Topics
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
والذین
جاھدو افینا لنھدینھم سبلنا…اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ار شادفر ماتے ہیں …جو لوگ
میرے لئے یعنی مجھے پانے کے لئے،میرے سے قریب ہو نے کے لئے یا میرا عرفان حاصل
کرنے کے لئے کوشش کرتے ہیں تو میں ان کے اوپراپنے راستے کھول دیتا ہوں اس آیت
مبارک میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کو واضع طور پر بیان فر مایا ہے کہ اللہ تک
پہنچنے کا ایک راستہ نہیں ہے بے شمار راستے ہیں۔لیکن اس بے شمار راستوں کے لئے کسی
ایک مرکز کا ہو نا ضروری ہے۔ جیسے کراچی شہر ہے اب کراچی شہر میں داخل ہو نے کے
لئے ٹھٹھہ سے بھی راستہ ہے،حیدرآباد سے بھی راستہ ہے،بلوچستان سے بھی راستہ ہے۔بے
شمار راستے ا س وقت متعین ہوئے، جب پہلے سے کراچی شہر موجود ہے۔اگر کراچی شہر
موجود ہی نہ ہو تو راستے زیر بحث نہیں جا ئیں گے۔ ایک شہر میں داخل ہو نے کے لئے
بے شمار راستے ہو سکتے ہیں اور ہو تے ہیں۔ لیکن ضروری ہے کہ وہ راستے جہاں جاکر
ختم ہو ں یا وہ راستے جہاں سے شروع ہوں۔
اس
کاکوئی مقام ہو،اس کا کوئی نام ہو، اس کا کوئی محل وقوع ہو،اس کی اپنی کوئی پہچان
ہو،اور اگر وہ پہچان کی جگہ نہیں ہے کوئی محل وقوع نہیںہے اور اسکا کوئی نام
نہیںہے شہر کا تو اگر پچاس راستے بھی نکل جائے توہم یہ نہیں کہے گے یہ راستے اس
شہر کی طرف اس کراچی کی طرف یا لاہور کی طرف جا رہے ہیں۔اب راستے چلنے کے لئے
مرکزیت کا ہونا ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں والذین جھدو…جو لوگ کوشش کرتے
ہیںفینا …ہمیں حاصل کرنے کے لئے یہ دنیاوی بات یہ ہے کہ پہلے اللہ تعالیٰ کا ماننا
ہے اللہ تعالیٰ کواس طرح ماننا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ہستی ہے ہی
نہیں وجو مخلوق کا سنبھال سکتی ہو، کوئی اور ہستی ہے ہی نہیں جو خالق کا وصف پورا
کرتی ہو، کوئی اور ہستی ہے ہی نہیں جو خالق ہو، صرف اللہ ہے تو پہلے یہ تعین کرنا
ہے کہ ایک اللہ ہے۔وحدہ لاشریک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اسی نے ہمیں پیدا کیا، اس
نے ہمیں زندہ رہنے کے لئے وسائل مہیا کئے۔
وہی
ہمیں پیدا کرتا ہے، وہی ہمیں زندہ رکھتا ہے، وہی ہمیں موت دیتا ہے،وہی ہمیں موت
دینے کے بعد زندہ دوبارہ کرے گاتو پہلے یہ تعین کرنا ضروری ہے کہ ایک اللہ ہے۔ایسا
اللہ جس کا کوئی شریک نہیں جو رب ہے، جو رحمن ہے،اس کے علاوہ کوئی رحمن نہیں ہے۔اس
کے علاوہ نہ کوئی رحیم ہے۔اس کے علاوہ نہ کوئی رب ہے۔اس کے علاوہ نہ کوئی وسائل
دینے والا ہے وہ واحد ذات ہے ایک ہے اللہ قل واللہ احد…اے پیغمبر ﷺ ّآپ فر ما
دیجئے کہ اللہ ایک ہے۔اس جیسا کوئی ہے ہی نہیں کوئی تذکرہ میں بات نہیں آسکتی کہ
اللہ کے علاوہی بھی کوئی ہے۔تو پہلے یہ بات تو تسلیم ہو کہ اللہ ہے کوئی اس کا
شریک نہیں ہے۔ اب جب آپ اس تعین کے ساتھ کوئی راستہ چلتا ہے اور اللہ کو تلاش
کرنے نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ یہ فر ماتے ہیںکہ ہم نے اپنے اوپر لازم کر لیا ہے کہ
ہم اپنے بندے کو اس راستے پر لے آئیں گے جن راستوں پر چل کر بندہ ہم پہنچ جائے
گا۔
اوروالذین
جھدو…اور وہم لوگ جھدو…کو شش جہد کوشش کرتے ہیں فینا …فینا …ہمارے لئے ہمارے اندر
ہمارے علاوہ کوئی اور مقصد نہیں ہو تاان کی کو شش کا محور یہ ہوتا ہے کہ ہمیں جس
طرح بھی ممکن ہواللہ کی قربت حاصل کرلیں۔ جس طرح بھی ممکن ہو ہمیںاللہ کا عرفان
حاصل کر نا ہے،اللہ کو پہچانا ہے،اللہ کو دیکھنا ہے، اللہ سے باتیںکر نا ہے۔اللہ
کی اپنی عرض معروضات پیش کرنی ہے اور جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو کچھ تم
مجھ سے مانگو میں دو نگا دعابھی کرو میںقبول کرو گاوعدہ ہے اللہ کا تو جب ہم یہ
سوچ کر اپنا اے ذہن بنا کر اللہ وحدہ لاشریک ہے اس کے علاوہ کوئی ہستی نہیں ہے
کوئی قالب نہیں ہے جب اس کے اندر اس کے لئے ہم جدوجہد کریں گے تو اللہ تعالیٰ فر
ماتے ہیں میں ایسے راستے دیکھا دونگا جن راستوں پر چل کر وہ بندہ مجھ تک پہنچ جائے
گا۔اب یہ راستہ چلنا راستہ بھی اس وقت تک نہیں چل سکتاجب تک آپ کو اس راستے کا
امکان نہ ہو۔
کیونکہ راستے تو دس ہیں ابھی آپ یہاں سے جائیں
گے مراقبہ ہال تو سب کو پتا ہے یہ لانڈھی کو راستہ جا رہا ہے، یہ گلشن کو راستہ جا
رہا ہے،یہ بلو چستان کو راستہ جا رہا ہے،یہ صدر کو راستہ جا رہا ہے یعنی جب تک آپ
کو راستے کے بارے میں علم نہیں ہو گا تو آپ راستہ اختیار نہیں کر سکتے۔یہ روزانہ
تجربے کی بات ہے کہ ہم لانڈھی جانے والے لوگ جو ہیں ان کو پتا ہے فلاں جو روڑجو ہے
وہ کبھی چاولہ والی بس میں نہیں بیٹھے گے۔ صدر جانے والے لوگ وہ جناب کبھی گلشن کی
بس میں نہیں بیٹھیں گے۔کیوں؟ا سلئے کہ انہیں اس بات کو علم ہے کہ فلاح روڈ کی بس
جو ہے فلاح مقام پر پہنچے گی۔تو اب یہ بات بالکل طے شدہ ہے کہ جب تک راستے کا علم
نہیںہو گا آپ بھٹکتے رہے گے۔ ہوسکتا ہے پہنچ جائیںزیادہ امکان یہ ہے کہ آپ اپنے
مقام پر پہنچ ہی نہیں سکتے۔مثلا ًآپ کویہاں سے جانا ہے گلشن اقبال جا نا ہے آپ
بیٹھ گئے بس میں ٹاور کی اب کیا وجہ ہے کہ آپ کیوں اتر گئے کہ نہیں بھئی مجھے تو
گلشن جانا ہے۔
وہ تو کہے گے بھئی یہ تو آپ غلط آگئے آپ کو
تو اس طرف جانا چاہئے اس بس میں بیٹھ جاؤ ۔آپ اس بس میں بیٹھ گئے کسی ایسی بس میں
