Topics

رات اور دن کے حواس

 

 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تلاوت سورۃ القدر

انسانی زندگی کا مطالعہ کیا جائے اور انسانی زندگی میںجتنے بھی تقاضے ہیں ان کی تکمیل کا تذکرہ ہو یا انسانی تاریخ کا تذکرہ ہو۔ پیدائش ہو،مراقبہ ہو،یعنی انسانی کی ذلت ہو،نفرت ہو،حیات ہو،موت ہو،علوم ہو،سب تذکرہ اس وقت ہوتا ہے جب رات اور دن کا تذکرہ ہوتا ہے۔جب سے یہ دنیا بنی اس میں رات بھی آتی ہے اور دن بھی آتا ہے۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے رات اور دن کا تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ رات اور دن دو ایسے رخ ہیں یا دو حواس ایسے ہیں جن میں ردوبدل ہوتا ہے۔کبھی انسان کے اوپر رات کے حواس غالب آجاتے ہیں وہ سو جاتا ہے اور جب انسان کے اوپر دن کے حواس غالب آجاتے ہیں تو وہ اٹھتا ہے۔ لیکن کروڑوں سال کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہو اکہ انسان کے اوپر دن کے حواس ہی غالب رہے یا رات کے حواس ہی غالب رہے۔انسانی زندگی کے لیے ضروری ہے کہ انسان سوئے گا بھی اور ہر انسان بیدار بھی ہو گا توزندگی کے بارے میں اس کا تذکرہ ہم کوئی یقین بات نہیں کہے رہے ہیں جب تک ہم یہ تسلیم نہ کریں گے زندگی نام ہے، دن رات کا ہے۔

دن رات کا مطالعہ ہی زندگی ہے۔دن رات کا مطلب ہی تاریخ ہے۔دن رات کا مطلب ہی حواس ہے۔ اوردن رات کا مطلب ہی طرزفکر ہے۔اور یہ دن رات کا جو سلسلہ ہے محض انسان کے لئے مخصوص نہیں ہے حیوانات کے لئے بھی ضروری ہے۔وہ دن کے حواس میں بھی رہے اور رات کے حواس میں بھی رہے۔درختوں کے بارے میں بھی یہ بات درجہ حاصل کر چکی ہے کہ جس طرح انسان رات میں سوتے ہیںاس طرح درخت بھی رات میں سوتے ہیں۔پرندوں کو آپ نے دیکھا ہو گا دن بھر پرندے اڑتے پھرتے رہتے ہیں لیکن رات میں سو جاتے ہیں۔گائے، بھنس، بھیڑ،بکری کوئی بھی چیزجو دنیا میںہیں، اس کی یہ مجبوری ہے وہ اس کے لئے سونا بھی ضروری ہے اس کے مجبوری کے اس کو بیدار ہو نا بھی ضروری ہے۔۔سوئے بغیر اور بیدار ہوئے بغیر زندگی نہیںگزرتی مثلا ًاگر کسی انسان کی نیند روٹھ جائے اسے نیند نہ آئے تو کوئی آدمی ساری زندگی سو بھی نہیں سکتا اب لوگ قومہ میں چلے جاتے ہیں کئی کئی سال بے ہو ش رہتے ہیں اگر ہم اس کا نام نیند رکھ لیں کہ ایک آدمی قومہ میں گیا تھا دس سال کی عمر میں بیس سال کی عمر میں جب وہ سوتا رہا تو یہ کوئی مثال نہیں ہو گئی یہ بیماری ہے اس کا نام ہی قومہ رکھا گیا ہے۔

لیکن انسان حواس کے اعتبار سے بیمار یعنی انسان کے اندر حواس کی جو ردو بدل ہے وہ ختم ہو جائے گی تو یہ پتہ چلتاہے کہ زندگی کا درومدار دو حواسوں پر مشتمل ہے۔ایک رات کے حواس جنہیں ہم خواب بھی کہتے ہیں۔جنہیں نیند بھی کہتے ہیں اور دوسرے بیداری کے حواس جنہیں ہم جاگنا بھی کہتے ہیں۔ بیداری بھی کہتے ہیں دن کے حواس بھی کہتے ہیں۔ ان دونوں حواسوں پر جب غوروفکر کیا جاتا ہے تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے جب انسان یا کوئی بھی مخلوق دن کے حواس میںرہتی ہے۔ تو پابند حواس بن جاتی ہے ۔مثلاً ہم دن کے حواس میں یہاں سے مراقبہ ہال جاتے ہیں۔تو مراقبہ ہال جانے کے لئے ہمیں زمین پر سے چلنا ہو گا۔قدم بھی اٹھانے ہو نگے اور زمین پر سے قدم اٹھا کر چلنے میں مراقبہ ہال تک پہنچنے میں ٹائم بھی ہو گا وہ ٹائم ایک منٹ کا ہو، آدھے گھنٹے گا ہو جتنا بھی فاصلہ ہو گا اسی حساب سے ٹائم زیر بحث آئے گا۔

