Topics
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
تلاوت
سورۃ القرآن…
رسول
اللہ ﷺ کی محفل میں اپنے ساتھیوں سے پہلے قر آن حکیم کے متعلق بات کرنا چاہتا
ہوں۔ اللہ تعالی نوع انسانی کوقرآن کے انوار تجلیات کے با رے میں متوجہ کرتا ہے
اور فرماتا ہے کہ اگر ہم قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو پہاڑ قرآن کی ہیبت اور
طاقت سے ریزہ ریزہ ہوجاتے اور یہ ایک قرآن کریم کی تجلیات سے پہاڑ واقف ہو جا تے
کہ یعنی ہم پہاڑوں کو قرآن پاک کو سمجھنے کا شعورعطا کردیتے تو پہاڑ اپنا وجود
ختم کر دیتے اور ایک بہت بڑی بات ہے۔ اس میں غور طلب بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس
کی طا قت کا بیان فرما تے ہیںکتنا یہ طا قت ور ہے قرآن ہے۔ چو دہ سو سال سے
مسلمان قرآن کوسینے سے بھی لگا یاہوا ہے۔قرآن کر یم کوسر پر بھی رکھا ہے قرآن
کر یم پڑھتا بھی ہے لیکن کہیں بھی قرآن کی طا قت کامظا ہرہ نظر نہیںآیا اللہ نے
جب فرمادیا قرآن اگر پہاڑ پر نازل ہوجا تا تو پہاڑاس کی تجلیات سے ریزہ ریزہ
ہوجاتا اور انسان چودہ سو سال سے قرآن پڑھ رہا ہے اس کے اندر کوئی تبدیلی ہی واقع
نہیں ہوتی تو ظاہر ہے انسان جو کچھ قرآن میں پڑھتا ہے اور برتا ؤ یہ ہے کہ قرآن کے اندر جو تجلیات اور انوار
ہیںاس کا انسان کو آتاپتا ہی نہیں ہے جانتا ہی نہیں ہے آپ معمولی سے تار میں کر
نٹ ہو تو آپ کے ہاتھ کو جھٹکا لگے گا۔
غور کر یں اور غور کر یں یہ وہ بجلی ہے وہ
انسانوں نے بنا ئی ہے اور یہ تذکرہ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اگر قرآن پہاڑوں
پر نا زل ہو جا تا تو پہاڑ ریت میں تبدیل ہو جا تا تو سوچنے کی بات یہ ہے جو چو دہ
سو سال سے قرآن پڑھ رہے ہیں وہ قرآن کے انوارو تجلیات سے ہم کیوں واقف نہیں ہیں۔
جیسے کہ ایک پہاڑ ہے۔ قرآن ہمارا ہے بھئی تم مسلمان کو قرآن کتاب عطا فرما ئی تو
جس قوم کے پاس اتنی بڑی طا قت ہو کہ اس طا قت کے مشا ہدے سے پہاڑ ریت میں تبدیل ہو
جا ئیں تو قوم غلام نہیں بن سکتی۔اب امریکہ جیسے غیر مسلم اقوام ہے ان کاعروج ہے
ان کے پاس پیسہ ہے ان کے پاس وہ ہتھیار ہے کہ ایک منٹ میں کئی کئی لاکھ آدمیوں کو
تبا ہ اور بر باد کر سکتے ہیںطا قت ہی ہے اس سے امریکہ کا ساری دنیا کا طا قت ور
ملک ہے۔ تو اس طا قت کی بنیاد پر آدمی ساری دنیا کو غلام بنایا ہوا ہے اور آپ کے
پاس اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی وہ طا قت ہے جو پہاڑوں کو ریت میں تبدیل کر دیتی ہے اس
کے باوجود ہمارے پاس طاقت ہے ہم غلام ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن تو آپ کے
پاس موجود ہے۔
لیکن
آپ قرآن سے انوارو تجلیات سے واقف نہیں ہیں۔قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ نے جو
حکمتیں بیان کی ہیں آپ ان سے واقف نہیں ہیں نہ کوئی آپ کو بتا تا ہے کہ قرآن
شریف میں آپ نے کتنی دفعہ یہ آیت پڑھی ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ پہاڑوں پر قرآن نا
زل کر دیتے تو پہاڑ ریت میں تبدیل ہو جاتے۔تو کیوںنہیں سوچتا مسلمان جب قرآن اتنی
بڑی طا قت ہے جیسے کہ بڑے بڑے پہاڑ میلو ں میل پہاڑ کو ریت میں تبدیل کرنے کا تو
یہ ہماری کتاب ہمیں بھی یہ حاصل ہے اور جب مسلمان ہماری اس طا قت سے قرآن کی حکمت
سے قرآن کی انوار سے قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ نے تجلیات سے واقف رہے مسلمان
حکمراں رہے اور ساری دنیا کی قومیں جو ہیں انہیں معلوم ہوتاہے ایسا تو نہیں ہے
مسلمان جیسے آج ایسا ہے تو ہمیشہ ہی ایسا تھا ایک زمانہ تھا آپ کے اسلاف کا
زمانہ تھا کہ وہ جو آج سائنسداں ہیں وہ تو کچھ بھی نہیں جا نتے تھے ہر چیز کے
محتاج تھے مسلمان کے اور آج صورت یہ ہے کہ وہ ہر چیز ان کے پاس ہے وہ مسلمانوں کے
پاس نہیں۔
اب
جتنی بھی سائنس پڑ ھا ئی جا رہی ہے ان کی جو علم کی درسگاہ ہیں تو وہ خود بھی کہتے
ہیں کہ تمام علوم ہم پور ے پو رے نے مسلمانوں سے حاصل کئے ہیں۔ وہ بالکل اپنی ذہنی
کا وش سے قرآنی حکمت کو تلاش کر تے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرما تے ہیں
ہم نے لو ہا نا زل کیااور اس میں انسانوں کے لئے لو ہے کی صلاحیت کو استعمال
سیکھو۔اور اس میں انسانوں کے لئے بے شمار فا ئدے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ
ہم نے لوہا نا زل کیا اور اس میں بے شمار فائدے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ اب
مسلمانوںنے لو ہے کے اندر قوت کو تلاش کیا لوہے کے مخفی قوت کو تلاش کیا لو ہے
مختلف طریقے سے لوہے کو مولڈ کیا اس کے نتیجے میں آپ دیکھیں کیا ہوا ریل کی پٹڑی
