ہے اس زندگی کا نصف حصہ جو ہے وہ ہم عالم جبر میں گزارتے ہیں یعنی تقدیر مبرم میں اور زندگی کا نصف حصہ جو ہے عالم اختیار میں یعنی  تقدیر معلق میں۔

  تقدیر معلق کا مطلب ہی یہ ہے کہ جہاں انسان نیت کرتا ہے کسی کام کو کرنے کی نیت کرتا ہے اور جہاںانسان نیت نہ کر سکے مثلاً کوئی بچہ ہے اسے پیدا ہوتے ہی آپ روٹی نہیں کھلا سکتے ،ساگودانہ کھلا سکتے، دلیا نہیںکھلا سکتے دودھ ہی پلا ئیں گے اس لئے کہ نظام بن گیا اب وہ ایسا نظام ہے کہ انسان کا بچہ بھی دود ھ پئے گا، بکر ی کا بچہ بھی دود ھ پئے گا، بھنس کا بچہ بھی دودھ پئے گا، ہا تھی کا بچہ بھی دودھ پئے گا نظام ہے ایک۔  اللہ تعالیٰ کا لیکن جب یہی بچہ اٹھارہ انیس سال کا بالغ با شعور ہوتا ہے اب وہ دودھ بھی پیتا ہے ، روٹی بھی کھا تا ہے، گوشت بھی کھا تا ہے تو مجبوری جو ہے وہ اس حد تک ہے کہ انسان کوزندہ رہنا ہے جب تک اللہ تعالیٰ چاہئیں گے اسے زندہ رہنا ہے،  جب اللہ تعالیٰ چا ہیں گے اسے پیدا ہو نا ہے ،جب اللہ تعالیٰ چا ہیںگے اسے جوان ہو نا ہے، جب اللہ تعالیٰ چاہیںگے اسے مثال کے طور پر کوئی آدمی چاہتا ہی نہیں ہے وہ بوڑھا ہو، کوئی آدمی نہیں چا ہتا بوڑھا ہو،  لیکن بوڑھا ہوتا ہے ،آدمی کوئی آدمی زندگی میں یہ نہیں چا ہتا کہ مر جا ئے لیکن آدمی مر تا ہے کیوں بھئی کسی کا دل چاہتا ہے مر جائے ؟

 کسی کا نہیں چا ہتا حضور قلندر بابااولیا ء ؒ نے مجھے ایک قصہ سنایا ایک بڑے میاں تھے بہت بوڑھے ہو گئے تھے عمربہت زیادہ،ہو گئی تھی سارے ان کے عزیز رشتے دار اللہ کو پیارے ہو گئے اکیلے رہے گئے بچارے آدمی تھے جنگل میں جا تے لکڑیاں چن کر با زار میں لا کر بیچ دیا کر تے تھے اس سے گزرا کرتے تھے ایک روز ایسا ہوا کہ لکڑیاں چنتے چنتے ایک گٹھر بنایا وہ اتنا بھا ری ہوگیاکہ جب اٹھانے لگے تو ہا تھ کا نپنے لگے بوڑھے آدمی تھے ضعیف تو انہوںنے بڑا شکوہ کیا کہ موت بھی نہیں آتی مجھ سے ملک الموت بھی روٹھ گیا۔ ا بھی وہ شکوہ شکا یت ہی کر رہے تھے کہ ایک صاحب برابر میں آکر کھڑے ہو گئے السلام و علیکم …انہوں نے کہا بھئی تم کو ن ہو ؟کہاں سے ایک دم ظاہر ہو گئے ؟تو انہو ں نے کہا صاحب میں ملک الموت ہوں ابھی آپ نے مجھے یاد کیا تھا میں حاضر ہو گیا ہو ں بتا ئیے آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوںتو اوپر سے نیچے تک ملک الموت کو دیکھا اور کہنے لگے بھا ئی ابھی تو یہ خدمت ہے یہ گٹھر اٹھا کر میرے سر پر رکھ دو۔

