Topics
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
ورکشاپ
کے تمام شرائکاء میںتمام طلبہ طالبات اساتذہ اور اس ورکشاپ کو منظم کرنے والے لوگ
بلا شبہ قابل ستائش ہے اور بلا شبہ ان لوگوںکے اوپر اللہ تعالیٰ کا کرم اور انعام
ہے کہ ان سب لوگوںنے ورکشاپ کی تبلیغ میں اور ورکشاپ قائم کرنے میںاللہ تعالیٰ کی
دی ہوئی صلاحیتیوں کو استعمال کیا۔اللہ تعالیٰ ہم سب کی کو ششوں کو قبول فر مائے
اور ہمیں اس علم کی دولت سے مالا مال فرمائے۔ جس علم کے بارے میں حضرت ابو ہریرہ
نے فرمایا: کہ حضور الصلوٰۃ والسلام سے علم کے دو لفظ ہیں۔علم ایک کا لفظ میں نے
ظاہر کر دیا اور دوسرا لفظ میں نے چھپا لیا یا اپنے پاس محفوظ رکھا۔ لوگوں نے سوال
کیا کہ علم کوئی چھپا نے کی چیز نہیں ہے آپ نے دوسرا لفظ جس کو اپنے پاس محفوظ
رکھا۔ اس کوبھی ظاہر کر دینا چاہئے حضرت ابو ہریرہ نے فر مایا یہ لفظ میں ظاہر
کردوں تو مجھے اس بات پر کوئی شک نہیں ہے کہ تم لو گ مجھے قاتل کر دو گے۔
اس
طرح حضرت ابن عباس نے بھی قرآن پاک کی ایک آیت کا ترجمہ کر کے فر مایا :کہ صاحب
جو دو علوم چھپے ہو ئے ہیں۔ایک وہ ہے جس کا ترجمہ میں نے بیان کیا، تشریح میں نے
بیان کی۔ لیکن اگر میں اس آیت کے پیچھے جو باطنی حکمت ہے۔اس کو ظاہر کردوں تو تم
لوگ یقینا مجھے قتل کر دو گے اور جہاں تک دنیاوی علوم کا تعلق ہے۔یہ دراصل نظریات
کے اوپر قائم ہو تے ہیں۔ افلا طون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ قدرت جب تخلیق کرتی ہے
انسانوں کے سلسلے میں اس میں تخلیق کے دورُخ ہو تے ہیں۔ تخلیق کا ایک رخ یہ ہے کہ
قدرت ایسے انسان پیدا کرتی ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ ایسے دماغ اور ایسی صلاحیت
عطاکرتے ہیں کہ وہ لوگوں پر حکمرانی کے فرا ئض انجام دیتے ہیں اور اس تخلیق میں
دوسرا گروہوں حکمرانی کو قبول کرتا ہے اور ساری زندگی غلامی کی زندگی بسرکر کے مر
جاتا ہے۔ افلا طون کا نظریہ یہ تھاکہ آقا اور غلام قدرت پیدا کرتی ہے۔
افلاطون کے بعد سقراط پیدا ہو ا،دانش ور حکیم یا
سائنسدان اس نے افلاطون کے نظریے کی ترید کی اس نے کہا نہیں ایسا نہیں ہے۔قدرت سب
کو ایک طرح پیدا کرتی ہے۔بادشاہ ہو،فقیرہو،،امیر ہو،دانش ور، ظالم ہو،جاگیر ہو،رحم
دل ہو کوئی بھی پیشہ اختیار کرتا ہو۔ تو جب وہ پید اہوتا ہے۔نہ وہ بڑا ہوتا ہے،نہ
وہ غلا م ہوتا ہے،نہ وہ آقا ہوتا ہے تو قدرت یکساں طور پر سب کو پیدا کرتی ہے۔
یعنی قدرت اپنی صفات میں تخلیق یکساں منتقل کرتی ہے۔یعنی تخلیق میں قدرت نے مساوات
پیدا کئے۔لوگ اپنے مشاغل سے چالاکیوں سے کچھ علوم حاصل کرنے کے بعد اس علوم کوڈھال
بنا کر خود آقا بن جا تے ہیںاور دوسرے لو گوںکو غلام بنا لیتے ہیں۔یہ دراصل
افلاطون کے نظرئیے پر ایک بہت بڑی ضرب تھی۔ ایک ضرب ہے وہ جو حکمران تھا۔ یعنی
بادشاہ لوگ، یاحکمران لوگ یا جاگیردار لوگ بوکھلا گئے اور انہوں نے اس نظرئیے کی
مخالفت میںجو بھی ان سے ہو سکا وہ کیا اور نتیجے میںتعریف بتا دی۔
آپ لوگ اس بات کو جانتے ہیں کہ سقراط کو اپنے
اس نظرئیے پر قائم رہنے کی سزاکے طور پر زہر کا پیالہ پینا پڑا۔لیکن سقراط کی موت
کے بعد افلا طون کے نظرئیے پر اتنی بڑی ضرب پڑ گئی کہ سقراط کے بعد سے اب تک جتنے
بھی بڑے بڑے حکیم پیدا ہو ئے۔ ان میں یہ چیز دور کرتی رہی اور سقراط کے نظرئیے کو
