Topics

میزبان سوال : حضرت عیٰسی علیہ السلام کے وصال میںکیا حکمت ہے ؟

 

جواب  :  اللہ تعالیٰ نے حضرت عیٰسی علیہ السلام کے بارے دو باتو ں کا ذکر فرمایا ہے ۔ایک تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے کہ اللہ ایسی ہستی ہے  ۔ایسی قاردمطلق ہے کہ وہ جو چاہئے کرسکتا ہے مثلاً حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش میں ماں باپ د ونوں زیر بحث نہیں آتے ہیں۔حضرت حوا کی پیدائش اور حضرت حوا کی پیدائش کے بعد کہیں تذکرہی نہیں ہوتا اب ایک ہی خانہ رہے گیا تھا  بغیر باپ کے پیدائش تو وہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیٰسی علیہ السلام کو پیدا کر کے یہ ظاہر فرما دیا یہ جو تخلیق کاسلسلہ قائم ہے مخلوق یہ نہیں سمجھیں کہ اس میں اللہ تعالیٰ محتاج ہے اور یہ ایک سلسلہ قائم کرکے ناعوذبا اللہ اللہ تعالیٰ اس میں پابند ہوگیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے بار ے میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسی قادر مطلق ہے کہ چاہے تو بغیر ماں کے پیدا کر دے،اور چاہے تو بغیر باپ کے پیدا کر دے ۔

  بڑی عجیب بات ہے کہ یہ جتنی بھی تخلیق کاسلسلہ ہمارے سامنے ہے وہ چاہے اس میں انسان اور حیوان ہواس میں ماں باپ جو ہے وسیلہ ہے پیدا ش کے۔ جب تک ماںباپ نہیں ہونگے جب تک اولاد پیدا نہیں ہوگی ۔اب درختوں کابھی ایسا حساب کتاب ہے وہ بھی نر مادہ ہو تے ہیں ،پودوں کابھی ایسا حساب کتاب ہے ۔وہ بھی نر مادہ ہو تے ہیں ،کھجور میں بھی یہی حساب کتا ب ہے اور جناب اتنے حیوانات ہیں ان میں بھی یہی سلسلہ ہے اور انسانوںمیں بھی یہی سلسلہ ہے ۔لیکن جب اللہ کا تذکرہ آئے گا تو وہاں یہ بات بالکل واضح طور پر سامنے آجائے گی کہ یہ ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ نے نسل کشی کا جو سلسلہ بنا یا ہے ۔اللہ تعالیٰ اس کو اسی طرح پسند کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ محتاج نہیں ہے ۔ بغیر ماں کے بچہ پیدا نہ ہوتا ہو بغیر باپ کے بچہ پیدا نہ ہوتا ہو۔بغیر ماں کے پیدا ہوا ہے ایک تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خدائیت کا یہ اظہار کیا ہے۔

 دوسری بات اللہ تعالیٰ نے جوحکمت اس میںظاہر کی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح مرد،  مردوں کو اللہ تعالیٰ نے روحانی صلاحیت دی ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے خواتین کو بھی روحانی صلاحیت سے نوازا ہے ۔مثلاً جب حضرت مریم علیہ السلام کو حضرت زکریاعلیہ السلام نے کمرے میں بند کر دیا اور بھول گئے اور کچھ دنوں کے بعد یا کافی دنوں کے بعد زکریا علیہ کو کمزوری محسوس ہوئی ۔یہی کہ حضرت مریم کمزور ہو گئی وہ تو بچارے گھبراگئے تھے پتا نہیں مرہی گئی ہو نگی۔ انہو ں نے پوچھا بھئی تم نے کہاںسے کھا یا، کہاں سے پیا میں تو باہر سے دروازہ بند کر کے گیا تھا ۔حضرت مریم نے یہ کہا مجھے تو میرا اللہ بھیجتا تھا ۔ فرشتے کھا نا لا تے تھے وہ کھا یا توایک تو یہ بات دوسری یہ حضرت مریم نے فرشتوں کو دیکھا اور جب فرشتوںنے کہا اللہ تعالیٰ یہ چاہتا ہے۔

 کہ تمہارے یہاں ایک بیٹا ہو ا وروہ بیٹا اللہ کاپیغام پہنچائے تو حضرت مریم علیہ السلام نے فرمایا میں توکنواری ہوں مجھے کیسے پتا بیٹا کیسے ہوگا تو فرشتوںنے کہا کہ اللہ ایسا ہی چاہتا ہے اوراللہ جو چاہتا ہے وہ ہو جا تو اس سے آپ یہ د یکھیںحضرت مریم علیہ السلام کی اتنی زیادہ صلاحیت تھی کہ حضرت مریم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک خاص معجزے کے لئے یاتخلیق کے لئے،  خا ص نشانی کے لئے عورت کاانتخاب کیا اوراس عورت کی تعریف یہ ہے کہ جب عورت نے سنا فرشتوں سے اللہ ہی ایسا چاہتا ہے تو اس عورت نے خود کو سرنڈر کر دیا اورکہے دیا ٹھیک ہے اللہ ایسا چاہے تو میںکیا ہوں ۔ تو اس میں خواتین کے متعلق بہت بڑا اللہ تعالیٰ کی طرف سے اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتا یا ہے کہ مردوں کوروحانی علوم حاصل ہو تے ہیں، جس طرح مردوں  کے اندر روحانی احکام کا م کر تے ہیں ۔اسی طرح خواتین کے اندر بھی روحانی صلاحیتیں ہیں یہ دوباتوں تو بات بڑی لمبی ہو جائے گی اگر اس کی تشریح کریں بہر حال پیدائش کے سلسلے میں یہ دو باتیں بہت زیادہ اہم ہیں ۔

ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کا اظہار کیا اور دوسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ عورت کواور مرد کو روحانی صلاحیت برابربرابر ہیں ۔ اگر کوئی پیغمبر فرشتوں کو دیکھ سکتا ہے تو ایک خاتون بھی فرشتے کو دیکھ سکتی ہیں ۔ا گرکسی پیغمبر کے اوپر وحی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس مرد کو جو پیغام پہنچا سکتے ہیں تو اللہ تعالیٰ حضرت مر یم کی صورت میںایک عورت پر بھی پیغام نازل کرنے پرقادر ہے اور جس طرح ایک مرد پیغمبر اللہ تعالیٰ کا فرمان سن کراس پر عمل کرتا ہے وہ آدمی نبی کا درجہ ہو جا تا ہے اسی طرح حضرت مریم بھی جب فرشتوں نے یہ کہا آپ کا اللہ ایسا ہی چاہتا ہے۔ تو حضرت مریم نے یہ کہا مجھے یہ تسلیم ہے کہ اللہ کو پتا تھا کہ دنیا مجھے کیا کہے گی لیکن انہوں نے کہا ٹھیک ہے اللہ جو کہتا ہے ٹھیک ہے اور پھر ولادت ہوئی حضرت عیٰسی علیہ السلام کی، بعد میں حضرت عیٰسی علیہ السلام بولے ہمارے باپ کدھر ہیں ۔

لیکن حضرت مریم علیہ السلام نے بالکل مردوں کی طرح وہی کردار ادا کیا جو پیغمبروں نے کردار ادا کیا ہے۔ پہلے تو کرتے ہی تھے آئندہ کریںیا حضرت عیٰسی علیہ السلام کر تے تھے ۔تو یہ تو پیدائش کی سمجھ میںبات ہوئی کہ مردوں اور عورتوں کی روحانی صلاحیتیں بالکل برابر،برابرہیں۔ کچھ لوگ اعتراض کر تے ہیں کہ صاحب مرد پیغمبر ہو ئے عورتیں پیغمبر نہیں ہوئی لیکن تاریخ کا جو عہد ہے اس میں کئی خواتین کا پیغام دیا جا تا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو پیغمبر بنا یا۔ اچھا اب اگر چلئے یہی تسلیم بھی کر لیا جائے کہ کوئی عورت پیغمبر نہیں ہوتی تو اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ عورت کے اندر روحانی صلاحیت موجود نہیں ہے۔  پیغام کے پہچانے کے لئے اگر انتخاب نہیں کیا جائے حالانکہ ایسا نہیں ہے لیکن اگر مان لیا جائے تو اس سے یہ بالکل ثابت نہیں ہوتا کہ بھئی مرد وںکے اندر روحانی صلاحیت زیادہ ہے عورتوں کے اندر روحانی صلاحیت نہیں ہے ۔

 اس لئے کہ حضرت مریم علیہ السلام کا جوکردار ہے اور ایک مرد پیغمبر کاجو کردار ہے ۔وہ برابر برابر ہے یہ تو پیدائش کے سلسلے میں ایک بات ہوئی دوسرا جو اس میں واقعہ ہے وہ ہے حضرت عیٰسی علیہ السلام کی موت کہے لیجئے یا اس دنیا سے انتقال کر جا نا کہے لیجئے۔ لوگوںنے یہ کہایہ عجیب واقعہ اس طرح ہوا،  بہرحال کچھ لوگ اس کی ڈیٹیل نہیں جانتے ہوں ۔ حضرت عیٰسی علیہ السلام کے زمانے میں بیت المقدس کے چاروں طرف بازا رلگتا تھا۔ جیسے میں نے ابھی مسجد میں دیکھا تھا چاروں طرف بازارتھا اب مسجد ہے تو بازار جب وہاں لگتا تھا تو اس بازار میں یہ یہودی لوگ جو ہیں انہوںنے جیولری وغیرہ کے علاوہ انہوںنے وہاں جوا ،سٹاّ،اور اس قسم کی چیزیں چلنا شروع کر دی ۔وہ اللہ تعالیٰ کے نظام کے بالکل مترادف ہیں ۔ حضرت عیٰسی علیہ السلام نے ان کو بار بار منع کیا کیوں کہ ان کو اس کا کاروباری نقصان ہوتا تھا ۔