بنی،ریل بنی، چمٹابنا،توا بنا،چولھا بنا،جہاز بنے آپ کے لئے طرح طرح کے چیزیں
تخلیق ہوئی مثلاریڈیو،ٹی وی آپ کہے کہ ریڈیو ٹی وی میں لو ہا ہی نہیں ہے کیسے
نہیں ہے آپ ذرادیکھیں اس کے اندر سارا لو ہا بھرا ہو ا ہے۔
دو
سری یہ اگر پلاسٹک کی باڈی کسی چیز کی ہے تو پلا سٹک کی با ڈی کے لئے ڈا ئی تو لو
ہے کی بنتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں ہم نے لوہانا زل کیا اور اس میں انسان
کے لئے بہترین منا فع اور فائدے رکھ دئیے۔تاکہ انسان لوہے کی صنعت قائم کرکے
حکمرانی قائم کرکے پا نی کے جہاز میں لوہا کام کر رہا ہے،کشتی میں لو ہا کا م کر
رہا ہے،بیل گاڑی میں لو ہا کام کر رہا ہے،ٹانگے میں لو ہا کام کر رہا ہے،رکشہ میں
لو ہا کام کر رہا ہے، گا ڑی میں لو ہا کام کر رہا ہے،ہو ائی جہاز میں لو ہا کام کر
رہا ہے،ہیلی کوپٹر میں لو ہا کام کر رہا ہے لا سلکی نظام میں، ایٹم بم میں کون سی
ایسی ترقی ہے جس میں آپ کہے گے لوہایہاں کام نہیں کر رہا۔ لیکن قرآن ہمارا ہے
محمد رسو ل اللہ ﷺ بھی ہمارے ہیں۔ ہمیں ان کے امتی ہو نے کا دعویٰ بھی ہے۔ہم یہ
بھی کہتے ہیں مسلمانو ں کو لیکن فا ئدہ نہیں ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کاایک نظام ہے
جس سے ہم ہیںاللہ تعالیٰ رب المسلمین نہیں ہیںاللہ تعالیٰ رب العالمین ہے۔
اللہ تعالیٰ نے جو کچھ چیز پیدا کی کائنات میں
وہ مسلمانوں کے لئے تخصیص نہیں ہے وہ عالمین کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے اب
بھوک ہے کیا بھوک مسلمانوںکو ہی لگتی ہے۔ بھوک سے جس طرح ایک مسلمان فا ئدہ اٹھا
تا ہے اس طرح ایک کا فر بھی فا ئدہ اٹھا تا ہے اس طرح ایک مشرک بھی فا ئدہ اٹھا تا
ہے۔اور اسی طرح بھی فا ئدہ اٹھاتا ہے قرآن پاک قرآن پاک میں پورے عالمین کے لئے
نا زل ہوا ہے اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی بنا ئی ہوئی
تخلیق سے جو قوم فائدہ اٹھا نا چاہتی ہے وہ قوم فا ئدہ اٹھا ئے اللہ تعالیٰ نے فر
ما یا انا اللہ …عربی آیت …کہ جو قومیں خود اپنے اندر تبدیلی چاہتے ہیں ان کے
اندر تبدیلی ہوتی ہے جوقومیں اپنی تبدیلی نہیں چاہتی ان میں تبدیلی نہیں ہوتی یہ
اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے،ایک سسٹم ہے کہ جو قوم اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی
تخلیق سے فا ئدہ اٹھانا چا ہتی ہے وہ تخلیق سے فائدہ اٹھا لیتی ہے۔
مطلب
اب ایک سورج اللہ تعالیٰ نے بنایا اب ساری زمین پر سورج کی ضیاپا شی ہوتی ہے کہ
سورج کبھی اس بات سے انکا ر نہیں کرتا کہ یہ پتے ہیں یہ پھول ہیںیا یہ درخت ہیںیہ
نوع ہے یہ محل ہے یا یہ جھونپڑی ہے یہ ہندو ہے یہ مسلمان ہے یہ بت پر ست ہے پانی
ہے ہوا ہے آکسیجن ہے سورج سب کے لیے ایک جیسا ہے۔ یہاں صورت حال یہ ہے کہ اللہ
تعالیٰ کی تخلیق سے فا ئدہ اٹھا نے کے لئے تخلیق پر کبھی تفکرہی نہیں کرتے۔ اللہ
تعالیٰ کے محبوب کی امتی ہیں۔ لیکن ہم عجیب اور غریب اللہ تعالیٰ کی جو صنا عی ہے
اللہ تعالیٰ کی جو پھیلا ئی ہوئی نشا نیاں ہیں اسی رخ پر تفکرہی نہیں کیا۔ قرآن
ہمارا ہے نبی ہمارے ہیں۔تو لو ہے کے جو مصنوعات بن رہے ہیں جو ایجادات ہو رہی ہیں
وہ مسلمانوں سے ہو نی چا ہئے یا غیر مسلم سے۔ ایک چیز تو آپ کی ہے نا قرآن بھی
ہمارا ہے۔
رسول
اللہ ﷺ کی امانت ہے حضور پاک ﷺ بھی ہمارے ہیں اللہ بھی ہمارا ہے آپ یہ بتا ئیں جن
کا اللہ سے نا طہ ہو، اللہ سے رشتہ ہو، اللہ کے محبوب کے جو امتی ہیں، قرآن ان کے
پاس کتاب ہے، تسخیر کا ئنات کے فا رمولوں کی دستا ویز اور کتاب ہے، وہ قوم ذلیل و
خوار نہیں ہو سکتی توب یہ ذلیل و خوار کیوں ہے یہ ذلیل و خوار یوں ہے کہ ہم نے جو
اللہ تعالیٰ کے ارشادات ہیں اللہ تعالیٰ کے جو احکامات ہیںان پر کبھی غور نہیں کیا
کبھی تفکر نہیںکیا۔ جب تک غورو فکر نہیں کریں گے آپ دنیا میں کسی بھی چیز سے فا
ئدہ نہیں اٹھا سکتے۔آپ معمولی سے معمولی کوئی چیز لے آئیں کیا وہ غورو فکر کے
بغیر وہ چیز بن جائے گی۔ بنا ئیں کیا غو رو فکر کے بغیر بن سکتی ہے؟آپ مٹی کا ہا
تھی بنا ئیں کیا غو رو فکر کے بغیر ہاتھی کی شکل بن سکتی ہے؟تو یہ جب تک غو رو فکر
نہیں ہو گا عمل نہیں ہو گا کوئی چیز تخلیق اور ایجا د نہیں ہوتی۔
اللہ
تعالیٰ قرآن پاک میں فر ما تے ہیں اگر ہم قرآن کو پہاڑوں پر نا زل کر دیتے تو یہ
دنیا کے جتنے بھی پہاڑ ہیں سب ریت میں تبدیل ہو جاتے۔ اسکی کتنی طاقت ہے۔ اب
مسلمان کے پاس تو قرآن ہے۔اب مسلمان قرآن سے کیا فا ئدہ اٹھا رہا ہے، ہو نا تو
یہ چاہئے تھا جب اللہ تعالیٰ نے فرما یا قرآن میں اتنی طا قت ہے کہ پہاڑ بھی ریزہ