کوئی آدمی آج تک رد نہیں کر سکا ۔یہ تو ہوا سقراط کے نظرئیے کو کچھ لوگ نے قبول
کیا۔کچھ لوگوں نے قبول نہیںکیا۔ لیکن بہرحال یہ ایک نظریہ زمین پر قائم ہے۔صدیوں
سے کہ انسان کو قدرت یکساں طور پر پیدا کرتی ہے۔بادشاہ ہو، امیر ہو، غریب ہو ْبچپن
ایک طرح گزرتا ہے، لڑکپن ایک طرح گزرتا ہے۔البتہ ماحول کے زیر اثر انسانی صلا
حیتیں یا تو روشن منورہو جاتی ہیں یا دھندلی ہو جاتیںہیں۔ یہ نظریاتی جنگ کب سے
شروع ہوئی تاریخ اس بارے میں خاموش ہے۔لیکن اس نظرئیے کی تائید اور تبلیغ کے لئے
اگر ہم الہامی کتابوں کا مطالعہ کر یں تو ہمیں یہ بات نظر آتی ہے یہ بات تاریخ
میں ملتی ہے تمام آسمانی کتابیں اعلی اعلان اس بات کو ظاپر کرتی ہیں کہ زمین کسی
مخصوص گروہ کی ملکیت نہیں ہے۔
زمین کے اوپر پھیلے ہو ئے وسائل کسی مخصوص
گروہوںکی ملکیت نہیں ہے۔ لوگ چالا کی سے، ہو شیاری سے،شیطنت سے،کبرو غرور
سے،گستاخی بر تری کے وجہ سے کچھ ایسے پروگرام بنالیتے ہیں، جن پروگرام کی وجہ سے
دو گروہوں آمنے سامنے آجا تے ہیں۔ ایک گروہوں وسائل پر قابض ہو کر اپنے اردگر د
طاقت جمع کر لیتا ہے۔ اور دوسرا گروہوںاس طاقت کا مقابلہ نہ کر تے ہوئے غلا می کی
زندگی بسر کرتا ہے۔ جتنے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لا ئے۔ان سب کی یہی
تعلیم رہی کہ یہاں کوئی بڑا نہیں ہے۔ کوئی چھوٹا نہیں ہے۔یہ جو قبیلے ہیں،یہ جو
قومیں ہے یہ صرف تعارف کے لئے بنا گئے ہیں وہ قرآن حکیم میں ہے ’’یہ قبیلے جو ہیں
تعارف ذریعہ ہیں۔ بلاشبہ اللہ کے نزدیک وہی لوگ افضل ہیں۔جو اللہ کو جا نتے ہیں‘‘۔
اللہ کے قانون پر عمل درامد کر تے ہیں اور یہ وہ انبیاء ہے۔ انبیا کی ان ہی
تعلیمات کی بنیاد پرہم نے علم کا ایک نظریہ ترتیب دیا ہے، جس کو ہم نظریہ رنگ ونور
کہتے ہیں۔
آج
کی ورکشاپ میں آپ لوگ نظریہ رنگ و نور پر غوروفکر کریں گے۔نظریہ رنگ ونور کا مطلب
یہ ہے۔ انبیاء اکرام علیہ والسلام کی وہ طرزفکر جس طرز فکر میں آسمانی کتابوں کی
نشاندہی کرنے والے علوم انبیاء نے پیش کئے اور رنگ و نور میںیہ بات واضع طور پر
بتائی گئی کہ انسان کو جو مقصد حیات ہے وہ محض وسائل کا اکھٹا کر نا یا وسائل کا
استعمال کر نا مقصد نہیں ہے بلکہ انسان کی پیدائش کا مقصد یہ ہے جس نے انسان کو
پیدا کیا۔جس ہستی نے اورجس ہستی نے وسائل بنا ئے اور وسائل کو قابل کیا۔اس ہستی کا
تعارف دراصل انسان کی زندگی کا مقصد ہے۔یہی نظریہ رنگ و نور ہے۔مجھے یقین ہے کہ
اللہ تعالیٰ ہمارے ذہنوں کو کھولے گا۔ہمارے خلوص کو قبول فر مائے گا۔ہمارے ذہن میں
جو شعور کی حد بندی ہے۔ محدودیت ہے اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں نجات دے گااور ہم
پیغمبران طرزفکر یعنی نظریہ رنگ نور کوسمجھیں گے اور نظریہ رنگ و نور کو سمجھ کر
پوری نوع انسانی میں اس کو پھیلا نے کے لئے جدو جہد اور کوشش کر یں گے۔
اللہ
تعالیٰ ہمارا حامی اور مدد گار ہو
تلا
وت سورہ حشر کا آخری رکوع …
سورہ
حشر کے اس آخری رکوع میں میں نے آپ کے سامنے ابھی تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ نے
غوروفکر کی دعوت دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ ہم لو گوں کومثالیں
دے کر سمجھا تے ہیں اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے نے بھی فر مایاہے کہ اگر ہم قرآن