بیٹھ گئے جس نے آپ کو ملیر پہنچا دیا اب وہاں جا کر کہنے لگے بھئی مجھے تو گلشن
جانا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ صحیح راستہ اختیار کریں گے جب ہی آپ منزل
تک پہنچ سکیں گے اگر آپ صحیح راستہ اختیار نہیں کریں گے تو آپ منزل تک نہیں
پہنچے گے۔یہ ہماری ر و ز مرہ زندگی کے معاملات ہیں۔آدمی اس بات سے واقف ہے او ر
اس کی پریکٹس ہے کہ سب کو پتا ہے میں فلاں بس میں بیٹھوں گا تو لانڈھی پہنچو گا
اور اگر نہیںمعلومات ہو تو آپ پوچھتے ہیں۔کئی بھئی مجھے ٹاور جانا ہے مجھے کو ن
سی بس میں بیٹھنا ہے تو اس پوچھنے کے بعد آپ بس میں بیٹھیں گے تو آپ صحیح مقام
پر پہنچ جا ئیں گے تو یہ تین باتیں اس وقت بیان ہو ئیں ایک تو یہ راستے پر چلنے کے
لئے کسی مرکز کا تعین ہو نا ضروری ہوتا ہے۔
اگر
آپ لاہور جار ہے ہیں تو لاہور آپ کے ذہن میں مرکز بنے گا یا پنڈی جا رہے ہیں تو
پنڈی ذہن میں مرکز بنے گا۔یہ ایک مثال ہے اور آپ اگر اللہ کی طرف جارہے ہیں تو
اللہ کے لئے مرکزیت ضروری ہے۔جب تک آدمی کے ذہن میں اللہ کی مرکزیت نہیں ہو گی تو
وہ راستے اختیار نہیں کرے گا جو راستہ قدم قدم بڑھا کر اللہ تک لیجا رہا ہے
والذین…اور وہ لوگ جو میرے لئے جدوجہد کرتے ہے کو شش کرتے میں ان کو اپنے راستوں
کی ہدایت اب راستے سبلنا…یعنی بیشمار راستے آپ اللہ تک پہنچنے کے اب یہ بے شمار
راستوں میں انتخاب کرنا ایک بات کہ انتخاب کیسے کرے آدمی کون سا راستہ ہے کہ جس
راستے پر چل کر میں اللہ سے رسوائی حاصل کروں اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو راستوں
کا علم حاصل ہو۔ جیسا کہ میں نے آپ سے کہا کوئی ٹاور کا راستہ ہے،کوئی لاندھی کا
راستہ ہے آپ کو علم ہے تو راستوں کا جب تک علم نہیں ہو گاہم سڑک ہی نہیں پکڑیں
گے۔
تو
علم کے لئے ضروری ہے کہ آپ کا اس کام میں کوئی استاد ہو، استاد کے بغیر علم آپ
کو حاصل نہیںہوتا، اب جب اللہ کے بندے کے درمیان جو ایک تعلق ہے مخلوق کا اور خالق
کا اس کے بارے میں جب آپ غور کریں تو آپ کو ایک ہی بات سمجھ میں آئے گی وہ یہ
اللہ اور اس کے بندے کا تعلق علم کے علاوہ کچھ نہیںہے۔ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے
پیغمبروں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو پیغمبروں کو بھیجا ان پیغمبروں نے ہمیں یہ علم
عطا کیا کہ اللہ ہے اور ایک ہے۔بھئی حضور ﷺ نے فر مایا اللہ ہے ایک ہے اگرحضورپاک
ﷺ یہ کہے دیتے کہ اللہ دو ہے تو ہم یہ مانے پر مجبور تھے کہ اللہ کو دو ماننے پر
لیکن حضور ﷺ نے کہا اللہ ایک ہے کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔انسان کے لئے ضروری ہے کہ
وہ توحید پر اللہ کو ایک مانتا ہو تو یہ بات کہ اللہ ایک ہے اس کو ہم علم کے علاوہ
ہم کوئی نام نہیں دے سکتے۔یعنی ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے لاکھوں کروڑوں سال
میں نوع انسانی کو اس علم سے آشنا کیا کہ اللہ ایک ہے۔
اللہ ایک ہے۔دو چار دس بیس نہیں حضور پاک ﷺ کا
مشن شروع ہوا اسلام کا تو وہ یہی تھا کہ خانہ کعبہ میں جو تین سو ساٹھ بت رکھے
ہوئے ہیں ہر قبیلے کا،ہر ملک کا الگ الگ بت تھا تو حضور پاک ﷺ نے یہی بات فر مائی
کہ جو ایک متواتر خبر آرہی ہے آدم سے لیکر اب تک مجھ تک تو یہی ہے۔ اللہ تین سو
ساٹھ نہیں ہوتے اللہ تو ایک ہے اور اسی بنیاد پر قریش مکہ نے حضورپاک ﷺ کی مخالفت
کیا اور کہا کہ اللہ ایک کیسے ہو سکتا ہے اللہ تو تین سو ساٹھ ہیں یہ رکھے ہو ئے
ہیںسارے، خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے ہیں۔تو انہوں نے کہا نہیں اللہ ایک ہے۔اور وہ
اللہ وہ ہے جو تمہارا رب ہے۔تمہیں بارش کا پانی دیتا ہے، تمہیں کھیتی باری میں
تمہارے کھانے پینے کی چیزیں پیدا کرتا ہے،تمہیں پھل عطا کرتا ہے، تمہیں بچے دیتا
ہے،جوان کرتا ہے،بوڑھا کرتا ہے، ہوا دیتا ہے لیکن جب یہ تین سو ساٹھ بت ہیں ان میں
تو اتنی بھی صلاحیت نہیں اگر ان پر مکھی بیٹھ جائے تو یہ اڑا دیں تو ایسی چیز جو
پتھر کی ہو، اس میں جان نہ ہو،تم نے اپنے ہاتھ سے اس کو تراش لیا اس کی آنکھ بنا
دی اس کی ناک بنا دی بڑے بڑے کان بنا دئیے ڈراونی شکل بنا دی،کوئی اس کو خوبصورت
بنا دی، کوئی موٹا بنا دیاتو وہ کہتے ہیں حضور یہ بتائیے یہ کیسے ممکن ہے انسانوں
کی بنا ئی ہوئی تصویر خدا کیسے ہوگئی۔
انہوں
نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا اب سوچنے کی بات ہے آنکھوں دیکھی بات کو کیوں نہیں
تسلیم کیا۔اپنے ہاتھ سے انہوں نے پہاڑ میں سے پتھر کاٹا اس پتھر کو تراش کے اس کی
آنکھیں بنائی ناک کان سب اس کی تصویر بنا ئی اور اسکا نام خدا رکھ دیا،بیبل اور
کیا کیا نام بیشمار نام آپ نے پڑھیں ہونگے تاریخ میںان کی سمجھ میںیہ بات کیوں
نہیں آئی ہمارے ہاتھ کے بنائے ہو ئے مورتیاں خدا کیسے ہو سکتیں ہیں؟ اصول تو یہ
ہو نا چاہئے نا جو چیز بنا نے والا ہے وہ خالق ہے اب ہم نے ایک چیز بنائی، ایک بت
بنایا وہ بت خالق کیسے ہوایا بنا نے والا خالق ہواجس نے تصویر بنائی وہ خالق ہوا
لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہیںآئی۔اب سوچنا یہ ہے ان کی سمجھ میں یہ بات کیوں
نہیں آئی ان کی سمجھ میں یہ بات اس لئے نہیں آئی کہ انہوں نے توحید کا جو علم
تھا اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ کوئی کہتا ہے توحید کا جو علم ہے وہ علم ہی
