Topics
ایک
ہی بات میں بار بار دوہراتا رہتا ہوںبار بار دوہراتا ہتا ہوںایک ہی موضوع پر آپ
حضرات سے گفتگو ہوتی رہتی ہے اور جب میں کہنا چاہتا ہوںتو ذہن میں یہ بات آتی ہے
میرے ذہن میں آتا ہے اور یہ بھی خیال آتاہے کہ یہ بات تو میں لکھ چکاہوں بیس سال
کے طویل عرصے میں روحانیت کواللہ کی دی ہوئی تو فیق کے ساتھ میں نے ہر ہر طریقے پر
بیان کیا جتنا کچھ وسیلہ آپ کے پاس اللہ کی طرف سے مو جو دہے کہ زندگی کا کوئی
بھی شعبہ ہوآپ اگر حضور قلندربا بااولیا ء ؒکی تعلیمات کی رو شنی میں تلاش کر یں
تو آپ کو پو را پو را علم وہاں سے منتقل ہو سکتا ہے لیکن جب تک آدمی دنیا میں
موجود ہے جیسے جیسے آدمی کی تجرباتی عمر بڑھتی ہے اسی مناسبت سے متعلقین کی
دوستوں کی, شاگر دوں کی تو قعات بڑھتی رہتی ہے اور وہ یہ سوچتے ہیں کچھ اور معلوم
ہو جا ئے کچھ اور معلوم ہوجائے کچھ اور معلوم ہو جا ئے، بہر حال یہ بات آپ کے
سامنے ہے کہ تیس سال کے عرصے میں کون سا ایسا شعبہ بڑ ھ سکتا ہے کہ جس کے بارے میں
آپ کو معلومات نہیں ہو گی۔
آج میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ انسان ہمیشہ اس
بات کی تلاش میں رہتا ہے کہ وہ خوش رہے اس کی زندگی اس طرح گزرے کہ اس کو کسی قسم
کی تکلیف نہ ہوکسی بھی انسان کی آپ زندگی کے بارے میں بات کر یں گے ہر شخص یہی
کہے گا کہ میں خوش رہنا چاہتا ہوں ہردوسرا آدمی یہ کہتا ہے کہ میں خوش رہا کروں۔
یہ دنیا کچھ دنوں کی ہے اسے چھوڑ کے چلے جا نا ہے حقائق و ثبوت بھی یہی ہے آدمی
یہاں کچھ بھی کرلے کوئی چیز ساتھ نہیں لے جا تا، جب پیدا ہوتا ہے تو بغیرکپڑوں سے
پیدا ہوتا ہے اور جب مر تا ہے تو اس کا لباس تک اتار لیا جاتا ہے۔ تو پیدا ئش کے
بعد جولباس بچے کو پہنایا جاتا ہے وہ بھی مانگے تا نگے کا ہوتا ہے ماں باپ نے کپڑے
پہنا دئیے رشتہ داروں نے کپڑے پہنا دئیے اسی صورت سے جب آدمی مر تا ہے تو اس کے
جسم پر موجود جو لبا س ہوتا ہے تو رشتہ دار اتنے کٹھور ہو جا تے ہیں کہ اسے بھی
ساتھ لیجا نے نہیں دیتے اور وہ لباس نہیں اتارتا تو اسے قینچی سے کاٹ کر اس کے جسم
سے الگ کر دیتے ہیں۔
تو زندگی کا کل فلسفہ یہ ہوا کہ آدمی جب پیدا
ہوتا ہے تو وہ اپنے ساتھ کچھ بھی نہیں لا تا اور جب مر تا ہے تو کچھ بھی نہیںلے
جاتا انتہا ء یہ ہے کہ ننگا پیدا ہوتا ہے، ننگا چلا جاتا ہے تو اس زندگی میں اس کا
کوئی اپنا اختیارہی نہیں ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اختیارہی میرا ہے اور کسی کا
اختیارہی نہیں ہے حالانکہ جب اختیار کی بات آتی ہے اگر غور کیا جا ئے تو اختیار
ہے ہی نہیں، اب سوال یہ ہے کہ جب انسان کا کوئی اختیارہی نہیں یہ کہنا کہ تم خوش
رہا کرواور یہ کہنا کہ تم نا خوش نہ رہا کرو یہ غیر حقیقی اور غیر فطری بات ہے۔ اب
آدمی کہتا تو یہ ہے خوش رہا کرو مجھے خوش رہنا چا ہئے لیکن امر واقع یہ ہے کہ
کوئی آدمی خوش نہیں رہتا ہے اور حضور قلندر بابااولیا ء ؒکے فرمان کے مطابق انسان
