Topics

تفسیر سورۃ اخلاص

 

 

اعوذ بااللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

قل ھو اللہ احد۔ اللہ الصمد۔ لم یلد ولم ویلد۔ ولم یکن لہ کفواََ حد

سورۃاخلاص ابھی جو میں نے آپ کے سامنے تلا وت کی اس کے بارے میں ہیں کہ اگر سورۃ اخلاص کو تین دفعہ تلاوت کر لیا جا ئے اور اس کے معنی اور مفہوم پر غور کر لیا جا ئے تو انسانی شعور میں ایسی رو شنیاں داخل ہو جا تی ہیں کہ جو شعور قرآن پاک کی حکمت کو قرآن پاک کے معنی اور قرآن پاک کے مفہوم کو سمجھتا ہے۔ عام الفاظ میں اس طرح کہا جا تا ہے اگر تین دفعہ سورہ اخلاص کو پڑ ھ لیا جائے تو ایک قرآن کا ثواب ملتا ہے۔ ثواب کیا چیز ہے ثواب کا مفہوم اگر آپ غوروفکر سے سمجھیں اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ ثواب کسی عمل کا نتیجہ یا حاصل ہے. جس آدمی نے خوشنودی کے ساتھ اللہ کو پکا راخوشنودی کے ساتھ اللہ کو پکا رنے کے بعد اللہ تک رسائی، اللہ کا عرفان اسے ہو جا تا ہے تو اس کا نام ثواب ہے۔رو زہ آپ نے رکھا سب جا نتے ہیں کہ رو زہ رکھنے کا ثواب ہے لیکن جب ثواب کا مفہوم زیربحث آتا ہے تو انسان یہ سمجھنے کی کو شش کرتا ہے کہ ثواب کیا؟

، تو اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں ر وزے کی جزا میں خود ہوں یعنی جس بندے نے اللہ کے لئے رو زہ رکھا، رو زے کے آداب پورے کئے ایک وقت مقررہ تک نہ کچھ کھا یا نہ کچھ پیا، جھوٹ نہیں بو لا، زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارہ، نماز بھی پڑھی قرآن پاک کی تلاوت بھی کی اس کے بارے میں یہ سو چا جا ئے یہ سب ہم کیوں کر رہے ہیں تو یہ کہا جا تا ہے کہ ثواب کے لئے کر رہے ہیں تو ثواب کا کیا مفہوم ہے تو یہی کہا جا ئے گا یہ سب میں اللہ کے لئے کر رہا ہوں جو چیزیں میرے لئے حلال ہیں چو نکہ اللہ تعالیٰ نے ایک معین وقت تک کھا نے پینے کو منع کر دیا اس لئے میں نے حلال چیزوں کو ہاتھ نہیں لگا یا ہے۔

 یعنی ثواب کا مفہوم اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے کہ اس کے عمل کا نتیجہ یا حاصل کیا ہے، اب اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں جب کوئی آدمی رو زہ رکھتا ہے رو زے کا ثواب ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرما یا روزے کی جزا میں خود ہوں رو زے کی جزا میں خود کا مطلب یہ ہے کہ اگر رو زہ پو رے قواعد وضوابط اور احتیاط کے ساتھ رکھ لیا جا ئے تواللہ اس کو مل جاتا ہے رو زے کی جزا کا مطلب ہے میں اس بندے کو مل جا تا ہوں وہ بندہ مجھ سے قریب ہو جا تا ہے پھر رو زے کے سلسلے میں آپ سب لوگ جانتے ہیں کہ لیلتہ القدر ایک یہ مفہوم میں بیان کر رہا ہے رو زے کا یہ مفہوم نہیں ہے لیکن سمجھنے کے لئے رسول اللہ ﷺ نے جب ارشاد فرمایا جب کوئی مومن رو زہ رکھ لیتا ہے تو اس کو چا ہئے کہ وہ طاق را توں میں لیلتہ القدر کو تلا ش کر ے تیس کو پچیس کو ستا ئیس کو لیلتہ القدر کے بارے میں حضور پاک ﷺ کا ارشاد ہے کہ لیلتہ القدر کو تلاش کر و۔اب لیلتہ القدر کے بارے میں قرآں پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وما ادراک ما لیلتہ القدر …کہ آپ کیا سمجھیں لیلتہ القدر کیا ہے؟

 حضور پاک ﷺ نے فر ما یا کہ لیلتہ القدر کو طاق راتوں میں تلا ش کرو۔اللہ تعالیٰ نے فرما یا روزے کی جزا میں خود ہوں اب اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ لیلتہ القدر کیا ہے؟پھر فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ لیلتہ القدر ایک ایسے حواس کانام ہے کہ جن حواس سے آدمی حضرت جبرا ئیل علیہ السلام کو دیکھ سکتا ہے اور حضرت جبرا ئیل علیہ السلام سے مصافحہ کر سکتا ہے اور ان چیزوں کو بھی وہ جان لیتا ہے سمجھ لیتا ہے کہ جو اللہ کا امر ہے وہ اللہ کی طرف سے جو چیزیں نا زل ہو رہی ہیں و ہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ لیلتہ القدر کا ثواب کیا ہے؟ ہم اب لیلتہ القدر کا بہت بڑا ثواب ہے تو کوئی آپ سے پوچھے بھی ثواب کیا چیز ہے جو اعمال آپ کر رہے ہیں ا س کی جزا اور اس کا حاصل ہے تو ایسی صورت سے جب ہم قرآن پاک میں غوروفکر کرتے ہیں اور یہ ہمارے بزرگوں کی بات ہے تو یہ جو ہمارے اولیا ء اللہ نے اور مر سلین نے جو لکھاہے سورہ اخلاص کو اگر تین دفعہ تلاوت کر لیا جا ئے تو ایک قرآن کا ثواب ملتا ہے یعنی ایک قرآن کو سمجھنے کے لئے جتنی سکت اور جتنی کا وش اور جتنی جدوجہد آدمی کو کر نا پڑتی ہے اگروہ سورہ اخلاص کو تین دفعہ پڑھے اس کے معنی اور مفہوم پر غوروفکر کرلے تو قرآن کا ایک مکمل خاکہ انسان کے سامنے آجاتا ہے کہ قرآن میں کیا پڑ ھا۔

 اب یہ آیت میں نے ابھی تلا وت کی سورہ اخلاص، اب اس میں آپ دیکھئے غور کریں اب ثواب کے اوپر غور کریں اللہ تعالیٰ کیا کیا فرما نا چاہتے ہیں یعنی سورہ اخلاص پڑھنے کا ثواب لے کررہیں یعنی سورہ اخلاص پڑھنے کا حاصل کیا ہے یا سورہ اخلاص پڑھنے کا نتیجہ کیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے پیغمبر ﷺ آپ فرما دیجئے اللہ تعالیٰ ایک ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندے محمد رسول اللہ ﷺ سے فرما تے ہیں آپ ان کو بتادیجئے لوگوں کو کہ اللہ ایک ہے، ایک سے مراد اللہ جیسا کوئی نہیں ہے شاہ عبد القادر صاحب نے تر جمہ کیا میری ایسی ذات کہ جس کی کوئی مثال ہے نہ کوئی عقل ہے نہ کوئی اس کے بارے میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں با لکل یکتا ہے کسی بھی صورت سے نہ وہ الفاظ میں بیان ہوسکتا ہے نہ عقل اس کو زیادہ پھیلا سکتی ہے نہ اسے کم کر سکتی ہے ایک ہے آپ پیغمبر ﷺ آپ فرما دیجئے اللہ ایک ہے۔

 اب جو انسانی شعور سے غوروفکر کرتے ہیں تو زمین پر موجود کوئی بھی شئے ایک نہیں دو ہی ہو گی دس ہو نگی، ہزار ہو نگی ایک نہیں ہونگی اب غور کریں آپ کہے جی کبوتر ایک ہے با لکل ایک نہیں ہے کبو ترایک ہوتا ہے اس کی پوری نسل ہوتی ہے،آپ کہیں جی انسان ایک ہے تو انسان ایک نہیں ہوتا ہزاروں آدمی ہیں، آپ کہیں جی درخت ایک ہے درخت بھی ایک نہیں ہو تے با دام کا ایک درخت آپ کہیں جی بادام کا یہ ایک درخت ہے آپ کو ایک نظر آرہا ہے لیکن ساری دنیا میں کتنے با دام کے درخت ہیں کروڑوں ہو نگے، اربوں ہو نگے آپ کہیں صاحب زمین ایک ہے،زمین بھی ایک نہیں ہے زمین کو آپ کھودتے چلے جائیے سات طبق ہیں زمین کے،آپ کہیں جی سمندر ایک ہے نہیں سمندر ایک نہیں ہے سات سمندر تو ویسے ہی مشہور ہے اور پتا نہیں کتنے ہو نگے، آپ کہیں صاحب دریا ایک ہے اب دریا بھی ایک نہیں ہے آپ کا چھوٹا سا پا کستان ہے ملک اللہ تعالیٰ اسے قائم دائم رکھے دریا جہلم ہے، دریا نیلم ہے، دریا سندھ ہے، کچھ دریا فلا ں یعنی آپ غور کریں گے اپنی زمین کے اوپر غور کر یں تو آپ یہ کہیں گے زمین کے اوپر ایک تو کوئی چیز نہیں ہے اب آسمان کی طرف نظر آپ اٹھا ئیں کہیں جی ستارہ ایک ہے۔کوئی ستارے ایک نہیں ہے آپ دیکھیں کتنے نظر آتے ہیں۔

