Topics

سوال : ’’جنت میں آدم و حوا کس طرح زندگی بسر کرتے تھے؟‘‘

 

  ’’انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات کیا ہیں؟‘‘

الحمد للہ رب العالمین الرحمن الرحیم ۔

 بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

 وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین۔ آج حضور پاک ﷺ کی آمد کا جشن ۔ تاریخ پہ جب نظر پڑتی ہے تو کچھ اس طرح کہانی بنتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نوع انسانی کو مشرف کرنے کے لئے نوع انسانی کو دوسری تمام مخلوقات پر افضل بنانے کے لئے اپنے برگزیدہ بندے بھیجتے رہتے ہیں وہ برگزیدہ بندے انسان کو اچھائی اور برائی کا تصور دیتے ہیں۔ اچھائی اور برائی کا تصور کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کی بھی تلقین کرتے ہیں کہ انسان کا اللہ تعالیٰ سے خصوصی تعلق ہے بحیثیت مخلوق کے اور یہ خصوصی تعلق اس وقت قائم ہوسکتا ہے جب انسان پہلے دوسری تمام مخلوق سے خود کو الگ اور ممتاز سمجھے بلکہ ممتاز قرار دے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اللہ تعالیٰ کی قربت اور اللہ تعالیٰ سے راز و نیاز کرنے کا جو وصف عطا ہوا ہے وہ انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوا ہے۔ چونکہ انسان کے علاوہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کا وصف کسی کو منتقل نہیں ہوا اس لئے انسان کے اور دوسرے مخلوقات کے درمیان ایک حد فاصل قائم کی گئی۔

 وہ یہ کہ انسان کو اچھائی اور برائی کا تصور منتقل کیا گیا ہے۔ اور انسان کے علاوہ جتنی بھی دوسری نوعیں ہیں ان کو اچھائی اور برائی کے تصور سے آگاہ نہیں کیا گیا۔ آپ دیکھیں زمین کے اوپر جتنی بھی نوعیں ہیں چونکہ ان کے اندر اچھائی اور برائی کا تصور نہیں ہے اس لئے وہ انسانوں کے مقابلے میں بالکل الگ نوعیت کی زندگی گزارتے ہیں۔ زندگی گزارنے کے تمام تقاضے اور حواس  اور عقل ان کے اندر موجود ہے ۔ لیکن چونکہ اچھائی اور برائی کا تصور ان کے اندر نہیںہے اس لئے وہ لباس سے مبرا ہیں۔انہیں لباس کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اسی صورت سے انہیں بھوک لگتی ہے۔ وہ کھاتے پیتے بھی ہیں لیکن چونکہ ان کے اندر اچھائی اور برائی کا تصور نہیں ہے اس لئے ان کے اندر کوئی معاشرتی قانون جو ہے وہ لاگو نہیں ہوتا۔ انسان کی جو فضیلت ہے وہ یہ ہے کہ وہ دوسری تمام مخلوقات سے ایک ماوراء عقل رکھتا ہے۔

 ایک ماوراء فہم رکھتا ہے۔ اس کے اندر ایک ماورائی فہم ہے۔ اور وہ ماورائی فہم یہ ہے کہ اس میں اپنی زندگی گزارنے کے لئے ، اپنی معاشرت کو قائم کرنے کے لئے اپنے تمدن کو روشن رکھنے کے لئے کچھ اصول اور ضابطے ہیں جو اصول اور ضابطے آپ کو حیوانوں میں نہیں ملتے۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان کی فضیلت اس بات سے ثابت ہوئی کہ انسان جب زندگی گزارتا ہے تو وہ زندگی گزارنے کے لئے اپنے لئے قاعدے مقرر کرتا ہے ، ضابطے بناتا ہے، اور یہ قاعدے اور ضابطے زندگی کے جو انسان اپنی زندگی گزارنے کے لئے ان کو قائم رکھے ہوئے ہے دراصل یہی اچھائی اور برائی ہے اور اس لئے اچھائی اور برائی کو اختیار کرنے میں ، یعنی برائی کو رد کرنے میں اور اچھائی کو اختیار کرنے میں انسان جو ذہن استعمال کرتا ہے اس کا نام عقل ہے۔ اب بات یوں بنی کہ انسان کی فضیلت اس بات میں ہے کہ جتنی بھی مخلوقات ہیںان مخلوقات کے مقابلے میں انسان کے پاس الگ سے ایک اضافی عقل موجود ہے۔

