Topics

اللہ رازق ہے، تومسلمان کیوں ذلیل ہورہے ہیں؟

 

 

اب بیوی دی آپ کوبچے دئے اب۔ آپ تیس سال کی عمر کے بعد یہ کہے صاحب اب ہم کچھ کریں گے نہیں تو کھا ئیں گے کہاں سے…؟

تو یہ بہت بڑی نہ انصافی اور ظلم ہے اللہ رازق ہے، اب یہ کہنا اللہ ہمارا رازق ہے محض زبا نی اور عملا ً اس کے خلا ف ہو نا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کا جو ذکر ہے وہ آپ دل کے ساتھ نہیں کررہے اس کا تعلق الفاظی سے ہے موجودہ معاشرتی دور میں مو جودہ معاشرے میں ہر آدمی یہ د یکھ رہا ہے ہے کہ دو لت دو لت ہائے دو لت ہا ئے دو لت اب تو خاندان بھی وہی ہے جس کے پاس چار پیسے ہوں، اب یہ اچھے خاندان کی عقل کیا کہتی تھی وہ بچارے کم دولت مندہو ئے تو اس کا مطلب ہے دو لت کو اتنی اہمیت دے دی گئی ہے شرا فت، نزاہت ہر چیز ختم ہو گئی اصل چیز دو لت ہے تو اس کا صاف مطلب ہے کہ مسلمانوں کے اندر دولت پر ست زیادہ ہے، مسلمان دو لت کا پجاری ہو گیا ور جب دو لت کا پجاری ہو گیا تو وہ شرک کے دائرے میں داخل ہو گیا تو ان حالا ت میں اگر مسلمان ذلیل و خوار نہیں ہے تو پھر کیا ہے یہ اللہ کی طرف سے عذاب نہیں ہے، یہ ہماری اپنی کچھ پر یشانی ہے اللہ کہتا ہے لا تحصم…مسلمانوں کے لئے ایک پروگرام ہے، وہ پروگرام یہ ہے کہ مسلمان جو ہے متحد ہو کر ایک اللہ کے ساتھ اپنی مرکزیت قائم کرے اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالیں لیکن یہاں صورت یہ ہے کہ مسلمان میں کی پہچان ہی تفرقے سے ہے کوئی شیعہ ہے،کوئی سنی ہے،کوئی دیوبندی ہے،کوئی بریلوی ہے،کوئی کٹھیاواڑئی ہے اور کوئی کیا ہے اور کوئی کیا ہے کوئی نجوی ہے پتا نہیں کیا کیا فرقے ہیں تو اس کا بڑی آپ عجیب غریب بات ہے آپ غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ فرما ئیں تفرقہ نہیں ڈا لو مر کزیت کے ساتھ قائم رہوہماری صورت یہ ہے کہ ہم تفرقے میں بٹ گئے تو ظا ہر بات ہے اللہ کی کھلی نا فرمانی اللہ کی آیات کی کھلی نافرمانی بغاوت ہے۔

 اگر تفرقہ اسلام میں آجا ئے تو یہ قرآن سے اور اللہ سے اور اللہ کے رسول سے بغاوت کر نا ہے۔تو مسلمان بغاوت کر رہا ہے اور باغی ہو نے پر اسراربھی کر رہا ہے کہ میں صحیح ہوں وہ غلط ہے۔ سند تو کسی کے پاس نہیں ہے دیوبندی حضرات کہتے ہیں ہم جنتی ہیں،وہ دوزخی ہیں، بریلوی حضرات کہتے ہیں نہیں نہیں ہم جنتی ہیں،وہ دوزخی ہیں،اہل حدیث صاحب کہ ہیں وہ تو سب دوزخی ہیں ہم جنتی ہیںبھئی تمہارے پاس کوئی سندہے، تم سے اللہ نے کہے دیا اللہ کے رسول نے کہے دیاکہاں سے تمہیں پتا چل گیا تم جنتی ہوں باقی سب دوزخی ہیں۔ لیکن اصرار یہی ہے ہم صحیح ہے دو سرا غلط ہے اور یہ اصرار جب تک ختم نہیں ہو گا تفرقہ ختم نہیں ہوگا، تو اب یہاں بھی قرآن کے خلاف ورزی ہے اللہ کہتا ہے ایک خاندان بن کہے رہو مسلمان کہتا ہے ایک خاندان تو بن کے رہنا ہی نہیں ہے، رہے ہی نہیں سکتے تو اب یہاں بھی اللہ کی بغاوت ہو رہی ہے۔