چا ند ایک ہے چاند آپ کو ایک نظر آرہا ہے چاند ایک نہیں ہے وہ تو بے شمار ہیں جب دنیائیں بے شمار ہیں،آپ کہتے ہیں سورج ایک ہے سورج ایک آپ کو نظر آرہا ہے اگر آپ کی نظر محدود ہے تو اس کا مطلب یہ تھوڑی اگر سورج کو ایک دیکھ رہے ہیں تو سورج بھی لاکھوں کروڑوں ہیں جب دنیا لاکھوں کروڑوں ہیں تو عالمین بیشمار ہیں تو سورج بھی بے شمار ہونگے دیکھئے نہ ایک عالم زمین ہمارا ہے۔

اس پر سورج ایک ہے اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں الحمد اللہ …میں تو عالمین کا رب ہوں جب عالمین ہونگے تو تمام عالمین کے سورج بھی الگ الگ ہو نگے توچاند بھی الگ الگ ہے پھر جتنا بھی آپ اگر اپنے اندر غوروفکر کر یں تو آپ کو ایک چیز کوئی نظر نہیں آئے گی ہر چیز آپ کو کثرت نظر آئے گی یعنی ایک سے زائد ہو گی اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں اے پیغمبر آپ ﷺ آپ فرما دیجئے اللہ ایک ہے اور ایسا ایک ہے اس کا ہمسر کوئی نہیں اس کو آپ کسی بھی طرح دو نہیں کہہ سکتے اب انسان ایک ہے لیکن مر د ایک ہے عورت ایک ہے پھر مر د اور عورت سے اس کی نسل چلی ہے اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں ہے کوئی شما رہی نہیں ہے تو اب اس آیت میں جب آپ غور فرما ئیں گے تو پہلے تو آپ کو یہ پتا چلے گا اللہ ایک ہے اور ایسا ایک ہے دنیا میں کوئی ایک ہے ہی نہیں یعنی وہ واحد ہے اللہ ہی ہے اگر ایک کا لفظ اگر کسی کے لئے بیان کر سکتے ہیں تو وہ اللہ ہے اللہ صمد اللہ …کا کسی قسم کی احتیاج نہیں ہے نہ اسے بھوک لگتی ہے،نہ وہ پانی پیتا ہے،نہ اسے نیند آتی ہے، نہ اسے اونگ آتی ہے لاتاخذ سنتہ…اللہ ایک ایسی ذات ہے جس کو نہ نیند آتی ہے نہ اُونگ آتی ہے۔

اب اس پر بھی آپ غور کریں گے اس پر بھی ایک ہی بات کا علم ہوا کہ اللہ ایک ہے اور ایسا ایک ہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا ایک نہیں ہو گا۔اب دو سرا کوئی بھی ایک اور دو ہو گا تو اس کو بھوک بھی لگے گی پیاس بھی لگے گی اس کی نسل بھی ہو گی اس کے بچے بھی ہو نگے وہ جوان بھی ہو گا وہ بو ڑھا بھی ہوگا وہ پیدا بھی ہو گا وہ مر ے گا بھی اللہ الصمد ہر چیز سے بے نیا ز، کسی قسم کی کوئی احتیاج اب جب ہم مخلوق پر غور کر تے ہیں زمین پر کسی بھی مخلوق کے بارے میں سوچیں وہ احتیاج کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا پر ندے کو لے لیں وہ بغیر کھا ئے پئے نہیں رہ سکتے انسانوں کو آپ دیکھیں وہ بغیر کھائے پئے نہیں رہ سکتے درختوں کو، درختوں پر آپ غور فرما ئیں تو وہ کھائے پئے بغیر نہیں رہ  سکتا آپ کسی درخت میں پا نی ڈالنا چھوڑ دیں تو وہ سوکھ جا ئیں گے یعنی درخت بھی محتاج ہیں پرندے بھی محتاج ہیں اور زمین پر رہنے والی ہر مخلوق بھی محتاج ہے لیکن اللہ ایک ایسی ذات ہے کہ وہ کسی کی طرح محتاج نہیں ہے اللہ الصمد …اللہ کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے نہ اللہ پیدا ہوتا ہے،نہ اللہ لڑکا ہوتا ہے،نہ اللہ بوڑھا ہوتا ہے،نہ اللہ جوان ہوتا ہے،،نہ اللہ پیدا ہوتا ہے، نہ اللہ مرتا ہوتا ہے نہ کوئی تبدیلی ہوتی ہے نہ کوئی تعطل ہوتا ہے۔

نہ کوئی گھٹتا ہے نہ کوئی بڑھتا ہے ایسی ذات ہے گھٹنا، بڑھنا،کھا نا،پینا،بو ڑھا،لڑکپن ہر ضرورت سے بے احتیاج ہے ماورا ہے۔ اب اس سورۃ کو پڑھنے سے دوبا توں کا پتا چلا ہے کہ اللہ ایک ہے ایسا ایک ہے کائنات میں کوئی چیز اللہ جیسی ایک نہیں ہوسکتی یعنی کا ئنات میں اللہ کی ذا ت ایسی یکتا ہے کہ اس ذات کی طرح کوئی ذات نہیں ہے۔ ایک ہے بس دو سرا کوئی ہے ہی نہیں اللہ ہے، اگر ہے تو ایک ہے انسان تو ایک نہیں ہو سکتا جب بھی ہو گا ظاہر ہے ماں ہوگی،باپ ہوگا،بھا ئی ہونگے خاندان ہو گا وہ خود باپ ہو گادو سری صورت یہ ہے کہ مخلوق احتیاج کے بغیر زندہ نہیں رہ  سکتی اللہ کو کسی قسم کی احتیاج ہی نہیں ہے اللہ تو بے نیاز ہے تو دو با توں کا ہمیں پتا چلا اللہ تو ایک ایسی ذات ہے کہ اس جیسا کوئی نہیں ہے دو سری یہ ہے کہ اللہ ایسی ذات ہے جسے کوئی احتیاج نہیں، اس کو کھانے پینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

اس کو نیند بھی نہیں آتی اس کو اُونگ بھی نہیں آتی اس کو آرام کی بھی ضرورت نہیں ہے انسان یا ہر چیز تھکتی پرندے بھی تھک جاتے ہیں، چوپائے بھی تھک جا تے ہیں۔مشینیں چلا تے ہیں لوہے کی وہ بھی تھک جاتے ہیں لم یلد ولم یولد …تیسری بات کیا ہوئی تیسری بات یہ ہوئی کہ اللہ نہ کسی کا با پ ہے نہ اللہ کسی کا بیٹا ہے مخلوق کے لئے لازم ہے کہ وہ کسی کا بیٹا ہو یا کسی کا باپ ہو اب آپ کسی بھی مخلوق کو دیکھ لیں، پرندوں کو دیکھ لیں، ان کے بھی ماں باپ ہو تے ہیں، درختوں کو دیکھ لیں ان کی بھی اولاد ہوتی ہے …بھئی درختوں کی اولاد ان کا پھل ہے پھول ہے پتے ہیں شاخیں ہیں یہ درختوں کی سب اولادیں ہیں اللہ نہ کسی کا باپ ہے اور نہ اللہ کسی کی اولاد ہے۔اب ان دو نوں باتوں سے بھی یہی بات پتا چلی کہ اللہ ایک ایسی واحد ہستی ہے وہ مخلوق کی طرح نہیں ہے نہ وہ مخلوق کی طرح ہوتی،نہ مخلوق کی طرح کھا نے پینے کی ضرورت ہوتی ہے،نہ مخلوق کی طرح اس دنیا سے اسے دوسری دنیا میں جا نا ہوتا ہے قائم ہے ایک جگہ پر ولم یکن لہ کفواً احد …اب اللہ کا کوئی خاندان بھی نہیں ہے اب انسان میں آپ لوگوں نے دیکھا ہو گا دنیا ئیں ہیں قبیلے ہیں قومیں ہیں انسان تو پہچانا ہی اس بات سے جا تا ہے بھئی تم کو ن ہو؟

جی ہماری ایک قوم ہے قوم یہ ہے اب مسلمان ہیں۔ بھئی تمہا ری پہچان کیا ہے؟وہ کہے گا جی پاکستانی ہیں۔دو سرےسے کہیں گے بھئی تم کون ہو؟ کہیں گے ہم ہندو ہیں ہماری پہچان جو ہے ہندو ستانی ہے یعنی خاندان کے علاوہ قبیلے کے علاوہ برادری کے علاوہ انسان اپنا تذکر ہی نہیں کر سکتا اس کی کوئی ذات بھی ہو گی اس کی کوئی برادری بھی ہوگی اس کا کوئی کنبہ بھی ہو گا اس کی کوئی قومیت بھی ہو گی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اللہ کا کوئی خاندان ہی نہیں ہے تو وہ اس سے بھی ماورا ہے نہ اس کا کوئی خاندان ہیں نہ اس کی کوئی برادری ہے نہ اس کی کوئی قوم ہے اگر کوئی قوم ہوتی تو ظاہر ہے پھر اللہ جو ہے مخلوق کے ساتھ مل جاتا اب کیوں کہ اللہ ایک ہے مخلوق کے ساتھ وہ مل ہی نہیں سکتا۔