لوگ بے شمار آتے تھے بیت المقدس کی زیارت کے لئے وہ تو فنکاری ہوتے تھے تو انہوں نے احتجاج کیا اور حضرت عیٰسی علیہ السلام کے خلاف ایک سازش تیار کی اور ان سے یہ منسوب کیا حضرت عیٰسی علیہ السلام سے کہ صاحب انہوں نے کہا ہے کہ اگرمیرا بس چلے تو میں بیت المقدس کو اٹھا کر پھنک دو گا ۔حالانکہ حضرت عیٰسی علیہ السلام نے یہ کہا تھا اگر تم لو گ باز نہ آئے تومیں تمہاری ساری دوکانیں یہاں سے اٹھا کر باہر پھنکوا دو گا ۔تو وہ دوکانوں کے بجائے انہوں نے یہ بتایا کہ صاحب حضرت عیٰسی علیہ السلام نے یہ کہاہے کہ بیت المقدس کو اٹھا کرپھینک دوگا اور اس میں عدالت میں مقدمہ چلا گیا اور مقدمے کے بعد یہودیوں نے بے شمار گوہ پیش کر دئے کہ حضرت عیٰسی علیہ السلام نے یہ کہا کہ بیت المقدس کو یہاں سے گرا دو ۔مقدمہ چلتا رہاتو جو گورنر تھا جس کے پاس مقدمہ تھا اس نے اس مقدمے کو بہت زیادہ طویل کیا وقفہ دیا کہ کسی صورت میں آپس میں سمجھوتا ہو جائے وہ ایک نیک بندے کو رہا کرنا چاہا رہا تھا۔

 اسی اثناء  میں کیوں کہ تقریب آگئی جیسے آپ لوگ عید کہتے ہیں اور نام ہوگا اس زمانے میں تو آگئی تھی تو کہا یہ تھا کہ اس زمانے میں کچھ لوگوں کو بادشاہ جو ہے وہ آزاد کرتا تھا اس میں ڈاکو ہو تے تھے یا قاتل ہو تے تھے تو گورنر نے سارے مولویوں کو بلا یا اور یہ کہا کے بھئی اس مقدمے کے پیچھے کوئی جان تو ہے ہی نہیں لیکن یہ مقدمہ طویل ہو رہاہے گواہیوں سے،  اب یہ ہے کہ میری یہ خواہش ہے کہ تمہارے دو آدمی جو ہیں جیل میں بند ہیں ایک ڈاکو ہے اور ایک قاتل ہے ۔تو ان کے بارے میں کیوں کہ ظاہر ہے ہمیں چھوڑنے ہیں عیدکے موقعے پر تو میں یہ چاہتا ہوں کہ تم لو گ جو ہیں ان دونوں میں سے ایک کا انتخاب کر لو اور ایک حضرت عیٰسی علیہ السلام کو چھوڑا لو تو انہوںنے کہا کہ صاحب ہمیں ڈاکو کو چھوڑا نا ،  حضرت عیٰسی علیہ السلام کو نہیں ۔

نتیجے میں یہ ہے کہ حضرت عیٰسی علیہ السلام وہاں سے جیل خانے نے سے کسی صورت میں نکل آئے اور ان کی بس تلاش شروع ہو گئی کہ کہاں گئے ،کہاں گئے ،ان کے حضرت عیٰسی علیہ السلام کے حوارین میں سے حضرت عیٰسی علیہ السلام کے حوارین میں سے ایک دفعہ حضرت عیٰسی علیہ السلام بیٹھے ہو ئے تھے باتیں ہورہی تھیں انہوں نے فرما یا میرے ساتھیوں میں سے گیارہ حوارین بتائے جاتے ہیںتو میرے ساتھیوں میں سے کوئی میری مخبری کریں گا اور مجھے پکڑوا دے گا ۔تو ان ساتھیوں میں سے ایک ساتھی نے کہاصاحب میں نہیںہو سکتاوہ،  باقی توخاموش رہے ،  تو حضرت عیٰسی علیہ السلام نے کہا تو تو خود اپنے منہ کہہ رہاہے ۔اس کا مختصر یہ ہے کہ حضرت عیٰسی علیہ السلام نے اس سے کہا کہ تو میری مخبری کر ے گا اور تیس روپے کے لیے تو مجھے گرفتار کروائے گا،  یہی ہوا کہ انہوں نے گورنمنٹ نے جاسوس بنایا تیس روپے کا لالچ دے کر حضرت عیٰسی علیہ السلام کی گرفتاری یعنی تیس روپے کا انعام توتیس روپے انعام لے کر اس نے حضرت عیٰسی علیہ السلام کی مخبری کر دی اس کا مختصر یہ ہے کہ حضرت عیٰسی علیہ السلام جو نشاندہی کی لیکن حضرت عیٰسی علیہ السلام نہیںتھے ان کے ہم شکل کوئی آدمی تھے اس کو وہ پکڑ کو لے گے ۔