 اب نماز، نماز پر آگئی اللہ تعالیٰ کہتے ہیں نماز وہ ہے کہ جس میں بندے کا اللہ کے ساتھ تعلق قائم ہو جا تا ہے اب بات یہ ہے کہ جب کوئی بندہ اللہ کو اللہ و اکبر کہے کر پکا ر تا ہے۔لیکن یہاں صورت بر عکس ہے آدمی تاش کھلتا ہے اس میں خیال کے علاوہ کہیں اور نہیں جاتاتین گھنٹے فلم دیکھتا ہے اس میں کسی طرف خیال نہیں جا تا،شادی بیاہ کی تقریبات میں شریک ہوتا ہے اس میں کہیں ذہن نہیں جا تا، کا روبار کرتا ہے اس میں ذہن کہیں ادھر ادھر نہیں جاتا، لیکن اگر ذہن قائم نہیں ہوتا تو نماز میں قائم نہیں ہوتا۔ ایک تھا نے دار بلا لیں جناب ذہن تھا نے دار کے علاوہ کہیں ہوتا ہی نہیں بس ایک ہی ترکیب ہوتی ہے کوئی ایسا چکر چلا ؤ  کوئی سفارش ڈھونڈو ایسا کوئی طریقہ اختیار کرو کہ یہاں سے جان چھوٹ جا ئے۔

 تو نا اعوذ بااللہ نا اعوذ با اللہ یہ کہنا پڑا ہے مسلمان میں تو اللہ کی اتنی بھی اہمیت نہیں ہے جتنی تھا نے دار کی ہے پھر مسلمان ان پر کہتا ہے اللہ کے انعامات مجھے نہیں مل رہے میں نماز پڑھتا ہوں ذلیل کیوں ہوں، بھئی ذلیل اس لئے ہو تم عمل تو کر رہے ہو لیکن وہ سارا عمل اس عمل کے ساتھ نہ آپ کا ایمان ہے، اس عمل کے ساتھ نہ آپ کا دل ہے اور نہ اس عمل کے ساتھ آپ کی روش ہے اب یہ تو مسلمانو ںکی بات سمجھ میں آگئی مسلمان ذلیل و خوار کیوں ہے۔سمجھ میں آگئی یا اس میں اور کسی صاحب کو کوئی اور تشریح کرنی ہے یہ جو میں نے چار با تیں بتا ئی ہیں ان مسلمانوں میں نظر آتی ہیں یا نہیں آتی تو اس بنیادپر انسان اللہ تعالیٰ کے انعام کا مستحق ہو گا یا پر یشانیوں کا مستحق ہو گا۔

 اب دوسرا مسئلہ یہ ہے جیسے اس میں کہا کہ صاحب دو سری قومیںتو اللہ کو مانتی ہی نہیں ہیںوہ خوشحال ہیں تر قی یا فتہ ہیں تو دیکھیں دو صورتیں ایک صورت تو یہ ہے اللہ کو آپ نے لااللہ الہ محمد رسول اللہ…پڑھ کر اللہ کی وحدنیت کو قبول کر لیا اور حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو بحیثیت پیغمبر کے بحیثیت رسول کیا ہے تسلیم کرنے کامقصد یہ ہے اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ جو قانون بنایا اس کو آپ نے تسلیم کر لیا اور جب آپ نے قانون کو تسلیم کر لیا تو قانون پر اگر آپ عمل درآمد کر یں گے قانون کے مطا بق آپ اپنی زندگی گزاریں گے تو وہ جو انعامات و اکرامات کا وعدہ ہے وہ قانون کی پا بندی کے تحت ہے قانون پر عمل ہو گا تو انعامات و اکرامات کے عمل ہونگے۔ دوسری قوموں کا یہ ہے وہ تو مانتے ہی نہیں وہ تو کہتے ہیں خدا ہے ہی نہیں تو لہذا وہ اس قانون کے دائرے سے نکل گئے اب یہ کہ کوئی بھی جو نظر آرہا ہے کہ صاحب وہ ووہاں سے پیسے آرہے ہیں ہمیں بھیک مل رہی ہے ہم روٹی کھا رہے ہیں وہ تر قی کر رہے ہیں اس کا بھی قرآ ن پاک جواب دیتا ہے قرآن میں یہ کہا ہے کہ میں نے زمین کے اندر اللہ نے زمین کے اندر نشا نیاں بکھر دیں ہیں جو قوم تجسس کرے گی، جدو جہد کر ے گی،کو شش کر ے گی، ریسرچ کر ے گی وہ اس سے فائدہ اٹھا لے گی۔

