Topics
جواب : یہ
حي قیوم تو بھئی اللہ کا نام ہے ۔ اللہ کے نام کی اصطلاح سے کیا مطلب ہے؟ اصطلاح
تو اسے کہتے ہیں کہ جیسے کوئی ایک علم ہے اس کو آپ سمجھانا چاہتے ہیں۔ اب سمجھانے
کے لئے آپ کے پاس لفظ نہیں ہے۔ تو اس علم کو سمجھانے کے لئے ایک آپ لفظ اپنی طرف
سے بناتے ہیں۔ اور پھر اس کی تشریح کرتے ہیں کہ بھئی مثلاً اب حضور قلندر بابا
اولیاؒ نے لوح و قلم میں بہت ساری اصطلاحات قائم کی ہیں۔ مثلاً ایک اصطلاح ہے
’’عالم جُو‘‘ اب عالم جو … عالم جو کا اگر کہیں آپ دیکھیں لغت میں کہیں بھی آپ
کو ترجمہ لغت میں نہیں ملے گا۔تو اس کی تشریح وہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب
کائنات بنائی تو سارا کا سارا ریکارڈ جو ہے وہ لوح محفوظ پر نقش ہوگیا۔ لوح محفوظ
سے نزول کرکے ایک اسٹیج ہے اور ایک اسٹیج نیچے آکر پھر وہ پروگرام نشر ہوتا ہے
اسے لوح دوئم آپ کہہ سکتے ہیں۔ اب لوح دوئم کو انہوں نے عالم جو کی ایک اصطلاح
قائم کردی۔
اور اس کی تشریح کردی کہ بھئی عالم جو کا مطلب
یہ ہے کہ لوح محفوظ سے نیچے ایک اور لوح محفوظ ہے ۔ اب اگر یہ کہتے کہ لوح محفوظ
کے نیچے ایک اور لوح محفوظ ہے تو یہ کہنا پڑتا کہ لوح محفوظ نمبر ۱، لوح محفوظ
نمبر ۲ ، لوح محفوظ نمبر ۳تو وہ جو آدمی کا دماغ … بھئی کتنی لوح محفوظ ہے کتنے
وہ کس طرح ہے۔ تو لوح محفوظ کے بعد جو دوسرا مقام ہے جو زون ہے یا جو درجہ ہے یا
مرتبہ ہے اس کو انہوں نے عالم جو کے نام سے ایک اصطلاح قائم کردی۔ اب جہاں بھی لوح
و قلم میں کوئی بندہ عالم جو پڑھے گا وہ سمجھ جائے گا کہ بھئی یہ لوح محفوظ کے بعد
کا جو دوسرا درجہ ہے اس کے بارے میں یہ بیان ہے۔ تو یاحي یا قیوم جو ہیں اللہ کے
نام ہیں۔ اللہ کے نام کی کوئی اصطلاح نہیں ہوتی۔ نام ، نام ہے اللہ کا نام ہے۔