Topics

خواب اور حقیقت (عید قرباں پر خطاب)

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

ابھی جیسا کہ آپ نے امام صاحب کی تقریر میں سنا کہ قر بانی حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی سنت اور حضرت اسماعیل کی وہ طرز فکر ہے کہ جس طرز فکر میں یہ بات شامل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کو چا ہے توآدمی اس کو صبرو تحمل کے ساتھ قبول کرے۔ساتھ ساتھ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے اس واقعے میں جو بات بہت زیادہ اہم ہے وہ خواب ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا،خواب دیکھنے کے بعد حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے ذہن میں یہ بات بھی آسکتی تھی کہ یہ توخواب کی بات ہے اس پر کیا عمل کر نا۔تو اللہ تعالیٰ اس واقعے میں خواب کی اہمیت کو بھی بیان فرما رہے ہیں۔خوابوں کا سلسلہ اس کے علاوہ بھی قرآن پاک میںموجود ہے مثلا ً حضرت یو سف علیہ السلام چھوٹے سے تھے انہوں نے خواب دیکھا کہ چا ند سورج اور ستارے سیا رے مجھے سجدہ کر رہے ہیں وہ خواب انہوں نے اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کے سپرد گزارش کیاحضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے لخت جگر یو سف علیہ السلام سے فرمایا کہ یہ خواب اپنے بھا ئیوں کے سامنے بیان نہ کر نا۔

بھائیوں کو جس طرح بھی ہوا معلوم ہو گیا اور بھائیوں کو اس بات کا بھی علم ہو گیا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یو سف علیہ السلام سے فرما یا کہ تیرا رب تجھے بھا ئیوں کے سامنے اور دنیا کے سامنے ممتاز کر ے گا پھر وہ آگے کا واقعہ کہ بھا ئی لے گئے کنواں میں ڈال دیا ور باپ کے سامنے اس کے کپڑے خون میں لت پت کر کے پیش کر دئیے حضرت یو سف علیہ ا لسلام کو بھیڑ یا کھا گیا پھر وہاں کنواں میں، کنواں کے قریب سے ایک قافلہ گزرااس قافلے نے حضرت یو سف علیہ السلام کو کنواں میں سے نکال لیا اور مصر جا کر فرو خت کر دیا اور پھر وہ بادشاہ بن گئے عزیز مصر تک ان کی جب رسائی ہوئی تو ذلیخا ان پر عاشق ہو گئی جو قرآن نے پو را قصہ بیان کیاوہ پھر وہاں پر قید ہو گئے قید کے عالم میں بھی دو خوابوں کا تذکر ہ پھر ہوا ایک وہاں ساقی تھا ا، یک نان بائی تھا۔ ساقی نے خواب دیکھا کہ میں انگور نچوڑ رہا ہوں اور اس کا رس با دشاہ کو پلا رہا ہوں، نان با ئی نے خواب میں دیکھا کہ میرے سر پر ایک طباق ہے اور اس میں روٹیاں ہیں اور چیل کوئے اسے کھا رہے ہیں۔

حضرت یو سف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر بیان کی کہ جو انگو ر نچوڑ رہا ہے وہ بری کر دیا جا ئے گا۔اور جس نے یہ دیکھا کہ چیل کوئے اس کے سر پر سے رو ٹیاں کھا رہے ہیں اسے پھا نسی دی جا ئے گی۔اسی دوران با دشاہ نے ایک خواب دیکھا سات دبلی گا ئے ہیں سات مو ٹی گا ئے ہیں،سات خشک گندم کی بالیں ہیں،سات ہر ی گندم کی با لیں ہیں۔ دبلی گا ئے مو ٹی گائیوں کو کھا رہی ہیں، خشک گندم کی بالیں ہر ی گندم کی با لیوں کو کھا رہی ہیںبا دشا ہ نے یہ خواب دیکھا تو دربار میں جتنے بھی علماء تھی دانش ور تھے ان سب کو اکٹھا کیا اور کہا کہ بھئی میں نے یہ خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر بتاؤ ۔

تو سب نے بڑے اتفاق سے بر ملا کہا کہ یہ خواب نہیں ہے یہ پر یشان خیالی ہے، لیکن با دشاہ وہ اس تعبیر سے اطمینان نہیں ہوا جیسے حضرت یو سف علیہ السلام نے بتا یا تھا کہ ساقی کو رہا ئی مل جا ئے گی ساقی رہا ہونے کے بعد دو با رہ دربار میں آگیاجب اسے اس بات کا علم ہوا کہ با دشاہ نے ایک خواب دیکھا ہے اس کی تعبیر کے لئے بے چین ہے اور درباریوں نے اس کو پریشان خیالی کانام دیا ہے تو ساقی نے کہا ایک مر د بزرگ ہیں جیل میں وہ خواب کی تعبیر کا علم جا نتے ہیں بادشاہ نے انہیں بلایا با دشاہ نے جیل میں خواب کی تعبیر میں جورجوع کیا حضرت یوسف علیہ السلام سے، حضرت یو سف علیہ السلام نے فرمایا کہ ملک میں سات سال خوب کھیتی باڑی ہو گی اور سات سال شدید قحط پڑے گا۔

با دشاہ کیوں کہ پر یشان تھا اور خواب کی تعبیر جانے کے لئے بے قرار تھایہ تعبیر سن کر اسے قرار آیا اوراسے اس بات کا یقین آگیا کہ ایسا ہی ہے اور ایسا ہی ہوا حضرت یو سف علیہ السلام کی رہا ئی کے بعد با دشاہ نے ملک کا انتظام ان کے سپر د کر دیا سات سال تک خوب کھیتی با ڑی ہوئی سات سال تک جو کھیتی با ڑی ہوئی اس کا انتظام حضرت یو سف علیہ السلام نے یہ کیا کہ اس کو ذخیرہ کیا جا ئے بالوں میں یعنی جوں کو الگ کیا جائے اس طرح کہ مزید جو آئندہ سات سال آنے والے ہیں ان میں وہ ذخیرہ شدہ کو اس طرح استعمال کیا جا ئے کہ اللہ کی مخلوق بھو کی نہ مرے اور پر یشان نہ ہو۔

 تا ریخ بتاتی ہے بلکہ حضور قلندر با با اولیا ء ؒ نے اس بات کو ظاہر فرما یا ہے کہ یہ جو اہرام مصر ہے، حضرت یو سف علیہ السلام کے بنا ئے ہوئے ہیں اور حضرت یوسف علیہ السلام نے گیہوں کو ذخیرہ کرنے کے لئے اس قسم کی عمارتیںبنا ئی تھیںکہ جس میں گہیوں خراب نہ ہو یا جو چیز بھی رکھی جائے خراب نہ ہو آج بھی یہی ہے جو پرا میڈ کے با رے میں بتا یا جا تا ہے ہم نے بھی یہاں مرا قبہ ہال میں چھو ٹا ساپرامیڈبنا یا تھا اس میں ہم نے یہ دیکھا کہ کھا نا رکھ دیا وہ خراب نہیں ہوا، بلڈ رکھ دیا اس کی دھار خراب نہیں ہوئی اس میں بیٹھ کر جب ہم نے مرا قبہ کیاتو بہت زیادہ ذہنی یکسوئی ہو گئی تو یہ ایک زوایہ ہے اور زوایے سے یہ بنتا ہے بہر حال یہ پیرامیڈ جومصر میں ہے اس کے بارے میں یہ کہا جا تا ہے حضرت یو سف علیہ السلام کے بنا ئے ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ ہم جب با ئبل پڑھتے ہیںتو ریت یا انجیل پڑھتے ہیں یا آسمانی صحائف کی بات ہوتی ہے تو وہاں بھی خوابوں کا تذکرہ موجود ہے۔