اب صورت یہ سامنے آئی کہ اللہ کے علاوہ جو کچھ ہے وہ مخلوق ہے اور اللہ خود یعنی اللہ ایک ایسی ذات ہے کہ جو پیدا کرنے والی ہے اللہ ایک ایسی ذات ہے جو پیدا کر کے وسائل فرا ہم کرنے والی ہے،اللہ ایک ایسی ذات ہے جس کو یہ علم ہے کہ مخلوق کی کیا کیا ضروریات ہیں وہ یہ جانتا ہے،مخلوق کو پا نی چاہئے اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے لئے پا نی فراہم کر دیا دریا میں،زمین کے اندر پا نی،با رش کا پا نی پہاڑوں میں پا نی،پہاڑوں پر بر ف جمتی ہے وہ پا نی اللہ تعالیٰ کو یہ علم بھی ہے مخلوق کھائے پئے بغیر نہیں رہ  سکتی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے زمین کو کتنا بڑا دستر خوان بنا دیا ہر وہ چیز جو انسانی ضرورت کے لئے زمین پیدا کر رہی ہے گیہوں زمین پیدا کر رہی ہے یہ ہر چیز جو بھی ہماری کھا نے پینے کی ہے تر کا ری ہے پھل ہے فروٹ ہے۔ اجناس ہے سب اللہ تعالیٰ جو ہے زمین کی ڈیوٹی لگا دی کہ تجھے پیدا کر دیا ساتھ ساتھ زمین کی ڈیوٹی کے کہ تجھے کھیتاں پکانی ہیں، پھل پکانے ہیں، چاند کی یہ ڈیوٹی لگا دی پھلوں میں مٹھا س پیدا کر نا ہے اگر چا ند نہیں ہوتا تو ہر چیز کڑوی ہو جا ئے گی۔

 اللہ تعالیٰ کی مخلوق کیوں کہ ایک نہیں ہو سکتی اب ضروری ہے کے مخلوق کو دو کرنے کے لئے دو رخ بنائے جائیں ایک مذکر رخ بنایا جا ئے ایک مونث رخ …پھر بھی مخلوق کیوں کہ عورت بھی ایک ہے مر د بھی ایک ہے۔او دو نوں ایک نہیں رہ  سکتے لہذا اولا د ہوتی ہے تو جب ہم ا س آیت پر غور کر تے ہیں اللہ کی نشانیوں پر اللہ کی صفات پر تو ہمیں یہ بات پتا چلتی ہے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میں اپنا تعارف کر وایا۔اور تعارف اللہ تعالیٰ سے اس طرح کر وایا ہے کہ مفہوم کے ساتھ بیان کر دی ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے با رے میں اللہ ایک ہے ظاہر ہے مخلوق تو ایک ہو ہی نہیں سکتی، اللہ بے نیازہے ظاہر ہے مخلوق توبے نیاز نہیں سکتی،اللہ کسی کی اولاد نہیں کسی کا باپ نہیں اللہ کی مجبوری ہے وہ کسی کا باپ ہو کسی کی اولادہو۔اللہ کا کوئی خاندان ہی نہیں ہے سیدھی سی با ت ہے مخلوق تو خاندان کے بغیر پہچانی ہی نہیں جا تی، بھئی قبیلے خاندان برادری کیا ہے۔

 تو اس سورۃ میں جس کو پڑ ھ کر قرآنی علوم کے بارے میں آپ کے اندر ایک تفکر کا Pattrenبنتا ہے اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی پانچ صفات بیان کی ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو پا نچ با توں سے متعارف کر وایا ہے مخلوق کے لئے اگر اس سورۃ کو مخلوق پڑھے تو وہ اللہ تعالیٰ سے متعارف ہو جا تا ہے۔

اور اللہ تعالیٰ نے اپنا تعارف ویسے تو اللہ کابہت تعارف ہے قرآن پاک میں لیکن اس سورۃ میں پانچ باتیں اللہ تعالیٰ نے اپنے تعارف کے لئے بیان کئے ان پانچ باتوں میں ایک یہ ہے کہ اللہ ایک ہے مخلوق ایک نہیں ہو سکتی،اللہ بے نیاز ہے مخلوق بے نیا زنہیں ہو سکتی اس کو تو کھانا بھی چا ہئے، پانی بھی چاہئے، کپڑا بھی چا ہئے، پیسے بھی چاہئے، نوکری بھی چاہئے، کا رو بار بھی چاہئے، مخلوق اولاد ہو نے سے انکار نہیں کر سکتی،مخلوق باپ ہو نے سے انکار نہیں کر سکتی، مخلوق خاندان کے بغیر نہیں ہو سکتی اب یہ پا نچ ایجنسیوں میں ایک ایجنسی یا ایک صورت ایسی ہے کسی صفت میں اللہ سے ہم رشتہ ہو سکتی ہو اور وہ یہ ہے کہ اللہ مخلوق سے بے نیاز ہے اس کو پھرآپ ذرا غور سے سنیں اللہ ایک ہے مخلوق ایک نہیں ہے اللہ بے نیاز ہے مخلوق بے نیاز نہیں ہوتی، یعنی احتیاج نہیں اللہ کو کسی چیز کی اور مخلوق احتیاج کے بغیر ہوتی ہی نہیں ہے اللہ کسی کی اولاد نہیں، اللہ کسی کا باپ نہیں، اللہ کا کوئی خاندان نہیں اب ان پانچ صفات میں سے ایک صفت ایسی ہے کہ جس سے مخلوق اللہ کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ سکتی ہے۔ وہ کون سی صورت ہے؟

 اللہ بے نیاز ہے کس سے بے نیاز ہے مخلوق سے بے نیاز ہے۔ مخلوق مخلوق کے ساتھ مل کر نیازمندی کرلے تو وہ اللہ کے ساتھ ہو جا ئے گی آپ ا گر اللہ کے ساتھ نیازمندی  کر یں یا نہ کر یں لیکن آپ مجبور ہیں آپ کو پیاس لگتی ہے۔پا نی آپ کو کون پلا تا ہے اللہ، آپ کو بھوک لگتی ہے زمین کے اندر پھل کون اگا تا ہے اللہ، آپ ہواکے بغیر نہیں رہ  سکتے آپ کو تو یہ پتا ہی نہیں ہے ہوا کہاں سے آرہی ہے۔کس طرح بنتی ہے کیسے پھیپھڑوں میں جا رہی ہے۔ یہ ہوا چلا نے والا، ہوا پیدا کرنے والا، ہوا سے آپ کو زندگی بخشنے والا کون ہے اللہ ہے۔ آکسیجن ہے آکسیجن کے بغیربھی آدمی زندہ نہیں رہتا نہ آکسیجن نہ کسی کو نظر آتی ہے نہ اندر جا تے ہو ئے محسوس ہوتی ہے لیکن آکسیجن ہے اندر جارہی ہے اپنا کام کررہی ہے یہ آکسیجن کس نے بنائی اللہ نے بھئی، تو اللہ کی بنا ئی ہوئی جتنی بھی چیزیں ہیں آپ تسلیم کریں یا نہ کر یں آپ ان چیزوں کے محتاج ہیں آپ پا نی پئے بغیر زندہ نہیں رہ  سکتے۔

 آپ ہوا کے بغیر زندہ نہیں رہ  سکتے اللہ تعالیٰ اگر زمین کو پہاڑ ہی بنا دے گیہوں پیدا ہی نہ ہو اللہ تعالیٰ ماں باپ کے دل میں محبت ہی نہ ڈالے تو اولاد کی پر ورش کیسے ہو گی اللہ تعالیٰ ماں کے سینے کو دو دھ سے نہ بھر دے بچے مر جا ئیں گے۔جتنا بھی آپ غور کریں گے جو احتیاج کا معاملہ ہے وہ براہ را ست اللہ کے ساتھ وابستہ ہے اب صرف اتنی سی بات ہے وہ برا ہ راست اللہ سے وابستگی ہے جس سے ہم واقف ہی نہیں ہیں تو واقفیت حاصل کی جا ئے واقفیت کس طرح حاصل کر یں، کسی طرح ہم مخلوق سے نیا ز مندی کا اور احتیا ج کارشتہ توڑ کر اللہ کے ساتھ قائم کر لیں۔ کیا سمجھے آپ یہ سمجھے؟ کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ اخلاص میں اپنی پا نچ بات کا پانچ صفات کا بیان کیا تاکہ مخلوق اس بات کو سوچ سکے اورسمجھ سکے کیا کوئی ایسی صفت ہے جس میں مخلوق اللہ کے ساتھ وابستگی اختیار کر لے ایک صفت ہے کہ آپ مخلوق سے بے نیاز ہو جائیں اپنی ساری توقعات اللہ کے ساتھ وابستہ کریں۔