 اللہ نے یہ کہیں نہیں کہا میں نے مسلمانون کے لئے مخصوص کر دیا لاھو انزلنہ…دیکھئے اللہ نے یہ نہیں کہا مناف ھو مسلم …مناف ھو مومن …مناف ھو للناس …کہ جو بندہ لوہے کی توانائی پرلو ہے کی صلاحیت کو تلا ش کر لیتا ہے جو بندہ اس بات کو ڈھونڈلیتا ہے کہ لو ہے اندر کتنی صلاحتیں ہیں لو ہا اس کو فا ئدہ پہنچا تا ہے۔اب انہوں نے غیرمسلموں نے، انسانوں نے لوہے کے اوپر ریسرچ کی، لوہے کے جو فائدے تھے ان کے سامنے آگئے وہ تر قی یافتہ ہو گیا۔ مسلمانوں نے باوجود اس کے کتاب مسلمانوں کی ہے وہ کتاب اعلان کر رہی ہے کہ لو ہے میں بے شمار فا ئدے ہیں لوگوں کے لئے تلا ش کر و مسلمانوں نے ریسرچ کی ہی نہیں کتاب بندکر کے بیٹھ گئے قرآن کو اس لئے جیب میں رکھ لیا بلائیں گھر میں نہ گھسیں۔قرآن کی زیادہ سے زیادہ عزت یہ ہے کہ شادی ہو گئی دولہن کو دولہا کوقرآن سے نکال دیا، بیمار ہو ئے قرآن پڑھ لیااور زیادہ بیمار ہو گئے قرآن کے ورق پلٹ کے ہوا دے دی، تو آپ نے جو قرآن کی ریسرچ کی جو کتاب ہے جو سائنسی کتاب ہے آپ نے اس کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔

 آگ اپنا کام چلارہی ہے ہیں کا فر ہے وہ اسے بھی جلائے گا،مسلمان کووہ اسے بھی جلا ئے گی،غیر مسلم ہو وہ اسے بھی جلا ئے گی،آگ کا کام ہے پکا نا ہے کوئی بھی مسلمان وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ہو یا کا فر ہو یا دہریا ہو کوئی بھی ہو وہ آگ پر پانی رکھے گا وہ پکے گا۔ پھر قانون یہ ہے کہ آگ جلائے گی پکا ئے گی تو اب آپ آگ کے استعمال کو سیکھے ہی نہیں، آپ کہے گے صاحب دو سری قوم تو آگ جلا کر ہتھیار بنا رہی ہے لوہا پگلاپگلا کے ہم تو پیچھے کے پیچھے ہی ہیں اور پیچھے اس لئے ہیں کہ آپ نے آگ کے استعمال کو محدود کر دیا انہوں نے آگ کے استعمال کو محدود نہیں کیا۔ انہوں نے آگ کے استعمال کو خلا ء تک پہنچا دیا اور اس آگ کے استعمال کو یہ پٹرن کیا ہے آگ ہی تو ہےHeat energy آگ ہی تو ہوتی ہے ایک لکڑی کی آگ، ایک بجلی کی آگ، ایک یورینیم کی آگ۔ اس آگ سے اسHeat سے وہ اس ایٹم کو تو ڑتے ہیں اور انہوں نے آگ جلا کر لو ہا پگلایا اس سے ریل کی پٹری بنا لی، آگ جلا کر لو ہا پگلایا اس سے جناب چھ چھ منزل عمارت کھڑی کر لی، آگ جلا کر انہوں نے یورینیم کو جلا کے ایٹم کو توڑ دیا ایٹم کو پگلا یا۔