واقف ہی نہیں ہے کہ یہ خوشی کیا ہے؟ اب کہے کہ خوش رہا کرو تو کہے کا غم کر نا ہے
دو آدمی کہے رہے ہیں میں خوش رہا کرو تو سب سے بڑا غمگین اور کیادو سری بات جو
غورو فکر کی ہمارے سامنے آتی ہے اس دنیا میں کوئی بھی عمل ایسا نہیں ہے جو ایک رخ
پر قائم ہو کسی عمل کی تکمیل ہی جب ہوتی ہے جب اس کے ساتھ دو رخ ملے ہوئے ہو ں۔
اب یہ کہے رہا ہے کہ خوش رہا کرو تو آدمی تو
خوش رہے ہی نہیں سکتا اس لئے کہ اگر آدمی خوش رہے گا تو نا خوشی کہاں جا ئے گی،
نا خوش رہے گا تو خوش رہے گااور خوش رہے گا تو نا خوش بھی ہو گا تو یہ سب الفا ظوں
کا چکر ہے جہاں آدمی نا خوش رہنے سے واقف ہیں اور نہ ہی غمگین رہنے سے واقف ہے
ایک زندگی ہے اور اس زندگی میں اس نے زندگی کے بارے میں ایک توقعات قائم کی ہے وہ
توقعات پو ری ہوتی ہے تو وہ اپنے اندر ایک قسم کا ہلکا پن محسوس کرتا ہے تو اس کو
وہ خوش ہونا کہتے ہے۔ تو قعات پو ری نہیں ہوتی وہ اپنے اند جھنجھناہٹ محسوس کرتا
ہے اس کا نام اس نے غم اور فکر رکھ دیا ہے اب یہ کیا فلسفہ ہوا کہ بھئی خوش رہو اب
خوش رہو کیسے خوش رہو اب یہ ہمارے سامنے مسئلہ ہے خوش اگر رہے سکتے ہیں تو کس بنیا
دپر رہے سکتے ہیں اور کیا ہم خوش رہے سکتے ہیں؟ تو قانون کے مطابق کوئی آدمی یہاں
خوش رہے ہی نہیں سکتا اسلئے خوشی اور غم دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔
غم کے بغیر خوشی کی تکمیل نہیںہوتی اور خوشی کے
بغیر غم کی تکمیل نہیں ہوتی حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ سے میں نے جب سوال کیا کہ
صاحب آدمی خوش کیسے رہے تو انہوں نے فرمایا کہ خوش رہنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ
توقعات کی وابستگی انسان کے اندر سے نکل جا ئے اب توقعات کی وابستگی انسان کے اندر
سے کیسے نکل سکتی ہے توقع تو کھا نا، پینا بھی ہے توقع،تو سو نا بھی ہے توقع تو
لباس پہنا بھی ہے توقع تو یہ بھی ہے یہ میرا بڑا بھا ئی ہے یہ میرا چھوٹا بھا ئی
ہے چھوٹا بھائی کیا چا ہتا ہے بڑا بھا ئی شفقت کے ساتھ پیش آئے بڑا بھا ئی یہ
چاہتا ہے کہ چھوٹا بھائی احترام کے ساتھ پیش آئے تو توقعات کا یہ جال ہے اس آدمی
کیسے نکل سکتا ہے انہوں نے فرما یا انسان کی زندگی میں توقعات قائم کر نا یا نہ کر
نا دونوں شامل ہیں اور انسان دونوں تجر بات سے گزارتا ہے مثلا ً ہر انسان ایک بچپن
کے دور سے گزرتا ہے دس سال،گیا رہ سال،بارہ سال یا اس سے بھی کم عمر پانچ سال، چھ
سال، چھ مہینے سال بھر یہ ایسی زندگی ہے اس میں توقعات کی وابستگی ہو جا تی ہے
مثلا ً کوئی چھو ٹا بچہ آپ اس کو کپڑے پہنا دیں تب وہ خوش ہے کپڑے نہ پہنائیں تب
وہ خوش ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ ماں باپ کپڑے پہنا تے ہیں بچے نکال نکال کے اتار
اتار کے اس کو رکھ دیتے ہیں تو انسان کی جو ابتدا ئی زندگی ہے اگر اس میںاگر غور
کیا جا ئے تو توقع نام کی کوئی چیز ہمیں نہیں ملتی، لیکن اس زندگی میں جس زندگی
