Topics
اللہ
نے یہ فرمایا اللہ کی رسی کو مضبوط کے ساتھ ساتھ پکڑ لو جبکہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے اسلام میں74 فرقے ہونگے کوئی
72کہتاہے 74کہتاہے ایک تو یہ رسول اللہ ﷺ نے واضع طور پر یہ فر مایا ہے اگر کوئی بات
میرے سے ایسی منسوب کی جا ئے جو قرآن پاک سے ٹکراتی ہوں اور قرآن پاک سے مطا بقت
نہ رکھتی ہوں وہ میری بات نہیں ہے۔ تو
حدیث جوہے وہ موضوع ہوسکتی ہے۔ موضوع حدیث
لوگوں نے تلاش بھی کی ہے اس کی نشا ندہی بھی کی ہے لیکن قرآن کی آیت محکم ہو گئی
وہ موضوع کبھی نہیں ہو گی ۔ اب یہ کہ مسلمانوں میں 74 فرقے ہونگے یا 72 ہو نگے اب کیا پتہ یہ حدیث
موضوع ہے، کیسی ہے بہر حال حضور پاک ﷺ کا
یہ ارشاد ہے کہ اگر میری کوئی بات ایسی ہوجو قرآن سے ٹکرا جائے اور قرآن کے خلاف
ہو تو وہ میری بات نہیں ہے۔ اب ہو سکتا ہے
بہت ساری حدیثیں جو ہیں یہودیوں نے گھڑ گھڑ کر ایسی شامل کی ہیں مسلمانوں کی
دشمنیوں میں اس کو اگر چھان پھا ٹک بھی کی جا ئے تو ہو سکتا ہے کہ وہ موضو ع ہی ہو
۔
ہم نظام مصطفی کی تحریک میں مسلمانی بھا ئیوںنے
کتنی قربانیاں دی ہیں بھئی دیکھئے بات وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہے اگر خلوص نیت
سے کوئی کام کیا جا ئے اور اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطا بق کوئی کام کیا جا ئے تو
اس میں دیر تو ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنا قانون کبھی نہیں چھوڑتے اب نظام
مصطفی جو ہے اس کے لئے سارے ہی کوشش کررہے ہیں، ساری دعا بھی کررہے ہیںلیکن ساری
دنیا میں ابھی تک کہیں نہیں آیا ظاہر ہے اس میں اس کوشش میں کوئی کمی ہوگی بات
وہی ہے جب تک اسلام کے پیروکار اور اسلام کے بڑے دانش ور سب کے سب اکھٹے ہو کر ایک
پلٹ فارم پر جمع نہیں ہو تے اس وقت تک اسلام نہیں آتا ورنہ تو یہ کہے گا جی یہ ان
کا اسلام ہے یہ دیوبندی کا اسلام ہے ،وہ بریلوی کا اسلام ہے ،وہ اہل حدیث کا اسلام
ہے ،وہ فلاں کا اسلام ہے ،وہ فلاں کا اسلام ہے بات وہی ہے وتحصمو بحبل …میں تو بار
بار بڑے بڑے اجتماعت میں بھی یہ بات میں نے کہی ہے اپنے علماء سے ،اپنے دانش واروں
سے ،اپنے مشائخ سے کہ بھائی اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ سارے مسلمانوں کو ایک
پلٹ فارم پر جمع کیا جا ئے اور اللہ کی جو آیت ہے ’’اللہ کی رسی کو متحد ہوکر
مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور آپس میں تفرکہ نہ ڈالو‘‘ تب ہی ہم کامیاب ہوسکتے ہیں
ٹکڑوںمیں بٹی ہوئی قوم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی وہ میں نے ایک جگہ پڑھا تھا حضرت
ایوب علیہ السلام پیغمبر تھے ان کے جسم میں کیڑے ویڑے پڑ گئے تھے تو ان کی بیگم
صاحبہ کہیں گئی تھی تو ان کو غٖصہ وصہ آیا تو انہوں نے کہا اگر جب وہ آئے گی تو
میں اسے اتنی لکڑیاں ما روں گا کوئی چا لیس کہتا ہے ،کوئی بیس کہتا ہے ،کوئی دس
