Topics

حقوق العباد کیا ہیں؟

 

 

شیطان کا سب سے بڑا مشن یہ ہے کہ وہ آدمی کو نا خوش کر دیتا ہے اور جب آدمی نا خوش ہو جا تا ہے تو اس کی دنیاوی زندگی ہو یا آخرت کی زندگی ہو دو نوںنا کام ہو جا تی ہیں۔اس لئے کہ ناخوش آدمی جو ہے وہ تو گھر کے مسائل بھی حل نہیں کر سکتا تو آخرت کے مسائل کہاں سے حل کرے گا۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ میں دو گنا ہ معاف نہیں کرتا ایک یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرا یا جا ئے اور دو سرا یہ کہ لوگوں کی حق تلفی کی جا ئے دو گنا ہ اللہ تعالیٰ معاف نہیں کر تے ایک حقوق العباد یعنی لوگوں کی حق تلفی او ر دو سر اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرا نایعنی اللہ کے معاملات کو دو سروںسے منسوب کر نا یعنی اللہ کے اوپر جتنا بندوں کا یقین ہو نا چا ہئے وہ یقین نہ ہوظاہر ہے جب معبود کے اوپر رب کے اوپر یقین نہیں ہوگا تو اس بے یقینی کے نتیجے میں نظر دوسری طرف جا ئے گی اس سے بھی اللہ تعالیٰ نا خوش ہو تے ہیںاور وہ شرک کے دائرے میں آجا تا ہے۔

 حقوق العباد کا جہاں تک تعلق ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ کے ارشاد کے مطا بق جو کچھ تم اپنے لئے چا ہو وہی دو سروں کے لئے چا ہو جو چیز تم اپنے لئے ناپسند کرو دوسروں کے لئے بھی نا پسند کرو اور حقوق العباد یہ ہے کہ آپ کی زبان سے، آپ کے طرز عمل سے، کسی کی دل آزاری نہ ہو، نہ کسی کو دکھ نہ پہنچے خصوصاًخواتین میں یہ بیماری زیادہ ہے مردوں میں بھی ہے لیکن خواتین میں زیادہ ہے کہ جب وہ کسی جگہ اکھٹی ہوتی ہیں تو وہ خاندانی مسئلے مسائل زیربحث آتے ہیں اور وہ خاندانی مسئلے مسائل معا ملات میںیہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی برا ئی ہوتی ہے وہ ایسا ہے، اس نے یہ کہے دیا، اس نے یہ کہے دیا تو یہ جو بغیر تصدیق کہ کسی کو برا سمجھنا، کسی کو برا کہنا یا کسی کے لئے اپنے دل میں شک اور وسوسہ رکھنا یہ بھی حق تلفی کے دائرے میں آتا۔ یہ بات بہت زیادہ غور طلب ہے کہ شرک اور حق تلفی دو نوں برابر کے گناہ ہے یہ بات خاص طور سے آپ سب لوگ یاد رکھے کہ حق تلفی اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹہرا نا دونو ں شرک کے برابر ہے۔

 اب حق تلفی یہ ہے ہم دو سروں کی حق تلفی کر یں مثلا ً شوہر کو چا ہئے کہ وہ بیوی کے حقوق پورے کرے، بیوی کو چا ہئے کہ وہ شوہر کے حقوق پو رے کر ے،والدین کو چا ہئے کہ وہ اولاد کے حقوق پو رے کر ے، اولاد کو چاہئے کہ وہ والدین کے حقوق پورے کر ے، اسی طرح پڑوسیوں میں یہ جذبہ ہو نا چا ہئے کہ ایک پڑوسی دو سرے پڑوسی کے حقوق کو قصد نہ ہو نے دے اور ان کا جو بھی خیال رکھ سکے ان کا خیال رکھے یہ حق تلفی جو ہے یہ اپنی ذات سے ہٹ کر حق تلفی ہے۔ یہی بات جو روحانی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے اور میرا خیال ہے میری بہنوں نے میری بیٹیوں نے کبھی یہ بات سنی نہیں ہو گی کہ انسان اپنی ذات کی بھی حق تلفی کرتا ہے۔ یہ تو حق تلفی ہوئی نا والدین کی خدمت نہیں کی یا والدین کے حقوق پو رے نہیں کئے یا والدین نے اولاد کے حقوق پورے نہیں کئے یااولاد نے والدین کے حقوق پو رے نہیں کئے یا بیوی نے شوہر کے حقوق پو رے نہیں کئے شوہر بیوی نے ایک دوسرے کے حقوق پورے نہیں کئے یہ تو حق تلفی ایک دو سرے کی ہوئی۔