میں توقعات کا عمل داخل نہیں ہے انسان خوش رہتا ہے۔
اب
دیکھئے نابچوں کے مقابلے میں بڑوں کو اگر آپ دیکھیں تو بچے ہمیشہ خوش رہتے ہیں اب
جب ہم بڑے ہو تے ہیں اور اپنے بارے میں خود توقعات قائم کر لیتے ہیں کہ ہمیں ایسا
ہو نا چا ہئے، ہمیں ویسا ہو نا چا ہئے، ہمیں ایسا لباس پہنا چاہئے،ہمارے پاس ایسی
گاڑی ہو نی چا ہئے، ہمارے پاس ایسا کہ اپنی ذات سے بھی توقعات قائم کرنا ایک توقع
تو یہ ہے، میں آپ سے توقع قائم کر وں آپ مجھ سے توقع قائم کر یں ایک توقع یہ ہے
کہ ہر آدمی اپنی ذات سے تو قعات قائم کرکے اپنے آپ کو محدود کر لے جتنا زیادہ
کوئی آدمی توقعات قائم کر ے گا اسی منا سبت سے اس کے اندر محدودیت پیدا ہو جا ئے
گی اور جتنا آدمی تو قعات سے آزاد ہو گااسی منا سبت سے اس کا ذہن بھی آزاد ہو
جا ئے گا اوروہ محدودیت سے نکل کر لامحدودیت میں چلا جا ئے گا جب ہم یہ کہتے ہیںکہ
ہمارے دوستوں ہمارے ساتھ یہ کر نا چاہئے یا ہمارے متعلقین کو ہمارے ساتھ نہا یت
آدب و احترام کے ساتھ پیش آنا چا ہئے اس کو اس طرح بھی کہا جا سکتا ہے کہ آدمی
اقتدار کی خواہش کرتا ہو تو اقتدار کی خواہش بظا ہر خود اس طرف اشا رہ ہے کہ آدمی
محدو دیت کے دا ئرے میں داخل ہو جا تا ہے یعنی اس نے اپنے ذات کو سامنے رکھ کر ایک
ایسا طریقہ عمل اختیار کر لیا ہے کہ جس طریقہ عمل میں وہ اپنی ذات میں اپنی انا
میں اتنا مرکوز ہو گیا کہ اب وہ ذات کے علاوہ کوئی نہیں، ذات کے علاوہ جب وہ سو
چتا نہیں ہے تواس کا مطلب ہے کہ اسکے اندر محدو دیت ہے جتنی زیادہ کسی آدمی کے
اندر محدو دیت آتی چلی جا ئے گی اسی منا سبت سے جس کیفیت کے نام خوشی ہے وہ اس
کیفیت سے دو ر ہوتا چلے جائے گا۔
مثلا ً ایک آدمی کے اندر اقتدار کی خواہش ہے وہ
گھر میں اس کا اقتدار ہو، دوستوں میں اقتدار ہو، فیکٹری میں اقتدار ہو،کا رو بار
میں اقتدار ہو جب اس کی اقتدار کی خواہش پو ری نہیں ہو گی تو ظاہر ہے اس کو رنج ہو
گا اس کو تکلیف ہو گی وہ پر یشان ہو گا اور اس پریشانی کا نام ہی غم ہے لیکن انسان
آزادنہ طور پرسوچے گا تو کیونکہ آزادی ایک لا محدود چیز ہے اس لئے اس کے اندر
خوشی کی کیفیت ہے اب بات یہ بنی روحانی قانون یہ بنا کہ اگر کوئی آدمی توقع قائم
کرتا ہے دوستو ں سے رشتہ دا روں سے یا اپنی ذات سے تو وہ کبھی خوش نہیں رہے سکتا
اور اگر کوئی آدمی تو قعات سے آزاد ہے تو ہمیشہ خوش رہے گا اب صورت حال یہ ہے کہ
توقعات قائم کر نا ضروری ہے یا ضروری نہیں ہے یہ بات بھی غور طلب ہے انسان زندگی
کے بارے میںکیا توقع قائم کرتا ہے؟مثلا ً وسائل کا اصول کہ میرے پاس بہت سارے
وسائل ہوں،تو بہت سارے وسائل کہاں سے ہو ں وسائل تو پہلے سے موجود ہیں اگر آدمی
یہ کہتا ہے کہ میرے پاس بہت سارے وسائل موجود ہو تو موجودتو جب ہوں جب وسائل موجود
نہ ہوںوسائل تو اس کی پیدائش سے پہلے سے موجود ہیں۔
اب
آدمی یہ کہتا ہے میرا اقتدار قائم ہو جائے تو اقتدار تو پہلے سے یہاں موجود ہے تو