 آپ نے آگ کا استعمال کر کے کھچڑی میں پکالی بھئی کھچڑی پکا لو وہ کھا لو، مر غی پکا لو کھا لو انہوںنے مر غی بھی کھا ئی کھچڑی بھی پکا ئی اورساتھ ساتھ آگ کی جو سکت ہے آگ کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک مخصوص صلاحیت رکھی ہے سائنسی اس کو ڈھونڈ لیا اس کو تلا ش کر لیا اس لئے ایک آدمی سارے دن پڑا سو تا رہتا ہے،دو سرا آدمی گھر سے نکل کر سارے دن محنت مزدوری کرتا ہے،اچھی زندگی کس کی گزرے گی سونے والے کی یا محنت مزدوری کرنے والے کی وہ کہتے ہیں صاحب میں بھی تو اللہ کی مخلوق ہوں میں بھی آدم کی اولاد ہوں اس کو اللہ نے گھر دے دیا ہے مجھے چھونپڑی بھی نہیں ملی۔بھئی تو گھر سے نکلا ہی نہیں پھر تجھے چھونپڑی بھی مل گئی اس کاتو شکر کر۔ تو مسلمانوں کی جو زبوحالی ہے اس کی بنیادی وجہ وہ ہیں جو میں نے آپ کو بتا دیا اور سب سے بڑی وجہ مسلمان کی کاہلی سستی ہے کام نہیں کرتے بس سو نا ہے سونے کا بڑا شوق ہے تو مقصد یہ ہے کہ آپ کام بھی نہ کر یں، آپ ریسرچ بھی نہ کر یں، آپ اللہ کی نا فرمانی بھی کریں، آپ شرک بھی کر یں، آپ منافقت بھی کر یں،آپ جھوٹ بھی بو لیں اور یہ کہے ہم اللہ اور رسول کو ماننے والے ہیں تو اس سے آپ خود اپنے آپ کو دھو کا دے سکتے ہیں۔

 اللہ ایسے نہیں مانتے ومکرومکراللہ …کہ لوگ میرے ساتھ مکر کرتے ہیںمیرے ساتھ کون مکر کرے گا؟میںتو اچھی سے اچھی تدبیریں جانے والا ہوں اور یہ سارے مکر ان کے اوپر۔ سجدہ ہیں نما ز کے بارے میں ہے نماز ایسی بھی ہیں جو با رگاہ مقبول ہوتی ہیں تو انسانوں کو درجہ فرشتوں سے زیادہو جا تا ہے اور نمازیں ایسی بھی ہیںاللہ تعالیٰ لعنت بنا کر منہ پر مار دیتا ہے کیا آپ نے نہیں پڑھا یہ حدیث ہے قرآن ہے تو ہماری اس وقت جو پو زیشن ہے نمازیں ہم پڑھ رہے ہیں اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اس کا مطلب ہے ہم وہ نماز پڑھ رہے ہیں جس نمازکے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میںمنہ پر پھینک کے ما روں گا۔ تو یہ عام طور سے لوگ سوال کر تے ہیں ہم حضور کے امتی بھی ہیں ہم اللہ کاکلمہ بھی پڑھتے ہیں ہم کو مانتے بھی ہیں پھربھی ہم ذلیل و خوار ہے وہ غیر مسلم جو اللہ کو نہیں مانتے وہ خوشحال ہیں ہم بھکا ری ہیں وہ ہمیں بھیک دے رہے ہیں۔

