Topics

مخلوق کا خالق سے رابطہ ضروری ہے۔(عید الفطر 21-01-99 )

 

 

اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تلاوت آیت قرآن شریف

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

انا انزلنہ فی لیلتہ القدر

معزیز حاضرین اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا کرم اور شکر ہے کہ ہم نے اس میں اپنے محبوب ﷺ کی امت میں پیدا فرمایا اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمیں مسلمان بنایا اور اسلامیء تعلیمات سے آشنا کیا جب ہم اسلام کا نام لیتے ہیں تو عام بات یہ ہے کہ اسلام ایک طرزفکر ہے ایک مذہب ہے ایک راستہ ہے جو اللہ اور رسول اللہ کا پسندیدہ ہے اس پر چلنے والوں کو مسلمان کہتے ہیں۔لیکن جب اسلام کے بارے میں گہرائی سے سوچا جائے تو اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور یہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے اسلام یہ بتاتا ہے کہ یہاں دو طرح کی مخلوق آباد ہے۔

ایک تو مخلوق یہ ہے کہ اسے اختیارہے زندگی میں اسے زندگی کے بارے میں محدود معلومات حاصل ہے اور ایک تو یہ ہے مخلوق وہ ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے زندگی کے اصول بتائے ہیںاور اس کو اسلام اور اللہ اس کے رسول کے بتائے ہو ئے طریقے پر زندگی گزارنے کے کافی علم عطا کیا ہے اس میں سب سے ممتاز مخلوق انسان ہے جب ہم انسان اور دوسرے حیوانات کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ حیوانات اور انسان میں اگر کوئی چیز ممتاز ہے تو وہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا شعور عطا کیا ہے،ایسا فہم عطا کیا ہے اور ایسی عقل عطا کی ہے کہ وہ دوسریہ مخلوق کو حاصل نہیں اور یہی وہ علم ہے جس کی بنیاد پر مسلمان تمام مخلوق میں تمام ما حول میں ممتاز ہے۔انتہاء یہ ہے کہ فرشتوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس کو فضلیت عطا کی،جنات کے اوپر بھی اس کو فضلیت عطا کی اور اس کی جو بنیادی وجہ ہے وہ یہ ہے کہ مسلمان قوم کے پاس زندگی گزار نے کا ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔

ایک مکمل پروگرام ہے اس کو یہ پتا ہے والدین کے کیا حقوق ہیں،اس کو یہ بھی علم ہے کاروبار کس طرح کیا جانا چاہئے،وہ یہ بھی جانتا ہے ملک اور قوم کی محبت کے کیا معنی ہیں۔ اسے یہ بھی پتا ہے کہ وطن سے محبت جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل ہے، وہ اللہ کو بھی جنتا ہے اللہ کے رسول اللہ کو بھی جانتا ہے۔ تو اس پروگرام کو قائم رکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک مسلسل طریقے کار شروع کیا وہ ابھی تک جاری ہے۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے بندے مبعوث کئے دنیا میں وہ یہ بتاتے رہے کہ انسان کی فضیلت اس میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق اپنی زندگی گزاریں۔وہ قوانین سب سے پہلا قانون یہ ہے کہ انسان کو اس بات پر اپنے اندر تیار اور یقین پیدا کرنا چاہئے کہ وہ مخلوق ہے جب اسے یہ یقین ہو جاتا ہے وہ مخلوق ہے تو ظاہر ہے اس کا ذہن خالق کی طرف چلاجاتا ہے۔

