Topics

کیا کوئی قوم عبادت سے ممتاز ہو سکتی ہے؟

 

 

جواب یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں اور اللہ پر بھی ایمان رکھتے ہیں جتنا کچھ ہو سکتا ہے عبادت بھی کرتے ہیں ہر طرح زکوۃ خیرات نماز جو بھی ہوتا ہے وہ کر ے ہیں اس میںیہ کہا جا سکتا ہے کہ بہت بڑی تعداد ہے مسلمانوں کی تو کا فی لوگ ایسے ہیں جو اللہ اور رسول کو مانتے ہیں اور ان پر اللہ پر اور اللہ کے رسول پر جان تک دینے کوتیار ہیں اس کے مظا ہرے بھی سمجھ میں نہیں آتے جب بھی کوئی ایسامسئلہ پیش آیا تو مسلمانوں نے یہ محسوس کیا کہ ہماری مالی اور جانی قربانی سے اللہ اور اللہ کا رسول خوش ہو گا تو انہوں نے نماز بھی پڑھوادی آذان بھی کر وادی ابھی کچھ عرصے پہلے کی بات ہے بارہ تیرا سال پہلے کی بات ہے لاہور میں تحافظ ختم نبوت کے سلسلے میں یہاں دس دس ہزار آدمی مر گئے اب یہ الگ بات ہے کس نے مار،ا اپنوں نے مارا۔

 اب یہ ہے کہ پھر کیا وجہ ہے کہ مسلمان ذلیل بھی ہے مسلمان بھکا ری بھی ہے یہ صحیح ہے اگر غیر مسلم قوم نے ہمیں سہا را نہ دیںاور ہماری امداد نہ کر یں تو نہیں کہا جا سکتا تو ا س کی دو ہی صورتیں ہیں ایک صورت تو یہ ہو سکتی ہے ہم جو عبادت کر تے ہیں اس کے مقبول ہی نہیں ہے اللہ کو دو سری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ہم جو عبادت وریاضت کر تے ہیں وہ عبادت وریاضت کے دائرے میں ہی نہیں آتی ہم سمجھ رہے ہیں وہ عبادت ہے ہم سمجھ رہے ہیں وہ اللہ کے سامنے جھکنا ہے ہم سمجھ رہے ہیں کہ جو ہم نے حج کیا وہ اسی طرح کا حج ہے جس طرح ہمارے اسلاف کرتے تھے ارکان تو وہی ہے نماز کھے لئے ارکان چودہ سو سال پہلے کی نماز آج بھی ہے،چو دہ سو سال پہلے آذان دی جا تی تھی آج بھی دی جا تی ہے، چو دہ سو سال پہلے جو قبلے کا رخ تھاوہ آج بھی ہے،پھر کیا وجہ ہے مسلمان ذلیل وخوارہے اس کی بات جو قرآن سے ثابت ہے وہ یہ ہے ہماری جو روزی ہے وہ حلال نہیں ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے واضع طور پر یہ قرآن پاک میں، حدیثوں میں، امام جتنے فقہ ہیں ہمارے علم میں یہ بات وضاحت کے ساتھ بیان کر دی گئی ہے کہ اسلام میں بنیادی بات یہ ہے کہ رزق حلال ہو، روزی حلال ہے،اگر رو زی حلال نہیں ہوتی تو نہ نماز کا کوئی فا ئدہ ہو گا نہ روزہ کا کوئی فا ئدہ ہو گا،نہ حج کا کوئی فا ئدہ ہو گادوسری بات اسلام یہ بتا تا ہے کہ سب سے بڑی چیز جو اسلام میں ہے وہ منافقت نہیںہو، اسلام جو ہے منافق کوکسی بھی حال میں پسند نہیں کرتا منا فقت کو اسلام جو ہے وہ قبول ہی نہیں کرتا تیسرا جو سب سے بڑا گناہ ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے میں دو گناہ معاف نہیں کر سکتا ایک شرک ایک حقو ق العبادتو اب یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہم شرک کے دائرے میںتو ہم نے کوئی قدم نہیں رکھ دیا اس لئے کہ حق تلفی بجا ئے خود برابر ہے شرک کے اللہ تعالیٰ نے دو گناہ معاف نہیں کرو ںگا ایک شرک ایک حقو ق العبادیعنی شرک اور حق تلفی دو نوں برابر برا بر کے ہیں تو اب یہ بھی دیکھنا ہے مسلمانوں میں کہیں شرک کا اظہار تو نہیں، یہ کیا چیزیں ہمارے سامنے آئی ایک رزق حلال دوسرا منافقت سے بچنا تیسرا یہ کہ کسی کی حق تلفی نہ کر نا چو تھا یہ ہے کہ کسی کا حق نہیں مارنا۔

