Topics
(کراچی
مراقبہ ہال کے سنگ بنیاد کے موقع پر)
اعوذ
با اللہ من الشطین الرجیم
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
تلاو
ت سورۃ القران …تلا وت الحمد …
معززحضرا
ت گرا می قدر صدراور معززمہمان اور حاضر ین مجلس خواتین و حضرات میرے بزرگوں میرے
بھائیوں میرے بہنوں او ر میری بیٹیوں السلام و علیکم… آپ حضرا ت دور داز سے سفر
اختیار کر کے اس بیا بان میں محض اللہ کے لئے تشریف لا ئے اس کے لئے آپ کا شکر
گزار ہوں اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جذبے کو قبول فر ما ئے اورہم سب
آقا نامدار تاجدار مدینہ محمد رسول اللہ ﷺ کی نظروں کے سامنے آجا ئیں اللہ ایسا
کر ے جس طرح ہم ایک دو سرے کو دیکھتے ہیں اس طرح ہم اپنے آقا نامدار تا جدار
مدینہ محمدرسول اللہ ﷺ کو بھی دیکھیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ انہو نی بات
ہو، اگر ہم اپنے ا ند ر تھوڑا سا غورفکر کر یںاور کھوج لگائیں تو یہ بات بہت آسان
ہے کہ ہمارے اندر کی نظر جب کھل جا تی ہے تو غیب سے پر دے ہٹ جاتے ہیں اور جب غیب
کے پر دے ہٹ جا تے ہیں تو رسول اللہ ﷺ کو ہم اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح ہم اس وقت
ایک دو سرے کو دیکھ رہے ہیں جب نظر میں او ر وسعت پیدا ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺکی
نسبت حاصل ہو جاتی ہے تو ہم اللہ کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح ہم سب آپ ایک
دوسرے کو دیکھتے ہیں اور یہ ایسی بات نہیں ہے کہ جس کو آپ کہا نی کہے یا جس کو
آپ خواب و خیال کی با تیں، ایسا نہیں ہے رسول اللہ ﷺ نے معراج میں اللہ تعالیٰ کو
دیکھا اللہ تعالیٰ سے باتیں کیں راز و نیا ز کی با تیںکیں اور اللہ تعالیٰ نے اس
راز و نیاز کو مستند بنا نے کے لئے خو د فرمایا ما …کہ میرے بندے نے جو کچھ دیکھا
اور میں نے اپنے بندے سے جو کچھ باتیں کی وہ خواب و خیال نہیں ہے میں اس کی تصدیق
کرتا ہوں میرے بندے نے جو دیکھا جھوٹ نہیں دیکھا اصل دیکھا ہے خواب میں نہیںدیکھا،
خیال میں نہیں دیکھا۔
آنکھوں سے دیکھا ہے۔ معراج کا مفہوم ہے غیب کی
دنیا میں سفر کر نا معراج کے معنی ہیں وہ آنکھ کھل جا نا جس آنکھ سے آدمی غیب
کی دنیا کا مشا ہدہ کرتا ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو ایک پرو گرا م دیا اور اس
پروگرام کے بارے میں فر ما یا الصلوٰۃ معراج المومینین کہ جو آدمی نماز یا صلوٰۃ
قائم کر لیتا ہے اس کو معراج حاصل ہو جا تی ہے یعنی کوئی بندہ صلوٰۃ کے ذریعے غیب
کی دنیا میں داخل ہو کر رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہو جا تا ہے اور اللہ تعالیٰ
کو بھی دیکھ لیتا ہے لیکن جب ہم چودہ سو سال کی تاریخ کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے
سامنے یہ با ت آتی ہے کہ ہمارے بزرگ بھی نماز پڑھتے تھے، ہمارے بزرگ بھی روزے
رکھتے تھے،ارور ہمارے اسلاف کا یہ کا رنامہ تھا کہ وہ اسلام کے ایک ایک رکن کو پو
را کرتا تھے، جو کام چو دہ سو سال پہلے ہمارے اسلاف کر تے تھے وہی کام ہم بھی کر