تو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے واقعے میں بنیادی بات یہ ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے عزیز و جوان بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں اور اس خواب کو انہوں نے حضرت اسماعیل کے سامنے جب بیان کیا تو حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی یہ بات نہیں فرمائی کہ ابا جی یہ تو خواب کی بات ہے اس میں کوئی بیٹے کو کوئی باپ ذبح کرتا ہے۔حضرت اسمائیل علیہ السلام نے یہ کہا یہ جو بلاشبہ جو کچھ آپ نے دیکھا ہے یہ اللہ کا حکم ہے اسے کر گزرئیے۔اور آپ مجھے ثابت قدم پائیں تو اس سے بھی اس بات کی نشا ندہی ہوتی ہے حضرت اسمائیل علیہ السلام بھی خواب کی جزیہ سے، خواب کی اہمیت سے اور خواب کی حقیقت سے واقف تھے۔حضرت یو سف علیہ السلام حضرت یقو ب علیہ السلام،حضرت ابراہیم علیہ السلام کی صلبی اولادوں میں سے ہیں تو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا خواب پہلا خواب ہے نو ع انسانی کے لئے کہ جس خواب کو سن کر، پڑھ کر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی را ئے کو سامنے رکھ کر۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سپرد رضا کو سامنے رکھ کر اس حقیقت سے پردے اٹھتاہے تو انسان کی زندگی میں خواب کی وہی اہمیت ہے جس طرح انسان زندگی میں بیداری میں ہے۔ یہ دو سری بات ہے جب اس کی تعبیر ہوئی خواب کو دیکھنے کی تو اس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خواب ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے کسی بھی طرح انکار نہیں ہے اور یہ بھی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خواب ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی اشارات چھپے ہوئے ہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا اپنے بیٹے کی قربانی کردو تواس کا مطلب یہ ہوا اس میں غیب سے خواب کے ذریعے ابرا ہیم علیہ السلام کو مطلع کیا گیا کہ آپ اپنے بیٹے کو اللہ کے لئے قربانی پیش کر دیں یا جان سے زیادہ عزیز جو سب سے زیادہ عزیز شئے ہے اس کی قربانی کر دیں تو حضرت اسمائیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بوڑھا پے میں پیدا ہو ئے تھے۔

 سب جا نتے ہیں حضرت سائرہ کی کوئی اولاد ہی نہیں تھی یعنی ستر باہتر سال کی عمر میں حضرت اسماعیل علیہ السلام پیدا ہوئے ان سے زیادہ کون عزیز ہو سکتا ہے کس کی اہمیت ہو سکتی ہے تو اس میں ایک طرف یہ ہے کہ جب پیغمبر کوئی خواب دیکھتے ہیں تو اس خواب کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ خیالی شئے ہے وہ ایک ایسی حقیقت ہے جیسے کوئی بیداری میں حقیقت دیکھی جا ئے بیداری میں کوئی چیز دیکھی جا ئے یا بیداری میں کسی چیز کے کرنے کا حکم دیا جا ئے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام بہت عرصے بعد پھر یوسف علیہ السلام کا خواب سامنے آگیااس پر بھی اسی طرح تعبیر نکلی ہے جس طرح حضرت یعقوب علیہ السلام نے تعبیر دی کہ تمہارے بھا ئی تمہیں نقصان پہنچا ئیں گے۔پھر یوسف علیہ السلام نے جو تعبیر عطا کی کہ سات سال قحط پڑے گا اور سات سال شادابی ہو گی یہ بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو پو را کر دیا ہے۔

 حضرت یو سف علیہ السلام کے واقعے میں بہت زیادہ اہم بات یہ ہے کہ حضر ت یو سف علیہ السلام کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کے بیان ہوئے مثلا ً ایک ساقی نے با دشاہ کے یہاں پینے پلا نے ہر معمور ہے اس کو آپ ایک عام ہی آدمی کہے گے نانبا ئی وہ بھی ایک عام ہی آدمی ہے با دشاہ نے جو خواب دیکھا وہ بھی ایک عام ہی آدمی ہے۔نہ وہ پیغمبر ہے نہ اولیا ء اللہ ہے نہ کوئی رو حانی آدمی ہے اگر رو حا نی آدمی ہوتا تو وہ اپنے خواب کی تعبیر خود ہی نکال لیتا۔

اب یہ پتا چلا کہ انسانی زندگی کے دو رُخ ہیں ایک رُخ ظاہری رُخ ہے جیسے ہم چل رہے ہیں کھا رہے ہیں پی رہے ہیں یعنی جسمانی وجود کے ساتھ جو زندگی گزر رہی ہے وہ ظا ہری زندگی ہے لیکن ساتھ ساتھ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ظاہری زندگی کے علاوہ بھی ایک اور زندگی ہے جو مسلسل حرکت میں ہے اور زندگی کے با رے میں ہم کچھ دیکھ نہیں پاتے اب کوئی آدمی اس بات سے انکا ر نہیں کر سکتا کہ اگر اس کے اندر روح نہ ہو یا اس کے اندر ایک اور زندگی نہ ہو جس کوہم با طنی زندگی کہتے ہیں تو وہ ظاہری وجود میں کسی بھی طرح حرکت نہ ہوتی مثلا یہ آدمی مر گیا، مر نے میں کیا ہوا مر نے میں یہ ہوا کہ ظاہری زندگی کے ساتھ ساتھ جو با طنی اس کی زندگی ہے جو روح تھی روح با طنی زندگی میں ظاہری زندگی سے قطع تعلق ہے دو سری بات یہ بھی سو چنی ہے کہ با طنی زندگی کے بغیر ظا ہری زندگی چلتی ہی نہیں ہے ایسا نہیں ہوا مر دہ آدمی حرکت کر ے اگر مر دہ آدمی میں دو با رہ رو ح آجا ئے تو پھر وہ زندہ ہو جائے گا پھر وہ کام کرنے لگے گا تو ظاہری زندگی یا مادی زندگی تا بع ہے آپ کی رو حانی زندگی کے یہ بھی آپ کے سامنے ہے جو آدمی پیدا ہو ا دنیا میں اس کے لئے لازم ہے کہ وہ ظا ہری زندگی میں بیدار ہو کر اعمال و حرکات کر ے اور یہ بھی ضروری ہے کہ ظا ہری زندگی کے اوپر با طنی زندگی اس طرح غالب آجا ئے کہ ظا ہری زندگی میں قائم رہے لیکن ارادہ اور حر کات و سکنات ختم ہو جائے۔