 اور وہ اضافی عقل جس بنیاد پر قائم ہے وہ بنیاد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر بھیجے۔ ان پیغمبروں نے حیوانات کو اور انسانوں کو اپنی تعلیمات سے الگ الگ کیا اور ان تعلیمات کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ انسان اس طرح زندگی گزارے کہ خود بھی خوش رہے ، اس کے بھائی بند بھی خوش رہیں۔کسی کی حق تلفی نہ کرے۔ اور اپنا حق کسی کے اوپر چھوڑے نہیں۔ آپس میں بھائی چارہ ہو برادری سسٹم ہو۔ آپس کے اندر محبت ہو، اخوت ہو، اور پوری نوع انسانی ایک برادری کی حیثیت سے زمین پر اپنی زندگی گزارے۔ پیغمبر آتے رہے اور نوع انسانی کو اچھائی اور برائی کے تصور کے ساتھ ساتھ اس بات کی طرف آمادہ کرتے رہے کہ برائی ایک ایسا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کے لئے بھی ناپسندیدہ ہے اور برائی ایک ایسا عمل ہے جو انسانی برادری میں بھی نفرت، حقارت، تعصب اور غصے کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ اچھائی ایک ایسا عمل ہے کہ ان اچھے اعمال سے اللہ تعالیٰ بھی خوش ہوتا ہے۔

 انسانی برادری بھی خوش ہوتی ہے۔ اور انسانی برادری سسٹم بھی قائم رہتا ہے۔ اب آپ غور فرمائیں کہ جتنی زیادہ تخریب ہوگی ، تخریب کا مطلب ہے برائی اسی مناسبت سے خاندان، کنبے ، محلے ، شہر ، قومیں پریشانی میں اورادبار میں مبتلا رہے گی۔ اور جتنی زیادہ تعمیر ہوگی اسی حساب سے ایک چھوٹا سا گھر ، ایک چھوٹی سی برادری ، قومیں، ملک اور پوری نوع انسانی خوش رہے گی۔ انبیاء نے یہ جو اچھائی اور برائی کا تصور دیا ہے اس کا منشاء یہ ہے کہ نوع انسانی تخریب کو رد کردے۔ تخریب سے اپنا رشتہ توڑ لے۔ اور تعمیر سے اپنا رشتہ جوڑ لے۔ یہ ایک نظام ہے۔ جو لاکھوں سال سے چل رہا ہے۔ اور بتایا جاتا ہے کہ کم و بیش اسی تعمیر اور تخریب کو سمجھانے کے لئے، تخریب سے روکنے کے لئے۔اور تعمیری راستے پر چلنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ پیغمبر آتے رہے۔ ان کی تعلیمات پر عمل ہوتا رہا۔

 لیکن جوں جوں وقت گزرتا رہا انبیاء کی تعلیمات سے لوگ دور ہوتے چلے گئے۔ اور بیچ میں ایک ایسا گروہ آتا رہا جس گروہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے ، اپنے ذاتی منفعت کے لئے انبیاء کی تعلیمات کو اپنی مصلحتوں کے مطابق لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مخصوص گروہ نے جب اپنی مصلحتیں شامل کرکے انبیاء کی تعمیری پہلو میں تخریب شامل کردی تو جیسے جیسے تخریب بڑھتی گئی اسی مناسبت سے نوع انسانی میں تفرقے بڑھتے چلے گئے۔ انسان برادری جو ہے انسان اتنے تفرقوں میں بٹ گئی، گروہوں میں بٹ گئی۔ ہوتے ہوتے ایک ایسا وقت آیا کہ تمام زمین پر ایسے گروہوں کی حکمرانی ہوگئی جن گروہوں میں سوائے نفرت کے، سوائے حقارت کے، اور سوائے ظلم کے کچھ نہیں ملتا۔ انسان انسانیت سے نکل کر درندگی کے اس مقام پر کھڑا ہوگیا جہاں اس نے اپنی بیٹیوں کو ذبح کرکے زندہ دفن کرنے لگا۔ انسان بے حیائی کے اس مقام پر کھڑا ہوگیا کہ جس بے حیائی کا اگر تصور بھی کیا جائے تو انسانیت کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔

 زمین کے اوپر جب یہ فساد برپا ہوا اور زمین نے جب اللہ تعالیٰ سے احتجاج کیا ۔ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اور انکساری کے ساتھ درخواست کی کہ یا اللہ ! یہ انسان جس کو آپ نے میرے اندر بسایا ہے میرے اوپر رکھا ہوا ہے اس نے وہ اعمال شروع کردئیے وہ تخریب شروع کردئیے ہیں جس سے مجھے بھی شرم آتی ہے مجھے بھی ندامت ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی یہ فریاد سنی اور زمین کی یہ فریاد سن کر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول اللہ  ﷺ کو اس دنیا میں بھیجا ،  مبعوث کیا۔ رسول اللہ  ﷺ کی جو تعلیمات ہیں تمام انبیاء کی اس میں ایک ہی بات ملتی ہے کہ رسول اللہ  ﷺ فرماتے ہیں کہ تخریب انسانی عمل نہیں ہوسکتی۔ تخریب شیطانی عمل ہے۔ تخریب غیر فطری اور غیر انسانی عمل ہے۔ تخریب کو چھوڑ دو  تعمیری پہلو کی طرف آجاؤ۔ اور تعمیری پہلو یہ ہے کہ تمہارے اندر نفرت نہ ہو ، تمہارے اندر بھائی چارہ ہو، آپس میں محبت ہو۔

 رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا مومن کی یہ پہچان ہے کہ جو وہ اپنے لئے چاہتا ہے وہی اپنے بھائی کے لئے چاہتا ہے۔ اور آخر میں تو یہ تک فرمادیا بھئی کسی کالے کو گورے پر فضیلت نہیں ہے اور کسی گورے کو کالے پر فضیلت نہیں ہے۔ اصل چیز ہے اعمال۔ وہ اعمال جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ یہ ساری کائنات یہ ساری زمین اور اس زمین کے اوپر ساری مخلوق اگر غور کیا جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کا کنبہ ہے۔ اللہ اس کا سرپرست اعلیٰ ہے۔ اللہ اس کنبے کا باپ ہے۔ ہر باپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی اولاد پیار و محبت سے رہے۔ خلوص سے رہے۔ ایک دوسرے کی حق تلفی نہ کرے۔ ایک دوسرے کے کام آئے۔ تو رسول اللہ  ﷺ کی یہ آج کی جو محفل سجائی ہے اور آپ لوگ تشریف لائے ہیں بہت باتیں ہوتی ہیں، بڑی نعتیں بھی پڑھی جاتی ہیں ، درود و سلام بھی پڑھا جاتا ہے۔ اور بلاشبہ پڑھنا چاہئے۔ لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ زمین پر تشریف کیوں لائے۔

 وہ کون سا مشن ہے جو مشن اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ  ﷺ کے سپرد کیا۔ وہ یہی ہے مشن ، رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا کل مومن اخوۃ کہ جتنے بھی میرے امتی ہیں وہ سب آپس میں بھائی بھائی ہیں۔لیکن اب یہاں آپ غور فرمائیں اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں بھائی ہونا تو الگ بات ہے یہاں تو ایک دوسرے کو کافر کہتے ہیں لوگ۔ کوئی دیوبندی ہے، کوئی بریلوی ہے، کوئی لاہوری ہے تو کوئی قصوری ہے۔ کوئی کچھ ہے، کوئی کچھ ہے۔ مسلمانوں کے اوپر جو یہ ادبار ہے ، مسلمانوں کے اندر جو یہ بے سکونی ہے ، مسلمان جو ہے ساری دنیا میں ذلیل و خوار ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مسلمان نے تعمیری پہلو چھوڑ کر تخریبی رخ اختیار کرلیا ہے۔ اب تخریبی رخ یہ ہے کہ آپس میں تفرقہ پیدا ہوگیا۔ تخریبی رخ یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے کو ہم برا بھلا کہتے ہیں۔ تخریبی رخ یہ ہے کہ آپس میں ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں ۔

