Topics
(عرس حیدرآباد(16-1-05)
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
عزیزان
گرامی قدر محترم دوستوں،عظیمی بہن بھائیوں اس نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ،
اور دوسرے سلاسل کے سالکین پر السلام و علیکم، آج کی اس مبارک اور سعید مجلس میں
جو کچھ پڑھا گیا جو کچھ سنا گیا وہ یقینا ہمارے لئے رو شن راہ ہے اور ساتھ ساتھ اس
بات کا ادراک ہوتا ہے کہ نعت شریف کے دوران، حمد باری تعالیٰ کے دوران اور تقاریر
کے دوران جو کیفیت مراتب ہوئی یا ایک ماحول اور فضا ء بنی اور ماحول اور فضا میں
جو لطافت اور انوارو تجلیات کا احساس ہوا۔ اس کے پیش نظر میں یہ کہنا کہ حق جانب
ہوں کہ اللہ کے فضل و کرم سے رسول اللہ ﷺ کی نسبت سے اور حضور قلندر بابااولیاء ؒ
کی محبت سے یہ مجلس اللہ تعالیٰ کے حضور قبول ہوئی۔ رسول اللہ کا ارشاد گرامی ہے
کہ جس مجلس میں جس جگہ جس مقام پر اللہ تعالیٰ کا تذکرہ کیا جا تا ہے وہاں ٹولیوں
میں ہجوم در ہجوم، گروہوںدر گروہوں فرشتے نازل ہو تے ہیں۔
اور
اللہ تعالیٰ کی باتیں غورسے سنتے ہیں اور اس مجلس میں موجود تمام لوگوں کے لئے
اللہ تعالیٰ کے حضورو دعائیں خیر کرتے ہیں۔رسول اللہ کے ارشاد اعلیٰ کے مطابق یہ
جو اولیاء اللہ کا گروہوںہے یہ حضور کی نیابت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ہندو ستان
میں اور تمام عالم السلام میں چین میں اور دوسرے ممالک میں جہاں بھی روحانیت کا یا
تصوف دور رہا،اللہ کی محبت، اللہ کے رسول کے عشق کا تذکرہ آتا ہے وہاں کسی نہ کسی
طرح اولیاء اللہ کا عمل داخل سامنے آتا ہے۔حضور قلندر بابااولیاء ؒ کے عرس کی اس
تقریب میں ہمارے پیش نظر یہ بات سامنے آتی ہے کہ جیساکہ آپ نے سنا اس کے علاوہ
اور کچھ نہیں ہے تو رسول اللہ کے مشن کے سلسلے میں جو خود رسول اللہ نے مشن کی
پیشرفت کے لئے سختیاں، تکلفیں،بر داشت کیں پھر اس کے بعد صحابہ اکرام نے اس مشن کو
جاری وساری رکھنے کے لئے قربانیاں دیں۔اس کے بعد حضرت تعبین نے اس مشن کو سنبھالا
اور اس کے بعد اولیا ء اللہ اکرام نے اس مشن کی پیشکش میں اپنی زندگیاں واقف کر دی
اس نے حضرت بڑے پیر صاحب اور دوسرے تمام بزرگان اسلام کے ساتھ حضرت ناناتاج الدین
ناگپوری ؒاور حضور قلندر بابااولیاء کاروں کے ساتھ رواں دواں ہیں۔
اس
بات کو ہم اس طرح کہے سکتے ہیں حضور پاک کے مشن کے تسلسل کو جاری رکھنے کے لئے
تمام اولیاء اللہ نے اپنی خدمات پیش کیں اور اولیاء اللہ نے اس تسلسل کو رسول اللہ
ﷺ کے عشق کے ساتھ نسبت کے ساتھ اور محبت کے ساتھ قائم رکھا آج کا دن اسی تسلسل کی
مناسبت سے ایک سعید دن ہے کہ ہم اللہ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺکے وارث ابدال حق
قلندر بابااولیائؒکی تعلیمات کی فروخ کے لئے قلندر بابااولیاء ؒ کے روحانی مشن کے
تکمیل کے لئے یہاں جمع ہیں اور یہ ہماری یہاں کی حاضری اس بات کی شہادت فراہم کرتی
ہے۔کہ ہمارا دل ہمارا دماغ اور ہماری روح ہمیں اس بات پرآمادہ کر تے ہے کہ ہمیں