 مثلا ً ایک آدمی سو جا تا ہے سونے کی حا لت میں اس کا جسم بھی ہے ہا تھ پیر بھی ہیں سانس بھی آرہا ہے دل بھی چل رہا ہے ہر چیز ظا ہری زندگی کی طرح ہے لیکن اسے کچھ پتا نہیں کہ وہ کیا کر رہا ہے وہ کہتے ہے سو تا ہو مر ا برابر اللہ تعالیٰ بھی فرماتے ہیں وہ تمہا را اللہ جو تمہیں آدھی موت کے بعد دو بارہ زندہ کر رہا ہے۔ یعنی اللہ تعا لیٰ نے نیند کی حا لت کو آدھی موت فرمایا ہے غور طلب بات یہ ہے کہ وہ آدھی موت ہو یا پو ری موت ہو اس کا جو تعین ہے وہ باطنی زندگی ہے ظا ہری زندگی نہیں ہے انسان کی جو ظا ہرہ زندگی ہے جس میں ما دی جسم ہے کھا نا پیناشا دی کرنا بیا ہ کر نا اولاد ہو نا کا رو بار کر نا ملا زمت کر نا چلنا پھر نا سو نا جاگنا خوش ہو نا غمگین ہونا کب ممکن ہے؟کب ممکن ہے؟…جی کب ممکن ہے؟…جب رو ح اندر موجود ہے یعنی با طنی زندگی موجود ہے اگر با طنی زندگی نہیں ہے اور ظا ہر ی زندگی یعنی آدمی کا جسم موجود ہے مردے کی طرح ہے، کوئی حر کت ہی نہیں ہو سکتی حرکت کو چھوڑیں کوئی خواہش ہی نہیں ہو سکتی آپ کو پیاس بھی نہیں لگے گی، آپ کو بھوک بھی نہیں لگے گی، آپ کو گر می بھی نہیں لگے گی، آپ کو سردی بھی نہیں لگے گی،آپ محبت سے بھی واقف نہیں ہیں، نفرت سے بھی واقف نہیں ہیں۔

اگر اندر آپ کی با طنی زندگی جو متحرک ہے تو آپ ظاہرہ زندگی میں زندہ ہیں اگر آپ کے اندر با طنی زندگی متحرک نہیں ہے تو آپ Dade body ہیں لاش ہیں مرے ہو ئے ہیںاس کا مصرف اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اس جسم کو آپ قبر میںڈا ل آئیں یا جلا دیں یا کچھ کر دیں اس کا کوئی مصرف نہیں ہے آدمی اپنے پیٹ میں کتنے سیر گندگی لئے پھر تے رہتا ہے۔

کہیں سے تعفن نہیں اٹھتا لیکن جیسے ہی با طنی زندگی اس جسم سے اپنا رشتہ توڑتی ہے تو آپ نے دیکھا ہو گا جب آدمی مردہ ہوتا ہے تو پہلے وہی پھولنا شروع ہو جاتا ہے پھر وہ پھٹ جا تا ہے اور تعفن کے علاوہ اس میں کچھ نہیں ہوتا جب تک باطنی زندگی سے آپ کا رشتہ قائم ہے آپ کو مچھر کاٹتا ہے اس سے بھی آپ پر یشان ہو جا تے ہیں چیونٹی کاٹتی ہے اس سے بھی آپ پر یشان ہو جاتے ہیں لیکن ما دی وجود سے اگر با طنی وجود کا رشتہ ٹوٹ گیاتو آپ اس لا ش کے ٹکڑے ٹکرے کرآئے اس کی طرف سے آپ کو ایک آہ بھی نہیں ملے گی سسکی بھی نہیں بھر ے گا یہ کیا کرر ہے ہو اور اگر باطنی زندگی چپکی ہوئی ہے ظا ہری زندگی کے ساتھ تو آپ اس کو سوئی چبوئیں پھر دیکھیں انگو ٹھے میں سو ئی چبو ئیں تکلیف یہاں محسوس ہو گی تو انسان کی اصل ظا ہری زندگی نہیں ہے انسان کی اصل با طنی زندگی ہے اور با طنی زندگی کی وجہ سے ہی اس کی جو ظاہری زندگی ہے، وہ اب باطنی زندگی کیا ہے؟

با طنی زندگی کو قرآن نے، آسمانی کتابوں نے،خواب نے، حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کے خواب کی طرف غور کر یں تو حضرت ابرا ہیم علیہ لسلام نے خواب دیکھا کہ وہ اپنی سب سے زیادہ عزیز چیز کو قربان کر رہے ہیں اس کا مطلب کیا ہوا، اس کا مطلب یہ ہواحضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے اپنی با طنی زندگی کو دیکھا اپنی با طنی زندگی میں خود کو عمل کر تے دیکھا اور وہ عمل انہوں نے کر دیکھا یا اب اس باطنی زندگی کی صفت اس بات سے بھی قائم ہوتی ہے، جب حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے قربانی کر دی حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا اپنی جانب سے تو اللہ تعالیٰ کویہ بات اتنی پسندآئی کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جتنے بھی اللہ کو ماننے والے لوگ ہیں ان سب پر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی یہ سنت فرض کر دی جب کوئی مسلمان حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی اس سنت پر عمل کر کے قربانی کرتا ہے وہ گا ئے ہو،اونٹ ہو،بھینس ہو،بکر ا ہو تو آپ یہ بتا ئیے اس کا کیا مطلب ہوا؟سوچ کے بتا ئیں کیا مطلب ہوا؟

 بھئی حضرت ابراھیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہو ئے قربا نی کر دی تو اس کا کیا مطلب ہوا اس کا یہ مطلب ہوا کہ ہم نے وہ کام دو ہرا دیا جو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے کر کے دیکھا یایعنی حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے جو باطنی زندگی کی اطلا ع کو عملا ً مظاہرہ کر کے دیکھا یا، دنیا کے ہر فرد نے جب قربا نی کی تو اس کا مطلب ہے اپنی باطنی زندگی کو متحرک کر دیا اور وہ با طنی زندگی سے اتنا قریب ہو گیا جتنا قریب حضرت ابرا ہیم علیہ السلام حضرت اسماعیل علیہ السلام ہو چکے ہیں اللہ کے، اب لوگ یہ بھی کہتے ہیں آپ نے سنا ہوگا پچھلے دنوں بڑی سنا ئی آرہی تھی کہ بھئی کتنے جا نور ذبح ہو جا تے ہیں خون بہتا ہے گندگی ہوتی ہے غلاظت ہوتی ہے اس سے زیا دہ اچھا نہیں ہے لوگ پیسے جمع کر کے غریبوں کو دیں خوامخواہ اتنی جانور کا ضائع ہوتا ہے۔