جو چیز واقف مقدا رمیں یہاں موجود ہے لا محدود مقدار میں یہاں موجود ہے اس کو
انسان جب اپنی ذات سے وابستہ کرتا ہے تووہ چیزیںلا محدود سے محدود بن جا تی ہیں
اور لا محدود چیزوں سے جب انسان کا ذہن دور ہوتا ہے تو انسان محدود ہو جاتا ہے۔
آپ اپنی زندگی کا مطا لعہ کر یں زندگی سے متعلق
جتنی بھی ضروریات ہیںوہ سب پہلے سے موجود ہیں اور بنیادی ضروریات پو رے کرنے میں
آپ کو سرے سے کوئی کام ہی نہیں کرنا مثلاً اب آپ کی بنیادی ضرورت ہے ہوا، اب بتا
ئیں ہوا کے لئے آپ کوہوا کو حاصل کرنے کے لئے آپ کو کیا کام کر پڑا بنیادی ضرورت
ہے پانی پا نی کے حصول کے لئے آپ کوکیا کر نا پڑا پانی تو پہلے سے موجو دہے بنیاد
ی ضرو رت ہے سر دی گر می سے بچنے کے لئے مکان اللہ تعالیٰ نے پہلے سے ہی زمین
فراہم کر دی اسی صورت سے آپ جتنا بھی غو رو فکر کر یں زندگی گزارنے کے لئے جتنی
بھی چیزوں کی ضرورت ہے وہ آپ کی پیدا ئش سے پہلے موجود ہیںاور جب آپ مر جائیںگے
جب بھی موجود رہے گی تو جو چیزیں آپ کی پیدا ئش سے پہلے بھی موجود ہیںاور جو
چیزیں آپ کے مرنے کے بعد بھی موجود ہیں ان کے لئے تجسس کر نا ان کے لئے فکر کر نا
ان کے لئے پر یشان ہو نا یہ درا صل محدودیت ہے یہ درا صل بے عقلی ہے نا دانی ہے
ظلم ہے اور جہل ہے جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرا ہم کر دی ہیںآپ چاہئیں یا
نہ چا ہئیں وہ چیزیں آپ کو ملتی رہیںگی اب مثلا ً اللہ تعالیٰ نے زمین نہ بنا تے،
گہیوں کادانہ نہ بنا تے، چا ول کا بیج پیدا نہ کر تے چا ول کو پکا نے کے لئے اللہ
تعالیٰ دھوپ نہ نکالتے تو کیا آپ کی غذائی ضروریات پوری ہو سکتی تھیں اللہ تعالیٰ
جا نور نہ بنا تے اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں وہ اللہ جو تمہیں گو بر اور خون کے بیچ
میں سے دودھ نکال کرپلا رہا ہے قرآن پاک کی آیت ہے وہ اللہ جو تمہیں گو بر کے
بیچ میں سے دودھ نکال کر دے رہا ہے گا ئے بھینسوں کادودھ اب ایسی صورت سے آپ
زندگی کا مطا لعہ کر تے چلے جا ئیں آپ کے اندر کی مشین بھی ہے تو آپ دیکھ لیں اس
مشین کو چلا نے میںآپ کیا کام کر تے ہیں بھئی اقتدار کی خواہش آپ کو ہے کب ہے جب
آپ کے اندر یہ مشین چلتی آپ کے اندر آنتیں بھی چل رہی ہیں گر دے بھی چل رہے ہیں
آپ کادماغ بھی چل رہا ہے ہر چیزحرکت میں ہے اب ہم آنکھ سے دیکھ رہے ہیں آنکھ
بھی حرکت میں ہے، ڈیلے بھی حرکت میں ہیں،پلک بھی جھپک رہی ہے با ہرسے عکس بھی جا
رہا ہے اندر وہ محفوظ بھی ہو رہاہے اب اس عکس کے بارے میں ہمارا دماغ جو ہے چل بھی
رہا ہے اطلاعات بھی فراہم کر رہا ہے۔
ہمارے ا ندر بصیرت بھی پیدا ہو رہی ہے ہمارے
اندر عقل بھی پیدا ہو رہی ہے۔ اگر آنکھ ہی نہ ہو؟ آنکھ کے سامنے کا ئناتی نظارہ
ہی نہ ہو؟
توآدمی
نہ دیکھ سکتا ہے نہ کسی چیز کے بارے میںتذکرہ کر سکتا ہے تو وہ ضد کرنے کی بات ہے
کہ انسان پیدا ہو نے سے پہلے یہاں ہر چیز موجود اللہ نے کر دی ہے اس لئے کہ انسان