 ایک حق تلفی یہ ہے انسان اپنی ذات کی حق تلفی کرتا ہے وہ انسان کی حق تلفی یہ ہے اللہ تعالیٰ نے نہایت محبت کے ساتھ بہت زیادہ شفقت کے ساتھ ہمیں پیدا کیا اور پیدا ئش کے بعد ہماری حفاظت کی ہماری پر ورش کی اور ہمیں ایک جیتی جا گتی خوبصورت تصویر بنا دیا اب جتنا ہم سب لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں ظاہر ہے یہ اللہ کی بنا ئی ہوئی تصویر ہے انسان اگر اپنی رو ح سے واقف نہ ہو تو یہ اس کی اپنی ذات کی حق تلفی ہے۔

 آدمی چلتا پھر تا ہے کھا تا پیتا ہے اسی وقت تک جب تک آدمی کے اندر روح ہوتی ہے جب انسان کے اندر سے روح نکل جا تی ہے تصویر پوری طرح موجود ہے لیکن نہ آدمی چلتا ہے، نہ پھر تا ہے، نہ کھا نا کھا سکتا ہے،نہ بات کر سکتا ہے اگر کوئی آدمی چوٹ ما رے تو اسے چوٹ کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا اس کا مطلب یہ ہوا اصل تصویر جو ہے وہ ہماری روح ہے جس روح کی بنیاد پر یہ جسمانی تصویر ہے اس کی ِمثال حضور قلندربابااولیا ء ؒ اس طرح دیتے ہیں کہ ہم ایک تصویر ہیں ایک جسم ہیں اس جسم میں ہاتھ پیر گردن آنکھیں سب ہیں ہم اس جسم کی حفاظت کے لئے ایک لباس پہنتے ہیں مثلا ً اون کا لباس نائیلون کا لباس،ریشم کا لباس ایک لباس بنا تے ہیں اس جسم کی حفاظت کے لئے اب اس کو یوں سمجھیں آپ کہ قمیض شلوا ر اور دوپٹہ یہ لباس ہے اس لباس کا مطلب ہے شلوار قمیض اور دوپٹہ اب دیکھئے آپ قمیض جب تک جسم کے ا وپر ہے اس وقت تک قمیض کے اندر حرکت ہے لیکن اگر آپ قمیض شلوار اور دوپٹہ چا ر پا ئی پر اس طرح رکھ دیں جس طرح ایک آدمی کولباس پہنا یا جاتا ہے اور اس لباس سے آپ یہ کہے کہ بھئی آستین ہل تو آستین نہیں ہلے گی کیوں نہیں ہلے گی اس لئے نہیں ہل گی آستین کی حرکت تابع ہیں جسم کے، ہا تھ کے، جب تک آستین اس ہاتھ کے اوپر موجود ہے ہاتھ ہلے گا آستین ہلے گی اب اگر یہ آستین ہم یہاں اس فرش پر لیٹا دیں اس کو اور اس سے یہ کہے کہ تو ہل تو آستین نہیں ہلے گی اسی صورت سے جب ہم لا ش کو دیکھتے ہیں ایک مر ے ہو ئے آدمی کو دیکھتے ہیں تو اس کو اگر ہم کہے کہ بھئی تو اٹھ کر بیٹھ جا وہی اٹھ کر نہیں بیٹھی گی۔