اب دیکھئے عیسائی حضرات یہ کہتے ہیں ان کو قتل کر دیا گیا۔ ان کوسولی چڑھا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی نفی کی اور یہ بتایا کہ … وما قتلوا عيسى وما صلبوه…نہ کسی نے عیٰسی کو قاتل کیا ہے نہ کسی نے عیٰسی کو سرنڈر کیا ہے ۔اللہ نے ان کو آسمانوںکی طرف اٹھا لیا اب اس میں عیسائی مذہب تو یہ کہتا ہے کہ صاحب وہ ایسے ہی زندہ اٹھا لیا۔ حضرت عیٰسی علیہ السلام کو زندہ اٹھا لیا لیکن روحانی لوگ وہ یہ کہتے ہیںاٹھا لیا کا مطلب ہے کہ انہیں موت آگئی وہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو پسند کر لیا ہے اور وہ ان کو ایسی ہی موت اللہ تعالیٰ دی جوطبعی رخ ہے  

میزبان  :  حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام ساری کائنات کے لئے باعث رحمت ہیں ۔ برائے کرم ا س کی تشریح بیان کریں کیوں کہ کچھ لوگ کہتے ہے نبوت کا سلسلہ حضور ﷺ کی وصال کے بعد ختم ہو گیا ۔

خواجہ صاحب  :  نہیںیہ توایسی بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے بارے میں فرمایاہے الحمد اللہ رب العالمین کہ اللہ جو ہے تمام عالمین کارب ہے ۔اب آپ یہ کہے کہ صاحب جب عالمین بن گیا تو رب کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو ضرورت ہی ختم ہوگئی ۔رحمت اللہ وماارسلناکارحمت… العالمین…حضور ﷺ کو  عالمین کا رحمت بنا کر بھیجا اس کا مطلب یہ ہواکہ جب تک عالمین ہے،  رحمت ہے،  جب تک عالمین موجود ہے الحمد اللہ رب العالمین …جب تک عالمین موجود ہے تو رب العالمین بھی موجود ہے۔ اسی صورت سے جب تک عالمین موجود ہے رحمت بھی مو جود ہے اور بغیر رحمت کے عالمین کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور بغیر ربوبیت کے بھی عالمین کا تصور نہیں کیا جا سکتا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںالرحمان الرحیم ، اگرالرحمان الرحیم بھی ا س بات سے مشہورہے کہ عالمین موجود ہے ۔تو جب تک عالمین ہی مو جود نہ ہو تو کیسا الرحمان کیسا الرحیم کیسا تو یہ وما ارسلنا…رحمت العالمین کا مطلب یہ ہواکہ اللہ تعالیٰ نے یہ جو عالمین بنا دئیے ہیں یہ جو کائنات بنا دی جب تک یہ کائنات ہے۔

 اس وقت تک رسو ل اللہ ﷺ رحمت العالمین ہیں ۔اور جب تک رسو ل اللہ ﷺ رحمت العالمین ہیں اسی وقت تک کائنات موجود ہے ۔یہ دونوں طرح ہم اس بات کو کہے سکتے ہیں جب تک عالمین موجود ہے رحمت کاہو نابھی ضروری ہے اور جب رحمت ہی ختم ہو جائے گی تو یہ کائنات بھی ختم ہوجائے گی ۔تو یہ مشہور ہے رسو ل اللہ ﷺجو ہے رحمت العالمین ہیںبا لکل اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ جو ہے رب العالمین ہیں ۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ  ﷺ رب ہو گئے۔ یا اللہ ہوگئے۔ یا خدا ہو گئے ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام بنا یا ہے کہ ایک طرف ربوبیت ہے ۔اور دوسری طرف رحمانیت ہے رحم و کرم ہے ۔تو رب مشہور ہے اس بات کاکہ رب رحم و کرم والا ہو،معاف کرنے والا ہوتو اللہ تعالیٰ نے ربوبیت کی صفت اپنے لئے مقصود کر لی ہے ۔لیکن رحمت کی صفت رسول اللہ ﷺ پر منتقل کردی ہے۔ اب یہ کائنات میں ربوبیت کا وصف جاری وساری ہے وہ اللہ کی ذات سے متعلق ہے اور جتنا یہاں رحم سے متعلق وصف جاری و ساری ہے کائنات میںوہ رسول اللہ ﷺ سے متعلق ہے ۔

اسی لئے اللہ تعالیٰ نے خود فرما دیا وماارسلنا … ہم نے اپنے محبوب  ﷺکو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔

 میزبان  :  حضرت جعفر کی شہادت کے چھ ماہ کے بعدحضرت جعفر کے بیٹے نے اپنے باپ کی قبر کھودی تو اس قبر کو جب دوسری قبر میں منتقل کیا تو دیکھا کہ کسی چیز میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی سوائے داڑی کے چند بال جو ہے وہ گر گئے ۔خواجہ صاحب آپ نے کئی بار یہ فر مایا ہے کہ انسان مرنے کے تین دن کے بعد سڑنے لگتا ہے اور ایک وقت ایسا تا ہے اس کا جسم ختم ہو جا تا ہے ۔خواجہ صاحب ایسا ہوتا ہے یہ مندرجہ ذیل واقعہ ثابت ہے ان کے ساتھ ایسا کیو ں نہیں ہو ا؟