مثلا یہاں سے آپ جائیں صدرتک تو ظاہر ہے صدرتک کا فاصلہ زیادہ ہے تو وقت بھی زیادہ لگے گا۔لیکن جب ہم خواب کا تذکرہ کرتے ہیں۔سونے کا تذکرہ کرتے ہیں۔نیند کا تذکرہ کرتے ہیں تو وہاں ہمیں یہ بات نظر آتی ہے کام تو ہم سب کچھ کرتے ہیں لیکن نہ وہاں فاصلہ ہے،نہ وہاں اسپیس ہے،نہ وہاں وقت لگتا ہے۔مثلا ً ایک آدمی لندن سے آیا ہوا ہے۔ وہ یہاں خواب میں دیکھتا ہے کہ میں لندن میں ہوں۔اب لندن جانے کے لئے وہ پیدل جائے تو کم از کم سال ڈیرھ سال چاہئے لیکن جب اس کی آنکھ کھولتی ہے تو وہاں موجود ہوتا ہے کوئی بھی انسان ایسا آج تک دنیا میں پیدا نہیں ہوا کہ جو انسان خواب کے اور بیدار ی کے تجربے سے نہ گزرا ہو۔اب ہمارے سامنے یہ بات آئی کہ انسان دو حواس پر زندگی گزارتا ہے۔ ایک حواس بیداری کے حواس ہو تے ہیں اور دوسرے حواس خواب کے حواس ہو تے ہیں۔ بیداری کے حواس میں ایک ایک قدم جب چلتے ہیں۔

تو ہمارے اوپر پابندی لاگو ہو جاتی ہے۔مثلا ً ایک قدم اٹھا نے کے بعد جب ہم دوسرا قدم اٹھائیں گے تو ہماری مجبوری ہے کہ زمین کا فاصلہ جو دو قدم کے درمیان ہے۔ہم رکتے ہیں اور اس ایک قدم اٹھانے کے بعد دوسرا قدم جو ہمیں اٹھا کر رکھنا ہے اس میں سے ایک سیکنڈ کا ہزار واں حصہ ہی کیوں نہ ہو۔ دن میں ہم ٹائم اور اسپیس کے پابند ہے ہے۔خواب کی کیفیت بالکل برعکس ہے۔خواب میں جب کوئی انسان زندگی گزارتا ہے یا خواب کے حواس میں سفر کرتا ہے تو یہ بھی نظر آتا ہے۔ وہ چیزیں جو ہماری نظر سے اوجھل ہے۔ غیب پردہ ختم ہو جاتا ہے۔ ایک صاحب ہیں اللہ تعالیٰ ہم سب مسلمان کو توفیق عطا کریں کہ ان کو حضور پاک ﷺ کی زیارت ہوتی ہے، مدینہ منور ہوتا ہے تو یہاںبیٹھے ہو ئے بیداری میں ظاہر ہے مدینہ منور غیب کی حیثیت رکھتا ہے۔ آنکھیں نہیں دیکھ رہی لیکن خواب میںوہ وہاں جاکر اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ…بھی پڑھتا ہے حضور ﷺ کے روضے کی زیارت بھی کرتا ہے۔

مسجد نبوی میں نماز بھی پڑھتا ہے اور درود شریف بھی پڑھتا ہے پھر واپس آجاتا ہے۔بہت سارے لوگ جن کی روحیں حضور پاک ﷺ کے نور سے منور ہیں یہ انبیاء کو بھی خواب میں دیکھتی ہیں۔فرشتے بھی انہیں خواب میں نظر آتے ہیںوہ خواب میں جنت کی بھی سیر کرتے ہیں۔بہت سارے لوگ اللہ تعالیٰ کی تجلی بھی دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات کا خواب بھی انہیں آ تا ہے۔یہ سب چیزیں غیب کے علاوہ کچھ نہیں ہیں۔اب ہم یہ کہے گے کہ انسان کی زندگی میں جو حواس کام کر رہے ہیں ایک حواس وہ ہے جو انسان کو غیب کے اندر داخل کرتے ہیں اور ایک حواس وہ ہیں جو انسان کو غیب کی دنیا سے باہر لے آتے ہیں۔ غیب کی دنیا سے باہر لانے والے حواس دن کے حواس، بیداری کے حواس، غیب کی دنیا میں داخل کرنے والے حواس خواب کے ہیں۔اور یہ کوئی محض واعظ تقریر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اسی طرح بیان فرمایا ہے جس طرح میں نے آپ کے سامنے بیان کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ جب غیب کی دنیا کا تذکرہ تو ووہاں دن، دن کا تذکرہ نہیں ہو گا رات کا تذکرہ ہو گا۔ معراج شریف میں حضور پاک ﷺ تشریف لے گئے سبحان اللہ الذی…زمین پر فرشتو ں کے اترنے کا تذکرہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ہم کلا می کا تذکرہ ہوتا ہے۔تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ دن کا ذکر نہیں کرتے ہیں’’کہ ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیااور چالیس راتوں میں پو را کیا‘‘۔ اب شب قدر کا ذکر آتا ہے،شب برات کا ذکر آتا ہے۔ وہاں بھی شب برات لیلتہ البرات کہا جاتا ہے۔شب قدر کا ذکر آتا ہے وہاں بھی انا انزلنہ…کہ ہم نے نازل کیا قرآن کو لیلتہ القدر میں لیلتہ القدرخیر من الف شھر…وہ رات بھی لیلتہ القدر کی جو رات ہے اس رات میں اپنے رب کے حکم سے زمین پر فرشتے …تنزل الملائکتہ الروح…جب فرشتے بھی اترتے ہیں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام بھی زمین پر اترتے ہیں اور لوگوں سے ملتے ہیں ملاقات کرتے ہیں مصافحہ کرتے ہیں۔

