Topics

سوال ؛ فیض سے کیا مرا د ہے ؟اس کی تشریح کر یں ۔

 

بھئی تصرف سے کیا مراد ہے رو حانیت،  ایک علم ہی تو ہے کوئی بھی استاد اپنے شا گرد کو کیا منتقل کرتا ہے علم ۔ علم ہی منتقل کرتا ہے اب جس طرح دنیا کا استاد اپنے شا گردوں کو علوم ہی منتقل کرتا ہے اسی طرح رو حانی استا د اس کا نام پیرو مر شد رکھ لو اس کا نام پیر صاحب رکھ لو اس کا نام رو حانی استاد رکھ لو اس کا نام مرا د یا گرو رکھ لو کچھ بھی رکھ لو بہرحال وہ استاد تو ہے ہی تو جس طرح دنیا وی علوم استا د منتقل کر دیتا ہے اپنے شا گرد کو اس طرح رو حانی استا د روحانی علوم منتقل کر دیتا ہے رو حانیت سے مرا د ہے علوم ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ دنیا وی علوم میںاستاد کی طرز فکر جو ہے اس سے آدمی متا ثر ہوتا ہے ۔ کافی حد تک اپنے استاد کی جو طرز فکر ہے اس کو قبول کر کے اس سے متا ثر ہو کر اس کے ساتھ چلتا ہے لیکن جب رو حانی شا گر د اور رو حانی استا د کا تذکرہ آتا ہے اور کوئی رو حانی استاد جب روحانی علوم منتقل کرتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ جو استاد کی طرز فکر ہے وہ بھی منتقل ہو جا تی ہے۔

  مثلا ً ایک روحانی آدمی کے لئے یہ شرط ہے کہ اس کا توکل اللہ کے اوپر ہو نا چا ہئے،  اس کے اندر استغناء ہو نا چاہئے ، کچھ بھی حالات ہو ں۔ جب اچھے حا لا ت ہو تے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب وہ خراب حالات سے گزرتا ہے تب بھی وہ اللہ سے رجوع کرتا ہے اللہ سے معافی ما نگتا ہے تو بہ استغفار کرتا ہے اور یہ بھی سو چتا ہے اس میں کوئی اللہ کی بہتری ہو گی ۔اب جو پر یشانی ہمیں اللہ نے دے دی لیکن ہم کمزور ہیں ضعیف ہیں ۔

ان پریشانیوں کا کچھ نہیں کر سکتے آپ،  اللہ آپ لئے آسان کر دیں اچھا ئی کا را ستہ کھول دیں مقصد یہ ہے کہ روحانیت جو ہے ایک طرزفکر ہے روحانی علوم جو ہیں ان کا تعلق ایک طرز فکر سے ہے اور وہ طرزفکر یہ ہے کہ رو حانی آدمی کا ذہن ہر وقت اللہ کی طرف متوجہ رہتا ہے تمام پیغمبروں نے ایک لا کھ چو بیس ہزار پیغمبر بتائے جا تے ہیں تشریف لا ئے دنیا میں تو تمام پیغمبروں کی تعلیمات پر اگر آپ غور کر یں تو چار کتا بیں آپ کے سامنے آئی ہیں اور سب سے بڑی کتاب قرآن ہے اور قر آن میں ساری کتابوں کو نچوڑ آگیا ہے سارے ہی پیغمبر وں کی تعلیمات آگئی ہیں اور قرآن کو جب ہم غور سے پڑھتے ہیں تواس میں ایک ہی بات ملتی ہے کہ بندے کا اللہ کے ساتھ راشتہ اس طرح استوار ہو جا ئے کہ بندہ اپنے ہر عمل کو اللہ کی طرف چھو ڑ دے کہ جو بھی وہ کرے وہ کرتا رہے اللہ کے لئے مثلا ً اگر وہ کھا نا کھا تا ہے اور کھا نا کھا نے کے بعد اگر وہ اللہ کا شکر ادا کر ے کہ اللہ نے مجھے وسائل فراہم کئے ۔