کہتا ہے ،کوئی سو کہتا ہے بہرحال جب وہ آئی تو انہوں نے جناب وہ کہا کہ بھئی کہاں
گئی تو ،تو پتا چلا کہ وہ ان ہی کی تکلیف کے مداوئے کے تلاش میں گئی ہوئی تھی۔
تو بڑے وہ شرمندہ ہو ئے کہ صاحب میںنے بڑی بری
بات کہی خوامخواہ اپنی بیوی سے بدظن ہوا اور قسم کھا لی۔ پھر وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے معاف کیا ۔ اور
کہا سوتنکے کے ایک جگہ جمع کر کے اس کو با
ندھ کر ایک دفعہ مارو تو دیکھئے ایک تنکے سے تو آپ کسی کو ماریں اس کو چوٹ ہی
نہیںلگتی لیکن وہی معمولی تنکے جو آپ ذراہ سا اشارہ کر یں ٹوٹ جا ئے لیکن وہی سو
تنکوں کو با ندھ لیں۔ آپ ﷺ کا نظام
مسلمانو ں کے اوپر فرض ہے ڈیوٹی ہے سب کے اوپر ۔ اس میں یہ نہیں ہے عوام خواص کچھ
نہیں ہے سارے اللہ کے بندے سارے مسلمان مسلمان ہیں کہ آپس میں محبت پیدا ہو، آپس
میں اخوت پیدا ہو، اب حضور پاکﷺ نے
فرمایاقل مومن … سب مومن بھا ئی بھا ئی ہیں اب حضور کی امت میں جتنے مومن ہیں سب
بھا ئی بھا ئی ہیںہماری صورت یہ ہے کہ ہم آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ہر کسی کو کسی سے
نفرت ،منافقت ،حسد،طمع، لالچ بغاوت پتا نہیں کیا کیا ہے ۔
اگر آپ کو اللہ کے مذہب پر چلنا ہے، اگر آپ
کو تر قی کر نی ہے ،اگر آپ کو اس محکومت سے نکلنا ہے ، حاکم بننا ہے جس طرح ہمارے
اسلاف ساری دنیا میں حاکم تھے تو اس کا واحدذریعہ یہ ہے کہ تمام عالمین اسلام ایک
پلیٹ فارم کی طرف کھڑے ہو جا ئیں اللہ کی آیت پر وتحصمو …اکھٹا ہو جا ئے ایک ارب
مسلمان ہے ، ایک ارب مسلمانوں کا جو مذہب ہے اسلام اور اس مذہب کا جو لا یا عمل ہے
اس میں آپ کو انفرادیت کہی نظرہی نہیں آئے گی،
پانچ وقت نماز اجتما عی حیثیت ہے،
جمعہ کی نماز اجتما عی حیثیت ہے،
عیدین کی نماز اجتماعی حیثیت ہے،روزہ سحر افطاراجتما عی حیثیت ہے،حج اجتما
عی حیثیت ہے تو غیر مسلم اقوام نے اس بات کو سمجھ لیا ہے کہ مسلمانوں کا جو مذہب
ہے وہ ہے ہی اجتما عیت اگر اس اجتما عیت کو نہیں توڑ دیا گیا تو مسلمان پو ری دنیا
پر چھا جا ئے اور ہمیں کھا جا ئے گاتو انہوں نے سازشیں کر یں انہوں نے اپنے دماغ
استعمال کر کے، انہوں نے اپنا پیسہ
استعمال کر کے ، یہ کوشش کی، ہمیشہ سے کر رہے ہیں حضور پاکﷺ کے زمانے سے ہی کر رہے
ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں اور کر تے رہے گے کہ مسلمان میں کسی صورت سے اتحاد اور
اتفاق پیدا نہ ہو اگر مسلمان کے اند ر اتحاد اور اتفاق پیدا ہو گیا تو دنیامیں اس
کے علاوہ کسی کی حکومت نہیں ہوسکتی اس لئے کہ مسلمان کی تو ساری زندگی فو جی زندگی
ہے امام نے اللہ و اکبر کہہ دیا سب نے ہاتھ با ندھ لئے جب امام نے اللہ و اکبر کہہ
کر دیا سب جھک گئے ،امام نے اسلام و علیکم کہہ دیا سب نے گر دنیں گھو ما لی یہ
فوجی اسپر ٹ ہے ۔
مگر
اس فو جی اسپرٹ کا اس قوم کو کوئی فا ئدہ نہیں ہو رہا ہے کہ ہمارے اندر تفرقے پڑ
