Topics
یہ
افتخار عظیمی صاحب کا سوال ہے کہ مرا قبہ کی حالت میں ہم بہت کچھ دیکھتے ہیں ہمیں
کیسے پتا چلے گا جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں صحیح دیکھ رہے ہیں یا غلط دیکھ رہے ہیں
برا ئے مہر بانی جواب سے نوازدیجئے ؟
سوال
یہ ہے کہ مرا قبہ کی حالت میں بہت ساری چیزیں نظر آتی ہیں آپ حضرات کی معلومات
میں یہ بھی دیکھا جائے کہ روحانی ڈائجسٹ کی میں ایک ماورائی دنیا کا عنوان پیش
ہوتا ہے اور اس کو کئی سال ہو گے ہیں اس ماورائی دنیا سے جوکالم چھپتا ہے روحانی
ڈائجسٹ میں اس میں بھی ہم جو مراقبہ میں دیکھی ہوئی کیفیات ہیں وہ چھاپتے ہیں اور
اب تو ہماری پہچان بھی مراقبہ کے نام سے ہو نے لگی ہے ایک دوست نے یہ بتا یا کہ
شادی میں ہم شریک ہو ئے دو تین بندے تھے ۔
وہ وہاں جتنے بھی لوگ تھے سب نے شور مچا یا بھئی
مرا قبہ والے آگئے بھئی مراقبہ والے آگیا یہ اللہ کا کرم ہے کہ اب سے تقریبا ً
بیس سال پہلے میں نے یہ مرا قبہ کا تعارف کر وایا پاکستان میں اللہ کی مخلو ق سے
اس وقت کافی مخالفت بھی ہوئی لوگوںنے بہت برا بھلا بھی کہادھمکی بھی دی گئی اور
ساری کوشش بھی کی گئی کہ یہ کالم ختم ہو جا ئے تو اللہ کے فضل وکرم سے یہ ہوا کہاب
صورت حال یہ ہے کہ پاکستا ن سے بڑی آبادی جو ہے و اقف ہو گئی ہے اور لوگوں کی
سمجھ میں یہ بات آگئی ہے یہ زمین پر رہنا ہے صرف مادی وسائل تک ہی زندگی نہیں ہے
ایک اور زندگی ہے ایک اور عالم ہے مراقبہ کی تعریف میں ہم نے کئی بارعرض کیا کہ
مراقبہ دراصل اندرونی آنکھ کے دیکھنے کاعمل ہے جیسے کہ ہم یہ جانتے ہیں دو ظاہر ی
آنکھوں سے دیکھنے کا عمل جو ہے وہ محدود ہے یعنی ایک حد تک ہم دیکھ سکتے ہیں لیکن
اگر ہم اپنی اندرونی آنکھ کوتلاش کرلیں یعنی اپنی روح کی آنکھ کو دیکھ لیں یا
روح کی آنکھ کوتلاش کرلیں تو ہمارے لئے غیب کی دنیا میں دیکھنا ممکن ہے اورتاریخ
میں ایسے لوگ موجود ہیں بے شمار واقعات شامل ہیں جس میں لوگوں نے دور داز کی چیزیں
دیکھی ہیں مثلا ًحضرت عمر کاواقعہ خاص طور سے بیان کیا جا تا ہے کہ مدینہ منورہ
پرخطبہ فرما رہے تھے وہاں سے انہوں نے خطبے کے دوران میں فرمایا یا فاریہ الجبل یہ
جو کمانڈر تھے فوجوں کے ان کوکہا بھئی تم ذرا ہوشیار ہو کر لڑا ئی لڑو اور پہاڑ کی
طرف متوجہ ہو جائواسکے پیچھے گڑ بڑ ہے تو یہ تا ریخ شاہد ہے اس بات کی کہ ہزارو ں
میل دور حضرت عمر کی آواز سنی، حضرت
ساریہ جوہیں وہ پہاڑی کی طرف متوجہ ہو ئے اور وہاں دیکھا کہ کچھ بندے پہاڑی کی طرف
چڑھ کر مسلمانوں کے اوپر حملہ کرنے والے تھے اور حضرت عمر کی آواز دینے سے لشکر
