Topics

شہید زندہ ہیں اور تم ان کا شعور نہیں رکھتے

 

سورۃاخلاص کی عملی تفسیر کیا ہے ؟

اعوذ با اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تلاوت …قل اللہ احداللہ صمدلم یلد

ابھی میں نے جو سورۃ تلا وت کی ہے اس سورۃ کایہ بہت بڑ اعزاز ہے کہ ہر مسلمان کو قرآن پاک پو را حفظ ہو نہ ہو لیکن الحمد الشریف اور سورۃ اخلاص قل اللہ احد…ضرور یا د ہوتی ہے ۔چھوٹے چھوٹے بچے بھی بڑی آسانی سے یہ سورۃ یاد کر لیتے ہیں اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے پانچ آیتیں نا زل کی ہیں مختصراً میں اس سورۃ کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے اور یہ بھی بتا یا گیا ہے کہ سورۃ مبا رک تین دفعہ پڑ ھ کر ایصال ثواب کیا جائے تو ایک قرآن پاک کا ثواب یا اجر ایصال ثواب میں منتقل ہو جا تا ہے لیکن اس سورۃمیں رو حا نیت بھی اللہ تعالیٰ نے بھر دی ہے یعنی کہ یہ جو سورۃ اخلاص کی اگر روحانی تفسیر بیان کی جائے یعنی آیت کے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے روحانی تفکر کیا جا ئے تو یہ ایک سورۃ دراصل اللہ اور مخلوق کے درمیان جو رشتہ ہے اس کی پو ری پو ری وضاحت ہے کہ سورۃمبا رکہ میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بڑی تفصیل کے ساتھ وضاحت کی ہے کہ اللہ کیا ہے ؟

یعنی خالق کی صفات کیا ہے اور مخلوق کی صفات کیا ہے؟جس خالق نے مخلوق کو پیدا کیا ہے اس کی حیثیت کیا ہے اور بحیثیت خالق کے اللہ کی حیثیت کیا ہے ان پا نچ آیتوں پر اگر غور فکر کیا جا ئے تو مخلوق کی جو بنیاد، مخلوق کی جو کفالت، مخلوق کا مجبور ہو نا اور مخلوق کا دنیا کے ساتھ توقعات قائم کر نا اور مخلوق کا اللہ کے ساتھ توقعات قائم کر نا یہ سارا پروگرام اس سورۃ میں موجود ہے ۔اللہ تعالیٰ اپنے محبوب رسول اللہ  ﷺ سے فرماتے ہیں اے میرے محبوب  ﷺآپ لوگوں کو بتا دیجئے  کائنات کی نوع انسانی کو ، مسلمانوں کو، اللہ جو ہے وہ ایک ہے یعنی اللہ کی ہستی ایسی ایک ہستی ہے کہ جس میں دو نہیں ہو تے ایسا نہیں ہو سکتا کہ ا للہ دو ہو ں، چار ہوں ،دس ہو ں یا اللہ کے الگ الگ پر ت ہو ںاللہ ایک ہی ہے۔

 اس میں بہت ہی زیادہ جب گہرا ئی میں گئے تو انہوں نے تو یہاں تک بھی کہا احد کا ترجمہ ایک ہو نا نہیں ہے اللہ کی شان ربوبیت کوپو را کر نا ہے تو جب ہم ایک بو لتے ہیں تو ہماری مجبوری یہ ہے کہ ایک کا مطلب یہ ہے کہ ہم د و بھی تسلیم کر تے ہیں اور دو کا تسلیم کر نا دراصل ایک ہے کیوںکہ ایک تابع ہے دو کے تین کے چا ر کے اس لیئے اگر ہم احد کا ترجمہ یہ کریں کہ اللہ ایک ہے اس میں اللہ کی خالقیت ہے ربوبیت ہے اس میں محدودیت یعنی ایک ہو گا تو دو ہو گا تو اب ہم یہ کہتے ہیں اللہ ایک ہے یہ ہماری مجبوری ہے کہ ہم ایک کے علاوہ کوئی اور لفظ اللہ کے لئے بیان نہیں کرسکتے یہی وجہ ہے کہ مختلف علماء نے مختلف ایک کا تر جمہ کیے کچھ تر جمہ کیا ہے لیکن بہر حال ایک ہو نا یہ ہماری مجبوری ہے کہ اس لئے کہ مخلوق اتنی زیادہ کم ہمت ہے اور اتنی زیادہ مجبور اور محتا ج ہے کہ وہ مجبور ہے یہ کہنے پر اللہ ایک ہے فی الواقع یہ کہنا اللہ کی صفات کو احاطہ نہیں کرتا بہر حال کیوں کہ مجبوری یہ ہے اللہ ایک ہے تو اب ہمیں یہ دیکھنا ہے جب اللہ ایک ہے تو کیا مخلوق بھی ایک ہوتی ہے؟

 تو ایک ہی جواب ہے مخلوق تو کہتے ہی ایک نہ ہو مخلوق کے معنی کثرت مثلا ً نوع انسانی ایک مخلوق اب نو ع انسانی ایک مخلوق کا مطلب ہوا کہ پانچ ارب آدمی جب ایک مخلوق کی تعداد کا پتا ہی نہیں کتنے ارب ہو نگے ۔ مخلوق کا مطلب ہے درخت کسی تعداد کا تعین ہی نہیں کیا جا سکتا جتنے کھرب درخت تو جہاں مخلوق کا تذکرہ آئے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق ایک نہیں ہوتی کثرت بیشمار تو پہلی بات یہ ہے کہ اللہ اور مخلوق کی یہ جو صفات ہم بیان کرتے ہیں خالق اور مخلوق کی تو ہم نے یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ مخلوق ایک نہیں ہوتی مخلوق کا مطلب ہے بے شمار انسان تو خالق کا مطلب ہے اللہ ایک ہے اور مخلوق کثرت ہے بہت سارے افراد اللہ ھو صمد …تو اللہ بے نیاز ہے بے نیاز کا مطلب کیا ہوا کہ اللہ وسائل کا محتاج نہیں ہے نہ اسے بھوک لگتی ہے، نہ اسے پیاس لگتی ہے،نہ اسے رو شنی ضرورت ہے نہ اسے اندھیرے کی ضرورت ہے لا تا خزون …ان کو اُنگ بھی نہیں آتی نیند بھی نہیں آتی آیت الکرسی آپ نے پڑھی لا تا خذ …اللہ ایک ایسی ذات ہے کہ جس کو نیند بھی نہیں آتی اونگ بھی نہیں آتی ۔

 تو اب اس کا مطلب یہ ہوا مخلوق کی تعریف یہ ہے کہ مخلوق محتاج کے علاوہ کوئی حیثیت ہی نہیں ہے ۔ کوئی بھی مخلوق ہو درخت ہوں ،پر ندے ہو ں ،درندے ہو ں ،انسان ہوں ،فرشتے ہوں جنات ہوں انسان کے بارے میں جب آپ غوروفکر کر یںگے تو اس کی مجبوری ہے کھانا کھا نا ،اس کی مجبوری ہے پا نی پینا ،اس کی مجبوری ہے سونا ،اس کی مجبوری ہے سونے کے بعد بیدار ہونا تو اللہ ھو صمد …اللہ ایسی واحد ہستی ہے کہ جو وسائل کی محتاج نہیں وسائل کی اسے ضرورت ہی نہیں ہے ۔

