Topics

سوال ؛ مسلمانوں کی حالت زار کس طرح درست ہوسکتی ہے ؟

 

ایک صاحب نے نام تو لکھا نہیں ہے سوال کیا ہے کہ اس دنیا میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ہورہاہے اس میں کشمیر ہے ، نیپال ہے ،فلسطین ہے جیسے افغانستان میں جو کچھ ہوا ہے۔

 ایران اعراق میں جو کچھ ہوا یہ کہے رہے ہیں جب صاحب مسلمانوں پر اتنا ظلم ہورہا ہے تو یہ روحانی لوگ جو اللہ تعالیٰ کے دوست ہیں اور جن کی اللہ تعالیٰ سنتے بھی ہیں دعائیں بھی قبول کر تے ہیں وہ ان کو بچا نے کے لئے اور عالم اسلام کو تشددظلم و ستم سے نجات دلانے کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کیوں نہیں کرتے اور وہ دعا کر تے ہیں تو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی مشکلات دور کیوں نہیں کر تے پھر دو سری بات انہوںنے یہ کہی کہ جو اولیا ء اللہ ہیں ان کواللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ذریعے اپنے علوم کے ذریعے طا قت بھی عطا کی ہے جب ہم سب یہ جانتے ہیں کہ خدا کے کلام میں طا قت ہے تو یہ اولیا ء اللہ حضرات یا صوفی حضرات یا روحانی حضرات اس طاقت کو استعمال کیوں نہیں کر تے سوال اپنی جگہ عام ہے لیکن اس سوال کرنے والے بھا ئی نے اس طرف غور نہیں کیا یہ ساری کائنات اللہ تعالیٰ کی تخلیق کردہ ہے اور کائنات کو چلانے والا یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ کا ئنات کس طرح چلا ئی جا تی ہے دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ ضابطے اور قاعدے رکھے ہیں کہ اس قاعدو ں اور ضابطوں پر جو لوگ پورے اتر تے ہیں اللہ تعالیٰ کاقانون ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے اور جو لوگ اللہ کے بنا ئے ہوئے اللہ کے پیغمبروں کے بنا ئے ہو ئے اصولوں کو توڑتے ہیںاللہ تعالیٰ کاقانون ان کاساتھ نہیں دیتا۔

  ایسا ہی سوال میں نے ایک بار حضور قلند ر بابااولیا ء ؒ سے کیا تھا تو انہوں نے یہ فرما یا اللہ تعالیٰ کاجہاں تک معاملہ ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ہر چیز سے ماوراہے تو اگر کسی قوم کوسزا ملتی ہے تو وہ سزا اللہ تعالیٰ نہیں دیتے اگر کسی قوم کوجزا ملتی ہے اس جزا کا بھی ایک قانون ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو قانون بنادیا ہے وہ قانون "قانون نا طق" ہے گھونگا بہرا نہیں ہے اس قا نون کے مطا بق افراد، قومیں جب عمل کرتی ہیں تو قانون میں اگر ان کورعایت ہوتی ہے ،  قانون ان کو اچھا سمجھتا ہے قانون ان کو عروج کی طرف لیجاتا ہے تو قانون ان کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ لیکن اگر وہی افراد اور قومیں ا للہ کے بنا ئے ہو ئے قانون کے مطابق نہیں چلتی،  قانون توڑتی ہیں،  قانون کے خلاف ورزی کرتی ہے تو قانون انہیں سزا دیتا ہے اب اس وقت جو عالم اسلام کاحال ہے اور دوسری غیر مسلم اقوام کا جو حال ہے اگر ہم ان کو قرآن پاک کے نقطہ نظر سے ان حالات کو دیکھیں اور مشا ہدہ کر یں اور غورو فکر کریں تو وہاں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ مسلمان ظاہری طور پر تو اللہ کو بھی مانتا ہے ، اللہ کے رسول کو بھی مانتا ہے لیکن با طنی طور پر وہ نہ اللہ کومانتا ہے نہ اللہ کے رسول کو مانتا ہے نہ اس کا قرآن پر عمل ہے۔