 مقصد یہ ہے کہ آدمی مر نا نہیںچا ہتا لیکن مر جاتا ہے تو مر نا جبر ہے پیدا ہو نا جبر ہے لیکن پیدا ئش اور مر نے کی بعد کی زندگی میں آپ جو اعمال کر رہے ہیں ان اعمال میں آپ کی نیت کیا ہے یہ آپ کوطے کر نا ہے۔  ایک آدمی ساری زندگی نماز نہیں پڑھتا، ایک آدمی ساری زندگی شراب پیتا ہے ، ایک آدمی ساری زندگی جوا کھلتے رہتاہے،اب دیکھئے آپ نے اپنا اختیار استعمال کیا تو نماز پڑ ھی نا!  اختیار استعمال کیا تو مسجدگیا نا! ،  ایک آدمی شراب خا نے میں چلا گیا اگراس نے اپنا اختیار استعمال نہ کیا ہوتا ظاہر ہے وہ شراب خانے میں نہ جا تا جو شراب خانے میں جا رہا ہے و ہ بھی آدم کا بیٹا ہے جو مسجد میں جا رہا ہے وہ بھی آدم کا بیٹا ہے ۔  ایک آپ کو بڑا عجیب قصہ سنا تا ہوں،  قلندر بابا اولیاء ایک قصہ سنا یا کبھی کبھی بڑے موڈ میں ہو تے تھے انہوں نے کہا بھئی دیکھو دو دوست تھے ایک نمازی تھا اور ایک چور تھا تو وہ جو نمازی تھاو ہ تہجد کے وقت نماز کے لئے نکلتے تھا بھئی مسجد میں تہجد پڑھیں گے پھر فجر کی نماز پڑ ھ کر مسجد سے آجا ئیں گے۔

 چور جو تھا وہ اسی وقت چوری کے لئے نکلتا تھادوست تھے دونوں،  تو دونوں گھر سے نکلیں راستے میں دونوں ٹکرا گئے تو چور صاحب نے کہا بھئی کہاں جا رہے ہو ۔پتا ہے ہمارا تو مسجد کے علاوہ ہم کہاں جا ئیں گے ۔انہوںنے کہا بھئی تم کہاں جا رہے ہوں ؟انہو ںنے کہا تمہیں بھی پتا ہے ہم چوری کرنے کے علاوہ کہاں جائیں گے ۔وہ مسجد کی طرف گئے ۔چور گیا شہر کی طرف یا بستی کی طرف چلے گئے تو یہ جونمازی صاحب تھے راستے میں پتا نہیں کیا ہوا کس چیزسے ٹکرا ئے پیر ٹوٹ گیا گر گئے اور اتنی زیادہ چوٹ آئی کہ ا س قابل نہ رہے نہ گھر جا سکے نہ مسجد جا سکے بس ہا ئے …ہا ئے کر کے و ہ وہی پڑے رہے ۔  رات کا وقت تھا سناٹا تھا صبح تک پڑے رہے صبح جب جھٹ پٹا ہو ا آذا ن کا وقت ہو اتو دیکھا کہ ایک صاحب آرہے ہیں سر پر بہت بڑی گٹھر ی لیکر اور راستے میں انہوں نے کہا بھئی کیا بات ہے کو ن ہے انہوں نے کہابھئی میں ہوں ارے بھا ئی تجھے کیا ہو گیا ہے ؟