رہے ہیں لیکن فرق یہ ہے جب یہی کام ہمارے اسلا ف کر تے تھے ان کو اللہ تعالیٰ نے
عزت دی تھی، وقار دیا تھا اور ساری دنیا میں ان کی حکمرا نی قائم تھی وہی کام جو
ہمارے بز رگ کر تے تھے ہم بھی کر رہے ہیں لیکن ہم ان کاموں کے نتیجے میں ذلیل خوار
ہیں، پر یشان ہیں، بد حال ہیں اور غیروں کی خیرات لینے پر محتاج ہیں۔
میں یہ سمجھتا ہوں آج کی مجلس میں ہم سب اس بات
پر غوروفکر کریں آخر کیا وجہ ہے جب ہمارے اسلاف بھی نماز قائم کر تے تھے اللہ
تعالیٰ ان کو عروج بخشتا تھا اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنا عروج بخشا کہ دنیا کے ہر
کو نے میں اسلام کی حکمرا نی قائم ہوتی ہے وہی نمازیں جو ہمارے اسلاف پڑھتے تھے ہم
بھی پڑھتے ہیں یہ آج کی نشست میں اگر اس پر سوچو وبچار ہو جا ئے اورمسئلے کا کوئی
حل نکل آئے تو میں سمجھتا ہو ںآپ سب حضرات کو اتنی دور داز سے آنا کارآمد ثابت
ہو جا ئے گا اس وقت کوئی نتیجہ نظر آئے گا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پا ک میں فرمایا
’’کہ ہم نے تمہارے لئے زمین آسمان اور اس کے اندر جو کچھ تھا مسخر کر دیا‘‘۔ ہم
جب اپنے اوپر غور کرتے ہیں تو ہماری صورت یہ ہے کہ جب ہم تو چیونٹی کاٹ لے تو اس
سے بھڑک جا تے ہیں مسخر ہونا تو بڑی بات ہے مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس
کائنات کو آپ کے لئے بنایا ہے اور اللہ تعالیٰ چا ہتے ہیں اس کائنات پر آپ کی
حکمرا نی ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں الشمس و قمر …ہم نے تمہارے تابع کر دیا ہے
سورج کو، تمہارے تابع کر دیا ہے چاند کو،تمہارے تابع کر دیا ہے نجوم کو۔
لیکن ہماری صورت یہ ہے کہ ہماری بے بسی کا حال
یہ ہے کہ ہم تو اتنے بے بس اور مجبور ہیں کہ عزت کی روٹی بھی نہیں کھاسکتے امریکہ
سے ایڈ آئے گی تو روٹی کھا ئیں گے امریکہ سے ایڈ آئی گی تو ہمیں تنخواہ ملیں گی۔
ہمارے معاشرتی نظام کا یہ حال ہے کہ قرآن کہتا ہے سود حرام ہے اور جو لوگ سودی
کاروبار کر تے ہیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ دشمنی کر تے ہیں۔ حال یہ ہے کہ ہماری معیشت
کا کوئی پہلو ایسا نہیں ہے جس میںسودی نظام قائم نہ ہو اورسودی نظام جو ہمیں ملا
ہے وہ اقوام غیر سے ملاہے جب ہم علم کی طرف آتے ہیں تو ایک وقت تھاکہ مسلمان
ہمارے بزرگ جو ہیں ایجادات کر تے تھے۔ بڑی بڑی ایجادات مسلمانوں نے کیں اور آج یہ
وقت ہے ہم ان کے محتاج ہیں، امریکہ کے محتا ج ہیں، فرانس کے محتاج ہیں، جرمنی کے
محتاج ہیں، علم وہاں سے آجا ئے تو ہم کچھ پڑھ سکتے ہیں، وہ علم وہاں سے بھیجنا
بند کر یں دیں تو ہم علم بھی نہیں حاصل کرسکتے۔
ہم تو علم میں بھی فریب کر تے ہیں اللہ تعالیٰ
قرآن پاک فرماتے ہیں انا فی ذلک لا یا …یہ اللہ تعالیٰ کی جو نشانیاں ہیں یہ اللہ
تعالیٰ کا جو کائناتی سسٹم ہے اللہ تعالیٰ کا جو کائناتی نظام ہے یہ ان لوگوں کے
لئے ہے جو فکر سے کام کرتے ہیں جو تفکر کر تے ہیںاور یہ وہی نقطہ ہے جس کی طرف