کو پہا ڑوں پر نازل کر دیتے تو پہاڑ ریزہ،ریزہ ہو جاتے۔اور یہ مثالیں ان
لوگوںکیلئے ہیں جو غورو فکر سے کام لیتے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات
اسماء کا تذکرہ کیا اور یہ بھی فرمایا ہے کہ صفات کا، اسماء کا فائدہ یہ بھی ان
لوگوںکو فائدہ پہنچتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو تے ہیں اور اللہ تعالیٰ
کا شکر ادا کر تے ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن کے بارے میں یہ ارشاد کہ قرآن
شریف اگرپہاڑوں پر نازل کر تے تو پہاڑ رذہ رذہ ہو جاتے۔ قرآن پاک کے اندرکی جو
حکمت، قرآن کی طاقت اور قرآن کے اندر جوانوارو تجلیات کا جلال ہے، اس کا تذکرہ
اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے۔
ایک
آدمی بڑی آسانی کے ساتھ دس بیس قرآن اپنے سر پر رکھ سکتا ہے وہ میل دو میل پیدل
بھی چل سکتا ہے۔ قرآن پاک کا اس طرح سر پر رکھنا اور قرآن پاک کے اندراتنا تفکر
نہیں کرتا کہ قرآن کو پہاڑوں پر نازل کر دیا جائے کہ پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں گے
قرآن پاک کی جو حکمت اللہ نے بیان کی ہیں وہ ایک طاقت ہے۔ایک بہت بڑی طاقت ایسی
طاقت کے شعور اس کو کسی بھی طرح برداشت نہیں کر سکتا۔ شعوری اعتبار سے پہاڑ اللہ
تعالیٰ کی ایسی صنعت ہے۔ ایسی تخلیق ہے کہ جس کے بارے میں شعور یہ جانتا ہے کہ
پہاڑ بہت مضبوط چیز ہیں۔پہاڑ چٹان ہے۔ اس میں اگرگن بھی چلا ئی جائے تو اس کے اندر
نہ دڑار پڑھتی ہے۔نہ وہ ٹوٹتا ہے بلکہ یہی ہو سکتا ہے اس گن کی وجہ سے آدمی خود
زخمی ہو جاتا ہے۔ یہ ایک شعور ی بات ہے جو ہر انسان جانتا ہے جو پہاڑ جو ہیں بہت
سخت جان ہو تے ہیں۔ بڑی سے بڑی طاقت کو برداشت کر لیتا ہے۔
وہ شعور ی اس کے اندر جو مزاحمت ہے۔ شعوری اس کے
اندر جو سکت ہے۔اس کا تذکرہ پہاڑ کے نام سے کیا جا تا ہے۔ اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں
:اگر ہم قرآن کو پہاڑ پر نازل کر دیتے تو پہاڑریزہ ریزہ ہوجاتا۔ اب قرآن پاک
انسان پر نازل ہو ا۔انسانوں کے لئے نازل ہوا۔ اس کا مفہوم یہ نکلا کہ انسانوں کی
جس ایجنسی پر جس انسان کے ذہن اور دماغ کے جس حصے پرقرآن نازل ہوا وہ پہاڑو ں سے
اور چٹانوں سے زیادہ مضبوط ہے۔اگر انسان پہاڑوں سے اور چٹانوں سے زیادہ مضبوط نہ
ہوتا تو قرآن کے انوار کی ضربات سے یہ بھی ریزہ ریزہ ہو جاتا اور ایک طرف تو اللہ
تعالیٰ کے ارشاد میں ہمارے لئے نشاندہی ہے کہ انسان سکت کے اعتبار سے، برداشت کے
اعتبار سے انسان پہاڑوں سے بہت زیادہ مضبوط ہے۔دوسری طرف ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہم
قرآن پاک کودو چا دس بیس رکھنے کے با وجود ہمارے اوپر اتنا بوجھ نہیں پڑھتاکہ
جتنا ایک بوری وزن اٹھانے سے آدمی بوجھ محسوس کرتا ہے اور اس کی ٹانگیں کپکپانے
لگتیں ہیں۔
تو
اس کا یہ مفہوم نکلا کہ ہم جس طرح قرآن کو پڑھتے ہیں۔ہم جس طرح قرآن کو شعوری
طور پر دیکھتے ہیں۔وہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق قرآن کی حکمت قرآن کی
تعلیمات اور قرآن کے انوار سے فائدہ اٹھا لینا نہیں ہے۔یہ بات آپ لوگوں کی سمجھ
میں آگئی ہے کہ قرآن محض صفات پرلکھئے ہوئے الفاظ کا نام نہیں ہے۔قرآن کے جو
الفاظ ہیں اس کے اندر معنی اور مفہوم ہے اور جو حکمت ہے اس کا نام قرآن ہے۔الفاظ