میں ترتیب تھی اور مختلف ہتھیار تھے تو انہوں نے جب آواز سنی تو حملہ رک گیا اور
وہ بڑے نقصان سے بچ گئے اب یہ دیکھنا بہرحال غیب کی دنیا میں ہی دیکھنا ہے حضرت
عمر مدینے میں ہزاروں میل دور ہیں، پہلی بات تو یہ ہے کہ حضرت عمر نے دیکھا یعنی
محاذ کاپورا نقشہ حضرت عمر کے سامنے تھا دوسری بات یہ ہے کہ حضرت عمر نے دیکھ کرجو
کچھ فرمایا وہ سپہ سالار نے بھی سنا اور فوجیوں نے بھی سنا اس سے یہ ثابت ہوا کہ
آدمی دور داز کی چیزوں کو دیکھ بھی سکتا ہے اور دور دراز جو لوگ ہیں وہ آواز بھی
سکتے ہیں دور داز لوگوں کی تو اسی طرح بہت ساری چیزیں مثلا ً آپ نے پڑھا ہو گا کہ
قبر کے اندر جو لیٹے ہو ئے ہو تے ہیں کچھ لوگ اچھے بھی ہو تے ہیں کچھ لوگ پر یشان
ہوتے ہیں تو وہاں بھی اولیا ء اللہ کے واقعات ایسے ہیں جو انہوں نے جناب کہا کہ یہ
بندہ پر یشان ہے قبرمیں اس کی بھی اصلاح کے لئے ثواب کرو کچھ کھا نا پکا کر دو،
کچھ نہیں تو درخت ہی لگا دو وہ درخت کی تسبح کرنے سے اس کا توعذاب کم ہوگیا۔
آپ تلا ش کر یں بے شمار واقعات ایسے ہو تے ہیں
کہ جو ہماری عام دیکھنے جو حس ہے اس سے ہٹ کر ہم دیکھتے ہیں دوسری جو ہماری پاس ہر
وقت ایک صلاحیت ہے جس کوکوئی بھی آدمی نظر انداز نہیں کر سکتا اور اس صلاحیت سے
ہر آدمی فا ئدہ بھی اٹھتا ہے اس کا تجربہ بھی کر تاہے وہ خواب ہے خواب کے عالم
میں آپ دیکھئے گا آدمی سو رہا ہے بالکل بے خبر اسے کچھ پتا نہیں میرے آس پاس
کیا ہو رہا ہے ۔
لیکن
وہ خواب کے اندر بھی دیکھتا ہے میں آسمانوں میں اڑ رہا ہوں ،میں ہوا میں اڑ رہا
ہوں ،میں پانی میں اڑ رہا ہوں ،کسی پیغمبر علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے ملاقات ہو رہی
ہے ان سے با تیں ہورہی ہیں کبھی وہ دیکھتا ہے میں صاحب خانہ کعبہ میں ہوں طواف کر
رہا ہوں کبھی کہتا میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے دربار میں ہوں سلام
پڑھ رہا ہوں کبھی کچھ دیکھتا ہے کبھی کچھ دیکھتا ہے اور وہ خواب دیکھنے کے بعد بہت
بار اسی طرح ہوتا ہے جس طرح وہ خواب دیکھتا ہے بہت ساری صورتو ں میں آپ کوتجر بہ
ہوا ہو گا کہ آپ کسی نئے شہر میں گئے کسی نئے قبرستان میں گئے اور آپ کہتے ہیں
کتنی عجیب بات ہے یہ دیکھا ہوا ہے تو اس کامطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ خواب میں دیکھا
ہوا ہوتا ہے بھول جاتے ہیں تو اب دیکھنے کی جو صلاحیت ہے وہ ثابت ہے اس بات سے
خواب میں بھی دنیا سے با ہر دیکھتے ہیں اور اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہمت دے تو فیق دے