جبکہ مخلوق جو ہے وہ وسائل کی محتاج ہوتی ہے اور وسائل کی اس طرح محتاج ہوتی ہے اللہ ھو صمدلم یلد ولم یو لد …کہ مخلوق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ماں با پ سے پیدا ہو اللہ کے لئے تو یہ بھی ضروری نہیں ہے کہ وہ ماں باپ سے پیدا ہو لم یلد ولم یولد…مخلوق کے لئے یہ بھی ضروری ہے اس کی کوئی اولاد ہو اللہ اس سے بھی ماورا ہے،  اللہ کسی کی اولاد نہیں یعنی اللہ کا نہ کوئی با پ ہے نہ اس کی کوئی ماں ہے تو مخلوق اس لئے بے بس مجبور ہے اس لئے مخلوق کا تو مطلب یہ ہے وہ کسی کی اولاد ہو، مخلوق کا تو مطلب ہی یہ ہے وہ اس کی کوئی اولاد ہو اب اس میں انسان ہو ، جا نور ہو ں درخت ہوں، اب دیکھئے مجبوری یہ ہے کہ درخت میں اب بیج نہ ہوں درخت کا کوئی فا ئدہ ہی نہیں ،  ماں باپ نہ ہوں تو انسان کہاں سے ہوگا ، کبوتر انڈے نہ دیں تو بچے نہیں نکلتے ، بکری بچے نہ دے تو اس کے بچے نہیںہو تے ، مخلوق کی مجبوری یہ ہے کہ پیدائش کے سلسلے میں بھی وہ مجبور ہے  ولم یقولا اللہ کفون احد…اور اللہ کا کوئی خاندان بھی نہیں ہے مخلوق کی یہ بھی مجبوری ہے کہ اس کا خاندا ن بھی ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس سورہ مبارک میں اپنی پا نچ صفات بیان کی ہیں ۔

ایک یہ کہ اللہ کثرت نہیں ہوتا بلکہ مخلوق کثرت ہے ، دو سرا یہ کہ اللہ کسی وسائل کا محتاج نہیں ہوتا اور مخلوق کی تعریف ہی یہ ہے وہوسائل کی  محتاج ہوتی ہے ، اللہ کسی کا باپ نہیں ہے اللہ کسی کی اولاد نہیں ہے مخلوق کی یہ بھی مجبوری ہے مخلوق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ کسی کی اولاد ہو یا کسی کا باپ ہو یا ماں ہو انسان ساری دنیامیں اور کائنات میں جتنی بھی مخلوقات آتی ہیںاس قانون کی پا بندہیں مخلوق کے لئے یہ بھی ضروری ہے کنبہ ہو، قبیلہ ہو ،خاندان ہو ، برادری ہو اللہ کی نہ کوئی برادری ہے اللہ کا نہ کوئی خاندان ہے یہ پانچ صفات پر مشتمل ہے اب دیکھنا یہ ہے روحانی نقطہ نظر سے کہ ان پانچ صفات میں سے جو خالق کائنات نے بیان کی ہیں کیا کسی ایک صفت میں مخلوق حصے دار بن سکتی ہے یہ سوچنے کی بات ہے کہ پا نچ صفات اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہے،  اللہ تو کثرت نہیں ہے مخلوق کثرت ہے میں بار بار اس کو اس لئے دوہرا رہا ہوں آپ کے ذہن نشین ہو جا ئے کہ مخلوق کثرت ہوتی ہے اللہ کثرت نہیں ہوتا،  مخلوق ہر ہر قدم پر وسائل کی محتاج ہے اللہ کو وسیلے کی ضرورت ہی نہیںاللہ تو وسائل بنانے والا ہے،  استعمال نہیں کرتا،  اللہ کا کاکوئی باپ نہیں ہے ،اللہ کسی کا باپ نہیں ہے اللہ کا کوئی خاندان نہیںہے ان پا نچ صفات میں سے تلاش یہ کر نا ہے کہ انسان اللہ کی کوئی چیز صفت ایسی ہے کہ جس صورت سے ہم رشتہ ہوکر اللہ سے قریب ہو جا ئے تو وہ ایک صفت اللہ و صمد …کہ اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے ۔

تو پا نچ صفات میں سے چار صفات تو ایسی ہیں کہ مخلوق اس کے بارے میں سوچ وبچارہی نہیں کر سکتی کثرت ہو نا ضروری ہے با پ ہو نا ضروری ہے،  اولاد ہو نا ضروری ہے،  خاندان ہو نا ضروری ہے،  اب ایک صفت کے اللہ وسائل کا محتاج نہیں ہوتا دنیا تو مخلوق اگر چاہے تو دنیا سے اپنی توقعات ختم کر کے اللہ توقع قائم کر سکتی ہے یعنی دنیا سے بے نیاز ہو کر اللہ کے ساتھ نیاز بندی کر سکتی ہے اللہ ھو صمد …اور یہ ایسی بات ہے نہ اس میں کوئی پریکٹس کی ضرورت ہے نہ اس میں کوئی مرا قبہ کی ضرورت ہے ، نہ اس میں کوئی سوچ و بچار کی ضرورت ہے ،اس لئے کہ جب انسانی کا ہم تجزیہ کر تے ہیں تو وہاں ہمیں ایک ہی بات نظر آتی ہے کہ پیدا ئش کے پہلے دن سے مر نے کے دن تک انسان کو جتنے بھی وسائل مہیا ہیں وہ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ اس میںمخلوق کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اب آپ ماں کو دیکھ لیں کہنے کی تو بات یہ ہے ماں کے پیٹ سے آپ کو خون بطور غذا منتقل ہوتا رہتا ہے ۔

آپ اس غذ ا کو حاصل کر کے نشو ونما پاتے رہتے ہیں ۔ مٹر کے دانے کے برابر ہوتے ہیں سات آٹھ پو نڈ کے بچے بن جا تے ہیں ماں کے پیٹ کے اندر لیکن یہ بات غور طلب ہے کہ ماں کے پیٹ کے اندر یہ جو غذائی سسٹم ہے وہ کس نے بنایا تو ماں وسیلہ تو بنی لیکن ماں کو وسیلہ بنا نے والاجو ہے وہ اللہ ہے اگر اللہ ماں پیدا ہی نہیں کرتا اگر اللہ ماں کو وسیلہ ہی نہیں بنا تا تو کیا یہاں دنیا میں رو نق آپ کو نظر آسکتی تھی۔یہاں کوئی انسان ہو سکتاتھا ،کوئی پر ندہ ہو سکتا تھا ،کوئی چرندہ ہو سکتا تھا ،کوئی درخت ہو سکتا تھا ،کوئی پھول ہوسکتا تھا ،  تو اگرماں وسیلہ ہی بن گئی ہے بچے کی نشوونما کے لئے تو وہ بھی اللہ نے ہی وسیلہ بنایا ہے اس کے بعد آپ پیدا ہو ئے ماں کے پیٹ سے جب آپ پیدا ہوئے تو یہ بات ہر آدمی جانتا ہے اس میں کوئی سوچ و بچار کی بات ہے کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو دنیا پیدا ہونے کے بعد نہیں بنتی پہلے سے ہی دنیا اس کے لئے موجود ہوتی ہے یعنی وسائل جو ہیں اس کو زندہ رہنا ہے چیزیں پہلے سے موجود ہوتی ہیں ۔