کی جادوگری ہے کہ اگر آپ کسی آدمی سے شیریں الحان سے بات کریں اور خوش اخلاقی سے
پیش آئیں تو الفاظ کا اثر انسان کے دماغ پر اچھا پڑھتاہے۔لیکن اگر آپ نفرت سے
حقا رت سے کڑک آواز سے بات کریں تو الفاط کا اثر نفرت سے ہوتا ہے۔ انسان پر بوجھ
پڑھتا ہے تو آواز الفاظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔الفاظ آواز کے علاوہ کچھ نہیں
ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فر مایا …کہ ہم مثالیں دے کر بیان کرتے ہیں انسانوں کو تاکہ
وہ سوچ وبچار کریںاور تفکر کریں۔
توقرآن کی طاقت کا اندازہ کر نا قرآن کی حکمت
سے فائدہ اٹھا نا،قرآن کے الفاظ کے اندر جوانوار اوار تجلیات کام کر رہے ہیں۔ان
کو دیکھنا،سمجھنا اور ان الفاظ کی روشنیوں سے اپنے اندر جگمگاتی دنیا کو دیکھنا۔
اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اسی وقت ہے۔ جب ہمارے اندر تفکر کا pattrenہو اگر
تفکر کا pattren ہمارے اندر نہیں بنے گا۔تو ہم قرآن سے فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ اگر
ہمارے اندر سوچ،سمجھ، بصارت،بصیرت پیدا نہیں ہو گی قرآن سے ہم فائدہ نہیں اٹھا
سکتے تو آج کی یہ آپ کی جو ورکشاپ تھی اس میں جتنے بھی گھنٹے آپ کو ملے یہ سارا
وقت آپ نے سوچ وبچاراور تفکر میں پو را کیا ہے۔ یہی تفکر اگر ہم اپنی زندگی پر
محیط کر لیں۔اور یہ چند گھنٹے کا تفکر ہماری زندگی کااحاطہ کرلیں۔تو اللہ تعالیٰ
کے ارشاد کے مطابق ہمارے اندر تفکر کا ایسا pattrenبن جائے گا کہ جس pattren میں
اتنی طاقت اور سکت ہوتی ہے کہ وہ قرآن کو برداشت کر لیتا ہے۔
اس قرآن کو برداشت کر لیتا ہے. جس قرآن کو
پہاڑ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔نظریہ رنگ و نور کے تحت آج بھی ورکشاپ بلاشبہ
سوچ،ریسرچ اور تفکر کی ایک مثالی نشست تھی۔ یہ مثالی نشست ہمیں اس بات کی دعوت
دیتی ہے اور ہمیں اس طرح متوجہ کرتی ہے کہ جس طرح ہم نے یہاں اجتماعی طور پر اور
انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو پورا کرنے کے جدو جہداور کوشش کی ہیں
کہ انسان تفکر کے علاوہ کچھ نہیں ہے ہم یہاں سے جانے کے بعد بھی تفکر کو اپنا
اشعار بنا ئیں گے۔ تفکر کے لئے وقت نکا لیں گے۔ اس وقت تک جب تک ہم اس قابل نہ ہو
جائیں کہ قرآن کی عظمت اور رقرآن کی حکمت کو پوری طرح سمجھ سکیں۔آپ حضرات نے
اللہ کے نام پر جس طرح وقت نکلا یقینا یہ اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کے لئے ایک
جذبہ ہے، جہد ہے، کوشش ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں اس بات کا وعدہ فر مایا
ہے کہ جو لوگ میرے لئے میرے راستے میںجدوجہد کر تے ہیں اور اس جدو جہد میں انسان
کی اپنی ذا ت سوار نہیں ہوتی۔
صرف اللہ ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر
لازم کر لیا ہے کہ راستہ بھی ہدایت بخشتا ہے …والذین جھا دو فی نا …وہ لوگ جو خلوص
دل سے ایثار سے اپنی ذات سے ہٹ کر اللہ کے لئے جدو جہد کر تے ہیں۔اللہ تعالیٰ فر
ماتے ہیں کہ ہم نے لازم کر لیا ہے کہ ہم ان کو ا پنے راستوں کی ہدایت عطا کریں گے۔
راستوں کی ہدایت سے مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تک رسائی کے لئے کوئی ایک