نہیںیہ جو پیغمبروں نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبرو ںنے متواتر اعلان کیا ہے ہم
اسے نہیں مانتے ہم تو اس بات کو مانتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اس علم کو پوجھتے تھے
اور انہوں نے ہمیں یہ بتایا یہ خدا ہے۔
اس لئے سارا جھگڑا شروع ہوا آپ دیکھئے حضور پاک
ﷺ نے کیسی کیسی اذیتیں تکلیفیں اٹھا ئیں۔ان کا بائکاٹ کر دیا کھانا پینا بند کر
دیا۔ راستے میں کانٹے بچھا دئیے۔اونٹ کی اوج رکھ دی اور کیا کیا یہ سب آپ کو سیرت
میں ملتا ہے اللہ کے فضل و کرم سے تھوڑا سا سب کوعلم ہے لیکن حضور پاک ﷺ نے ایک ہی
بات فر مائی کہ بات وہی صحیح ہے جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مسلسل کہتے رہے کہ
اللہ ایک ہے۔اور اللہ ایک ہے اور وہ ایسی ذات ہے جس کو ہم شعور میں بیان تو کر
سکتے ہیں۔لیکن مظاہرے کی شکل میں تصویر بنا کر اسے پیش نہیں کر سکتے۔یہ ایک کوشش
ہوتی رہی رسول اللہ ﷺکولوگ اذیتیں، تکلیفیں پہنچاتے رہے انتہاء یہ ہے کہ وہ حضورکو
ہجرت بھی کرنی پڑی جو لوگ بالکل ابتداء میں اسلام رائج حضرت بلال حبشی،حضرت ابوز
غفاری، بڑے بڑے لوگ انہو ں نے کیسی کیسی تکلیفیں اٹھا ئیں اور بالاخر ہوا یہی کہ
ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے جو علم نوع انسانی کو عطا تھا اس علم کو انہوں نے
تسلیم کرنا پڑا اور انہوں نے کہا صاحب لا االہ اللہ محمد رسول اللہ …کہ اللہ کے
علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول اور بندے ہیں۔
تو
اس نقطے پر آپ جب غور کریں گے تو یہاں اسی بات آپ کی سمجھ میں آئے گی کہ جب
رسول اللہ ﷺ نے توحید کا اعلان فرمایا تو دراصل ان بت پرستوں کو اس علم سے آشنا
کیا جو علم اللہ کی توحید سے ہے۔اور جب وہ علم انہیں حاصل ہوگیا۔ وہ سارے مسلمان
ہو گئے۔ جب تک وہ علم حضور ﷺ کا پھیلا یا گیا اور تمام انبیاء علیہ الصلوٰۃو
السلام کا پھیلا یا ہوا علم مسلمانوں کے اندر منتقل ہوتا رہا مسلمان اس علم پر
یقین کرتے رہے تو مسلمان کوعروج ہوتا رہا مسلمان ترقی کرتے رہے ساری دنیا پر چھا
گئے اور جیسے جیسے یہ علم مغلوب ہوا لوگوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات آگئے۔لوگوں
نے اسلام کا نام ہی تفرقہ رکھ لیا۔ اب تو صورت حال یہ ہے اب آپ سے بھی پوچھیں آپ
کون ہیں؟تو آپ یہ نہیں کہتے ہم مسلمان ہیںآپ کہے گے ہم دیوبندی ہیں،ایک کہے گے
ہم بریلوی ہیں،دوسرے کہے گے ہم وہابی ہیں،تیسرے کہے گے شعیہ، چوتھے ہم اہل حدیث
ہیں،اور پانچویں کہے گے ہم غیر مقلد ہیں۔
اب
اسلام کی جو پہچان ہے وہ یہ نہیں ہے کہ ہے بربلا کہے ہم مسلمان ہے۔دیوبندی بریلوی
ہونے والے کو کیا کہتے ہیں کتنے تفرقے ہیں پہچان جو ہے وہ ہمارا تفرقہ بن گیا
اسلام ہمارا پہچان ہماری نہیں رہی۔اور انتہاء یہ ہے میں بیٹھا ہوا یہاں سنتا ہوں
مجھے بڑی حیرانی ہوتی ہے اگر دیو بندی صاحب بریلوی صاحب کی مسجد میں چلے جائیںتو
وہ مسجد ہی دھولوا دیتے ہیں۔ بریلوی صاحب دیوبندی صاحب کی مسجد میں چلے جائیں تو
وہ بھی دھولوا دیتے ہیں۔ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے کہ نماز ہی نہیں
ہوتی۔اب آپ یہ دیکھئے کتنا علم کی کمی ہے۔ حضور پاک ﷺ نے فر ما دیا کہ کافر کو کا
فر نہ کہو۔ حضور پاک ﷺ کے جو مذاہب ہیں۔ان کے علماء کو برا نہ کہو اگر تم ان کے
علماء کو برا کہو گے تووہ تمہارے علماء کو برا کہے گے۔ جس آدمی کو تم کافر کہے
رہے ہو سکتا ہے وہ اس وقت مسلمان ہو چکا ہو جب آپ کے علم میں تھا کافر تھا اب آپ
نے کہا تو تو بڑا کافر ہے ہو سکتا یہ دیکھ کر اللہ تعالیٰ نے اسے روشنی دیکھا دی
ہو وہ مسلمان ہو گیا۔
تو
آپ ایک مسلمان کو کافر کہے رہے ہیں۔ہمارے یہاں یہ صورت حال ہے کہ صاحب وہ ایک
دوسرے کے پیچھے نماز نہیںپڑھتے کلمہ طیبہ لا اللہ… کلمہ شہادت بھی وہی ہے اشھدن لا
اللہ… آذان بھی وہی ہے، نماز بھی وہی ہے،اوصاف بھی پانچ ہی ہیں، نفلیں بھی وہی
ہے،نماز میں سمع اللہ …ربنا …الحمد شریف …قل واللہ شریف…سبحان اللہ ربی
یااعلیٰ…سبحان اللہ ربی العظیم …بھی وہی ہے۔اب اس کا مطلب یہ کہ ایک کلمہ وہ ہے
دوسرا کلمہ وہ ہو وہ کافر کہلا یا جاتا ہے۔اب کوئی سند نہیں ہے۔نہ کسی دیوبندی
صاحب کے پاس ہے وہ جنتی ہیں،نہ کسی بریلوی صاحب کو پتا ہے وہ جنتی ہے یہ تو بھئی
اندھا کھا تا ہے یہ تو اللہ کوپتا ہے کون جنتی ہے۔ لیکن پہلا فر مان یہ ہے کہ حضور
پاک ﷺ فرماتے ہیںکہ کافر کو کافر نہ کہو یہاں یہ مسلمان کو ہم کافر کہے گے تو اب
اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ جو علم ہمیں توحید کا جو ہمیں علم ملا تھا۔
توحید
کا جو طرز تھا کہ مسلمان ایک قوم بن کر متحد ہو کر ایک دیوار کی طرح ہو جائے وہ
علم ہمارے انددھیرے،دھیرے، دھیرے دندھدلا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک
میں فرماتے ہیں واعتصمو ابحبل اللہ جمیعا ولا …کہ اللہ کی رسی کو متحد ہو کر
مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو …آپس میںتفرقہ نہ ڈالو اب حال
یہ ہے کہ مسلمان کی علامت بھی یہ ہے تفرقے کے علاوہ مسلمان کی کوئی پہچان ہی
نہیںہے۔میرے پاس وہاں لندن میں ایک صاحب آئے انگریزمجھ سے ملنے، وہ بڑا مجھ پرطنز
کیامیرے پاس کوئی جواب نہیں تھا انہوں نے کہا میں مسلمان ہو نا چا ہتا ہوںآپ
بتائے مجھے کون سا مسلمان کریں گے؟ دیوبندی مسلمان کریں گے؟بریلوی مسلمان کریں