انہو ںنے کہا میرا تو پیر ٹوٹ گیا اچھا انہوں نے کہا تو ٹھہر میں یہ سامان رکھ آئو چو ری کر کے لا یا ہوں۔ پھر میں تجھے لے جا ئوں گا گھر وہ اپنے گھر گیا اپنا سامان رکھا آیا نمازی نے پوچھا بھا ئی تیرا کیا حال ہے ۔انہوں نے کہا بھا ئی مجھے تو اتنا مال مل گیا ہے کہ میری نسلیں اگر بیٹھ کر کھا ئیں تو تو انہوں کوئی کام کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ایسا لگتا تھا کہ قدرت اس کی مہربان تھی کہ میں نے سامان بھی نکا لا اور گٹھری بھی با ندھی اوردروازہ بھی کھو لا اور واپس بھی آیا نہ کوئی جا گ ہوئی نہ کسی کو کوئی پتا چلا ایسا لگ رہا تھا وہاں باہر مال رکھا تھا میں اٹھا کر لے آیا ۔نمازی دوست نے جب یہ بات سنی تو اسکے اندر شکوہ پیدا ہو گیا ۔ انہو ں نے کہا اللہ میاں آپ بھی عجیب ہیں یہ بندہ چوری کرنے گیا ہے صحیح سلامت آبھی گیا میں تیرا نام لینے جا رہا تھا مسجد میں تو نے میری ٹانگ توڑ دی کیا یہی تیرا انصاف ہے ۔

  خیروہ چور اٹھا کر نمازی دوست کوکمر پر گھر لے گیا مر ہم پٹی کی تو انہیں نیند آگئی سکون مل گیانمازی دوست کو،  تو نمازی  صاحب نے خواب دیکھا خواب میں یہ دیکھا کہ ایک عرش ہے اس پر اللہ تعالیٰ تشریف فرما ہیں اور یہ نمازی اس عرش کے سامنے کھڑا ہوا ہے  اور اللہ تعالیٰ سے یہی شکوہ کر رہا ہے کہ صاحب آپ کا بھی عجیب ہی نظام ہے عجیب ہی قدرت ہے عجیب ہی بے نیازی ہے ہمارا پیر توڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ شکوہ سنا اور سنے کے بعد کہا تمہیں کچھ پتا بھی ہے نیچے دیکھو اب اس نے عرش سے جو زمین سے طرف دیکھا وہاں یہ منظر نظر عام پر آیا چور جو تھا وہ بادشاہ ہوگیا بڑا دربار ہے کر سی ہے درباری کھڑے ہو ئے ہیں اور وزیر اندر آکر بتا رہے ہیں وہ اپنا کر سی پر بیٹھا ہواہے اور یہ جو نمازی ہے یہ پھا نسی پر لٹکا ہوا ہے گلے میں پھندا ہے او رلٹکا ہوا ہے اور زیادہ گھبراہٹ ہوئی بھئی میں چو ر بادشاہ بنا ہوا ہے میں نمازی پھا نسی پر چڑا ہوا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیکھو بات یہ ہے کہ یہ چور جس گھڑی کو اس نے چوری کی اگر یہ اس وقت چوری نہ کرتا ،  تو اس کو اس وقت بادشاہ بنا دیا جا تا اورلیکن اگر تم نماز کو نہیں جا تے تو تمہیں سو لی پر چڑا دیا جا تا تو وہ سو لی کی جو سزا ہے وہ تمہا را پیر توڑ کر کر دی گئی جو اچھا ہوا لیکن اس چور کی کتنی بڑی محرومی ہے کہ اس ایک گٹھری مال میں خوش ہو گیا ۔

 تو جب انسان اپنے اپنی نیت کواپنے اختیار کو صحیح معنوں میں استعمال کرتا ہے تو تھوڑی بہت بیماری میں بھی اس کے لئے فا ئدہ ہوتا ہے ۔  تھوڑی بہت کا روباری نقصان میں بھی اس کے لئے فا ئدہ ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ اس نے اختیار کی نیت جو ہے وہ اللہ اور اللہ کے رسول کے بنا ئے ہو ئے قانون کے مطا بق نیت کی تو اللہ تعالیٰ جو ہے اس کو نوازتے ہیں اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف اپنی نیت استعمال کرتا ہے تو اس کا حشر وہی ہوتا ہے جو شیطان کا ہوتا ہے ۔  اختیار اور جبر کا جو اتنی بڑی جو تقریرہی ہو گئی ہے یہ چھوٹے سے سوال میں نہیں مطلب یہ ہے کہ سمجھ میں آئی بات اچھا ذرا ہاتھ تو اٹھا ئو کتنے لوگوں کی سمجھ میں آئی ما شا اللہ بس بس ٹھیک ہے مطلب یہ ایک خوشی ہوتی ہے کہ ایک آدمی میں کوشش یہ کرتا ہوں کہ حضور پاک  ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم کوئی بات کرو تو مخاطب کی صلاحیت کو سامنے رکھتے ہو ئے کرو۔