راستہ متعین ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ایک لا محدود ہستی ہے۔ کسی لامحدود ہستی تک
پہنچنے کے لئے کسی ایک راستے کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔کوئی ایک بہت بڑا شہر ہے۔اس
ایک بڑے شہر کے لئے کوئی ایک راستہ متعین نہیںہوتا۔ بہت سارے راستے ہو تے ہیںتو
اللہ تعالیٰ نے جو راستہ اپنے لئے متعین کیا ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے دین فر
مایا ہے۔ وہ دین ایک ایسا راستہ ہے کہ اس میں لاکھوںکروڑوں تفکر کی راہیں انسانی
ذہن کے اندر سے نکلتی ہیں۔
اورانسان اس دین مبین کے راستے پر شاہرہ پر چل
کر بے شمار چھوٹی چھوٹی سڑکوں سے پر ڈنڈیوں سے گلیوں سے نکل کر اس دنیا میں پہنچ
جاتا ہے کہ جہاں انسان کو اللہ تعالیٰ کو سراغ ملتا ہے۔ ورکشاپ کا مقصد ہی یہی
ہوتا ہے کہ انسان کی سوئے ہوئی صلاحتیں بیدار ہو ں۔ اور انسان کے اندر سکت پیدا
ہو، انسان کے اندر شعور ی محدودیت جو ہے وہ لا محدودیت کا سبق شروع کر دے۔ میں نے
کچھ دیر آپ حضرات میں رہ کر یہ محسوس کیااوردیکھا کہ جتنے بھی لوگ افہام و تفہیم
میں لگے ہو ئے تھے۔اللہ کے فضل و کرم سے ان کا سوال کے اوپر جواب کے اوپر یا لفظوں
کی معنی علوم مفہوم کے او پر ارتکاز تھا۔ان کے ذہن میں کہیں اِدھر اُدھر کا خیال
نہیں تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ ورکشاپ کی یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ مسلسل ڈھائی یا
تین گھنٹے یک ذہن ہو کر ایک نقطے پر، توجہ مرکوزرہے۔ میرے خیال سے یہ ورکشاپ
کامیاب رہی۔
آپ
کے اندر اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سکت بڑھی شعور کی درمندگی وہ کم ہوئی اور آپ
کے دل میں اور دماغ میں ایسے روزن کھولے۔ جس روزن سے آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے
تجلی اور انوارات کا انکاس ملا۔اللہ تعالیٰ آپ سے راضی ہو او ر مجھے اور آپ کو
تو فیق عطا فر مائے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق اپنی زندگی کو ان طرزوں
پر گزاریں جو طرزیں انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے حا صل ہو ئیں اور وہ زندگی کی
طرزیںصرف اور صرف تفکر اور اللہ کے ساتھ وابسطہ ہیں۔ انشا اللہ ہم صراط مستقیم پر
چل کھڑے ہوئے ہیں اور جب کوئی بندہ صراط مستقیم پر قدم بڑھا دیتا ہے تو اللہ
تعالیٰ کا وعدہ ہے جب بندہ میری طرف جب ایک قدم بڑ ھاتا ہے تو میں اس کی طرف دو
قدم بڑھا تا ہوں۔جب کوئی بندہ صراط مستقیم پر میری طرف لپکتاہے۔ تو میں اس کی طرف
دوڑتا ہوں۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے حضور قلندر بابا اولیائؒکے فیض سے
ہمیں صراط مستقیم پر کھڑا کر دیا ہے۔
اب
یہ ہمارا کام ہے اگرہم ایک قدم بڑھا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ دوقدم ہماری طرف بڑھائے
گا۔یعنی ایک قدم ہم نے بڑھا یا دو قدم اللہ آیا۔اس میں یہ فائدہ ہو گا کہ ہم اللہ
سے تین قدم قریب ہو جائیںگے۔اگر ہم اللہ کی طرف لپک کر چلیں گے تو ظاہر ہے اللہ
تعالیٰ ہماری طرف دوڑ کر آئے گا۔دوڑ کر آنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ
اس طرح دوڑتے ہیں۔جیسے زمین پر ہم دوڑتے ہیں۔یہ اللہ تعالیٰ کا اور ہمارا رشتہ اور
تعلق ٹائم اینڈ اسپیس کے تحت ہو جائے گا۔دوڑنے کا مطلب قربت ہے۔یعنی اللہ تعالیٰ