تو رسول اللہ  ﷺ کی تعلیمات کی روشنی میں اگر غور کیا جائے ، تفکر کیا جائے اور بلاشبہ ہمارے اوپر یہ فرض ہے کہ ہم رسول اللہ  ﷺ کی تعلیمات پر غور و فکر کریں وہ یہ ہے کہ ہم اس تفرقہ بازی سے نکلیں اور مسلمانوں کو ہی نہیں تمام نوع انسانی کو آپس میں بھائی بھائی سمجھیں۔ اپنی برادری سمجھیں۔ رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر مسلمانوں کی فوجیں فاتح ہوکر کسی ملک میں داخل ہوں مندر نہ توڑے جائیں، گرجا نہ گرائے جائیں ، ان کے مذہبی پیشوا کو قتل نہ کیا جائے۔ تو حضور پاک  ﷺ کی تو یہ تعلیمات ہیں کہ مندر نہ توڑے جائیں۔ گرجا نہ گرائے جائیں۔ ان کے پیشوا کو قتل نہ کیا جائے۔ اور ہمارا مسلمانوں کا عالم یہ ہے کہ ہم بے شمار مسلکوں میں ، بے شمار طبقوں میں ، بے شمار تفرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ اور انتہا یہ ہے اب تو کہ ایک مسلک کا آدمی دوسرے مسلک کے امام کے پیچھے نماز بھی نہیں پڑھتا۔

 کہتا نماز ہی نہیں ہوتی۔ وہ کلمہ بھی پڑھ رہا ہے، نماز بھی پڑھ رہا ہے، روزہ بھی رکھ رہا ہے، زکوٰۃ بھی دے رہا ہے، حج بھی کررہا ہے۔ اذان بھی دے رہا ہے، اذان سن بھی رہا ہے۔ لیکن ایک فرقہ دوسرے فرقے کے پیچھے نماز ہی نہیں پڑھتا۔ تو یہ جو ہے طریقہ یہ طریقہ خالص تخریبی ہے، خالص شیطانی طریقہ ہے۔ ابھی میں پچھلے دنوں یورپ کے دورے پر گیا تھا۔ بہت بڑا ایک اجتماع تھا جس میں مشائخ بھی تھے، علماء کرام بھی تھے۔ تو میں نے ان سے ایک سوال کیا کہ بھئی دیوبند جو ہے یہ بھی ایک ہندوستان کا شہر ہے۔ بریلی جو ہے یہ بھی ہندوستان کا ایک شہر ہے۔ اب یہ جو مسلمان دیوبندیوں اور بریلیوں کے نام سے پہچانے جارہے ہیں ہندوستان کا شہر ہے۔ تو اگر مسلمانوں کی یہی مجبور ی ہے کہ وہ کسی شہر کے نام کے بغیر پہچانے نہیں جاسکتے اور ان کی Identity ہی یہ ہے کہ وہ دیوبندی ہوں، بریلوی ہوں ، بٹالوی ہوں ، کچھ ہوں تو بھائیواس سے تو یہ زیادہ اچھا ہے کہ تم مکی اور مدنی خود کو کہلواؤ۔