 مثلا ً ایک بچہ ہے اب وہ نر سری کا ہے اب آپ اس کے سامنے جمع تفریق شروع کر دیں کچھ بھی سمجھ میں نہیں آئے گا حضور قلندر با با اولیا ء ؒ فرمایا کر تے تھے ایک کسا ن ہے وہ زمینوں کو سمجھتا ہے مٹی کے رنگ کو سمجھتا ہے مٹی کے اندر کتنی نشوو نما ہے اس کوسمجھتا ہے ساٹھ سال کی اس کی عمر ہے بڑا تجر بہ ہے اس کوزمینوں کے مطا بق لیکن اس ساٹھ سالہ کسان بہت تجر بے کار اپنی فیلڈ میں اس کے سامنے اگر آپ ایٹم کی تھوری بیان کر نا شروع کر دو تو اس کی کچھ سمجھ میں نہیں آئے گا ۔  یا آئے گا؟اسی صورت سے میں کوشش کرتا ہوں کہ میں اس طرح بات کروں میں نے ہاتھ اس لئے اٹھوائیں ہیں کہ مجھے بھی خوشی ہوئی کہ میں نے ایک بات کی تو آپ لوگوں نے سمجھا اللہ تعالیٰ ہم سب کو اور مزید سمجھنے کی فہم و فراست کی تو فیق عطا فرما ئے اور غور کرنے کی اب یہ جو سوال و جواب کی یہاں جو نشست ہے اس کے پیچھے میرا منشاہ یہی ہے کہ ہمارے اندر ہمارے بھا ئیوں کے اندر تفکر پیدا ہو۔

 سوال آدمی وہی کرتا ہے جب وہ کسی چیز کے بارے میں سمجھنا چا ہتا ہے تفکر میں اس کی گہرا ئی میں جا نا چا ہتا ہے تو آپ لوگ کتابیں پڑھیں ،قرآن شریف پڑھیں، حدیث شریف پڑھیں، سب میں غورو فکر کر یں جہاں غورو فکرکے بعد کوئی بات سمجھ میں نہ آئے۔  یہ ضروری نہیں ہے عظیمیہ سلسلے سے لوگ ہی سوا ل کر یں گے،  توسوال ہوگا بھئی ماشا اللہ آپ اتنے سارے لوگ ہیں آپ کیوں نہیںسوال کر لیتے کوئی سائنسی سوال ہے آپ کی سمجھ میں نہیں آتا بھئی مجھ سے سوال کرو مجھے اگر وہ چیز نہیں آئی میں اعتراف کر لوں گا مجھے نہیں آتی لیکن مجھے فا ئدہ ایک یہ ہو گا کہ جب میرے سامنے ایسا سوال آئے گا جس کا میں جواب نہیں دے سکوں گا تو میںبھی تفکر کروں گا میں بھی ڈھونڈوگا ۔بھئی میرے اتنے سارے دوست احباب عزیزرشتہ دار آپ سب اولاد کی جگہ تشریف لاتے ہیں تو میری یہ ڈیوٹی ہے میری آپ کی جو علم کی پیاس ہے جس طرح بجھا سکتا ہوں میں بجھا ئو ں آپ کو علمی اعتبار سے سیراب کروں تو اگر اس سیرابی میں کہیں کمی ہو گئی تو میں بھی مطا لعہ کرو ں گامیں بھی غور کروں گا میرے بھی تو بڑے ہیں ،  میں نے اپنے بڑوں سے پو چھو ںگاتو یہ سوال و جواب کی نشست میںجتنے بھی لوگ سب کو حصہ لینا چاہئے۔