گئے ہیں اور ہم قرآن پاک کی آیت کے خلاف ورزی کر رہے ہیں کیوں کہ اللہ کی آیت
کے خلاف ورزی ہو رہی ہے اس لئے اللہ کا بنایا ہوا قانون ہم سے ناراض ہے اور اللہ
کا قانون جب ناراض ہو جا ئے گا تو ظا ہر ہے اس قوم کو کیسے فلاح اور بہبود ملے گی
۔ ضروری ہے کہ اللہ کے بنا ئے ہو ئے قانون پر عمل کیا جا ئے رسول اللہﷺ کی سیرت
پاک کو بار بار پڑھا جا ئے وہ حضور پاکﷺ کی زندگی کے ہر ہر شعبے کوغورو فکر کیا جا
ئے تو وہاں آپ کو سوائے اس کے کچھ بھی نہیں ملے گا، محبت ،محبت، محبت اپنے بھا ئی سے محبت کرو،
اپنے پڑوس سے محبت حضور پاک ﷺنے یہاں پرفرمایاکہ اگر تم کسی کی فاتح حیثیت سے ملک
میں داخل ہوجا ئو تو بچوں کو خوش رکھو، بوڑھوں کو خوش رکھو ،معذروں کو خوش رکھو ،
بیماروں کو خوش رکھو انتہاء یہ ہے کہ وہ اتنی بڑی ذا ت اقدس رسول ا للہﷺ جس کے لئے
ساری کائنات اللہ نے بنا ئی جس کو اللہ تعالیٰ نے رحمت العالمین بنا کر اس دنیا
میں بھیجا اس سے ہماری نسبت ہے لیکن جب ہم رسول اللہﷺ کی نسبت کو اور اپنا محاسبہ
کرتے ہیں یقین کیجئے میں تو اپنی بات کہتا ہوں مجھے تو بڑی ندامت اور شرم آتی ہے
کہ ہم رسو ل اللہ ﷺ کے گستاخ ہیں ۔
ان
سے جب اپنے نسبت قرار دیتے ہیں تو وہ بھی گستاخ ہے اس لئے کہ ہم جھوٹ بول رہے ہیں
چونکہ اللہ تعالیٰ رب العالمین ہے وہ سب کو سنبھا لتا ہے اس میں چا ہے کافر ہو ،چا
ہے مشرک ہو چا ہے فاسق ہو اب حضور پاک ﷺ رحمت العالمین ہیںتو رحمت العالمین ہونے
کی حیثیت سے وہ بھی سب تقسیم کر تے ہیں وسائل وہ بھی سب کو تقسیم کر تے ہیں کا
فروں کو بھی تقسیم کر تے ہیں ،اللہ کو جو نہیں مانتے انہیں بھی تقسیم کر تے ہیں ۔
اب چونکہ ہم ان کے نام لیوا ہیں بہر حال نسبت ہمیں حاصل ہے تو یہ بہت بڑی سعادت ہے
اس میں ہم یہ تھوڑے بہت نظر آرہے ہیں وہ حضورپاک
ﷺ کے رحمت العالمین ہو نے کی وجہ سے زندگی گزار رہے ہیں لیکن ہمیں یہ ضرور
سوچنا چا ہئے کہ کہیں ایسا تو نہیں ہے جب ہم حضور پاک ﷺ سے جب اپنی نسبت قائم کرتے ہیں ہم سے کوئی
گستاخی تو نہیں ہورہی میرا تو خیال ہے جب بھی کوئی بھی مسلمان جب اپنے گریبان میں
منہ ڈال کر دیکھے گا اس کو یہی جواب ملے گا رسول اللہ ﷺ کی نسبت ایک گستاخانہ عمل ہے ۔
اب یہ ہے کہ حضور پاک ﷺ رحمت العالمین ہیں، اللہ تعالیٰ کے محبوب ہے اس سے ہمیں یہ رعایت
مل رہی ہے لیکن چو نکہ ہمیں رسول اللہﷺ کی نسبت حاصل ہے اگر ہم تھوڑی سی بھی کو شش
کریں، جدوجہد کریں تو ہمیں و ہ منزل مل جائے گی۔
مثلا ً وہ جو لوگ بیس سال میں کہیں پہنچیں گے ہم
بیس گھنٹوں میں وہاں پہنچ جا ئیں گے، اس
لئے کہ ہماری بنیاد مضبوط ہے اس لئے کہ ہمارے پیچھے تعاون ہے ،اللہ کا ، اللہ کے
رسول ،اللہﷺ کا، اللہ کے قانون کا اور اللہ کی کتاب کا لیکن جب ہم قرآن کی ہی
خلاف ورزی کرنے لگیں تو قانون کیا ہے تو ایک بار حضور قلندربابااولیا ء ؒ ایک دفعہ
کچھ پر یشان سے بیٹھے تھے میں نے پو چھا حضور کیا بات تو انہو ںنے کہا بھئی کیا