جب اعتکاف کا تذکرہ آتا ہے۔اعتکاف کے تذکرے میں بھی یہ بات آپ کے سامنے ہے کہ رات اور دن کے بغیر اعتکاف مکمل نہیں ہوتا ایسا نہیں ہے۔ آپ دن کو بیٹھ گئے اور شام کو آپنے گھر چلے گئے رات کا ہونا اعتکاف میں ہے۔جب لیلتہ القدر کو ڈھونڈنے کا تذکرہ آتا ہے تو وہاں بھی یہ حضور پاک ﷺ ارشاد فرماتے ہیںکہ لیلتہ القدر کو طاق راتوں میں تلاش کیاکرو۔تم بھی لیلتہ القدر کو طاق راتوں میں تلاش کرواور خواب کا جب تذکرہ آئے گا تو اگر آپ دن میں بھی خواب دیکھتے ہیں تو وہ بھی دراصل رات ہی کے حواس کے شمار ہو نگے یہ نہیں ہو گا کہ صاحب آپ کہے جی دن کا خواب ہو دن کا اگر خواب ہوتا تو دن کے جو حواس وہ مغلوب ہو جا تے۔دن کے حواس مغلوب ہونے کا مطلب ہی یہی ہے کہ اب آپ دن کے حواس نکل کر رات کے حواس میں داخل ہو جائے گے بھلے وہ دن ہو سورج نکلاہوا ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ایسا نہیں ہوگا کہ آپ دن میں بیٹھے ہو ئے ہیں آنکھیں کھولی ہوئی ہیں۔

 سورج بھی ہے دھوپ بھی ہے اور آپ خواب دیکھنا شروع کر دیں تو خواب دیکھنے کے لئے دن کے حواس کی نفی ہو نا ضروری ہے تو اب دو باتیں آپ نے سمجھ لیں ہیں سمجھ میں آگئیں ہیں وہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی کا درومدار، وہ زندگی دنیا کی زندگی ہو،وہ زندگی مرنے کے بعد کی زندگی ہو،دائرے کے باہردو حواس ہیں جب تک دو حواس نہیں ہو نگے زندگی کی تکمیل نہیں ہو گی۔جب تک دو حواس نہیں ہو نگے۔ آپ کاپیدا ہو نا والا بچہ کبھی دوسرے دن میں داخل ہو نہیں سکتا اب یہ رات کے بغیر ہم دن کا بھی تذکرہ نہیں کر سکتے آپ جب یہ کہتے ہیں کہ ایک دن کا بچہ پھر آپ کہتے ہیں دس دن کا بچہ،دس دن کے بچے کا مطلب یہ ہوا کہ یہ بچہ دس راتیں اپنی عمر گزار چکا ہے اس لئے اسے دس دن کہا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک دن کا بچہ پیدا ہو ا اس نے رات ایک بھی نہیں گزاری اور آپ اسے کیسے کہے دیں دس دن کا بچہ بھی ہے لیکن اس کے پیچھے بھی رات ہے یہ رات اور دن کا اس طرح سمٹے ہو ئے ہیںکہ کائنات کی ہر مخلوق کے اوپر اس کے بغیر انسانی زندگی ہو،درخت کی زندگی ہو،پرندوںکی زندگی ہو،چوبائے کی زندگی ہو،تکمیل ہے۔

اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں جب رات اور دن کا فرماتے ہیں تو کہ ہم رات کو دن میں داخل کرتے ہیں پھر فرماتے ہیں ہم رات میں سے دن کو نکال لیتے ہیں اور دن میں سے رات کو۔ پھر یٰسین شریف میں ارشاد فرماتے ہیں ہم رات میںسے دن کو اُدھیڑ لیتے ہیںاور دن پر سے رات کواُدھیڑ لیتے ہیں۔اب رات کو دن میں داخل کر نا دن کو رات میں داخل کرنا۔رات میں سے دن کو نکال لینا اور دن میں سے رات کو نکال لینا،دن پر سے رات کو ادھیڑ لینا اور رات پر سے دن کو ادھیڑلینا ہمیں اس طرح متوجہ کرتا ہے کہ رات اور دن کی حیثیت ثانوی ہے اصل چیز جو ہے جہاں دن داخل ہوتا ہے اور رات نکل آتی ہے جہاں رات داخل ہوتی ہے دن نکل آتا ہے۔ اور جس کے اوپر سے دن اور رات کو ادھیڑ لیا جاتاہے۔ بہت ہی توجہ کی ضرورت ہے بڑی گہرائی میں آپ سمجھیں گے۔ ایک کپڑا ہے اس کے اوپر ایک اور کپڑا سیلا ہوا ہے اس کپڑے کا رنگ سفید ہے آپ اس کپڑے کو ادھیڑدیںاس کپڑے کو ادھیڑنے کے بعد جو کپڑا ہے اس کا رنگ کالا ہے۔