آپ توقعات وابستہ کر یں یا نہ کریں آپ کی توقعات تو وابستہ ہیں آپ جب پیدا ہوئے، آپ کو تو توقعات کا پتا ہی نہیں تھا آپ تو بیٹھ ہی نہیں سکتے تھے کر وٹ بھی نہیں بدل سکتے تھے مکھی اگر آپ کے اوپر بیٹھ جائے تو مکھی اڑا نہیں سکتے تھے تو اس میں سے آپ کی ساری زندگی کی توقعات کس نے پو ری کیں؟

 نہ کوئی دوکان ہوتی ہے نہ کوئی کا رو بار ہوتاہے نہ کوئی درزی ہوتا یہ جو ہم کپڑے سیلے ہوئے پہنتے ہیں نہ رو ٹی ہوتی یہ سب کیوں ہیں اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے وسائل کو قائم رکھنے کے لئے انسان کے اندر عقل ہوتی ہے جب گر می لگے تو ایسے کپڑے پہنو،جب بھوک لگے تو ایسے رو ٹی کھا ؤ تھک جا ؤ  تو سو جا ؤ  سو نے کے بعد اٹھ جا ؤ  اپنے کام میں لگ جا ؤ  یہ سب چیزیں آپ کوکہاں سے ملیں کہاں سے ملیں اب بو لو تو بھئی …اللہ نے دی ہیں نہ تو اگر آپ توقع اللہ سے قائم کر یں یا نہ کر یں یہ تو مجبوری ہے انسان کی، سب کچھ اللہ کی طرف سے پو را ہوتا ہے مجبوراً جس چیز کو آپ مان رہے ہیں تسلیم کر رہے ہیں او ر مجبوری سے آپ زندہ ہو متحرک ہیں تو اس کو آپ خوشی سے کیوں نہیں استعمال کر تے مخلوق سے مخلوق توقعات قائم کرتی ہے یہ میرا ابا ہے، میری پر ورش کر ے گا مجھے تعلیم و تر بیت دلائے گا میری ضروریات کا کفیل ہو گا ابا اگر مر جا ئیں پھر روز مر تے ہیں، ابا با پ کہتا ہے صاحب میری اولاد ہو گی میری نسل چلے گی کیا ایسے خاندان نہیں ہیں جہاں اولاد ہی نہیں ہوتی کوئی ڈاکٹر کوئی حکیم کوئی سائنس والا نہیں پیدا کر سکتا تو اس کا مطلب ہے یہ ہماری اولاد ہو یہ بھی اللہ ہی پو را کرتا ہے، یہ توقع یہ میرا باپ ہے مجھ پر اس کا سایہ رہے تو توقع بھی اللہ ہی پوری کرے گا کیا اولاد اپنے ماں باپ کو زندہ رکھ سکتی ہے تو یہ توقع جب میرے ماں باپ زندہ رہیں یہ کون پو را کر رہا ہے باپ کھا نا کھاتے ہیں اندر کھا نا یہاں اٹک جا ئے آکر کیا ہو گا؟

کیا ہو گا موت آجا ئے گی نا آپ یہ توقع رکھیں کھا نا کھارہے ہیں معدے میں جا کر ہضم ہی نہ ہو ایسا ہوتا ہے میرے پاس ایک صاحب آئے وہ حیدرآباد سے کہ مجھے سات مہینے ہو گئے میں نے کچھ کھا یا ہی نہیں ہے تو میں نے کہا بھئی کیسے تو زندہ ہے کہنے لگے بس میں کھا ہی نہیں سکتا اور میں کوئی چیز کھا تا ہوں یہاں اٹک جا تی ہے اتر تی ہی نہیںتو میں نے اس کو دسترخوان پر بیٹھا رو ٹی دی اور کہا کھا بھئی …اس نے منہ میں رکھا وہ کہنے لگا جی میں تو نہیں نگل سکتا میں نے اسے ڈانٹ دیا میں نے کہا شاید رعب سے نگل لے گا۔

وہ جناب ایسے ایسے کیا حلق میں لقمہ تو گیا نہیں آنکھیں با ہر آگئی وہ گر گیا ہم تو بڑے خوف زدہ ہو گئے بھئی یہ تو بہت بڑی بات ہے، خیر ہم نے کہا لقمہ تھوک دو اس نے لقمہ تھوک دیا تو اب مجھے فکر یہ ہوئی یہ کھا تا کیوں نہیں کیا کیا مطلب ہے اس سے پو چھا بھئی تو کھا تا کیا ہے کہنے لگے جی و ہ بسکٹ آتا ہے اس کو پا نی میں گھول کر پتلا پتلا کر کے پیتا ہوں بس یہ میری خورا ک ہے ظا ہر ہے بسکٹ سے کوئی تیس پنتیس برس کا آدمی با لکل دبلا پتلا سوکھا خیر اس سے بہت ہی زیادہ جب اس سے پو چھا بھئی کیا ہو گا کیوں نہیں کھا تا کیا ہوا کہا جی کوئی ڈٖاکٹر بھی سمجھ نہیں آتا حکیم بھی تو ا س نے یہ بتا یا کہ صاحب مجھے ایک دن خیال آگیا بیٹھے بیٹھے اب میں نے لقمہ اگر اندر لیا اور میری سانس کی نا لی میں رک گیا تو میں تو مر جا ؤ ں گا۔اب جب بھی کوئی چیز کھا تا ہوں مجھے یہ خیال آجاتا ہے سانس کی نا لی میں رک جا ئے گا۔

اب ظا ہر ہے مر نا تو کوئی بھی نہیں چا ہتا اب میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے سانس کی نالی الگ ہے کھا نے کی نالی الگ ہے بہت سمجھا یا اسے سمجھ نہیں آیا پھر ہمارے لطیف بھا ئی ہیں ہمارے یہاں جو لنگر کا اہتمام کر تے ہیں وہ ذرا ایکسڈنٹ ہو گیا بچاروں کا آپ سب لوگ ان کے لئے دعا کر یں اللہ تعالیٰ انہیں صحت دے بہت ہی پرا نے میرے ساتھی ہیں لنگر ونگر کا سارا وہی اہتمام کر تے ہیں یہاں سڑک پر گر گئے تھے چوٹ وٹ لگی ہے بچاروں کے، دعا کر یں آپ لوگ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و تندروستی عطا کر ے۔ تو لطیف بھا ئی سے میں نے کہا ایسا کرو اس بندے کو لیجا ؤ  کسی قصائی کی دوکان پر لیجا ؤ  پہلے تو اسے بکری کی سری دیکھا ؤ  پھر اسے جناب کسی گا ئے کی سری دیکھا ؤ  اور یہ دیکھا ؤ  اسے کہ نا لیاں دو ہیں سانس کی الگ ہے اور نگلنے کی الگ ہے۔اور وہ صاحب اسے لے گے اسے اچھی طرح سری وری دیکھا ئی اس کو یقین آگیا ہاں بھئی سانس کی نا لی میں کھا نا جا تا ہی نہیں ہے سانس کی نا لی دو نا لیاں ہوتی ہیں۔

تو وہ آگیا تو اس کو ہلکا ہلکا کھا نا کھیلا یا اس لئے ہم نے کہا بھا ری دیا تو پیٹ خراب ہو جائے گا کہی مہینوں سے تو بھو کا ہے یہ پانچ سات دن وہی حال رہا اور اللہ کا ایسا کرم ہو ا وہ رو ٹی کھا تا ہوا گیا اب آپ یہ دیکھئے کھا نا کھا نا،معدے میں جانا، سانس لینا اگر ہم سب جو ہے یقین بن جا ئیں کہ ہم کھا نا کھا ئیں گے یہاں لقمہ اٹک جائے گا تو ہم دیکھئے گے کہ ہم روٹی کھا سکتے ہیں تو یہ روٹی بھی ہمیں اللہ ہی کھلا رہا ہے کھا تو ہم رہے ہیں لیکن کھلا کون رہا ہے آپ لڑکپن سے جوان ہو تے ہیں پتا ہی نہیں چلتا کب جوان ہو گئے یہ جوان کون کر رہا ہے بھئی وہ بھی اللہ کر رہا ہے کوئی آدمی زندگی میں بوڑھا نہیں ہو نا چا ہتا انسان کی کمزوری ہے جوان ہی رہنا چا ہتا ہے۔