 اس دیوبندی اور بریلوی کے چکر سے تو نکلو۔ اس کا اثر یہ ہوا آپ کو حیرت ہوگی اس کا اثر یہ ہوا جتنے وہاں علماء کرام بیٹھے ہوئے تھے سب اٹھ کے پچھلے دروازے سے واپس چلے گئے۔ جلسہ چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں الحمد للہ رب العالمین سب تعریفیں ہیں اس رب کے لئے جو تمام عالمین کا رب ہے۔رب سے مراد یہ کہ تمام عالمین کے لئے وسائل مہیا کردیا۔ اب دیکھیں انسان پیدا ہوتا ہے ۔ پیدا بعد میں ہوتا ہے زمین پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ آکسیجن پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ روشنی پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ پانی پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ الحمد للہ رب العالمین … اللہ تعالیٰ ایسا رب ہے اتنا بڑا رب ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی ضرورت کی کفالت کرتا ہے اور اس طرح کفالت کرتا ہے کہ پیدائش سے پہلے تمام وسائل مہیا کردیتا ہے۔ بچہ پیدا بعد میں ہوتا ہے ماں کے سینے کو اللہ تعالیٰ دودھ سے پہلے بھر دیتا ہے۔

 الرحمن الرحیم … اور یہ جو ربوبیت ہے اور یہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ کفالت لی ہے اس کفالت میں کوئی غصہ نہیں ہے، کوئی جبر نہیں ہے، کوئی پریشانی نہیں ہے۔ الرحمن الرحیم … یہ کفالت جو ہے اس کا تعلق رحمت کے اوپر ہے۔ محبت کے اوپر ہے۔ شفقت کے اوپر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی بنیاد یا بیس جو ہے رحمت ہے۔اللہ تعالیٰ جیسے کہ میں نے آپ سے عرض کیا سرپرست اعلیٰ ہے ساری کائنات کا۔ چونکہ سرپرست اعلیٰ ہے اس لئے اس نے اپنے ذمہ یہ لازم کرلیا ہے کہ تمام مخلوق کو زندہ رہنے کے وسائل فراہم کئے جائیں گے۔ اور یہ وسائل جو فراہم کئے جائیں گے ان وسائل کی فراہمی میں رحمت اور شفقت بنیاد بنے گی۔ کوئی انسان کتنا بھی گناہ کرے ۔ کوئی انسان اللہ تعالیٰ سے کتنا بھی انکار کرے۔ دہریہ ہوجائے، کافر ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کے آکسیجن بند نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ کبھی کسی کی ہوا بند نہیں کرتے۔

اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی کا پانی بند نہیں کیا۔ اب ہوسکتا ہے اتنی بڑی زمین اللہ کی پھیلائی ہوئی زمین کیا کوئی بندہ یہ کہہ سکتا ہے کہ اس زمین کے اللہ تعالیٰ کو کسی نے کوئی معاوضہ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی زمین پہ قبضہ کرکے آپس میں لڑتے ہیں، قتل ہوتے ہیں۔ اللہ کی پھیلائی ہوئی زمین پر فساد کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ نے کبھی کسی سے معاوضہ طلب نہیں کیا۔ کیا کوئی انسان جتنی ہوا کو اپنے پھیپھڑوں کے اندر لیتا ہے، استعمال کرتا ہے ، اس کا معاوضہ ادا کرتا ہے؟ پانی ، زمین کے اندر اللہ تعالیٰ نے نہریں چلادی ہیں، دریا چلادئے ہیں، پہاڑوں پہ برف جمادئے ہیں تاکہ وہاں سے پانی کا ایسا سسٹم رائج ہوجائے کہ انسان کی کھیتیاں لہلہائیں۔انسان کے لئے زمین اپنی انرجی سے ، اپنی طاقت سے پھل فروٹ، کھیتی باڑی میں انسانی ضروریات کی کفالت کے لئے ہر چیز پیدا کرے۔ آپ غور فرمائیں الرحمن الرحیم … کہ اللہ تعالیٰ رب ہیں، کفیل ہیںاپنی ساری مخلوق کے۔