 جب مخلوق ہے تو میرا بنانے والا بھی کوئی ہے۔اب دیکھئے جب آدمی سمجھے میں مخلوق ہوں تو جب مخلوق کا تذکرہ آئے گا تو سب سے پہلے یہ بات آپ کے سامنے آئے گی مخلوق کا مطلب یہ ہے کہ کسی کا محتاج ہو نا۔ اب اگر آپ کو لگتی ہے پانی پینے کے محتاج ہیں اب اگر اللہ پانی نہ دے تو آپ پانی کے محتاج ہے۔ اب اگر آپ کو بھوک لگتی ہے آپ کھانے کی بھی محتاج ہیں اگر اللہ زمین میں اناج نہ اگائے تو آدمی روٹی نہیں کھا سکتا۔آدمی کی زندگی کے لئے ہواضروری ہے اب ظاہر ہے ہوا کا جو د ہے اور اس انتظام ہے اب اللہ کے اوپر جو کنٹرول ہے جو ہواکا بنا نے والا ہے وہ خالق کے علاوہ کوئی نہیں ہے مخلوق تو ہوا نہیںچلا سکتی تو جب ہم یہ کہتے ہیں ہم مخلوق ہیںتو ہمارا ذہن خودبخود اس طرف متوجہ ہو جا تا ہے کہ ہمارا بنا نے والا کوئی ہے۔ جب تک کے ہمارے ذہن میں یہ بات نہیں آئے گی میں مخلوق ہوں اس وقت تک میرے ذہن میں یہ بات نہیں آتی کہ ہمارا بنانے والا بھی کوئی ہے تو جب تک ہمارا ذہن اس طرف متوجہ ہو جا تا ہے کہ ہمارا بنانے والا اللہ ہے ہمارا بنانے والا خالق ہے تو اب یہ بات سمجھ میں آجائے گی کہ ہماری اپنی زندگی جو ہے وہ اللہ کی محتاج ہے۔

پیدائش بھی اللہ کی طرف سے ہے اب کوئی آدمی اپنی مرضی سے پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔اگر ہر آدمی اپنی مرضی سے پیدا ہوتا تو غریب کے کوئی آدمی بچہ پیدا ہی نہیںہوتا ہر آدمی کی یہی خواہش ہوتی امیر کے یہاں پیدا ہو،بادشاہ کے یہاں پیدا ہو۔جب بادشاہ کی پیدائش،امیر کی پیدائش، غریب کی پیدائش،فقیر کی پیدائش سب کی ایک ہی قسم کی پیدائش ہوتی ہے۔جس طرح ایک بادشاہ بچہ پیدا ہو کر اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے اور نشوونما پاتا ہے اس طرح غریب آدمی بھی پیدا ہو کر اپنی ماں کودودھ پی کر نشوونما پاتا ہے۔پیدائش کے بعد انسان کی ضروریات مثلاکھا نا، پینا، حواس،بھوک، ماں، باپ اس میں بھی آدمی دیکھئے گے اس میں بھی آدمی محتاج ہے۔کوئی آدمی اپنا باپ نہیں بنا سکتا، کوئی آدمی اپنی ماں نہیں بنا سکتا،کوئی آدمی ہوا نہیں بنا سکتا،کوئی آدمی دھوپ نہں بنا سکتا تو بنیادی بات یہ ہے اسلام کے فلسفے کی کہ انسان کو سب سے پہلے اس بات پر غوروفکر کرنا چاہئے کے میں مخلوق ہوں،اگر یہ بات ذہن نشین ہو جائے کہ میں مخلوق ہوں تو بیشمارمسائل خوبخود حل ہو جائیں گے۔

اچھا جب یہ طے ہو گیا میں مخلوق ہوں تو ہمارے بنانے والا خالق اللہ ہے۔تو اب ظاہر ہے یہ بات یقین بن جا ئے گی کہ ہم اللہ کی محتاج ہیں۔اللہ نے یہ زمین بنا ئی،اللہ نے سورج بنا یا،اللہ نے چاند بنا یا،اللہ نے گندم بنائی اللہ نے پانی بنایا کون سی ایسی چیز ہے جو اللہ نے نہیں بنائی، انتہاء یہ کہ ہم سب کو بھی اللہ نے بنایا۔تو اس میزان کو قائم رکھنے کے لئے خالق اورمخلوق کے رشتے کو قائم رکھنے کے لئے،مخلوق کی رہنمائی کے لئے اس زمین پر کچھ کچھ عرصے کے بعد پیغمبر بھیجے اور ان پیغمبروں کی تعداد تقریبا ایک لاکھ چوبیس ہزار ہے۔یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر اس دنیا میں اس لئے آئے کے اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ مخلوق اور خالق کے درمیان جو رشتہ ہے مخلوق اس سے پوری طرح واقف ہو جائے۔ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے سیدناحضور علیہم الصلوٰۃوالسلام کو مبعوث فر مایا وہ دنیا میں تشریف لائے۔