ہا ضمہ اچھا دیا ایسا نہیں ہوا کہ کھا نا کھا کر الٹی نہ کر دو ں ایسا نہیں ہوا کہ مجھے دست آجا ئیں ، کھا نا میں نے کھایا، پیٹ میں وہ رہا ہاضمہ ہوا اس کے بعدخون بنا خون سے انر جی جسم میں دوڑ ی اور اگر یہ ساری چیزوں میں اگر وہ غور کر ے اگر اندر کی مشن بند ہو جائے میرا اندر کی آنتیں ،  توکھا نا ظاہر ہے ہضم نہیں ہوگا۔  تو اس کی یہ طرز فکراور جو کچھ اسے مل رہا ہے وہ بھی اللہ کی طرف سے مل رہا ہے ۔ سورہ البقرہ کی پہلی آیت ہے ومما رزق …کہ متقی لو گوں کی یہ پہچان ہے ایسے لوگوں کی جو متقی ہیں جن کا ایمان مکمل ہے اور جن کا ایمان لا شعور کے درجے میں ہے وہ یہ کہتے ہیں جو کچھ ہمیں مل رہا ہے اللہ کی طرف سے مل رہا ہے ۔ اور اگر اللہ زمین نہ پیدا کر ے ،  اللہ اگربا رش نہ برسائے،  اللہ اگر دھوپ نہ نکا لے ،اللہ اگر چا ند نہ نکا لے اللہ زمیں میں پانی پیدا نہ کرے، کیا چیز زمین اُگ سکتی میں کوئی چیززمین میں اُگ سکتی ہے؟

  آپ زمین نہیں بنا سکتے ،آپ پانی نہیں بنا سکتے، آپ ہوا نہیں بنا سکتے ، آپ دھوپ نہیں بنا سکتے ، آپ چاندنی نہیں بنا سکتے ،آپ بیج بھی نہیں بناسکتے اگر گہیوں کا بیج زمین سے نا پید ہو جائے،  اب کوئی ایسی سائنس نہیں ہے جو بیج بنا دے گی ؟ یہ تو ہو سکتا ہے ایک بیج سے اگر قدرتی طور پرسو دا نے نکل رہے ہیںتو آپ اپنے دماغ سے ان سو دانوں کو دو سو دا نے کر دیں لیکن ان دو سو دا نوں میں بھی جو بھی چیز آپ استعمال کر یں گے وہ بہر حال قدرت کی پیدا کردہ ہو گی،  وہ کوئی کیمکل ستعمال کر تے ہیں فرٹلئز استعمال کرتے ہیں اب جیسے کھا د ہے،  اب قدرت وہ چیزیں زمین میں پیدا نہ کر ے اس سے فرٹلئز بنتا ہے تو آپ کیسے بنالوں گے کوئی بھی چیزپیدا ہی نہیں کر سکتے آپ ، اگراللہ نہ چا ہے کون آدمی ایسا ہے جو یہ کہے دے میں تو اپنی مرضی سے پیدا ہو ا ہوں۔اچھا اللہ تعالیٰ پاگل پیدا کر دے کون سا ایسا علاج ہے پاگل کا صحیح علاج ہو سکتا ہے ہو ا ہی نہیں سکتا جو بچہ پا گل ہو گیا۔

  پا گل پن کا کوئی علاج ہی نہیں ہے ۔

نئی نئی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں مثلاً کینسر ہے کینسر کا کوئی علاج ہی دریافت نہیںہوا تنے بڑے بڑے سائنسٹسٹ ہیں جو دعویٰ کر تے ہیں ہم چا ند پر چلے گے خلا ء کی سیر ہم نے کرلی اور یہ ہوگیا وہ ہو گیا وہ ہو گیا ان کے سارے بڑے مر گئے وہ اپنی سائنسی ایجا دات سے مو ت کے ہا تھ میں پنجہ نہیں ڈال سکتے موت کو نہیں بھا گا سکتے تو جب ہم غور کر تے ہیں اپنی زندگی پر تو زمین کی زندگی پر آئندہ مستقبل پر ، ماضی کے اوپر تو اس کے سوا ہمیں کچھ نظر نہیں آتا جو کچھ ہو رہا ہے اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے اور اللہ ہی کرتا ہے اب مثلاً بچہ پیدا ہو رہا ہے وہ ماں بلی ہو ،وہ ماں بکری ہو ،ووہ ماں بھینس ہو ،وہ ماں گا ئے ہو ، وہ انسان کی ماں ہو، جن کی ماں ہو کسی کی بھی ماں ہو تو ایک نظام ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کی پرورش کے لئے اس کو وہ کیا کہتے ہیں نشو ونما کے لئے اللہ تعالیٰ ماں کے دل میں باپ کے دل میں محبت ڈال دیتا ہے اگر اللہ تعالیٰ ماں کے دل میں، با پ کے دل میں سے محبت نکال لے تو آج کی ایک اخبار میں خبر چھپی ہے ، وہ چھوٹا سا بچہ دومہینے کا زیادہ رو تا تھا ماں باپ پر یشان تھے، اس کو بلا لیکر اتنا مارا اتنا مارا وہ مر گیا دو مہینے کا بچہ،  مقصد یہ ہے کہ وہ پا گل پن کے علاوہ کچھ نہیں ہے اسکو آپ پا گل پن بھی کہے سکتے ہیں تو اب اللہ تعالیٰ نے ہمیں ذہن دیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں سوچ دی پھر یہ بچہ پیدا ہو تاہے ۔