 ایک جھوٹ ، فریب اور منا فقت کی زندگی ہے جو اس وقت مسلمان جو ہے وہ گزاررہا ہے۔  اب اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضع الفاظ میں فرمایا ہے کہ وہ قومیں عروج پاتی ہیں جن قومو ں میں اتحاد ہوتا ہے وہ قومیں ترقی کرتی ہیں جن قوموں میں ریسرچ ہوتی ہے،  جن قوموں میں تلاش ہوتی ہے جن قوموں کے اندر تفکر ہوتا ہے ووہ قومیں حاکم ہوتی ہیں جن قوموں میں علو م ہو تے ہیں وہ قومیں دنیا میں سرخرو اور بر تر ہوتی ہیں جن قوموں کے دماغ ہو تے ہیں اور ان کے اوپر جمود طاری نہیں ہوتا اس کے مطابق جب ہم دیکھتے ہیں تو تفکر کا جو مسئلہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا تفکر کر و ، اللہ کی آیات پر غوروفکر کر و۔ اللہ تعالیٰ نے واضع طور پر ارشاد فرمایا ہے کہ قرآن ایک ایسی کتاب ہے کہ جس میں کائنات کے تسخیری فارمولیں اور کائنات کوکس طرح چلا یا جا ئے کس طرح سنبھالاجا ئے اگر قرآن پاک میںتفکر کیا جائے تو وہ چیزیں سامنے آجا تی ہیںتو تفکرکے سامنے ہم خودکو، عوام کو سامنے دیکھتے ہیں تو ہماری پو زیشن یہ ہے کہ ہمارے اندر تفکر ہے ہی نہیں اور دوسری قومیں جو ہیں وہ تفکر کے علا وہ کام نہیں کرتی مثلا ً موجودہ سائنس ہے ،سائنس کی جو تر قی ہے تفکر کے علاوہ کچھ نہیں ہے ہر دفعہ وہاں کوئی نہ کوئی نئی چیز بن جا تی ہے۔

 وہاں تخریب ہوتی ہے تعمیر ہوتی ہے لیکن بہر حال نئی سے نئی چیز جو ہے عالم وجود میں آجا تی ہے ان مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ مسلمانوں میں غوروفکر تفکر ختم ہی ہو گیا ہے قرآن لوگ پڑھتے ہیں لیکن کبھی اس طرف دھیان نہیں دیا گیاکہ اجتماعی طور پر مسلمانوں کے ا ندر یہ جذبہ پیدا کیا جا ئے کہ بھئی تم قرآن پڑھتے ہی ہو تو قرآن کے اندر تفکر بھی کر وقرآن کے اندر غوروفکر بھی کرو نتیجہ اس کا یہ ہوا جب مسلمان قوم کے اندر سے نتیجہ نکل گیا اور دوسری قوموں نے تفکر کیا تو وہ قوم عالم فاضل ہو گئی،جدید ہو گئی اور مسلمان جاہل ہو گیا اور پیچھے رہے گیا جب قرآن پاک کی ان آیت کی طرف جب ہم سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ ’’ متحد ہوکراللہ کی رسی کو مضبوط پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو‘‘ تو یہاں بھی یہی صورت ہے کہ مسلمان کی اب پہچان ہی تفرقوں سے ہے آپ کہے جی مسلمان ، کون سا مسلمان ، حنفی مسلمان ،شافی مسلمان ،دیوبندی مسلمان ،بریلوی مسلمان ،شیعہ مسلمان ، سنی مسلمان ،شیعہ میںثنعہ اشعری مسلمان ،بوھری مسلمان ،آغاخان مسلمان یعنی اس میں اتنے تفرقے ایک قوم کے اندر پید اہوگئے ہیں کہااب مسلمان کہنے سے یہ پتا نہیں چلتا یہ کیا چیز ہے۔