پتا اب حال یہ ہو گیا ہے کہ جو حضور پاک ﷺ سے قریب لوگ ہیں مثلا ً بڑے پیر صاحب
کابھی نام لیا اب کسی کی یہ جرات نہیں ہوتی حضورپاکﷺ کے دربار اقدس میں حاضر ہوکر
مسلمانوں کی سفارش کر یں لوگ ڈرتے ہیں خوف زدہ ہو تے ہیں کہی ایسا نہ ہو حضور پاکﷺ
نا گواری کے عالم میں کوئی ایسی بات فرما دیں کہ اللہ کو نا پسند ہو تو واقع آپ
غور کر یں تو یہی صورت ہے تو مسلمان نہ تو منا فق ہوتا ہے نہ مسلمان جھوٹا ہوتا ہے
مسلمان تو ایک سچا واحد ہوتا ہے یہاں صورت حال یہ ہے کسی کے بارے میں آپ یہ کہے
ہی نہیں سکتے ۔
ویسے تو ہر مسلمان کو یہ کہنا نہیں چاہئے لیکن
اعتماد کر یں گے جس پر بھی اعتماد کر یں گے میرا خیال ہے سو میںسے نانویں تو آپ
کو دھوکہ ہی دیں گے تو ایسی صورت میں ہم کیسے اللہ کا شکر کر سکتے ہیں کہ اللہ
کاقانون ہماری مدد کریں اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرما ئے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے نقش قدم پر صحیح معنوں میں چلیں اور ہمارے
اندر جو اسوہ حسنہ ہے موجود ہے اسلاف سے ہمارے اندر منتقل نہیں ہو رہا ہے جو مدہم
پڑ گئے ہیں وہ گہرے ہو جا ئیں ابھر جا ئیں روشنی پیدا ہو وہ ری سائیکل ہو جا ئے اور یہ بڑی مشکل بات ہے
صرف یہ طے کر نا ہے کہ بھئی آج سے ہم ہمارا ہر مسلمان بھا ئی بھا ئی ہے ہمیں یہ
حق نہیں پہنچتا ہم کسی کو فر کہے ، کیا پتہ اس کا اللہ کا کیا معاملہ ہے اب آدمی
اپنی اصلاح کر ے یہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی طرف دیکھتا نہیں دوسرے کی ا
صلاح کی کو شش میں پڑا ہوا ہے ، ہرآدمی
دو سرے کو کہے رہا ہے تو جھوٹ نہ بو ل اور خود جھوٹ بول رہا ہے ،ہر آدمی دوسرے کو
بول رہا ہے دیکھ تیرے اندر حسدکینہ ہے یہ ختم کردے لیکن وہ کبھی یہ سوچتا ہی
نہیںمیرے اندر حسد کینہ ہو سکتا ہے پہلے میں ختم کر و ں تو پھر اس کے اوپر اثر ہو
گا ۔
بڑا مشہور واقعہ ہے حضرت عمر ؓ کی خدمت میں ایک
خاتون آئیں تو انہوں نے کہا یاامیر الامومنین یہ بچہ گڑ بہت زیادہ کھا تا ہے اور
میرے معاشی حالت ایسے نہیں کہ میں اس کو گڑ کھلا سکوں حضرت امیرالامومنین نے کہا
بھئی کل آنا کل یا پرسوں آنا خیر وہ چلی گئی پھر آئی وہ اتنا وقت گزر گیا تھا
اور حضرت عمر نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اب کہا بچے کوبیٹا گڑ زیادہ مت کھا یا
کرو تمہاری اماں جی افورڈ نہیں کر سکتی وہ چلی گئی تو وہاں جو لوگ موجود تھے انہوں
نے کہا صاحب جی یہ بات تو آپ اس وقت بھی کہے سکتے تھے توانہوں نے فرمایا نہیں بات
یہ ہے میں خود گڑ بہت شوق سے کھا تا ہوں میں نے پہلے گڑ چھوڑا پھر میں نے اس کو
نصیحت کی اب بچہ چھوڑ دے گا اب یہ صورت حال ہماری بھی ہے ہم کسی کو اگر نصیحت کر
تے ہیں تو نصیحت کرنے سے پہلے خود اپنے اندر جھا نکیں کہ بھئی یہ جو ہم نصیحت کر
رہے ہیں ایسا تو نہیںکہ ہم بھی اس ہی کے مرتکب ہو رہے ہوں ۔