یا کوئی پریکٹس کر لیںتو دوبارہ بھی توآدمی دیکھ سکتا ہے۔ تو مراقبہ کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس بات کی کوشش اور مشق کر ے کہ وہ
جو دنیا میں پابند حواس میں زندگی گزاررہا ہے ایک محدود مطلب یہ ہے کہ آپ یہاں سے
اگر دیکھیں تو کتنا دیکھ لیں گے زیادہ سے زیادہ چار سو گز دیکھ لیں گے ۔
پانچ
سو گز دیکھ لیں گے پانچ سو گز کے بعد کوئی چیز نظر نہیں آئے گی ۔لیکن اگر آپ
پریکٹس کر یں جیسے یہ کبوتراڑانے والے لوگ ہوتے ہیں انکی نظر بہت تیز ہوتی ہے اور
پریکٹس ہو جا تی ہے میلوں میل دیکھو فلا ں کبو تر فلاں نسل کا، ان کو پریکٹس ہو
جاتی ہے جیسے آپ ڈ رائیور لوگ ہیں جو گاڑیاں چلاتے ہیں ان کے جب بھی چشمہ لگے گا
قریب کا چشمہ لگے گا دور کانہیں لگے گا دور کی نظر کا چشمہ ہی نہیں لگتا ایسی صورت
سے جب ہم دیکھتے ہیں جو لکھنے پڑھنے والے لوگ ہو تے ہیں مثلا ً درزی ہو تے ہیں،
کتا بت کرنے والے لو گ ہو تے ہیں یا کوئی خیراد کاکام کرنے والے ہو تے ہیں۔
جن کی نظر جو ہے قریب زیادہ استعمال ہوتی ہے ان
کے جب بھی چشمہ لگے گا دور کا لگے گا بات یہ ہے آپ اس نظر کو جس طرح استعمال کرتے
ہیں نظر اسی طرح سیٹ ہوجا تی ہے اگر آدمی دور ہے تو دور تک دیکھے گا اور کبوتر
باز ہے تو اس سے بھی دور تک دیکھے گا ،پتنگ اڑانے والا اس سے بھی دور دیکھے گا بات
کیا ہوئی بات یہ ہے کہ اسے دور دیکھنے کی پریکٹس ہے اسے پتا نہیں ہے میں پریکٹس کر
رہا ہوں لیکن جب آپ پتنگ اڑائیںگے آسمان میں آپ کی نظر آسمان میںپھیرے گئی آ
پ کی دور کی جو نظر ہے وہ زیادہ طاقت ور ہے اسی طرح قریب لوگ کام کر تے ہیں تو ان
کی قریب کی زیادہ طاقت ور ہے تو یہ پر یکٹس ہے جب ہم اس مادی آنکھ کو پریکٹس کے
زریعے زیادہ سے زیادہ دور لیجا تے ہیں اور کم از کم قریب کر دیتے ہیں اور اگر ہم
روحانی آنکھ سے واقف ہو جائیں تو روحانیت کی بات ہوگئی ہم ٹائم اینڈ اسپیس کے
تعین سے نکل کر آزاد ہو جا ئیں گے۔ بھئی آپ کو یہی کر نا ہے تو مراقبہ دراصل نام
ہے اس بات کاکہ ہمارے اندجو غیب کی دنیا میں دیکھنے والی نظر کام کر رہیء ہے اس
نظر کو بنانا یا اس آنکھ کو بنانا یعنی اس آنکھ کے بنانے کے عمل میں ہم نے
جدوجہد اور عوامل کردئیے اس کا نام مرا قبہ ہے ۔
بھا
ئی نے سوال کیا ہے مراقبے میں ہم دیکھتے تو ہیں لیکن یہ کیسے پتا چلے گا یہ جو کچھ
ہم دیکھ رہے ہیں وہ صحیح دیکھ رہے ہیں جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ غلط دیکھ رہے ہیں۔
تو اس کا بھی ایک اصول ہے اس کا اصول یہ ہے کہ
آپ بہت ساری چیزیں دیکھتے ہیں اس طرف متوجہ نہیں ہوتے تو آپ بھی نہیں دیکھتے