آپ نے وہ بھی ادھیڑ لیا اب آپ یہ بتائیں کہ یہاں سے سیاہ یا سفید جو کپڑا ادھیڑا گیا ہے وہ اصل ہے یا کپڑا ادھیڑا گیا ہے وہ اصل ہے۔ کیاچیز اصل ہے بھئی ایک یہ میرا ہاتھ ہے اس پر سفید کاغذ چپکا ہوا ہے میں اسے پھاڑ لیتا ہو، ادھیڑ لیتا ہوں یہ سیلا ہوا ہے۔جب میں نے یہ سفید کاغذ سفید کپڑا ادھیڑ لیا تو اس کے نیچے یہ کالا کپڑا ہے یعنی کالا کاغذ ہے۔میں اسے ادھیڑ لیتا ہوں تو اصل کاغذ ہوا یا کپڑا ہوایا ہاتھ ہوا۔اب اس آیت پر ہمیں غور کرنا ہے اللہ تعالیْٰ فرما رہے ہیںکہ ہم رات کو دن کے اوپر سے ادھیڑ لیتے ہیں۔دن کو رات کے اوپر سے ادھیڑ لیتے ہیں۔ رات کو دن میں داخل کردیتے ہیں دن کورات میں داخل کردیتے ہیں۔ دن میںرات کو داخل کردیتے ہیں۔ رات کودن میں داخل کردیتے ہیں۔اس کا مطلب کیا ہوا اس کا مطلب یہی ہواکہ رات اور دن دونوں کسی ایک بیس پر کسی ایک بساط پر قائم ہیں اصل جو بنیاد ہے اصل جو بحث ہے اصل جو بساط ہے وہ رات دن نہیں ہیں رات دن جس کے اوپر سے ادھیڑتے جارہے ہیں وہ اصل ہے۔

 کیوں بھئی سمجھ میں آگئی یا نہیں اور مثالیں دوں تو رات اور دن جو ہیں یہ طے ہو گیا۔رات اور دن اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق، قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق، رسول اللہ حاضری کے مطابق رات بھی ایک حواس ہے اور دن بھی ایک حواس ہے اور اس کی مثال آپ نے سمجھ ہی لی بیداری اور سونا ان اللہ تعالیٰ یہ بیان کر رہے ہیں کہ رات اور دن کے جو حواس ہیں ان کی جو تفصیل ہے۔اس کا کیا فارمولا ہے کہاں بن رہی ہے۔اب آپ یہ بتائیں کہ میں بیٹھا ہوا ہوں باتیں کر رہا ہوں میرے اندر کوئی ایسی ایجنسی ہے کہ جس کے اندر دن داخل ہو جاتا ہے تو رات نکل آتی ہے۔رات داخل ہو جائے تو دن نکل آتا ہے۔کوئی ایسی ایجنسی ہے جس کے اوپر سے رات کو ادھیڑ دیتے ہیں تو دن نکل آتا ہے۔دن کو ادھیڑ لیتے ہیں تو رات نظر آتی ہے اگر یہ ایجنسی گوشت پوست کی ہے اگر وہ حصہ جہاں سے ان حواس کو ادھڑا جا رہا ہے دماغ ہے،بھیجہ ہے، دل ہے تو تجربہ یہ ہے کہ میں مرجاتا ہوں تو نہ میرے اندر رات داخل ہوتی ہے نہ دن داخل ہو تاہے۔