گے؟شیعہ کریں گے یا سُنی کریں گے؟آپ مجھے کون سا مسلمان کریں گے؟تومیرے پاس کوئی
جواب نہیں تو یہ جو ہمارے اندر برائی پیدا ہوئی ہے یہ اصل میں توحید نہیں ہے،
توحید کا مطلب کیا ہے توحید کا مطلب ایک اللہ،ایک قرآن،ایک رسول، ایک قوم،ایک
جماعت،ایک امت مسلمہ،اور توحید کیسے کہتے ہیں۔
تو
حید کا مطلب یہ تو نہیں ہے آپ ایک اللہ کو مان کرمسلمانوں میں دس شاخیں بنا دیں
توحید کا مطلب یہ بالکل ہر گز نہیں ہے اللہ کے ایک رسول کو آپ مانے اور اس رسول
کی امت کا جب تذکرہ ہوتو پتا چلے کہ وہاں پچاس تفرقے بنے ہو ئے ہوں توحید کا مطلب
یہ ہے کہ ایک بڑے فارم پر توحید کے پلیٹ فارم پرجو قرآن کہے رہا ہے جو اللہ کا
رسول کہے رہا ہے۔جو حدیث کہے رہی ہے اس کے مطابق ایک پلٹ فارم پر مسلمان ٹہر جائے
قائم ہوجائے اور توحید کے علاوہ اگر آپ غور کریں تو اسلام میں کچھ ہے بھی نہیں۔
آپ ابھی ماشا اللہ ہم نے باجماعت نماز پڑی امام صاحب نے ایک دفعہ اللہ واکبر کہا
جتنے بھی فرقے تھے ہزار لاکھ انہوں نے ہاتھ اٹھا لیا اللہ واکبر کر کے نیت باندھ
لی انہو ں نے اللہ واکبر کہا جتنے بھی فرقے تھے رکوع میں چلے گئے۔سمع اللہ لمن
حمدا کہا تو کھڑے ہوگئے۔آپ دیکھئے نماز دیکھئے آذان دیکھئے اس میں وحدت کے علاوہ
کوئی چیز آپ میں ملتی ہے۔
ایسی صورت سے روزہ ہے آپ کا تو صاحب اگر ایک
کروڑ تیس لاکھ کی آبادی ہے تو جناب صبح فجر کی آذان ہوئی ہر مسلمان نے حلال چیز
اپنے اوپربلاک کی۔گرمی ہو، سردی ہو، پریشانی ہو، آدمی بھوکا ہے کچھ نہیں کھا رہا
ہے کچھ نہیں پی رہاہے کئی مرتبہ تو گلا حلق اتنا چٹخ نے لگتا ہے کہ کلیاں کرنی
پڑھتی ہیں لیکن پانی حلق میں اندر نہیں جانے دیتا وہ اور جب افطار کا وقت ہوتا ہے
آذان ہوتی ہے تو سب کیسے خوشی خوشی افطار کر لیتے ہیں سب بیٹھ کرکھا تے ہیں کیا
یہ توحید نہیں ہے۔ حج کا آپ دیکھ لیجئے ایک وقت میں بائیس لاکھ آدمی بھئی ایک
وقت ایک ہی کام ہوتا ہے یعنی جو بھی کام ہو رہا ہے ایک وقت میں ہو رہا ہے۔ ایک چین
ہے وہ چل رہی ہے۔ اب بائیس لاکھ آدمی ایک ہی بات کہے رہے ہیں اللہ و اکبر، اللہ
واکبر،لا الہ اللہ …اللہ واکبر اللہ واکبرگونج ہے اللہ کے نام کی اور جب بائیس
لاکھ آدمی الگ الگ ہو تے ہیں وہ پھر تفرقوں میں بٹ جاتے ہیں تو حج کا مطلب ہی یہ
ہے کہ سال کے سال امت مسلمہ کو اس با ت کی پریکٹس حاصل ہو کہ امت مسلمہ جو ہے ایک
دیوار ہے اور اسلام کے جتنے بھی لوگ آئے وہ سب اس دیوار کی اینٹ ہے۔
ایک
دیوار ہے اس پر کوئی آدمی نہیں چڑھ نہیںسکتا کوئی نہیں ہلا سکتا آپ غور فر مائے
کہ مسلمان ایک ارب ہے اگر ایک ارب آدمی جو توحید کا منشاہ ہے اللہ ایک ہے اللہ کا
رسول ایک ہے۔قرآن ایک ہے اسلام ایک ہے نماز ایک ہے۔نما ز کا مطلب یہ ہے کہ نماز
سبب پر فرض ہے ایک ہی نماز ہے آپ اس کو چھوڑ دو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اگر ایک
ارب آدمی ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جا ئے تو کیا مسلمان کسی کا غلام ہو سکتا ہے
کیامسلمان کی قوم کو مغلوب کر سکتا ہے۔یہ نماز جو ہے میں کبھی کبھی غور کرتاہوں یہ
جوپانچ وقت کی نماز جو ہے یہ پریڈ ہے یہ دراصل پریڈ ہے جیسے روزانہ فوج میں جوپریڈ
کرا ئی جاتی ہے نا انہوں نے کہا اٹینشن وہ سارے جناب اٹینشن ہو گئے سارے ہو جائے،
تو اب نماز میں اس میں کیا فرق ہے ۔اس کا مطلب ہے مسلمان کو حضور پاک ﷺ نے ایسا
پروگرام عطا کیا ایسا علم عطا کیا کہ اس علم کے سوائے توحید کچھ نہیں ہے۔
سوائے وحدیت کے کچھ نہیں ہے اور جب تک مسلمانوں
میں یہ وحدیت تھی، مسلمان ترقی کرتا چلا جاتا ہے بتائیے کہاں چین وہاں بھی
مسلمانوں کی حکومت ہے۔پورے یورپ میں آپ کہیں بھی چلے جائے وہاں بھی مسلمانوں کی
حکومت ہے اب صورت حال یہ ہے کہ جن لوگوں پر آپ حکومت کرتے تھے اب وہ ہمارے آقا
ہیں ہم ان کے غلام ہیں تو اب تو محرومی کی انتہاء ہو گئی میں سمجھتا ہوں بد نصیبی
کی انتہاء ہو گئی۔کہ علم بھی ہمیں وہی سے سیکھنا پڑھتا ہے وہی سے مانگانا پڑھتا ہے
یہ جو کچھ علوم ہیں وہ ہمارے بزرگ کے اٹھا کے دیکھیں کتاب میں انہوں نے عربی سے اسے
انگریزی میں کر دیا۔فرانسسی میںکر دیا اور اپنا علم بنا کر وہ وہاں سے بھیج رہے
ہیں آپ پڑھیں اور اپنے علم کی طرف آپ کو دھیان نہیں ہے آپ انگریزی بڑے شوق سے
پڑھیں گے اپنے بچوں کو اعلیٰ سے اعلیٰ داخلے کرائیں گے اور جب قرآن کا ذکر آئے
گاتو قرآن یہ کہ ٹھیک ہے جی پڑھ لو وجی کس لئے پڑھیں گے کہ ثواب پہنچا دوں،وہ کس
لئے پڑھیں گے کہ نوکری نہیں مل رہی اآیت الکرسی پڑ ھ لو،بھئی کیا ہے بھئی بہت بری
حالت ہے بڑے پریشان حال ہوں نماز پڑھا کرو ٹھیک ہو جا گے، بھئی وہ گھر میں چوری
کاخطرہ ہو رہا ہے تو انہوں نے کہا آیت الکرسی پڑھ کر سوئے کرو چور نہیں آئے گا۔
بلا
شبہ قرآن میں یہ انوار ہے قراآن میں یہ طاقت ہے۔قرآن کا یہ وصف ہے کہ وہ نوع
انسانی کی حفاظت کرتا ہے لیکن اس سے کوئی قرآن کا منشاہ تو پورا نہیں کیا، قرآن
کا منشاہ یہ ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے قرآن میںہر سائنسی فارمولا محفوظ کر
دیا۔ میرا اپنا یہ خیال ہے میںنے یورپ میں بھی اپنی تقریروں میں بتایا کہ یہ جتنی
بھی سائنسی ایجادات ہو رہی ہیں اس وقت تک ہوئی ہیں سب قرآن سے مطابق ہے ہر ترقی
کے پیچھے قرآن کی آیت آپ کو مل جائے گی۔مثلاً اب اس وقت سائنس کی سب سے بڑی