کو زندہ رہنے کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہے اور جب انسان مر جاتا ہے کیوں کہ انسان
کا آنا مکمل نہیں ہو اور قافلہ جو عالم ارواح سے چلا اسے بھی ابھی اس منزل سے
گزرنا ہے اس لئے یہاں ہر چیز موجود ہے تو جو چیز یہاں موجود ہے پیدا ئش سے پہلے
موجود ہے مر نے کے بعد موجو دہے اب ان چیزوں کے بارے میں توقعات قائم کر نا سوائے
جہا لت کے اور کچھ نہیں ہے تو انسان اس وقت نا خوش ہوتا ہے جب اپنے لئے پیدا شدہ
وسائل میں اپنی ہوس اتنی زیادہ کر لیتا ہے کہ جو ذہن اور دماغ اس میں موجود ہوتا
ہے جب تک انسان کے دماغ میں وسائل کی قدرو قیمت اس حد تک ہوتی ہے جیسے استعمال کر
لیتا ہے تب آدمی خوش ہوتا ہے اب انسان ان وسائل کی قیمت کتنی لگالیتا ہے تو اس کی
اپنی قیمت کم ہو جا تی ہے لیکن پھر قانون یہ ہے کہ اگر آپ خوش ہو نگے تو نا خوش
ضرور ہو نگے اس لئے کہ دورخوں کے بغیر یہ زندگی ادھوری ہے اب ایک صورت یہ ہے کہ
انسان خوشی اور ناخوشی کے چکر سے کیسے نکلے؟
نا خوش ہو ناغمگین ہو اب ایسی صورت میں جب انسان
خوشی اور نا خوشی سے نکل جائے گا تو ظا ہر ہے اس کے اوپر ایک اور کفیت طاری ہوگی۔
اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو اور خوش ہو کر کھا
ؤ پؤ
اب خوش ہو کر کھا ؤ پؤ اللہ تعالیٰ کے نظام کے تحت جہاں خوشی ہو گی
وہاں غم بھی ہو گا وہ آپ نے دیکھا ایک وقت ایسا آیا کہ آدم کے اندر سے خوشی نکل
گئی اور پر یشانی اس کے اوپر مسلط ہو گئی اور اسے جنت چھوڑ نی پڑی تو اس کا مطلب
یہ ہوا کہ جنت کا مقام ہے وہ بھی کوئی ایسا خاص مقام نہیں ہے جس کو ہم اس دنیاسے
الگ کر سکیں اگر یہاں خوشی ہے اور یہاں پر یشانی ہے تو جنت میں بھی خوشی ہے جنت
میں بھی پر یشانی ہے اس دنیا میں اور جنت میں کیا فرق ہے؟
اب
آدمی یہاں بھی غمگین رہتا ہے یہاں بھی خوش رہتا ہے جنت میں بھی آدم اور حوا بڑے
خوش خوش رہے بڑے کھا نے وانے کھا ئے انہوں نے لیکن جب نا خوشی ہوئی تو جنت سے نکل
گئے لیکن جنت سے وسائل آدم کے لئے اور حوا کے لئے پیدا کئے گئے تھے وہ نا خوشی کی
بنیاد پر چھین لئے اب قانون یہ بنا کہ اگر کوئی آدمی نا خوش ہو گا تو وسائل اس سے
دور ہوجا نگے اور وہ وسائل کا محتاج ہو جا ئے گا اور اگر آدمی اگر خوش رہے گاتو
وسائل اس کے قریب آجا ئیں گے اور وسائل اس کے محتاج بن کر آگے اس کے ہا تھ باند
ھ کر کھڑے ہو جا ئیں گے۔ ذلت کا جو عمل ہے انسان جب تک خوش رہا جنت میں رہا اور جب
انسان نا خوش ہو اذلت کے وسائل اسے ملے تو یہی دنیا دا ری ہے تو کیا فرق ہوااگر ہم
یہاں سے مر گئے جنت میں چلے گئے تو خوشی اور ناخوشی تو جنت میںبھی موجود ہے۔
اب بھئی جنت میں جا ؤ گے تو وہ تو دنیا دا ری کا حساب یہی ہے کہ بھئی
جیسے یہاں خوش ہے وہا ں بھی خوش ہے اب وہاں نا خوش ہے تو یہاں بھی خوش نہیں اب
یہاں ناخوش ہوتا ہے آدمی یہاں بھی مر جا تا ہے وہاں نا خوش ہو اوہاں بھی مر گیا
اس دنیا میں مر گیا اس د نیا میں آگیا اب رو حانی جو لوگ ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ
کہے کی خوشی، کہے کا غمگین دونوں کیفیات سے گزارتا جب آپ خوشی ناخوشی دونوں
کیفیات سے گزر جا ئیں گے آپ کے اوپر اسپیس پیدا ہو گی جس کو طلوع کہا جا تا ہے،
طلوع والے بندے کے اندر اگر کوئی چیز ہوتی ہے تو وہ صرف یہ ہوتی ہے میرا دو ست
میرا محبوب اللہ ہے وہ جہاں بھی اللہ نے چا ہا اسے سولا دیا۔
وہ
اللہ کو جنت میں محدود نہیں کرتا وہ اللہ کو دنیا میں محدود نہیں کرتا وہ اللہ کو
کسی عرش میں، کسی کر سی میں، بیت المعمور میں، کسی آسمانوں میں محدود نہیں کرتا
جہاں کسی مقام کا تعین ہو جاتا ہے جس مقام کا نام رکھ دیا جائے گا وہ بجا ئے اسپیس
کے کچھ نہیں ہے اب آپ کہتے ہیںاللہ عرش پر بیٹھا ہو اہے عرش کا مطلب یہ ہے کہ آپ
نے اللہ کی صفات کو محدودیت کے دائرے میںاپنی شعوری اطلاعات سے بیان کیا اور جہاں
محدودیت ہو گی محدو دیت تو ہو گی لیکن لا محدو ویت کا جو بہت بڑا پھیلا ؤ ہے انسان اس کے اندر دا خل ہے اب ہمارے سامنے
یہ صورت آئی ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ جب ہم پیدا ہو تے ہیں کہ جن چیزوں سے ہم خوش
یا نا خوش ہو تے ہیں وہ پہلے سے موجود ہے یعنی اللہ نے پہلے سے ہی انتظام کر دیا
ہے۔
ہر
چیز کاانتظام اب گھر میں آپ کے ہر چیز موجود ہے اب آپ پریشان ہو رہے ہیںکل کیا
ہو گا اب آپ یہ دیکھیں ایک آدمی کل کیا ہو گا کل کے لئے کچھ پیسے بچا لو تو اس
قدر نا دانی کی بات ہے کہ ساٹھ سال کا آدمی اگلے اکسٹھویں سال میں دا خل ہو نے کے
لئے پر یشان ہے لیکن وہ کبھی بھی نہیں سوچتا کہ ساٹھ سال سے میری کوئی ضرورت نہیں
رو کی، میں کوئی بھوکانہیں رہا، ننگا نہیں رہا کوئی ایک سال ایک سے دو ہوا دو سے
آٹھ ہو ئے نو ہو ئے بچے ہو ئے، بچوں کی شادیاں کیں، بچوں کے بچے ہو ئے ان کی ساری
تقریبات کیں، وہ ساٹھ سال کا جو ماضی ہے وہ اس کے ذہن سے نکل جا تا ہے اور اگلے
اکسٹھ سال کے لئے فکر کرتا ہے تو اس کا مطلب کیا ہوا اس کا مطلب یہ ہوا اس کے ذہن
میں محدودیت کے علاوہ کچھ نہیں ہے اب ساٹھ سال کا جو آدمی ہے وہ کبھی اپنے ما ضی
پر غورہی نہیں کر تاکہ میںکس طرح پیدا ہوا کس طرح میری پرورش ہوئی کیسے کیسے حالا
ت سے میں گزرا اس طرح میری شادی ہوئی اس طرح میرے بچے ہوئے میرے بچوں کے بچے ہو ئے
پہلے جب میں پیدا ہوا تو میرے پاس جھونپڑی نہیں تھی او ر جب میں ساٹھ سال کا ہوا
تو میرے پانچ بچے ہیں پانچوں بچوں کے الگ الگ گھر ہیں،پا نچوں بچوں کے الگ الگ کا
رو بار ہیں پا نچوں بچوں کے پاس الگ الگ زندگی گزارنے کی تمام سہولتیں موجود ہیں
وہ کیوںکیوں نہیں یاد؟
اس لئے نہیں یا د کہ وہ اپنی ذات کے دا ئرے میں
بندھا ہوا ہے ایک آدمی بن کر، ایک آدمی وقت معین کے بارے میں مستقبل کے بارے
میںاگر ہم اپنے ماضی کو یاد کر یں اگر ہم اپنے ماضی کا تجزیہ کر یں زندگی کا
محاسبہ کریں ظاہر ہے ہمارے ذہن میں یہ بات آئے گی وہ اللہ جس نے ساٹھ سال تک کھلا
یا پلا یا ہے سارے سال ہماری کفالت کی ہے اب ایک سال یا دو سال کے لئے یا پا نچ