خواجہ صاحب  :  حضور پاک  ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ اللہ کے بندے ایسے ہو تے ہیں کہ اللہ ان کے ہاتھ بن جاتاہے ۔اللہ ان کے کان بن جا تا ہے ۔جو کچھ وہ کہتے ہیں اللہ انہیں پورا کر دیتا ہے ۔یہ ٹھیک ہے اب دیکھئے جو بندہ اللہ کا ہاتھ بن گیا وہ کیسے سڑسکتاہے ۔جو بندہ اللہ ہاتھ نہیں بنا وہ سڑ جائے گا ۔تو سڑان کا تعلق مخلوق سے ہے ۔ خالق سے نہیں ہے۔ پھر عہد رسالت میں جو شہداء ہوئے شہداء کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر دیا ہے کہ شہداء جو ہیں زندہ رہتے ہیں اور اس سے بڑی بات انہوںنے تو یہاں تک لکھا ہے کہ شہداء جو ہیں وہ اپنی قبروں میںسے باہر آتے ہیں اور حجامت بھی بنواتے ہیں ناخن بھی تراشتے ہیں پھر واپس چلے جاتے ہیں ۔حضور قلندر بابااولیاء ؒ نے مجھے واقعہ سنا ان کے دادا جو تھے وہ کہیں نئی لین ڈال رہے تھے۔ جیسے زمین کھودی گئی تو کچھ آواز آئی تو وہ لوگ سمجھے کہ اندر کوئی خزانہ وزانہ ہیں جو مٹکے وٹکے کی آواز آرہی ہے۔

 تو وہ بہت احتیاط سے زمین کھود وائی گئی تو پتا چلا یہ تو ایک قبر ہے ۔تو اس زمانے میں تو تختہ سلیٹ رکھتے ہیں پہلے تو زمانے میںلکڑی اور تختے رکھتے تھے۔ اس سے پہلے مٹکے رکھتے تھے ۔اب بھی بہت ساری جگہ پنجاب میں رکھے جاتے ہونگے ۔قبر کھود کر الٹے مٹکے رکھے اس پر ڈال کر مٹی پھر اس کو بند کر تے تھے تو وہ مٹکے بہت احتیاط سے نکالے گئے حضور قلندر بابااولیا ء ؒفرماتے ہیںکہ وہ میرے دادا نے جو اوپر طرف سے پیر کی طرف سے مٹکے اٹھائے سر کی طرف سے آخری مٹکہ اٹھایا تووہاں ایک  لاش ملی کفن پہنے ہو ئے ۔کفن ابھی خراب نہیں ہوتا تھا تو ایک دم انہوں نے ایسے اٹھا یااپنا کفن اٹھ کر بیٹھ گئے اور یہ کہا کیا حشر اور نشر ہو گیا تو انہوںنے حضور قلندر بابااولیاء  کے دادا نے کہا نہیں ا بھی حشر نشر نہیں ہواہم ذرا صفائی کر رہے ہیں آپ کی قبر کی، آپ سو جائے وہ پھرسو گئے اور سونے کے بعدمٹکے لگا کر قبر بند کر دی گئی اور وہ لوگ جو آتے ہیں ۔

تو یہ تو بہت لوگوں میں عام ہو گئی بات ابھی تک وہ مزار ہے ۔مزار کا نام بھول گیا نام بھولنے میں بہت تیز ہوں ۔اچھا یہ تو بات ہوگئی ایک مولانا اشرف کا ایک واقعہ ہے کہ وہ اسٹشن سے آئے توبیچ میں ایک قبرستان پڑتا تھا تووہاں حافظ دانی شہید کا ایک مزار تھا ۔ بہرحال انہوںنے کہا یہ حافظ صاحب کے مزار پر فاتحہ پڑھ لیں تو وہاں یہ پڑھنے گے، فاتحہ پڑھ رہے تھے ایک دم گھبرا کر ہاتھ چھوڑ کر جانے لگے۔ تو لوگوںنے کہا حضرت جی کیا ہوا تھوڑے سے گھبرائے جانے لگے جی حافظ صاحب نے مجھے ڈانٹ دیااور یہ کہا ہے کہ مردے پر فاتحہ پڑھ رہا ہے ، بڑا آیا فاتحہ پڑھنے والاہے ۔تو یہ حافظ دانی شہیدبہت مشہور ہوگئے تھے اور مقصد یہ ہے کہ سڑان کا تعلق بھئی ہم جیسے لوگوں کا ہے ہم لوگ سڑ جائیں گے۔اللہ والے نہیں سڑتے یہ جو سڑان ہے آدمی سڑ جا تا ہے لیکن شہداء نہیں سڑتے قرآن سے شہداء کا تعلق ہے ظاہر ہے وہ شہد ہو گئے اور دوسری بات یہ ہے کہ جو واقعتااللہ والے ہو جاتے ہیں اور جن کے اللہ تعالیٰ ہاتھ ناک کان بن جاتے ہیں ۔

ان کے جسم جو ہیں وہ خراب نہیں ہو تے وہ سارا کا سارا اس میں واقع ہے تمام دنیا نے دیکھا ٹی وی میں دیکھا ۔اتنا ہی ہے ۔اختتام