ابھی میں نے آپ سے اشا رہ کیاتھا کہ ہمارے اسلاف میں اور ہم میں فرق یہ ہے کہ وہ
اس عمل کے ساتھ ساتھ تفکر کرتے ہیں اور ہمارے اندر سے تفکر نکل گیا ہے۔ نماز وہی
ہے، قرآن وہی ہے، روزہ وہی ہے، حج وہی ہے، زکوٰۃ وہی ہے،قرآن کے معنی وہی ہیں با
ت صرف اتنی ہے کہ ہم نے اپنے اسلاف کے اس ورثے کو جس کو ہم تفکر کا نام دے سکتے
ہیںچھوڑ دیا۔
اب ہم اس لئے ذلیل و خوار ہیں اور اس لئے پر
یشان ہیں اور اس لئے غیر قوموںکے محتا ج ہیں یعنی علم کے محتاج ہیں کہ ہم نے اپنے
اسلاف اور بزرگوں کی اس روایت کو چھوڑ دیا ہے جس روایت کا نام تفکر ہے اللہ
اتعالیٰ قرآ ن پاک میں فرما تے ہیں تفکرون، …تقلون …تعلمون …یعلمون …قرآن کے
معنی اورمفہوم کو سمجھنے کے لئے آپ کنسٹریشن کی ضرورت ہے،آپ کو سوچ وبچار کی
ضرورت ہے، آپ کوفکر کی ضرورت ہے اور اگر آپ کے اندر فکر نہیں ہے اگر تفکر نہیںہے
تو دنیا کی کوئی طا قت آپ کو قرآن نہیں سمجھا سکتی اور جب آپ قرآن نہیںسمجھیں
گے تو ظا ہر ہے آ پ ذلیل وخوار اس لئے ہو نگے کہ آپ کے بزرگوں کا یہ ورثہ ہے کہ
قرآن کو تفکرکر کے سمجھیں اور قرآن میں سے ہی وہ ساری ایجادات اور سارے فارمولے
نکالتے تھے اور نئی نئی سائنسی ایجا دات کر تے تھے۔ابھی میں آپ سے عرض کررہاہو
ابھی میں امریکہ کے دورے پر گیا تھا وہاں اسٹیسٹ میں،میں گیاتو میں نے وہاں غور سے
دیکھا کہ ان کی ترقی میں بنیادی عنصر کیا ہے مادی طور پر ان کی ترقی میں بنیادی
عنصر کیا ہے؟
تو
میں نے ان کی ترقی میں بنیادی عنصر دیکھا لو ہا۔ اگر ایک سو دس منزل عمارت ہے تو
ایک سو دس منزل عمارت لو ہا ہے اگرانڈر گراؤ نڈ ریلوے اسٹیشن ہے پانچ پا نچ منزل
تین تین منزل تو وہ ساراکا سارا وہ لو ہے پر کھڑا ہوا ہے اوپر نیچے وہ لو ہے کے
بنے ہو ئے ہیں ہو ائی جہاز دیکھے وہ لوہے کے بنے ہو ئے ہیں،جتنی مشنیں ہیںوہ آپ
سب دیکھیں وہ لو ہے کی بنی ہوئی ہیں یعنی ان کی تر قی کا بنیا دی عنصر مادی طور پر
لوہا ہے۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ قرآن پا ک میں فرما تے ہیں وانزلہ …کہ ہم نے لو ہا
نازل کیااور اس میں انسانوں کے لئے بے شمار فوائد رکھ دئیے ہے کوئی ڈھونڈ نے والا۔
میں نے یہ سمجھتا ہو ں وہاں کے کسی سائنٹسٹ نے
انگریزی میں قرآن پڑھا اور جب وہ اس آیت پر آیا کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے رہے ہیں
ہم نے لو ہا نازل کیا وراس میں انسان کے لئے بیشمار فوائد ہیں تو اس پر ریسرچ کرنی
چاہئے سائنٹسٹ نے اس پر غور کریں، سائنسی ایجادات میں آپ کو ہر ایجاد کسی نہ کسی
طرح لو ہا ملے گا بجلی کا تا ر لے لیں، کھمبے لے لیں،ریلوے کے پٹری لے لیں،بسیں لے
لیں،آپ کی یہ کا ریں لے ہیں،ٹیکسیاں آپ کے پل آپ کی بلڈنگیں کس جگہ آپ کو لو
ہے کا وجود نہیں ملے گا آپ کس جگہ لو ہے کے وجود سے انکا ر کر سکتے ہیں اللہ
تعالیٰ فر ما تے ہیں نا النزلہ …اے لوگوں غور کر و اللہ کی نشا نیوں پر اس کے اند
ر تفکر کر و اگر تم اس لوہے کے اندر تفکر کرو کے تو اس لو ہے کی صلاحیت ہے اور