زمین بھی موجود ہے جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس سے پہلے زمین بھی موجود ہے ،پا نی موجود ہے ہوا بھی موجود ہے ،دھوپ بھی موجود ہے اور کھانے پینے کی جتنی بھی چیزیں ہیں وہ بھی موجود ہے دوسری بات بہت زیادہ غور طلب یہ ہے کہ جتنے بھی وسائل موجود ہیں وہ سارے کے سارے بلا چوں و چراں موجود ہے ایک بچہ پیدا ہوا اس کو ہوا کی بھی ضرورت ہے ،اس کو آکسیجن کی بھی ضرورت ہے ، اس کو پا نی کی بھی ضرورت ہے ،اس کو دھوپ کی بھی ضرورت ہے اس کو سائے کی بھی ضرورت ہے اس روٹی کی بھی ضرورت ہے اگر ماں روٹی نہیں کھا ئے گی تو پیٹ نہیں بھرے گا ،اس کو فروٹ کی بھی ضرورت ہے اگر ماں کے سینے میں اگر اللہ دودھ نہیں ڈالے گا تو سارے بچے مر جا ئیں گے ۔تو اللہ نے مخلوق کے لئے جو وسائل پیدا کئے اس کے پیدا ہو نے سے پہلے اللہ نے بنائے دئیے ہیں اور تخلیق کئے ہیں ۔

اس لئے تخلیق کر دئیے اللہ تعالیٰ یہ بتا نا چا ہتا ہے کہ کفا لت اگر کسی کے ہاتھ میں ہے تو صرف وہ اللہ ہے اور کسی کے ہاتھ میں نہیںہے اور جتنی چیزیں آپ نے استعمال کیں ہیں ان کی کوئی قیمت نہیں ہے ابھی آپ آکسیجن کا ایک سلنڈر لیکرلگا ئیں ناک میں اس سے جناب سانس کی تکلیف بھی ہو گی ،سینے میں آپ کے جگہ جگہ درد بھی ہو نگے اور سانس بھی زور زور سے لمبے لمبے لے رہے ہونگے اور سات آٹھ ہزار سلنڈر کے بھی دینے پڑے گے ۔آکسیجن نہ آپ کو نظر آرہی ہے اور نہ آپ کو پتا ہے کیا چیز آپ کو مل رہی ہے ذرا سی ہوا بند ہو جا تی ہے آپ پنکھے چلا تے ہیں ۔

پہلے پنکھا خریدو پھر بجلی کا بل ادا کرو اور بجلی کا بل تو جب اداکر و پہلے وائرنگ کرائو تھوڑی سی ہوا کے لئے آپ کو انتہا ئی درجے محنت کر کے پیسہ حاصل کر نا پڑھتا ہے پھر آپ تھوڑی سی ہوا حاصل کر تے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ آپ گھر کے اندر ہوں باہر ہوں چھت پر ہوں میدان میں ہو ں ہوا جو ہے چلی آرہی ہے ،چلی آرہی ہے بہت آپ کوتفکر کرتے نہیں انسان کی زندگی کا درامدار جس طرح ہوا پر ہے اس طرح پا نی پر بھی ہے آپ مہینے بھر پا نی خر چ کرتے ہیںچھ مہینے تو آپ پا نی خرچ کر تے ہیں آپ کے پاس بل آجا تا ہے کے جی ایس پی ایم سی(واٹر بورڈ) اتنے پیسے بنے ہیں آسما ن سے کبھی یہ نہیں آیا کہ آپ نے اتنا پا نی خرچ کیا تو اتنی نفلیں پڑھو تو پا نی دینگے نہیں تو نہیں یا اتنی دفعہ اللہ کا تذکرہ کرو تو پا نی ملے گا یہ جتنے بھی آپ زندگی کے بارے میں غور فکر کر یں گے تو وسائل اللہ نے جو بنائے ہیں وہ سارے کے سارے آپ کومفت عطا کئے ہیں کوئی پیسہ نہیں کچھ نہیں کہ آپ نماز پڑھے گے تو پا نی ملے گا نماز نہیں پڑھیں گے تو پا نی نہیں ملے گا کہیں یہ نہیں ہے کہ آپ اللہ کومانے گے تو ہوا ملے گی اللہ کونہیں مانے گے تو ہوا نہیں ملے گی ۔

اس کا مطلب یہ ہوا جب ہم اپنی زندگی کو کھنگالتے ہیں ،بچپن سے لیکر موت تک کے وقفے کو ہم ڈھونڈتے ہیںا س پر غور کر تے ہیں تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ ہم وسائل کے بغیر زندہ نہیں رہے سکتے اور وسائل کہاںسے آئے،  وسائل اللہ نے پیدا کئے ہیں تو اب انسان کی ایک صفت ایسی ہوئی انسان کے اندر کہ اس کو کر نا یہ ہے کہ جن وسائل کی بنیا دپر وہ زندہ ہے وہ وسائل اسے مفت فراہم ہیں اور اللہ کی طرف سے اس کو مل رہے ہیں تو کوئی انسان اگر دنیا والو ں سے توقعات چھوڑ کر اللہ کے ساتھ قائم کر لے تو وہ اللہ ھوصمد…کے دائرے میں آجا ئے گا یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو آپ کی سمجھ میں نہیں آئے وسائل کے بغیر انسان زندہ نہیں رہے سکتا اب جو وسائل زندگی کی بنیاد پر ہیں وہ آپ کو مل رہے ہیں اگر آپ اللہ کے علاوہ کسی بندے سے توقع قائم کر رہے ہیں تو وہ بندہ بھی وسائل کا محتاج ہے تواس کا مطلب یہ ہوا آپ اپنے جیسے مجبور بندے سے توقعات قائم کررہے ہیں۔

تو کیا بے قوفی کی بات ہے جس اللہ نے پیدائش سے پہلے سارے وسائل اس دنیا میں مہیا کر دئیے ہیں،  آپ اس اللہ کے ساتھ جب توقعات قائم کر یں گے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ  نے اپنا کفیل، اپنا رب،  اپنا اللہ،  اپنا خالق،  اللہ کو تسلیم کر لیا اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ آپ نے کوئی بہت بڑا کا رنامہ انجام دیا یہ تو ہو ہی رہا ہے ۔ با ت صرف اتنی سی ہے اب دیکھئے پا نی پی رہے ہیں کبھی یہ نہیں سو چا پا نی پیا اب سو چو کہ اللہ پا نی دیا تو آپ یہ سوچ کر نیوالہ بنا کر روٹی کھا رہے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچ رہے کہ اللہ نے اگر زمین نہ بنا ئی ہوتی گیہوں کہاں سے پیدا ہوتا ؟