 غریبوں کو پیسے دینے میں کوئی غلط بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے خود ہی فرمایا ہے غریبو ںکا خیال کرو، خیرات کرو، لیکن سوال یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ طرز فکر جس طرز فکر میں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی باطنی زندگی کا برا ہ را ست تعلق ہے وہ قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتاتو اللہ تعالیٰ نے اس واقعے میں ایک تو قربانی کا تذکرہ کیا ہے، دو سرے ایثار کا تذکر ہ کیا ہے تیسرے اللہ تعالیٰ نے ظاہری اور با طنی زندگی کو سامنے رکھتے ہو ئے باطنی زندگی کو وہی اہمیت دی ہے جو ظاہری زندگی کی اہمیت ہے اگر باطنی زندگی کی ظا ہری زندگی کے برابر اہمیت نہ ہوتی تو کہی تو یہ خیال آتا یہ خواب کی بات ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ذہن میں بھی یہ بات نہیںآئی کہ یہ تو خواب کی بات ہے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذہن میں بھی یہ بات نہیں آئی کہ یہ خواب کی بات ہے نہ صرف یہ ہے کہ یہ بات ذہن میں نہیں آئی شیطان نے جب کو شش کی یہ ظاہری اور باطنی زندگی کو گڈ مڈ کر کے وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی توجہ اس طرف کر دے کہ یہ خواب کی زندگی الگ ہے اور بیدا ری کی زندگی الگ ہے تا کہ یہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے یہ اس سے انحراف ہو جا ئے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو شیطان نے تین دفعہ بہکایا اور تینوں دفعہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے اس کو قبول نہیں کیا۔

قبول نہ کرنے کامطلب یہی ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام با طنی زندگی کا اسی طرح مشا ہدہ رکھتے تھے جس طرح ظاہری زندگی کا مشا ہدہ رکھتے ہیں، تو یہ قربانی کا جو فلسفہ ہے میری دانش میں تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ بتا یا ہے کہ ہر انسان اس دنیا میں آنے کے بعد مسلسل بلا کسی تعطل کے دوزندگیوں میں سفر کرتا رہتا ہے ایک زندگی بیداری کی جس میں ہم سب لوگ بیٹھتے ہیں باتیں کر رہے ہیں میں کچھ کہے رہا ہوں آپ سن رہے ہیں یہ تو ظاہری زندگی ہوئی، ایک باطنی زندگی ہے اب مثلا ً میرے اندر باطنی زندگی نہ ہو میں بول ہی نہیں سکتا آپ کے اندر باطنی زندگی نہ ہو آپ سن نہیں سکتے۔

 مردہ، کوئی مر دے سے بات تھوڑی کرتا ہے اب ہم سب یہاں بیٹھے ہیں میری روح نکل جائے تو نہ میں کچھ کہوں گا نہ آپ کچھ سنیں گے، نہ میں آپ کو دیکھوں گا نہ آپ مجھے دیکھیں گے تو اصل زندگی تو باطنی زندگی ہوئی نا، جب تک آپ کے اندر ہما رے اندر با طنی زندگی ہے یعنی روح ہے تو ہم بول بھی رہے ہیں ہم سن بھی رہے ہیں اچھا جو بول رہا ہے اس کے اندر کہیں سے، جہاں سے بھی ہے کوئی خیال ہی نہ آئے تو وہ بولے گا کیا اب میں نے مثلا ً آپ کے سامنے عرض کیا قربانی کا ذکر، با طنی زندگی کا ذکر، ظا ہری زندگی کا ذکر اس کا مجھے خیال ہی نہ آئے تو میرے لفظ ہی نہیں بنے گے جہاں سے میں بو لو گا۔اچھا چلئے مجھے خیال آگیا میری باطنی زندگی متحرک ہے آپ کے اندر با طنی زندگی نہیں ہے تو آپ کے اندر سماعت ہی ختم ہو جائے گی آپ سنے گے ہی نہیں تو اصل زندگی انسان کی وہ ظا ہری زندگی نہیں ہے اصل زندگی انسان کی باطنی زندگی ہے اب جب ہم دنیا میں آئے تو کہیں تو ہم تھے نا، جہاں سے ہم آئے تو جہاں سے بھی ہم آئے وہ دنیا یہ تو نہیں تھی، سب کہتے ہیں نا عالم ارواح سے آئے جب ہم وہاں تھے تو یہاں آئے نا اگر ہم وہا ں کسی دنیا میں نہیں ہو تے تو یہاں پیدا کیسے ہو گئے پھر۔

 یہاں رہنے کے بعد ساٹھ سال ستر سال جتنا کو بھی اللہ تعالیٰ زندہ رکھے سب کو صحت و تندرستی کے ساتھ زندہ رکھے تو یہاں سے جا نا بھی ہے ہمیں عذاب ثواب جزا سزاسارا جو ہے ہمارا ہر مسلمان کا بلکہ ہر مذہب کا، کوئی بھی مذہب ہو ہر مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ آدمی یہاں آتا ہے اعمال کرتا ہے جزا اور سزا ملتی ہے تو سزا اور جزا کہاں ملتی ہے؟ اس دنیا میں ملتی ہے، دنیا کے بعد کوئی عالم ہے وہاں ملتی ہے تو اب یہ اور مسئلہ سامنے کھڑا ہو گیا کہ جب پیدا ہو ئے تو با طنی زندگی سے یہاں آئے، یعنی روحانی زندگی سے یہاں آئے، مر ے جب اس دنیا کو ظاہر ی زندگی میں چھوڑ کر باطنی زندگی میں منتقل ہو گئے تو اصل جو ہوئی زندگی پیدا ئش سے پہلے کی زندگی وہ بھی روحانی زندگی ہے۔ مر نے کے بعد کی زندگی وہ بھی روحانی زندگی ہے اس دنیا میں آنے کے بعد خواب کی سو نے کی زندگی وہ بھی رو حانی زندگی ہے پھر جو کچھ ہم بو لتے ہیں سو چتے ہیں کہیں نہ کہیں سے خیال آتا ہے اگر خیال نہ آئے تو آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے مثلا ً ہم پا نی پیتے ہیں کب پیتے ہیں اس کا مطلب ہے کہیں سے پا نی پینے کا خیال آتا ہے اگر پانی پینے کا خیال نہ آئے وہ تو ایک سال بھی پانی نہیں پئے گا یا پئے گا؟

یہ خیال کہاں سے آتا ہے؟ وہی با طنی زندگی سے جو چیز ہمیں نظر نہیں آرہی وہی رو حا نی زندگی ہے،غیب کی زندگی ہے با طن کی زندگی ہے۔

