Topics

غورو فکر کرنے کا طریقہ

 

 

بسم اللہ …الحمد اللہ رب العالمین

بسم اللہ وما ارسلنک اللہ رحمت العلمین مکان محمد وکان اللہ بکل شی …انا اللہ وملا ئکتہ …یایھا الذین

محترم خواتین و حضرات عزیز دو ستوں پیا رے بچوں السلام و علیکم جیساکہ آپ نے بچوں کی تقریروں سے اور بیٹیوں کی باتوں سے اس پرو گرام سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی محبت کے سلسلے میں یہ محفل منعقد کی گئی ہے۔ عید میلا النبی کے مہینے میں اپنی خصوصیت کے ساتھ اور پورے سال کسی نہ کسی پو را کسی نہ کسی عنوان سے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت طیبہ کے متعلق پروگرام ہو تے رہتے ہیں اور الحمد اللہ رسول اللہ ﷺکے متعلق جب بھی کوئی پروگرام ہوتا ہے حضور کے شیدائی امتی اس پرو گرام میں بھر پور طریقے سے حصہ لیتے ہیں رسول اللہ کے یہ پروگرام جو سال میںتقریبا ہر مہینے میں کہیں نہ کہیں منعقد ہو تے ہیں اس کے پیچھے یہ حکمت ہے کہ اپنے آقا اپنے مو لا اپنے شافع اپنے مہر بان اور اپنے نجات دہندہ خاتم النبیین کی سیرت طیبہ کا بار بار ہم لوگ مطا لعہ کر تے رہیں اور اپنے آپ کو رسول اللہ کی عطا کر دہ دین کی طرف متوجہ ہو اور اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی دنیا کابھی سامان اکھٹا کر تے رہے۔

 اس سے ہر مسلمان واقف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی توو حید اور وحدنیت کا پر چار کرنے کے لئے جو طریقہ پسند فر ما یا ہے وہ یہ ہے اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی انسانوں کو منتخب کر کے اپنی رسالت اور نبوت پر فائز فرما تے ہیں اوران تو کل نفس حضرات سے فرشتوں کے ذریعے رابطہ کرتے ہیں۔حضر ت جبرائیل علیہ السلام اللہ کی طرف سے پیغام لیکر آتے ہیںاور یہ برگذیدہ بندے اللہ کے اس پیغام کو باغور سنتے ہیں۔اور اس پیغام کو سنے کے بعداللہ کو خوش کرنے کے لئے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کرنے کے لئے اور یہ بتا نے کے لئے اللہ کے علاوہ کا ئنات میں کوئی عبا دت کے لا ئق نہیں ہے تمام پیغمبر اس پیغام کو دوہرا نے کے لئے اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں اللہ کی یہ سنت انسانوں میں سے انسانوں کو برگذیدہ بنانا اور انسانوں میں سے انسانوں کو افضل بنا کر رسول او ر پیغمبر بنا نا رسول اور پیغمبر سے حضرت جبرا ئیل علیہ السلام کے لئے پیغام قائم کر نا یہ اللہ کی سنت ہے جو لا کھوں سال سے جا ری و ساری ہے تمام پیغمبروں کی تعلیمات ایک ہی ہیں اور وہ یہ ہیں کہ انسان کو اس بات کا علم ہو نا چا ہئے کہ پیدا کرنے والی واحد ذات اللہ ہے۔

 پیدا کرنے کے بعد انسان کو وسائل عطا کرنے والی ذات اللہ ہے،اور اللہ کے علا وہ اس دنیا میں اور اس ہزاروں دنیا میں اللہ کے علاوہ پوری کا ئنات میں پرستش کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔

رسول اللہ کا ارشاد ہے میں کوئی نئی با ت نہیں کہے رہا ہوں میرا مشن یہی مشن ہے جو میرے بھا ئیوں کا مشن تھا ایک لا کھ چو بیس ہزار پیغمبر کا یہ اعلان اللہ واحدہ لا شریک ہے اور عبادت کے لا ئق صرف اللہ ہے اور اللہ تعالیٰ شرک کو نہ پسند فرماتے ہیں جو ایک لا کھ چوبیس ہزارپیغمبروں کا اعلان آخری نبی نے بھی دو ہرا یا اور مکے کی زندگی میں بھی اس کی شرواعات ہوئی جب رسول پاک نے اس پیغام کو دو ہرا یا جو ایک لا کھ چو بیس ہزار پیغمبروں سے نو ع انسانی کو منتقل ہوتا رہا تو لوگوں نے رسول اللہﷺکی مخالفت کی، طرح طرح کی اذیتیں دی، پریشانی میں مبتلا کر دیا، بائی کا ٹ کر دیا اذیتوں کا کوئی خانہ ایسا نہیں چھوڑا جس سے رسول اللہ کو ان لوگو ں نے تکلیف نہ پہنچا ئی ہو لیکن حضور پاک یہی بات فرما تے رہے کہ اگر تم میرے ایک ہاتھ میں سورج رکھ دو دوسرے ہا تھ میں چا ند رکھ دو تب بھی میں یہی بات دو ہرا تا رہوں گا کہ خالق حقیقی اللہ ہے اور وہی ذات ہے جو پر ستش اور عبا دت کے لا ئق ہے اس کے علاوہ کسی کی بھی پر ستش لا ئق اس طرح نہیںہے یہ جو تم نے مکے میں تین سو ساٹھ بت رکھ لئے ہیں ان تین سو ساٹھ میں سے کسی بھی ایک بت کی حیثیت ایسی نہیں ہے نہ یہ سنتے ہیں،نہ یہ بو لتے ہیں،نہ یہ چل پھر سکتے ہیں، جو مورتی بو ل نہ سکتی ہو،سن نہ سکتی ہو، مدافیت میںکچھ نہ کر۔

و ہ کس طرح حجت ہو سکتی ہے لیکن لوگو ں کی بات سمجھ میں نہیں آئی اور سمجھ میں نہیں آئی کہ ان کے اوپر لوگوں کی ایسی اجاداری تھی کہ جو ظالم تھے سر کش تھے اور با غی تھے رسول اللہ کی زندگی کے بارے میں جب ہم غور کر تے ہیں تو زندگی میں ایک سکھ نظرنہیں آتا اپنوں نے اتنے دکھ دئیے کہ رسول اللہ کو اپنا وطن مکہ چھوڑ کر مدینے ہجرت کر نی پڑی، مدینے میں بھی سازشوں کا جال بچھا یا گیا اور ہر طرف سے اسلامی مشن کو فیل کرنے کی کو شش کی گئی سازشیں کی گئی بد عہدی کی گئی حد یہ ہے کہ جنگیں لڑی گئیںلیکن جب ہم حضور پاک کا کر دار دیکھتے ہیں تو حضور پاک کا عمل دیکھتے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ اللہ کے محبوب بندے رسول اللہ تو حیدی مشن کے لئے چٹان کی طرح قائم رہے۔ جب اسلام کا بو ل با لا ہو گیا وہ لوگ بھی جنہوں نے اذیتیں دینے میں کوئی کسر با قی نہیں رکھی تھی لیکن جب وہ اسلام میںداخل ہو گئے رسول اللہ نے اپنی ہر تکلیف کو بھلا دیا اور ان سے عفودرگزر سے کام لیا رسول اللہ سے ہم لوگ محبت بھی کر تے ہیں ہم لوگوں کو عشق کا دعویٰ بھی ہے الحمد اللہ ہم رسول اللہ کا لا الہ اللہ محمد…کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو ئے ہیں تو ہمارے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

ایک جب ہم عملاً،قولاً، فعلاً زبان کے اقرار کے ساتھ دل کے اقرار کے ساتھ با ہو ش و حواس میں اللہ کے پیغام پر مان کر داخل ہوگئے ہیں، تو مشن الہیٰ کو چلانے کے لئے ہماری اوپر بھی وہی ذمہ دا ریاں عائد ہو جا تی ہیں جن ذمہ داریوں کو حضورنے پو را کر کے دیکھا یا ہے۔اس وقت جو انسان کو حال ہے مسلمان کا حال ہے وہ کسی سے چھپا ہو ا نہیں ہے۔ہمیں اس بیماری کی اس ذلت کی جو مسلمانوں کو عقائد ہوئی ہیں۔ جو ہمیں مل گئی ہیں اس کا حل تلا ش کرناچاہئے یہ دیکھنا چا ہئے یہ ساری برا ئیاں مسلمانوں کے خا نے میں کیوں آگئی ہیں۔ تو جب آپ سوچیں گے تو آپ کو ایک ہی جواب ملے گا کہ رسول اللہ کا اقرار تو ہم کر تے ہیں لیکن جب رسول اللہ کی سیرت طیبہ کا معاملہ آتا ہے۔جب رسول اللہ کے اعمال حسنہ پر عمل کرنے کا وقت آتا ہے تو ہم لوگوں کا وہ قول و فعل نہیں ہوتا جو ہم زبان سے ادا کر تے ہیں جب ہم اس بات کا قرار کر چکے ہیں رسول اللہ ہمارے پیغمبر ہیں، اللہ کے رسول ہیں تو اللہ کے رسول میں ہمیں اللہ کی کتاب کا علم عطا فرما دیا ہے ہمارے لئے قوانین عطا کر دئیے ہیں۔