 سب کوسوچ و بچار کر نی چا ہئے جو بھی سوال آئے یعنی عمل یانیت سے۔ یہ اصل میں یہ جمعہ کا جو ہمارا پروگرام ہے ہمارے جواب کا یہ سمجھئے کہ ہمارایہ اسکول ہے درس ہے تو اس درس سے فا ئدہ اٹھانے کے لئے ایک تو یہ آپ سن کر گھر چلے جا ئیں تو ایسا ضرور ہو گا آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے گا ہمیں یہ سوال کر نا چا ہئے لیکن حجاب بعض لوگوں کو حجاب آتا ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کوئی بے ادبی گستاخی نہ ہو جائے ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ یہ جو سوال و جواب کی نشست ہم قائم کر تے ہیں اس کا منشاہ ہی یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ قرآن پاک میں ،حدیث شریف میں ، ،پیغمبر وںمیں، اولیا ء اللہ کے واقعات میں، آسمانوںمیں، زمین میں جہاں بھی وہ غوروفکر کرتے ہیں ان کے اندر سوال ابھرے اور اسکا جواب انہیں نہ ملے تویہاں آجائیں سوال لکھ کر دیں نہ لکھ کر دیں کھڑے ہو کر کر یں تویہ ہم سب بیٹھ کر کو شش کر یں گے کہ اب جیسے جبر و قدر کا ایک سوال آیا ۔

  ظاہر ہے بہت سارے لو گوں کی ا س میں تشفی ہو گئی،  ہو سکتا ہے بہت سارے لوگ ابھی بھی اس میں کوئی سوال کر نا چا ہتے ہوں تواگلے جمعے کوآپ اس نشست میں آسکتے اس سلسلے میں کہ صاحب یہ بات تو سمجھ میں آگئی یہ بات سمجھ میں نہیں آئی یا یہ بات تو لو جک میں آتی ہے یہ بات لوجک میں ہی نہیں آتی تو اس میںہم سب دونوں ایک آپ ہیںایک میں ہوں ہم آپس میں بیٹھ کر غورو فکر کریں۔ا گر اس کو سمجھنے کی کوشش کر ے گے اس کا فائدہ یہ ہو ہمارے اندر تفکر پیدا ہو دوسری بات میں نے پہلے بھی کہی بار آپ سے پھر عرض کرتا ہوں آپ جو حضرات یہاں تشریف لا رہے ہیں اگر اپنے ساتھ اپنی نوجوان نسل کو بھی ساتھ لیکر آئیں تو اس سے بھی ایک تر بیت کا ایک اسکول کھو لے گا ۔ آپ کے ما شا اللہ میٹرک تک بچے ہیں۔ میٹرک کے آگے پڑھنے والے بچے ہیں نہیں آتے ایک دفعہ نہیںآئے گے ،دو دفعہ نہیں آئے گے ، تین دفعہ نہیں آئے گے انہیں پیار محبت سے یہاں لائیں تاکہ دیکھئے نہ جب آپ اتنی دور جنگل میں آتے ہیں تو ظاہر ہے کوئی نہ کوئی وجہ تو ہے تو آپ شہرچھوڑ کر جنگل میں آپ آجا ئیں تو کیا تفریحی ہے ۔