  مرید کس طرح پیرو مرشد کی ذات میں فنا ہو سکتا ہے ؟

سوال ۔یہ ایک سوال ہمارے شاہد صاحب نے دیا ہے کہ روحانی ڈائجسٹ میں آپ کے مسائل میں ایک آپ نے فرمایا ہے کہ روحانی علوم کے اقتباس کے لئے ضروری ہے کہ مرید اپنے ایک مراد تلاش کرے اور مراد  تلاش اس طرح کر ے کہ وہ ہاتھ مرید کے رشے رشے میں جذب ہو جائیں اس کے بغیر روحانی علوم شروع نہیں ہو گا اور اگر پردے کا حال ہو بھی جا تا ہے توعارضی ہوتا ہے اور پردے کا نشا ن نہیں ہو تابجائے یہ فرمائے کہ عملی طور پریہ بتائیں کیا کیا ہوتا ہے ؟

جواب۔ یہ ہی بات میرے ذہن میں زیر بحث آتی ہے ان علوم کو سیکھانے والابندہ جو ہے وہ اچھا استاد ہو اوراس علوم کوجو سیکھنے والاہو وہ اس سے با مرشد ہو نا چاہے،  ً میں یہ بھی کہنا چاہتا ہوںکہ مجھے ایسا استاد تلاش کرنا ہو گا جو مجھے سیکھائے کوئی آدمی انگریزی نہیں جا نتا مجھے کیسے انگریزی پڑھائے گا کوئی آدمی اردو جانتا ہے تو ضروری ہے جو استاد ہواس کو اردو آتی ہوبہرحال بات یہ ہوئی جو استاد ہے اس کے بارے میں یہ معلومات حاصل ہو نی چاہئے اوریہ یقین ہو نا چاہئے کہ جو علم ہم سیکھ رہے ہیں وہ ہی علم سیکھ رہے ہیں جو اس آدمی کو آتاہے ۔  پہلی بات تو یہ بن گئی دوسری بات ضروری ہے کہ پہلے شاگرد کو اس استاد سے تعا ون کر نا ہو گا مثلا ً آپ کارپینٹر کا کام سیکھنا چاہتے ہیںاس میں آری ہوتی ہے آری سے تو جان بھی جا سکتی ہے۔

 استاد کہتے ہیں کہ جب اس آری کولکڑی پر چلا یا گیا تو آپ دیکھئے یہ آری کو آڑھی کر کے لکڑی کے ساتھ چلا یا گیا تو نتیجہ یہ ہو گا کہ وہ لکڑی نہیںکٹے گی اگر آپ نے زبر دستی کوئی طریقہ ایسا اختیار کر لیا تو و ہ آری مجبوراً لکڑی کاٹ گئی اس لکڑی کو کاٹنا نہیں کہے گے اس سے یہ پتا چلا کہ کوئی بھی علم سیکھنا ہو اس کی پہلی بنیادی شرط اس بات میں ہے جس میں آدمی اپنی عقل استعمال نہ کرے جیسے استاد کہتے چلے جائیںآپ کرتے چلے جائیں ۔اب ایک آدمی کو حساب کتاب نہیں آتا استاد کہتے ہیں ایک دو تین چار۔  اب شادگرد طالب ہے تو خوش ہو جا تا ہے تو اسے ایک دو تین چار میں عقل استعمال نہیںکرنی پڑھتی اگر اس نے ایک دو تین چار میں عقل استعمال کر لی اگر اس نے کہا صاحب ایک دو کیوں نہیں تین چار کیوں ہیںتو وہ نہیں سیکھ سکے گا۔  اب حساب سیکھنے کے لئے گنتی کی لازم ہے کہ آدمی چار سال کا ہو ،پچاس سال کا ہو ،بیس سال کا ہو ،  بے عقل ہو جائے کہ صاحب روحانیت کے لئے ایک مراد کی اور ایک مرید کی ضرورت ہے ۔

مرید سے مراد شاگر،مراد سے مراد استاد ٹیچر۔  تو جب کوئی آدمی دنیا وی علوم کو سیکھانا چاہتا ہے تو اس کے بارے میں معلومات حاصل کرتا ہے۔ کوئی آدمی روحانیت سیکھنا چاہتا ہے او ر روحانیت کے بارے میںکچھ معلومات حاصل ہوں۔مثلا ً ایک روحانیت ہوتی ہے جس طرح انسان کی دو آنکھیں سامنے رکھی ہوئی ہیں اس طرح اندر بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں ۔ جس طرح یہ آنکھ مادی دنیا میں دیکھتی ہے تو اندر کی جو آنکھیں ہیں و ہ اندر کی دنیا میں دیکھتی ہے ۔تو یہ کس طرح ہے کسی کے تجربے میں نہیں ہے یہ بات،  میرے تجربے میں یہ بات ہے روحانی علوم کا قاعدہ کیا ہے ۔اور روحانی علوم کی بھی الف ب ت ہوتی ہے ۔تو جب وہ اس قاعدے کی بنیاد پر کسی سلسلے میں داخل ہو گا اور وہ استاد اسے اس سلسلے میںداخل کر لے گا ۔تو اس کو روحانی اصلاح سے مرید کہا جا تا ہے ۔اور استاد کومراد کہا جا تا ہے ۔تو جس طرح الف ب سیکھنے کے لئے استاد کی تعلیم بغیر عقل استعمال کئے ہو ئے ضروری ہے تو اسی طرح روحانی علوم سیکھنے کے لئے بھی ضروری ہے۔