اور زندگی گزارنے کے لئے خود اعمال کر کے دیکھا دیا ہے مثلا ً اگر سیرت طیبہ کو پڑھا جا ئے تو ہم باآسانی اس بات سے باخبر ہو جا تے ہیں کہ حضور پاک شو ہر کیسے تھے ہمیں اس با ت کو علم ہو جا تا ہے کہ رسول اللہ نے با پ کی حیثیت سے انہوں نے زندگی کس طرح گزاری ہم اس بات سے با خبر ہو جا تے ہیں رسول اللہ نے جب تجا رت فرما ئی کہ سوداگری کے کیا اصول تھے جو حضور پاک نے وعدے پورے فر ما ئے۔جب ہم نفرت حسد غصہ کینہ جیسے بد ترین اعمال میں خود کو گرفتار کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات بڑی آسانی آجا تی ہے کہ رسول پاک کے اندر عفو ودرگزر کتنا تھا ہر مسلمان جانتا ہے کہ جنگ عہد میں رسول اللہﷺ کے چچا امیر حمزہ شہید ہو ئے اور ہندہ نے حضرت امیر حمزہ کے کان نا ک اور اعضا ء کا ٹ کر رسی میں پیرویا اور گلے میں پہن کر میدان جنگ میں رقص کیا۔لیکن جب ہندہ رسول اللہ کے دربار میں آکر اسلام قبول کرتی ہے تو رسول اللہ نے اتناظلمانہ، گھناونہ، وحشیانہ اور درندگی کے عمل کو بھی رسول اللہ نے معاف فرما دیا۔

ہم جب مسلمانوں کی زندگی کا مطا لعہ کر تے ہیںتو ایسا نظر آتا ہے بھا ئی بھا ئی کا دشمن بنا ہوا ہے حسد کی آگ بھڑ کی ہوئی ہے شوہر بیوی سے نا را ض ہے بیوی شو ہر سے نا راض ہے بچے والدین سے سہمے ہوئے ہیں والدین کا بچوں پر اعتماد نہیں رہا نفسہ نفسی کا عالم ہے کہ جس کو دیکھ کر یہ اندا زہ ہوتا ہے انسانی قدریںعملاً ختم ہو گئی اس کی کیا وجہ ہے اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم رسول اللہ کا تذکر ہ تو بھی کر تے ہیں رسول اللہ کی سیرت کے سلسلے میں محفل بھی سجا تے ہیں بڑے بڑے پرو گرا م کر تے ہیں ان پروگراموں میں شامل بھی ہو تے ہیں بلا شبہ یہ بہت اچھا کام ہے اعمال حسنہ ہے۔

رسول اللہ کی شان میں جب کوئی محفل منقد ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کے ارشادہے اس محفل میں آسمانوں سے فرشتے نا زل ہو تے ہیں اور رحمتوں کی دعا کر تے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو اس عمل میں ہمارے سامنے رسول اللہ کے سیرت کے جو پہلو ہیں وہ فراموش ہو جا تے ہیں مسلمانوں کے لئے میری دا نست میں بہترین عمل یہ ہے کہ ہر مسلمان کو رسول اللہ کی سیرت طیبہ کا بھر پو ر اور مطا لعہ کرنا چا ہئے اور رسول اللہ کی سیرت طیبہ پڑھ کو جس طرح رسول اللہ نے اس دنیا میں رہتے ہو ئے زندگی گزاری ہے اس اعمال کی نقل کر نی چا ہئے، رسول اللہ کے اعمال حسنہ پر عمل کرکے ہمیں یہ ثا بت کر نا چا ہئے ہم رسول اللہ کے سچے،شیدائی اور مخلص پیرو کا ر ہیں سیرت طیبہ جتنی زیا دہ پڑھی جا ئے گی اسی منا سبت سے رسول اللہ کی طرز فکر ہمارے اندر منتقل ہو گی۔اور جتنی رسول اللہ کی طرز فکر ہمارے اندر منتقل ہو جا ئے گی اسی منا سبت سے ہمارے اندرپیغمبران علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی طرز فکرمنتقل ہو جا ئے گی اس لئے کہ جو ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں نے فرما یا وہ رسول اللہ نے بھی فرما ئی۔