اللہ نے پتھر نہ بنایا ہوتا چکی کہا ں سے پیدا ہوتی ،اللہ نے زمین بھی بنا دی گیہوں کا دانہ بھی بنا دیا اللہ پانی نہ بر ساتا کھیتی کیسے اُگتی، اب دیکھئے آپ کے پاکستان میں خیر کی بات ہے بارش نہ ہو تو کتنی پر یشانی ہے بڑی بڑی سائنسی ایجا دات ہوئی تر قی ہوئی بارش بر ساکر د یکھا ئے کوئی بڑے سے بڑا بادشاہ کوئی زمین یا زمین کا ایک ٹکڑا بنا کر دیکھا ئے اللہ نے تو لاکھوں لاکھوں مربع زمین بنا رکھی ہے نہ کوئی سائنسدان ایک فٹ کی زمین بنا کر دیکھا دے،کوئی سائنسدان پا نی بنا کر دیکھا دے ،کوئی سائنسدان ہوابنا کر دیکھا دے ،،کوئی سائنسدان آکسیجن بنا کر دیکھا دے ،،کوئی سائنسدان گیس بنا کر دیکھا دے اور اگر کوئی چیز بن بھی گئی ہے تو اس کے بارے میں تو آپ غور کریں گے تو دنیا کے وسائل کو اکھٹا کر کے کوئی چیز بن رہی ہے یعنی ہوائی جہاز بن گیا اب ہوا ئی جہاز بن گیا اس میں پلا سٹک نہ ہو زمین کے اوپر پلاسٹک نہ ہو، زمین کے اوپرلوہا نہ ہو ،زمین کے اوپرپٹرول زمین کے اندر اور وہ انسان ہی نہ ہو جس انسان کے دماغ نے یہ جہاز بنا یا ہے تو جہاز کیسے بنے گا۔ریل ہے اب ریل کی پٹری پر ڈبے بھاگتے ہیں دوڑتے ہیں لو ہا ہی نہ ہو تو پٹری کہاں سے بنے گی ریل کے ڈبے کہاںسے گزریں گے ۔

 یہ جتنی بھی ایجا دات ہیں اب ریڈیو ہے اب ریڈیو میں جتنی بھی چیزیں ہیں پرزے ہیں ٹرانسسٹرہے فلاں ہیں فلاں ہیں جو کچھ ہے وہ ساری زمین کی چیزیں ہیں پہلے سے پیدا ہو چکی ہیں۔  زمین کے موجود وسائل کو اکھٹا کرکے تخلیق کی جا سکتی ہے ۔ لیکن ایسی تخلیق کوئی عملاً نہیں آسکتی کہ جس میں اللہ کے بنائے ہو ئے وسائل کا کوئی عمل دخل ہو ثابت ہوا کہ جو کچھ بن رہا ہے وہ بھی ایسی بنیاد پر بن رہا ہے کہ اللہ نے پہلے سے ان چیزوں کے اندر جو وسائل پہلے سے پیدا کر دئے تو اب یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ایک سائنسدان کی بنا ئی ہوئی چیزوں کو تو ہم اتنا اچھال رہے ہیں اتنی تر قی ہو گئی ،اتنی تر قی ہو گئی ،نوع انسانی یہ تر قی کر گئی اس بندے نے جس نے ترقی کی سب سے پہلے اپنا دماغ استعمال کیا اس کو پیدا کس نے کیا ؟اس کا دماغ کس نے بنایا ؟ اس نے جس چیزوں سے یہ تخلیق کی وہ چیزیں کس نے بنائی ؟

تو ثابت ہوا کہ یہاں جو بھی کچھ ہے ۔ وہ اللہ کا بنایا ہوا ہے اور انسان کی جتنی بھی ضروریات ہیں وہ ان چیزوں سے پو ری ہوتی ہیں جو اللہ نے پہلے سے تخلیق فرما دی تو اللہ ھو صمد…اللہ وسائل کا محتاج نہیں اللہ کو کسی بھی قسم کی ضرورت نہیں ہے احتیاج نہیں ہے ۔ نہ وہ کھا نا کھا تا ہے نہ وہ پا نی پیتا ہے نہ وہ سو تا ہے جیسے میں نے آپ سے عرض کیا نہ اس کو نیند آتی ہے تو اگر ہم اپنی زندگی کامطالعہ کر یں تو ایک ہی بات ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہماری زندگی کا درامدار صرف اور صرف اللہ کے بنائے ہو ئے وسائل پرسے ہے ہم ہماری ضرورت یہ ہے اللہ سے کبھی توقعات نہیں ہوتی لو گوں سے توقعات ہیں ۔

بیٹا ہے بوڑھا پے کا سہار ا بنے گا ،  بیوی ہے زندگی میں کام آئے گی ،  شو ہر ہے کچھ کما کر لا ئے گا اورکچھ پتا نہیں کب چا ہے بیوی مر جا ئے،  جب چا ہے شوہرمر جا ئے، جب چا ہے بچے مر جا ئے باپ بچوں کی پر ورش اس لئے کررہا ہے میرے بوڑھا پے کا سہا را بنے گا ہو سکتا ہے بچہ ہی نہیں رہے گا ہو سکتا ہے باپ ہی نہ رہے ایسا رات دن ہوتا ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے آپ بچوں کو پرورش کر دیں پڑھا دیں لکھا دیں ان تربیت کر دیں کہ وہ بوڑھا پے میں آپ کے کام ہی نہ آئیں آج کل یہ عام ہی ہو رہا ہے تو قرآن پاک کی صورت میں قل اللہ احد…اللہ ھو صمد …لم یلد ولم یلد …میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پا نچ صفات کا احاطہ کیا ہے ۔ اور بحیثیت خالق سے رسول اللہ  ﷺ سے اللہ تعالیٰ نے یہ فرما یا ہے کہ یہ جو راز ہے یہ راز میری مخلوق تک آپ پہنچا ئیں گے قل اللہ …ان کو بتا دیں مخلوق جو ہے وہ پانچ صفات سے تخلیق ہوئی ہے اور اللہ میں پا نچ ہے پا نچ صفات اللہ نے دی پانچ صفات اللہ کی کیا ہیں ؟

 وہ پا نچوں صفات جو مخلوق میں ہیں اللہ میں نہیں اور وہ پانچوں صفات خالق میں ہے مخلوق میںنہیں ہیں ۔اب ان میں پانچ صفات میں سے ایک صفت ایسی ہے کہ اگر مخلوق چا ہے تو دنیا سے توقعات چھوڑ کر اللہ کے ساتھ ساری توقعات قائم کر لے کسی آدمی نے اگر کسی کی توقع پو ری بھی کردی تو کتنی کردی ایک، دو، تین، چاراور بعد میں کہے گا میں نے کیا اس کا ٹھیکہ لے رکھا ہے تو غریب ہے اس لئے اور اللہ ایسا  اللہ ہے کہ جس کو یہ قدرت حاصل ہے وہ ہر منٹ میں چاہے تو ایک لاکھ توقعات مخلوق کی پوری کر سکتا ہے اور اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںجب تم سو جا تے ہو تو آدمی مو ت میں چلے جاتے ہو تو کون ہے وہ جو تمہیں موت سے نکال کر دوبارہ زندہ کر دیتا ہے ؟