کیوں نہیں اٹھ کر بیٹھے گا اس لئے نہیں بیٹھے گا اٹھے کہ جس چیز کا لباس ہے جسم اس چیز نے اس سے رشتہ توڑ دیا مطلب یہ ہو ا یہ مادی جسم یہ گو شت پوست کا جسم،یہ ہڈیوں کا ڈھانچہ،یہ کھا ل یہ جسم ہے روح کایہ مثال آپ سامنے رکھئے اس کی قمیض کی تو اگر روح اس لباس سے گوشت پوست کے لباس سے اپنا رشتہ منقطع کر لے تو اس جسم کی حیثیت وہی ہو جا ئے گی جو چارپا ئی پر پڑی ہوئی قمیض اور شلوار کی ہے اس دلیل سے، اس حکمت سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اصل انسان وہ مر د ہو،عورت ہو، بچہ ہو، جوان ہو، بوڑھا ہو گو شت پو ست کا جسم نہیں ہے روح ہے تو اللہ تعالیٰ یہ چا ہتے ہیں انسان اپنی حق تلفی نہ کرے اور حق تلفی اس طرح نہ کر ے کہ وہ اس جسم کو، گو شت پو ست کے جسم کو، جس کے اوپر موت وارد ہو نے والی ہے، جو فنا ہونے والا ہے، جو مٹی میں جا کر سڑ کر مٹی بن جا نا ہے، اس جسم کو اصل نہ سمجھیں، اصل سمجھیں روح کو اور جب آپ روح کو اصل سمجھیں گے تو ظا ہر ہے اب آپ کی تلاش ہو گی بھئی ہمارا اصل جسم کو ن ہیں ہے یہ گوشت پوست کا جسم تو روح کا لبا س ہے لباس بدلتا رہتا ہے اسی طرح جسم بھی بدلتا رہتا ہے وہ کس طر ح بدلتا ہے بچہ پیدا ہو ابچہ ہر رو ز نیا بچہ پیدا ہوتا ہے۔

 ایک دن کا بچہ،دس دن کا بچہ سال بھر کا بچہ،پا نچ سال کا بچہ،پندرہ سولہ سال کا جوان بچہ،جوان آدمی بو ڑھا آدمی بن جا تا ہے تو آپ دیکھئے نقش و نگا ر بھی بدل جا تے ہیں۔اور جسم بھی بدل جاتا ہے بالکل ا س طرح جس طرح ہم یہ قمیض پہنتے ہیں اور رو زانہ اس کو اتار کر قمیض او ر شلوار پہنتے ہیں اسی طر ح رو ح بھی ایک تسلسل کے ساتھ ایک قانون او ر ضابطے کے ساتھ اپنا یہ مادی گو شت پوست کا جسم بدلتا ہے اور یہ بدلنا ہی ارتقاء ہے یہ بدلنا ہی نشو ونما ہے،یہ بدلنا ہی بچپن سے لڑکپن لڑکپن سے جوانی او جوانی سے بوڑھا اور بوڑھاپے سے مر نا تو اللہ تعالیٰ یہ چا ہتے ہیں کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے روح کے ساتھ پیدا کیا اور یہ گو شت پوست کا جسم جو ہے روح کا لباس ہے انسان اگر اپنی ذات کو، اپنی اصل کو، اپنی روح کو اگر نہیں پہنچانتا، نہیں جانتا تو وہ اپنی حق تلفی کرتا ہے تو حقوق العباد یہ ہو ئے ایک یہ کہ انسان کسی کی دل آزاری نہ کر ے جتنا جس کے کام آنا ہے کام آجا ئے انسان دو سروں کے اوپر خوامخوہ شک اور شبہ نہ کر ے بغیر تصدیق کے کسی بات کا فیصلہ نہ کرے کہ وہ آدمی برا ہے اس نے ایسا کر دیا اس نے ایسا کر دیا آج کل عام طور سے خواتین میں بہت زیادہ ہے جا دو کا چکر بہت چلا ہے اس نے جادو کر دیا فلاں کر دیا۔

جا دو تو بے شک ہے بات یہ ہے کہ اس بات کی کسی طرح تصدیق نہیں ہے، تصدیق اگر ہوتی تو آدمی عقل والا ہوتا لیکن چوں کہ اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی کہ نند نے جا دو کر دیایا ساس نے جا دو کر دیا، بہو نے جا دو کر دیا۔ اگر کوئی آدمی اس بات کو دوہرا تا ہے کہ اس نے جا دو کر دیااور اس نے اس کو پوری طرح تصدیق نہیں ہے تو یہ حق تلفی ہے اور یہ گناہ شرک کہلا تا ہے اگر جا دو کی تصدیق ہو جا ئے تو آپ کا کہنا صحیح ہے پھر اس کا علاج بھی ہوتا ہے لیکن جب تک اس بات کی تصدیق نہ ہو اس وقت تک کس آدمی کو یہ کہنا کہ اس نے یہ کر دیا وہ کر دیا یہ اس آدمی کے اوپر الزام ہے اور الزام جو ہے اللہ تعالیٰ پسند نہیں کر تے اور یہ حق تلفی ہے تیسری صورت یہ ہے کہ چار خواتین چار مرد بیٹھتے ہیں وہ ایک دو سرے کی برا ئی کر تے ہیں۔اختتام

 

Topics