مثلاً یہاں آپ سرجا نی ٹائون تشریف لا ئے کوئی آدمی ناظم آباد سے آیا ہو گا
کوئی ملیر سے آیا ہو گا بھئی بات یہ ہے کہ تم ناظم آباد سے نکل کر سر جا نی
ٹائون آئے راستے میں تم نے کیا کیا چیزیں پڑی راستے میں تمہیں کیا کیا چیزیں پڑی
کوئی بس پڑی کوئی گاڑی پڑی کوئی اللہ بھلاکرے کوئی آپ سے یہ پوچھے بھئی بتا ئو
کھمبے کتنے ہیں پلازہ کتنے آپ نے دیکھے تو دیکھا تو آپ نے سب کچھ ہے لیکن آپ
کچھ بھی نہیں بتا تے ، دیکھئے اگر ایک
بندہ ناظم آباد سے یہ سوچ کرچلے کہ مجھے راستے میں ہرچیز کودیکھنا ہے یا د رکھنا
ہے تو وہ آدمی ، جتنا اس کو یاد ہو گا وہ بتا ئے گا بھئی اتنے پلازہ ہیں ادھراتنے
راستے میں فلاں فلاں رنگ کی میں نے گاڑیاں دیکھی اتنی چوراھے ہیں، ان چورائوں پر کسی میں گھاس لگی ہوئی ہے
کسی میں گھا س نہیں لگی ہوئی مقصد یہ ہے کہ آپ کسی چیز کی طرف متوجہ ہوجا ئیں اور
اسے یاد رکھنے کی کو شش کر یںوہ چیز آپ کو یاد رہتی ہے، لیکن اگرآپ متوجہ نہ ہو ں تو آپ اس راستے سے
بیس دفعہ گزریں آپ کو یاد نہیں ہو گی بہت سارے لوگ ایسے ہو تے ہیں محلے میں رہتے
ہیںاپنے گھر کے اڑوس پڑوس کا پتا نہیں ہوتا، اسی محلے میں کوئی آدمی ہو گا اس سے
پوچھیںراستے کا تو وہ سارے گھر بتا دے گا ساری دنیا بتا دے گا ، بات یہ ہے کہ اس آدمی کی دلچسپی نہیں ہے کو ن
کہاں رہتا ہے وہ اپنے حال میں مگن ہے ۔
یعنی
وہ متوجہ نہیں ہو تادوسرا آدمی متوجہ ہوتا ہے اب وہ قانون یہ بنا کہ وہ غیب کی
دنیا کا عمل ہو یا اس مادی دنیا کا عمل ہو اگر آپ اس کی طرف متوجہ ہیں اگر آپ
دھیان دے رہے ہیں اگر آپ یاد رکھنا چا ہتے ہیں تو آپ کو بہت کچھ یاد ہو گا اگر
آپ اس طرف متوجہ نہیں ہیں تو آپکوکچھ بھی یاد نہیں تو اب یہ ہے کہ مراقبہ میں
دیکھی ہوئی چیز پہلے تو یہ اس کی حقیقت کیا ہے اور وہ یاد رہتی ہے نہیں رہتی اگر
مراقبہ میںاگر آپ کو اتنی پریکٹس ہو جا ئے جو چیز بھی آپ دیکھیں اس کی گہرا ئی
میں آپ غوروفکر کر یں اور اس اور وہ دیکھا ہوا سا را کا سا را حقیقت پرمبنع ہوتا
ہے لیکن اگر آپ سرسری طور پر دیکھیں آپ کو یہ یاد تو ہو گا میں نے اتنے پلازہ
دیکھیں ہیں لیکن اس کے پیچھے کوئی بات نہیں کہا جا سکتی ۔
نہیں یہ ایسا ہے مثلاً ایک آدمی کار میں بیٹھ
کرسیر کرتا ہے کرا چی کی ایک آدمی ہوا ئی جہاز میں بیٹھ کرسیر کرتا ہے تو اس کو
ہوا ئی جہاز میں بلڈنگ بھی نظر آئیں گی،روشنی بھی نظر آئیں گی ،کاریں بھی نظر
آئیں گی لیکن اگر ائیر پورٹ پر اس سے پو چھا جا ئے تم نے کیا دیکھا تو وہ کہے گا
میں نے کچھ نہیں دیکھا رو شنیاں دیکھی ہیں حالانکہ سب روشنیاں تو نہیں ہیں لیکن