 یہ اس لئے آپ بھکاری ہے آپ جھوٹ بو ل رہے ہیں،منافق ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں یہ کہتے ہیں مسلمان ہیں لیکن ابھی ان کے دلوں میں ایمان تو داخل ہی نہیں ہو اتو ا سکا مطلب مسلمان ہو نا اور بات ہے۔مومن ہو نا اور بات ہے۔ تو مومن کے اوپر اللہ تعالیٰ کا انعام و اکرامات ہے جب ہمارے دلوں میں ایمان داخل ہو جا ئے گا تو اللہ تعالیٰ کے وہ انعام و اکرامات ہم پر نازل ہو نگے جو ہمارے بزرگوں کے ہمارے اسلاف پرہو چکے ہیں یہ ایسی بات نہیں آپ کہے گے کہانیاں ہیں اپنی اسلاف کی آپ تا ریخ اٹھا کر دیکھیں آج جو سائنس میں درجہ غیر مسلموں کا ہے مسلمانوں کا اس کے اوپر درجہ ہے کیا آپ اس بات سے انکار کرسکتے ہیں چین میں،جاپان میں فرانس میں ساری جگہ مسلمانوںکی حکومت ہوئی، کیا آپ اس بات سے انکا ر کر سکتے ہیں کہ جب صلاح الدین ایوبی اٹھا تو ہرصلیبی جنگ میں اسکو فتح ہو گئی اور ہر صلیبی جنگ میں عیسائیوںکو شکست اور انہیں بعد میں معافی مانگنی پڑی اور یہ اس کو صلاح الدین ایوبی نے یہ انہوں نے شرط رکھی تھی کہ صاحب ہم معافی مانگ رہے ہیں ہمارے ایک کا مطا لبہ یہ ہے کہ ہمیں بیت المقدس کی زیارت کی اجازت دے دی جا ئے۔

تاریخ ہے اور آج وہی بیت المقدس ہے آپ زیارت نہیں رکھ سکتے آپ نہیں جاسکتے ان سے اجازت لینے پر آج مجبور ہیں کہ وہ صلیبی آپ کو اجا زت دیں تو آپ بیت المقدس جا سکتے ہیں ورنہ نہیں جاسکتے اُلٹ ہو گئی تا ریخ۔تا ریخ اُلٹ اس لئے ہو گئی کہ آپ کے جو اسلاف تھے، آپ کے جو بزرگ تھے، آپ کے جو جد امجد تھے آپ نے ان کے راستے ہی کچھ اور کہتے ہیں آپ ایک کہتا ہے جی میں فلاح کا بیٹا ہوں کام سارے وہ کر رہا ہے باپ کے خلاف، باپ روز گار ہے متقی ہے نیک ہے۔ بیٹا چور ہے دھوکے باز ہے دوسروں کو پریشان کرنے والا ہے تو کیا کوئی آدمی اس بات پر یقین کر لے گا کہ اس کا بیٹا سعادت مند ہے۔

 تو وہ کہے گے بیٹا تو ضرور ہے لیکن سعادت مند نہیں ہے تو ہم مسلمان تو ہیں لیکن وہ مسلمان نہیں ہیں جس کو اللہ تعالیٰ کہتے ہیںلیکن مسلمان میں ہے جو قومیں اپنی تبدیلی چا ہتی ہیں، جو قومیں اپنا عروج چا ہتی،جو قومیں اپنا حکمرانی چا ہتی ہیں، اگر وہ حکمرانی کے قواعد و ضوابط کے مطابق عمل کر یں گے تو اللہ تعالیٰ حکمران ہیںاور جو لوگ ذلیل و خوار رہنا چا ہتے ہیں اللہ تعالیٰ ا نہیں ذلیل و خوار کر دیتا ہے علما لا یغرو…تو مسلمانوں کی زبوحالی کا بڑا سبب یہ ہے کہ ہم مسلمان کہتے تو ہیں لیکن ہمارے دل ایمان سے خالی ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے جب ہم مسلمان ہیں نسبت تو ہمیں حاصل ہے تو رسول اللہﷺ کی رحمت العالمین کی نسبت حاصل ہے بس تھوڑی سی ہمت کی بات ہے بھئی یہ کوشش کی جا ئے کہ جب ہم مسلمان ہیں مسلمان گھر میں پیدا ہو ئے ہم نے کلمہ بھی پڑھ لیا رسول اللہﷺ سے ہمیں محبت بھی ہے تو اس محبت کو سچا ثابت کر نا لفظوں سے نکا لنا قلب کی گہرا یوں سے اس کو ادا کریںتو پھر کوئی وجہ نہیں ہے ہم اس ذلت و خواری سے نکل جا ئیں گے۔