 اور اس کفالت کی بنیاد رحمت ہے۔ الرحمن الرحیم … رحمت اور شفقت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے نوع انسانی کی اصلاح کے لئے اور نوع انسانی کو تخریب سے نکالنے کے لئے کس لئے کہ تخریب انسان کے لئے ادبار ہے۔ مصیبت ہے۔ پریشانی ہے۔ عذاب ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی انسان زمین پر رہتے ہوئے پریشان ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ انسان تخریبی پہلو سے نجات حاصل کرکے تعمیری پہلو کو اختیار کرے۔ اور اس تعمیری پہلو کو ظاہر کرنے کے لئے اس تعمیری پہلو کو نمونے کے طور پر دکھانے کے لئے ، نمونہ بننے کے لئے ہم نے اپنا ایک پیغمبر ، ایک بندہ بھیجا۔وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمین … اے محبوب محمد  ﷺ ! ہم نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ تاکہ ہماری کفالت میں جو مخلوق آگئی اور جس مخلوق کے لئے ہم نے آسمان سے زمین سے وسائل فراہم کردئے۔اے محمد  ﷺ ! تو اپنی رحمت سے انہیں تمام مخلوق تقسیم کردے۔

 وما ارسلنک الا رحمۃ العالمین … ہم نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بحیثیت رب کے ہمارا کفیل ہے۔ ہمارے لئے زندگی گزارنے کے وسائل پیدا کرتا ہے۔ اور رسول اللہ  ﷺ اللہ تعالیٰ کے ان وسائل کو رحمت کے ساتھ تقسیم کردیتے ہیں۔ تو آج کے دن رسول اللہ  ﷺ کی ولادت کا دن ہے۔ یہ حضور کا کرم ہے ۔ لیکن آج کے دن ہمیں یہ سوچنا ہے کہ جب ہم حضور پاک  ﷺ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو سیرت طیبہ میں کہیں بھی ایک عمل بھی حضور  ﷺ کا ایسا نہیں ملتا جس کو ہم تخریب کہہ سکیں۔ دیکھئے مکہ فتح ہوا۔ کن حالات میں فتح ہوا۔ کہ رسول اللہ  ﷺ کو قریش مکہ نے تکلیف دی۔ بائیکاٹ کردیا۔ بچے بلکتے رہے، روتے رہے، لیکن بازار سے سامان خرید کر نہیں لاسکے۔ حضور  ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھائے۔ سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوجڑی گردن پر رکھ دی۔ گھروں سے کوڑا کرکٹ پھینکا گیا۔ مجنوں کہا گیا۔

 پتھر مارے گئے۔ لہو لہان کردیا گیا۔ انتہا یہ کہ ایسے حالات پیدا کردئے گئے کہ حضور  ﷺ کو مکہ چھوڑنا پڑا۔ اور مکہ چھوڑ کر مدینہ منورہ میں ہجرت کی۔ راستے میں بھی کوشش کی گئی جاسوس چھوڑے گئے۔ بڑے بڑے انعامات رکھے گئے کہ رسول اللہ  ﷺ کو زندہ پکڑ کے لایا جائے یا مردہ لایا جائے اتنا انعام دیا جائے گا۔ اتنی تکلیفیں حضور کو قریش مکہ نے دیں۔ لیکن جب حضور بحیثیت فاتح کے مکہ میں داخل ہوئے تو حضور پاک  ﷺ نے یہ اعلان کرایا کہ جو شخص چھجہ کے نیچے چلاجائے گا وہ معاف۔ جو شخص گھر میں گھس جائے گا وہ معاف۔ یعنی معافی کے اتنے خانے حضور  ﷺ نے کھول دئے آپ غور کریں پوری تاریخ میں ، تاریخ میں نوع انسانی کی پوری تاریخ میں ایسی کوئی مثال آپ کو نہیں مل سکتی کہ کوئی فاتح کسی ملک میں داخل ہو اور خون خرابہ نہ ہو۔ پوری تاریخ میں ایک مثال بھی نہیں ہے۔ اور جب رسول اللہ  ﷺ بحیثیت فاتح کے مکہ میں داخل ہوئے جبکہ اتنی تکلیفیں برداشت کرکے مکہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے تاریخ بتاتی ہے کسی ایک آدمی کو اتنی بھی چوٹ نہیںآئی کہ جتنا سوئی چبھنے سے خون کا قطرہ گرتا ہے۔