آدمی سو جا تا ہے اللہ میاں اس کو اگر بیدارنہ کر یں یااس کی روح واپس نہ کریں تو سارے مر جا ئیں گے کیوں کہ سو نا تو مر نا ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اللہ وہ ذات ہے وہ رحیم و کریم اللہ ہے جب تم سو جا تے ہو تو بو لو مر جا تے ہو اللہ اپنی رحمت سے تمہاری روح کو واپس لوٹا دیتا ہے تم پھر زندہ ہو جا تے ہو پھر زندگی کے حرکات و سکنات میں تھک کر تم چور ہو جاتے ہو تمہارا جسم بے کار ہو جا تا ہے ،تم چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہتے ،کھڑے کھڑے گر جا تے ہو ،اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر موت وارد کر دے اور اس موت میں تمہارے اندر روح کو ڈال کر انرجی کا ذخیرہ کر دیتے ہیں ۔ اب تھکا ہوا آدمی جب سو تا ہے توا س کی حالت آپ سب کو پتا ہو گا سونے سے پہلے کیاحالت ہوتی ہے اگر نیند پو ری نہ ہو تو اور جب وہ کہے تو معلوم ہوتا ہے تھکن سے سارا جسم ٹوٹ رہا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہوا وہ آدھی موت جو ہے آپ کے لئے انرجی کا ذخیرہ بن جاتی ہے ایک طر ف آپ مر رہے ہیں آدھی موت اور دوسری طرف جب آپ اٹھتے ہیں تو کیا دیکھیں آپ کو کوئی تھکان کا احساس ہی نہیں ہوتا ۔

اللہ تعالیٰ نے آپ کو حلق دیا اگر حلق بند ہو جا ئے آپ پانی نہیں پی سکتے آپ کھا نا نہیں کھا سکتے میرے پاس ایک مرید آئے پیچھے سال کا ذکر ہے یہ مرا قبہ ہال میں تو سوکھا پتلا سوکھا ہوا بالکل،  بھا ئی تمہیں کیا تکلیف ہے کہنے لگے میں نے کہا ڈاکٹر کو دیکھایا اس نے کہا ہر قسم کے ٹیسٹ ہو گئے ہیں اس کو بھی دیکھا اس کو بھی دیکھایا،ہر حکیم ہر ڈاکٹر یہی کہتا ہے کوئی بیماری نہیں ہے تمہیں لیکن میں کھا نہیںسکتا نگل نہیں سکتا بھا ئی کیسے تمہارا گزارہ ہے کھا نا پینا تو پڑتا ہے کہنے لگے بسکٹ وہ پہلے آتے تھے نہ منے سے  بسکٹ اس کو پانی میں گھول لیتے ہیں اور پانی میں گھول کر اس کو ہاتھوں سے مسل کر منہ میں ڈال کرایسے ایسے حلق کرتا ہوں تو وہ نیچے اتر تے ہیں کھا نے کاوقت ہوا سب لوگ کھا نا کھا رہے ہیں اس نے منہ بنا لیا میں نے اس سے کہا آپ کھا نا کھا ئیں چاول دئے تھوڑے سے اب وہ جناب اس نے منہ میں رکھتے حلق میںنہ جا ئیںتو زور لگا کر اتر گیا اب اس نے ایسا کیا تو جناب اس کی تو آنکھیں ہی اوپر چڑ گئی آنکھو ں سے پا نی ناک سے پا نی اب مرا تب مرا جب مرا میں نے دیکھا کہ یہ تو مررہا ہے کیا بات ہو گئی خیر اس وقت جو ہوا اب میں آپ کو ایک بات سنا ئو گا بہت غور طلب بات ہے یہ اب مجھے فکر ہوئی کہ یہ بات کیا ہے میں اس کا گلہ پکڑا کر دیکھا تنکا بھی ڈالا بالکل گلہ باکل صاف تھا کوئی ٹونسنس نہیں تھے کوئی اندر سے گلہ پکا ہوا نہیں تھا پھر میں نے اس سے تنہا ئی میں اس سے بات کی، بہت اس پرتوجہ کی بہت توجہ کی تو اس کے بعد یہ پتا چلاجو اس نے بتا یا صاحب میرے اوپر یہ خوف طاری  ہے اگر میں نے کوئی چیز نگل لی اور وہ حلق میں جا کر پھنس جا ئے گی میں مر جا ئوں گا میں نے اس کی طرف دیکھا اور میں نے کہہ بھا ئی یہ اتنے سارے لوگ کھارہے ہیں کہنے لگے یہ سب میں دیکھتا ہوں سمجھتا ہوں لیکن پتا نہیں کیا ہے کوئی بھی چیز روٹی کا نیوالہ یا کوئی ٹھوس چیز کھا ئی جب حلق کے اندر اتر ی اور یا جو میں کھا رہا ہے وہی روک جا ئے گی اوپر سے سانس نہیں آئے گا میں مر گیا۔

تو میں نے کہا بھئی یہ تو بات ہی غلط ہے سانس لینے کی نالی الگ ہوتی ہے حلق الگ ہوتا ہے تو کہا جی وہ کیسے ہوتا ہے تو پھر میں نے کہا صبح کو بات کر یں گے، پھر صبح کو لطیف بھا ئی آئے ہم نے ان سے کہا بھئی اس بندے کو لیجا ئو ایک قصائی کی دوکان پر لیجا ئو اور وہاں اس کو سری دیکھا ئودو تین سریاںد یکھا ئو اور اسے یہ بتا ئو نالیںدو ہوتی ہیں نرخہ الگ ہوتا ہے سانس کی نا لی الگ ہوتی ہے اچھا وہ دیکھ کر آگیا اب اس کا جناب یقین تھوڑاسا کمزور ہوا اگر میں کوئی چیز کھالوں گا تو وہ اٹک جا ئے گی میں مر جا ئوں گا اس کے بعد میں نے آہستہ آہستہ اس کو کھلا نا پلا نا شروع کیا وہ تین دن یہاں رہا چوتھے دن چلا گیا توا س کا کہنا یہ تھا کہ پتا نہیں کتنے چو دہ سال بتا رہا تھا یا بارہ سال بتا رہا تھا میں نے کچھ کھا یا ہی نہیں ہے تو باباجی کی کرا مت مشہور ہو گئی صاحب پندرہ سال کے بعد کھانا کھلا کر بھیج دیا اب اس میں کرا مت کا کیا کچھ بھی نہیںاگر یہی صورت میرے اوپر آپ کے اوپر بکر کے اوپر محمود کے اوپرطاری ہو جا ئے اور ہمارے اندر خوف ہو جا ئے کہ ہم کوئی چیز کھا ئیں گے تو گلے میں اٹک جائے گی تو کیا ہم زندہ رہے سکتے ہیں ؟