ترقی ہے سب سے بڑی ترقی سب سے بڑا جو علم ہے وہ یہ ہے کہ کسی بھی طرح ٹائم کو وقت
کو مختصر کرنا ہے۔ اب وہ ٹائم کو مختصر کرنے کا فارمولا یہ ہے کہ رفتار بڑھا
دے۔جتنی زیادہ رفتار بڑھا دی جاتی ہے اسی حساب سے ٹائم کی ترقی جو ہے وہ زیادہ ہو
جاتی ہے۔اب دیکھے نہ پہلے آپ بیل گاڑیوں میں چلتے تھے۔
پھر
وہ ریل گاڑی آئی کاریں آئیں پھر ہوا ئی جہاز آئے پھر وہ پھر جیٹ جہاز آگئے وہ
آواز کی رفتار سے چلتا ہے اب وہ اسپیس شپ بنا رہے ہیں تو وہ ترقی کا درومدار اس
بات میں ہے کہ ایک وقت کو کم سے کم اس طرح کر دیا جائے اور تھوڑے سے وقت میں زیادہ
سے زیادہ فاصلہ جس طرح طے کر نا ہے یہ ایک سائنسی ترقی کا اصول ہے اس میں اب آپ
قرآ ن پاک میں حضرت سلیمان کا قصہ پڑھیں حضرت سلیمان علیہ السلام بیٹھے ہو ئے ہیں
…عربی آیت …وہاں ایک جب بیٹھا ہوا تھا اس نے کہا کہ اس پہلے آپ اپنا
درباربرخواست کریں میں لے ؤ ں گا وہاں
انسان بھی تھا دربار میں حضرت سلیمان کے دربار میں جنات کی بھی ہو تے تھے ہے وہ سب
اللہ تعالیٰ نے ان کو اسی سلطنت دی تھی وہ سب پرندوں کی چرندوںکی درختوں کی سب کی
زبانیں بھی سمجھتے تھے وہاں انسان بھی بیٹھا ہو ا ہے انہوں نے کہا صاحب پہلے آپ
کی پلک جھپکے میں تخت لے آو گا۔
سینکڑوں میل کا فاصلہ ہے کوئی اٹھارہ سو میل
کہتا ہے کوئی بائیسوں سو میل کہتا ہے بارحال سینکڑوں میل کا فاصلہ ہے تو اب حضرت
سلیمان علیہ السلام نے ابھی کہا بھی نہیں ہاں بھی لاؤ ں پلک جھپکے گی دیکھا تو تخت
رکھا ہوا ہے۔دربار میں سناٹا یہ کیا ہوا تخت یہاں کیسے موجود اس بندے نے کہا اس
میں کوئی پریشان ہو نے کی بات نہیں ہے کوئی حیرت کی بات نہیں ہے قالو الذی…کہ مجھے
اللہ تعالیٰ نے کتاب کا علم عطا کیا قرآن کا علم عطا کیا اس سے یہ تخت آیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کی نفی کا فارمولا قرآن میں موجود ہے۔اب دیکھئے سائنس
میں اتنی ترقی ہوئی نہیں ہے آپ پلک جھپکے سینکڑوں میل سے تخت لے آئے۔ان لوگوں نے
یقیناً انگریزی میں بھی قرآن موجود ہے۔ پھر یہ انگریز ایسے ایسے عربی دان ہیں کہ
عرب لوگ حیران ہو جاتے ہیں اتنی اچھی ان کی عربی ہے مسلسل لگے ہو ئے ہیں سائنٹسٹ
اب انہوںنے اس آیت کو ظاہر کیا پڑھنے کے بعد اس پر غور کیا یہ کیسے ممکن ہے کہ
سینکڑوں میل سے پلک جھپک سے تخت آجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے کیا بیان کیا؟
اس پر جناب ریسرچ کرنا شروع کردی اور نتیجے میں
آہستہ آہستہ وقت کم کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئے کہ انہوںنے آواز سے تیز رفتار
سواری بنا لی اور اس میں ڈھائی سو تین سو آدمی بیٹھتے ہیں جتنی میری آواز ہے نا
اس بھی زیادہ تیز رفتار ہوتی ہے۔قرآن میںیہ فارمولا موجود ہے آپ یہ کہتے ہیں کہ
صاحب زمین میں سے تیل نکال دیا۔آپ قرآن پڑھیں اللہ تعالیٰ نے جہاں زمین کے طبقات
کا ذکر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں ہم نے تمہارے لیئے زمین کے اندر نہریںچلا
دی ہیں۔ پانی کی نہریں چلادیں گیس کی نہریں چلا دیں۔دودھ کی نہریں چلا دیں۔ انہوں
نے یہ کہا کہ بھی جب یہ پانی جو اللہ تعالیٰ کہے رہے ہیں وہ دیکھنا چاہئے نا، وہی
جو گیس بھی نکل گئی،پٹرول بھی نکل گیا،پانی تو پہلے سے ہی نکل پھر اب آپ کا یہ
ڈیفریزر ہے جس میں آج کل وہ ہمارے ایک صاحب تھے وہ کہنے لگے جب بقرا عید ہوتی ہے
ہم دو تین ہفتے تک توبقرا عید کا گوشت ہی کھا تے رہتے ہیں۔
آپ
یہ کہے بانٹتے تو ہے نہیں اپنے بکرے کا، پورے پورے بکرے ڈیفریزر میں رکھ لیتے ہیں
ایک دو مہینے تک کھاتے رہتے ہیں۔اب آپ دیکھئے وہ حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ
قرآن میں پڑھا ہے گئے سوگئے کھا نا جناب ان کا رکھاہوا تھا گدھا ان کے پاس تھا
آپ نے قرآن شریف میں پڑھا ہوگا اب وہ اٹھے تو پتا چلا کہ گدھا مرا ہوا پڑا ہے
اور اس کی جو ہڈیاں ہیں وہ بھی رکھ ہو گئیں اور کھا نا کھولا تو کھانا اسی طرح
رکھا ہوا ہے اب وہ حیران ہوئے، اللہ تعالیٰ کہتے ہیںتم سو سال یا سو سال سے زیادہ
سوتے رہے ہو دیکھو تمہارا کھا نا خراب نہیں ہوا اللہ نے فارمولا بیان کیا آپ تلاش
تو کریں۔حضرت سلیمان کے قصے میں جانوروں کی بولیاں انہوں نے بہت ساری پرندے لئے
حضرت سلیمان کو علم تھا جانورکی بولیاں ان کو سمجھ میں آتی تھی۔ آپ قرآن پاک
میں غور کریں گے تو یہ جتنی بھی سائنسی ترقی ہے مثال کے طور پر اب اللہ تعالیٰ
کہتے ہیں یہ تمہارے سارے سمندر روشنائی بن جا ئیںیہ سب آپ کی سنی ہوئی باتیں ہیں
سارے قلم درخت بن جائیں اب ایک اگر برگدکا درخت ہوتو اس میں میرا خیال ہے دو تین
لاکھ تو قلم بن جائیں گے کیوں بھئی نہیں بن جائیں گے؟
اب وہ کہتے ہیں سارے درخت زمین پر ہیں وہ سارے
کے سارے قلم بنا لیں سمندر کو روشنا ئی بنا لیں او ر اللہ کی باتیں اور اللہ کی
نشانیوں پر غور کر کے لکھتے چلیں جائے توسمندر بھی ختم ہو جائیں گے درخت بھی ختم
ہو جائے گے قلم بھی ختم ہو جائیں گے اللہ کی باتیں باقی رہ جائیں گی۔اب کمپیوٹر
دیکھ لیں مائکرو فلم دیکھ لیں آپ میں ایک لائبریری میں گیا تھا ہمدر دواخانے میں
میری بہت خدمت ہوئی تو ہاں یہ پورے پورے اخبار مائکرو فلم پر آرہے تھے اتنی سی
جگہ جو ایک انچ ہے نہ اس کا آدھا حصہ آدھے حصے میں وہ دو صفحے پورے اخبار کے آجاتے