جتنے آپ سے قریب ہے وہ قربت آپ کے اوپر کھول جائے گی۔ آپ یہ دیکھنے لگیں گے کہ
اللہ تعالیٰ آپ سے کتنے قریب ہے۔جہاں بھی اللہ تعالیٰ کی قر بت کا تعلق ہے خود
اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے ’’کہ میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں‘‘۔خود اللہ
تعالیٰ نے فر مایا …وفیھل فوسیقون…میں تمہارے اندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوںنہیں؟
یعنی
اللہ تعالیٰ نے ایک طرح آپ کو متوجہ کیا ہے کہ تم لوگ اس قدر نادان ہو اللہ
تعالیٰ سے قربت حاصل کر نا چاہتے ہیں اور ٹائم اینڈاسپیس کی حد بندیوںسے گزر کر
اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ کی شکل صورت میں دیکھنا چا ہتے ہو۔ٹائم اسپیس کے بارے
میں میں ابھی ختم کر رہا ہوں، ٹائم اینڈ اسپیس کے بارے میں کافی یہاں میں نے سنا
ہے۔ ماشا اللہ بڑی اچھی اچھی انہوں نے باتیں کیں میں جہاں تک سمجھتا ہوں کہ ٹائم
اسپیس کیا چیز ہے؟انسان کی زندگی کا اگر مطالعہ کیا جائے تو انسان کی زندگی حرکت
کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ کھانا،پینا،چلنا،پھرنا حرکت کے علاو ہ انسان کی زندگی کیا
ہے؟ کائنات کی زندگی حرکت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔کائنات میں کوئی چیز ٹہری ہوئی
نہیں ہے۔ کائنات میں اگر اربوں، کھر بوں، سنکھوں افراد ہیںافرادکے لئے علاوہ، سورج
ایک فرد ہے، چاند ایک فرد ہے، ستارے ایک فرد ہے،جنات ایک فرد ہے، فرشتے ایک فرد ہے
اربوں،کھربوں، سنکھوںمیں سے کوئی ایک فرد رک جائے تو کائناتی سسٹم ٹوٹ جائے گا۔
کائنات ختم ہو جائے گی۔کن کا عمل رک جائے
گا۔کائنات مسلسل حرکت کانام ہے۔ جب کائنات مسلسل حرکت کا نام ہے تو کائنات میں سب
سے بڑی موجودہ اشرف مخلوق انسان ہے۔ وہ بھی حرکت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ ایک انسان
دو پیروں سے زمین پر چلتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ ایک پیر وہ اٹھا تا ہے، دوسرا پیر
زمین پر رہتا ہے،تو پہلا پیر اٹھا کر جب وہ زمین پر رکھتا ہے،تو اس کو حرکت کے دو
تعینات سے گزرنا پڑھتا ہے۔ حرکت کا ایک تعین یہ ہے کہ کسی قسم کی حرکت کے تحت اسے
زمین پر پیر رکھنا ہوتا ہے۔ حرکت کا دوسرا تعین یہ ہے اسے کشش ثقل میں داخل ہونے کے
لئے اسے پیر اٹھا کر خلا ء میں کچھ وقفے کے لئے رکنا پڑھتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ
ہوا کہ انسان کا ایک پیر اٹھ کرجب دوسرا پیر زمین پر پڑھتا ہے تو دراصل وہ زمین کے
اوپر نہیں چل رہا ہے۔ وہ خلاء میں قدم رکھ رہا ہے اگر خلا ء نہیں ہو گا تو حرکت
نہیں ہو گی۔
حرکت کے لئے خلا ء کا ہو نا ضروری ہے ساتھ ساتھ
خلاء کے ساتھ ساتھ کشش ثقل کا ہو نا بھی ضروری ہے۔جب انسان دو پیروں سے چلتا ہے تو
ایک پیر اس کا یہاںرکھا ہو ا ہے اور دوسراپیریہ اسے دونوں پیر زمین پر رکھے ہو ئے
ہیں۔ایک پیر اور جب ایک پیر اٹھا تا ہے آد می تو ایک پیر اٹھانے کے اورپیر رکھنے
کے درمیان میں جو خلاء ہے وہ زمانیت ہے۔ انسان زمانیت اور مکا نیت دو دائرے میں
حرکت کرتا ہے اور یہاں کشش ثقل نہیں ہے، خلاء ہے اسے زمانیت کہتے ہے اور جہاں کشش
ثقل ہے زمانیت سے انسان کچھ دیر کے لئے کچھ وقفے کے لئے یہ محسوس کرتا ہے کہ میں