ایک آدمی جو کار میں بیٹھ کر سیر کی جس نے وہ بتا دے گا میں صدر گیا میں فلاں جگہ
گیا فلاںجگہ دیکھی تو یہ مراقبہ میں دیکھی ہوئی صورت ہوکوئی عمل ہو مراقبہ میں
دیکھی ہوئی کوئی بات ہو یا دنیا وی اعتبار سے دیکھی ہوئی کوئی بات ہو کوئی عمل
ہواگر ہمارا ذہن اس کی طرف متوجہ ہے تو ہم اسے یاد رکھتے ہیں اور اس طرف متوجہ
نہیں ہے تو ہم اسے ہر گز یاد نہیں رکھتے اب سوال جو ہم مرا قبہ میں دیکھ رہے ہیں
یہ ہمارے تصوراتی ہونگے جہاں تک تصورات کا تعلق ہے ساری دنیا ہی تصورات پر قائم
ہے۔
میں نے ایک صاحب سے سوال کیا تھا با ہر، انہوں نے کہا صاحب یہ تصورا تی دنیا نہیں ہے یہ
تو حقیقت دنیا ہیں ، میں نے کہا بھئی تم
یہ بتا ئوجب تم پیدا ہوئے تمہیں یاد ہے کہ نہیں،
صاحب مجھے تو نہیں یا د بھئی جب تم پیدا ہو ئے تمہارا نام کس نے رکھا اماں
نے رکھا ہو گا ابا نے رکھا ہو گا دادا نے رکھا ہو گا، امثلا ً ایک آدمی کا نام
رکھا کہ اس کا نام ہے محمود اب کیا جب وہ بندہ ساٹھ سال کا ہو گیا وہ محمود ہے
؟کیا اس کی ہر چیز بدل گئی سب بدل گیا کمر بدل گئی سینہ بدل گیا آنکھ بدل گئی ناک
بدل گئی اور اسطرح بدل گئی اگر اس کے ماں باپ کودیکھا جائے وہ نہیں پہچان سکتے
لیکن اس کے باوجود وہ محمود ہے تو مقصد یہ ہوا کیا سند ہے اس بات کی جو آپ نے نام رکھ دیا وہی
نام سے اسے پکا را جا ئے۔ لیکن ایک مجبوری
ہے اس بات کی کہ محمود نام رکھے بغیر ہم کسی کی ہستی کا تعین نہیں کر سکتے اسی
صورت سے ہم یہاں رہتے ہیں ساٹھ سا ل رہتے ہیں ستر سال رہتے ہیں پچاس سال رہتے ہیں
لیکن جب مر تے ہیں تو یہ ساری چیزیں بے کار ہو جا تی ہیں مکان بنا لو ،گاڑی خرید
لو ،جب آدمی مر تا ہے تو ہر چیز جو ہے اس کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہوتی ۔
تو یہ ساری دنیا جو ہے یہ اصل میں اس نے یہ
تصورات کے علاوہ کچھ ہے ہی نہیں ایک فلم ہے۔
جس طرح ایک فلم دیکھتے ہیں فلم دیکھتے دیکھتے ذہن کہتا ہے ہم فلم دیکھ ر ہے
ہیں ، ہم فلم دیکھ کر کبھی ہنسنے لگتے ہیں
کبھی رو نے کبھی کوئی دہشت ناک فلم ہو تو ڈر بھی جاتے ہیں کتنی عجیب بات ہے ہمیں
پتا ہے فلم دیکھ رہے ہیں پھر بھی ڈر رہے ہیں یا ہنس رہے ہیں یا بول رہے ہیں یا اس
کہانی پر تبصرہ کر رہے ہیں تو اس کو آپ تصورات کے علاوہ کوئی اور بات کہے سکتے
ہیں یہ ساری زندگی جو ہے روحانی نقطہ نظر سے فکشن ہے۔ ایک تصوراتی دنیا ہے اور یہی تصوراتی دنیا کاجو
عمل ہے اسی کوبتا نے کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر تشریف لا ئے اور انہوںنے
فرمایا یہ جو دنیا کی زندگی ہے یہ عارضی زندگی ہے، فکشن زندگی ہے یہاں کچھ بھی کر لو اس کی کوئی