 جب میں مر جاتا ہوں ایک dade body میری پڑی ہوئی ہے۔اب اس کے اوپر سے نہ رات گزر رہی ہے نہ دن گزار رہا ہے۔اب اس کے اندر نہ رات داخل ہوتی ہے نہ دن داخل ہورہا ہے۔ اب اس کے لئے غیب کوئی چیز ہے نہ بیداری ہے۔تو اس کا مطلب یہ ہو گیاکہ گوشت پوست کو جسم یا مادیت یا میٹر وہ حصہ نہیں ہے اس کی رات اور دن حیثیت ہیں اگر حیثیت ہے تومرنے کے بعد جو مرنے کے بعد جوdade body اس کو سونا بھی چاہئے۔ اس کو بیدار بھی ہو نا چاہئے۔ حواس کی جو درجہ بندی ہے حواس کی وجہ سے جو احساسات پیدا ہوتے ہے وہdade body میں بھی ہونا چاہئے ابdade body پڑی ہوئی ہے آپ نے دیکھا ہی ہو گا وہ ڈاکٹر لوگ کیا کرتے ہیں پوسٹ ماٹم کر تے ہیں سر کو بھی کھولتے ہیں،پیٹ بھی کھول لیتے ہیںیعنی جو بھی طریقہ ان کا پوسٹ ماٹم کا ہے بہرحال وہ جسم کو اکھیڑ دیتے ہیں الگ الگ دل الگ نکال لیتے ہیں،گردے الگ نکال لیتے ہیںاس پوسٹ ماٹم کے وقت یا کبھی کسی جسم نے کوئی مزاحمت کی،کوئی تکلیف کا اظہار کیا،کوئی سسکاری بھری،جب تک dade body نہیں ہے آپ کے پیر میں کوئی سوئی چبھو دے دماغ،پیر میں کوئی گدگوی اٹھاتا ہے پورے جسم میں ایک کرنٹ سا دوڑنے لگتا ہے اب مری ہو ئے dade body کا آپ پیر کاٹ کر الگ کر دیں کوئی تکلیف نہیں ہو گی کوئی مزاحمت ہی نہیں ہو گی۔

اس کا مطلب ظاہر ہے اس کے علاوہ ہم کچھ کہہ ہی نہیں سکتے۔ہمارے پاس کوئی چارا ہی نہیں ہے۔ تو مادیت جو ہے وہ محض میڈیم کے کچھ نہیں ہے۔مادیت کوئی ذاتی انرجی نہیںرکھتا۔ مادیت میں کوئی ذاتی فلم نہیں ہے اور مادیت کے اندر نہ سوچنے کی صلاحیت ہے، مادیت کے اندر نہ دیکھنے کی صلاحیت ہے،مادیت کے اندر نہ سونگھنے کی صلاحیت ہے۔اور اگر مادیت کے اندر صلاحیت ہے تو ہم تسلیم کرتے ہیں۔تو پھر ہمیں تاریخ انسانی میں کم ازکم ایک دو مثال تو ضرور پیش کر نا ہو گی۔کہ کسی مردہ آدمی نے سویا ہے،کسی مردہ آدمی نے کھا یا ہے، کسی مردہ آدمی نے محسوس کیا اور کوئی مردہ آدمی اٹھ کر بیٹھ گیا ہو۔اب مادہ جب ذاتی طور پر سنتا ہے نہ دیکھتا ہے، نہ محسوس کرتا ہے، نہ سوتا ہے نہ جاگتا ہے اس تسلیم کر نا جو ہے کہ کوئی ایجنسی ایسی ہے جو مادے کو حرکت دے رہی ہے،مادے کو سولا رہی ہے اور مادے کو اس میں اپنا میڈیم بنا رکھا ہے۔

وہ چیز کیا ہے سیدھی سی بات ہے وہ چیز روح ہے۔روح جب تک جسم انسانی میں،درخت کے جسم میں،کبوتر کے جسم میں،بھینس کے جسم میں،پہاڑ کے جسم میں،زمین کے ذرات میںموجود ہے، حرکت ہے، زندگی ہے،حواس ہے اب جب روح اس ذرے سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے۔نہ حرکت ہے،نہ زندگی ہے،نہ حواس ہے۔اب یہ رات اور دن کا جو ادھیڑنا ہوا رات میں دن کو داخل ہو نا۔ دن میںرات داخل ہونا یہ سب کا سب روح کے اندر ہے۔جب روحانی آدمی اس بات سے واقف ہو جاتا ہے تو مادیت ایک فیشن اور مفروضہ جسم کے علاوہ کوئی حیثیت نہیںرکھتا تو اس کے ذہن میں یہ بات آجاتی ہے دراصل یہ رات دن کا داخل ہو نا رات میں سے دن کا نکلنا دن میں سے رات کا نکلنا یہ ساری کاریگری روح کے اندر ہے۔روح کے اندر دن کا نکلنا۔ روح کے اندررات کا داخل ہو جانا گم ہوجانا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ روح انسانی جسم کو رات اور دن کے حواس کی اطلاع فراہم کرتی ہے۔

جب روح یہ کہتی ہے اب دن ہے تو انسان دن دیکھتا ہے۔اور دن کے حواس میں جو پابندی ہے اسے محسوس کرتا ہے اورروح جب ہمیں یہ اطلاع فراہم کرتی ہے کہ یہ رات ہے تو انسانی جسم کے اور رات کے حواس کی تمام کیفیات اب خود پیو ست کرتی ہے۔اب وہ کیا ہے؟ کیا ذات ہے؟۔روح ایک تو وہ روح ہے جو ہماری زندگی ہے لیکن روح قرآن پاک میں اللہ تعا لیٰ نے حضرت جبرائیل ؑ کو بھی کہا ہے…تنزل الملائکتہ والروح… کہ اس رات میں فرشتے اور جبرائیل ؑ زمین پر اترتے ہیں اور اس رات میں جتنے فرشتے اور جبرائیل ؑ زمین پر اترتے ہیںاس کو اللہ تعالیٰ نے لیلتہ القدر کہا ہے اب لیلتہ القدر کیا چیز ہے …لیلتہ القدرخیر من الف شھر…یہ لیلتہ القدر کی تعریف یہ ہے کہ ایک انسان ایک رات میںجنت کے حواس استعمال کرتا ہے لیلتہ القدر میںاس انسان کے اندر وہ ایک ہزار مہینوں کے برابر حواس کی رفتار ہو جاتی ہے۔خیر المن…ایک مہینے ایک مہینہ ہوا دراس معنی خیر المن…کہ لیلتہ القدرمیں جو حواس کی رفتار ہے و ہ ایک ہزار مہینوں سے زیادہ ہے۔