 اس سے پہلے کے یہ بچہ پیدا ہو اللہ تعالیٰ ماں کے سینے کودودھ سے بھر دیتا ہے اب بھئی ماں کیا کام کرتی ہے کونسا کردار عطا کرتی ہے دودھ بنا نے کے لئے ۔جتنا بھی آپ اس کی گہرائی میں جائے،  جتنا بھی آپ اس میں غورو فکر کریں گے آپ کو ایک ہی بات نظر آئے گی انسان کچھ بھی نہیں کر رہا سب کچھ اللہ کر رہا ہے اب انسان کی نا دا نی اور کچھ بھی نہیں ہے کہ سب کچھ میں کر رہا ہوں اچھاسب کچھ آپ ہی کر رہے ہیں تو آپ کو کا رو با ر میں نقصان کیوں ہوتا ہے؟  حضرت علی سے کسی نے سوال کیا کہ آپ نے اللہ کو کیسے پہچا نا انہوں نے فرمایا ارادوں کی نا کا می سے اللہ کوپہچا ناجو میں چاہتا ہوں وہ ہوتا نہیں ہے اور جو میں نہیں چا ہتا وہ ہوتا۔

  تو اردے تک پر تو آپ کو اختیار کچھ نہیں ہے اب آپ دیکھئے اپنی زندگی کا تجزیہ کر یں اب بھوک ہے روز بھوک لگتی ہے کوئی آدمی بھوک پر کنٹرول حاصل نہیں کر سکتا کہ صاحب میں تو رو ٹی نہیں کھائوں گا نہ کوئی چیز کھا ئوں گا ممکن ہی نہیں ، کھانا پڑے گا، کہتا میں تو نہیں پا نی پیتا،  پا نی پینا پڑے گا جو ڈی ہا ئدیشن ہو جائے گا مطلب جو بھی کچھ ہے وہ مجبور ہے اگر اسے زندہ رہنا ہے تو اسے پا نی پینا ہی پینا ہے کوئی آدمی ساری زندگی سو نہیں سکتا اٹھنا پڑے گا ،کوئی آدمی ساری زندگی سو نہیں سکتا بیدار ہونا پڑے گا ، سونا پڑے گا۔ کوئی آدمی ساری زندگی بیکار بیٹھ نہیں سکتا چلنا پڑے گا اسے ۔ تو اب کون سا ایسا معاملہ ہے میری زندگی، میں آپ کی زندگی میں، زمین کی زندگی میں جس کے بارے میں زمین یہ کہے یا انسان یہ کہے کہ صاحب یہ جو معاملہ ہے نا یہ ہمارااپنا ذاتی ہے ایک چیز بھی آپ ایک تشریح کے ساتھ اور دلیل کے ساتھ ایسی بیان نہیں کرسکتے کہ جس میں آپ اللہ کے محتاج نہ ہو ۔