 ریڈیو یہا ں نہیں، ٹی وی یہاں نہیں ،بس یہاں نہیں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو بظاہر دنیا کی دلچسپی کی ہو لیکن آپ حضرات آتے ہیں توظاہر ہے آپ اس لئے آتے ہیں کہ یہاں آکر آپ کو کچھ ملتا ہے سکون ہی ملتا ہے علم کی با تیں سننے کو ملتی ہیں تو اب آپ کی میری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہمارے جو نو جوان بچے ہیں ہم ان کو بھی پیار محبت سے لائیں ان سے بھی کہیں اگربھئی تمہیں کوئی سوال کر نا ہے تومذہب کے با رے میں کچھ پو چھنا ہے بھئی تم بھی پو چھ لو تو میرا خیال ہے آپ سب اس سے متفق ہو گئے کہ اپنے بچوں کو بھی ساتھ لا ئیں۔  بڑے بچوں کو بھی چھوٹے بچوں کو بھی چھوٹے بچے کو ہنگا مہ کر یں گے شور کر یں گے،  لیکن بڑے بچے کو ایسے ہیںکہ بھئی ہماری زمانے میں یہ تھا ہمیں یا د ہے کہ ہمارے ابا جی جب بھی کہیں جا تے تھے کسی بزرگ کے پاس مجھے ساتھ لیکر جا تے تھے ان کی عادت تھی کہیں سن لیا ہو کہ کہیں کوئی اللہ والا آیا ہے کسی مسلک کا ہو کسی عقیدہ کا ہو۔

 وہ عقیدت میں جاتے ضرور تھے ، خود تو وہ دویو بندی مسجدمیں رہتے تھے لیکن جب وہ سنتے تھے کوئی بزرگ ہے فقیر ہے مجذوب ہے وہ جاتے ضرور تھے اور جا تے وقت مجھے ساتھ لیجاتے تھے۔ عید میں ساتھ لیجا تے تھے ،بقرعید میں ساتھ لیجاتے تھے ، جمعہ میں ساتھ لیجا یا کر تے تھے،  فجر کی آذان مجھ سے دلا یا کرتے تھے میں بہت چھو ٹا آٹھ نو سال کا بچہ لیکن فجر کی سردی ہو یا گر می آذان دلا تے تھے پہلے میں آذان دیتا تھا پھر مو ذن صاحب آذان دیتے تھے تو اس زمانے میں ہمارا ایک ماحول تھا ہمارے بزرگ اپنے بچوںوقت دیتے تھے یہ جو  جنریشن گیپ آپ کہتے ہیں نا اس کی بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ بزرگوں نے بچوں کو وقت دنا چھوڑ دیا اپنے ساتھ لیجانا اپنی کسر شان سمجھنا بھئی آپ اپنے بچوں کو اچھی جگہ آپ جا رہے ہیں تو کیوں نہیں اپنے بچوں کو اپنے ساتھ میں رکھیں وہ بھی کچھ بات اچھی سن لیں گے ۔

 وہ بھی آپ کے نقشے قدم پر چلیں گے۔  ان کے ذہن میں بھی مادی علوم کے ساتھ ساتھ اللہ اور اللہ کے رسول کے علوم اور روحانی علوم ان کے اندر بھی منتقل ہونگے تو میری آپ سے درخواست ہے کہ اپنے جوان بچوں کو ایک کو دو کو ضرور لا یا کر یںتو کم از کم ایک دو گھنٹے ان کو ایک مذہبی ماحول تو ملے گا  ورنہ وہ کہیں تاش کھیل رہے ہونگے، کہیں ٹی وی دیکھ رہے ہونگے، کہیں لڑ رہے ہو نگے بھڑ رہے ہو نگے توآئندہ سے مجھے امید ہے انشااللہ یہ جو جمہ ہے حاضری زیادہ ہو گئی تو اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول اللہ  ﷺ کے علوم سیکھنے کے توفیق عطا فرمائے ۔اور اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن میں اور کتابوں میں تفکرکرنے کی ہدایت عطا فرمائے ۔مسلمانوں کی جو زبو حالی ہے اور مسلمانوں کی جو ذلت اور رسوائی ہے اس کی واحد وجہ جو ہے کہ مسلمانوں میں قرآن پاک میں تفکر نہ کرنا ہے۔