 اب ایک ہزار مہینوں سیدھی سی بات ہے ایک ہزار مہینہ میں تیس ہزار راتیں ہو نگی،تیس ہزاردن ہو نگے۔جب تیس اور تیس ساٹھ یہ لیلتہ القدرایک ایسا فارمولا ہے قدرت نے ایک ایسا سسٹم بنا دیا ہے۔کہ اگر یہ انسان کے اندرحواس کی رفتار تیز ہو جائے اور کوئی انسان لیلتہ القدر میں داخل ہو جائے۔تو وہاں صورت یہ ہو گی کہ عام رفتار جو ایک گناہ ہے وہ ساٹھ ہزار گناہ ہو گی۔یعنی اگر آپ ایک میل دیکھ لیں تو آپ کی دیکھنے کی رفتار ساٹھ میل ہو گی۔یا ساٹھ ہزار میل دوردیکھتے ہیں۔ اگر آپ ایک گھنٹے میں تین میل سفر کرتے ہیں آہستہ آہستہ 18= 3×6 کتنے ہو گئے جی …؟ایک لاکھ ۸۰ ہزار میل چلیں گے اگر آپ لیلتہ القدر کے حواس سے واقفیت حاصل کرلیں تو لیلتہ القدر وہ فضلیت ہے وہ فضلیت یہ ہے کہ فرشتے اترتے ہیں حضرت جبرائیل اترتے ہیںاور رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے مطابق ان لوگوں نے جن لوگوں نے طاق راتوں میں جاگ کر عبادت کرکے،دن کے حواس کی نفی کر کے،اعتکاف میں بیٹھ کر لیلتہ القدر کے حواس کی رفتار اپنے اندر داخل کر لی اب بندوں کو حضرت جبرائیل ؑ نظر بھی آتے ہیں اور ان سے مصافحہ بھی کرتے ہیں۔

انسان کی جو زندگی ہے لائف ہے کچھ سمجھ میں آرہا ہے۔ میں آپ کو سمجھانے کے لئے بار بار کہہ رہا ہوں انسان کی زندگی میں رات کے حواس اور دن کے حواس جو ہے وہ لازم ہو تے ہیں۔کوئی چیز، کوئی مخلوق،کوئی ذرہ ایسا نہیں ہے جو رات اور دن کے حواس سے آزاد ہو۔انسان جب دن کے حواس میں ہوتا ہے۔تو رات کے حواس نہیں ہوتے اور رات کے حواس ذریعہ ہیں غیب دیکھا نے کااور رات کے حواس ذریعہ ہیں غیب میں داخل ہو نے کا،ر ات کے حواس ذریعہ ہیںحضرت جبرائیل ؑ سے مصافحہ کرنے کا،تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت عطا کی ہے اگروہ بیداری کے حواس میں ہوتا ہے تو قیدو بند میں جکڑا ہو ا ہوتا ہے۔لیکن جب وہ دن کے حواس سے نکل کر رات کے حواس میں داخل ہوتا ہے تو قیدو بند کے حواس سے آزاد ہو جا تا ہے اور اس کی رفتا ساٹھ ہزار گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔ رسول اللہ معراج شریف میں تشریف لے گئے سب کو پتا ہے مسجد اقدس میں انبیاء علیہ السلام ان کی اتباع میں نماز پڑی۔

سب کو پتا ہے کہ آسمانوں میں تشریف لے گئے۔جنت، دوزخ،آسمان، عرش، فرشتے سب کا حضور نے مشاہدہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل ہوئی، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںکہ ’’ ہم نے اپنے بندے سے اتنی قربت کی کہ دو کمانوں کا فاصلہ رہے گیا یا اس سے بھی کم‘‘، ’’اور ہم نے اپنے بندے سے رازنیاز کیا یعنی ہم نے اپنے بندے سے ایسی باتیں کیں جو کسی سے نہیںکیں۔رازو نیاز‘‘، ’’ہم نے اپنے بندے سے جو راز و نیاز کی باتیںکیں۔ایسا بھی نہیں کہ خواب دیکھ لیا حقیقت ہے‘‘ یعنی حضور پاک کے دل نے جو دیکھا جھوٹ نہیں دیکھا میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں میرے محبوب بندے نے جو کچھ مجھ سے باتیں کیں وہ مجھ سے ہی ہیں۔لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ہے کہ جب حضور پاک تشریف لائے، جس طرح بستر مبارک گرم تھا، کنڈی ہل رہی تھی۔