ہیں۔ اچھا اب اللہ تعالیٰ کا نظام آوازو ں کا نظام آوازوں کے نظام پر آپ غور
کریں تو آپ یہ دیکھئے حضرت ان کا آپ نے حضرت عمر فاروق ؓ کا کے خطبہ دے رہے تھے
دوران خطبے کمانڈر کو حکم دیا۔۔ تو ہزاروں میل پر فوجیںکھڑی تھیںتو وہاں انہوں نے
آواز سنی لوگوں نے کہ یہ تو امیر المومینین کی آواز ہے یہ …یہ پہاڑ کی طرف متوجہ
ہو جاؤ دیکھو وہاں کیا ہو رہا ہے، اب
انہوں نے وہ سپاہی بھیجے پہاڑی پرتو وہاں دشمن شبخون مارنے کے لئے چڑھا ہوا تھا۔
تو اگر یہ ٹیلیفون کے ذریعے آواز پہنچ جاتی آپ
کی یہاں سے امریکہ تو حضرت عمر نے تو بغیر ٹیلیفون کے ہزار میل پہنچا دی آوازکوئی
ترقی ایسی نہیں ہے جو مسلمانوں کے احاطہ سے باہر ہو اور جو ترقی آپ کو قرآن سے
نہ ملتی ہو لیکن بات وہی ہے ہم علم سے بھی بہراہو رہے ہو تو علم کو ہم بالکل ایک
گٹھیا قسم کی چیز سمجھ لیا ہے۔ آپ یہ بتائیں کہ جتنی سائنسی ترقی ہوئی ہے جتنے
سائنٹسٹ ہیں آپ انہیں جاہل کہے گے یا عالم کہے گے کیا کہے گے بھئی؟ عالم ہی کہے
گے نا، تو ان کے پاس تو قرآن بھی نہیں ہے ان کے پاس تو رسول بھی نہیں ہے ان کے
پاس تو بقول آپ کے اللہ بھی نہیںہے۔لیکن ان کے پاس علم ہے اب یہ اللہ کاقانون ہے
اب دیکھئے نا پانی ہے اب پانی سے کافر چاہے وہ بھی ہے بھی کھانا پکائے گا،مشرک
چاہے وہ بھی پانی سے پکائے گا یہ اس کو جی چاہے کھا نا پکا کر دے گا پانی مسلمان
ہے وہ وہ بھی کھا نا پکائے گا۔
کہ
اللہ رب المسلمین نہیں ہے اللہ ر ب العالمین ہے۔پانی کا جو وصف ہے وہ مسلمانوں کے
لئے نہیں ہے وہ کن پوری مخلوق کے لئے ہے۔مثلا ً جس طرح ایک انسان کی پیاس بھجتی ہے
اسی طرح ایک شیر کی بھی پیاس بھجتی ہے،ایک یہودی کی پیاس بھی بھجتی ہے، ایک عیسائی
کی بھی پیاس بھجتی ہے یہ ایک اللہ کا ایک نظام ہے اسی طرح ایک اللہ کا علم پھیلا
ہوا ہے اب اس علم سے جو بھی آدمی استفائدہ کر یں جو بھی تفکر کرے اس کو فائدہ
پہنچے گا انا اللہ …لایغیرو…اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں جب کوئی قوم اپنی تبدیلی نہیں
چاہتی تو ہم بھی اس کے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے۔مسلمان اسی میں خوش ہیںکہ ہم
بھی دیوبندی ہیں،ہم بریلوی ہیں،ہم وہابی ہیںہم فلاں ہیں،ہم فلاں ہیں اور ان تفرقے
بازیوں سے ہمارا جو ورثہ ہے ہمارے جو باپ دادا کا ورثہ ہے علم، علم سیکھنا علم میں
تفکر کرنا، کھوج لگا نا سائنسی ایجادات کرنا، ہمارے بڑوں نے ایجادات جہاز ہمارے
بڑوں نے بنایا گھڑی ہمارے بڑوں نے بنا ئی،یہ زمین کی جو پیمائش ہے یہ ہمارے بڑوں
کی دی ہوئی ہے۔
یہ سارا علم ہمارے بڑوں کا ہے۔یہ جو سمندر کے
جہاز چلتے ہیں اور یہ جو تمام ستاروں سے روشنیوں کا تعین،یہ سب راستے کا تعین
ہمارے مسلمانوں نے کیاہے۔ہمارے پاس کیا ہے سوائے لڑائی کے، سوائے جھگڑے کے، سوائے
فساد کے، سوائے نفرت کے ہمارے پاس کچھ نہیں ہے اور اس کی وجہ یہ ہے ہم علم سے دور
ہو گئے ہیں علم سے بے بہرا ہو گئے ہیںاور جب تک ہم علم کونہیں سیکھیں گے علم حاصل
نہیں کریں اب تک جو ہمارے حالت خراب ہو چکی ہے اس سے زیادہ خراب ہو جائے گی،مسلمان
کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ عالم ہوتا ہے۔ مسلمان کا مطلب ہی یہ ہے کہ وہ محقق ہوتا
ہے،مسلمان کا مطلب یہ ہے کہ وہ سائنسدان ہوتا ہے۔وہ اللہ کی نشانیوں میںغوروفکر
کرتا ہے کھوج لگاتا ہے۔ہمارے یہاں صورت حال یہ ہے کہ ہم اپنے کلمہ کو بھائی کو
کافر کہے گے تو وہ ہمیں کافر کہے گا۔تو جب آپ کائناتی سسٹم پر غور کرے گے تو وہاں
آپ کو سوائے علم کے کچھ بھی مثلاً آپ سورج کو جانتے ہیں کہ اس میں سے دھوپ نکلتی
ہے طلوع ہوتا ہے غروب ہوتا ہے اس کو آپ علم کے علاوہ کوئی نام دے سکتے ہیں۔
آپ
چاند کو جانتے ہیں چاند کو جاننا علم کے بغیر کچھ ہے آپ آسمان دیکھتے ہیں روزانہ
وہاںقندلیں روشن ہوتی ہیںدنیا کی ستارے آپ اس کو علم کے بغیر کیا کہے سکتے
ہیں۔آپ اپنے بارے میں جانتے ہیں میں زید ہوں، میں محمود ہوں۔اگر آپ کے اندر علم
نہ ہو تو کیا آپ اپنے آپ کو،اپنے باپ کو،اپنی ماں کو،اپنی بہن کو اپنے بھا ئی
کو، اپنے رشتہ دار کو پہچان سکتے ہیں…؟جب آپ کائناتی سسٹم پر غور کریں گے تو وہاں
آپ اس علم کے علاوہ کچھ نہیں یہ بھی ایک علم ہے کہ واحد ذات اللہ خالق ہے اور
تمام انسان یہ بھی ایک علم ہے۔ایک پاگل آدمی کویہ پتا نہیںہوتا کہ وہ انسان ہے یا
مخلوق ہے یا جانور ہے یا کیا ہے۔اسے علم ہے ہی نہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا اگر کسی
قوم میںعلم نہیں ہے تو وہ قوم پاگل کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جو قوم علم نہیں سیکھتی
وہ مجبور ہوتی ہے،وہ پاگل ہوتی ہے اوررندئے درگاہ ہوتی ہے وہ رجیکٹیڈ ہوتی ہیں آپ
دیکھیں اب سے آپ تیرا سو سال پہلے مسلمان دیکھ لیں اب دیکھ لیں آپ ایسا لگ رہا
ہے جیسے بھیڑ بکریاں نہیں ہوتی۔
بھیڑ بکریاں جس نے دام لگائے لے گیا کوئی خرید
کے۔ جس کے پاس طاقت ہوئی مارکیٹ سے اس نے جو چاہے کام نکلوالیا کہنے کو تو آپ
مسلمان ہیں لیکن عمل کیسے مسلمان ہیں، یہ سب کو پتا ہے اور یہ جو اسلام کی کمزوری
ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے قرآن سے رجوع کرنا چھوڑ دیا ہے،قرآن سے علم
حاصل کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اگر آج بھی قرآن کو ہم پڑھیں۔پڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کے