جب حضور پاک دنیا میں تشریف لائے تو اس وقت دنیاتاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی ہر طرف ظلم تھا انتہاء یہ تھی کہ باپ بیٹیوں کو زمین میں دفن کر دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کی تاریکی کو دور کرنے کے لئے اور ظلم کا دور ختم کرنے کے لئے رسول اللہ کو رحمت العالمین بنا کر بھیجا اور حضور پاک نے یہ فرمایا میں کوئی نئی بات لیکر نہیں آیامیں وہی بات آپ سب کو بتا رہا ہوں جو مجھ سے پہلے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے بنائی تھی اور وہ بات یہی ہے کہ انسان مخلوق ہے اور اللہ تعالیٰ خالق ہے۔مخلوق کو خالق تک پہنچنے کے لئے راستے کی بھی ضرورت ہے قواعد و ضوابط کی بھی ضرورت ہے۔مثلا آپ دفتر جانا چاہتے ہیں اب گھر سے باہر دفتر جانے کے لئے راستہ بھی چاہئے، سواری بھی چاہئے،منزل کا تعین بھی چاہئے،پھر وہ دفتر میں بیٹھ کر دفتر کے قواعد و ضوابط بھی چاہئے، بھی میز ہو گی،کرسی ہو گی، کاغذبھئی،صحیح وقت پر جاؤ  کام کرو چھٹی ہو جائے گھر آجاؤ ۔

تو دنیاکا کوئی کام ایسا نہیں ہے۔ جس میں قواعد ضابطہ نہ ہو۔آپ کا آپنا گھر ہے آپ سرپرست ہیں وہاں بھی آپ کو ایک قاعدہ ضابطہ بنا نا پڑے گا۔مثلاً بچوں کی تربیت آتی ہے اب آپ کو یہ دیکھنا ہے کہ ہمارے بچے آوراہ لڑکوں میں تو نہیں کھیل رہے کہ جس کی تربیت خراب ہو جائے وہ خود بھی آوارہ ہو جائے۔ اسکول جارہے ہیں یا نہیں جارہے ان کے لئے ایک تعلیم و تربیت کا پروگرام بنے گا۔ کھانے کا، پینے کا، پہنے کاتو کوئی بھی زندگی کا عمل ایسا نہیں ہے جس میں ضابطہ اور قانون نہ ہو اور اگر ضابطہ قانون نہیںہو گا تو وہ کام صحیح نہیںہوگا۔تو اسی طرح اسلام نے بھی ایک ضابطہ قانون بنایا۔ تو اس میں جو اسلا م کا بہت بڑا جو پروگرام ہے جو سب سے پہلا پروگرام جو ہے وہ نماز کا ہے صلواۃ کا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں قائم الصلواۃ …صلواۃ کا مطلب یہ ہے جو روحانی عالم بتا تے ہیں۔ نماز کا ترجمہ اصطلاحا ت کا ترجمہ وہ کہتے ہیں اللہ سے تعلق قائم کرنا اقیمولصلاۃ…وہ قائم کرتے ہیں صلواۃ یعنی جب وہ نماز میں کھڑے ہو جاتے ہیں اور ہاتھ اٹھا کر اس بات کا اعلان کر دیتے ہیں کہ اب اللہ سے بڑا کوئی نہیں اللہ اللہ واکبر …اللہ بڑا ہے باقی ہر چیز اس کی نفی ہوگی۔

 پھر وہ الحمد پڑھتے ہیں۔الحمد اللہ رب العالمین …سب تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کو پالتا ہے۔جو عالمین کو رزق دیتا ہے۔جو عالمین کی حفاظت فرماتا ہے۔رحمت کے ساتھ اور یہاں بھی یہی ہے آپ نے اپنے آپ کو سرنڈر کر دیا کہ ہم تو کچھ بھی نہیں ہیں جو کچھ ہے اللہ ہے تو جب آدمی اپنے آپ کو سرنڈر کر دیتا ہے۔اس نے اس بات کا اقرار کر لیا سب کچھ اللہ ہے تو اس کا مطلب ہے اس کا دنیا سے تعلق ٹوٹ گیا اور اللہ کے ساتھ قائم ہو گیا۔اقیمو الصواۃ…وہ اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے تو نما ز ایک ایسا پروگرام ہے جس میں ہمارا جسم بھی کام کرتا ہے، جس میں ہماری سماعت بھی کام کرتی ہے، جس میں ہماری آنکھیں بھی کام کر تیں ہیں، جس میں ہماری زبان بھی کام کرتی ہے جس میں ہمارا ذہن بھی کام کرتا ہے اورساتھ ساتھ ہماری روح بھی کام کرتی ہے۔تو نما ز ایسا پروگرام ہے جس میں روحانی اور جسمانی دونوں حرکات شامل ہیں۔