 اور حضور پاک نے فرمایا میں کوئی نئی بات نہیں کہے رہا ہوں دین کے بارے میں جو میرے بھا ئی پیغمبروں نے کہی میں اسی کو دو ہرا رہا ہوں ہر پیغمبر نے یہ کہا اللہ واحد ہ لا شریک ہے اللہ پرستش کے لائق نہیں ہے ایمان لاؤ  اللہ پر،ایمان لاؤ  فرشتوں پر، ایمان لاؤ  پیغمبر پر،ایمان لاؤ  کتا بوں پر، ایمان لاؤ  تقدیر نیک اور برائی کی تقدیر پر اس لئے کہ سب کچھ اللہ کے ہا تھ میں ہے یہی بات ہمارے آقا ہمارے مولا محمد رسول اللہ نے فرما یا کہ ایک مومن کی علامت یہ ہے کہ اس کاایمان ایک اللہ پر ہو،مومن کی شناخت یہ ہے کہ وہ اللہ کی نازل کی ہوئی کتابوں پرایمان رکھتا ہوں اللہ کے جتنے بھی رسول بھیجے ہو ئے ہیں ان پر اس کا ایمان ہو،فرشتوں پر اس کا ایمان ہو اور یوم آخرت پر اس کا ایمان ہو، ہم زبانی جمع خرچ تو بہت کر تے ہیں لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہر شخص اس کو با آسانی محسوس کر سکتا ہے میرے سمیت اپنے گریبان میں منہ ڈا ل کر دیکھ سکتا ہے جب ہم عمل میں آتے ہیں اور رسول اللہ کا تذکرہ کر تے ہیں تو ہر انسان کو اپنے آپ سے شرم محسوس ہوتی ہے اور اس شرم کی بنیاد یہی ہے کہ الحمد اللہ ہمارے ذہن میں رسول اللہ کا عشق موجود ہے ان کی محبت موجود ہے ہم چا ہتے ہیں کہ رسول اللہ کی سیرت پر عمل کر کے رسول اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ بنے۔

لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ہماری ذاتی خواہش ہے ہمارا خاندانی وقار ہمارے اندر شیطان کا پھونکا ہوا غرور ہمارے سامنے آجا تا ہے ان تمام دیوار کو منہدم کرنے کے لئے ان تمام برا ئیوں سے بچنے کے لئے اور ان تمام اونچی اونچی دیواروں سے پھلانگنے کے لئے ایک ہی نسخہ ہے وہ یہ ہے الحمداللہ ہم حضور پاک کے امتی ہیں ہمارے دلوں میں حضور کی محبت بھی ہے ہمارے دلوں میں حضور پاک کا عشق بھی ہے توکام تو پو را ہو اہے۔صرف اتنا ہے کہ رسول اللہ نے جس طرح دنیا میں زندگی گزاری اس زندگی کے بارے میں ہمیں علم ہو نا چاہئے ہماری آنکھیں اس بات سے واقف ہو ں کس طرح چلتے تھے،کس طرح بیٹھتے تھے، کس طرح تبلیغ فرما تے تھے،کس طرح مہمان نوازی فرما تے تھے اور کتنا ان کے اندر عفو درگزرتھی جب ہم رسول اللہ کی عملی زندگی کو کتابوں میں سیرت کی کتابوں میں پڑھیں گے ایک دفعہ پڑھیں گے دو دفعہ پڑھیں گے تین دفعہ پڑھیں گے انشا اللہ اللہ کے فضل و کرم سے رسول اللہ کی سیرت طیبہ کا ہمارے اوپر نفاذ ہو جا ئے گا۔