 تو حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی قربانی کی سنت میں جب غورو فکر کریں قرآن پاک میں تو اللہ تعالیٰ یہ ارشاد فرما رہے ہیں حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کو باطنی زندگی میں جو حکم دیا گیا حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے اس کو نظر اندا ز نہیں کیا اس کو رد نہیں کیا اس کو ظا ہری زندگی میںمظا ہرہ کر دیا عملی مظا ہرہ کر کے اب جب ہم قربانی کریں گے تو ہم کیا کر تے ہیں جی کوئی آپ نے بکرا کیا تو آپ نے کیا کام کیا حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا وہ طرز عمل جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہوں نے قربانی میں پیش کر دیا ہم نے اس کی نقل کی اب ایک دفعہ بیس دفعہ پچاس دفعہ جب ہم نقل کرتے ہیں تو اس نقل کرنے سے اس نقل کے جو نقوش ہیں وہ ہمارے ذہن میںبن جا تے ہیں اور جو نقوش ہما ر ے ذہن میں بن جا ئیں گے تو ہم آٹو میٹک اس پر عمل کرنے پر مجبور ہو نگے مثلا ً ایک بچہ آپ کے یہاں پیدا ہو گیا وہ ما د ی زبان کیوں بولتا ہے وہ ہمارے یہاں پید اہوا ہم اردو بولتے یا سندھی بولتے ہیں یا پنچابی بو لتے ہیں جو ہمارے ملک کی زبان ہے ہم وہ بو لتے ہیں وہ بچہ وہی زبان کیوں بولتا ہے جو مان باپ بو لتے ہیں سنتا ہے نقل کرتا ہے اس نقل سے اس کے اندر نقوش بنتے ہیں اور ان نقو ش کی بنیاد پر وہ وہی زبان بولتا ہے جو ماںباپ بو لتے ہیں اس نقل کی بنیاد پر وہ اسی طرح بیٹھتا ہے اسی طرح بات کرتا ہے اسی طرح سو تا ہے اسی طرح جا گتا ہے اسی طرح اس کا کلام ہوتا ہے جو والدین کا ہوتا ہے یعنی اگر آپ دیکھیں اگر والدین ماں باپ الجھے رہتے تو بچے بھی الجھے رہتے ماں با پ زور سے بو لتے ہیں تو بچے بھی زور سے بو لتے ہیں ماں باپ کے اندر حسن اخلاق ہے تو بچے کے اندر سیکھا ئے بغیر اس میں حسن اخلا ق ہے تو جب حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی سنت پر ہم عمل کر یں گے تو جتنا بھی اللہ تعالیٰ نے کہا جس پر قربانی فرض ہے وہ قربانی کر ے گا جو قربانی نہیں کر ے گا، گو شت جو قربانی کا گو شت ہوگا اس کو شوق سے کھا ئے گا حالانکہ گو شت کوئی بظا ہر تو دیکھئے نا خون جمع ہوا ہوتا ہے ہم رو ز کھاتے ہیں گو شت کو، لیکن جب قربانی کا گو شت تو بھئی یہ قربا نی کا گو شت ہے کیا ہوگا؟

 فو راً حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی سنت کی طرف ذہن جا ئے گا یا آپ اسے کھا ئیں گے چا ر دو ستوں میں بیٹھ کے خوش ہو نگے، یہ کھا ؤ  بھئی یہ قربا نی کا گوشت ہے قربا نی کا گو شت ہے تو جیسے جیسے بھی اس سنت پر عمل ہو گااس کو دو ہرا یا جا ئے گا اسی منا سبت سے آپ کے اندر با طنی زندگی کودیکھنے کی با طنی زندگی کی ہدا یت حاصل کرنے کی غیب کی دنیا سے تعلق قائم ہو نے کے نقوش آپ کے اندر بنتے چلے جا ئیں گے۔ جب با طنی زندگی کے نقوش آپ کے اندر بنتے چلے جا ئیں گے تو آپ کی وہی طرز فکر ہو جا ئے گی جو انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی ہے اس میں ایک بات غور طلب یہ ہے کہ جتنے بھی پیغمبر تشریف لا ئے آپ ان کی تعلیمات پڑھیں سب نے یہی کہا ہے ہم کوئی نئی بات نہیں کہے رہے ہم تو وہی بات کہے رہے ہیں جو پہلے پیغمبر کہے گئے انتہا ء یہ ہے خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی یہ فرمایا میں کوئی نئی بات نہیں کہے رہا ہوں میں تو وہی بات دو ہرا رہا ہوں جو میرے بھائی پیغمبر پہلے کہہ چکے ہیں اس کا کیا مطلب ہوا اس کا مطلب ہوا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لیکر حضور پاک ﷺ تک ایک طرز فکرہے،ایک طرز ہے۔

 کسی پیغمبر نے یہ نہیں کہااللہ دو ہیں نا اعوذ با اللہ، پیغمبر کی تعلیمات میں چوری جھوٹ بو لنا حق تلفی کر نا کوئی اچھا کام نہیںہے، جو پہلے پیغمبر حضرت آدم علیہ السلام نے جس چیز کو جو اللہ کے ارشاد کے مطا بق گناہ کہے دیا وہ رسول اللہ ﷺ تک گناہ ہے۔اب اس کا بھی یہی مطلب ہوا یہ تو قربا نی کی بات ہوئی اگر ہم جھوٹ نہیں بو لتے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی طرز فکر پر عمل کر رہے ہیں ہمیں فا ئدہ اس لئے نہیں ہوتا کہ ہمیں اس کا علم نہیں ہے لیکن جب ایک آدمی جھوٹ نہیں بولتا اور اس کے دل میں یہ بات ہوتی ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولتا تو ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبروں نے منع فرمایا ہے کہ جھوٹ نہ بو لو اور ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں سے اللہ تعالیٰ نے یہ فر ما یا کہ جھوٹ بو لنا مجھے نا پسند ہے تو جب آپ جھوٹ نہیں بو لیں گے تو آپ کا ذہن کس طرف جا ئے گا۔

پیغمبران طرز فکر کی طرف جائے گا اور پیغمبرا ن طرز فکر اس کے علا وہ کچھ نہیں ہے کہ اللہ کوجو کہتا ہے پیغمبر کرتا ہے اپنی ذات سے وہ کچھ نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہ یہ اپنی طرف سے کچھ نہیں کرتا میرے محبوب رسول اللہ ﷺ وہی کچھ کر تے ہیں جو میں چا ہتا ہوں حضور قلندر بابااولیا ء ؒ نے ایک بڑی عجیب بات فرمائی آپ لوگ بھی بہت خوش ہونگے میں نے ان سے عرض کیا کہ حضور یہ حضور پاک ﷺنے جب بھی کچھ فرما یا اللہ تعالیٰ سے وہ ہمیشہ پو را ہو ا او ر اللہ تعالیٰ نے بھی فرمایا ہم سے ہمارے محبوب نے جو کچھ بھی کہا ہم نے کر دیا تو بڑی عجیب بات ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی کوئی بات کبھی رد نہیں کی اس میں کیا ہے تو انہوں نے کہا یہ تو بہت سیدھی سی بات کہ جتنا حضور پاک ﷺاللہ کو جا نتے ہیں اتنا کوئی نہیںجا نتا ظا ہر ہے کوئی نہیں جا نتا جتنی قربت اللہ نے اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کو عطا کی اتنی کسی پیغمبر کو قربت عطا نہیں ہوئی۔