 مسلمان ہے کیا چیز ؟اور ان تفرقوںکی بنیاد پرہی مسلمان اپنے آپ کو ہی جنتی کہتاہے ۔ ہر فرقہ یہ کہتا ہے میں جنتی ہوں باقی سب دوزخی ہیں تو اللہ تعالیٰ کی اس آیت کا ایسا مزاق اڑا یا گیا کہ وہ مسلمان کی پہچان ہی ختم ہو گئی ایک کتاب ،ایک قرآن ،ایک رسول ،ایک اللہ پھر تفرقے کا کیا مطلب ہو گیا اب وہ تفرقے بازی آپ کے سامنے ہے۔ اب اس تفرقے بازی سے دوسری قوموں نے فا ئدہ اٹھا یا ہے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں’’ متحد ہو کر مضبوطی کے ساتھ ہوکر رہو اور تفرقہ نہ ڈالو، ساتھ میں اللہ نے کہا اللہ کی مضبوطی سے پکڑ لو ‘‘تو غیر مسلموں نے اللہ کو تو بیج سے نکال دیا لیکن ایک رسی کوبہت مضبوطی سے پکڑا ہے ۔ابھی یہ سعودیہ اورکویت کی اورعراق کی لڑائی آپ دیکھئے انتیس ملک ایک طرف اور ان انتیس ملکوں میںمسلمان ملک بھی تھے ان کے ساتھ یعنی غیر مسلموں کے ساتھ مسلمان بھی تھے اور ایک عراق ملک تھا نتیجے میں جو اس کاحشر کرناتھا وہ کر دیا پہلے ایران و عراق کولڑ وادیا۔

  اب یہی اصل میں یہ جو لڑا نے کامطلب یہ ہے کہ ہمارے اندر اتحاد ہی نہیں ہے ظاہر ہے دو سری قومیں اس بات کو جا نتی ہیں کہ اتحاد میں طاقت ہے ۔ تو مسلمان تفکر سے بھی گیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد  ’ متحد ہو کراللہ کی رسی کو مضبوطی پکڑلو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو‘  تو اس کی بھی مسلمان نے خلاف ورزی کی تو اس کے ساتھ ساتھ اللہ یہ فرماتے ہیں کہ مسلمان جو سود لیتے ہیں یا سود دیتے ہیں یا سود کا کاروبار کرتے ہیں وہ ہمارے ساتھ حالت جنگ میں ہے اور ہمارے کھلا دشمن ہیں ۔

 سارا عالم اسلام سود کے اوپر زندگی گزار رہا ہے یعنی کتنی مضحکہ خیز بات ہے اللہ تعالیٰ کہتے ہیںتم ہمارے دشمن ہو وہ کہتے ہیں، ان اللہ میاں کوکہنے دو ہم ان کے دشمن ہے ، ہم تو نمازیں پڑھیں گے ہم تو روزے رکھیں گے ، ہم تو حج کر یں گے ، ہم تو زکوٰ ہ دیں بھئی جب اللہ تعالیٰ نے تم کو دشمن ڈکلیر کر دیا آپ کاکوئی عمل کیسے قابل قبول ہو سکتا ہے اس میں بھی آپ دیکھیں سالہ سال ہو گئے کبھی اس کا نام کمیشن رکھ دیا جا تا ہے کبھی کچھ مطلب یہ ہے کہ قرآن کا جو واضع اورصاف حکم ہے اس کو تمام مکاتب فکر کے لوگ بااتفاق مانتے ہیں کہ سود لینے والی اور سود دینے والی قوم جو ہے وہ اللہ کی دشمن ہے اس پر ہمار عمل ہو تو اسی فرض میں اللہ کا جو قانون ہے وہ آپ کاساتھ کیسے دے گا ۔

  تو اللہ میاں نے یہ قانون بنا دیا اللہ میاں نے یہ فرمایا ہے کہ آگ ہم نے بنا ئی آگ کا کام ہے جلا نا اب اس کو آپ طریقے سے استعمال کر یں تو یہ آگ تمہارے لئے فائدے مند ہو گی تمہیں کھا نا پکا کر دے گی، چا ئے پکا کر دے گی ،تمہاری سر دی دور کر ے گی ، لیکن اگر تم نے بے احتیاطی کے ساتھ آگ میں ہاتھ ڈال دیا تو آگ جلا ئے گی اب کوئی آدمی آگ میں ہاتھ ڈال دے اور یہ کہے صاحب اللہ میاں نے میرا ہاتھ کیوں نہیں بچا یا اللہ تعالیٰ نے بتا جو دیا آگ جلا نے والے چیز ہے آگ میں ہاتھ ڈالو گے تو ہاتھ جل جا ئے گا۔ تو یہ کہنا بھئی اولیا ء اللہ کیا کر رہے ہیں اللہ کے نیک بندے کیا کر رہے ہیں یا اللہ کے نیک بندوں کی دعائیں کیوں قبول نہیں ہورہی ہے سوال یہ ہے کہ اللہ کا بڑے سے بڑا بندہ ہو سوال یہ ہے کہ وہ قانون کیسے توڑ سکتا ہے جس نے اللہ کا قانون توڑ دیا اللہ کا دوست کیسے بن سکتا ہے اللہ تعالیٰ کے دشمن کے لئے کوئی بندہ کیسے دعا کر سکتا ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے خود کہے دیا کہ سود لینے والے سود دینے والے میرے دشمن ہے۔