ریزہ ہو جا تے ہیں۔تو ہمیں قرآن کے اندر جو مخفی طا قت ہے اسے تلاش کر نا چا
ہئے۔ہم نے مخفی طاقت کی تلاش کے بجا ئے قرآن سے کیا کام لیا کہ گھر میں قرآن
شریف ہے رکھ دو جنا ت نہیں آئیں گے۔ہم نے قرآن سے کیا کام لیا کہ اس میں سے
وظائف پڑھو نو کری مل جا ئے گی آیتہ الکر سی کی میںمخالفت نہیں ہوں میں خود بھی
آیتہ الکرسی بتا تا ہوں۔میں تو جو مسلمانوںکی حالت راز ہے وہ بتا رہا ہوں۔مسلمان
ہی نہیں عیسائی،ہندو جو کا رو بار میں تر قی کر تے ہیں ان کی تر قی کا انحصار اس
بات پر ہے کہ وہ اپنا دماغ استعمال کرتے ہیں، فکر کر تے ہیں، محنت کر تے ہیں ہم نے
قرآن کو تر قی کا ذریعہ بنا لیا، کہ قرآن میں عزت وسلطنت بھی ہے۔
قرآن آپ کے لئے برکت کا ذریعہ بھی ہے،قرآن
آپ کے گھر کی حفا ظت کا بھی ذریعہ ہے قرآن میں بنیا دی بات تو یہ ہے کہ قرآن
میں وہ طا قت ہے جوپہاڑوں کو ریت میں تبدیل کرتی ہے۔اگر ہم قرآن پاک کو محض اس
لئے پڑھتے ہیں کہ ہمیں نو کر ی مل جا ئے تو مل جا تی ہے اگر ہم قرآن پاک کو اس
لئے پڑھتے ہیں کہ ہمارے کا رو بار میں بر کت ہو جا ئے تو قرآن تو طا قت کا خزانہ
ہے ہمارے پاس،وہ ہمیں برکت ہی دیتا ہے۔لیکن جب ہم قرآن کواس نقطہ نظر سے پڑھتے
ہیں کہ قرآ ن کے اندر پو ری کائنات کے تسخیری فا رمولے موجود ہیں،ہم ان تفسیری فا
رمولوں سے واقف ہو کر ایٹم بم بنا سکتے ہیں، ہائیڈوجن بنا سکتے ہیں،لو ہے سے بھی
کا م لے سکتے ہیں زمین سے بھی کام لے سکتے ہیں تو اس کے نتیجے میں کیا ہو گا اور
مسلمان قوم کے گھر میں خود بہ خود بر کت بھی آجائے گی۔ پو ری مسلمان قوم اس میںپا
بند بھی ہو جا ئے گی اور پوری مسلمان قوم کی جو ذلت خواری کے دن ختم ہوجائے ئنگے۔
اب آپ غور فرما ئیں کہ قرآن شریف میں پانچ
دفعہ الحمد اللہ پڑھتے ہیں قل اللہ شریف جو بھی اس کی صورت حال ہوتی ہے پڑھتے ہیں
لیکن کبھی ہم اس بات پر غور نہیں کر تے کہ یہ جو عشاء کی نماز میںسترہ رکعتیں ہیں،
سترہ رکعتیں میں کیا اثرات مرا تب ہو تے ہیں۔اب الحمد اللہ رب العالمین …سب
تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کو پیدا کرتا ہے اور عالمین پالتاہے پوستا
ہے اور عالمین کے لئے وسائل فرا ہم کرتا ہے۔پڑھتے ہیں؟ اب آپ بتا ئیے ہمارے اندر
کیا عقیدہ بن جا تا ہے اب فیکٹری میں کام نہیں کرتا وہ بے کا ر ہو جاتا ہے وہ کہتے
ہیں کہ اگر مالک ناراض ہو جائے اول تو بات یہ ہے کہ آپ کا مالک نا را ض ہو جا ئے
تو آپ سے توکیا؟ وہ کیا آپ کے لئے وسائل فرا ہم کر تے ہیں، بھئی آپ مسلمان کا
مالک تو اللہ ہے، آپ مالک کے نوکر بن جائیں اس کی خوشنو دی میں لگے ہو ئے ہیں آپ
ایمانداری سے کام نہ کریں۔
آپ امیر رشتہ دار سے توقع لگالیں کہ یہ میرے
کام آئے گا اب جتنا ایک امیر ایک غریب کے کام آتا ہے یہ آپ سب کو پتہ ہے۔، میرا
تو یہ تجر بہ ہو استر سال کا یہ ہے کہ امیر رشتہ دار کسی کے کام نہیں آتا، ہر
خاندان میں امیر غریب ہو تے ہیں اور غریب ہمیشہ کام آتا ہے لیکن دیکھنے میں یہ کہ
عزت بھی ہمیشہ امیر کی کرتا ہے غریب کو برابری کا بھی درجہ نہیں دیتا۔ آپ بتائیں
یہاں بیٹھے ہو ئے ہیں خاندان میں غریب بھی ہو تے ہیں امیر بھی ہوتے ہیں، پڑھے لکھے
بھی ہو تے ہیں، جا ہل بھی ہو تے ہیں اور اعلیٰ تعلیم یا فتہ بھی ہو تے ہیں بالکل
جاہل بھی ہوتے ہیں تو وہ کوئی خصوصیت نہیں ہے کسی خاندان کی۔ اب یہ ہے کہ کسی
خاندان میں زیادہ پڑھے لکھے نکلتے ہیں کسی میں کم مل جا ئیں گے ایسا نہیں ہو سکتا
ہر جگہ سب برابر ہو۔ مگر آ پ کا جو رویہ ہے اس دنیا میں رہتے ہو ئے اللہ کے ساتھ
کیا وہ دنیا دا ری کے حساب سے اللہ کی شان کے مطابق ہے۔
آپ غور کر یں اللہ وہ اللہ ہے جو ہر چیز آپ کے
پاس موجودہے اللہ کی ہے۔ اب یہ آ پ کے جسم میں خون دوڑ کر رہا ہے۔ آکسیجن کے
بغیر تو خون دور نہیں کرتا، دوران خون آپ کا بند ہو جا ئے ہسپتال میں آپ کو لیجا
کر ڈال دیں اور سلنڈر آپ کولگا دیں آکسیجن کا، تو آپ نے دیکھا ہو گا کس عذاب
میں آدمی ہوجا تا ہے سلنڈر لگنے سے، ایک عجیب مصیبت ہے، مگر کبھی اللہ تعالیٰ کا
شکر ادا نہیں کیا کہ بیٹھے بھی ہیں کھڑے بھی ہیں سو بھی رہے ہیں جا گ بھی رہے ہیں
کھیل بھی رہے ہیں کو د بھی رہے ہیں کا رو بار بھی کر رہے ہیں سانس آرہا ہے اور
پتا ہی نہیں ہے، سانس کہاں سے آرہا ہے کہاں جارہا ہے۔آکسیجن کسطرح خون کے اندر
شامل ہورہی ہیں۔ سانس آرہا ہے سانس جا رہا ہے آکسیجن کس طرح پورے جسم میں دماغ
کے اندر سے سر تک آتا ہے۔خون کو صاف کرتا ہے۔شریاںویددیں گردے وہا ں جناب پھر وہ
خون دھل رہاہے۔
کہ جسم کے اندر جتنی خون کے اندر کثافتیں ہیں