لوہے کے اندر جو اللہ تعالیٰ نے مختلف شخص،مختلف روپ میں ڈھلنے کی جو صلاحیت رکھی
ہے وہ آپ کے ساتھ ہے تو بنیا دی وجہ جو ہمارا اس وقت جو زوال پذیر ہو نے کا جو
بنیادی سبب ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے قرآن پاک میں تفکر کر نا چھوڑ دیا ہے اور غیر
قوموں میں اگر تر قی کا کوئی راز ہے وہ تفکر ہے کوئی بھی سائنسی ایجادات بغیر تفکر
کے ممکن ہی نہیں ہے اگر آپ ٹیلفون پر غور کر یں توایک آدمی کے ذہن میں خیال آیا
کہ صاحب ایسا کوئی آلہ بنا نا چا ہئے کہ آواز جو ہے وہ دور دراز پہنچ جائے اس نے
سو چا سوچا پھر دوسرے آدمی نے سو چا پھر تیسرے آدمی نے سوچا ٹیلفون ایجا د ہو
گیا پھر دوسرے آدمی نے کہا ٹھیک ہے آواز تو ٹیلفون کے ذریعے پہنچ سکتی ہے اب
کوئی ایسی بھی صورت ہو نی چا ہئے ہزاروں میل دور ہم تصویر بھی دیکھا دیںتو جناب
دماغ سو چنے شروع ہو گئے انہوں نے ٹی وی نکا ل دیا تو کتنی بھی اس وقت سائنسی تر
قی ہے اس ترقی کی بنیاد صرف اور صرف تفکر ہے اور قرآن تفکر کے علاوہ کچھ نہیں ہے اگر
قرآن کے اندر مسلما ن تفکر نہیں کریں گے تو جتنے اب ذلیل ہیں، اتنے اور زیادہ
ذلیل و خوار ہو جا ئیں گے کہ اللہ تعالیٰ زمین سے ان کا نام و نشان مٹا دیں گے
اللہ تعالیٰ آپ کے رشتہ دار نہیں ہیں۔
اللہ
تعالیٰ حاکم ہے اللہ تعالیٰ ما لک ہیں رب ہیں اللہ تعالیٰ کے نظام میں اگر آپ
غوروفکر سے کام لیکر اللہ تعالیٰ کے بتا ئے ہو ئے راستے پر چلے گے االلہ تعالیٰ کا
بتا یا ہوا راستہ کیا اللہ کی نشانیوں میں غو ر کریں کا ئنات کے نظام پر تفکرکر
یں۔ دیکھو یہ کہکشانی نظام کس طرح قائم ہے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں دیکھو ہم نے
آسمان کو کس طرح بلند کر دیا اس میں کوئی ستون ہی نظر نہیں آتا ولجبلا…اور دیکھو
ہم نے پہاڑوں کو کیلیںبنا کر نوکیں بنا کر کس طرح زمین مین گاڑ دیا ہے۔دیکھو ہم
زمین کو کس طرح غار بن کر تمہارے لئے تمہارے آرام کے لئے تمہارے بچوں کے لئے
آرام کی جگہ بنائی۔ تمہا ری کھیتی با ڑی کے لئے وہ سب دے دی اور زمین کو ہم نے اس
طرح بنا دیاکہ نہ اس کو اتنا نرم کر دیا ہے کہ تم اس کے اندردھنس جا ؤ نہ ا س کو اتنا سخت کر دیا ہے کہ تم ٹھوکر کھا
کھا کر گرو اور تمہارے جسم سے خون بہے یہ ساری باتیں اللہ تعالیٰ اس لئے بتاتے ہیں
کہ ہمارے اندر تفکر پیدا ہو اور آپ دیکھ رہے ہیں جب قوموں میں تفکر ہے وہ تر قی
یا فتہ ہیں اور جن قوموں کے اندر سے تفکر نکل گیا وہ قومیں سب کی سب ذلیل و خوار
ہیں۔
حضور
قلندر باباااولیاء ؒ کو اللہ تعالیٰ نے ہزراوں سال کے رہنے والے مفلس و افلاس
بندوں کی تر بیت کے لئے پیدا کیا۔اللہ تعالیٰ کو رحم آگیا انبیاء تو آنہیں سکتے
نبوت تو ختم ہو گئی اللہ تعالیٰ نے اس نبوت کے سلسلے کو جا ری کرنے کے لئے انبیاء
کے تربیت یافتہ گروہو ںکو اپنی مخلو ق کی ہدایت کے لئے بھیجنا بند نہیں کیا۔نبوت
ختم ہو گئی لیکن چودہ سو سال سے اللہ کے رسول کے دوست اور اللہ کے رسول کے علوم کے
وارث برابر تشریف لارہے ہیں اور وہ ہی بات کہے رہے ہیں جو نبی کہا کر تے تھے تو