  اللہ تعالیٰ نے فرما یا شک جو ہے شک ہم سے دور کرتا ہے شک شیطانی حربہ ہے شک جو ہے شیطان کاسب سے بڑا جال ہے۔ آپ دیکھئے قوم کا کوئی بھی فرد خواہ وہ مر د ہو ،خواہ وہ عورت ہو،خواہ وہ جوان ہو ،خواہ وہ بوڑھا ہو اس کے آپ تاثرات معلوم کر یں اس کے قریب جائیں تو آپ کو شک کے علاوہ وہاں کچھ بھی نہیں ملے گا۔ ہر چیز شک مثلا ًٹوٹی پھوٹی نماز بھی پڑھی اس کے بارے میں کوئی پو چھے بھئی تم نے نما ز پڑھی کیا ہوا قبول ہوئیْ  کہنے لگے کہاں قبول ہو گئی ہماری نماز کوئی قبول ہو نے کی ہے ، اس میں بھی شک ہے پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں موت اور زندگی کا مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح تم یہاں پید ہو گئے دوسرے عالم سے یہاں بس گئے اسی طرح یہاں سے تمہیں جا نا ہے دوسرے عالم میں وہاں صورت حال  یہ ہے کہ موت سے اتنا آدمی خوف زدہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو یہ کہا جا ئے بھئی تیری قبر جو ہے بڑی خوبصورت بنا ئیں گے تو وہ لڑ پڑے گا حالانکہ ایسی حقیقت ہے آپ کو مر نا ہے۔

  بہر حال وہ جو بھی پیداہو گیا اس کومرنا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بات کی دعوت دے رہے ہیں کہ موت اور حیات دونوں ایک ہی چیز ہے جس طرح تم یہاں زندگی گزار رہے ہو تم نے یہاں اعمال اچھے کئے اگر تم نے یہاں اللہ کے قانون کے مطا بق زندگی گزاری تو یہاں تمہیں سکون ملتا اسی طرح اگر تم یہاں سے زندگی اچھی لے گئے تو وہاں بھی تمہیں سکون ملے گا ۔ ویعمل مثقال …ویعمل …جو عمل یہاں کیاجاتا ہے اس کا ایک ایک ذرہ اگر خیر سے متعلق وہ بھی اللہ کے پاس ہے اور اگر یہاں شر کیا جا تا ہے تو اس کا ایک ایک ذرہ وہاں محفوظ اور تولا ہوا ہے کہ جو تم یہاں کمائو گے وہ تم وہاں کاٹو گے لیکن اس کے با وجود ہمیں یہ پتا ہے کہ ہم مر تے ہیں، باپ ہمارا مر گیا، دادا ہمارا مر گیا، ماں ہماری مرگئی، رات دن ہم دیکھتے ہیں کوئی رشتہ دار مر گیا لیکن اس زندگی کے بارے میں جو واقعتا حقیقی زندگی ہے جس زندگی میں عمر کاکوئی تعین نہیں ہے یہاں تو آدمی سو سا ل جی جا ئے گا اب تو ساٹھ ستر سال میں ہی آدمی ادھر کو ہوجا تا ہے ابھی تو پتا نہیں کتنی صدیا ں آپ کو گزارنی ہیںاس کے بارے میں نہ کوئی تیاری ہے اس کے بارے میں نہ کبھی غوروفکر کر تے ہیںاس زندگی کے بارے میں کبھی آپ یہاں لوگوں سے یہ تبصرہ کر تے ہیں؟