دھل رہی ہوتی ہیں گر دے میں دھل رہی ہیں آکسیجن تو سب کام کر رہا ہے۔ تو سانس کے
لئے باقاعدہ آپ ساری زندگی میں اگر آپ نے ڈھا ئی تین کرو ڑ سانس لیں، اتنے تو
لیتا ہوگا، ڈھائی تین کرو ڑ سانس تو آدمی لے لیتا ہو گا۔زیادہ ہی لیتا ہو گا آپ
نے اللہ کا زبانی بھی کبھی شکر ادا نہیں کیا۔ لینا دینا نہیں ہے یہ میں نے پہلے
بھی آپ کو بتا یا تھا یہ ہڈیاں اب ساری ہڈیاں بنا لی ہیں سائنسدانوںنے اسٹرکچر
بنایا اب خریدیں تو دو کرروڑ کی، دو کروڑ قیمت ہیں، لیکن جو اصل تخلیق ہے اس طرح کی
نہیں ہے۔اب گردوں کا آپریشن ہوتا ہے تین ساڑے تین لاکھ رو پے لئے جا تے ہیں۔اب
ساڑے تین لاکھ روپے تو آپ نے وہ خرچ کر دئیے۔ جوگردے ہیں اس کے بعد ہر مہینے آپ
دوا لازما ً کھائیے گردے کے آپریشن کے بعد، گر دے کا آپریشن ہو گا آپ پھر بھی
مریض رہے ہیں شادی وہ نہیں کر سکتے محنت مزدوری کے کام وہ نہیں کر سکتے،پتھر وہ
نہیں کاٹ سکتااور اسی ہزار رو پے کا یہ خرچہ ہے، جو گردے آپ کے اندر کام کر رہے
ہیں آپ کے خون کو خون کی کثافت کو زہریلے ما دوں کو پانی کے ذریعے خارج کر رہے
ہیں۔
آپ
کے جسمانی نظام میں آنکھ ہے اب آنکھ کے اند ر ہزاروں پر دے ہیں اگر وہ ہزارو ں
پر دے نہ ہوں آنکھ کے اندر، آپ دیکھ بھی نہیں سکتے اب اندھے آدمی کو کھڑا کر دو
اور اپنے آپ کو کھڑا کر دیجئے اس کے ساتھ اب پھر بتائیں آپ میں اور اندھے آدمی
میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان آنکھوںکے لئے اللہ تعالیٰ آنکھیں،ناک ہے، کان ہے،منہ
ہے۔ اگر پیشاب بند ہو جائے، میرے ابا جی نے مجھے ایک واقعہ سنایا کہ ایک با دشا ہ
تھا اس کو تکلیف بہت ہوئی بڑی آزمائشیں ہوئیںپیشاب بند ہو گیا بڑے علاج ہو ئے، جب
علاج سے فائدہ نہیں ہوا تو وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی دنیا میںہر طرف سے ناکام ہو جا
تا ہے تو اسے اللہ یاد آتا ہے جب تک دنیا ناکام نہیں ہوتی، اللہ یاد نہیں آتا۔
جب تو وہ پیسے یا د آتے ہیں تو جتنے پیسے آپ کی جیب میں ہیںاسی حساب سے ڈاکٹر
بھی یاد آتا ہے۔
بڑی
سے بڑی چیز حالانکہ ڈاکٹر وہ سارے پڑھے ہوئے ہو تے ہیں تو پتا چلا کہ ایک جنگل
میںوہ صاحب رہتے ہیں وہاںلوگ بھی جا تے ہیں رو حانی علاج کر تے ہیں اللہ تعالیٰ
شفا ء بھی دیتا ہے تو با دشاہ نے کہا انہیں بلا کر لاؤ تو جب با دشاہ کے کاررندے
انہیں بلانے گئے تو انہوں نے کہا بھئی بات یہ ہے کہ میں بادشاہ کے کسی کام کا نہیں
ہو ں، با دشاہ کے پاس میرا کوئی کام نہیں ہے بھئی با دشاہ کے پاس میں اس لئے جا ؤ
ں کہ بھئی میرا کوئی کام ہویہ مجھے تو با دشاہ میں کوئی غرض ہے ہی نہیں فقیر آدمی
بھئی میں با دشاہ کے کسی کام آسکتا ہوںتو بادشاہ خود یہاں کیوں نہیں آتا۔ تو بات
مختصریہ تھی کہ با دشاہ خود پہنچ گیا۔ تکلیف میں سب کچھ ہو جا تا ہے سب کچھ یاد
آجا تے ہیں یہ غرور تکبر بڑا ئی سب ختم ہو جا تی ہے اگر آدمی پھنس جا تا ہے تویہ
غرور تکبربھی ادھرہی ہے جب تک اللہ چا ہے۔
تو وہ فقیر نے کہا بھئی ٹھیک ہے علاج تو ہو جائے
گا لیکن کوئی چیز دینی ہوگی، بادشاہ کا علاج ہے کی بات کوئی نہیں ٹھیک ہے آدھی
سلطنت دے دو، تو با دشاہ نے کہا جلدی لاؤ
کا غذجلدی لا ؤ بھئی کہاں ہو، جلدی
سے لکھ کر وہ جناب بادشاہ نے لکھ کر دے دیا، تو اس فقیر نے وہ کوئی تعویز دیا
پیشاب کھل گیا بڑے شادیانے بجے بڑی خوشیاں ہوئیں چرا غاں ہو گیا پو رے شہر میں با
دشاہ کو صحت ہو گئی با دشاہ کو صحت ہو گئی۔مگر اب صورت الٹ گئی ہے پیشاب رک نہیں
رہا ہے اب وہ پیاس بھی لگ رہی ہے پیشاب بھی آرہا ہے پیاس بھی لگ رہی ہے پیشاب بھی
آرہا ہے کیا کر یں؟، کیا کر یں؟
اب جتنے شہر میں جنا ب کپڑوں والوں کی دکانیں
تھی پو رے کے پو رے تھان سارے بھیگ گئے،پیشاب نہیں روکا ادھر پیاس لگے ادھر پیشا ب
آئے، کئی علاج کر وایا لیکن کوئی فا ئدہ نہیں ہو ا پھر اس فقیر کے پاس پہنچ گئے
فقیر نے کہا بھئی آدھی اورلکھ دوٹھک ہو جا ؤ
گے دعا کریں گے اللہ میاں سے، اس نے آدھی بھی لکھ دی اب پھر محل میں آگیا
صحت مند ہو گیا جب پو ری طرح صحت مند ہو گیا تو وہ تو زمانے بھی اچھے تھے آج کل
کوئی با دشاہ ہوتا وہ تو بے ایمان ہی ہو جاتا وہ با دشاہ نے جناب پھر پہنچا اپنے
سر سے تاج اتار کر ان کے قدموں میںرکھ دیا اور تلوار پیش کی کہ حضور اب تو آپ ہی
با دشاہ ہیں یہ تاج آپ کے قدموں میں ہے اور تلوار میں اس لئے لیکر آیا ہوں میں
آپ کا سپا ہی ہو جو آپ حکم کر یں گے اب میں حاضر ہوں۔
تو فقیر نے یہ دیکھا اور دیکھ کر ہنسے، فقیر نے
اس نے کہا بیوقوف آدمی ہمیں اس سلطنت کا کیا فا ئدہ ہم تو تجھے یہ بتا رہے تھے کہ