اس لئے کہ بوڑھا پے کی دس پر یشانیاں یہاں درد وہاں درد کمر میں درد گٹھنے میں درد تو آدمی ان تکلیف سے بچنے کے لیے جوان ہی رہنا چا ہتا ہے لیکن دیکھئے اب میں بھی بوڑھا ہو گیا آپ بھی بو ڑھے ہو رہے ہیں جو جوان ہیں وہ بھی بوڑھے ہو نگے یہاں دنیا میں ایک ایسا آدمی بھی نہیں ہے جو بوڑھا نہیں ہے یا ہے ایسے کوئی مثال دنیا میں تو آدمی تو بوڑھا نہیں ہوتا تو کون بوڑھا کر رہا ہے یعنی جوان بھی اللہ نے کیا، بوڑھا بھی اللہ کررہا ہے اب کوئی ایسا آدمی نہیں دنیا میں جو مر نا چا ہتا ہوں یا کوئی چاہتا ہے مرنا جی کوئی نہیں چا ہتا نا کون چا ہتا ہے یہ چا ہتے ہے لیکن آدمی مر جا تا ہے پیدا بھی آپ کو اللہ نے کیا، آپ کو پتا ہی نہیں کہ آپ کہاں سے آئے یہ بھی پتا نہیں آپ کو کہاں سے پیدا ہو نا ہے یہ پو چھ کر اللہ میاں آپ کو پیدا کر تے،کہاں پیدا کریں تو میرا خیال ہے یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں سب یہی کہتے جی با دشاہ کی یہاں پیدا کر یں تو سارے ہی با دشاہ کی یہاں پیدا ہو جاتے تو نظام کیسے چلتا یہ سب چیز چا ہئں نہ بڑ بھئی چا ہئے لو ہا ر بھی چاہے،ٹیچر بھی چاہئے استاد بھی چا ہئے یعنی اگر یہ درجہ بندی نہیں ہو گی تو نظام ہی نہیں بڑے گا، بھئی مو چی نہیں ہو گا جو تا کہاں سے پہنو گے اور اگر ٹیلر ما سٹر نہیں ہو گا کپڑے کون سیئے گا۔

ہر چیز کا ایک نظام ہے قدرت نے ہر چیز کو قائم رکھا ہوا ہے۔کس نے قائم رکھا ہوا ہے؟اللہ نے، تو آپ یہ کیسے کہے سکتے ہیں کہ آپ کی توقعات مخلوق پورا کرتی ہے۔یہ سوال ہے کیا کوئی آدمی اس کی مثال دے سکتے ہیں کہ مخلوق توقعات پوری کر سکتی ہے ہاتھ اٹھائیں کوئی صاحب کہے سکتے ہوں تو۔ بھئی کوئی ایک کوئی ایک زندگی میں کوئی ایک مثال ایک دن سے لیکر اسی سال کی عمر تک ایک مثال آپ دیں کہ یہ یہ کام مخلوق کرسکتی ہے۔کوئی ایک آپ کہتے ہیں جی مجھے ماں پیدا کرتی ہے ماں کا کیا تعلق ہوا پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں ھوا لذی یصورکم …اس اللہ کی قدرت دیکھو اس اللہ کو پہچانے کی کوشش کر وجو اللہ ماں کے پیٹ میں خوبصورت خوبصورت تصویریں بنا رہا ہے اور دنیا میں لا رہا ہے۔

یصورکم فی الھمی…کیسا اللہ کیسی خوبصورت تصویریں بنا رہا ہے ماںکے پیٹ میں، ماں کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ تصویر کشی نہ کرے تو ہم میں سے کوئی بھی یہاں نہ ہوتا ہم کیاہیں اللہ کی تصویریں تو بنا ئی ہوئی ہیں تو اس کا مطلب ہے ماں کے پیٹ میں رہنا،ماں کے پیٹ میں نو مہینے تک ہماری پر ورش ہو نا پیدائش ہو نا، ما ں کے دل میں اللہ کا ممتا ڈالنا، با پ کے دل میں شفقت بھر دینا یہ سب کہاں سے ہو رہا ہے کون کر رہا ہے جی تو آپ یہ اس بات کو سمجھ گئے ہو نگے کہ مخلوق کی جتنی بھی توقعات پو ری ہو رہی ہیں، مخلوق مخلوق کی توقعات پوری نہیں کر رہی اللہ مخلوق کی توقعات پو ری کررہا ہے بس یہی سارا چکر ہے میںنے سو چتا ہوں میرے ماں باپ نے مجھے پیدا کیا لہذا میرے ماں باپ ہی مجھے پا لے گے، پو سے گے،بڑا کریں گے لیکن سوال یہ ہے کہ میرے ماں باپ پیدا ہی نہیں ہو تے اللہ پیدا ہی نہیں کرتا تو پھر میں کہاںسے ہوتا میرے ماں باپ کو اللہ تعالیٰ وسائل ہی نہیں دیتے تو وہ میری پرورش کیسے کرتے اب بھئی اللہ تعالیٰ نے ماں باپ کو وسائل دئے ماں باپ نے اولاد کو سیکھا دئیے ایسا ہی ہو رہا ہے نا بھئی آپ پا نی پی رہے ہیں پا نی کس کا دیا ہوا ہے آپ نے اپنی اولادوں کو پا نی پلا دیا تو اللہ ہی کا دیا ہوا پی لایا نا، اب یہاں جو بھی کچھ ہو رہا ہے وہ اللہ کاد یا ہو ا ہے اب یہاں اس سورۃ کو پڑھیں سورۃ میں نے اس لئے پڑھی یہاں سب کو یاد ہو گی نماز میں پڑھی جا تی ہے۔

 اے پیغمبر ﷺ آپ میری مخلوق سے یہ فرما دیجئے یا میری مخلوق کو یہ بتا دیجئے کہ اللہ ایک ہے یعنی خالق ہے مخلوق ایک نہیں ہوتی اللہ کو کسی قسم کی ضرورت نہیں ہے اور مخلوق ضرورت کے بغیر زندہ نہیں رہ  سکتے یہی مطلب ہوا نہ اللہ کسی کا بیٹا نہیں ہے اللہ کسی کا باپ نہیں ہے مخلوق کا مطلب ہی یہ ہے وہ کسی کا بیٹا ہو کفون احد …وہ،اپنے خاندان میں بھی یکتا ہے اس کا کوئی خاندان ہی نہیں ہے قبیلہ بھی نہیں ہے اب پا نچ باتوں میں سے کتنی با تیں اللہ نے بتا ئی ہیںکوئی صاحب کھڑے ہو کر بتا ئیں کتنی صفات اللہ نے اپنی بیان کی؟ہاں کیا کیا … اب اس میں مخلوق جو ہے وہ کون سی صفت میں اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرتی ہے۔یعنی مخلوق جو ہے وہ مخلوق سے توقعات توڑ کر اللہ کے ساتھ توقعات کر لے جو توقعات پوری ہوئی ہیں آپ ما نے یا نہ مانے یہ کہنا چھوڑ دے کہ میری توقعات مخلوق پورا کرتی ہے اورا س بات کا یقین کر لے اللہ ہی میری توقعات پو ری کرتے ہیں جو میں نے ابھی آپ کو مثا لیں دے کر بیان کی تو اللہ کے ساتھ مخلوق کا تعلق قائم ہو جا ئے گا اور مخلوق خو د کو مخلوق سمجھے گی اور جب مخلوق خود کو مخلوق سمجھے گی تو اس کا مطلب ہے اس نے اللہ کو اپنا خالق تسلیم کر لیا ہے۔

 جب مخلوق نے اللہ کوخالق تسلیم کر لیا تو مخلوق کی اپنی زندگی ساری کی ساری اللہ کے تا بع ہے۔ جب تک اللہ چا ہے زندہ رکھے گا جب ا للہ چاہئے مار دے گا۔بتا ئے کس کو اختیارہے جب چا ہے مرے،کس کو اختیار ہے وہ جہاں چاہے پید اہو جا ئے کس کو اختیار ہے وہ بچہ ہو ساری زندگی لڑکپن رہے،کس کو اختیار ہے وہ بوڑھا نہ ہو کس کو اس بات کو اختیار ہے کہ بوڑھا ہو کر آدمی مرے نہیں تو آپ مجبور اور بے بس ہو نے کی وجہ اب آپ چا ر باتوں میں مجبور ہیں کہ اس سے آپ ایک نہیں ہو سکتے اس لئے مخلوق کا مطلب ہی یہ ہے ایک سے زیادہ ہو نا خالق کا جہاں ذکر آئے گا وہاں ایک آئے گا۔مخلوق کا تومطلب ہی یہ ہے بہت سارے افراد ہوں کوئی بھی ہوں پر ندے ہوں چرندوں میں ہو ں چوپا ئے میں ہوں درختوںمیں ہوں پھول پھلوری میں ہوں، انسان میں ہوں، فرشتے میں ہوں، جنات میں ہوں، مخلو ق کا مطلب یہ ہے مخلوق ایک نہیں ہے بے شمار افراد کے مجموعے کا نام مخلوق ہے۔