 بھئی وہاں بھی مر نا ہے وہاں کے لئے بھی کچھ کرو تیاری کرو تو جب مسلمان ہر ہر طرح اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑ رہا ہے تو اللہ تعالیٰ کیسے مددکر ے گا تو یہ کہنا کہ صاحب اللہ میاں سنتا نہیںبھئی اللہ تعالیٰ کا ایک قانون ہے اس قانون کے مطا بق آپ زندگی گزاریں اب آپ یہ دیکھیں جتنی لڑائی ہوئی ہیںمسلمانوںمیں وہ دوسری غیر اقوام نے ہی کروائی ہے تعاون ان ہی کا رہا افغانستان میں لڑا ئی ہوئی ، وہاں بھی روس کاتعاون امریکہ کا تعاون۔  مطلب یہ ہے کہ وہاں لڑتے بھی اگر ہم ہیں غیر مسلم قوام کاہمیں تعاون حاصل ہوتا ہے ہماری صورت حال یہ ہے ہماری معاشی جو حالت ہے وہ بھی ابتر ہے ایک زمانہ تھا کہ مسلمان ساری دنیا پر حکمران تھا اور ایک یہ زمانہ ہے کہ مسلمان کسی بھی خطہ زمین پرآزاد نہیں ہے غیر اقوام کا محکوم ہے اور غلام ہے۔ تو غلام قومیں جو ہیں انااللہ یغد…اللہ تعالیٰ نے قانون بنا دیاکہ جوقومیں خود اپنی تبدیلی نہیں چا ہتی اللہ ان میں تبدیلی پید ا نہیں کرتا اب دیکھئے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہاکہ مسلمان اگر اپنی تبدیلی نہیں چاہئیں گے تو میں تبدیلی نہیں کرو ں گا۔

 اگر ذہن میں اللہ کے قانون کاکچھ حصہ بھی سامنے رکھ کر اس پر عمل کرے گی ان کواس میں کامیابی ہو گی اس لئے کہ مسلمان ہو نا اور بلکہ مسلمانوں کی تو زیادہ زمہ داری اس لئے کہ مسلمان نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ اللہ کو مانتا ہے مسلمان اس بات کاعہد کر کے،  وہ برابر اللہ سے دور ہورہا ہے اللہ کی نا شکری کر رہا ہے اور اللہ کے خلاف ورزی کررہا ہے ۔تو قانون تو اس سے زیادہ ناراض ہے بھئی غیر مسلم کم از کم اللہ کوتو نہیں مانتے ۔ اللہ نے وسائل سب کو دیئے۔کوئی بھی بندہ جب وہ تفکر کرے گا اپنا دماغ استعمال کر ے گا نتیجے میں دیکھئے پا نی ہے ، چینی ہے،  خوشبو ہے اللہ نے تینوں چیزیں بنا دی ہیں اب ہندو اگر چینی کو پانی میں گھول لے گا اور خوشبو ملا دے گا وہ بھی شربت بن جائے گا مسلمان اگر چینی کو پانی میں گھول کر خوشبو ڈال دے وہ بھی شربت بن جا ئے گا یہودی عیسائی کوئی بھی کافر تو یہ قانون ہے مٹی اگر آپ کھودیں گے کوئی بھی مٹی کھو دیں ۔

اب زمین کے اندر معدنیات بھر ی پڑی ہے اب کیا مطلب مسلمان تو زمین کھو دے نہیں، نامعدنیات کوتلاش کر ے اور ایک غیر مسلم آکر زمین کھودتا ہے معدنیا ت کو تلاش کرتا ہے نتیجے میں جو ہے وہ پٹرول نکال لیتا ہے ، گیس نکال لیتا ہے ،یورینیم نکال لیتا ہے دھا تیں نکال لیتا ہے طر ح طرح کی۔  تو آپ یہ کہے جی اللہ میاں کیسا ہے ہمیں مسلمان کو تو پٹرول دیا نہیں ا ن کوپٹرول دے دیا ۔ بھئی نا انصافی نہیں ہے وہاں زمین پراللہ کی تمام مخلوق جو ہے مشترک زمین کی مالک ہے ۔ البتہ اگر کوئی مسلمان تک اس کو خصوصی رعایت ملتی ہے اللہ کی طرف سے وہ خصوصی رعایت تو کہاں ملے گی مسلمان تو اتنا کام بھی نہیں کر رہا جتنا کا فر کر رہے ہیں۔ جتنا کافر کر رہے ہیں تو یہ جو ادبار ہیں ،یہ جو پر یشانی ہے اور یہ تمام عالم میں مسلمان کی ذلت اور خواری ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جھوٹ بہت بولنے لگا ہے ۔