تیری سلطنت کی قیمت پیشاب سے بڑھ کربھی نہیںصرف،اگر غرور کر رہا ہے کہ میں بادشاہ
ہوںاس کو بند کر وا دو، اس کو مار دو، اس کو قتل کر وا دو، اس کو پکڑ لو، اس کو یہ
کردو تیری حیثیت پیشاب جتنی بھی نہیں ہے اور اپنا تاج بھی اٹھا اور اپنی یہ کیا
کہتے ہیں یہ جو تیرا معاہدہ ہے یہ بھی لیجا اور اس طرح کر انسان بن کے رہے، آدم
بن کے اللہ نے تجھے عزت دی تو بھی اپنے عوام کو عزت دے، اللہ نے تجھے آرام دیا تو
بھی اپنی عوام کو آرام دے۔ہم سب بیٹھے ہو ئے ہیں اب دیکھئے ہمارے اندر میں سے کسی
کا بھی پیشاب بند ہو جا ئے۔ کیا ہم اپنا گھر با ر جا ئیداد نہیں دے دینگے۔یہ پیدا
ہو نے سے ستر اسی سال کا رو زانہ پیشاب کر تے ہیں۔ بغیر تکلیف کے کتنے مرتبہ اللہ
کا شکرکر تے ہیں آپ، کبھی آپ نے یہ سو چا کہ وہ کتنا بڑا ما لک اور قادر اللہ ہے
جو ہمیں پیاس بھی لگا رہا ہے اور جسمانی نظام کی صفا ئی کے لئے اس نے پانی کے نکاس
کا بھی انتظام کر دیا ہے آپ روز سوتے ہیں اب اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فر ما تے
ہیں کہ ہم تمہیں رو ز ما ر دیتے ہیں رو ز زندہ کر دیتے ہیں۔
وہ
بڑے بوڑو ں سے آپ نے سنا ہو گا سویا مرا برابر آپ سو گئے مرہی گئے نا، اس دنیا
سے تو کوئی آپ کانا طہ رشتہ کچھ بھی نہیں رہا کسی کوکچھ پتا ہی نہیں ہے ہو کیا
رہا ہے لیکن صبح کو پھر آپ زندہ ہو کر بیٹھ جا تے ہیں تو اب اس رو ز مرنے کے بعد
زندہ ہو نے کا آپ نے کتنی دفعہ اللہ کا شکر ادا کیا ہے شکر تو آپ جب کر یں گے جب
اللہ کی طرف آپ کی توجہ ہو گئی۔شکر تو آدمی اس وقت کرے گا جب اللہ تعالیٰ کی دی
ہوئی نعمتوں کو یاد کر ے گا اس پر غورو فکرکرے گا قرآن پڑھے گا۔ تو کس لئے پڑھے
گا اس میں اللہ نے کیا فرمایا ہے یہ کتاب کیوں نازل ہوئی۔ نوع انسانی کی فلاح کے
لئے اس کتاب میں کیا ہے؟ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے کتنی اذیتیں تکلیفیں
بردا شت کر کے یہ کتاب امت مسلمہ میں کیوں چھوڑی؟۔کیوں اس بات کا حکم ہے کہ قرآن
میں تفکر کرو؟ غور کرو، اگر آپ قرآن کے اوپر تفکر نہیں کریں۔
اللہ پر بھی تفکر نہیں کر یں گے۔ قرآن میں تفکر
نہیں ہو گا تو سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی با توں پر بھی عمل نہیں ہو گا۔
حضور پاک نے خود فرمایا کہ میں اپنی دو با ت چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک اللہ کی کتاب
اور ایک اپنے وارث اولاد کہے لیجئے یا اہل بیت کہے لیجئے یاوہ علماء کہے لیجئے جن
کو علم حاصل ہوا، اب قرآ ن میں آپ جب غو رو فکر کر تے ہیں تو میں نے ایک دفعہ
قرآن میں غورو فکر کیا تھاابھی بھی کرتا رہتا ہوں، پو را سال کرتا ہو ں ْحضرت
عزیر کا قصہ آپ پڑھ لیجئے ایک گدھا تھا ان کے پا س ایک بستی پر سے گزرے تو دیکھا
کہ اتنی بڑی بستی ہے اتنی بڑی آبا دی ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کہا، کہ اللہ
تعالیٰ آپ یہ کہتے ہیں کہ یہ مرنے کے بعد ہم دو با رہ تمہیں اٹھا ئیں گے جسم کے
ساتھ دوبارہ آدمی اٹھ جا ئیں گے کیسے اٹھ جائیں گے۔
ایک
گدھا تھا ان کے پاس ایک ناشتہ دان تھا جس میں کھا نا رکھا تھا تھوڑی دیر کے لئے
لیکر سو گئے جب اٹھے تو دیکھاکہ گدھا مرا ہوا ہے اورگدھے کی جو ہڈیاں ہیں وہ راکھ
میں تبدیل ہو گئیں مٹی ہو گئی، بعد میں کھا نے کی خواہش ہوئی تو ناشتہ دان کھولا
تو کھا نا اس میں نہ سڑا، نہ خراب ہوا، تو وہ حیران ہو ئے کہ گدھا تو مر گیا اور
اس کی ہڈیاں بھی راکھ بن گئی اور یہ توکئی سو بر سوں گزر گئے۔تو اللہ تعالیٰ نے
فرمایا یہ جو تیرے ذہن میں خیال آرہے تھے نا، کیسے دوبا رہ زندہ کرے گا تجھے تو
سوئے ہو ئے سو سال گزر گئے۔ تو یہ نہ سمجھ میں چند گھنٹے چند منٹ سو یا ہوں تجھے
سو ئے ہو ئے سو سال گزر گئے۔تم سو سال کے بعداٹھے ہو اب یہ ہڈیاں سب سے دیر میں
راکھ ہوتی ہیں جسم کی، کھا نا صحیح تھا۔ قرآن میں اگر ہم تفکر کر یں تو آج کل
سائنس کی ٹائم اسپیس ٹائم کو کم کر یں۔سائنس کی ترقی کی بنیا د ہی یہ ہے کہ کس طرح
ٹائم کوکم کر دیا جائے۔
حضرت
سلیمان علیہ السلام کا قصہ آپ دیکھ لیں تو وہاں انہوں نے کہا ہے کوئی جو تخت لے
آئے تو حضرت سلیمان کی تو حکومت پر ندوں پر بھی تھی پیڑوں پر بھی تھی ہوا پر بھی
تھی جنات پر بھی تھی دربار سب ہی تو تھے تو ایک جن نے کہا، دربار میں بیٹھے ہوئے
ایک جن نے کہا اس سے پہلے کہ آپ دربا رپر بر خواست کر یںمیں اس کاتخت لے آونگا
دربار میں۔ آدمی بھی انسان بھی بیٹھا ہوا تھا، اس سے پہلے کے آپ کی پلک جھپکے
میں یہ تخت یہاں لے آیا۔پلک جھپک کے آنکھ کے بعد کھلی تو بلقیس کا تخت 28 سو میل
سے ان کے دربار میں موجود تھا۔ تقریباً 28 سو میل تخت رکھا ہوا تھا پلک جھپکنے میں