حیثیت نہیں ہے اس کو چھوڑ نا ہی ہو گا اس کو ختم ہی کرنا ہوگا اصل دنیا ایک اور ہے
اس تصوراتی دنیا کے پیچھے ایک اور اصل د نیا ہے جہاں آپ کو با لکل اسی طرح رہنا
ہے جہاں آپ یہاں رہتے ہیں ۔
جس
طرح آپ یہاں پر یشان ہیں ، پریشان مر گئے تو وہاں بھی پریشانی ہوگی اگر آپ نے
یہاں اس زندگی کو خوشنما بنا لیا اور اس زندگی کو پر سکون بنا دیا تو مرنے کے بعد
جو اصلی دنیا ہے وہاں بھی آپ کوسکون ملے گا،
وہاں بھی آپ سکون رہے گا، خوش رہے
گے، زندہ رہے گے ۔ تو مرا قبہ جو ہے مراقبہ ایک ایسی مشق ہے
مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جس مشق اور جس عمل کے ذریعے انسان اس دنیا میں رہتے ہو ائے
دو سری دنیا سے واقف بھی ہوجاتا ہے اور دوسری دنیا کی زندگی کوسمجھ لیتا ہے اور اس
کو یہ پتا چل جا تا ہے اس دنیا میں خوش رہنے والے بندے یہاں سے چلے جا تے ہیں اور
اس دنیا میں نا خوش رہنے والے بندوں کاوہاں کیا حال ہوتا ہے ۔
یہ دنیا حقیقی ہے ہی نہیں، یہ دنیا فکشن ہے ساری کی ساری دنیا فکشن
ہے، ایک پر دہ پڑا ہوا ہے اس کو یوں سمجھ
لیں بار بار ایک ہی بات دوہرا ئی جا تی ہے،
اصلی اگر یہ زندگی ہے تو یہاں کوئی آدمی مر نا نہیںچا ہتا کوئی آدمی یہاں
بوڑھا نہیں ہو نا چا ہتا بوڑھا کیوں ہوتا ہے کوئی آدمی یہاں کاروبار میں نقصان
نہیں اٹھا نا چاہتا اس کا کاروبار کیوں خراب ہو کوئی آدمی مفلس اور بھو کا نہیں
ہونا چاہتا کیوں اس کے اوپرافلاس طاری ہو جا تا ہے ، کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو
یہ کہے جی میں بڑا خوش ہوں، میں بڑا بیمار ہوں گا بیمار ہو کر بیماری سے بچنے کی
بھی کوشش کرتا ہے علاج بھی کرتا ہے احتیاط بھی کرتا ہے اس کے با وجود وہ بیمار
ہوتا ہے یہ الگ بات ہے اگر آپ بیماریوں سے بچنے کی کوشش کریں آپ بیمارکم ہونگے
لیکن بچ نہیں سکتے بیمارضرور ہو گا آدمی۔
میں یورپ جا تا ہوں، وہاں رہتا ہوں ، مجھے وہاں لوگ ہسپتالوں میں
بلا تے ہیں کتنا رش ہے وہاں مریضوں کا، یہ ہسپتال کہ یہ جو میٹنگ روم ہوتے یا وہ
کیا کہتے ہیں وئیٹنگ رو م ہو تے ہیں وہاں بھی چا ر پائیاں بچھی ہوئی ہیں تین تین
مہینے ،چار چار مہینے ،پانچ پانچ مہینے ،چھ چھ مہینے مریض تڑپتے رہتے ہیں ان
کودیکھنے کے لئے ڈاکٹر نہیں آتے یہ ان ملکوں کا حال بتا رہا ہوں جہاں وہ پا نی کا
بھی اچھا انتظام کر تے ہیں کھا نے پینے کا بھی اچھا انتظام کر تے ہیںمقصد یہ ہے کہ
بیماری جو ہے بیماری لازماً آپ کے پیچھے پڑی رہتی ہے ، لیکن آدمی بیمار نہیں ہوتا کیوں کہتا ہے بیمار
ہوتا ہے پھر یہ ہے کہ بہت ساری چیزیں ایسی مثلا ً آدمی کوفالج پڑ گیا اب اس کے