 ثلا ً اب یہ سمجھ لیجئے آپ نے کہا اللہ واکبر …اللہ وا کبر کا مطلب یہ ہے کہ اب اللہ سے بڑا کوئی نہیں جب اللہ سے بڑا کوئی نہیں تو اس میں آپ کی حیثیت بھی کچھ نہیں رہی،دنیا کی بھی حیثیت کچھ نہیں رہی،آپ کی،بیوی بچوں کی گھر بار کی خاندان کی بھی کوئی حیثیت نہیں رہی، اب حیثیت ہے تو صرف اللہ ہے اب آپ نے ہاتھ باندھ لئے،ہاتھ باندھنے کا مطلب بھی یہی ہے آپ سرنڈر ہو گئے اب صاحب ہماری کوئی حیثیت نہیں بس جو اللہ چاہے گا وہ ہو گا پھر آپ اللہ کے سامنے جھک گئے،جھکنے کا مطلب بھی یہی ہے آپ نے خود کو سرنڈر کر دیا کسی ذات کے سامنے اگر آپ احترام سے جھکتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس ذات کی بزرگی کوآپ نے تسلیم کر دیا اگر آپ اس کی بزرگی کو تسلیم نہیں کریں گے تو آپ اس کے سامنے نہیں جھکے گے۔مثلا ً ایک بچہ ہے اپنی ماں کے سامنے جھکتا ہے اپنے باپ کے سامنے جھکتا ہے اپنے استاد کے سامنے جھکتا ہے کسی بزرگ کے سامنے جھک کر سلام کر تاہے۔

اس کا کیا مطلب ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بندے کی بزرگی کو آپ نے اس طرح تسلیم کر لیا کہ سب سے زیادہ محترم بزرگ ہے۔تو جب آپ رکوع میں جھک گئے اور اللہ واکبر کہے کر جھک گئے اور وہاں آپ نے کہا سبحان رب العظیم میرا رب جو ہے عظیم ہے تو بات یہ ہے کہ رب کے علاوہ کوئی قابل ستائش نہیں ہے تو آپ نے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کر لیا پھر آپ سجدے میں چلے گئے سجدے کی حالت تو انتہائی آدب و احترام کی حالت ہے۔سجدے میں تو آدمی کسی طرف ہی نہیں ہے۔سوائے اللہ کے سجدہ تو آدمی کسی کو کرہی نہیں سکتا یعنی اللہ کی ربوبیت کا اور عظمت کا آپ نے اس طرح اقرار کر لیا ب آپ کی بالکل نفی ہو گئی ہے آپ نے اپنے آپ کو ختم کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ دیکھئے اتحیات …اور سلام کیا السلام علیکم ورحمتہ اللہ…تو اس نماز کے جتنے بھی ارکان ہیں آپ اس پر غور کریں گے تو اسکا ایک ہی مطلب نکلے گا کہ آپ نے اللہ کی ربوبیت کو اللہ کی عظمت کو اللہ کی بزرگی کو اپنی نفی کر کے تسلیم کر دیا۔

بھئی ہماری ذات کس میں ہے، دنیا کس میںہے، کاروبار کس میں ہے ان سب جگہ اللہ کے سامنے کھڑے بس اللہ ہے۔یہ اہتمام کا ایک پروگرام مختصر سی بات ہے۔اس کے بعد جب نماز کے آداب ہیں، باجماعت نماز پڑھنا،مسجد میں جاکر نماز پڑھنا،گھر میں نما ز پڑھنا اب دیکھے جب آپ گھر میں نماز پڑھتے ہیں وہاں بھی اللہ کی عظمت کا اطراف کر تے ہیں لیکن مسجد میں باجماعت نماز ادا کرتے یا قائم کر تے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی حیثیت میں آپ نے اللہ کی عظمت کا اللہ کی ربوبیت کا اطراف کیا۔آپ گھر میں پڑھ کر نماز دعا کرتے ہیں وہ انفردی دعا ہوتی ہے۔آپ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں تو وہ اجتماعی دعا ہوتی ہے۔اور کیا پتا کس بندے کی آمین کو اللہ تعالیٰ قبول کر کے اور سب کی دعا ئیں قبول ہو جائیںتو اب اس کا مطلب ہے نماز پروگرام ہے جو اللہ طرف سے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنی امت کو عطا فرمایا کہ اس نے انفردی اور اجتماعی دونوں برکتیں شامل ہیں۔