کتنا وقت ہوتا ہے بھئی آپ اس کو آن بھی نہیں کہے سکتے لمحہ بھی نہیں کہے سکتے
کیا کہے گے اسے پلک جھپکتے ہی میرے خیال ہے ایک سیکنڈ میں سو دفعہ پلک جھپک جا تی
ہے۔قرآن میں سارے فا رمولے موجود ہیں، سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کا معراج
شریف میں جا نا اب بتا ئیے جی یہاں سے کہتے ہیں سورج کا فاصلہ نو کروڑ میل ہے اب
سورج، پہلا آسمان، دو سرا آسمان، تیسرا، چو تھا، پا نچواں چھٹا، ساتواں، عرش،
کرسی، بیت المعمور۔
سدرہ المنتٰی،حجاب محمود، حجاب کبریا، حجاب عظمت
ہیں۔ یہ 72 کروڑ میل حضور تشریف لے گئے نماز بھی پڑھائی انبیا ء علیہ الصلوٰ ۃ
والسلام کو بیت المقدس میں، ایک ایک آسمان کی سیر بھی کی، جنت بھی دیکھی، دو زخ
کا بھی معائنہ کیا۔ فرشتے سے ہم کلام ہوئے، حضرت ابرا ہیم علیہ السلام سے ملاقات
ہوئی،حضرت آدم علیہ السلام سے بھی ہوئی، حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ہوئی اللہ
تعالیٰ سے راز و نیاز بھی ہوا اور واپس آئے تو کنڈی ہل رہی تھی جس طرح بسترمبارک
گرم تھا کیا یہ ٹائم لیس کا فارمولا نہیں ہے۔ اب اس کے علاوہ مسلمان کو کوئی کام
ہی نہیں ہے کہ پیسہ کہاں سے آئے، کھا نا کہاں سے کھا ؤ ں گاجب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا اللہ
…عربی آیت…کہ ہم رزق بغیر حساب کے دیتے ہیں، محنت مزدوری سے رزق کا کوئی تعلق ہی
نہیں ہے۔اگر محنت مزدوریوں سے،فیکٹریوں سے کا رو باروں سے بازاروں سے بڑے بڑے شا
پنگ سینٹر سے اس رزق کا تعلق ہوتا تو سارے پرندے بھو کے مر جا تے، سارے چو پا ئے
بھو کے مر جا تے۔
یہ چو پائے ہیں یہ کون سی انہوں نے دوکانیں
کھولی ہوئی ہیں یہ پر ندے ہیں کو ن سی انہوں نے دوکا نیں کھولی ہوئی ہیں۔کون سی
فیکٹریاں لگا ئی ہوئی ہیں اگر آپ غور کر یں تو مسلمان کو ڈوب مر نا چا ہئے پا نی
میںکہ یہ پر ندوں سے اور چوپا ئے سے بھی سے گیا گزرا ہے۔ کیا ہم سے اچھا کتا نہیں
ہے رزق کے معاملے میں کیا وہ روٹی نہیں کھا تا،شا دی نہیں کرتا،اس کے بچے نہیں
ہوتے، کتے کے بچے اپنی ماں کا دودھ نہیں پیتے،کتے کے بچے جوان نہیں ہوتے کو ن سی
وہ دو کا نیں کھو لی ہیں کون سے انہوں نے کارخانے کھولے ہیں …انا للہ یرزق
یشابغیرحساب …اللہ ہر مخلوق کو رزق عطا کرتا ہے اب یہ چہل پہل محنت مزدوری یہ اس
لئے ہے کہ انسانی مشین بھی زنگ آلو د نہ ہوجا ئے۔انسان آپاہج نہ ہو جائے معذور
نہ ہو جائے اس کے گھٹنے دب نہ جا ئیں۔.آپ دیکھیں پرندے صبح سے بیدار ہو تے ہیں
سارے دن اِدھر سے اُدھر … اُدھر سے اِدھر…اِدھر سے اُدھر اتنی سے چڑیا ہوتی ہے آپ
نے نہیں دیکھا اس کو اتنی اتنی حر کتیں کیا وہ سارے دن رزق کی تلاش میں حرکت کرتی
رہتی ہے اس کا تو پیٹ بھی اتنا سا دس با رہ دانے کھائے اس کا پیٹ بھر گیا۔
کا
ئنات میں ہر چیز متحرک ہے، حرکت اگر نہیں ہو گی تو کا ئنات میں جمود آجا ئے گا،
ٹھہراؤ ساکت ہو جائے گی رو ک جا ئے گی ٹھہر جا ئے گی۔نہ یہاں گھر بنے گا نہ یہاں
گا ڑی بنے گی نہ یہاں شادی ہو گی نہ یہاں بچے ہو ں گے نہ یہاںتعلیم ہو گی سب حر کت
سے ہے۔تو آپ یہ سمجھ لیںآپ محنت مزدوری کر رہے ہیں اس لئے آپ کو رزق ملا ہے اگر
محنت مزدوری کے بعد اگر آپ کو رزق مل رہا ہے تو اماں کے پیٹ میں نو مہینے آپ نے
کس طرح گزارے۔اگر آپ کو محنت مزدوری سے ہی رزق مل رہا ہے تو دو سوا دو سال تک ماں
کا دودھ جو آپ نے پیا ہے اس میں کیا محنت آپ نے کی اگر محنت مزدوری سے ہی آپ کو
رزق مل رہا ہے تو اٹھا رہ سال تک بیس سال تک اباانگلی پکڑوا کر چلتے رہتے ہیں اور
ساری عمر ساری تربیت دل میںر کھتے ہیں بتا ئیے کون سا ایسا گھر ہے جس میں اٹھا رہ
سال کے بچے محنت مزدوری کے لئے چلے جا تے ہیں ایک باپ ہوتا ہے ایک ماں ہوتی ہے وہ
اپنے بچے کوپڑھا تے بھی ہے تعلیم بھی دلا تا ہے اور آپ غور کر یں بڑی عجیب بات یہ
ہے دن میں سوچ رہا تھا کہ ایک آدمی ہوتا ہے۔
وہ
کہتے ہیں تمہا ری تو شا دی بھی نہیں ہوئی وہ ڈرتاہے کہ بھئی میں تو اکیلا آدمی
ہوںمیرا توگزارہ ہو نہیں رہا شا دی کے بعد کیا ہو گا۔صحیح تقریبا ً سب ہی سوچتے
ہیں یہ میرا خیال ہے نوے سے پچانوے فیصد تو ضرور سوچتے ہیں پا نچ ہی فیصد ہی ایسی
ہو تے ہیں جو بہر حال وہ رشتے دار اس کے کہتے کہ خوش قسمت بیوی آئے گی تو قسمت
اچھی ہوجا ئے گی اور وہ شا دی ہو جا تی ہے۔وہ آدمی جو شادی سے ڈر رہا ہے گھبرا
رہا ہے وہ اس لئے کہ گزارہ کہاں سے ہو گا؟اور با پ جب وہ اپنی عمر پر غور کرتا ہے
تو ایک سے دو،دو سے چا ر، چا ر سے چھ،چھ سے دس، دس سے با رہ اب وہ با رہ بچے ہر