مسلمان منافق ہو گیا زبان سے کچھ کہتا ہے اور دل میں اس کے کچھ ہے ہر چیز جو ہے اسلام کے بھی خلاف ہے ہر چیز شریعت کے بھی خلاف ہے ہر چیز جو ہے سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے بنا ئے ہو ئے قانون کے خلاف ہے ۔ اب کچھ یہاںاب یہاں پاکستان میں ملاوٹ ہوتی جارہی ہے تو کس نے کہا صاحب آپ ملاوٹ کر یں عوام ہی ملاوٹ کر تے ہیںکوئی کہے رہا ہے صاحب میں نے دودھ میں ملاکرپیسے کما لئے ، دوسرے کو بے وقوف بنادیا دوسرے نے جناب مصالحے میں مٹی ملا دی وہ خوش ہو رہا ہے کہ میں نے پیسے کما لئے،  تیسرا تیل میں اس نے پتا نہیں وائٹ آئل ملا دیاپتا نہیں کیا ملا دیا تو وہ خوش ہو رہا ہے تو ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو چند پیسوں کے لئے دھوکہ دے رہا ہے۔ ہر مسلمان دوسرے مسلمان کو چند پیسوں کے لئے ایک طرح سے زہر دے رہا ہے، قتل کر رہا ہے۔  تو اس قوم پر اللہ کا قانون کیسے رحم کر ے گااسلام ایک مکمل ضابطہ حیات اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا  ان خلون …کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ اسلام میں پو را کا پورا داخل ہو جا تا آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں،  مسلمان منا فق نہیں ہوتا،  مسلمان جھوٹا نہیں ہوتا مسلمان اللہ کا دشمن نہیں ہوتا ۔

 تو ایسی صورت میں جب مسلمان نے اللہ سے رشتہ ہی توڑ لیا مسلما ن نے رسول اللہ  ﷺ کی زبانی محبت کو تو بہت زیادہ اہمیت دی لیکن جو حضور پاک  ﷺ کی جو زندگی ہے اس پر اس نے غورہی نہیں کیا،  مثلا ً چند چیزیں ہیں داڑھی وہ مسلمانوں کی ایک نشانی ہو گئی جب کہ داڑھی دوسرے لوگ بھی رکھتے ہے لیکن ایک قسم کا لباس پر اصرار ہو گیا لیکن رسول اللہ  ﷺ کی دوسری زندگی پر ہمیں عمل نہیں کر نا۔

 حضور پاک  ﷺکبھی ناراض نہیں ہو ئے حضور پاک  ﷺ نے کبھی کسی کو سزا نہیںدی ،  رسول اللہ  ﷺ نے کبھی کسی سے نفرت نہیں کی، ہمارے یہاں صورت حال یہ ہے کم و بیش ہر گھر میں میاں بیوی میں نفرت ہے ،  والدین بچوں میں نفرت ہے ، رشتہ داروں میں نفرت ہے ، ہماری صورت یہ ہے کہ قوم کی پہچان ہی نہیں ہے تفرقے میں قوم بٹ گئی ہے گروہ ہی ایک مذہب بن گیا ہے تو آپ نے یہ سوال ٹھیک کیا لیکن صورت حال یہ ہے ہماری جو اس وقت ہماری پو زیشن ہے بہت اچھی ہے لیکن اس وقت جو ہمارے اعمال ہے، اعمال کو دیکھا جائے تو عاد و ثمود اور قوم لوط اور قوم نوح کی جو سزائیں ہیں ان کے حساب سے بہت آگے جا چکے ہیں جو انفرادی طور پر الگ الگ قوموں میں برا ئیاں تھیںوہ مسلمانوں میں اجتماعی طور پر مسلمانوںمیں داخل ہو گئی ہمیں تو یہ سب بھیڑیا ، کتا  جوئیں،  پتا نہیں کیا  چیز بن رہے تھے وہ تو رسول اللہ  ﷺرحمت العالمین ہیںاور ہمارا ان سے بہر حال نسبت ہے،  واسطہ ہے،  جیسے بھی ہے اس نسبت کی وجہ سے، اس واسطے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں پھر بھی اتنی رعایت دے رکھی ہے ہماری صورتیںانسانوں کی طرح ہے لیکن اللہ کا اپنا قانون اٹل ہے اگر مسلمانوں نے اب بھی اپنی اصلاح نہیں کی مسلمانوں نے ابھی بھی اپنی صفت بندی نہیںکی مسلمانوں نے اپنی قوم کا انتشار ختم نہیں کیا مسلمانوں نے ابھی بھی اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ نہیں پکڑا اور تفرقے بازی کو ختم نہیں کیا تو آپ یہ دیکھیں مسلمان اللہ کوکوئی رشتہ دار نہیں ہے اللہ کا قانون اپنی جگہ اٹل ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ  ﷺ نے جس طرح اپنی زندگی گزاری ہے اس طرح آپ عمل کر یں میدان بدر میں رسول اللہ  ﷺ تین سو تیرا آدمی لیکر چلے گئے کتنے تین سو تیرا آدمی لیکر چلے گئے وہ وہاں جا کر میدان میں رسول پاک  ﷺ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اتنے ہی آدمی لاسکتا تھا جتنے میں لے آیا اب آپ میری مدد کرو حضور پاک  ﷺ نے مدینہ منورہ میں یا مکہ مظمہ میں بیٹھ کر دعا نہیں کی کہ اللہ میاں تم فتح کردو پہلے رسول اللہ  ﷺ کی زندگی درخشاں باب ہے پہلے رسول اللہ  ﷺ نے عمل کیا،  عمل کے بعد پھر رسول اللہ  ﷺ نے دعا کی۔