 اگر یہ چار چیزیں مسلمانوں کے اندر ہیں تو وہ مسلمان کہلا نے کا مستحق ہے اور اگر یہ چار چیزیں مسلمان کے اندر نہیں ہیں وہ خود کو تو مسلمان کہے رہا ہے لیکن وہ مسلمان ہے یا نہیں ہے اس کا فیصلہ اللہ جانتا ہے اب ہم رو زی کے اوپر آتے ہیں اس وقت ہماری جو معیشت ہے وہ سودی معیشت ہے۔ بینک میں سود، گھر جتنے بنے ہو ئے ہیں وہ سود سے، گاڑیاں جو ہمارے چلانے کے لئے ہیں وہ بھی سود کے اوپر ہیں۔ ہر جگہ سود ہی سود ہے۔

یعنی جہاں بھی بات جا ئے گی وہ ہر چیز سود کے اوپر ہے اور سود کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضع طور پر قرآن پا ک میں یہ کہے دیا ہے کہ جو لوگ سود لیتے ہیں اور جو لوگ سود دیتے ہیں وہ میرے کھلے دشمن ہیں تو اب دشمنی دانستہ ہو رہی ہے دشمنی نا دنستہ ہو رہی ہے یہ دشمنی مجبوراً ہو رہی ہے لیکن دشمن ہی دشمن ہیں تو جب اللہ تعالیٰ یہ واضع طور پر ڈیکٹریٹ کر رہا ہے سودی نظام پر چلنے والے لوگ میرے دشمن ہیں تو اب ہماری روزی ہی حلال نہیں ہے سود کو اللہ تعالیٰ ہمیں دشمن اپنا کہے رہا ہے تو ہماری ان نمازوں کا، ہمارے ان روزوں کا، ہمارے حج کا، ہماری زکوٰۃ کا کیا فا ئدہ ہوا،اللہ تو ہمیں دشمن کہے رہا ہے اور ہم وہ سب کام کر رہے ہیں جو اللہ کے لئے نا پسندیدہ ہیں تو یہ کیا بات ہوئی اللہ اپنے دشمن کے عمل کو قبول کیسے کر ے گا؟

 ایک جگہ ہمارے مسلمانوں کی زبوحالی ہے پر یشانی ہے ذلت اور خواری کا باعث ہیں یہ سود ہے یہ تو آپ کا ایک روزی کا معاملہ آگیا اب آپ کہے جی یہ تو مجبوری ہے کہ صاحب وہ سود کے بغیر کام ہی نہیں سکتا تو اللہ جو ہے اللہ اس مجبوری کو نہیں مانتا، مجبوری نہیں ہے آپ نے خود معیشت کوبنایا ہے ایسی معیشت آپ نے بنائی ہے کہ آپ جو ہیںاس میں پھنس گئے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو وسائل کی کمی نہیں ہے آپ اپنے گیس نکا لے اپنے یہاں انڈسٹریاں قائم کر یں بے ایمانیا ں چھوڑ دیں کمیشن چھوڑ دیں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہو جا ئیں گے۔جس میں یہ سود کی لعنت دی جا رہی ہے اور جب سود کی لعنت سے جان چھوڑ جا ئے گی تو آپ اللہ کی دشمنی کے دائرے سے باہر نکلیں گے۔ اب آپ غور کریں ایک آدمی آپ کا دشمن بھی ہے اور وہ دوست بھی ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے یعنی کوئی آدمی آپ کا دشمن ہے اور وہ ثابت بھی ہو گیا دشمن ہے اس نے کہے بھی دیا میرا دشمن ہے اور آپ اس کے بارے میں یہ کہے کہ وہ دوست ہے تو کیا وہ خوش ہو گا؟