ہاتھ پیر سب بیکار ہو گئے ہاتھ موجود ہے لیکن پکڑ نہیں سکتے ٹانگ موجود ہے لیکن چل
نہیں سکتے اگر یہ علم آدمی جسم سب ہی کچھ ہے تو فالج پڑنے سے ہاتھ کیوں بیمار ہو
گیا فالج پڑنے ٹانگ کیوں بیکا ر ہو گئی ۔
اس کا مطلب ہے کہ بیماریاں بھی آپ کو ایسے
متاثر کر سکتی ہیں اب ایسے تو مر نے کی صورت ہے آدمی مر گیا تو وہ کچھ نہیں کر
سکتا تو اب یہ آپ زندگی پر جتنا بھی غورو فکرکر یں گے تو اس زندگی میں آپ کو ایک
چیز نظر آئے گی یہاں کی زندگی کا ہرلمحہ ہر آن فنا ہو گیا ایک لمحہ مرتا ہے تو
دوسرا لمحہ پید ا ہو جا تا ہے اصل دیکھئے ناآپ پید ا ہو ئے ، میں پیدا ہو ا، سب پیدا ہو ئے اب میں آج جوان کی صورت بنے
بیٹھے ہیں ہما را جو جس طرح مقام تھا بھئی کوئی آدمی آپ سے سوال کر ے تم جوان ہو
گئے ہو بچپن سے نکل کر آئے ہو بچپنا کہاں گیا آپ کیا کہے گے بتا ئیں بھئی کیا
کہے گے ؟
فنا
ہو گیا مر گیا اب ایک بوڑھا آدمی سے پوچھیں صاحب آپ کی جوانی کدھر گئی میرے پاس
اس کے علاوہ کیا جواب ہو گا وہ مر گئی بھئی جب آدمی مر جا تا ہے تو کہتے ہیں یہ
بندہ کدھر گیا کہتے ہیں اس کا بوڑھا پا مر گیا تو اس زندگی کاہر لمحہ مررہا ہے اور
ہر دوسرا لمحہ زندہ ہو رہا ہے تو جب موت اور پیدائش کایہ عالم ہے کہ ہر لمحے کے
اوپر موت وارد ہو رہی ہے دوسرے عالم کے اندر حقیقی ہورہی ہے اور یہ عالم کیسے
مسلسل منتقل ہو رہا ہے تو یہ مراقبہ جو ہم کر تے ہیں مراقبہ سے ہمیں یہ پتا چل جا
تا ہے اور مراقبہ اور مشاہدے میں یہ بات آجا تی ہے کہ یہ عالم جو ہے یہ ایک عارضی
عالم ہے اور اس کی ساری کی ساری زندگی لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں جیسے
جیسے ہم فنا ہورہے ہیں ہم دو سرے عالم کی طرف سفر کر رہے ہیں ۔
یہ قرآن کہتا ہے یہ آسمانی کتابیں کہتی ہیں
سیدنا علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے وہ جو عالم ہے اس پر فنایت ہے اب صورت حال یہ ہے
کہ ہم فنا ہو نے والے عالم کو تو تسلیم کر رہے ہیں اور اس کو ہم نے اپنی زندگی کا
مقصد بنا لیا ہے اور وہ عالم جہاں فنا ئیت نہیں ہے اور جہاں ہمیں بہرحال جا نا ہے
ہم چا ہئیں نہیں مر یں موت ہمیں نہیں چھوڑے گی ،کتنے سال جئے گا انسان مر نا تو ہے
اب آدم سے لیکر اب تک کروڑوں سال ہو گئے اس دنیا کوبنے ہوئے جب کروڑوں سال میں
سنکھوں سنکھوں آدمی مر گئے تو یہ مراقبہ جو ہے ہمیں تصوراتی اور فکشن دنیا سے
نکال کرحقیقی دنیا میں لے آتا ہے ایسی حقیقی دنیا میں جہاں موت وارد نہیں ہوتی
ہے، جہاں پر یشانیاں نہیں ہوتی، جہاں بیماریاں نہیں ہوتی، جہاں نا خوش نہیں ہوتا آدمی لیکن یہ اس وقت تک