اب لو گ کہتے ہیں صاحب یہ تو بات سمجھ میں نہیں آتی کہ ہزاروں سالوں کا سفر حضور کر آئے بستر بھی گرم ہے کنڈی بھی ہل رہی ہے تو اگر مجھ سے یہ سوال کیا جائے تو بھئی تم خواب دیکھتے ہو میلوں میل سنکیڑوں میل،ہزاروں میل ایک آدمی اپنے آپ کو دیکھ رہا ہے کہ میں پہاڑی پر کھڑا ہوا ہوں یہاں پر پیر میں مچھر نے کاٹ لیا وہ وہاں سے واپس آگیا وہ واپس آجاتا ہے میلوں میل یہ سفر کیسے ہو گیا اگر آپ کہے کہ خواب کوئی حقیقت نہیں ہے تو اصل بات یہ ہے کہ حقیقت ہی خواب ہے اس لئے کہ ہم جب اسے رات کے حواس قرار دیتے ہیں تو رات کے حواس تو غیب کی دنیا میں داخل ہو نے میں آتے ہیں۔ہم جب پیدا ہو ئے تو ہماری اصل کہاں ہے دنیا میںہے یا غیب میں ہے۔کہاں ہے ہم جب مر گئے ہم کہاں گئے دنیا میں رہے یا غیب میں رہے۔ہم جب پیدا ہو ئے تو ایک سال کے ہو کر دو سال کے ہوئے تو وہ ایک سال ہمارا کدھر گیا ہم ابھی دس سال کے ہیں پندرہ سال کا ہو نا ابھی باقی ہے۔

یہ تین سال کہاں ہیں؟کہاں ہیں بھئی تین سال …؟تو جو غیب کی بات ہے غیب کے علاوہ تو کائنات کا وجود ہی نہیںاور یہ غیب سارا کا سارا کائنات ہے۔رمضان المبارک کا مہینہ اللہ تعالیٰ نے اس لئے بنا یا۔ اچھا جو روزہ ہے وہ کوئی بھی مذہب ایسا نہیں ہے جس میں روزہ نہ ہو۔ہر مذہب میں روزہ ضرور ہے یہ الگ بات ہے کہ کس طرح ہے بعد میں لو گوں نے گڑبڑ بھی کر دی۔ لیکن ہر مذہب میں روزہ ضرورہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام سے زمانے سے لیکر سیدنا حضور علیہ الصلوۃ والسلا م تک ہر مذہب میں آپ کو روزہ ضرور ملے گا۔اب روزے کے بارے میں جب ہم غورو فکر کرتے ہے تو ایک ہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ روزہ دراصل دن کے حواس سے نکل کر رات کے حواس میں داخل ہو نے کی جدوجہد اور کوشش کرنا ہے۔سوتا ہوا آدمی کھا نا نہیں کھا تا،سوتا ہوا آدمی پانی نہیں پیتا، سوتے ہو ئے آدمی کو برا نہیں لگتا،سویا ہو آدمی غصہ نہیں کرتا ہے وہ سحری میں آپ نے کھا لیا منہ بند کر لیا کیا یہ آپ رات کے حواس میںداخل نہیں ہو گئے۔

 سارے دن منہ سوکھ رہا ہے، ہو نٹ چٹخ رہے ہیں، زبان خشک ہو رہی ہے،حلق میں کانٹے پڑگئے پانی نہیںپی رہے یہ آپ عملی جدوجہد کر رہے ہیں اور رات میں جب سوتے ہو ئے ہیںتو ایسا ہوتا ہے۔تو روزے کا جتنا بھی پروگرام ہے اس کو ایک لفظ میںآپ بیان کر سکتے ہیںکہ روزہ دن کے حواس کو چھوڑ دے یا د ن کے حواس پر قابو پا لیا۔اب سب حلال چیز ہے آپ نہیں کھاتے، کوئی بھی حلال کام ہے جو روزے میں ممنوع ہے آپ نہیں کر تے وہی چیز آپ رات بھر خواب میں کر تے ہیں۔تو آپ کے اوپر نہ اس کی کوئی سزا ہے نہ جزا ہے۔صبح سے شام تک ایک ہی ذہن آدمی کا ہوتا ہے کہ میں اگر بھوکا ہو ں تو اللہ کے لئے،میں اگر پیاسا ہوں تو اللہ کے لئے،کوئی نہیں بھی دیکھتا ہے آپ کو آپ چپ چاپ جاکر پانی پی لیں۔آپ کمرے میں بیٹھ کر کنڈی لگا کر روٹی کھا لیں۔لیکن نہیں آپ کے ذہن میں ہے یہ میں نے سحری کھا نے کے بعد منہ بند کیااس لئے بند کیا کہ آدمی رات کے حواس میں نہیں کھاتا لہذا وہ دن کے حواس میں نہیں کھاتاتو جب پوری نوع انسانی میں سوتا ہوا آدمی پانی نہیں پیتااس لئے آدمی جو روزہ رکھتا ہے پانی نہیں پیتا۔