۔ اب آجا ئیے اس کے منافقت پر یہاں مسلمانوں کا جو حال ہے زبان سے کچھ اور کہتے ہیں عمل کچھ اور کر تے ہیں پوری قوم کا یہ حال ہے جھوٹ جو ہے اس کی زندگی میں سرائیت کر دے گا۔ ہمارے حضورقلندر بابااولیا ء ؒ فرمایا کر تے تھے بڑے دکھ کے ساتھ کہ مسلمانوں کا عجیب حال ہے کہ جھوٹ بولتے ہیں بغیر ضرورت کے، فیشن کے، بھئی، جھوٹ بو لنے کے بعد ایک پیا لی چا ئے مل جا ئے توصبر تو آجا ئے چا ئے مل گئی ہے ایک پیالی۔ اب ہماری جو قوم ہیں اس میں ہر آدمی اپنے اپنے گر یبان میں منہ ڈال کر دیکھ سکتا ہے ہم لوگ بلا ضرورت اپنے عادتاً جھوٹ بولتے ہیں، کوئی اپنی نمائش کے لئے جھوٹ بو لتا ہے،کوئی خوش آمد میں خوش کرنے کے لئے جھوٹ بولتا ہے، کوئی کسی کو اذیت پہچا نے کے لئے جھوٹ بولتا ہے،کوئی اپنے اوپر پر دہ ڈالنے کے لئے جھوٹ بو لتا ہے، مقصد یہ ہے کہ کسی نہ کسی عنوان سے اس کی زندگی میں جھوٹ کا عمل داخل ہے۔

 ایک ہزار آدمی اگر اپنا محاسبہ کریں تو میرا اندازہ پانچ دس آدمی ایسی نہیں نکل سکتے جن کی زندگی میں جھوٹ کا عمل داخل نہ ہو تو جھوٹ جو ہے اصل منافقت ہے تو منا فقت کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ اب حقو ق العباد پر آجائیے آپ حقو ق العبادکا یہ حال ہے کہ سب سے قریب ترین رشتہ جو ہے میاں بیوی کا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس رشتے کے بارے میں یہاں تک فرما دیا کہ بیویاں تمہارا لباس ہیں اور شوپر بیویوں کے لباس ہیں اس سے زیادہ قربت کا کوئی اور طریقہ نہیں تھا۔ میاں بیوی ایک دوسرے کا لباس ہے۔ اب آپ دیکھئے یہ میاں بیوی کوئی گھر شاید ہی ایسا ہو گا جہاں میاں بیوی لڑتے نہ ہوں اور ایک دوسرے سے پیار بھی کرتے ہوں ہر ہرگھر میں لڑائی ہے میرا خیال ہے اگر سو گھر آپ لیں تو مشکل سے ایک دو گھر بڑی مشکل ایسے نکلیں گے جہا ں میاں بیوی آپس میں لڑتے نہ ہوں۔ اس لڑا ئی کی بنیاد پر دانستہ طور پر نا دانستہ طور پر بیوی شوہر کی حق تلفی کر رہی ہے اور شو ہر سے بیوی کی حق تلفی ہو رہی ہے۔