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں قلندربابااولیا ء ؒ کو پیدا کیا اور ان کو ایسی
تعلیمات کو پر چار کرنے کا شعبہ دیا جن تعلیمات میں سائنس ہو، روحانی کو اس طرح
بیان کیا جائے کہ وہ سائنسی نقطہ نظر سے لوگوں کے سامنے آئے اور لوگوں کا جو
سائنسی نقطہ بیدار ہو گیا ہے۔
وہ
شعور کے مطابق ہو، لوگ اگر چاہئیں تو اللہ کی نشانیوں پر غور کریں اور اللہ کے
نظام میں شریک ہو جا ئیں میں آپ سے عرض کروں ایک شعبہ تکوین ہیں اللہ تعالیٰ کے
بندے ہی اس کو چلا تے ہیں میرے حضور قلندر بابااولیا ء ؒ کے زمانے میں تعلیم کے
مطا بق مجھے بتایاکہ یہ کائناتی نظام کچھ اسطرح ہے ایک کتاب میں تیس کروڑ لوح محفو
ظ ہیں، ہر لوح محفوظ پر اسّی ہزارحضیرے ہیں اورایک حضیرے میں کم از کم ایک کھرب
مستقل نظام شمسی ہیں،اور ہر نظام شمسی میں کم از کم سات اور زیادہ سے زیادہ تیرا
سیارے ہیں۔
اب غور کریں آپ حساب کریں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا
نظام کس طرح چل رہا ہے اور کس طرح کا ہے یہ نظام فرشتے نہیں چلاتے یہ میں آپ سے
عرض کر رہا ہوں یہ نظام فرشتے نہیں چلا تے یہ نظام بندے چلا تے ہیں اسی بات کو
اللہ تعالیٰ نے فرماتا از قال ربک الذی ملا ئکتہ …فی الارض خلیفہ وقالو تجلو
…معالا تعلمون…وعلما …ثم ردنہ …صدیقین …قالو سبحان …انا قا انت العلیم حکیم…اللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک کا ئناتی نظا م بنائے اور وہ کائناتی نظام اس طرح
بنایا کہ میں اس نظام کوچلا نے کے لئے انسانوں میں سے خلیفہ بناؤ ں، اپنا نائب
بناؤ ں، فرشتوں سے کہا فرشتوں یہ جو میں نے نظام قائم کیا ہے کا ئنات کا اس کو
انسان چلا ئے فرشتوں نے کہا اللہ میاں جس انسان کو نظام کائنات چلا نے کے لئے
منتخب کیا ہے وہ تو فساد کرے گا وہ تو خون خرابہ کرے گا۔
اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ السلام کو اپنی صفات
سیکھا ئی یعنی اللہ تعالیٰ نے کائنات کے تخلیقی فارمولے آدم کو سیکھائے اور آدم
نے کہا اے آدم بیان کر کا ئنات کے تخلیقی فارمولوں کو بیان کر جب آدم نے کا ئنات
کے تخلیقی فارمولوں کو بیان کیا تو فرشتے دم بخود رہ گئے اور انہوں نے کہا بے شک ہم نہیں جا نتے ہم
تو اتنا ہی جا نتے ہیںجتنا آپ نے ہمیں بتا دیا ہے اور اس کے بعد فرشتوں نے آدم
کی حاکمیت کو قبول کر لیا دیکھئے اس آیت سے یہ نقطہ نکلتا ہے کہ ا نسان کا شرف یہ
ہے کہ اسے یہ علم آتا ہو جو فرشتے نہیں جا نتے اب غور کریں انسان پھر اس بات کو
غور کر یں فرشتوں نے کہا صاحب یہ خون خرابہ کر ے گا اللہ تعالیٰ نے کہا اے آدم تو
بیان کر ہم نے تجھے کیا سیکھا یا ہے، ہم نے تجھے اپنے آسماء اور اپنی صفات
اورتخلیقی فارمولوں کا جو علم سیکھا یا ہے وہ فرشتوںکے سامنے بیان کر، آدم نے جب
تخلیقی فارمولوں کا علم فرشتوں کے سامنے بیان کیا تو فرشتوں نے آدم کو سجدہ کر
لیا یعنی آدم کو اپنا حاکم تسلیم کر لیا تو انسان کا شرف یہ ہے کہ انسان کو اللہ