خلا ء میں نہیں ہوں مثلاً زمانیت،زمانیت اللہ ہے،زمانیت خالق ہے،مکا نیت مخلوق ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو قانون نافذ کیا ہے۔کائنات میں وہ یہ ہے کہ جب انسان خلاء میں
ہوتا ہے۔زمانیت میں ہوتا ہے۔جب انسان کے پیر کسی ٹھوس چیزسے ٹکرا جا تے ہیں اور وہ
وزن محسوس کرتا ہے وہ سب مکا نیت ہے …حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے’’کہ زمانیت اللہ ہے
زمانہ اللہ ہے …زمانے کو بڑا نہ کہو زمانہ اللہ ہے۔
تو
انسان کی جتنی بھی حرکات اور سکنات ہیں۔ اس کی ہر حرکت میں اس کا رشتہ زمانیت کے
ساتھ قائم ہے اور زمانیت کے ساتھ رشتہ قائم ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ ہر دو قدم کے
درمیان اس کو اللہ کے اندر داخل ہو نا پڑتا ہے۔جب تک وہ اللہ کے اندر داخل نہیں ہو
گا وہاںاسپیس زیر بحث نہیں آئے گا۔اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فر مایا ہے :جہاں تم
ایک ہو وہاں میں دوسرا ہوں،جہاں تم دو ہو وہاں میں تیسرا ہو ں۔ٹائم اینڈ اسپیس کو
سمجھنے کے لئے بہت آسان بات یہ ہے کے جب تک انسان کے اندر سکت پیدا نہیں ہوتا،جب
تک انسان کے اندر بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ جب تک انسان کو شعور کسی ایک جگہ
ٹہرتانہیں ہے تو وہ اسپیس ہے اور جب انسان بوجھ سے کشش ثقل سے آزاد ہوتا ہے۔تو وہ
سب کا سب ٹائم زمانیت، زمانیت ہر انسان ایک طرف زمانیت میں لٹکا ہو اہے اور دوسری
طرف اسپیس اسے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔ یہ کشش گریز کا ایک لا متنہائی سلسلہ ہے۔
جس میں انسان ازل میں پیدا ہوا۔وہاں سے مختلف
دنیاؤ ں میںہوتا ہوا اس عالم ناسوت میں پیدا ہوا۔عالم ناسوت میں سے دوسری دنیا میں
چلا گیا۔ کہیں بھی آپ جائیں اعراف میں جائیں حشر اور نشر میںجا ئیں،یوم المزان
میں جائیں۔جنت میں جائیں، دوزخ میں جائیں وہاں ایک ہی کام ہو گا۔ اگر جنت کے اوپر
اسپیس نہ ہو تو وہاں درخت نہیں ہونگے اور اگر جنت میں درخت نہ ہو تو وہاں شہد کی
دودھ کی نہریں نہیں ہو نگی اگر جنت میں اسپیس نہیں ہو گا تو
سونے،چاندی،موتی،زیوارات کا محلات کا تذکرہ بے معنی ہوجا ئے گا۔ہر جگہ اسپیس ہے۔ہر
جگہ زمانیت ہے۔ ہر جگہ اللہ ہے اور ہر جگہ مخلوق ہے۔انسان یہ سمجھتا ہے کہ جنت اس
دنیا کی طرح نہیں ہے وہاں ٹائم اسپیس نہیں ہے اگر وہاں ٹائم اسپیس نہیں ہو گا تو
آپ کہاں رہیں گے، کہاں چلیں گے،کہاں پھریں گے،کتنے پھل کھا ئیں گے، کس طرح آپ
حوروں غلمان کا آپ نظارہ کر یں گے۔
ہر
جگہ اسپیس ہے ہر جگہ ٹائم ہے۔فرق یہ ہے اگرآپ اس بات کو جان لیںکہ اسپیس یعنی مکا
نیت اور زمانیت کا آپس میںایک دوسرے کے ساتھ رشتہ کیا ہے؟۔ اگر یہ بات سمجھ میں
آجائے تو آپ جہاں بھی رہیں وہ جنت ہے۔ اگر آپ اس دنیا میں اس رشتے کو تلا ش کر
لیں کہ انسان ایک قدم اٹھ کر زمین سے اور دوسرے قدم پر پڑھتا ہے تو وہ وقفہ ہے
چاہے وہ ایک منٹ کا ہو، ایک لمحے کا ہو، ایک سیکنڈ کا ہو وہ سب زمانیت ہے۔ یہی
صورت حال جنت میں ہے۔ یہی صورت حال ہر جگہ ہے اور اسی کو اللہ تعالیٰ نے فر
مایا…اللہ ا نا ھو بکل شئی محیط… ایک دائرہ ہے۔ اس دائرے سے کوئی مخلوق باہر نہیں
نکل سکتی …اللہ انا ھو بکل شئی محیط…یہ ایک اللہ تعالیٰ کا نظام ہے اس نظام کو
سمجھنا آسان نہیں ہے۔ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کا یہ اعجاز ہے، سیدنا حضور