سال ہمیں بھو کا کیسے مار سکتا ہے ایک تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنی ماضی کو
یادرکھے وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور جو آدمی مستقبل کے بارے میں سوچتے ہیں وہ
ہمیشہ نہ خوش رہتے ہیںاور وجہ یہ ہے کہ روحانیت میں مستقبل تو نہیں ہے روحانیت میں
مستقبل کا وجود نہیں ہے۔جس چیز کا وجود ہی نہیں ہے آپ اس کے اندر داخل ہونگے
توظاہرہے پریشانی کے علاوہ وہاں کچھ نہیں رو حانی نقطہ نظر سے یہ ساری کا ئنات
ساری زندگی انسان کی ہو یا جانوروں کی ہو،سورج ہو،چا ند ہو درخت ہوں کسی کی بھی
زندگی ماضی کے علاوہ جب اللہ تعالیٰ نے کن کہا کب کہا کن؟
ماضی میں۔ توحقیقت یہ ہے کہ ہماری جوپٹی ہے
ہمارا جو راستہ ہے وہ را ستہ ماضی ہے ماضی کے علاوہ کچھ نہیں حال بھی یہاں کچھ
نہیں ہے۔ مستقبل کایہاں وجود ہی نہیں ہے جو کچھ ہے ماضی ہے اب آپ مثال کے طور پر
کوئی آدمی یہاں ساٹھ سال بھی جی سکتا ہے کوئی تیس سال کا کوئی بیس سال کا کوئی
پچاس سال کا کوئی چالیس سال کا آپ کیا ہیں؟ حال ہے؟ مستقبل ہیں یا ماضی ہیں؟تو جو
بندہ اپنے ماضی کے اوپر نظر رکھتا ہے وہ حال اور مستقبل کو دیکھ کر نظر رکھتا
ہے۔جب حال اور مستقبل سے نکل گیا تو اب یہ اندیشہ ہی ختم ہو جا ئے گا کہ کل کیا ہو
گا؟جب یہ اندیشہ ہی ختم ہو گیا کہ کل کیا ہو گا تو خوش ہو گا نا خوشی جو ہے وہ اس
بات کی ہے کہ کل کیا ہو گا؟ کل کیا ہو گا؟کل ہے ہی نہیں ہو گا کہاں سے ہر کل ماضی
ہے اب آپ اگلی کل کو کیوں دیکھتے ہیں پچھلی کل کوکیوں نہیںدیکھتے ایک تو یہ ہے کہ
ہے کہ ہر انسان کو مستقبل کے اندیشے کی وجہ ہو جائے گی اور مستقبل کو محفوظ کرنے
کے لئے وہ دو سری توقعات قائم کر ے گا۔
نہ
وہ کسی سے توقع قائم کرے نہ وہ کسی اندیشوں میں مبتلا ہوگا کہ کل میں بھوکا مر جا
ؤ ں گا بھئی کل تو بھو کا جب مر و گے جب کل آئے گی یہ تو ایک دھو کا ہے۔ اب روز
سورج نکل آتا ہے کہتے ہیں جی نیا سورج نکلا بھئی کیا نیا نکلا وہی زمین ہے وہی
درخت ہیں وہی زمین ہے ہر چیز وہی ہے اور اس کا نام کل رکھا ہوا ہے یہ دھو کا ہے تو
ایک بات میں آپ سے یہ عرض کر رہا تھا کہ میں آپ کو خوش رہنا ہے اور اس کا طریقہ
ہی یہ ہے کہ آپ مستقبل کے بارے میں کبھی نہیں سوچیں۔مستقبل کے بارے میں سوچنے کا
مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ ماضی کو یاد ہی کرتے رہیں کام ہی نہ کر یں یعنی مستقبل کے
اندیشوں میں مبتلا نہ ہو جب آپ کا ماضی اچھا ہے پچاس سال تک اگر کوئی آدمی جیا
تو آئندہ دسویں سال تک جئے گا نہ بھئی …تو پچاس سال کی زندگی آپ گزار کر آئیں
ہیں آپ اس کو یاد کر کے خوش کیوں نہیں ہوتے آئندہ جودس سال پتہ نہیں وہ آئیں
بھی یا نہ آئیں یہ بھی نہیںپتا پچاس سال تو آپ گزار چکے ہیں لیکن آئندہ دس سال
ہو سکتا ہے دو سال زندہ رہیں ہو سکتا ہے پا نچ سال زندہ رہیں ہو سکتا ہے دس سال