ایک تعلیم بھی پا جاتے ہیں، شادیاں بھی ہو جا تی ہیں ان کے بچے کے بچے بھی ہو جا
تے ہیں، اور بچے کے بچوں کی باپ جو ہے تقریبات بھی کرتا رہتا ہے۔کیا یہ غور وفکر
کا مقام نہیں ہے ایک آدمی جو شادی سے گھبرا رہا ہے ہے گزارہ کہاں سے کرو ں گا وہ
بارہ بچوں کے دس بچوں کی کفالت کرتا ہے نہ صرف یہ کہ خالی روٹی کھلا تا ہے بلکہ شا
دی بھی کرتا ہے۔
اب
وہ ہمارے ایک دوست ہے، ہندوستان کا قصہ ہے ایک صاحب کا بیٹا ملازم ہواتو انہوں نے
اپنے والد کو دس روپے دے دئیے، انہوں نے کہا پہلی تنخواہ ملی تو ودس رو پے دے دو
اب ابا خوش ہو ئے بیٹے نے تنخواہ بھیجی تقریب کر ڈالی۔پو ری برادری کو بلا لیا مگر
یہ تو نہیں بتا رہے بیٹے نے کتنی تنخواہ بھیجی، بس بیٹے نے تنخواہ بھیجی، بیٹے نے
تنخواہ بھیجی اس زمانے میں تیس رو پے تقریب پر خرچ کرتے تھے۔بیٹے نے دس رو پے
بھیجے باپ نے تیس رو پے خرچ کئے اور جب وہ شادی ہوئی تو گھبرا رہا تھا کہ گزارہ
کہاں سے ہو گا میرا تو اپنا ہی گزارہ نہیں ہوتا بیوی کا گزارہ کہاں سے ہو گا۔ کیا
اس میں اللہ تعالیٰ کی راضا کی شا مل نہیں ہے۔
کیا
یہ سو چنے کی بات نہیں ہے اچھا نہ صرف یہ کہ بچوں کی تعلیم و تر بیت ہو جاتی ہے
اللہ تعالیٰ اپنا یہ بھی فضل کرتا ہے اپنا ذاتی گھر لے لیتاہے، بچوں کا بھی ایک
آدھا پلاٹ ہوجا تا ہے اور اگر مو قع مل گیا تو بچوں کا گھر بھی بنا لیتا ہے یہ سب
دیکھئے یہ اللہ تعالیٰ کے یہ وہ انعامات ہیں،اللہ تعالیٰ کی وہ ربوبیت ہے اللہ
تعالیٰ کی وہ خالقیت ہے،کہ جو ہر انسان کے ساتھ ہمہ وقت مصروف ہے اللہ تعالیٰ ہر
انسان کے ساتھ ہمہ وقت ہیں پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں …جہاں تم ایک ہو وہاں میں
دو سرا ہوں جہاں تم دو ہو وہاں میں تیسرا ہوں۔میں ہی تمہا ری ابتداء ہوں میں ہی
تمہاری انتہا ء ہوں میں ہی تمہارا ظا ہر ہوں میںہی تمہارا با طن ہوں۔میں ہی تمہیں
پیدا کرتا ہوں میں ہی تمہیں رو ز مارتا ہوں میں ہی تمہیں روز زندہ کرتا ہوں۔اس
اللہ کے لئے آپ نے کتنا شکر ادا کیا۔پا نی موجودہے حلق بند ہو جا ئے کیا آدمی
نہیں مرجائے گا؟
اب
یہ سائنس داں کہتے ہیں وہاں لندن میں بہت بڑا اجتماع تھا وہاں انگلش لوگ وہاں بہت
سارے تھے تقریر ہوئی تقریر کے بعد سوال جواب ہو گیا تو میں نے کہا بھئی یہ
سائنسداں یہ کہتے ہیںآدمی جو ہے آکسیجن کی وجہ سے زندہ ہے مطلب یہ پا نی بھی ہے
ہوا بھی ہے لیکن وہ یہ کہتے ہیں آکسیجن ماحول میں اگر ہو گی تو آدمی زندہ رہے گا
اب یہ آپ کا فارمولا صحیح ہے تواب میں نے کہا بھئی یہ بات بتا ؤ اگر گھر میں ایک آدمی مر گیا مطلب پندرہ بیس
آدمی گھر میں موجود ہیں تو اس میں گھر میں جو پندرہ بیس آدمی زندہ ہیں آپ کہے
رہے ہیںکہ آکسیجن کی وجہ سے زندہ ہے تو اب ایک آدمی کیوں مر گیا آکسیجن تو
موجود تھی۔آپ غو ر کر یں اس بات کا اس مسجد میں اتنے سارے لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں۔اب
ہم یہ کہے رہے ہیں یہ سب اس لئے زندہ ہیں یہاں آکسیجن بھری ہوئی ہے اور ہے
آکسیجن ہے اب ان میں سے ایک آدمی مر گیا اب آکسیجن ہے تو وہ کیوں مر گیا؟
اور
اگر آکسیجن نہیں ہے تو پندرہ کیوں زندہ ہیں؟یہ سو آدمی بیٹھے ہو ئے ہیں یہ کیوں
زندہ ہیں۔تو اس کامطلب ہے کہ جینا مر نا سب اللہ تعالیٰ کے اپنے نظام کے اوپر
ہے۔ایک آدمی مر جا تا ہے ایک کروڑ آدمی زندہ رہتے ہیں اس ایک آدمی کے لئے کیا
آکسیجن ختم ہو گئی۔نہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے جس دن تک رکھنا ہے اس کے لئے اللہ
تعالیٰ نے رزق فراہم کیا آکسیجن بھی تو رزق ہے ہر وہ چیز جو انسان کو زندہ متحرک
رکھے وہ رزق کے دائرے میں آتی ہے تو مسلمانوں کا المیہ یہ ہے کہ مسلمان اس طرف
غوروفکرہی نہیں کرتا کہ میں زندہ کس طرح ہوں مر تا کیوں ہوں سو تا کیوں ہوں جاگ
کیوں جاتا ہوں اور آکسیجن کیا ہے دھوپ کیا ہے۔پا نی کیا ہے اور یہ سب چیزیں اس
وقت تک اس کے اوپر منکشف نہیں ہو سکتی جب تک انسان قرآن پاک میں تفکر نہیں کر ے
گاغور نہیں کر ے گا، اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں ہم اگر قرآن کو نا زل کر دیتے تو
پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جا تے۔
اس
کا صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن ایک ایسی عظیم کتاب ہے کہ اس میں سے آپ جو چاہیں
نکالیں۔ہر چیز ا س میں ہے جو آپ کو چاہئے۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہرچھوٹی سے
چھوٹی چیز ہر بڑے سے بڑا فارمولا اس کتاب میں وضاحت کے ساتھ بیان کر دیا گیا
ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ جب ہم یہ کہے کہ ہم حضور پاک ﷺ کی امت