اللہ کا نظام ہے جتنے لقمے کھائے جا تے ہیں اور جناب اس لقمے سے پیٹ بھی بھر جاتا ہے وہاں کھا نا ہضم بھی ہو جا تا ہے تین وقت آپ کھا نا بھی کھا لیتے ہیں۔پا نی پتا نہیں گر می میں مٹکے مٹکے ہی پی جا تے ہیںپتا نہیں وہ کدھر چلا جاتا ہے کیا اللہ اب  ابھی بھی ایسی ہستی نہیں ہے کہ آپ دنیا سے توقعات چھوڑ کر اللہ کے ساتھ قائم کر یں۔کیا آپ کو ابھی بھی اللہ کے رحیم و کریم ہو نے کا احساس نہیں ہے ۔وہ اللہ جو آپ کو روز مارتا ہے روز پیدا کرتا ہے ،وہ اللہ جو آپ کو روز نئی زندگی عطا کرتا ہے ، آپ دیڑھ فٹ کے بچے ہو تے ہیں سات فٹ کے آدمی بن جا تے ہیں یہ دیڑھ فٹ کے بچے میں سات فٹ کے آدمی میں کیا اللہ کی کوئی نشانی نظر نہیں آتی ۔اللہ نے آپ کو دماغ دیا ہر شخص کسی نہ کسی خیالات میں مصروف رہتے ہیں کبھی اچھے خیال آتے ہیں کبھی برے خیال آتے ہیں آپ کو اللہ نے حافظہ دیا،آپ کو اللہ نے ذہن دیا، عقل دی کیا کبھی آپ نے یہ سو چا ہے دماغ میں جو خیالات کا جو سلسلہ ہے وہ کونساسا نظام ہے کون سے تار لگے ہو ئے ہیں کہ آپ کے دماغ میں برابر خیال آتے ہیں کچھ پتا نہیںآپ کو خیال کہاںسے آئے کیا آپ اپنے اندر کی مشین پر غور نہیں کرتے؟

دیکھئے ذرا سی تکلیف ہو جاتی ہے تو پا نچ لاکھ رو پے کا آپریشن ہوتا ہے جب دل میں تکلیف ہو جائے تو سات لاکھ لیتے ہیں آپریشن کے مرمت کے سات لاکھ روپے اور آپ کا دل چل رہے ہیں تب بھی کام کر رہا ہے ،آپ سو رہے ہیںتب بھی کام کر رہا ہے ،بیٹھے ہیں تب بھی کام کر رہا ہے ،آپ نے کبھی اس پر غور نہیںکیا کہ دل کی حرکت کس بنیاد پر قائم ہے اگر اللہ تعالیٰ آپ سے پیسے لینا شروع کر دے میڈیکل سائنس کے حساب سے تو میں نے حساب لگا یا تھا کہ سات لاکھ اس کے،  پھیپھڑوں کے اتنے اور گردوں کے اتنے تو فلاں کے اتنے تو بیالیس لاکھ ہو تے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ روزانہ اللہ تعالیٰ آپ کے اوپر آپ کے جسم کے اندر مشنیں ہیں ان مشینوں کو بحال رکھنے کے لئے بیالیس لاکھ رو پے لیتا جو ہستی بیالیس لاکھ روپے روزانہ آپ کے اوپر خرچ کر رہی ہے تب بھی آپ اس سے توقع قائم نہیں کر تے اور جو آپ کے سامنے آپ کو تین ہزار رو پے مہینہ دے رہا ہے آپ اس کے آگے ہر وقت ہا تھ جوڑے کھڑے ہیں ۔

 اس سے بڑی نا انصافی اس سے بڑی جہالت اس سے بڑی ناشکری اس سے بڑا کفران نعمت کیا ہو سکتا ہے ۔

 اللہ تعالیٰ نے حضور پاک  ﷺ کو اس دنیا میں بھیجا اور اس لئے بھیجا کہ مخلوق اور خالق کے رشتہ کو اللہ تعالی ٰکاجو ساتھ ہے مخلوق کے ساتھ اللہ کے ساتھ جو مخلوق کا رشتہ ہے حضور پاک  ﷺ نے اس کو پو ری وضاحت کے ساتھ بیان فر مایا ہے حضور پاک  ﷺ نے آپ کو آخری حج میں حضور پاک  ﷺنے گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو کچھ بتا یا تھا آپ لوگ گواہ ہیں کہ میں نے وہ سب کچھ آپ کو بتا دیا ہے لیکن ہماری صورت یہ ہے کہ ہم کھا بھی اللہ کا رہے ہیں ،  پی بھی اللہ کا رہے ہیں ،  زندگی کا ذخیرہ بھی اللہ ہی فراہم کر رہا ہے،  اولاد بھی ہمیں اللہ کی طرف سے مل رہی ہے ،کیوں کہ ہمیں پا نی اللہ نے دیا اب بتائیے کبھی کسی آدمی نے کہا ہی نہیں پانی اللہ دے رہا ہے اس سورۃ کو میرا جو اپنا خیال ہے اور میرا جو اپنا زندگی کاتجربہ ہے وہ یہ ہے کہ اس سورۃ کو ہر مسلمان کو روزانہ ضرور پڑھنا چا ہئے او ر خالق اور مخلوق کا جو رشتہ بیان ہوا ہے اس سورۃ پاک میں اس پر غوروفکر کر نا چا ہئے جب ہمارے ذہن میں یہ بات آجائے گی کہ توقعات کا درومدار صرف اور صرف اللہ سے ہے توقعات مخلوق کی ، مخلوق پو ری نہیں کر سکتی کوئی مخلوق کسی کا مقصد کیا پو را کر ے گی وہ تو خود ایک مجبور انسان کسی کا کیا کر ے گا میں نے ایک کتا ب میں واقعہ پڑھا کہ ایک صاحب کسی بادشاہ کے دربار میں گئے کہ کوئی ضرورت تھی،  کہا بادشاہ سے درخواست کرو ں ان کو بیٹھا دیا گیا تو انہو ںنے دیکھا پر دے کے پیچھے با دشاہ بیٹھا ہوا ہے اور اس کے ہاتھ اٹھے ہو ئے ہیں تو وزیر سے پوچھاصاحب نے کہ یہ بادشاہ کیا کر رہا ہے ؟

تو اس نے کہا بھئی با دشاہ مانگ رہا ہے ۔تو اس نے کہا با دشاہ بھی مانگتا ہے ؟تو کہنے لگا ہاں سب ما نگتے ہیں اس نے کہا یہ کس سے مانگ رہا ہے ؟ اس نے اللہ سے مانگ رہا ہے ۔ تو اس  نے کہا مجھ سے زیادہ بے وقوف کون ہو گا جو میں اس سے مانگو ،  میں بھی اللہ سے ہی جا کر ما نگو گا ۔اس سورۃ مبا رکہ کی ایک فضلیت یہ ہے اگر آدمی اس کا مطالعہ کر ے اور دوسری میں نے آپ سے روحانی تفسیر بیان کی ہے کہ پا نچ صفات، پا نچ ایجنسیاں، پانچ نقطے اللہ نے اس میں بیان کئے ہیں اور اس میں یہ بات اتنی وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے کہ اگر انسان چاہے اس کو مجبوری کہہ لے چاہے نہ کہہ میںالگ سے کہے رہا ہوں یہ تو مجبوری ہے توقعات تو مجبوراً پوری کر رہا ہے وہ لیکن اس نے اپنا ارادہ شامل کر لیا تو وہ اللہ کا شکر گزار بندہ یقینا بن جا ئے گااس لئے اس کے سامنے یہ بات آجا ئے گی کہ مخلوق کسی مخلوق کی توقع پو ری نہیں کر سکتی ۔