 یہ حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ کا وہ پہلو ہے کہ جس میں سوائے معافی کے ، سوائے شفقت کے ، سوائے محبت کے کچھ بھی نہیں ہے۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا  ’’وما ارسلنک الا رحمۃ العالمین ‘‘… اے محمد  ﷺ ! ہم نے تجھے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ تو جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حضور پاک  ﷺ کی امت ہیں۔ ہمارے اوپر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسول اللہ  ﷺ کی سیرت طیبہ کے وہ تمام پہلو اپنے اندر اجاگرکریں ان کی طرح عمل کرنے کی کوشش کریں جو پہلو حضور  ﷺ کی شفقت سے متعلق ہیں، محبت سے متعلق ہیں اور تعمیر سے متعلق ہیں اور تعمیر یہ ہے کہ جو آپ اپنے لئے چاہیں وہ اپنے بھائی کے لئے چاہیں۔ اپنا حق چھوڑیں نہیں اور دوسروں کا حق ماریں نہیں۔ تعمیر کو ہمیشہ اپنائیںاور تخریب سے ہمیشہ پہلوتہی کریں۔ یہ مختصر سا میں نے آپ کو نسخہ بتایا، کیمیائے نسخہ ۔ بڑے میلاد النبی میں بڑے بڑے جلسے بھی ہوتے ہیں ، روشنیاں بھی ہوتی ہیں اور ہونی بھی چاہئیں لیکن وہ ایک میلے ٹھیلے کی شکل اختیار کرنے کے بعد لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں یہ نہیں ہونا چاہئے۔

 حضور کا جو پیغام ہے اس پہ عمل کرنا چاہئے۔ اور حضور پاک  ﷺ کا پیغام یہ ہے کہ تخریب سے پہلوتہی کی جائے۔ اور تعمیر کو اپنایا جائے۔ سب کو اپنا بھائی سمجھا جائے۔ اور جس طرح بھی ہو اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے ‘‘ واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا‘‘  اللہ کی رسی کو متحد ہوکر مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔ سب مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ مومن اخوۃ … سب کو اپنا بھائی سمجھو۔ سب کا دکھ درد اپنا دکھ درد سمجھو۔ اگر اس طرح ہم نے عمل کیا تو انشاء اللہ یہ چند آدمیوں سے یہ بہت بڑی جماعت بن جائے گی۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آج کی اس سعید مجلس کی برکت سے ہمیں اس بات کی ہمت اور توفیق عطا کرے کہ ہم تخریب سے دور ہوں اور تعمیر کو اپنائیں۔ اپنے بھائیوں سے محبت کریں اور یہ تفرقے کا جو اسپرٹ ہے اضداد ہے اس سے خود کو آزاد کریں۔ اور اس بات کی کوشش کریں کہ یہ تفرقہ جو ہے انسان کے اندر سے نکل جائے۔

 اس لئے کہ جب ہم فرقے میں کسی بھی فرقے میں جاتے ہیں تو یہ اللہ تعالیٰ کی اس آیت کی خلاف ورزی ہے کہ … واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً ولا تفرقوا …اور جب آپ کسی بھی فرقے میں چلے جائیں گے تو اس کا مطلب ہے آپ صریحاً اللہ تعالیٰ کی حکم کی خلاف ورزی کررہے ہیں۔ اور جو بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرے گا ظاہر ہے اسے نہ اس دنیا میں سکون مل سکتا ہے اور نہ اس دنیا میں سکون مل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں محبت سے ، خلوص سے،رہنے کی توفیق اور ہمت عطا فرمائے۔ اور تعمیر میں ہماری دلچسپی پیدا کرے۔ اور تخریب سے ہمیں محفوظ رکھے۔ وماعلینا الا البلاغ ۔ اختتام

Topics