ہے جبب آدمی غیرمستقل اور عارضی دنیا میں مستقل جیناسیکھ لے یعنی مستقل دنیا کو
وہ دیکھ لے جب تک کوئی آدمی اس دنیا میں رہتے ہو ئے مستقل عالم کو نہیں دیکھ لیتا
وہ مر تا ہی نہیں اور مر تا ہے تو فکشن ہے نہیں اور وہاں اٹھتا ہے تو فکشن نہیں ہے
یہ جتنی بھی آپ دیکھیں گے تعلیما ت ہیںمذہبی ہیںایک تو یہ مذہب کو یہ مسئلے میں
شامل کر تے ہیں ، فرقوں کا ہی پتا نہیں کتنے فرقے ہیں لیکن اگر آپ حقیقی طریقے پر
پیغمبروں کی تعلیمات پڑیں ان پر غور کر یں تو ہر پیغمبر نے ایک ہی بات کہی ہے ، اس
دنیا میں تمہیں بھیجا گیا ہے یہ ایک امتحان گاہ ہے مستقل یہاں نہیں رہنا ہے بالاخر
تمہیںاس دنیا کو چھوڑنا ہے یہ تم مرضی سے چھوڑوں یا خوشی سے چھوڑ بہر حال چھوڑنا
ہے۔
تو پیدا ہو نے کے بعد چو دہ پندرہ سال تک تمہارے
اوپر کوئی حساب نہیں ہے یعنی آدھی زندگی میں تمہارے اوپرحساب نہیں ہے یعنی تیرا
چو دہ سال کی عمر آگئی باقی سونے کا وقت آگیا مثلاً کسی آدمی کی ساٹھ سال زندگی
ہے ساٹھ سال میں وہ مر تا ہے تو تیس سال
کی زندگی کاکوئی حساب نہیں ہے۔
با رہ تیرا سال تو وہ نکل گئے با قی بھئی وہ سو
یا بھی تو ہے باقی سونے کازمانہ میں نے حساب لگا یا تھا تو وہ زیادہ تھا اب یہ تیس
سال کی زندگی ہے اس تیس سال میں آپ جو بھی کچھ کر تے ہیں وہی آپ کی زندگی کا
حاصل ہے اور وہی آپ کی زندگی کا اصل ہے اگر تیس سال کی زندگی میں اگر آپ کو
پیغمبروں کی تعلیمات نکال دی تیس سال کی زندگی میں آپ کااللہ کے اوپر یقین کامل
رہا تیس سال کی زندگی میں آپ کسی فرقے میں شامل نہیںہو گئے ، کوئی فرقہ بازی
نہیںکی آپ نے خالص اللہ کے رہے، اللہ کے
رسول بن کر رہے اس کوآپ نے اچھا سمجھا، اللہ
سے اور اللہ کے رسول اللہﷺ سے محبت کی اور اللہ اور اللہ کے رسول کے لئے اللہ کی
مخلوق سے محبت کی، آپ کی زندگی سنور جا ئے گی اور یہاں کے بعد کی جو حقیقی زندگی
ہے آرام و سکون ملتا رہے گااور جب آپ آرام و سکون کی زندگی میں ایک دفعہ داخل
ہو گئے تو بس پھر ابد تک آپ رہیں گے اور اگر آپنے اللہ اور رسول کے احکامات کی
تعمیل نہیں کی، آپس میں تفرقوں میں پڑ
گئے لوگوں کو برا بھلا کہا لوگوں کی دل آزاری کاسبب بنے، لوگوں کے حقوق تلفی کی،
لوگوں کو برا بھلا کہا، تو یہاں پر بھی پربے سکون زندگی ہے اور وہاں بھی بے سکون
ہوتا ہے تو مراقبہ سے انسان کے اندر اللہ کی مخلوق کے لئے محبت پیدا ہو جا تی ہے
انسان کے اندر وہ آنکھ کھل جا تی ہے جو اس دنیا میں کام کرتی ہے اور انسان اس
مفروضہ اور فکشن میں دنیا سے اور اصلی دنیا سے واقف ہوجا تا ہے ۔
اختتام