الصلوٰۃ والسلام کا خاص کرم ورحم ہے کہ انہوں نے حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے روپ
میں ہمیں ایک ایسی ہستی عطا فر مائی کہ نوع انسانی کو جس نے ان باتوں کوجو بیس بیس
سال پچاس پچاس سال سمجھ میں نہیں آتیں تھیں۔
ایک
اور دو کے حساب سے سمجھا دیا۔خواجہ غریب نوازکے بارے میں تاریخ شاہد ہے کہ اٹھا رہ
سال کی عمر میں بعیت ہوئے اور چالیس سال کی عمر جب ہوئی تو ان کے پیرو مرشد نے
پوچھا معین الدین تم کیا کر تے ہو؟ تم کیا کام کر تے ہو؟۔ انہوں نے کہاحضور خانقاہ
کاپانی بھر تا ہوں،کہا کتنا عرصہ ہو گیا ہے۔ تم کو آئے ہو ئے؟ کہہ صاحب جوان آیا
تھا بوڑھا ہو گیا ہوںتو انہوں نے فر مایا کہ اچھا تم اب ہماری مجلس میں بیٹھا
کرو۔غور طلب بات یہ ہے کہ بائیس سال خانقاہ کا پانی بھر وانے کے بعد پیرو مرشد نے
اپنی صحبت میں بیٹھنے کی اجا زت دی۔بائیس سال اور اس کے بعد تعلیم اور تربیت کا
سلسلہ شروع ہوا۔اور ایک دن خوش ہو کر فر مایا کہ دو انگلیاں سامنے کر کے کہ معین
الدین اس میں تمہیں کیا نظر آتا ہے۔خواجہ معین الدین ؒ نے فرمایا:حضور ان دو
انگلیوں کے درمیان میں اٹھا رہ ہزا ر عالمین دیکھ رہا ہوں۔
تو اس کا مطلب یہ ہوا ٹائم اینڈ اسپیس سے گزارنے
کے لئے روحانی قدریں اجا گر کرنے کے لئے خواجہ معین الدین چشتی ؒجیسے برگز یدہ
بندے کو، بہت بڑے بندے کو بائیس سال گزارے تو یہ اللہ کا ہمارے اوپر رحم اور کرم
کہ جو چیزیں با ئیس اور بائیس سال اور چالیس چالیس سال کے بعدمرشد کریم اور مرید
کو بتاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے آپ کو بہت جلدی سالوں، دنوں،ہفتوں، میں
نہیں گھنٹوںمیںحضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے فیض سے معلوم ہو ئیں اور آپ کے اندر
منتقل ہو گئیں۔اب یہ اس بات کو ثبوت ہے کہ آپ لوگ اتنی اتنی دور سے تشریف لا ئے
اور شام میںآپ نے وقت لگایا اورسب کے ذہنوں نے یہ بات آگئی ہے کہ ہمارے ذہن
کھولے ہو ئے ہیں۔اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں جب اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے
صراط مستقیم پر کھڑا کر دیا ہے۔ توہمیں پو را راستہ کرنے کی ہمت اور توفیق عطا
فرمائے۔
ایک
یہ عرض کر نا ہے کہ یہ جو کچھ آپ نے یہاں سیکھا ہے، پڑھا ہے اس کو یہاں تک نہ
محدود کر دیجئے۔ یہاں جو چھو ٹی چھو ٹی نشستیں یہاں آپ نے بنا ئیں ہیں یا آپ
اپنے گھر میں بھی کر سکتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بیٹھا کر اپنی بیگم کو بیٹھا کے اپنے
شوہر کو بیٹھا کے ایک گھر کا ماحول ورکشاپ جیسا بنا لیجئے۔ ہمارا ہر عمل آج سے
ورکشاپ کی طرح ہو گا۔آپ اپنے بچوں کو بیٹھا ئیں، اپنے شوہر کو بیٹھا ئیں، اپنی
بیگم صاحبہ کو بیٹھائیں،مہینے میں ایک دن ہفتے میں ایک دن جب بھی موقعہ ملے ایک
ماحول بنا ئیں اور اس دن کوئی بھی کتاب اٹھالیں کوئی بھی سوال کر لیں بچوں کی ذہنی
سکت کی مناسبت سے سو ال و جواب افہام و تفہیم کی ایک مجلس قائم کر یں انشا اللہ اس
کا آپ کو فائدہ پہنچئے گا۔ ایک سال کے بعد ورکشاپ میں آنے سے فائدہ ملتا ہے وہ
آپ کو گھر بیٹھے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فر مائے اور
ہمارا یہاں بیٹھنا یہاں کی علمی صلاحتیںہمارے لئے مقدس فرمائے۔
آمین