ایک
دفعہ دو دفعہ بیس دفعہ جب ہم اپنے اندر جھا نکیں گے اور ہماری غلطی ہمارے سامنے
آئے گی ظا ہر ہے، ہم اسے چھوڑنے کی بھی
کوشش کر یں گے ابھی تو صورت حال یہ ہے غلطی سامنے ہی نہیں آرہی اس لئے کہ ہم اپنی
غلطی کو تلاش ہی نہیں کر رہے کوئی بندہ اپنا محاسبہ ہی نہیں کرتا ایک تو یہ اپنا
محاسبہ ضرور کر نا چا ہئے ہم کہاں کھڑے ہیں کس طرح کھڑے ہیںاور کس طرح ہم اپنی
اصلاح کر یں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے اپنی گھر کی اصلا ح ہو نی چا ہئے ہم با ہر
اصلاح کرتے ہیں گھر جی وہ ایسا ہوتا ہے شوہر آیا ، جیسے بھیڑیا آگیا اور با ہر
جب جا ئے گا تو وہی اتنا باخلاق ہو گا ساری دنیا اس کی تعریف کر ے گی ظا ہر ہے سب
بچے یہ کہے گے اباکیا ہے؟
منا فق ہے با ہر جاتا ہے تو جناب بک جا تا ہے
جھک جا تا ہے جھک کر ملتا ہے بھا گا بھا گا چلا جا تا ہے اس کے کام کے لئے اور گھر
میں آتا ہے تو سوائے غصے کے سوائے نفرت کے سوائے دھمکانے کے کوئی کام نہیں کر تے
اور بچے بھی منافق ہو تے ہیں میں نے دیکھا ہے جن گھروں میںماں باپ کے اندر محبت
ہوتی ہے ان گھروں میں بچوں میں بڑی محبت ہوتی ہے ،میںنے یہ بھی دیکھاہے جن گھروں
میں والدین اونچی آواز سے بولتے ہیں ان کے گھروں میں بچے بھی چیختے ہیں ،اور جن
گھروں میں والدین آہستہ نرم راوی سے گفتگو کر تے ہیں اس گھر کے بچے بھی آہستہ
بات کرتے ہیں اور ان کے اندر بڑا اخلاق ہوتا ہے ۔تو پہلی بات تو یہ ہے ہمیں اپنے
گھر سے اصلاح کریں سب سے پہلے اللہ کی رسی کو گھر میں پکڑیں ابھی تو صورت حال یہ
ہے ہم قوم کی با تیں کر رہے ہیں ، پہلے اپنے گھر میں تو ذہنی ہم آہنگی پیدا
کرومیاںبیوی ہیں میاں کا ذہن الگ ہے بیوی کا ذہن الگ ہے بچوں کا ذہن الگ ہے بھا ئی
کا ذہن الگ ہے والدین کا ذہن الگ ہے کئی کئی گھروں میں تو لڑا ئیاں ہوتی ہیں۔
وہ صاحب بیوی دیوبندی ہیں تو میاں بریلوی ہے
،میاں دیوبندی ہیں تو بیوی بریلوی ہے آپس میں لڑرہے ہیںاس نے کہا صاحب میں نے تو
نیا ز کر وائی ہے انہو ں نے کہا نیاز نہیں کروگی ، ایک لڑا ئی ایک ہنگا مہ ہو گیا
تو کیسے ہم اس سے نکل سکتے ہیں کہ وہ بیوی ہو ،میاں ہو ،بچے ہوگھر کے ہوں سب سے
پہلے یہ طے کر یں گے پہلے ہمیں اپنے گھر کی اصلاح کر نی ہے اپنے گھر میں پیا راور
محبت کے بیج اگانا ہے اپنے گھر میں اخوت اور محبت کا درخت اگا نا ہے آہستہ آہستہ
ایک گھر دو گھر دس گھر بیس گھر جیسے حضور پاک ﷺ کے ز مانے میں سارے ہی مشرک تھے
لیکن رسول اللہﷺ نے آہستہ آہستہ دو چار دس بیس پچھلے ہو گئے دیکھئے ان کے پاس
وسائل بھی نہیں تھے وہ ساری دنیا کے حکمران ہوگئے۔ آپس میں اتحاد تھے ، ان کی حکومت میں بھائی چا
را تھا اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرما ئے کہ ہم اللہ کی رسی کو متحد ہو کر
مضبوطی کے ساتھ پکڑ لیں اور رسول اللہ ﷺ
کے نقش قدم پر چل کر اللہ کے قانون کااحترام کر یں ۔
اختتام