تعالیٰ نے وہ علوم عطا کر دئے نہ وہ علوم جنات کو حاصل ہیں نہ وہ علوم فرشتوں کو
حاصل ہیں اگر وہ علوم حاصل ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کوحاصل ہیں یا آدم کو حاصل ہیں
ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے انہی علوم کو بھلا دیا ہے اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں
تخلیقی فارمولے سیکھا ئے جو کائنات سے متعلق وہ ہم نے بھلا دیئے ہیں اور ہمارے
اسلاف اور ہم میں یہ فرق ہے کہ ہمارے اسلاف ان علوم کو جانتے تھے ان علوم پر تفکر
کرتے تھے نتیجے میں وہ ساری دنیا پر حاکم تھے ساری د نیاپر قبضہ تھا۔
تو ان علوم کو حاصل کرنے کے لئے سب سے پہلی بات
قرآنی نقطہ نظر سے یہ ہے کہ ہم تفکر کر یں وہ سب سے پہلے تو ہمیں یہ سوچنا چا ہئے
بھئی ہم گیارہ سال سے روزے بھی رکھ رہے ہیں نمازیں بھی پڑ رہے ہیں آخر اس کا
نتیجہ کیوں مرتب نہیں ہوا ہم روز بروز ذلیل و خوارہی کیوں ہو رہے ہیں تو پہلے تو
یہ غور کرنا چا ہئے ہم غور کریں گے تو آپ کے سامنے ایک ہی بات آئے گی ہمارے بزرگ
ہمارے اسلاف جو عمل کرتے تھے اس میں تفکر بھی کر تے تھے اس کی حکمت پر بھی غور
کرتے تھے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ انرسے، اپنے اندر سے، اپنی روح سے اور اللہ
تعالیٰ کے علوم سے واقف تھے جن علوم کی بنیاد پر فرشتوں نے انسان کو سجدہ کیا اب
پہلی تو یہ بات ہے تفکر۔ اب صاحب تفکر کر یں اب تفکر کے بعد کیا نتیجہ کیسے مر تب
ہو گا تفکر کو آگے کیسے بڑھا ئیں تفکر کو آگے بڑھانے کے لئے بھی بہرحال ہمیں
انبیا ء کی اور پیغمبروں کی زندگی سے ہی راستہ ملے گا۔
رسول اللہﷺ کی زندگی ہم سب کے لئے ہے مشعل راہ
ہے۔ رسول اللہ ﷺ مکے میں میلوں دور ایک اونچی پہاڑی غار پر تشریف لیجا تے تھے وہاں
مراقبہ کر تے تھے، مراقبہ کا مطلب ہے تفکر کر نا غوروفکر کر نا اللہ کی آیت پر
اللہ کی کائنات پر غوروفکر کر کے کسی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کر نا، رسول اللہ ﷺ
نے جب مرا قبہ کیا سالوں کیا، اس مرا قبے کے کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت
جبرا ئیل علیہ السلام کی ڈیوٹی لگادی اے جبرائیل جا اور ہمارے بندے سے کہے اقراء
بسم ربک …رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں پڑھا ہوا نہیں ہو ں جبرا ئیل نے کہا آپ کا رب
ایسا ہی چا ہتا ہے کہ آپ پڑھیں اس مرا قبہ کے نتیجے میں رسول اللہ ﷺ امی ہے جو خط
لکھنا نہیں جا نتے جو دستخط کر نا نہیں جا نتے قرآن جیسی کتا ب آپ سامنے ہے یعنی
مراقبہ ایک ایسی چیز ہے اگر ہم اس کو اپنا لئے تو اسکے نتیجے میں ہمارے ایسے درچے
کھل جا تے ہیں جو جبرائیل کو دیکھتے ہے، جو درچے فرشتوں کو دیکھتے ہیں،جو درچے جنت
کی ایک ایک حصے کو، جنت کی ایک ایک زون کو جو درجہ بندی ہے جنت کی اس کو دیکھتے
ہیں ہماری کوشش اور جدوجہد کا آغاز تقریباً بیس سال پہلے ہوا میرے مر شد کر یم
قلندر باباولیا ء ؒ نے مجھے یہ علم سیکھا یا مرا قبہ کا۔
آج میں برملا اس بات کا اعلان کرتا ہوں فقیر