خالق، خالق کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی ایک فرد دوسرا خالق کی ذات میں شامل ہی نہیں ہو سکتا اب آپ غور فرما ئیں اور آپ اس آیت کومیں جو کچھ عرض کر رہا ہوں اس کو گھر جا کر بھی دو ہر ایا کر یں اب وہ یہاں سے سن لیا اور وہ مسجد سے نکلا کہنے لگے وہاںوہاں بہت اچھا بھئی بہت اچھا قاری عزیز صاحب نے جتنی بھی تقریر کی اب بھئی کیا تھی کہنے لگے پتا نہیں کیا تھی،وہ ساری رات زلیخا پڑھتے رہے مولوی صاحب تو صبح کو ایک آدمی نے کہا مولوی صاحب یہ تو بتا دو زلیخا عورت تھی یا مر د تھا۔تو بات یہ ہے کہ اگر آپ بات کو سن کر اس کو گہرا ئی میں سو چیں گے سمجھیں گے تب اس بات کا مفہوم آپکے ذہن میں ثبت ہو گا۔اب یہ تو ساری زندگی تقریریں سنتے رہو آوا ز ہی سنتے رہو تو کیا فا ئدہ ہوا ہم بھی ساری زندگی آواز ہی سنتے رہے اب ساری زندگئی یہی سنا ہے مولوی صاحبان سے کہ۔۔۔ غیر مغضوب ولا …کا مطلب یہ ہے کہ یہودیوں کی حکومت ہے آپ سب نے بھی سنا ہوگایہودیوں کی حکومت ساری دنیا پر قائم ہو گئی کوئی آدمی یہ نہیں کہتا کہ یہ چودہ سو سال تھے چودہ سو سال سے نہیں گیارہ سو سال سے یہ جو تم کہتے رہو یہودیوں کی حکومت تھی یہودیوں کی حکومت تھی یہودیوں کی حکومت کیسے ہو گئی؟

 اگر ہو گئی تو اس کے بارے میں کچھ سوچ وبچار تو کر و کیوں ہو گئی بھئی اس طرح ہو گئی۔ آپ نے مسلمانوں والے وہ اعمال چھوڑ دئیے جن اعمال کی بنیاد پر مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کو حکمرا ں بنا یا تھااللہ تعالیٰ نے آپ کی حکمرانی کا تحفہ قبول کرلیا، کیوں اس لئے کہ آپ نے اللہ کے رشتے اور اپنے رشتے کو کبھی ایک اور دو کے بیچ میں سمجھنے کی کوشش کی ہی نہیں مخلوق بس اتنا جا نتی ہے اللہ صرف پیسے دیتا ہے اللہ رو ٹی دیتا ہے،اللہ کپڑے دیتا ہے،ارے بھئی انسان یہی سوچے اللہ روٹی دیتا ہے،اللہ کپڑے دیتا ہے،اللہ گھر دیتا ہئے تو کیا اللہ میاں کوئے کو گھر نہیں دیتا کوئے کا گھونسلہ نہیں بناتا بھئی کوئے جو جس قسم کے گھر چا ہئے ہو تے ہیں وہ اسے حاصل ہے کتے بلیوں کے گھر نہیںہوتے اللہ نے انہیں گھر نہیں دئیے کیا کتے بلیوں کو بھوک نہیں لگتی ان کی اولادیں نہیں ہوتی ان کی شا دیا ں نہیں ہوتی، تو انسان کی بنیاد اس بات پر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا، صرف اللہ کے بارے میں یہ تصور کیا جائے۔

 اللہ رو ٹی فراہم کرتا ہے اللہ اولاد دیتا ہے اللہ تو اولاد سب کو دیتا ہے،جا نوروں کو نہیں دیتا انسانوں کو بھی دیتا ہے،کھا نے پینے کو جا نوروں کو نہیں ملتا انسانوں کو بھی ملتا ہے۔جا نوروں کو گر می سر دی نہیں لگتی وہ حفا ظت نہیں کرتے اپنی انسان بھی کرتا ہے، آگ کی گرمی سے انسان بھی واقف ہے آگ کی گر می سے جا نور بھی واقف ہے اب آپ دیکھیں سردی میں جہاں آگ جلتی ہوئی دیکھتے ہیں وہاں سارے جانور جمع ہو جا تے ہیں تو انسان اورحیوان میں کیا فرق ہے انسان اور حیوان میں یہ فرق ہے کہ انسان کے علاوہ کوئی دوسری مخلو ق اس کے اندر اتنی سکت اللہ نے نہیں پید اکی کہ وہ با ت کو سوچیں کہ میں مخلوق ہوں اور میرا پہلافرض جو ہے وہ خالق پر ہے،انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا کی ہے کہ مخلوق یہ سوچتی ہے میں ایک نہیں ہوں اللہ ایک ہے،میں مجبور عبث ہوں اللہ کسی کام کے لئے مجبور نہیں ہے،میری مجبوری ہے میںکسی کا بیٹا ہوں میری مجبوری ہے کسی کا باپ ہوں اللہ ماورا ہے۔

 مخلوق کی مجبوری ہے کہ اس کا کوئی خاندان ہو،اللہ مجبور نہیں ہے اللہ کا کوئی خاندان نہیں ہیے اب یہ صفات جو اللہ تعالیٰ نے سورہ اخلاص میں بیان کیں ان صفات سے فا ئدہ اٹھا نے کے لئے ان صفات کو سمجھنے کے لئے کیا چیز ضروری ہے؟ کیا چیز ضروری ہے؟۔ اب یہ ماشا اللہ اتنے سارے لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں سورۃ شریف تو سب کو یاد ہو گئی ماشا اللہ ہرمسلمان کو یا د ہوتی ہے اس میںساٹھ سال کے لوگ بھی شامل ہیں،پچاس کے بھی تیس کے بھی ہیں آپ یہ بتا ئیں یہ بات جو میں نے اس طرح بیان کی ہے کیا آپ میں سے کسی نے اس طرح سو چا ہے کیوں نہیں سو چا بھئی اگر نہیں سوچا تو آپ دوسری مخلوق سے ممتاز کیسے ہو۔ایک کتا بھی نہیںسوچتا آپ نے بھی نہیں سو چا تو آپ اشرف المخلوق کیسے ہوئے اشر ف المخلوقات کا مطلب یہ ہے کہ جو پوری کائنات میں مخلوق ہے اس کی سوچ سے آپ کی سوچ اعلیٰ اور افضل ہو،مخلوق کے تمام علوم سے زیادہ ہو مخلوق کی جو اللہ کے ساتھ قربت ہے اس کے بدلے انسان سب سے آگے ہے۔

اللہ کو جانتا ہو، اللہ کو پہچانتا ہو اب آپ دعا ئیں کر تے ہیں دعائیں قبول ہوتی ہیں کیا کبھی آپ نے یہ سو چا ہے اتنا بڑا اللہ میاں اس سے جو بھی مانگتے ہیں وہ دیتا چلے جا تا ہے اس کو دیکھنا بھی چاہئے، اس سے یا ری دوستی بھی کر نی چا ہئے، اس کا کبھی شکر بھی کرنا چا ہئے،اب آپ کو کوئی ایک گلاس ٹھنڈا پانی پلا دے آپ کہے گے تمہارا شکریہ اور اللہ آپ کو مسلسل کھلا رہا ہے پلا رہا ہے،صحت دے رہا ہے، تندورستی دے رہا ہے کبھی انسان کا ذہن ہی نہیں جا تا اللہ اتنا محبت والا اللہ کہ ہماری ہر ضرورت کی کفا لت کرتا ہے او ر ہم سے کچھ بھی نہیں چا ہا رہا ہر چیز محبت خلوص کے ساتھ کیا یہ نا احساس اور نا شکر ی نہیں ہے کہ جس اللہ نے آپ کو پیدا ئش سے لیکر بڑھا پے تک ہر ہر قدم پر آپ کی حفاظت کی ہر ضرورت آپ کی پو ری کی جس چیز کی ضرورت ہوئی اللہ نے آپ کو مہیا کی آپ نے کبھی یہ سو چا کہ کون اللہ ہے ہماری اتنی ضروریات پو ری کر رہا ہے کیوں نہیں سو چا تو ہر آدمی نے ہزار با رہ سو دفعہ تو پڑھی ہی ہو گی بھئی نماز میں پڑھی ہو گی بچوں کو یا د بھی کرواتے ہیں یہ دو ہی تو سورتین ہیں جو جلدی یاد ہو جا تی ہیں ایک انا ا عطانا قل کو ثر…اور ایک قل ھو اللہ احد…بچے بڑی جلدی یاد کر لیتے ہیں تو ا س یا د کرنے کا کیا فائدہ ہوا بھئی جب آپ کا ذہن اللہ کی طرف نہیںہے۔

اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ میںبتا یا ہے کہ انسان کو کہ انسان کے اندر اگر غورو فکر ہو، انسان اگر سوچیں سمجھیں تو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی صفت بیان کی ہے کہ جس صفت میں انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑ لیتا ہے۔اور وہ صفت ہے اللہ سے توقع قائم کر نا اور مخلوق سے توقع توڑنا۔