مسجد سے نکل کر آپ جمعے میں آگئے مسجد میں اگر پچاس نمازی ہیںتو جمعے میں پانچ سو نمازی ہیں یہ بھی ایک اجتماعی بات ہو گئی۔پھر جمعے کی نماز سے نکل کر آپ عید گاہ میںآگئے تو وہاں سو کیا ہزاروں کا مجمع جمع ہو گیا تو اصل میں نماز کا پروگرام انفردی طور پر بھی روحانی جسمانی وظیفہ ہے اور اجتماعی طور پر بھی روحانی اور جسمانی وظیفہ ہے۔تو ایک طرف بات یہ ہے کہ جب کوئی نماز پڑھتا ہے تو اس کی ایک روح ایک جسم اللہ کے سامنے جھکتا ہے لیکن جب آدمی مسجد میں نماز پڑھتا ہے تو پچاس روحیں پچاس جسم اللہ کے سامنے جھکتے ہیں۔عید گاہ میں جب آدمی آتا ہے تو ہزاروں آدمی اکھٹے ہو کر اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی رب نہیں۔اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ہستی ا س قابل نہیں ہے کہ جس پر سجدہ کیا جائے۔اللہ تعالیٰ خالق ہے اورہم مخلوق تو نماز ایک اجتماعی پروگرام ہے جو پوری امت مسلمہ کو کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا کرتی ہے۔

پوری امت مسلمہ کو ایک ساتھ جھکاتی ہے۔ پوری امت مسلمہ کو ایک ساتھ سجدہ کرتی ہے۔اور پوری امت مسلمہ کو ایک ساتھ السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ کی دعا میں شریک کرتی ہے۔اب السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ …اب ایک ہزار آدمی ہے سب نے سلام کر دیا سب کو ایک ہزار آدمی نے دعا کردے دی پھر کہے جی السلام وعلیکم ورحمتہ …اب ایک ہزار آدمی السلام وعلیکم سب نے کہا یعنی نماز کا آخر یہ ہے کہ اجتماعی طور پر مسلمان ایک دوسرے کو دعا دیں اورایک دوسرے پر رحمت بھیج دی جائے۔چلئے آدمی گنہگار بھی ہے ناپاک بھی ہے،بگڑا ہوا ہے بھی سب کچھ ہے لیکن ان ہزار آدمیوں میں ایسا نہیں ہو گا دس بیس آدمی ضروری نیکوکار ہونگے۔جب دس بیس آدمی السلام وعلیکم کہے گے تو ظاہر ہے اللہ تعالیٰ تک ان کی آواز جائے گی اور ان کے سلام سے ہزاروں آدمیوں کی نجات ہو گی۔السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ…السلام وعلیکم ورحمتہ اللہ …اس کے بعد جو دوسرا پروگرام ہے وہ رمضان المبارک کا، رمضان المبارک کے لئے آپ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ روزے کی جزا میں خود ہوں۔

بھئی یہ سوچنے کی بات ہے کہ اللہ تعالی ٰفرماتے ہیں جب بندہ روزہ رکھتا ہے اس روزے کا ثواب یا اس روزے کا صلہ یا اس روزے کا نتیجہ یہ ہے کہ بندہ مجھ سے ملاقات کر لیتا ہے۔میں بندے کو مل جاتا ہوں کیوں اسے بھی یاد رکھئے بڑا عجیب فلسفہ ہے کہ کھانا حلال ہے،پینا حلال ہے اور دوسرے کے معاملات جو آپ کے اوپر حلال ہے۔صبح کو آذان ہوئی فجر کی آذان ہوئی ایک کروڑ چالیس مسلمان ہیں اب کہا جی آذان ہو گئی نہ کھا نا کھانا ہے نہ پانی پینا ہے اور کوئی جائزکام ہے وہ بھی نہیں کرنا کیوں نہیں کرنا اس لئے نہیں کرنا کے اللہ کے لئے ہم نے خود یہ وعدہ کرلیا ہے خود اپنی ذات سے اب ہم اللہ کے لئے نہ کھائیں گے اور نہ اب آپ سارے دن بھوکے رہتے ہیں۔گلا بھی خشک ہوتا ہے ہونٹ بھی خشک ہو تے ہیں لیکن آپ نے معائدہ کر لیا کہ بھئی سارے دن اللہ کے لئے نہیں کھانا۔کھانے پینے سے کیا ہوتا ہے اب دیکھے ہمارا جتنا بھی کھانا پینا ہے اس میں کسی نہ کسی صورت سے تعفن شامل ہے۔