ہاں یہ بھی صحیح ہے جو را ز و نیاز کیا اپنے محبوب بندے سے کسی اور پیغمبر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے نہیں فرما یا یہ بھی صحیح ہے انہوں نے فرمایا بس بات یہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کے مزاج سے واقف ہیں۔انہیں یہ پتہ ہے اللہ تعالیٰ کو کون سی چیزنا پسند ہے کون سی چیز قبول کرنے میں خوش ہو تے ہیںاور کو ن سی چیز قبول کرنے میںنا خوش ہو تے ہیں۔ لہذارسول اللہ ﷺ نے کبھی ایسی خواہش ہی نہیں کی جو اللہ تعالیٰ کے لئے نا پسند ہو نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی بات پوری فرما دی۔اب دیکھئے اب یہ مزاج شنا سی کی بات لیکن اس مزاج شنا سی میں جب آپ غو رو فکر کریں گے تو آپ کو اللہ تعالیٰ سے قربت نظر آئے گی۔ رسول اللہﷺ کی جو قربت ہے اللہ تعالیٰ کی وہ نظر آئے گی آپ کو میں نے رسول اللہ ﷺ کتاب سیرت طیبہ پر لکھی ہے اللہ تعالیٰ آپ کو توفیق دے آپ وہ ضرور پڑھیں اس میں میں نے ان ہی با توں کو بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

 تا کہ لوگوں کا ذہن رسو ل اللہ ﷺ کی طرف متوجہ ہو جب بار بار بار بار ذہن متوجہ ہو جا تا ہے تو جس طرح ایک بچے کہتے ہیں ماں باپ کی طرز فکر کے مطابق ہو جا تا ہے اسی طرح امت مسلمہ کا ذہن رسول اللہ ﷺ کے مطا بق ہو جاتا ہے اور جب رسول اللہ ﷺ کی طرز فکر کے مطا بق مسلمانوں کا ذہن ہو گا تو کیا بنے گا ان کے اندر ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبرو ں کی طرز فکر منتقل ہو گی۔

 یہ بات یہاں نہیں ر کتی کہ آپ نے رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل کر لیا یہ بات ایک لا کھ چوبیس ہزار پیغمبروں تک پھر یہ پیغمبروں کا جو سلسلہ ہے پیغمبر تو بن نہیں سکتے،پیغمبرکوئی ریا ضت مجاہدے سے پیغمبری حاصل نہیں ہوتی پیغمبر تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خصوصی انعام ہے، انتخاب ہے، تو جب کسی بندے کے اندر انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی طرز فکر منتقل ہو گئی تو پیغمبر تو وہ نہیں ہو سکتے لیکن انبیا ء کی صفت میں جاکر کھڑے ہو جائے گا، کبو تر کبوتر میں بیٹھتا ہے کوا، کوا میں بیٹھتاہے، بکر ی بکر ی میں بیٹھتی ہے، گاے گا ئے میں بیٹھتی ہے،بھینس بھینس میں بیٹھتی ہے کبھی آپ نے یہ نہیں دیکھا ہو گا جناب ایک طرف بکریاںبیٹھی ہوئیں ہیں دوسری طرف بھیڑیں بیٹھی ہوئی ہیں، بھیڑ جا کر بکر ی میں بیٹھ گئی اور بکر ی جا کر بھیڑ میں،کبھی دیکھا آپ نے ایک باڑہ بھینسوں کا ہے،ایک باڑہ گائے کا ہے دو نوں چر کے آرہی ہیں کبھی آپ نے دیکھا ہے کبھی کوئی گائے بھینسوں میں گھس گئی ہو بھینس گا ئے میں گھس گئی ہو۔کیوں؟

بھینس کی طرز فکر الگ ہے اورگائے کی طرز فکر الگ ہے۔ شیطان کی طرز فکر الگ ہے اوررحمانی کی طرز فکر الگ ہے، شیطانی طرز فکرکا آدمی رحمانی طرز فکر میں داخل نہیں ہو سکتا،رحمانی طرز فکرکا آدمی شیطانی طرز فکر میں داخل نہیں ہو گا آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو اولیا ء اللہ کو بہت برا بھلاکہتے ہیںایک صاحب میرے پاس آئے، وہ برا بھلا کہتے رہے میں سنتا رہا، میں نے کہا ایک بات مجھے سمجھا ئیں کہنے لگے ہاں جی، میں نے کہا جو کچھ بھی آپ نے کہا، وہ آپ جانے اللہ جا نے ہو تے ہو نگے برے ہوتے ہونگے لیکن بھئی ہمارا تو تجربہ یہ ہے کہ ایک آدمی پر یشان ہے بدحال ہے وہ کسی اللہ کے دو ست کے پاس گیا اس نے جا کر اپنا سارا دکھڑاسنا یا رو یا دھو یا اس اللہ کے بندے نے اس کی بات سنی سر پر ہاتھ رکھا، کمر تھپکی پیار کیا، اس کو اس غم سے پر یشانی سے نکالا کہہ ہاں جی یہ بات تو ہے جی۔

 تو میں نے کہا اس نے کوئی فیس لی آپ سے، تو کہا فیس بھی کوئی نہیں لی، تو میں نے کہا بھئی کھا نے کا وقت ہوا جو بھی اس کے پاس ہے دال رو ٹی سبزی جو بھی وہ بھی آپ کو کھلا ئی، ہاں جی کھلا ئی اور کہا جی ساتھ جا تے ہوئے آپ کو ایک تعویز لکھ کر دے دیا اس کا بھی کوئی پیسہ نہیں لیا، ہاں یہ تو ہے، تو میں نے کہا بھئی اس سے زیادہ بد قسمت آدمی کو ن ہو سکتا ہے کہ وہ ہر کام تمہارا مفت کر رہا ہے تم روتے ہو ئے آئے ہو وہ تمہیں ہنستے ہو ئے بھیج رہاہے اور تم اس کو گالیاں دے رہے ہو۔تو آپ کسی بھی اللہ والے کے پاس ہوں چا ہئے وہ بناوٹی اللہ والا ہو وہ بھی آپ کی بات سنے گا۔آپ کسی ڈاکٹر کو اپنی بات سنا دیں چار سو رو پے فیس کے علاوہ وہ بات ہی نہیں کرے گا۔اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ بات کہے چکے جا تے ہیں ڈاکٹر کا اپنا ٹائم ہے وہ ٹائم کی بھی پابندی کرتے ہیں کیوں۔یہ کیوں ہے،کیوں ہے؟