بندہ جو آپ کے سامنے کھڑا ہوںکبھی بھی اسکول میںداخل نہیں ہوا میں نے کسی بھی
اسکول میں پہلی جما عت نہیں پڑھی،نہ میں نے کوئی درس نظامی پڑھا، نہ میںکوئی عربی
اسکول میں داخل ہوا۔ البتہ یہ ہے قرآن پاک پڑ ھا وہ حافظ جی صاحب نے مار ما ر کر،
یا دد کر وا دیا وہ میں بھول گیا اسی لئے کہ اس کا بیگ گراؤ نڈ اتنا خراب تھا کہ سوائے ما ر کے پٹا ئی کے
کوئی چیز ہی نہیں تھی اور تھوڑی بہت یہ اردو کی کتابیں جیسے بچے گھر میں پڑھ لیتے
ہیں یہ میں نے پڑھی میں مطلب علم میرے پیرو مرشد کی توجہ ان کے فیض اور مادی طور
پر ہے اگر کوئی انسان آپ رسول اللہ ﷺ کی غار حراوالی سنت پر عمل کر کے مرا قبے کو
اپنی زندگی میں داخل کر لیں تو آپ کی نظر بھی کھل جائے گی آپ کا ذہن بھی وسیع ہو
جا ئے گا۔
میری
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو تو فیق دے ہم اسلاف نے اس ورثے کو جس ورثے
کی وجہ سے ہم پوری دنیا پر حکمران حاصل کرنے کی تو فیق دے اور اللہ تعالیٰ ہمیں
رسول اللہ ﷺ کی رو شنی دے ہم غورو فکر کر یں اور قرآن کو سمجھنے کی کو شش کر یں
اور قرآن کو سمجھنے کا جو آسان ترین طریقہ جو یہ وہ ہے مراقبہ، اسی مراقبہ کو جا
ری و ساری رکھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ کی غار حرا کی سنت اور رسول اللہ ﷺ کے فیض اور
قلندر بابااولیا ء ؒ کے مشن کو جا رہی رکھنے کے لئے سلسلہ عظیمیہ کے ارکان نے ایک
ادارہ قائم کر وایا جس کا نام قلندر شعور فاو ئدیشن رکھا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں
ہمت دی توفیق دی کہ ہم یہاں تک پہنچ گئے کہ ہم نے یہ زمین کا ایک ٹکڑاحاصل کر لیا
ہے اور ہم کو شش کر یں کے اس میں ایسا مرا قبہ ہال قائم کیا جا ئے جس میںلوگ آکر
بیٹھیں غوروفکر کر یں اور ایک ہمارا پروگرام یہ ہے آپ لوگوں سے نہا یت مودبا نہ
درخواست ہے دعا کریں میں ایک ایسا نظام بنا نا چا ہتا ہوں ایسا تدریس نظام تشکیل
دینا چا ہتا ہوکہ ہمارے بچے شروع سے ہی اس طرز فکر کے عادی ہوجائے۔
پروگرام ہے میں پہلے ایک قاعدہ بنا ؤ ں گا پھر
ایک کتاب لکھوں گا جیسے پہلی دو سری تیسری کی کتابیں ہوتی ہیں اور اس کا بنیا دی
پہلو جو ہو گا، وہ یہ ہو گا ہمارے بچے شرو ع سے ہی اپنے اسلاف کے اس ورثے سے واقف
ہوں جس ورثے کی بنیا دپر ہم ساری دنیا میں حکمران کریں اور جس ورثے کی بے حرمتی
اوراس ورثے کی ناشکری کی وجہ سے ہم دنیا کے ذلیل ترین قوم بن جا ئیں یہ با لکل
اچھی با ت نہیں ہے کہ ہمارے نبی کے اوپر قرآن نازل کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب
بندے کو ہمارے نبی بنیا اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا اور اعلان کیا ساری کا ئنات
تمہارے لئے مسخر کر دی گئی۔ناکہ ہم ذلیل و خوار ہو کر رہے اور غیر قوموں کی بھیک
پر گزارہ کر یں مجھے تو صاحب بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ہمارا حال یہ ہے اللہ نے ہمیں
زمین بھی دی، اللہ نے ہمیںدماغ بھی دیا لیکن ہم جب بھی غور کریں گے وہی غیر قوموں
سے ایک مسلمان جس کا ایمان ایک مسلمان جو اللہ تعالیٰ کے علم لاسماء کا علم جا نتا