  دنیاوی علوم میں phd کی ڈگری کی بہت بڑی بات ہے مگر روحانی علوم سیکھنے کے لیے اس کی کوئی حثیت نہیں ہے اس لئے کہ phd آدمی جو ہے روحانی علوم میں اس کی قدر ، حیثیت نرسری جیسے بچے کی ہے ۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک بزرگ ہیں ساٹھ سال کی عمر ہے زمیندار ہیں کسان ہیں ۔تو انہوں نے پڑھا ہی نہیں نہ انہوں نے اردو پڑھی نہ انہوں نے قاعدہ پڑھا نہ انہوں نے قرآن پڑھا ،  ایسے لوگ بھی ہیں ۔اب ان کے سامنے آپ ایٹم کی تھوری بیان کرنا شروع کر دیں یا ایسے نظام کی تعریف بیان کر یں کہ صاحب ایسا نظام ہوتا ہے۔یہاں سے آواز آتی ہے وہاں جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا وہ بزرگ جو ہیں وہ بے وقوف ہوئے یاآپ بے وقوف ہیں کہ آپ نے اس بزرگ کی صلاحیت کا اندازہ کئے بغیر اپنا وقت بھی ضائع کر دیا اس کاوقت بھی ضائع کر دیا تو مرید کے لئے اتنا ضروری ہے یہ مرادکا کہاماننااورخود کو مرادعلم کے کسی بھی درجے پر ہو،  پھر یہ روحانیت جو ہے الف ب ت سیکھنے کے لئے اس میں داخل ہو جا نا تو ایک تو یہ بات دنیاداری کی بات ہو گئی اور پھر آپ نے سنا کہ جب تک کہ الف کو الف نہ کہے کر بغیر عقل استعمال کئے ہوئے روحانیت نہیں سیکھ سکتا ۔

دوسری بات یہ ہے یہ روحانیت جو ہے یہ کوئی کتابی علم نہیں ۔ کتابو ں میں روحانی لوگوں کا تذکرہ ہے مگر روحانی علوم کا تذکرہ نہیں ہے ۔ ابھی تک روحانیت کا کوئی رخ سامنے نہیں آیا ہے ۔پہلی جماعت پہلی کتاب پہلی کے بعد دوسری جماعت دوسری کتاب دوسری جماعت کے بعد ایم اے  یہ کورس جو ہے ابھی تک دنیا میں نہیں ہے جو لوگوںنے بنا یا ہو۔ا ب کیوںنہیں بنا یا یہ الگ بات ہے ایسا کورس ہے نہیں۔کتابی صورت میں ایسا کوئی کورس نہیں ہے ،  ہمارے لئے۔ روحانی علوم منتقل ہوتے ہیں زبانی طور پر منتقل ہو تے ہیں یا ذہنی طور پر منتقل ہو تے ہیں ۔ایک آدمی نے ابھی جنت نہیں دیکھی لیکن ہو سکتا ہے کہ وہ اس کو اللہ جنت میں، دوزخ میںبیٹھا دے تو استاد کے مشاہدہ کرنے سے یہ استاد کا علم بن گیا ۔اب وہ جنت میں بیٹھا یا جائے یا ردوزخ میں بیٹھایا جا ئے استاد کا اپناایک علم بن گیا اور روحانیت کی طرز میں یہ بات آگئی کہ جنت کو کیسے دیکھا جا تا ہے اور جنت کیا ہے ۔

تو جب مرید کا مراد جنت دیکھانا چاہے گا تو اس کے لئے ضروری ہو گا کہ وہ صلاحیت جو استاد کے اندر موجود ہے یعنی جس صلاحیت سے استاد نے یا مراد نے جنت کو دیکھا ہے وہ صلاحیت جب تک مرید کے اندرمنتقل نہیں ہو گی جب تک جنت نہیں دیکھ سکتا،  اس بات کو آسان لفظوں میں کہہ  ایک دنیا ہے آپ دیکھ رہے ہیں اس کا رنگ سفید ہے دھوپ کا رنگ اب آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں سب لوگ نظر آئیں لیکن دنیا ایک ہی نظر آئے اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ آنکھیں بند کرکے سرخ گلاس لگا لیجئے تو آپ کولال نظر آئے گی یہ الگ بات ہے کہ وہ لال ہے ہی نہیں لیکن اب مسئلہ یہ ہے کہ وہ سرخ رنگ کا گلاس کہاں سے آیا یا نیلا رنگ کا چشمہ کہاں سے آگیا آنکھوں میں یہ سرخ رنگ کا گلاس یا نیلے رنگ کا چشمہ جو ہے دراصل یہ ایک صلاحیت ہے ۔ایک تجربہ ہے ۔اس تجربے کی بنیاد پر اس کو پیلا بنا دیا گیا اس کو سرخ بنا لیا گیا تو اگر استاد واقف ہے اس بات سے اگر آنکھوں پر نیلے رنگ کا گلاس بنا لیا جائے تو ہر چیز نیلی نظر آئے گی تو اسکا تجربہ جو ہے وہ ا س سے واقف ہے حالانکہ آپ نے کبھی نیلے رنگ کا چشمہ دیکھا ہی نہیں ہے ۔