طرز فکر ہے، شیطانی طرز فکر کا آدمی رحمانی طرز فکر میں لوگوں کے ساتھ نہیں گھس سکتا اگر وہ آبھی جا ئے گا تو بھاگے گا، ہمارے یہاں مراقبہ ہال آپ نے دیکھا ہے اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے اوراس کا فیض اور جا ری ہے ہم دیکھتے ہیں یہاں لوگ آتے ہیں اوہو کتنا سناٹا ہے، کیسی گھبراہٹ ہے، بھا گو واپس اور زیادہ تر لوگ ایسے آتے ہیں کیسے پر سکون جگہ ہے ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جنت کا ٹکڑا ہے کوئی یہ بھی کہتے ہیں کیوں؟ کہتے ہیں لوگ؟ طرز فکر الگ ہے تو جب ہم انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃو السلام کی سنتوں پر ان کی زندگی پر عمل کر تے ہیں تو اس عمل کے مسلسل کرنے سے ہمارے اندر وہ نقوش بن جا تے ہیں جو انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سے متعلق ہیں اور ہم انبیا ء کی صفت میں جا کر کھڑے ہو جا تے ہیں۔حضور قلندر بابااولیاء ؒ نے مجھ سے فرمایا مرنے کے بعد حساب کتاب کی بات ہو رہی تھی میں نے پوچھا کہ جنت دو زخ کاکیا مسئلہ ہے؟

اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے غفورو رحیم فرمایا، ستا رالعیوب فرمایا، غفا رالذنوب فرمایا جو اتنا اللہ رحیم ہے کریم ہے ستر ماؤ ں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے اس دنیا میں ہم دیکھتے ہیں ہر خطاء معاف ہر خطاء معاف وہ ہمیں دوزخ میں کیسے ڈالے گا تو انہوں نے کہا اللہ تو نہیںڈالے گا دو زخ میں، میں نے کہا دوزخ تو اللہ نے بنا ئی ہوئی ہے تو انہو ںنے فرما یا کہ یوم حشر ہو گا دنیا ہو گی تعداد کی گنتی تو ہو نہیں سکتی، اب اللہ تعالیٰ یہ فرمائیں گے ہم نے تمہارے پا س پیغمبر بھیج دئے کتا بیں بھیج دی اور اولیا ء اللہ بھیج دئیے انہوں نے تمہیں نصیحت کی تم نے انہیں نہیں مانا اب لوگ رو ئے گے عاجزی انکساری کے ساتھ توبہ استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ کہے گے چلو جا ؤ  تو حضور فرماتے ہیں وہاں شیطانی طرز فکر کے لوگ بھی ہونگے اور انبیا ء بھی ایک طرف کھڑے ہو ئے ہو نگے تو جو جس طرز کا بندہ ہوگا وہ خود اس صفوں میں جا کر کھڑا ہو جا ئے گا۔

اللہ میا ں نہیں کہے گے دو زخ میں جا ؤ  اب جب وہ پیغمبر جنت کی طرف چلے گئے تو پیغمبران کی طرز فکر والے سارے کے سارے جنت میں داخل ہو جا ئیں گے، شیطانی طرز فکر کے لوگ ظا ہر ہے وہ دوزخ میں چلے جا ئیں گے اس کے پیچھے جو ہوں گے وہ دوزخ بھی میں چلے جا ئیں گے اللہ نہ کسی کو دو زخ میں ڈالے گا نہ یہ کہے گاجنت میں جا ؤ  نہ یہ کہے گا دوزخ میں جا ؤ ۔ بات طرز فکر کی ہے رسول اللہﷺ نے فرمایا ہر آدمی اپنی دو زخ اپنی جنت اپنے ساتھ لئے پھر تا ہے۔کیا مطلب ہوا طرز فکر اگر دوزخی ہے تو آدمی دوزخ میں جائے گا۔

طرز فکر اگرانبیا ء کی طرز فکر ہے تو آدمی اس دنیا میں بھی جنت میں ہے مر نے کے بعد بھی جنت میں ہے پھر میں نے پو چھا میں نے کہا حضور یہ رسول اللہ ﷺ یہ نے بھی فرمایا ایک وقت ایسا آئے گا دو زخ کی آگ ٹھنڈی ہو جا ئے گی اس کا کیا مفہوم ہے فرما نے لگے بھئی جب دوزخ میں لوگ جا ئیں گے خود ہی اللہ نہیں بھیجے گاخود ہی جائیں گے تو وہاں وہ رو ئے گے شور شرا بہ ہو گا ظا ہر ہے تکلیف دو زخ کی جو بھی ہو گی یہاں ذراہ سی تکلیف میں کتنا شور مچ جا تا ہے بہت ہی زیادہ جب شور ہو گا اور لوگ رو ئے گے اور گڑ گڑا ئیں گے تکلیف میں کرا ئیں گے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پو چھے گا یہ کیسا شور ہے تو فرشتے کہے گے اے باری تعالیٰ آپ کے بندے ہیںقصور وار ہیں۔ اب رو رہے ہیں معافیاں مانگ رہے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان کے پاس پیغمبر نہیں بھیجے تھے کیا ان کے پاس اولیا ء اللہ نہیں بھیجے تھے کیا ان کو اچھا ئی اور برا ئی کا درس نہیں دے دیا تھا تو فرشتے کہے گے یا اللہ یہ سب کچھ صحیح ہے لیکن یہ کمزور ہیں آپ کے بندے ہیں بہت پر یشان ہیں۔

حضور فرما تے ہیں پھر بھی اللہ یہ نہیں کہے گا انہیں دو زخ سے نکالو اللہ میاں کہے گا ان سے کہو چپ ہو جا ئیں خاموش ہو جا ئیں خاموش ہونے کا مطلب ہے آٹومیٹک جنت مل جا ئے گی بھئی تکلیف سے کیسے خامو ش ہو گا آدمی، اللہ میاں کہے گا ان سے کہو شور نہ مچا ئیں خاموش ہو جائیں اتنا ا نہیں سمجھا یا تھا اتنا انہیں کہاتھا اب رو رہے ہیں بس ٹھیک ہے کہنے لگے جیسے ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا خاموش ہو جائیں اسی وقت ان کی منتقلی جنت میں ہو جائے گی اور دوزخ کی آگ ٹھنڈی ہو جائے گی تو بات وہی ہے آپ لوگ اس بات کو ذہن نشین کر یں کہ سارا کھیل طرز فکرکا ہے رحمانی طرز فکر، شیطانی طرز فکر نوع انسانی کا المیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرزفکر منتقل کرنے کے لئے ایک لاکھ چو بیس ہزار پیغمبر بھیجے محبوب ترین بندے بھیجے لیکن نوع انسانی نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر کی بات نہیں مانی ایک شیطان کے پیچھے لگ گئے سب۔