 اب سائنسی ایجا دات ہیں مسائل بنے اور ایٹم بم بنے اور یہ بنا اور وہ بنااور جن چیزوں سے یہ چیزیں بنی ہیں وہ پہلے سے وجود ہے تو یہ چیزیں بنی ہیں۔ بارود کے لیے اگرگندھک نہ ہو ،نوشادر نہ ہو ،تو بارود نہیں بنے گی آپ آگ کیا بم کیا آپ ایک پٹاخہ نہیں بنا سکتے صورت تو یہ ہے آپ زمین بنا کر دیکھا دیں اور زمین کے اندر جتنی معدنیات ہے وہ بنا کر دیکھا دیں المونیم ہے وہ ایٹم بم میں کام آتی ہے لوہے کا آپ آمیزہ نہ بنائیں تو میزا ئل تو بڑی بات ہے میں اب یہ دیکھئے جتنی بھی چیزیں آپ کی بنی ہوئی ہے کا ئنات میں اور جتنی بھی ایجادات اور تر قی ہوئی ہے آدم سے لیکر اب تک اس میں وسائل ضرور آتے ہیں ۔

 زمینی وسائل کو اگر نہ ہوتو آپ کوئی ایجا دممکن نہیں ہے اگر ہے تو بتا ئیںہو سکتی ہے ایجاد، وسائل کے بغیر کوئی چیز ایجاد ہو سکتی ہے اب وسائل اللہ تعالیٰ نے پیدا کئے ہو ئے ہیں اب وسائل کا جو استعمال ہے اس کے لئے اللہ تعالیٰ دعوت دے رہا ہے کہ بھئی اس کوآپ استعمال کریں اللہ تعالیٰ خود کہے رہا ہے ’’کہ ہم نے لوہے کو نا زل کر دیا اس لئے لوگ اس سے فا ئدہ اٹھا سکیں ‘‘  اب آپ دیکھ لیں اب آپ یہاں بیٹھے ہو ئے ہیں دس جگہ لو ہا نظر آجا ئے گا ،  ہر چیزمیں کسی نہ کسی طرح لوہے کا کام ہے،  لو ہے کی پٹری ہوا ئی جہاز،  تودھا ت المونیم بھی ہو سکتا ہے ،تا نبہ بھی ہو سکتا ہے، پیتل بھی ہو سکتی ہے ،لو ہا دھا ت اب اگر ہم اس کا نام لوہا ہی رکھے آپ یہ دیکھ لیں ہر جگہ لو ہے کا وجود آپ کوملے گا ریل کی پٹری میں ملے گا جہاز میں ملے گا اب اللہ تعالیٰ نے خود کہے رہے ہیں میں نے جو وسائل دیے ہیں ان کو استعمال کرو۔

 وسائل کس لئے پیداکئے ہیں کہ تم اسے استعمال کروتو ان کے استعمال سے آپ جو نئی نئی ایجا دا ت بنا لیتے ہیںتو ظا ہر ہے اللہ کے وسائل استعمال کرتے ہیں تو وہ اللہ کے ان وسائل استعمال کر تے ہے اب استاد سے جب وہ علم منتقل کرتاہے روحانی استاد یہ علم منتقل کرتا ہے کہ بندے کا خالق سے ایسا رابطہ قائم ہو جا ئے کہ بندہ بہترین غذا کھائے، بہترین لباس پہنے ،بہترین گھر میں رہے ،بہترین خوشبو لگا ئے ،لیکن ذہن اللہ کی طرف رہے اب اس کی مثال یہ ہے اب اِدھر اُدھر کے کام کر تے ہیں کھا نا بھی کھا تے ہیں چلتے بھی ہیںگا ڑی میں بھی سفر کرتے ہیں اور آفس بھی جاتے ہیں لیکن دن کی جو رو شنی ہے اس سے آپ کا ذہن کبھی نہں روکتا اختیار ی ہوتا ہے اگر دن کی روشنیوں سے آپ کا ذہن ہٹ گیا آپ کے سامنے تاریکی آجا ئے گا اور آپ چل پھر نہیں سکیں گے اوررات کی بھی ایک تاریکی ہوتی ہے اب جتنے را ت کے کام ہے سو نا،آرام کر نا، مراقبہ کنسٹریشن اور اللہ تعالیٰ سے تعلق اگر آپ کا رات کی رو شنی سے آپ کا ذہن کٹ جا ئے تو جب ہم ہماری زندگی کا یہ تجربہ ہے دن میں رہتے ہو ئے اختیاری طور پر غیر اختیاری طور پر رو شنی الگ نہیں ہوتی تو اسی صورت سے جس اللہ نے روشنی بنا ئی ہے ہم اس اللہ سے کیوں نہیں ہم رشتہ رہتے ۔