 اگر آپ گوشت رکھ دو دال رکھ دو وہ سڑ جائے گی تو جب ہم نے کھانا پینا کم کر دیا تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارے جسم کے اندر جو کثافتیں تھیں وہ انہی کھانے سے کم ہو نا شروع ہوگئیں اور جب بیس دن ہو گئے تو بیس دن کے بعد یہ ہوتا ہے ہمارے جسم کے اندر ایک مدافت پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ ہم اللہ کے لئے بھوکے رہے اللہ کے لئے پانی نہیں پیا ہم نے کوشش کی ہے کہ جھوٹ نہ بولیں،ہم نے کوشش کی ہے کہ غصہ نہ کریںہم نے کوشش کی ہے کوئی ایسا کام نہ کریںجو اسلام میں منع کیا پھر اس کوشش کے نتیجے میں اس خالق کے کہنے کے نتیجے میں بیس روزے رکھ کر ہمارے اندر کثافت کی جگہ روشنیاں اورانوار ذخیرہ ہو جاتا ہے۔آپ دیکھے بیس دن کے بعد آدمی ہلکا پھلکا ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے وقت بڑھتا ہے اس سے نہ صرف آدمی کے اندر لطافت پیدا ہوتی ہے اب جب بیس روزے رکھ لئے اب حضور الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اب تمہارے اندر اتنی لطافت پیدا ہو گئی ہے اور اللہ نے اتنے انوار کا ذخیرہ کر دیا ہے اب اگر تم ان طاق راتوں میں جاگ لو گے تو یہ ممکن ہے کہ تمہیں اللہ کی تجلی کا دیدار ہو جائے گا۔

 تو ہم کوشش کرتے ہیں پروگرام بھی اس کا ہوتا ہے کہ کم کھاؤ  زیادہ جاگو،رات کو زیادہ سے زیادہ قرآن شریف پڑھو،نفلیں پڑھو،دورد شریف یہ تو سب ہی کرتے ہیں یقینا ستائیس تاریخ کو اب ہمارے یہاں ستائیس تاریخ کو شب بیداری ہوتی ہے۔ الحمد اللہ اب کے شب بیداری میں مسجد بھی بھر گئی بہت رونق ہے تو اس میں بہت سارے لوگوں نے مجھ سے رابطہ کیا، الگ ہو گئے کسی کو پتا نہ چلے بہت سارے لوگوں نے بتایا کسی نے کہا میں نے روشنی دیکھی،کسی نے کہا میں نے بارش برستی دیکھی،کسی نے کہا جی میں نے ایک ہستی دیکھی،کسی کو سیدنا حضور ؑ کی زیارت ہوئی،کسی نے دیکھا کہ کوئی چیز یہاں سے اڑتی ہوئی چلی گئی ظاہر ہے فرشتہ ہی ہو گا تو ایسا نہیںہے کہ یہ زبانی خرچ ہے جو لوگ رمضان المبارک میں روزے رکھ لیتے ہیں یا روزے رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ان پر فضل و انعام ہوتا ہے۔ستائیس ویں شب کو یہ ثبوت فراہم ہے، اب ضروری نہیں ہے کہ ایک ہزار آدمی ہے ایک ہزا رمیں آدمی میں اگر دس آدمی بھی ایسے متوار ہیں آپ کے پاس جن کوکچھ ہو گیا، صلواۃ تو ہو گی اب ہمیں کچھ نہیں ہو تو ہمیں اگلے سال ہو جائے گا اگر ہم کوشش کریں تودوسرا پروگرام رمضان ہے اور رمضان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا کہ اس کی جزا میںخود ہوں۔