ایک دن پتا چلا کہ یہ روزہ دراصل دن کے حواس کو رد کرنے کاایک عمل ہے اور دن کے حواس کو رد کر کے رات کے حواس میں داخل ہو نے کے لئے ایک طریقہ ہے، اللہ کے لئے آپ سب لوگ کام کر رہے ہیں۔اللہ غیب کے علاوہ کیا ہے۔اللہ ہی تو غیب ہے یعنی ہر وہ آدمی جو روزہ رکھئے ہو ئے ہیں وہ مسلسل اس بات کی مشق کر رہا ہے کہ مجھے مسلسل غیب کے اندر داخل ہو نا ہے اور غیب کے اندر داخل ہو کر اللہ کو دیکھنا ہے۔اللہ کے لئے ہے نا، تیس روزے دراصل اس بات کی مشق تیس روزے اس بات کا پروگرام ہے۔ کہ انسان رات کے حواس جو غیب کی دنیا میںداخل ہو جاتے ہیں ان کو اپنے اوپر غٖالب اور دن کے حواس جن حواس میں انسان غیب کی دنیاکے دور ہو جاتا ہے۔چھوڑ دیتا ہے مسلسل تیس روزے رکھنے کے بعد انسان کے شعور میں انسان کے ان حواس میں،رات کے حواس میںاس میں انوارکا ذخیرہ ہو جاتا ہے اب اگر یہ رات کے حواس کو دن میں منتقل کر لیں یا رات کے حواس میں جو بیدار رہے بھئی رات کے حواس میں بیدار ہو نے کا مطلب یہی ہو ا نہ کہ آپ رات میں جو کچھ کر رہے ہیںدن میں کرنا چا رہے ہیںتو آپ کی ذہن کی رفتار ساٹھ ہزار گنا ہو جائے گی۔

 یہ رمضان المبارک کی رات جیسے کہا گیا ہے کہ طاق راتوں میں آپ جاگیں،عبادت کر یں،دن میں تو آپ ویسے ہی جاگ رہے ہیںبھوکے پیٹ نیند نہیں آتی شروع شروع میں نہیں آتی دو چار روزے میں لیکن آپ سحری افطا ر باقاعدہ ایک پروگرام کے تحت کریں بہت سارا پیٹ بھر لیںتو نیند نہیں آتی بھئی،تین چار دن ہی وہ نیند کا غلبہ رہتا ہے تو نیند کا غلبہ لگنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے دن کے حواس اتنے مجبور ہو جائے کہ آپ رات کا حواس کا دن کے حواس سے مقابلہ کریں۔یعنی رات کے حواس آپ کو سو لا نے کے لئے آپ اس میں سو تے نہیں ہیں جاگتے رہتے ہیں جاگنے کی حالت میں رات کے حواس تمام ہے۔طاق راتوں میں جب آپ رات کو جاگیں گے جب آپ رات کو جاگے گے تو جاگنے کی تو عادت آپ کو ویسے ہی پڑی ہوئی ہے۔ اب نہ کھا نے کی عادت بھی پڑ گئی۔مسلسل اللہ کی طرف آپ کا ذہن لگا رہا کہ اللہ کیلئے کھائیں اللہ کے لئے جاگیں تو اللہ کے لئے آپ کا وجود کا مطلب ہی گہرا ہو گیایعنی آپ ذہنی طور پر لاشعوری طور پر اللہ سے قریب ہو گئے۔

جب آپ طاق راتوں میں جاگتے ہیں تو راتوں کے حواس مغلوب ہو کر دن کے حواس کے اندر داخل ہو جاتے ہیںاور دن کے حواس رات کے حواس میں، اچھا دن کے حواس اور رات کے حواس مل جاتے ہیںتو آپ کی اسپیڈ ساٹھ ہزار گناہ ہو جاتی ہے۔اور آپ فرشتوں کو بھی دیکھتے ہیں اور حضرت جبرائیل علیہ السلام سے مصافحہ بھی کرتے ہیںاور نامعلوم کتنی غیب کی چیزیں ہیں۔لیلتہ القدر اس میں آپ جاگیں اور جب بھائیوں کو بہنوں کو اللہ تعالیٰ نے روزے رکھنے کی توفیق عطا کی ہے وہ ان انوار سے جو تیس روزے سے ان کے اندر انوار کا ذخیرہ ہو جاتا ہے اور فائدہ اٹھانے کا یہی طریقہ ہے کہ بیس روز کے بعد کم از کم سوئیں۔ روحانی سائنسدان تو یہ بھی کہتے ہیںکہ تین گھنٹے سے زیادہ سونا تو بیکار ہے چو بیس گھنٹے ہیں اللہ تعالیٰ تو فیق دے انسانوں کو ۲ گھنٹے ۴۵ منٹ سے ذیادہ مت سوئے۔۔اختتام

 

 

Topics