  یہ ہمیں پریکٹس ہے اس بات کی جب ہم دن میں کام کر تے ہیں تو اس کے سامنے یہ الگ بات ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ آجا ئے کہ میں رو شنی میں چل رہا ہوں، رو شنی میں کھا رہا ہوں ،رو شنی میںلکھ رہا ہوں،ذہن میں ہی نہیں آتا لیکن رو شنی واقعی آپ کے ذہن میں آجا ئے تو یہ روحانی استاد جو ہیں یہ شاگر د کے اندر ایسی رو شنی منتقل کر دیتے ہیں کہ وہ کچھ بھی کر ے، شا دی کرے،کا رو بار کر ے بچوں کی شا دی کرے جس طرح دن کی رو شنیاں اس کے اوپر منتقل ہوتی ہیں اس پر ، اسی طرح اللہ کی موجودگی کا احساس غالب رہتا ہے اور قرآن پاک کی آیت کی تصدیق ہو جا تی ہے اللہ ہر چیز دیتا ہے چا ہئے وہ دنیا وی علوم میں چاہئے رو حانی علوم میں بنیادی فرق یہ ہے اگر رو حانی استاد اس کو واقعتا روحانیت آتی ہے اب یہ بھی تو ہوتا ہے جو بہت سارے ویسے ہو تے ہیں جنہیں رو حانیت نہیں آتی وہ رو حانی ہو تے ہیں اگر وہ روحانی استادہو تو آپ کو ایسا علم منتقل کر دے گا آپ پر اللہ کا بڑا احسان ہو گا۔  آپ کچھ بھی کر یں گے اللہ کی طرف سے آپ کا ذہن نہیں ہٹے گا۔

اور جب آپ کے اندر یہ طرز فکر منتقل ہو جائے گی تو ظاہر ہے آپ میں جتنی طرز فکرہے اتنے ہی اللہ کے قریب ہو جا ئیں گے اللہ کے دو ست ہو جا ئیں گے ۔دوستی کسے کہتے ہیں،  اللہ سے قربت دوستی کا مطلب قربت ہے،  دشمنی دوری ہے تو جب آپ اللہ سے قریب ہو گئے تو اللہ کے دو ست ہو گئے اور جب اللہ سے دوست ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا دیا الاانا ھو …کہ اللہ کے دوستوں کو غم اور خوف نہیں ہوتا۔پھر آپ کی زندگی جو دو زخ بنی ہوئی ہے اگر اللہ کی طرف ہو جائے تو یہ ساری زندگی جنت بن جا ئے گی ۔

جنت میں غم و خوف نہیں ہوتا اگر اللہ سے دوستی ہوجائے تو جنت یہ کیا چیز ہے جنت یہی ہے نہ کہ جنتی لوگوں کو اللہ کی تجلی کا دیدار ہوتا ہے اور جنت کی کیا خصوصیت ہے اگر جنت میں اللہ تعالیٰ کی تجلی کا دیدار نہ ہو وہ آپ کے کس کام کی جنت ہے تو جب دنیا میں آپ اس اللہ سے قریب ہوگئے اللہ تعالیٰ کاآپ کے سامنے ہے،  کا رو بار آپ کررہے ہیں اللہ آپ کے سامنے ہے ظا ہر ہے کامیاب یہی ملے گی اب رسول اللہ  ﷺ کا ارشاد ہے ہر آدمی اپنی جنت اپنی دو زخ ساتھ لئے پھر تا ہے تو جو آدمی جنت ساتھ لئے پھر رہا ہے وہ اللہ کی قربت ہے اللہ کی قربت کیسے ہوگئی بھئی اب اللہ کی قربت ایسے ہوگی کہ آپ کے پیغمبروں کی طرز فکر کے قریب تر ین بندہ اگر کوئی ہوتا ہے اللہ سے تو قریب ترین بندہ اگر اللہ سے ہے تو پیغمبر ہے اب پیغمبروں کی طرز فکر جب آپ کو منتقل ہو گئی تو آپ بھی اللہ سے قریب ہو گئے تو رو حانی استاد کا بہت بڑا وصف ہے کہ وہ اپنے بندے کے اندراپنے شا گر د کے اندر وہ طرز فکر منتقل کر دیتا ہے جو طرز فکر رسول اللہ  ﷺ کی ہے ۔اختتام

Topics