جزا ہو نے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آدمی خود کوشش کرے تو اللہ تعالیٰ کا فضل شامل حال ہے۔سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسبت،محبت اور عشق اس کے اندر موجود ہو تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے کہ روزے کی جزا میں خود ہوں اس کے بعد رمضان المبارک میں اللہ تعالیٰ کے لئے آپ نے خود کو پابند کیا۔اللہ تعالیٰ نے عید کی خوشی سے نوازا، اب دیکھئے عید کی کتنی خوشی ہوتی ہے، گھر میں بچے کو بھی ہوتی ہے بڑوں کو بھی ہوتی ہے۔پھراس کا ایک اجتماع ہوتا ہے اجتماع کے بعد آپ لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔کوئی پتا نہیں کو ن رشتہ دار ہے کون ذات ہے،کون برادری ہے،کون کالا ہے، کون گورا ہے،کون افریقن ہے، کون پاکستانی ہے،سب مسلمان ہے دوسال پہلے مجھے اتفاق ہوا عید کرنے کا مدینہ میں صاحب وہاں عجیب ہی رسمیں تھیں وہاںفجر کی نماز کے بعد مسجد نبوی سے کوئی جاتا ہی نہیںہے وہاں ذکر ہوتا ہے اور ذکر کے بعد بڑا عجیب سما ء ہوتا ہے اس کے بعد جب نماز ہو جاتی ہے سارے لوگ ایک دوسرے سے اسلام وعلیکم ورحمتہ…کر کے بغلگیر ہو جاتے ہیں کوئی عربی ہے کوئی سندھی ہے،کوئی بنگالی ہے،تو کوئی پاکستانی ہے یعنی ایسا لگتا ہے مسلمان ایک برادری ہے ایک خاندان ہے۔

تو روزے کی جزا میں ایک طرف اللہ ملتا ہے اور دوسری طرف نوع انسانی میںجو مسلم برادری ہے اس برادری کے رشتے کی تقدیس ہوتی ہے ایک دوسرے سے گلے ملنے کے بعد عید کی نماز کے بعد تمام لوگوں کو چاہئے کے وہ ایک دوسرے کا خیال کریں بغلگیر ہو گلے ملیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام دے کر مبارک بات دیں۔ذات کو بھی مبارک بات دیں اس تفہیم بھی اضاٖفہ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے خوش ہوتا ہے۔عید کے بعد پھر وہی ہمارا روز مرہ کا معمول بن جاتا ہے اس میں ہمیں یہ ضرور کرنا چاہئے کہ ایک مہینے تک ہم جو پریکٹس کی ہے اسلام کے سلسلے پر قائم رکھنے کے لئے بس یہ نہیں کہ عید ہو گی رمضان چلے گئے نہیں اس کی کوشش کرنا چاہئے اور زیادہ سے زیادہ جتنا عرصہ رمضان کی پریکٹس سے فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے اس سے اتنا فائدہ اٹھا لو۔یعنی رمضان میں جھوٹ نہیں بولنا چاہئے جھوٹ تو کبھی بھی نہ بولنا چاہئے بھئی رمضان میں غصہ نہیں کر نا چاہئے تو غصہ تو کبھی بھی نہیں کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے جو لوگ غصہ کر تے ہیں میں اس لوگوں کو پسند ہی نہیں کرتا غصے کاکوئی فائدہ بھی نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی محبت سے محروم ہوگئے۔

اور اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے ہم نے جو رمضان کی برکتیں سمیٹیں ہیں ان برکتوں سے پورا سال استفادہ کریں اور خالق اور مخلوق کا جو رشتہ ہے اس سے کبھی نہ الگ رہے ہر مسلمان اس بات کو یاد کرے کہ میں مخلوق ہوں۔ بس اتنا کافی ہے اگر آدمی سونے کے بعد نہیں تو سونے سے پہلے صرف اتنا سا سبق دوہرا لے کہ میں مخلوق ہوں یا اللہ تیرا شکر ہے۔جب آپ یہ دیکھیں گے میں مخلوق ہوں تو آپ کے ذہن نے یہ بات آئے گی کہ مخلوق ہمیشہ بے اختیار ہوتی ہے یہ تو محتاج ہے اور میں محتاج بھی ہوں تو کس کس طرح اللہ تعالیٰ نے میری ضروریات کو پورا کیا ہے۔ تو جب آپ کے ذہن میں یہ بات آئے گی کہ کس کس طرح اللہ تعالیٰ نے میری ضروریات کو پورا کیا ہے تو جتنا آپ یاد کریں گے تو اسی مناسبت سے آپ کا اللہ تعالیٰ کا رابطہ قائم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے آپ نے جو رمضان المبارک میں جو روزے رکھے اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے آپ سب کو عید مبارک 

Topics