جب یہ میاں بیوی کی آپس میں حق تلفی ہو رہی ہے تو پھر اولاد بھی ویسے ہی نکلتی ہے۔اور اولاد سے والدین کی حق تلفی کرہی ہے اور والدین سے اولاد کی حق تلفی کر رہی ہے تو اب اس کا مطلب یہ ہو ا ہم نے وہ گناہ اپنے اندر داخل کر لیا ہے کہ جس کے بار ے میں اللہ تعالیٰ نے کہا یہ گناہ میں معاف نہیںکر دو ں گا۔ اب آپ ایسا گناہ کر رہے ہیں کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے واضع طور پر یہ اعلان کر دیا میں اس کو معاف نہیں کرو ں گا۔اور پھر اللہ تعالیٰ کی آپ عبادت بھی کر رہے ہیں تو یہ کیا بات ہے؟ اب شرک پر آجائیے اور اللہ تعالیٰ نے کہا شرک کو معاف نہیں کرو گا، مشرکین کے لئے دو عذاب کی دلیلیں ہیں آپ سب لوگ جانتے ہیںاب شرک کا ہمارا یہ حال ہے کہ ہم اللہ کا تو تذکرہ کر تے ہیں کہ اللہ بڑا ہے اللہ رازق ہے اللہ قادر مطلق ہے لیکن ایمانداری کی بات یہ ہے کہ اللہ کا تذکر ہ ہم زبانی کر تے ہیں۔

رازق ہم اپنی سیٹھ کو، اپنے باس کو، اپنی گو رئمنٹ کو اور اپنے ان لوگوں کو جو ہمیں مہینے کے بعد ہمار ے ہاتھ پر تنخواہ رکھتے ہیں ان کو سیٹھ ناراض ہو جائے گا نکال دے گا۔ سیٹھ کچھ کرے گا تو تر قی ہو جا ئے گی کچھ کریں گے تو کھائیں۔جبکہ آپ کی زندگی میں یہ بات داخل ہے آپ اس حالت میں سے گزر چکے ہیں کہ اللہ نے جب بھی آپ کو رو زی فراہم کی ماں کے پیٹ میں، آپ کو روزی فراہم کی اور سو لہ سترہ سال تک اللہ تعالیٰ نے آپ کو روزی فراہم کی، اللہ تعالیٰ نے کسی کی چھتیس سال عمر ہے، کسی کی پچاس سال عمر ہے،کسی کی پچیس سال کی عمر ہے ہر شخص اس بات پر غور کرسکتا ہے کیا پچیس سال کی عمر میں کبھی وہ بھو کا سو یا ہے؟ کیاپچیس سال کی عمر میں کبھی وہ ننگا رہا ہے؟،کیا پچیس پچاس یا ساٹھ سال کی عمر تک کبھی وہ بے گھر رہا ہے؟تو ایک جواب ہوگا ایسا نہیں ہے۔ تنگی تر شی ایک الگ بات ہے کبھی ایسا نہیں ہو ا آدمی بھو کا رہا ہویا بغیر گھر کے رہا ہوگھر چھوٹا بڑا ہو سکتا ہے لیکن چھت ایسے ضرور ملے گی تو جس اللہ آپ کو ان حالا ت سے گزادیا۔

 جب آپ کسی قابل نہیں رہے آپ کی نگہبانی کی، آپ کو رزق فراہم کیا، آپ کو وسائل فراہم کئے، آپ کو گھر دیا، آپ کوماں باپ دئیے، آپ کو بیوی دی، آپ کوبچے دئے۔ اب آپ تیس سال کی عمر کے بعد یہ کہے صاحب اب ہم کچھ کر یں گے نہیں تو کھا ئیں گے کہاں سے…؟تو یہ بہت بڑی ناانصافی اور ظلم ہے اللہ رازق ہے۔ اللہ خیر الرزقین۔۔اب یہ کہنا اللہ ہمارا رازق ہے محض زبا نی اور عملا ً اس کے خلا ف ہو نا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کا جو ذکر ہے وہ آپ دل کے ساتھ نہیں کر رہے اس کا تعلق الفاظی سے ہے۔

 

Topics