  ہمارے یہاں صورت حال یہ ہے کہ عمل کا خا نہ با لکل ہے ہی نہیں دعا ہی دعا،  ہر جگہ دعا اور اب تو یہ صورت حال ہے بھئی فلاں مولوی صاحب کو بلائو وہ بہت اچھی دعا کر واتے ہیں، کیا اچھی دعا کاکیا مطلب ہوا بھئی وہ ذراہ جناب کچھ گانے کا لہجہ بدل لیا کچھ یہ کرلیا ،  لمبی لمبی دعا ئیں مجھے دس گیارہ سال عمر کی تو ساری با تیں یا د ہیں میرئے خیال میں سب ہی کو یا د ہوتی ہونگی،  دس بارہ سال دس سال اگر آپ لگا لیں تو میری تو چھاسٹھ سال عمر ہے ۵۴ سال سے میں  ایک ہی بات سنتا ّآیا ہوں ہر مسجد میں، ہر میلاد میں ،ہر مذہبی تقریب میں، ہر مذہبی جلسے میں بڑے سے بڑے جلسے میں یا اللہ یہودیوں کو تبا ہ کر دے یا اللہ یہودیوں کو بر باد کر دے ۵۶ سال میں ،میں نے دعا قبول ہوتے ہوئے نہیں دیکھی کیوں دعا وقبول نہیں ہوتی دعا اس لئے قبول نہیں ہوتی زبانی خرچ ہے عمل نہیں ہے ووہ اسرائیل ہے تیس لاکھ کی آبادی ہے نوکروڑ کی عرب کی آبا دی ہے۔ جناب وہ قبضے میں نہیں آرہے کیوں قبضے میں نہیں آرہے ان کے اندر اتحاد ہے ان کے اندر اپنے وطن سے اپنی زمین سے محبت ہے ہمارے اندر اپنی ذات سے محبت ہے۔

 بس یہ چا ہتے ہیں کہ بہت سارا بینک بیلنس ہو جا ئے بینکوں میں پیسہ بھرا رہے اچھا پیسہ بھی اپنے ملک میں نہیں رکھتے دو سرو ں میں رکھتے ہیں اپنے ملک میںپیسہ رکھنے پر بھی اعتبار نہیں ہے تو پھر کیسے اللہ تعالیٰ ہماری مدد کرے گا بھئی اور کیوں اللہ تعالیٰ آپ کے لئے اپنا قانون توڑے آپ رسول اللہ  ﷺ کی زندگی کے نقش قدم پر چل کر آپ اپنی اصلاح کریں اپنی تر بیت کریں اپنے اندر سے تفرقہ ختم کر یں اللہ کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں اللہ کے اوپرا عتماد کریں نتیجہ یہ ہو گا انشا اللہ ہماری بھی مدد ہو گی اور ہم نے یہ سب نہیں کیا تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ واضع طور پر قرآن پاک میں فرما دیا ہے انا اللہ لا یغرو …اختتام

Topics