اللہ ہی توقع پو ری کرتا ہے جب ساری مخلوق کی اللہ ہی توقع پو ری کرتا ہے تو یہ بھی توقع اللہ کی ہے روحا نیت میں آپ نے سنا ہوگا ایک لفظ ہے توکل ،توقع بھروسہ اس توکل کا مطلب ہی یہ ہے انسان کے اندر جب اپنی ضرورت کا تقاضہ پیدا ہوتو اس کا ذہن اللہ کے علاوہ کسی بندے کی طرف کبھی بھی نہیں جا ئے گا غوث علی شاہ صاحب بزرگ تھے انہوں نے اپنی کتاب میں ایک قصہ لکھا میں اپنی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا وہاں ایک صاحب آگئے ٹھہر گئے مغرب کے بعد کھا نا آیا تو میں نے صاحب کھا نا کھا لیجئے تو کہنے گے میںیہ کھا نا نہیں کھا تا، میں تو مرغ پلا ئو کھا تا ہوں میں نے کہا بھئی یہاں پلا ئو کہاں رکھا ہے خیر انہوںنے تھوڑا سا کھا نا رکھ دیاکہ باولہ آدمی ہے رات کو بھوک بھی لگی تو دے دیں گے وہ مسجد میں ٹھہر گئے میں اپنے حجرے میں جاکر دروازہ بند کر دیا بادل آرہے تھے بہت زور کی بارش برسی اسی بارش میں دروازے پر دستک ہوئی انہوں نے کہا کوئی فقیرہی ہو گا اس کے کپڑے گیلے ہو گئے ہو نگے اب میں نے تھوڑا سا دروازہ کھولا اندر با رش نہ آئے تو ایک صاحب نے جلدی سے بڑا تھا ل اندر دیا اور کہا ملا جی یہ پلا ئو رکھ لو بر تن سمیٹھ کے دے دو جلدی سے۔

  میں نے حجرے سے نکلا اور کہا آپ کا پلا ئو آگئے اب کھالے، کہنے لگے ہاں شروع کر تے ہیں میں نے پانی لا کر رکھ دیا تو اتنے میںمجھ سے پو چھا بھی نہیں کہ تم بھی کھالو تو میں نے مذ اق میں کہا اللہ کے بندے بھئی جھوٹ ہی پو چھ لوتو اس نے کہا جھوٹی تواضع کیا ہوتی ہے بھئی ،سچی ہوتی ہے تودال کھا نے والے لوگ پلا ئو کیسے کھا ئو گے،  ہم تو پلا ئو ہی کھا تے ہیں اللہ پلائو دیتاہے تو کھا تے ہیں ورنہ کھا تے ہی نہیں ہیں کہنے لگے صاحب اس بات سے بڑا حیران ہوا یہ مرغ پلا ئو با رش میں کیسے آیا ؟کیوںآیا ؟

 رات کے ٹائم اب مجھے انتظار ہوا کہ وہ بر تن لینے آئے تو اس سے پو چھو تو میں نے پو چھا اس سے کہ بھئی آپ اتبی با رش میں مرغ پلا ئو لانے کا کیا خیال آیا تمہیں ،کہا مولوی جی بات یہ نہیں ہے میری بیوی نے منت مانی تھی اللہ سے اور منت یہ ما نی تھی ایک چوزا پال لیا مر غی کااور منت یہ مانی تھی جب میری منت پوری ہو گی اسی دن ملا جی کو مر غ پلائو کھلائوں گی تو جیسے ہی اس کی منت پو ری ہوئی اس نے مرغ پلا ئو پکا لیا اور اتنی د یرمیں با رش ہو گئی تو بیوی نے کہا کہ ہماری منت پو ری ہونی چا ہئے ہمیںبارش میں یہ دے کر آئو ملاجی تک پہنچائوں وہ کھا نا میری بیوی نے کہا مجھ سے بھگوان اتنی دیر ہو گئی وہ تو کھا بھی چکے ہو نگے تو انہوں نے کہا ہمیں کچھ نہیں واسطہ بس پہنچا دو کسی طرح پہلے میں اس فقیر کے پاس گیا کہنے لگا بھئی یہ کیا چکر ہے کہنے لگے دیکھو بات یہ ہے کہ ہم کسی مخلوق سے توقع نہیں رکھتے ہم اللہ سے توقع رکھتے ہیں اللہ سے ہم نے کہے دیا ہم مرغ پلا ئو کھلا ئو گے تو کھا ئیں گے نہیں کھلا ئو گے تو بھوکے پڑے رہے گے تو بھئی ہم مرغ پلا ئو ہی کھا تے ہیں ایک وقت نہ ملے دو وقت نہ ملے تین وقت نہ ملے کھا تے ہی نہیں ہے ہمارا مر غ پلا ئو کا انتظام ہو جا تا ہے جیسے تم نے ہمیں رات کو پلا ئو کھلا یا ۔

ایک واقعہ انہوں نے لکھا تو یہ ہے کہ آپ اپنی زندگی میں اس قسم کے ہزارہ تجربات سے گزارتے ہیں کہ آپ کو کبھی کسی چیز کا خیال آیا کہ وہ حلوہ کھلا تے ہیں اس قسم کے واقعات اکثریت ہو تے ہیںلیکن کیوں کہ ہمارے ذہن میں اللہ ہی ہے اس نے ہمارے پڑو سیوں کے دل میں یہ خیال ٖڈالا کہ حلواہ پہ فاتحہ بھجیں اللہ کو نہیں بلکہ یہ کہتے ہیں پڑوسیوں نے حلواہ بھیجا آپ سب حضرات سے یہ درخواست ہے کہ روزانہ رات کو سونے سے پہلے قل اللہ پڑھنے کی کوشش کر یں اور جس طرح میں نے بتا یا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی پا نچ صفات کا تذکرہ فرمایا ہے جس  میں سے چار صفات ایسی ہیں کہ مخلوق کسی بھی طرح اس میں داخل نہیں ہو سکتی ۔یہ اللہ اور اللہ بے نیاز ہے دنیا سے کا ئنات سے وسائل سے جو چا ہے جس طرح چاہے،  جب چا ہے،  جو چاہے کر دیتا ہے آپ اگر اپنا ذہن اپنی توقعات اللہ سے وابستہ کر دیں گے تو یقینا آپ کا اللہ کے ساتھ تعلق قائم ہو جا ئے گا اور جتنا آپ کا اللہ کے ساتھ تعلق قائم ہو جا ئے گااسی مناسبت سے دنیا سے توقعات کا جو سلسلہ ہے وہ آہستہ آہستہ ختم ہو جا ئے گا۔