 حضور قلندربابااولیا ء ؒ فرمایا کرتے تھے انسان بھی ایک بے وقوف چیز ہے اپنے جیسے مجبور لوگوں سے توقع قائم کرتا ہے بھئی آپ مجھ سے توقع قائم کر رہے ہیں میں تو خود مجبور ہو ں مجھ سے کیا توقع قائم کرنی اب اگر پو ری بھی کر دوں گا ایک کرو دوں گا دو کردوں گا چار کر دوں گا اور اللہ تو آپکو کہے بغیر آپ کی توقع قائم کرتے ہیں حضور قلندربابااولیا ء ؒ فرمایا کرتے تھے اللہ ایک ایسی ذات ہے کہ انسان اگر روزانہ اللہ سے ایک لاکھ توقعات قائم کرے تو اللہ کے لئے بہت آسان ہے کہ وہ روزانہ ایک لاکھ توقعات پوری کر دے تو جو اللہ آپ کی ا یک لاکھ توقعات پوری کر سکتا ہے اور کرتا ہے اس کی طرف کبھی ذہن نہیں جا تا اور جو انسان اپنی توقع پوری نہیں کر سکتا آپ اس سے چپکے ہوئے ہیں اس کے ساتھ شرمندہ بھی ہو رہے ہیںوہ،احسان بھی جتا رہا ہے کسی سے آپ ہزار روپے لے لیں اسے نہ دیں تو وہ وہ ہزار رو پے لئے تھے وہ دے دو یار تو کس منہ سے بو ل رہا ہے تم تو میرے مقروض ہو حالانکہ کے اس نے جو دوہزار روپے دئیے اس کو بھی اللہ نے ہی دئیے، اللہ کے دئے ہوئے تو اس نے دئے لیکن اللہ نے آپ سے کبھی نہیں کہا کہ میں نے تمہیں اتنا پانی پلایا،میں نے تمہیں اتنی ہوا دی،میں نے تمہیں اس طرح پلا پو سا، دھوپ میں بھی، چا ندنی دی یعنی جو بھی مسئلہ ہے زندگی کا اور اللہ تعالیٰ یہ بھی کہتے ہیں اطونی…مجھ سے مانگو میں دو گا کوئی انسان یہ نہیں کہتا مجھ سے ما نگو میں دونگا وہ تو آپ صبح سے شام تک اپنے ابا سے دس بار اگر پیسے ما نگے جناب وہ جو تا اٹھا کر ما رے گا۔

کیا بدتمیزی ہے ہر وقت مانگنے چلے آتا ہے یا اس کا کوئی آپ کو زیادہ ہی آدب و احترام ہو اکوئی دوست ہو گا مثلا ً میں ہوں میں آپ سے کہو گا دس روپے دے دینا دو منٹ کے بعد پھر کہو یار دس رو پے دے دینااچھا جی پر میں کہو دس رو پے دے دینا آپ کہے گے ایک ہی دفعہ لے لو بار بار مت مانگو یعنی آدمی پیسے ہو نے کے کے با وجود تھک جا تا ہے اللہ تھکتا ہی نہیں ہے دیتے دیتے تو جو اللہ آپ کی خواہشات پو ری کر رہا ہے اور ایسی خواہش پو ری کر رہا ہے جس کے بارے میں آپ کو یہ علم ہی نہیں ہے کہ ہماری کوئی خوہش پوری ہے آپ سو جا تے ہیں رات کو حفاٖظت کرتا ہے مچھر گھس جا ئے آپ مر جا ئیں گے کتنی حفا ظت ہوتی ہے کہ روز آپ مرتے ہیں سو تے ہیں صبح کو پھر زندہ ہوجا تے ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں روز تمہیں موت کے منہ میں لیجا تا ہوں صبح کو پھر زندہ کردیتا ہوں۔

اب آپ لوگ کیا سمجھے اللہ تعالیٰ نے سورۃ اخلاص میں مخلوق کو یہ بتا یا ہے کہ توقعات کا جہاں تک تعلق ہے وہ مخلوق مخلوق کے ساتھ کوئی توقعات قائم کرے گی یہ اس کے لئے پریشانی کا باعث بن جا تا ہے مصبت زدہ ہو جائے گی وہ اس لئے کہ کوئی مجبور آدمی کسی مجبور آدمی کی کیا مدد کر ے گا آپ کہے جی کسی یارمیں بو ڑھا نہیں ہونا چا ہتا تو میری مدد کروہ کہے گا یار میں خود بوڑھا ہو گیا تیری کیا مددکروں گا۔ اللہ سے آپ کہے جی میں بوڑھا نہیں ہو نا چا ہتا اللہ کو یہ اختیار ہے آپ کو بوڑھا اگربال بھی آپ کے کالے نہیں کر ے گا تو بوڑھا پے میں جوانی کی توانائی ضرور ملے گی۔

 یا نئی دے دے گا اب تو ساٹھ سال میں دو دو شادیاں بھی کر رہے ہیں اخبار میںآیا تھا مثلا ً یہ ہے کہ آپ اس آیت کو اس سورۃ کو گھر میں جا کر پڑھیں بار بار پڑھیں اس پر غور کر یں اس میں جو اللہ تعالیٰ نے پانچ صفات بیان کر ی ہیں اس میں پانچ صفات بیان کی ہیںاس میں سے چار صفات پر انسان بے بس ہے اللہ کے ساتھ کوئی وابستگی نہیں ہوتی ایک صفت یہ ہے کہ مخلوق سے توقعات کا رشتہ توڑ کر اللہ کے ساتھ قائم کرلیا جائے اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق دے کہ ہم قرآن پاک کو پڑھیں سمجھیں غور کریں اس کی حکمت کو تلاش کر یں اور حکمت تلاش کرنے کے لئے جب تک آپ کا ذہن کسی چیز کی گہرائی میں نہیں جائے گا جب تک آپ کو حکمت نہیں ملے گی اور ذہن کا جو گہرا ئی میں لیجا نے کاجو اولیا ء اللہ کا جو طریقہ ہم تک پہنچا ہے پیغمبران ِعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا جو طریقہ ہم تک پہنچا ہے وہ مرا قبہ ہے جس طرح حضور ﷺ نے غار حرا میں مر اقبہ کیا دیکھئے جب غار حرا میں حضور جب مراقبہ فرما تے تھے اس وقت تک نماز تو فرض ہوئی نہیں تھی نہ نفلیں تک وتو وہاں کیا کرتے تھے؟سوال ہے یہ نماز تو بعد میں فرض ہوئی ہے نا، جب قرآن نا زل ہوا تو حضور وہاں کیا کر تے تھے؟

تفکر کر تے تھے گہرا ئی میںکر تے تھے کہ اللہ سے میرا تعلق کس طرح جوڑ سکتا ہے کون سا وہ طریقہ ہے کہ جس طریقے پر چل کر میں اللہ سے ہم رشتہ ہو سکتا ہوں۔ اللہ سے قریب ہو سکتا ہوں، اللہ کا دوست بن سکتا ہوںاور یہ حضور پاک ﷺ کے اللہ کے بنے بنائے دوست ہیں اللہ نے تو ان کے لئے ساری کائنات بنا ئی با عث تخلیق کا ئنات ہے۔با عث تخلیق کا ئنات جو ہے اس نے بھی اللہ کو پانے کے لئے اللہ سے قربت کے لئے غوروفکر کیا ہے مراقبہ کیا ہے ہر مسلمان کے اوپر لازم ہے کہ وہ اللہ سے قریب ہو نے کے لئے اللہ کا عرفان حاصل کرنے کے لئے مراقبہ کریں۔اختتام

 نفس کیا ہے اور اس کی کتنی اقسام ہیں؟

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایاھوالذین …کہ ہم نے ان سب کو ایک رُخ سے تخلیق کیا اور وہ جیسے جیسے عنوان آتے رہے تشریحات ہوتی رہی،جب محفل میں تشریح کی جا تی ہے تو نفس کو سامنے رکھا جا تا ہے نفس سے مرا د زندگی کی بھی ہے، نفس سے مراد انسان کی تخلیق بھی ہے،نفس سے مراد ایجنسی بھی ہے وہ ایجنسی جو اطلاعا ت کو قبول کرتی ہے اور اطلاعا ت میں معنی پہناتی ہے نفس سے مراد یہ بھی ہے انسان کے جذبات احساسات اور حواس جو حواس کبھی بھا ری ہو جا تے ہیں کبھی ہلکے ہو جاتے ہیں کبھی بہت زیادی بھا ری ہوجا تے ہیں کبھی ہلکے بھی ہو جا تے ہیں اب ایسے جذبات کے علوم میں یہ بھی ہے کہ جذبات سے کبھی وابستگی ہو جا تی ہے اور کبھی جذبات میں ٹھہراؤ  پیدا ہو جا تا ہے۔یہی صورت حال حواس کا ہے حواس انسان کو اپنی زندگی کے اس رُخ میں لیجا تے ہیں جہاں زندگی میں خوشی ہے مسرت ہے اور یہی جذبات کا انسان کو اس طرف لیجاتے ہیں جہاں غم ہے پر یشانی ہے اداسی ہے بے چینی ہے، ٹھہراؤ  ہے پر یشانی ہے اور جب زندگی کا تجزیہ کیا بڑے بڑے بزرگوں نے ہمارے احباب نے تو انہوں نے یہ دیکھا کہ زندگی تین رُخوں پر چل رہی ہے ایک زندگی کا رُخ یہ ہے کہ آدمی مطمئن ہے، زندگی کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ آدمی غیر مطمئن ہے۔