ہیں تو ہم میںیہ بھی ہے کہ حضور پاک ﷺ کی امت ہو نے کا جو تقاضہ ہے اس پر بھی عمل
کر یں۔ جب ہم یہ کہتے ہیں ہم حضور پاک ﷺ کی امت ہیں اور قرآن پاک میں تفکر نہیں
کرتے اور قرآن پاک میں تفکر نہ کرنے کے نتیجہ میں ہم ناکام قوم بن جا تے ہیں تو
یہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کر تے ہیں۔
حضور یہ نہیں چا ہتے کہ حضور کی امت محکوم اور غلام بن کر رہے۔اگر ایسا ہوتا تو
حضور پاک ﷺ کو غزوات میں جنگیں کرنے کی کیا ضرورت تھی حضور پاک ﷺکو اتنی تکلیفیں
برداش کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
وہ
تو یہ کہتے تھے صاحب آپ ہمارے مذہب کو برا نہ کہے ہمارے بتوں کو برا نہ کہے آپ
با دشاہ بن جا ئیں۔حضور نے اس بات کے لئے ساری زندگی جدو جہد کی، کوشش کی، تکلیفیں
بر دا ش کیں۔ابھی یہاں ایک کتاب چھپی ہے محمد رسول اللہ ﷺ سیرت کی تو جن لوگوں نے
نہیں پڑی وہ ضرور پڑھیں اس میں میں نے کوشش کی ہے کہ حضور پاک نے امت مسلمہ کے لئے
کیسی کیسی تکلیفیں بردا ش کیں ہیں۔کن مسائل سے کن پر یشانیوں سے گزریں ہیں کیوں یہ
سب کیوں ہوا؟ اس لئے کہ حضور پاک ﷺ یہ چا ہتے ہیں کہ حضور پاک ﷺ کی امت زمین پر
حکمراں ہو حضور کی امت کو عروج حاصل ہو۔حضور کی امت مالی اعتبا ر سے، انتظامی
اعتبار سے، عزت کے اعتبار سے ہر اعتبار سے دنیا کی تمام قوموں سے اعلیٰ اور افضل
ہو۔ حضور پاک ﷺ کی دعا ہے حضور پاک ﷺ نے فرمایا!
یا اللہ مجھے میری امت کو اس افلاس سے بچا حضور
دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ امت کو غریب نہ سمجھ مفلس نہ کر لیکن جب ہم حضورکی
امت ہیں تو ہمارے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ ہم جدوجہد کر یں کوشش کر یں، تو جو حضور
پاک ﷺ نے اپنے زمانے میں مسلمانوں کو عروج عطا فرمایا تھا وہ ہمیں بھی حاصل ہو اور
یہ جب ہی ہوگا جب ہم قرآن پاک میں تفکر کر یں گے اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ
والسلام سے سچی دلی محبت کریں گے یہ جو محبت ہے نہ الصلوٰ ۃ والسلام علیک یا رسول
اللہ …حج کر نا،نماز پڑھنا،زکوٰۃ کر نا آذانیں دینا یہ سب زبانی کلامی ہیں اگر اس
زبانی کلامی میں اگر آپ کی روح بھی دا خل ہو جا ئے تو دنیا کی کوئی قوم آپ کو
غلام نہیںبنا سکتی۔اب عید کی نماز دیکھیں بقر عید کی نماز میں دیکھیں سب فو جی
نظام ہے اب امام نے کہا اللہ و اکبر تو ایک لا کھ آدمی پیچھے کھڑے ہوئے ہیں انہوں
نے کہا اللہ و اکبر اب امام اگر رکو ع میں جھک گیا تو اگر دوکروڑ آدمی پیچھے کھڑا
ہے تو دو کروڑ آدمی رکوع میں ہو گا تو یہ فو جی فلٹ ہے۔
اسلا م میں نماز کا سارا کا سارا نظام فو جی کی
طرح ہے جس قوم میں ایک ارب آدمی فو جی ہو۔مسلمانوں کی تعداد ایک ارب ہے جس قوم
میں ایک ارب آدمی فو جی ہوںاور پانچ وقت وہ فوجی سجدے کرتے ہوں ساتھ ساتھ اس کا
ذہن بھی اللہ کی طرف ہو کیا اس قوم کو کوئی غلام بناسکتا ہے۔پھر ہم کیوں غلام ہیں،
ہم غلام اس لئے ہیں کہ ہمارے سارے وظائف جو ہیں جسمانی ہو کر رہ گئے ہیں آدھا کام
تو ہم نے کرہی لیا ہے بھئی جسمانی نظام کا جو حرکت ہے مادی جو سلسلہ ہے وہ ہم نے
پو را کر لیا ہے اب ہمارے لئے تو کوئی کام بھی باقی نہیں رہ گیا ہے اب ہمیں یہ کر
نا ہے یہ جسمانی نظام کو روح سے وابستہ کر نا ہے بس اب رو ح سے وابستگی بہت آسان
ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنے اندرکھوج لگا ئیں اپنے آپ کو ڈھونڈیں قرآن پڑھیں قرآن
کی حکمت میں تفکر کر یں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تو فیق دے کہ ہم حضور پاک ﷺ کے
سامنے ہوں اچھا تو یہ کہ ہم مرنے سے پہلے حضور پاک ﷺ کی زیارت نصیب ہو۔
یہ
تو بڑے نصیب کی بات ہے اگر اس کے لئے کسی کو یہ شرف حاصل نہیں ہوا تو مر نے کے بعد
تو پیش ہو نا ہی ہو نا ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تو کیا منہ لیکر جا ئیں
گے حضور پاک ﷺ کے پاس اگر حضور پاک ﷺ ضرور پو چھیں گے حضور یہ نہیں پو چھیں گے میں
تمہا رے لئے کتاب چھوڑ کر آیا تھا تم نے اس کی کیا مشق کی میں نے تمہارے لئے اپنی
زندگی کو بشر بنایا اپنی زندگی کا پو را نمونہ چھوڑ کر آیا تم نے اخلاق حسنہ پر
کتنا عمل کیا ہمارے پاس شرمندگی کے سوائے کیا جواب ہو گا ہر مسلمان کو چاہئے اس
دنیا میں رہتے ہو ئے سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کے دربار میں جا نے کی تیاری
کر ے۔اور ہرمسلمان کی یہ خواہش ہو نی چاہئے دعا ہو نی چا ہئے اللہ تعالیٰ ایسا
ضرور کر ے گا تو سیدنا حضور علیہ االصلوٰ ۃ والسلام کے دربار میں جب جا ئیں۔تو ہم
خلوص ہو کر جا ئیں آمین یا رب العالمین …اختتام