اندر اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق تفکر کریں، اللہ کی نشانیوں کو ڈھونڈیں انا فی
ذالک …اللہ تعالیٰ کہتے ہیں یہ جو کائنات میں نشانیاں بکھری ہوئی ہیں یہ ان لوگوں
کے لئے ہیں جو غور فکر کرتے ہیں،جو عقل سے کام لیتے ہیںجو علم کو استعمال کر تے
ہیں،اور جب علم استعمال نہیں ہو گا ویسے بھی ایک آدمی پڑھا لکھا ہے بی اے، ایم اے
ہے سو آدمی انگوٹھا چھاپ ہیں۔اہمیت کس کی زیادہ ہو گی بھئی …ایک آدمی کی ایک
آدمی بھی آپ ہی میں سے ہے آپ ہی بھائی بندوں میں سے ہے۔
آپ
ہی کا رشتہ دار ہے وہ پڑھا لکھا ہے اور آپ پڑھے لکھے نہیں ہیں تو وہ ایک آدمی کی
اہمیت سو آدمیوں سے زیادہ ہے تو اسی صورت سے جب ایک قوم دوسری قوم کے سامنے آتی
ہے تو ایک قوم کا دوسری قوم سے موازنہ ہوتا ہے۔یہ سائنس کی جتنی بھی ترقی ہے
ایجادات ہیں اس کو ہم علم کے علاوہ کوئی نام نہیںدے سکتے۔ہمارے پاس اللہ کی دی
ہوئی کتاب ہے قرآن ہے اللہ تعالیٰ نے فر مایا لا یغددرو…کہ چھوٹی سے چھوٹی بڑی سے
بڑی کوئی بھی بات ایسی نہیں ہے اللہ تعالیٰ اعلان کرتے ہیں چھوٹی سے چھوٹی بڑی سے
بڑی کوئی بھی بات ایسی نہیں ہے جو ہم نے قرآن پاک میں واضاحت کے ساتھ بیان نہ
کردی ہو چھوٹی سے چھوٹی بات میں ساری چیزیں آگئیں میز بھی آگئی، سوئی بھی آگئی،
بم بھی آگیا۔اچھااب آپ دیکھیں سائنس کی ترقی میںایک چیز آپ کو مشترک نظر آئے
گی کسی بھی اب تو بہت بہت ترقی ہو گئی کہ پلاسٹک آگیا کچھ بھی آگیا لیکن لوہے کی
اہمیت اپنی جگہ ہے ہر سائنس کی ترقی میں آپکو لوہا ضرورہی نظر آئے گا مثلاًاب
پلاسٹک سے کوئی چیز بن رہی ہے اس میں لوہا نہیں ہے تو وہ اس مشین جس مشین سے بن
رہی ہے وہ لوہے کی ہو گی۔
اخبار
چھپ رہے ہیں اخبار میںتو کوئی لوہے کا عمل داخل نہیں ہے لیکن اخبار جس مشین سے چھپ
رہا ہے وہ لوہے کی ہے۔ریل کی پٹری،ہو ائی جہاز،سمتی نظام،تار،تار برقی نظام کوئی
چیز ترقی کی ایسی نہیں ہے جس کے بارے میں آپ کہے جی لوہے کا اس میں کوئی داخل
نہیں ہے۔ ثابت ہو ا کہ لوہا ایک ایسی دھات ہے کہ اگر اس لوہے کے بارے میں ریسرچ ہو
جائے اور اس لوہے کو استعمال کرناآجائے تو اس سے بے شمار چیزیں بنتی ہیں۔اب اللہ
تعالیٰ فر ماتے ہیں لاھو انزلنا …ہم نے لوہا نازل کیا لھو انزلنا …ہم نے لوہا نازل
کیا …لوہے کو کہتے ہیں کہ ہم نے لوہا نازل کیا …فی ھا …اور اس لوہے کے اندر اتنے
فوائدہیں اتنی طاقت ہے اتنے اوصاف ہیں کہ اس کا شمار نہیںاور یہ جتنے بھی اس کے
اندر فائدہ ہے جتنی بھی اس کے اندر طاقت ہے لوے کی جتنے بھی صفات ہیں۔۔۔۔یہ ہم نے
لوگوں کے فائدے کے لئے اس کو پیدا کیا ہے۔
قرآن
آپ کا ہے، تو ظاہر ہے قرآن شریف کی آیت بھی آپ کے لئے ہوئی مسلمان تو کبھی
غورہی نہیں کیا اللہ کی طرف غیر مسلموں نے اس آیت کو پڑھا ُ کے کیا کہا کہ یہ کیا
کہے رہے ہیں اللہ میاں کہ صاحب لوہا ایسی چیز ہے جس میں انسانوں کے لئے ہر طرح کا
فائدہ ہے ہیں یا نہیں اب انہوں نے جناب اس کو ریسرچ کیا اب آپ دیکھیں ایٹم بم بھی
لوہے کے بغیر نہیں بنتا،ہائیڈروجن بم بھی لوہے کے بغیر نہیں بنتا،سائیکل بھی لوہے
کے بغیر نہیں بنتی،آپ کی چھتیں بھی لوہے کے بغیر نہیں بنتی، اب یہاں آپ کے پتھر
ماشا اللہ خوبصورت لگا ہوا ہے لوہے کی مشین کے بغیر یہ ٹکتا نہیں ہے قرآن کی آیت
پر ہمیں غور کرنا چاہئے تھا، ہمیں اس کو پڑھنا چاہئے تھا،اس کے اندر ہمیں تفکر
کرنا چاہئے،کہ اللہ تعالیٰ کیا فرما رہے ہیں…بیشک ہم نے لوہا نازل کیا اور یہ بات
اس کے اندر بے شمار فائدے رکھ دئے اچھے بھی برے بھی تکلیف بھی طاقت بھی ہر چیز اس
کے اندر رکھ دی ہے اور یہ کیوں رکھی ہے تاکہ انسان اس سے فائدہ اٹھائے ہم نے تو اس
آیت طرح پڑھا ہی نہیں بس پڑھ کر اس طرح گناہ کیا کہ ثواب ملے گا ثواب کیا چیز
ہوتی ہے ثواب کا مطلب ہے کسی چیز کا حاصل ہو نا اب اگر آپ اس آیت پر غور کرتے
ہیں اور سائنسی ایجات کر لیتے مسلمان، جیسے دوسروں نے کر لی ہے یہ ثواب ہے۔
حاصل
ہوا اللہ تعالیٰ کے فر مان سے اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں ہم نے لوہا نازل کیا اس میں
بے شمار فائدے رکھ دئیے انسانوں کے لئے کیا اللہ تعالیٰ آپ کو کہانیاں سنا رہے
ہیں۔اللہ تعالیٰ قصے سناتے ہیں اللہ تعالیٰ ناعوذبا اللہ خوامخواہ خالی بیٹھے ہو
ئے باتیں کر رہے ہیں کوئی کام ہی نہیں ہے اللہ کو، کیا مطلب ہے اس کا اس کا مطلب
یہ ہے کہ انسان اس کی طرف متوجہ ہو غور کرے لاھو الزلنا…کہ ہم نے لوہا نازل کیا اس
میں بے شمار طاقت ہم نے دی اگر آپ اس سے ایٹم بم بنا لیں تو دنیا کو تباہ بر باد
کر دے گا۔اگر آپ اس کو بجلی کے تاروں میں ڈال دیں تو سارے شہروں کو روشن کر دے
گا۔اگر آپ ا س کا توا بنا لیں جو دنیا بھر کو روٹی پکا کر کھلا دے گا اگر آپ اس
کی دیگ بنا لیںتو لنگر جاری کردے گا۔یعنی جس طرح بھی کریں چاہے آپ نفع میں
استعمال کریں چاہے اسکو آپ نقصان میں استعمال کریں ہم نے اس کے اندر طاقت رکھ دی
ہے لیکن مسلمانوں نے اسکو ہزاروں دفعہ ہی پڑھا ہو گا غوروفکر کبھی نہیں کیا جن
لوگوں نے غوروفکر کیا تو غوروفکر کا مطلب کیا ہے بھئی وہ بھی علم کے بغیر کچھ نہیں
بھئی آپنے ایک آیت پر غوروفکرکیا اب اس غوروفکر کے نتیجے میںجو مفہوم آپ کے ذہن
میں آیا یہ جو لوہے کی صلاحیتوں کا انکشاف ہوا آپ کے اوپر وہ علم ہے۔
سائنٹسٹ کسی چیز کے بارے میں غور کرتا ہے،تفکر