اب کوئی یہ کہتا ہے ایک نفس امارہ ہے، امارہ سے وہ جذبات اور احساسات کو لیتے ہیں یعنی نفس امارہ ان جذبات و احساسات کو، زندگی کو کہتے ہیں جن کے احتیاج میں تخریب، جن کے احتیاج میں کبر،جن کے احتیاج میں شیطنت،پھر دوسرے کہتے ہیں نفس لوامہ ہے یعنی تخریب اور بے حالی کا جو زمانہ ہے یا کیفیت ہے اس میں ایک رُخ ایسا ہے کہ وہ آدمی جو تجسس کرتا ہے اور ملا مت کر تاہے بھئی یہ کام تم نے اچھا نہیں کیا جب ملا مت کرتا ہے تو وہ مطمئن بھی ہوتا ہے اور اب ایک قسم نفس کی بنا ئی ہے نفس امارہ یعنی ایسا عہد جو شیطنت کو قبول کرتا ہے یا جو تخریب پسند ہے یا جو پریشانی اور بربادی سے متعلق قبول کرتا ہے نفس لوامہ ہے پھر دو سرے لفظ میں کہتے ہیں نفس لوامہ جو ہے وہ ملامت کرتا ہے، متوجہ کرتا ہے، آدمی کو کہ یہ کام ضروری ہے پہلے کر دے اس نفس سے مطمئن نہ ہو جب آدمی اس ملامت کو اور ضمیر کی آواز کو اور ضمیر کی رہنمائی کو قبول کرتا ہے۔

 وہ راستہ اختیار کر لیتا ہے جیسے کہ راستے تو اللہ تعالیٰ نے پسند کئے ہیں اللہ تعالیٰ کے دوستوں نے پیغمبر علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے پسند کیا ہے، اس میں اور اس کی زندگی میں جب ٹھہرؤ  پید اہوجا تا ہے ایک سکون پیدا ہو جا تا ہے تو اطمینان پیدا ہو جا تا ہے تو اس نفس کونفس مطمئنہ اور اگر اس نفس امارہ نفس لوامہ یا نفس مطمئنہ میں یہ اس نفس کی اصطلاح ہے جو بڑوںنے قائم کی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ انسان ان تمام برائیوں سے اور ان تمام باتوں سے بچے ان برا ئیوں سے یا باتوں سے انسان کے اندر ایک ملامت پیدا ہوتی ہے ایک پریشانی پیدا ہوتی ہے احساس ندامت پیدا ہوتی ہے۔اور ان باتوں کو اختیار کریں جن با توں کے اوپر اطمینان قلب ہو اوراطمینان قلب نصیب ہو نے والی بات ہے۔ ہم سب جا نتے ہیں اور ہمارے سامنے حضور پاک ﷺ کی تعلیمات بھی ہیں شریعت بھی ہے طریقت بھی ہے تو یہ حضور قلندربابااولیا ء ؒ فرمایا کر تے تھے کہ اطمینان کی ایک ہی صورت ایک تو یہ انسان اپنے لئے جو چا ہے اپنے بھا ئی کے لئے وہ ہی چا ہے۔

دوسری یہ کہ جو اپنے بھا ئی کی خدمت کرتا ہے اس کا کوئی معاو ضہ اور صلہ نہیں ہو نا چا ہئے کہ میں نے اس کی خدمت کی ہے یہ میری خدمت کر ے گا میں آج اس کے کام آیا کل کو یہ میرے کام آئے گا۔ یہ جو طریقہ ہے یہ نفس امارہ کے علم میں آتا ہے جب ہم اپنے لئے کوئی کام، کر تے ہیں تو مثلا ً یہ ہے کہ جب ہم بہترین لباس اپنے لئے سلواتے ہیں اس کو ہم پہنتے ہیں تو اس کا ہمارا کوئی مقصد نہیں ہوتا ہم لباس کوئی توقع قائم نہیں رکھتے کہ ہم نے یہ لباس پہنا تو یہ لباس ہمارے کام آئے گا یا ہم نے اس کے لئے اتنے پیسے خرچ کئے سوٹ کے لئے بھئی ضرورت کی چیز ہے حیات کے مطابق جس جسم کے لئے آپ نے خریدا، پہنا۔

 اس جسم جو اصل ہے اس میں آپ اپنا ذہن نہیں لگا تے، چپکتے نہیں ہے اسی صورت سے اگر آپ نے کسی اپنے بھا ئی کے لئے کوئی کام کیا کسی نے اپنے بھا ئی کے لئے سوٹ سلوا دیا کسی نے اپنے بھا ئی کی مدد کر دی تو اس وقت بھی آپ کے ذہن میں یہی صورت ہو نی چا ہئے کہ یہ صورت احسان کے لئے نہیں ہے،اگر آپ نے کسی کی خدمت کی اور اس خدمت کا اپنے لئے معاوضہ چاہا اور اس خدمت کے بارے میں آپ کے ذہن میں یہ بات کسی بھی طرح آگئی آپ کے ذہن میں کہ میں نے اس کی خدمت کی ہے یہ میرے کام آئے گا تو وہ خدمت جو ہے وہ نفس امارہ کی ہو گئی ہے اس لئے وہ اآپ کا ضمیر ضرور آپ سے ملامت کر ے گا لیکن اگر آپ نے اپنے بھا ئی کی خدمت اس طرح کی ہے کہ آپ نے خدمت کی اور اسے بھول گئے یا تو اس طرح جس طرح آپ صبح کو نا شتہ کر تے ہیں دوپہر میں آپ بھول جا تے ہیں اگر آپ اسی طرح اپنے بھا ئی کہ خدمت کو بھی بھول گئے تو اسی صورت میں کہے گے آپ کا جو عمل ہو گا یہ نفس مطمئنہ میں شامل ہو گا۔

 دوسری طرف حضور قلندر بابااولیا ء ؒ نے جو فرمایا، یہ فرمایا ہے ایک ہدایت دی ہے حکم دیا ہے کہ کبھی کسی قسم کی توقع قائم نہیں کرو، توقع قائم کر نا ہے اگر ہے تو اس سے توقع قائم کرو جو توقع پوری کر سکے اب آج آپ مجھ سے توقع قائم کر تے ہیں کہ یہ کام کر دے گا آپ کو یہ سوچنا چا ہئے کہ میرا بھی تو کوئی کام کر رہا ہے جب میں کسی سے توقع رکھتا ہوں مجھ سے توقع رکھو تو یہ بات غلط ہے یقینی صورت یہ ہے کہ آپ اس سے توقع رکھیںجو سب کے کام آرہا ہے اور کسی سے کسی قسم کی احتیاج توقع نہیں رکھتا یعنی اللہ، اللہ سب کی خدمت کررہا ہے، سب کو رزق فراہم کر رہا ہے، سب کو وسائل فراہم کر رہا ہے ہر ہر قسم کی ضرورت کا اہتمام کردیاہے لیکن اللہ تعالیٰ کبھی کسی سے توقع نہیں رکھتا اگر اللہ تعالیٰ توقع رکھتے تو جتنے بھی کا فر ہیں مشرک ہیں، اللہ تعالیٰ رو زی بند کر دیتا ہوا ہی بند کر دیتے سانس ہی نہیں دیتے تو یہاں زمین کے اوپر ایک آدمی بھی ایسا نہ ہوتا کہ اللہ کو خوش رکھ سکتا لیکن اللہ کا جو نظام ہے وہ ہمارے سامنے ہے، کافر ہو، مشرک ہو اللہ کو جو مانتا ہو نہ مانتا ہواللہ تعالیٰ نے جو زندگی کے لئے وسائل فراہم کر دئیے ہیں وہ سب ایک ہی طرح تقسیم ہو رہے ہیں مقصد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو خود خدمت کرتا ہے اور اپنی مخلوق سے کسی قسم کی توقع قائم نہیں کرتا تو یہی صورت انسانوں کے اندر بھی ہو نی چا ہئے انسان اگر دوسرے انسان کی خدمت کرتا ہے تو اس خدمت کو بھول جانا چا ہئے اور دوسرے انسان سے اپنے لئے کسی قسم کی توقع قائم نہیں کر نی چا ہئے تو یہ جو کیفیت ہے جس میں انسان کسی بندے سے توقع قائم نہیں کرتا اور اپنے حساب کے مطا بق اپنے بھا ئیوں کی خدمت کرتا ہے تو یہ کیفیت ہے نفس مطمئنہ میں آتی ہے یہ نفس امارہ، نفس الوامہ، نفس مطمئنہ کچھ اس طرح ہے اس کا مطلب ہے کہ نفس امارہ یعنی شیطانی خیالات تخریبی خیالات، وہ خیالات جو اللہ اور اللہ کے رسول کی تعلیمات کے خلاف ہیں یہ وہ نفسیات ہیں، نفس لوامہ انسان کے اندر وہ ایجنسی جو انسان کو با خبر کرتی ہے برا ئیوں سے اور اچھا ئیوں سے یعنی وہ بتا تی ہے یہ کاکم جو ہوا ہے وہ برا ہو ا ہے اور یہ کام جو ہوا یہ اچھا ہوا ہے۔

برا ئی کو چھوڑ کر اچھا ئی کو اختیار کر نا اور اچھا ئی کو اختیار کرنے کے بعد انسان کے اندر جو سکون پیدا ہوتا ہے اس سکون کی زندگی کا نفس مطمئن ہے۔اختتام

 

Topics