 اب شیطان تو ظاہر ہے شیطان ہے مردود ہے ر ند ہ درگاہ ہے۔ ایک آدمی چوری کر لیتا ہے اس چور کو آپ اپنے گھر میں ہمدردی سے چھپالیں آپ کیا مجرم نہیں ہو جا ئیں گے۔ حالانکہ چوری آپ نے نہیں کی انسانی ہمدردی بھی کی لیکن چو نکہ آپ نے معا ونت کی چوری میں قانون آپ کو پکڑلے گا۔ یہی اللہ تعالیٰ کا معاملہ ہے جب آپ شیطان کے ساتھ معاونت کر یں گے اس کے ساتھ تعاون کر یں گے اس کی طرز فکر اپنا کر خوش ہو نگے تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو آزادی دے دی آپ چاہے شیطان کی طرف چلے جائیں، چاہے انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی طرف۔ توانبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی سنت پرعمل کر نا، انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی تعلیمات پر عمل کر نادراصل انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی طرز فکرکو اپنے اندر منتقل کر نا ہوتا ہے۔

 اب یہ مرا قبہ بھی انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی طرز فکر ہے مرا قبے کا مطلب ہے اللہ کی نشانیوں میں غورو فکر کر نا تو سب سے پہلے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے اللہ کی نشا نیوں پر غورو فکر کیا کہ یہ ستا رے خدا ہیں،یہ چاند خدا ہیں،یہ سورج خد ا ہے تو انہوں نے کہا نہیںگھٹنے بڑھنے چھپنے والا خدا نہیں ہو سکتا یہ سارا غوروفکر مرا قبہ ہے …سیدنا حضور الصلوٰ ۃ والسلام نے غار حرا میں مراقبہ کیا سات سال تک اب وہ مرا قبہ جب ہم کر تے ہیں تو کیا کرتے ہیں سیدنا حضور الصلوٰ ۃ والسلام کی اس سنت پر عمل کر تے ہیں جو انہوں نے عارضی طور پر دنیا کو چھوڑ کر اللہ کی نشا نیوں میں وقت لگا یا نماز کیا ہے نماز بھی مرا قبہ ہی ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مراقبے کا مطلب ہے نماز نہ پڑھو مراقبے کا مطلب ہے غورو فکر کرنا رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے لئے پا نچ وقت کی نماز فرض کر دی گئی تا کہ امت پا نچ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو جا ئے پانچ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اپناذہن اللہ کی تلاش میں لگا ئے یہی سب مرا قبہ ہے۔ مراقبے کا مطلب یہ نہیں ہے آپ سب آنکھیں بند کر کے بیٹھ جا ئیں اللہ کو دیکھیں یہ بھی ایک طریقہ ہے جب آپ اس قابل ہوں تب بھی اللہ کو دیکھنے کی کوشش کر یں۔

 جب آپ نمازمیں ہوں تب بھی اللہ کو دیکھنے کی کوشش کر یں جس بندے کو اللہ نے نماز پڑھنے کی تو فیق عطا فر ما دی اللہ تعالیٰ سب کو تو فیق دے تو آدھا کام اس کا ہو گیا بھئی وضو اس نے کر لیا پاک صاف وہ ہو گیا مصلے پر وہ کھڑا ہو گیا۔

اللہ کی طرف متوجہ ہو گیا اللہ واکبر کہے کر اس نے ساری دنیا کو نفی کر دی اب اتنا سا کام اور ہے کہ جب نماز پڑھیں اس کو خیالات آئیں تو آنے دیں وہ اپنا دھیان نماز کی طرف لگائے رکھے کہ اللہ میرے سامنے ہے میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں، اللہ میرے سامنے ہے میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوں،میں اللہ کے سامنے رکوع میں ہوں اللہ میرے سامنے ہے میں سجدے میں تو پھر دیکھئے ساری کی ساری نماز آپ کی مرتبہ احسان ہو گئی لیکن آپ خیالات میں گم رہیں اور اس بات کی کو شش نہ کریں کہ میں اللہ کے سامنے ہوں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے خود کی نماز کی جو معانیت اور حکمت تھی اس کو پورا نہیں کیا، ان لوگوں کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے حضور کھڑے ہو نے کی توفیق عطا فر ما دی، اس لئے کہ ان کے لئے بہت آسان ہے پاک وہ ہو گئے صاف وہ ہو گئے وضو انہو ں نے کرلیا،کپڑے ان کے صاف ستھرے ہیں مسجد میں یا وہ اللہ کے گھر میں چلے گئے یا اپنے گھر میں کھڑے ہو گئے اللہ و اکبر کہے کر نیت باندھ لی اب اتنا سا تو کام ہے بس یہ سوچنا ہے کہ اللہ سامنے ہے، اللہ سامنے ہے، اللہ سامنے ہے،اللہ سامنے ہے تو یہ ساری نماز جو آپ کی اللہ کے لئے ہو گئی اور مسلسل پریکٹس کرنے سے جب آپ مسلسل اس بات کی پریکٹس کر یں گے کہ اللہ میرے سامنے ہے بھئی اللہ کب تک سامنے نہیں آئے گا اللہ تو آپ کے اندر ہے وفی انفسکون …اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں تمہا رے اندر ہوں تم ہی مجھے نہیں دیکھتے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کہتے ہیں مجھے دیکھو میں تمہارے اندر ہو ں تو نماز کا بھی یہی ہے جب اللہ تعالیٰ نماز کی تو فیق عطا فرمائے تو نماز میں تو خیالات آئیں گے ہی اس کی پرواہ نہ کر یں اہمیت نہ دیں اسے رد نہ کریں اس لئے رد کر یں گے اور آئیں گے آپ بار بار اس بات کو دو ہرا ئیں میں اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہوں۔

پھر کوئی خیال آیا گھر میں بچے رو رہے ہیں آنے دو میںتو اللہ کے سامنے کھڑا ہوا ہوں،انہوں نے کہا بیوی نار اض ہو گی ہو نے دو میںتو اللہ کے سامنے کھڑا ہوں،وہ مالک نوکری سے نکال دے گا نکالنے دو میںتو اللہ کے سامنے کھڑا ہوںبھئی کب تک پریکٹس میں کامیاب نہیں ہو نگے آپ لیکن اس پر یکٹس کو کریں تو صحیح او ر جب یہ پریکٹس کریں گے اس کا فائدہ انشا اللہ آپ کے سامنے آجا ئے گا اللہ تعالیٰ ہم سب کو پیغمبروں کی طرز فکر پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور شیطانی طرزفکر سے ہمیں محفوظ رکھے اور ہمیں اس بات کی جدو جہد کرنے کی توفیق عطا فرما ئے کہ انبیاء کی جو سنت ہیں انبیاء کی جو تعلیمات ہیں قرآن پاک کی جو تعلیمات ہیں ان کو صرف یہی نہیں کہ پڑھیں ان کو بار بارذہن میں دوہرا ئیں بار بار ذہن میں دوہرائیں، دوہرا نے سے چیز یاد بھی ہو جا تی ہے اور دوہرا نے سے آدمی جو ہے اس نے اندر اتنے گہرے نقوش ہو جا تے ہیں کہ وہ بغیر ارادے کہ بھی وہی کرتا ہے جو اس کے اندر نقوش منتقل ہوتے ہیں۔اختتام

 

Topics