نہ آپ اس سے واقف ہیں۔  جیسے ہی استاد اپنی آنکھوں میں سے نکال کر آپ کی آنکھوں پر چشمہ لگا ئے گا تو دنیا نیلی نظر آئے گی ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ استاد نے جس صلاحیت سے جس چشمے سے یہ گلاس میں دنیا کو رنگین دیکھا یہ چشمہ صلاحیت آپ کومنتقل کر دی یعنی آپ کو چشمہ دے دیا اور کھول کر آپ بیان کر یں کہ ہماری جو دیکھنے کی صلاحیت ہے اس کو ہم جب دیکھتے ہیں وہ ہماری نظر میں ٹھیک کا م کرتی ہے۔اور ایک وقت تک کام کرتی ہے ۔لیکن جب ہم چشمہ لگا تے ہیں تو ہمیں بہت دور دیکھتے ہیںاور جب ہم دوبین لگا لیتے ہیں تو وہ نظراور زیادہ دور دیکھتے ہیں اور جب ہم ٹیلی اسکوپ پر دیکھتے ہیں تو ہمیں سیارے اور ستارے نظر آتے ہیں اور پورے کہکشانی نظام ہمارے آنکھوں کے سامنے نظر آتا ہے ۔تو ا س کا مطلب یہ ہوا اگر کوئی ایسی چیزدور دیکھنے کی صلاحیت کو بیدار اور متحرک کر دیتی ہے ۔وہ آپ کو حاصل ہو جائے اگر آپ دوبین رکھ لیں مائیکرو اسکوپ رکھ لیں تو آپ بھی اس دور کی چیزوں کا مشاہدہ کر سکتے ہیں ۔

لیکن جب تک کوئی صاحب دوربین آپ کی آنکھوں کو نہیں لگا ئے گا آپ سیارے کو ستارے کو نہیں دیکھ سکتے تو روحانیت کااصول اور دنیاوی علوم کا الگ الگ نہیں ہے بس فرق اتنا ہے کہ دنیا وی علوم جو ہے وہ محنت سے، اقتباس سے ، قاعدے سے ،کتابوںسے ،تختے سے ،قلم و  دماغ سے حاصل ہو جا تے ہیں ۔اور روحانی علوم کے باعدہ کورس ابھی تک نہیں بنا وہ صلاحیتیںجو پیرومرشد کی ہیں وہ زبانی طور پر یا ذہنی طور پر منتقل ہو جاتی ہیں ۔تو جب تک کوئی آدمی خود کو اس کا اہل ثابت نہ کر دے کہ مرشد کی یا مراد کی صلاحیتیں اس کے اندر منتقل ہو جائیں تو اس وقت تک وہ مرشد کے علم کو استعمال نہیں کر سکتا تو ا س کی مثال یوں سمجھیں آپ کہ آپ کے پاس ایک اچار کا مرتبان ہے اور اس میں دودھ ڈالنا چاہتے ہیں تو آپ پہلے تو آپ اس میں اچار ضائع کریں یا کسی برتن میں رکھیں الگ بات ہے اس کے بعد اس کو مانجھے۔

  پیالے کو اور اس کے بعد اس کو کلر کر ائیں اب جب دودھ ڈالیں گے تو دودھ کی حیثیت برقرار رہے گی ۔لیکن اگر تیل والے پیالے میں آپ نے دھو یا نہیں دودھ ڈال دیا تو دودھ کی جو حیثیت ہے وہ ناقص ہوجائے گیْ  توجب تک کوئی مرید اپنے اندر سے ماحول کی کثافت کو ،  جھوٹ کو ،  شک کو ،  وسوسے کو ،  بے یقینی کو ،  دل سے دور نکال کر اپنے برتن میں مانجے گا نہیں،  مراد کی صلاحیت منتقل نہیں ہو گی۔تو مرید کا اپنے آپ کو مانجھنا، مرید کا اپنے آپ کاثقل کرنا، اس کو روحانی اصلاح میں فنا کہتے ہیں۔   یعنی مرید نے پرومرشد کی روحانی صلاحیتوں کو اپنے اندر منتقل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مانجھ کر صاف ستھرا کر کے، ثقل کر کے پیش کیا ۔توثقل کرنے میںجو میل کچیل اتر ا ختم ہو ئے ان اثرات کا ختم ہو نا جو ہے اس کو صلاحیت کا درجہ کہا جا تا ہے کہ مرید نے مراد کی صلاحیتوں اور اصول کے لئے ان تمام چیزوں کی نفی کر دی جن چیزو ں سے پیرو مرشد کی صلاحتیں منتقل ہو نے میں بکھرتی زیادہ ہے۔

اتنا ہی پیرومرشد کی صلاحیت منتقل ہوتی ہے۔  اختتام 

Topics