گزاریں لیکن یہ بے یقینی ہے جو ماضی آپ گزار چکے ہیں وہ تو آپ کا سارا کا سارا۔
تو رو حانیت میں مستقبل نہیںہوتا اگر آپ کو خوش
رہنا ہے تو آپ کو یہ عمل اختیار کر نا پڑے گا کہ ماضی میں جو اللہ تعالیٰ نے آپ
کے اوپر عنایات کئے ہیں ان عنایا ت کو یاد کر و جب بھی مستقبل کا اندیشہ ہو فو راً
اپنا ذہن ما ضی کی طر ف لیجا ؤ آپ کے
اندر سے اندیشے وسوسے اور خوفناک جو سائے بنا لئے ہیں وہ نکل جا ئیں گے اور اللہ
تعالیٰ ان کی حفاظت کر ے گا اور اگر آپ کو فی لواقع اس سے جو رو حانی خوشی کانام
ہے رو حانی خوشی آپ حاصل کر تے ہیں تو اس کے لئے ضروری ہے کہ خوشی اورغم دونوں سے
آپ آزاد ہے اب آپ رو زانہ رو ٹی کھا تے ہیں اس کے لئے کیا خوشی کی بات ہے سب ہی
روٹی کھاتے ہیںکتا بھی رو ٹی کھا تا ہے، بلی بھی رو ٹی کھاتی ہے درخت بھی کھا تے
ہیں اب آپ سو تے ہیں تو سب ہی سوتے ہیں آپ جا گتے ہیں ہر مخلوق جا گتی ہے آپ
کوئی بھی کام کرتے ہیں تو آپ کے بھا ئی انسان طرح طرح کے کام کر تے ہیں لیکن ان
کا موں کا فا ئدہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں آسانیاں ہیں اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے
جب آسانیاں آپ کو فراہم ہو گئیں بات ختم ہو گی اب آپ آگے گزر جا ئیے اور رو
حانی نقطہ نظر سے یہ ہے کہ آدمی کواللہ تعالیٰ نے جس طرح پیدا کیا ہے اور جس طرح
انسان کو بڑا کیا ہے اور جس طرح انسان کو اللہ تعالیٰ نے اس دنیا سے دوسری دنیا
میں واپس لیجا تا ہے اس چیز پر غور کیا جا ئے اور جس اس پر غور کیا جائیگا بار بار
آپ تفکر کریں گے تو اس سے آپ کے اندر ایک یقین کا پیڑن بنے گا اب انسان کچھ بھی
نہیں ہے جو کچھ اب اللہ کے یہاں خوشی نہیں ہوتی اللہ کو آپ دیکھیں اللہ خوش ہوتا
ہے تو اس کا مطلب ہے اللہ کے قانون کے مطا بق نااعوذ بااللہ، اللہ ناخوش بھی ہوتا
ہے یہ قانون اللہ کا بنا یا ہوا ہے نا ادھر خوشی ہو گی تو نا خوشی ضرور ہو گی اب
یہ نہیں اللہ بڑا خوش ہوتا ہے اللہ کے قانون کے مطا بق اللہ میاں نا خوش بھی ہو تے
ہونگے جب ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ ناخوش ہوتا ہے تو تو اس کا مطلب ہے کہ جس کیفیت
میں اللہ رہتا ہے وہ خوشی اور نا خوشی سے محفوظ ہے جب کوئی انسان خوشی اور نا خوشی
سے گزر کر اپنے آپ کو درو بست اللہ کے سپر د کر دیتا ہے تو وہ خوشی اور نا خوشی
دونوں سے آزاد ہو جاتا ہے اور اس کے اوپر ایک نور کی کیفیت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ
ہم سب کو توفیق عطا کرے کہ ہم اپنی زندگی کو با ر بار، بار بار اپنی زندگی کا مطا
لعہ کر یں اور اپنے ما ضی پر نظر ڈالیں جتنا آپ ما ضی کے اندر جا ئیں گے اتنا ہی
آپ خوشی اور نا خوشی دونوں سے آزاد ہو جائیں گے اور جتنا آپ مستقبل کے اندیشوں
میں مبتلارہے گے آپ کے اوپرکبھی خوشی مسلط ہو جا ئے گی کبھی نا خوشی مسلط ہو جا
ئے گیاور خوشی اور نا خوشی جو ہے دونوں جو ہیں وہ غیر مسلط ہیں۔
اانشا
اللہ پھر ملاقات ہو گی اللہ حافظ۔ختتام