ہماری زندگی میں رسول اللہ کے اعمال حسنہ جاری ہو جا ئیں گے۔اور جب ایسا ہو جائے گا ہم رسول اللہ کے فضل و کرم سے سچے اور پکے مسلمان ہو جا ئیں گے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یحبون یھبلا…جب حضور کے امتی، حضورکے نام لیوا،حضور کے عاشق حضور سے محبت کر تے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں میرے محبوب بندے محمدرسول اللہ سے کوئی شخص جتنی محبت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کئی زیادہ اس بندے سے محبت کرتا ہے۔رسول اللہ کی سیرت طیبہ کا مطالعہ کیجئے،رسول اللہ کی ذات اقدس پر درود پاک بھیجئے،اناللہ …تحقیق اللہ اور اس کے فرشتے رسول اللہ پر درود بھجتے ہیں اے مومینوں تم بھی اللہ کے محبوب بندے محمد رسول اللہ پر درود سلام بھیجو۔یہ محفل عظیمیہ رو حا نی سلسلے کے تعاون سے اس وقت قائم ہوئی ہے۔آپ لوگ یہاں تشریف لا ئے عظیمیہ روحانی لائبریری کا سلسلہ ہے یہ بھی سلسلہ عظیمیہ نے اس لئے قائم کیا ہے لوگ لا ئبری میں تشریف لا ئیں۔

 رسول اللہ کی تعلیمات کا مطا لعہ کر یں اسلامی تعلیمات کامطالعہ کر یں۔دین کے بارے میں با خبر ہوں اور ساتھ ساتھ جسم اور رو ح کے رشتے کا پتہ بھی کر یں کہ جسمانی رشتہ اور رو حانی رشتہ کیا ہے۔اس سلسلے میں بہت مختصر بات میں آپ سے عرض کرو ں گا کہ ہر انسان جوزندہ ہے یہاں بیٹھا ہوا ہے یا کہی بھی ہے اس کی زندگی روح کے ساتھ قائم ہے آپ نے دیکھا ہے جب جسم میں سے روح نکل جا تی ہے تو آدمی مر دہ ہو جا تا ہے کوئی انسان اس وقت تک کھا نا نہیں کھا تا جب تک اس کے اندر روح نہ ہو اس لئے جب تک اس کے اندر روح نہ ہو گی وہ مر جا ئے گا اور مر دہ کھا نا نہیں کھا تا اور کوئی انسان اس وقت تک کا روبار نہیں کر سکتا جب تک اس کے اندر روح نہ اس لئے کوئی بھی جسم روح کے بغیر کا رو بار نہیں کرتا کوئی انسان سنتا بھی اسی وقت ہے جب اس کے اندر روح ہوتی ہے۔کسی انسان کی شادی بھی اسی وقت ہوتی ہے جب وہ زندہ ہو اور اس کے اندر روح موجود ہو۔

 جتنا بھی ّآپ جسمانی رشتے کے بارے میں غوروفکر کر یں گے آپ کو ایک ہی جواب ملے گا کہ جسمانی حرکات و سکنات اسی وقت تک ہیں جب تک انسان کے اندر روح ہے اور جب انسان کے اندر سے روح نکل جاتی ہے آپ رات دن کامشا ہدہ ہے لوگ انتقال کر تے ہیں آپ جا کر قبروں میں ڈال آتے ہیں عظیمیہ روحانی لا ئبری میں مطا لعہ کرنے سے آپ کو جسمانی اور روحانی رشتے کا پتا چلے گا۔جس طرح ہم اس دنیا میں رہتے ہیں اس طرح ہم اس دنیا کو چھوڑ کر دوسری دنیا میں جانا ہے اور دو سری دنیا میں اگرہمیں آرام پا نا ہے اچھی زندگی گزارنی ہے تو ہمیں پیغمبرانہ تعلیمات کے مطابق جسم کے ساتھ ساتھ روح کے بارے میں معلومات حاصل کر نا ہو گی۔ میری دعا ہے اللہ تعالیٰ انہیں اللہ کے مشن کے لئے اوررسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو پھیلا نے کے لئے زیادہ سے زیادہ ہمت اورتو فیق عطا فرما ئے۔آپ سب حضرات تشریف لائے میں آپ کی تشریف آوری کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اختتام 

Topics