اور ہمیں عروج پھر نصیب ہو جا ئے گا لیکن اگر ہم باتیں ہی بناتے رہے ہم اللہ کے دشمن بھی رہے سودبھی کھا تے رہے تو روزی بھی ہماری حرام رہی جھوٹ بھی بو لتے رہے منافقت بھی کرتے رہے حق تلافی بھی کر تے رہے،دولت پر ستش کر کے شرک بھی کرتے رہے،تو پھر آپ خود ہی اندازہ لگائیں کیسا عروج؟ سب تو جو اور ذلت ہے اس سے اور مزیدذلت ہو گئی اور ذلت ہو گئی اور مزید ذلت ہو گی اور ایک وقت ایسا بھی آئے گاپتا نہیں یہ قوم رہے بھی یا نہیں، پہلے کتنی بڑی قومیں قوم عاد، قوم ثمود، قوم نوح، قوم لوط کسی بڑی بڑی قومیں آئیں، اب ان کا کوئی نشان ہی نہیں ملتا بس تذکرہ ملتا ہے تا ریخ میں بڑی بڑی قومیں تھیں۔اور میں تو کہتا ہوں آپ بھی ا س بات کو یقینا سوچتے ہونگے غور کریں اس پر جب ہم تذکرہ پڑھتے ہیں قرآن پاک میں کہ قومیں کس طرح تباہ او ر بر باد ہو ئیں تو ا س کا گہرا مطا لعہ کرنے کے بعدایک بات سمجھ میں آتی ہے جو قومیں تبا ہ ہوئی ان میں دولت پرستی تھی وہ سونے جواہرات کے پجا ری بن گئے تھے پجا ری کا مطلب یہ نہیں ہے آپ اس کے سامنے سجدہ کریں یا ہاتھ جو ڑیں۔

 لیکن اس کو اہمیت دے دی اللہ رسول کے مقابلے میں دولت کو اہمیت دے دی تو وہ دولت پرستی کی وجہ سے، جھوٹ کی وجہ سے، منافقت کی وجہ سے وہ قومیں تباہ ہو گئیں۔ اب ہم بحیثیت مسلمان قوم کے جب اپنا موازنہ کر تے ہیں تو صاحب دیکھ کر شرمندگی بھی ہوتی ہے تکلیف بھی ہوتی ہے رو نا بھی آتا ہے کہ جو قومیں ایک ایک بنیاد پرتباہ و برباد کر دی گئیں ان ساری قومیں کے سارے گناہ، اس وقت مسلمانوں کے اندر موجود ہیں۔

 یہ مسلمان قوم ابھی تک بندربن چکی ہوتی یہ تو حضور پاک ﷺ کیوں کہ رحمت العالمین ہیں آخری نبی ہیں آئندہ کوئی نبی تو آئے گا ہی نہیںاللہ کے محبوب ہیں دوست ہیں ان کی وجہ سے ہماری صورتیں او ر شکلیں ٹھیک ہیں ورنہ جو ہمارے اعمال ہیں وہ تو یہی ہیں کہ ایک گناہ پر ایک قوم تباہ کر دی گئی وہ ساری گناہ ہمارے اوپر ہیں اور پھر بھی ہم اپنے آپ کو یہ کہے رہے ہیں اللہ نے ہم کو ذلیل کر دیا اللہ نے ہمیں اللہ نے کیوں کر دیا، تم خودذلیل ہوئے ہو، منافقت کی وجہ سے ذلیل ہو ئے ہو اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے کہ بھئی ہم جتنا بھی ہوسکے اب ایک مسئلہ اور بھی لوگ کہتے ہیں کہ صاحب یہ جو ہمارااس سودی معیشت ہے اس سے ہم نکل نہیں سکتے مطلب یہ بینکنگ ہیںاب بینک کے ملازم ظاہر ہے سودی تنخواہ لاکھوں آدمی ہے اگر ساری نوکری چھوڑ دیں تو کیا بنے؟ سرکاری ملازمین وہ سارا سود کا نظام ہے۔