ہے ایک مسلمان جس کو فرشتوں نے سجدہ کیا ہے وہ ایسے لوگوں کو محتاج ہو اور ایسے
لوگوں کی خیرات کھائے جو قویں غیر مسلم ہیں، یہ اتنہا ئی شرم ناک بات ہے۔
اور اس شرم ناک بات سے نجات پا نے کا واحد اور
مو ثر ذریعہ یہ ہے کہ آپ غورو فکر کریں اپنے اسلاف کی نسبت تلا ش کر یں اور
غوروفکر سے نتا ئج مراتب کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ مرا قبہ کریں۔مراقبہ بہت
آسان ہے کوئی مشکل کام نہیں ہے اگر ہر آدمی چو بیس گھنٹے میں پندرہ منٹ بھی اللہ
تعالیٰ کے لئے نکا ل دے تو مرا قبہ کا مقصدپو را ہو جا تا ہے اور آہستہ آہستہ اس
کی کوشش پوری ہو جا تی ہیں اور ذہن اس کا کھل جا تا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کر یں
یہ کہ آپ کے لئے جو پروگرام بنا یا ہے اللہ تعالیٰ اس کو پو را کرے۔ اللہ تعالیٰ ہی
پو را کر تے ہیں بندے تو کیا پو را کر یں گے اس سلسلے میںآپ سے یہ عرض کرو ں گا
پرو جیکٹ بہت بڑا ہے جہاں تک ہماری انفرادی کو ششوں کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ نے
ہمیں بر کت دی رسول اللہ ﷺ کی محبت رسول اللہ ﷺ کی نسبت اور رسول اللہ ﷺ کا فیض
یقیناہمارے سامنے ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم جس پروگرام کو لیکر چلے اور صحیح
معنوں میں دس سال پہلے جو کر چکے تھے اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہو گئی ہیں جہاں رسول
اللہﷺ کے شیدائی ایک جگہ جمع ہو کرمراقبہ ہال میں جمع ہو کر رسول اللہﷺ کی غار حرا
والی سنت کو پورا کرنے کی کوشش کر یں۔
امریکہ
میں، بر طا نیہ میں،اسٹریلیا میں، بھارت میں، افریقہ میں، پا کستان کے تمام بڑے
شہروں میںاللہ کے فضل و کرم سے ہمارے سینٹر قائم ہو گئے ہیں ابھی میں لا ہو ر
گیاتھا وہاں میاں صاحب اور ہمارے دوسرے عظیمیہ سلسلے کے کارکنو ں نے اجتماعی طور
پر اکھٹے ہو کر ایک ایکڑ زمین خریدی ہے اس کا میں نے جامع عظیمیہ کے نام سے منتخب
کیا ہے اب اللہ کے فضل و کرم سے اللہ نے یہاں ہمیں ایک زمین کا ٹکڑا دے دیا ہے اب
آپ سب حضرات کو اس لئے یہاں بلا یا ہے کہ کہ آپ دعا کر یں تا کہ اللہ تعالیٰ
ہمیں کامیابی عطا کر ے اور ساتھ ساتھ کیوں کہ کام بہت بڑا ہے میں آپ سے دعا کی
درخواست کی۔ ہر قسم کی مالی امداد کی اپیل بھی کر وں گا کہ چا لیس لا کھ کا جو پرو
جیکٹ ہے ظا ہر ہے ایک آدمی وہ نہیں بنا سکتا تو اس میں جو بھی حضرات جس طرح بھی
مدد کر سکتے ہیں۔
اگر
کوئی آدمی ما لی مدد نہیں کرسکتا کوئی بات نہیں اللہ تعالیٰ کے کام کبھی ر کتے
نہیں تو آپ ہمارے لئے دعا کر یں کوئی آدمی ایک اینٹ اٹھا کر ہماری دیوار میں رکھ
سکتا ہے تو وہ ایک اینٹ اٹھا کر رکھ دے،کوئی آدمی گڈا بھر نے کے لئے دو چار بیلچے
مٹی کے ڈال سکے مطلب یہ ہے کہ آپ جس طرح بھی چاہیںہم آپ کی مدر کے طالب گار ہیں
اور آپ کی مدر کو انتہا ئی خوش دلی کے ساتھ قبول کر یں گے اور یہ آپ کا اللہ کا
معاملہ ہے جیسی نیت ہوتی ہے ویسے ہی اللہ پھل دیتے ہیں۔ اختتام