پیغمبران علیہ الصلوٰۃ والسلام کے یہ طرز فکر ہے کہ وہ کوئی بھی کام کر تے ہیں ارادے سے غیر ارادی طور پر ان کا ذہن اللہ کی طرف لگا ہوا ہوتا ہے ۔اللہ جن لوگوں کو علم عطا کرتا ہے ، اپنا علم عطا کر دیتا ہے یا روحانی علم جو اللہ تعالیٰ عطا کر دیتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ یہ بات ہمارے یقین میں پیٹرن ہو گئی ہے کہ یہاں جو بھی کچھ ہے وہ سب اللہ کی طرف سے ہے تو اس میں کیا شک ہے بھئی میں پیدا ہو ،  آپ پیدا ہو ئے اب بتائیے میرے پیدا ہو نے میں آپ کے پیدا ہو نے میں آپ کا کیا اختیار ہے اللہ نے چا ہا جب پیدا ہو گئے پیدا ہو کرہی مر جا تے ایک مہینے کا بچہ مر جا تا ہے پا نچ سال کا مر جاتا ہے چھ سال کا مر جا تا ہے ہم نہیں مر ے تو بھئی اس میں ہمارا کیا اپنا اختیار ہے ساٹھ سال میں نہیں مرے اس میں ہمارا کیا سو سال کے ہو گئے ایک دن کے ہو کر مر گئے اس میں ہمارا کیا ہے تو ہماری تو پیدا ئش بھی ہماری اپنی اختیاری نہیں ہے ۔

کوئی آدمی اس دنیا میں مر نا نہیں چاہتا لیکن مر تا ہے اس کا مطلب ہے کہ زندہ رہنے پر بھی ہمیں کوئی اختیار نہیں ہے ۔اس زندگی کی چھان بین کرنے سے ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کچھ نہیں سب کچھ اللہ ہے ۔انسان کی زندگی اس بنیاد پر قائم کہ اللہ چاہتا ہے کہ انسان زندہ رہے ۔لیکن جب اللہ چاہتا تو زلزلے آجا تے ہیں ۔ ہزاروں لاکھوں ایک دم اس میں مر جا تے ہیں طوفان آجا تے ہیں پا نی کے اس میں ہزاروں مر جاتے ہیں ۔اس میں لاکھوں مر جا تے ہیں ۔کیا وہ لوگ مر نا چاہتے ہیں عزیزم محترم ہماری پیدائش بھی ہماری اختیار نہیں ہے ہمارا جوان ہونا بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے ،ہمارے اندرجو عقل و شعور ہے اس عقل و شعور کے بار ے میں بھی ہم یہ نہیں کہے سکتے کہ ہمارا اختیار میں ہے یہ چیزیں ان کو ذرا ٹھیک تو کر کے دیکھا دیں ،  پاگل ہو جا تے ہیں کبھی کسی پا گل کو ٹھیک ہو تے ہو ئے دیکھاآنکھیں آنکھیں بھی ہیں پتلی بھی ہے پلکیں بھی ہیں جھپک بھی رہی ہے نظر نہیں آرہا ڈاکٹر حیران پر یشان ہیںاس کو ںنظر کیوں نہیں آرہا ؟

کیوں کہ اندر جو ہے وہ کچھ کیا ہوا ہے اندر جو ہے پر دہ آگیا ہے تو اللہ تعالیٰ حفاظت نہ فرما ئے تو کسی بھی آنکھ کے اندر پر دہ آجائے ہم چلتے پھر تے ہیں بھاگتے دوڑتے ہیں پولیو ہو جا تی ہیں ٹانگیںایسی لٹک جاتی ہیںہماری ٹانگیں لٹک جا ئیں ہم کیا کر سکتے ہیں ؟یعنی آپ کس کس چیز کا شکر ادا کریں تو آپ کی پو ری زندگی اللہ سے وابسطہ ہے اللہ کے سہارے پڑی ہوئی ہے ۔توجب اللہ کے سہارے پرہی ہم زندہ ہیں تو اللہ کے علاوہ مخلوق سے توقع قائم کر نا تو بہت ہی نا شکری اور جہا لت کی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے کہ ہم اپنی دماغی اور ذہنی صلاحیتوں سے اپنی زندگی کے بارے میں غوروفکر کریں ۔ دوسری فکر یں چھوڑیں آپ،  اللہ نے ہمیں کیوں پیدا کیا ؟اللہ نے ہمارے اندر ایک سسٹم بنادیا ہے دل کا، گردوں کا،  پھیپھڑوں کا ، آنتوں کا آخر اس کی کیا ضرورت پیش آئی تھی اللہ کو، کیوں اللہ چا ہتاہے یہ ہوا پا نی آسمان زمین درخت یہ سب اللہ نے ہمارے لئے بنا ئے کیوں بنا ئے ؟

میرے ذہن میں تو ایک ہی بات آتی ہے یہ سب اللہ نے اس لئے بنائے ہیں کہ ہم ان سب چیزوں کو دیکھ کر اللہ کی حاکمیت کو قبول کر ے اور دنیا سے توقعات چھوڑ کر اللہ کے ساتھ ساری توقعات قائم کر یں اب جب ہمارے اندر یہ صورت پیدا ہو جا ئے گی تو یقین جب دنیا ہی ہمارے سامنے ہو گی دنیا چھوڑنے کا مطلب یہ نہیں آپ کھائیں نہیں پئے نہیں کا روبار نہیں کریں کا روبار تو جب ہی کریں گے جب اللہ کے حکم سے ہو ۔ کاروبار تو آپ جب ہی کریں گے نا خریدار بھی پیدا ہوں ۔ کاروبار کر تے ہیں خرید ارہی نہ ہوں تو کہاں سے آپ دوکان چلا  لیں گے زندگی کے بارے میںغوروفکر کر نا، تفکر کر نا، گہرا ئی میں ا تر جانااللہ کی نعمتوں کو یاد رکھیں تو آپ کو ایک ہی بات نظرآئے گی اصل مالک ، اصل خالق ، اصل باپ، اصل ماں ،  اصل رشتہ دار اللہ کے علاوہ کوئی نہیں ہے اللہ تعالیٰ ہمیں سو چنے سمجھنے کی  توفیق عطا کریں اور قرآن پاک کو پڑھنے کی تو فیق عطا کرے۔

  اب جس طرح ابھی میں نے آپ سے عرض کیا  سورۃاخلاص کا ترجمہ اور تفسیر اس کی ایک بنیاد یہ ہے آپ نے بہت ساری تفسیریں سنی ہو نگی پڑھی بھی ہو نگی اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ ایک ایسا بندہ اللہ نے میرے اوپر مہربان کر دیا ہے میری مراد میرے مرشد کریم حضور قلندر بابااولیا ء ؒ سے ہے ان میں سوچ اور گہرائی کا تفکر ہے جس طرح میںگہرائی میں سوچ کر اللہ کی نشانیاں بیان کر سکتا ہوں ہر انسان سوچ کر اللہ کی نشا نیوں کا مشاہدہ کرسکتا ہے ہر انسان اللہ کی نشا نیوں پر سوچ کر اللہ سے دوستی کر سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے فرما یا کہ جو میرا دوست بن جا تا ہے میں اس کے اوپر سے خوف اور غم ہٹادیتا ہیں اللہ انا …اللہ تعالیٰ آپ کہ رسول اللہ  ﷺ کے نقش قدم پر نہ چل کر سوچنے کا جو تفکر نکل گیا ہے وہ دو بارہ بحال ہو جائے۔ہمارے اندر جو دماغی ذہنی اور روحانی صلاحیتیں ہمارے اندر عطا کی ہیں ہم ان کا کھوج لگا ئیں ان کو تلاش کر یں اوور جب ان کو تلا ش کر یں تو ظاہر ہے استعمال بھی کر یں

Topics