 وہ بھی کروڑوں کے حساب سے جتنی بڑی بڑی کمپنیاں ہیں وہ بھی سود کے اوپر چل رہی ہیں تو اب تو یہ بڑا مسئلہ ہے اب آدمی یہ کہے جی صاحب ہم تو سود نہیں کھا تے، تو ہم تو گھر بیٹھ جا ئیں نو کری کہیں نہیں ملے گی، یہ معیشت نہیں ہے یہ بھیک ہے لیکن کم از کم اتنا تو ہو سکتا ہے کہ ہم اس نظام کو برا سمجھیں اور برا سمجھ کر کو شش کریں کہ اس کی اصلاح ہو کوئی وجہ نہیں کہ جب ہم کوئی اجتماعی حیثیت سے یہ کو شش کر یں گے تو اجتما عی حیثیت سے سودی نظام ختم ہو سکتا ہے ایسی بات نہیں ہیں سودی نظام ختم نہیں ہو سکتا۔ لیکن اجتماعی حیثیت سے اس کی کو شش ہی نہیں کی اس لئے وہ چل رہا ہے اور جو لوگ اس نظام کو چلا رہے ہیں ان کو تو فا ئدہ ہی فا ئدہ ہے ایک دفعہ آدمی ان کے چکر میں پھس جا ئے پھر نہیں نکلتا وہاں سے تو اب یہ ہی ہے کہ کم از کم اتنا احساس تو ہمیں ہو جا ئے کہ ہماری ذلت و خواری کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہماری روزی حلال نہیں ہے ہم جھوٹ بو لتے ہیں منا فقت کر تے ہیں تو جب ہم اس نتیجے پر پہنچ جا ئیں گے اور کو شش کر یں گے تو آہستہ آہستہ منا فقت ہمارے اندر سے ختم ہو جائے گی۔

 دولت پرستی ہمارے اندر سے ختم ہو جا ئے گی حق تلا فی ہمارے اندر سے ختم ہو جا ئے گی۔ تو جب اللہ یہ دیکھئے گا میرے بندے کو شش کررہے ہے۔ جو ان کے بس میں تھا وہ تو انہوں نے ختم کر دیا، اللہ ایسا نظام لا سکتا ہے پھر ہم اللہ کے اس نظام میں آجا ئیں جہاں اللہ نے کہا یہ سب ہمارے دوست ہیں اور اللہ کا دوست ہے تو ظاہر ہے اللہ کی رحمت کا نزول ہو گا اللہ کی رحمت کا نزول تو اب بھی ہے دیکھئے اللہ میاں نے با وجود اللہ میاں کہتا ہے میرے دشمن ہیں سورج کو منع نہیں کیا کہ ان کو رو شنی نہ دو ہوا کو منع نہیں کیا،زمین کو منع نہیں کیا کہ ان کو پا نی نہ دو اللہ تو یہ چا ہتا ہے کہ آپ اس کی طرف پلٹے تو سہی اللہ کہتا ہے جب میرا بندہ کوئی میری طرف ایک قدم بڑھا تا ہے میں اس کی طرف دو قدم بڑھاتا ہوں میرا بندہ جب میری طرف لپکے آتا ہے میں اس کی طرف دوڑ کے جا تا ہوں۔ تو یہ مثال تو قائم کریں آپ چلو اگر سودی معیشت جو ہے اسکو ہم ختم نہیں کر سکتے تو کم از کم منا فقت تو ختم کر سکتے ہیں گھروں میں لڑا ئیاں جھگڑے تو ختم کر سکتے ہیں یہ جو فرقے بن گئے ہیں۔

 اسلام میں ہزاروں 72فرقے پتا نہیں کتنے فرقے ہیں ان فرقوں سے تو اپنی جان چھوڑا سکتے ہیں آج ایک ہوا کل دو ہو نگے پر سوں کو دس ہو نگے ہو سکتا ہے ہماری نسلیں اس عذاب سے نکل کر وہ اللہ کی رحمت میں چلی جا ئیں یہ بھی ایک بہت بڑا کارنامہ ہے ہر انسان اپنی نسل کے لئے سب کچھ کرسکتا ہے۔ جن صاحب نے یہ سوال کیا میرا خیال ہے اس کا جواب تو ہو گیا۔اختتام

 

 

 

 

 

Topics