کرتا ہے،اس تفکر کے نتیجے میں اس کے ذہن میں بہت ساری چیزیں سمجھ میں آتی
ہیں۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں وہ ان چیزوںکو پکڑ کر کبھی ٹیلیفون بنا لیتا
ہے،کبھی ٹی وی بنا لیتا ہے،کبھی کمپیوٹر بنا لیتا ہے کیا سائنٹسٹ کے دماغ میں سونے
کے تار لگے ہو ئے ہیں تو کیا سائنٹسٹ جو ہیں وہ روٹی کے بجائے ہوا کھا رہا ہے۔وہ
بھی یہی روٹی کھا تا ہے وہ بھی آلو کھاتا ہے ہم بھی آلو کھا تے ہیں وہ بھی گوشت
کھا تا ہے ہم بھی گوشت کھا تے ہیں اس کی شکل صورت بھی وہی ہے جس طرح ہماری ہے جس طر
ح وہ پیدا ہوتا ہے اس طرح ہم بھی پیدا ہو تے ہیں۔جس طرح وہ بوڑھا ہوتا ہے ہم بھی
بوڑھے ہو تے ہیں۔جس طرح وہ مرتا ہے ہم بھی مر جاتے ہیں۔کیا فرق ہے اس میں اور
ہمارے میں بتائیں بھئی کیا فرق ہے۔علم حاصل کرنے کا فرق ہے۔تفکر کرنے کا فر ق
ہے۔ایک سائنٹسٹ تفکر کرتا ہے تو سب کچھ مل جاتا ہے اور ایک مسلمان تفکر نہیں کرتا
تو وہ محروم ہو جاتا ہے۔
اللہ
تعالیٰ پھر میں آپ سے عرض کروں گا اللہ تعالیٰ رب المسلمین نہیں ہے اللہ تعالیٰ
رب العالمین ہے۔اللہ تعالیٰ کی جتنی بھی چیزیں ہو، تمام مخلوق پیدا ہوجاتی ہے اللہ
تعالیٰ نے آکسیجن بنا ئی اس سے تمام مخلوق فائدہ اٹھا تی ہے۔لیکن ہمارے جو بد
قسمتی ہے اور بد نصیبی یہ ہے کہ ہم اللہ کے بندے محبوب رسول اللہ ﷺ کی امت ہیں
ہمارے اوپر خصوصی اللہ کاا نعام ہے۔ ہم توحید پرست ہیں۔ہم مشرک نہیں ہیں ہمارے پاس
اللہ کی دی ہوئی دستاویز ہے قرآن کی شکل میں ہم چاہے تو اس میں زندگی گزارنے کے
طریقے اس میں سے نکال لیں۔ ہم چاہے تو اس میں سے سائنس نکال لیں۔ہم چاہے تو ان
صفات کو پڑھ کر عروج یافتہ قوم بن کر ساری دنیا پر حکمرانی حاصل کر لیں اور جب ہم
نہیں چاہے گے قرآن نہیں پڑھیں گے قرآن میں تفکر نہیں کریں گے تو ظاہر ہے علم
حاصل نہیں ہو گا۔علم کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں ہوتا۔
اچھا
آپ یہ کہتے ہیں میں تو صاحب بڑا حیران ہوتا ہوں لوگ کہتے ہیں کہ انسان کو اور
حیوان کا تجزیہ کیا جائے موازنہ کیا جائے تو انسان کو حیوانات میں فضیلت اس لئے
حاصل ہے کہ انسان کو علم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے۔کیوں بھئی …یہی بات ہے نہ کیا
جانوروں کو علم نہیںہوتا وہ جاہل ہو تے ہیں اگر جانوروں کو علم نہیں ہوتا تو بکری
گوشت کیوں نہیں کھا تی،اگر جانوروں کو علم نہیں ہے توشیر پتے کیوں نہیں کھا تا،ا
گر جانوروں کو علم نہیں ہے تو یہ پرندے داناکیوں چگتے ہیں پتھر کیوں نہیں کھاتے
اگر انہیں یہ علم نہیں ہے تو گائے گائے میں جاکر کیوں بیٹھتی ہے،بکری بکریوں میں
جاکر کیوں بیٹھتی ہے۔ایک بکری اپنے بچے کو کیوں دودھ پلا تی ہے۔کیوں اس کی پرورش
کرتی ہے کیایہ علم کے بغیر ممکن ہے …؟اس کا مطلب یہ ہے کہ علم ایک ایسا ورثہ ہے
اللہ کی طرف سے تمام مخلوقات کے لئے تو پرندے ہو ں،چرندے ہو،درندے ہوں،درخت ہو،شجر
ہو،ہجر ہو،سب کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہے لیکن ایک انسان ہے انسان کو اللہ
تعالیٰ نے وہ خصوصی علوم عطا کئے ہیں جس کو وہ پڑھ کر سوچ کر تفکر کرکے نئی نئی
راہیں نکال سکتا ہے نئی نئی ایجادات کر سکتا ہے نئے نئے سفر کر سکتا ہے۔
ایک
بکری جو ہے وہ تفکر کر کے چمٹانہیں بنا سکتی۔ انسان تفکر کر کے چمٹا بنا سکتا ہے۔
ایک بکری تفکر کر کے گھر نہیں بنا سکتی اانسان تفکر کر کے گھر بنا سکتا ہے۔ایک بیل
تفکر کر کے ہوائی جہاز نہیں بنا سکتا۔انسان تفکر کر کے ہو ائی جہازبنا سکتا ہے۔
لیکن آپ یہ نہیں کہے سکتے کہ بیل کو کوئی علم نہیں ہے۔علم ہے لیکن علم کی جو
بنیادی صفت ہے ریسرچ،تفکر کرنا،اللہ کو ڈھونڈنا،اللہ کی نشانیوں کو تلاش کرکے ان
کو جاری وساری کرنا۔ یہ حیوانات میں نہیں انسان یہ کہے کہ میں اس لئے جانور سے
افضل ہوں کہ میں روٹی پکا کر کھاتا ہوں یہ کوئی فضیلت ہے۔ انسان یہ کہے کہ صاحب
میں اپنا گھر بنا تا ہوں آپ ذرا چڑیا کا گھونسلہ تو بنا کر دیکھا دیں،وہ بیاء کا
گھر ہوتا ہے بنا کر دیکھا دیں، مکھی شہد کی مکھی کا چھتہ بنا کر دیکھا دیں ایسا
گھر بنا کر اس میں رہائش کر کے دیکھا دیں۔اچھا انسان اس بنیاد پر افضل ہے کہ اسے
وحی نازل ہوتی ہے۔
الہام
ہوتا ہے یہ بھی وجہ نہیں ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں میں شہد کی مکھی پر
وحی نازل کرتا ہوں۔شہد کی مکھی پر وحی نازل کرتا ہوں۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ صفات
نازل کر دیں ہیں کہ جب وہ پھول پر جائے گی۔ اگر وہ پھول زہریلا ہے تو کبھی وہاں سے
رس نہیں چھوئے گی۔ اگر وہ غلطی سے وہ رس چوس کے لے آئی تو چھتے میں جو پیرھدار
ہیں اسے اندر نہیں جانے دینگے جان سے ہی مار دینگے۔ انسان اتنا بڑا ظالم ہے میں نے
پڑھا کسی رائیٹر کا قول کہنے لگے انسان اتنا بڑا ڈاکو ہے کہ وہ مکھیوں کا شہد بھی
نہیں چھوڑتا وہ بھی کھاجاتا ہے۔ انسان کا وقت اگر ہے وہ یہی ہے کہ اس کے اندر تفکر
کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے فر مادی ہے انا …کہ ہم نے اپنی امانت سموات کا پیش کی
انکار کر دیا،تو ہم نے اپنی امانت زمین کو پیش کی انہوں نے منع کر دیا، کیا ہم اس
کے قابل نہیں ہیں ہم نے اپنی امانت پہاڑوں کو پیش کی پہاڑوں نے کہا ہم اس کی طاقت
سے ریزہ ریزہ ہوجائے ئنگے۔
یہ انسان کا وصف ہے کہ اس نے اس کو قبول
کرلیا۔ختتام