  ہمارے اسلاف میں اور ہمارے اندر بنیا دی فرق یہ ہے کہ ہمارے جو اسلاف جو ہے وہ اللہ کی تو فیق پرفکر ہے اس غورو فکر کے نتیجے میں وہ سارے عالم پرحاکم ہے کہ سارے امریکہ، فرا نس اور اٹلی او ر سب ہمارے محکوم تھے ہم ان کی حاکم تھے اب صورت حال یہ ہے کہ ہم سب آزاد ہو گئے ان کے محکوم سے با ت کوئی نہیں ہے کہ ہم نے اپنے بزرگوں کی یا اسلاف کی جو گر فت ہے اپنے ہمارے بزرگوں کا جو راستہ تھا ہمارے بزرگوں کی جو طرز فکر تھی اس کو ہم نے ختم کردیااگر پھر ہم نے کامیا بی چا ہتے ہیں اگر پھر ہم عروج حاصل کر نا چاہتے ہیں پھر ہم ساری دنیا پر حاکم بننا چاہتے ہیں تو ظاہر ہے ہمیں یہی طریقہ اختیار کر نا پڑے گا ۔کہ جو ہمارے بزرگوں نے ہمارے اسلاف نے ہمارے آبا ئو اجداد نے جو عمل کیا ہے ہم اس عمل کو دوہرائیں جیسے جیسے ہم اپنے بزرگوں کے عمل کو دوہرائیں گے تو جس طرح ہمارے بزرگوں کو اللہ تعالیٰ نے سارے دنیا پر حکمرانی کی ہے بلکہ کائنات میں حکمرا نی عطا کی ہے ۔

 اب دیکھئے نہ رسول اللہ  ﷺ ہمارے اسلاف ہیں ہمارے بزرگ ہیں ،ہمارے داداہیں، ہمارے باپ ہیں ،ہمارے پیغمبر سب کچھ ہیں اللہ کے بعد اگر کوئی فضلیت ہے،  کوئی ہستی ہے ، کوئی مر تبہ ہے،  کوئی قربت ہے وہ رسول اللہ  ﷺ کی ہے ۔  ہمارے بزرگ ہمارے با پ رسول اللہ  ﷺ  کو اللہ تعالیٰ نے کائنات پر حاکمیت عطا کی ہے ۔  انہو ں نے ایک اشارہ کر دیا چا ند کے دوٹکڑے ہو گئے ٹھیک ہے ہم چا ند کے دو ٹکڑے نہیں کرسکتے لیکن ہم چا ند، سورج، ستارے ،کہکشا نی نظام میں غورو فکر کرتے ہیںاس کے اندر داخل توہو سکتے ہیں غیب کی دنیا کا مشا ہدہ تو کر سکتے ہیں ۔یہ ہمیں کام کر نا ہو گا اپنے بزرگوں کی جو ہدایت ہیں انہیں دوبارہ زندہ کرنا ہو گا ۔ ہمارے بزرگ کی یہ روایت تھی ہر اچھی جگہ اپنے بچوں کو ساتھ لیجا یا کر تے تھے اس سے کیا ہوتا تھا بچوں کے اندر بزرگوں کا احترام پیداہوتا تھا بچے یہ دیکھتے تھے ہمیں بھی ہمارے والد ہمارا کس طرح خیال رکھتے ہیں بزرگوں سے کس طرح ملتے ہیں کس طرح بات کر تے ہیں آداب مجلس کیا ہوتی ہے ۔

  تو انشا اللہ جب ہم تھوڑی سی کو شش کر یں گے تو اس سے اولاد کی اچھی پرورش ہو گئی اور گھر میں بھی سکو ن ہو گا اب اولاد کی تربیت اچھی ہو گی تو گھر میں بھی اچھے حالات پیدا ہو نگے ۔اختتام

Topics