بھی رسول اللہ ﷺ کے مشن کی پیشکش میں اپنا پو را حصہ ڈالنا چاہئے اور کوشش کر نی
چاہئے کہ اللہ کے رسول کاپیغام دنیا کے ہر ہر گوشے میں ہو نا چاہئے۔اور نوع انسانی
جس بے سکونی پریشانی سیراب بے چینی کی حالت میں مبتلا ہے وہ اللہ اور اللہ کے رسول
کاعلم حاصل کر کے اپنی زندگی کو پرسکون بنائے گا۔
اعوذ
با اللہ من الشیطان الرجیم
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
قل
و اللہ ھو احد …
ابھی
تھوڑی دیر پہلے آپ نے ان بچوں کا پروگرام دیکھا بہت خوبصورت پیشکش تھی بڑی محنت
کی گئی اس پروگرام میں دلی طور پر مجھے بڑی خوشی ہوئی وہ پروگرام کے کردار جیساکہ
دنیا میں سب کو علم ہے ایک آدم بھی ذات تھا ایک شیطان بھی ذات تھا۔آدم اور شیطان
کے ان دونوں کرداروں میں چاند سورج ستارے اور فرشتوں کو بھی پیش کیا گیا۔یعنی زمین
جس طرح تھی کہ جب آدم علیہ السلام نے اللہ کی فرمانبداری اختیار کی تو ان کے سر
پر تاج سجارہا اور جب آدم علیہ السلام سے اللہ کی نافرمانی ہو گئی تو(سہواََ ) نا
فرما نی ہو گئی تووہ تاج ان کے سر سے اتر گیا اور اس تاج کے اتر نے کی بڑی جو وجہ
ہوئی جوڈرامہ میں بتایا گیا ٹیبلوں میں بتا یا گیا وہ شک تھا اورشیطان نے حضرت
آدم علیہ السلام کو نا فرمانی کے ارتکاب کے لئے شک آزمایا، جب آدم علیہ السلام
کے ذہن میں شک آگیا شجر ممنوعہ کے قریب یہ جو چلے گئے۔
تو جنت نے انہیں رد کر دیا …عربی آیت …کہ اب تم
جنت میں نہیںرہے سکتے جنت میں اگر جنت میں نافرمانی ہو جائے تو جنت اسے رد کر دیتی
ہے۔کہانی یا واقعہ اس طرح بتا یا جا تا ہے جوقرآن پاک میں بیان ہوا ہے کہ ا للہ
تعالیٰ نے فرشتوں کو جمع کیا۔فرشتو ں کے ساتھ ساتھ جنات بھی تھے، اللہ تعالیٰ نے
فرشتوں کو جمع کیا قال انی جعلنی فل الا ض خلیفہ…سب کو جمع کیا اور فرما یا کہ
زمین میں اپنا نائب بنا نے والا ہوں قالا جعلون… فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کا جب
ارشاد سنا تو فرشتوں نے اللہ تعالیٰ سے استفانیت سوال کیا ابھی وقار صاحب نے ایک
بڑی اچھی بات کی اس با ت کو بڑی appreciate کرنا چاہئے کہ سلسلہ عظیمیہ کا ایک بہت
بڑا کارنامہ کہے لیجئے۔وہ یہ ہے کہ سلسلہ عظیمیہ اپنے شاگردوں کو اس با ت کی دعوت
دیتا ہے ا صرار کرتا ہے کہ سوال کرو جو بات سمجھ میں نہ آئے ہم سے پوچھو،دس با ر
پوچھو،بیس پوچھو سوال کرو اگر استاد آپ کے سوال کا جواب نہیں دے سکتا تو وہ مکمل
استاد نہیں ہے۔
استاد کا مطلب تویہ ہو تاہے شاگرد مطمئن کر دئے
جب آدمی خود مطمئن ہو گا جب ہی دوسروں کو مطمئن کر ے گا۔تو قالو و تجعلو فیہ
…فرشتوں نے اللہ سے پو چھا سوال کیا ہم پو چھنا چا ہئے قالو تجل فیہ… یہ جو آپ نے
آدم آپ نے بنایا ہے اس کو آپ نائب اور خلیفہ بنا نے والے ہیں یہ تو فساد بر پا
کر ے گا زمین میں فساد بر پا ہو جا ئے گا خون خرابہ کرے گا۔زمین پر خون پھیل جا ئے
گا اور اگر آپ نے اس آدم کو اس لئے بنا یا ہے یہ آپ کی عبادت کرے نحل یصبوح…اس
لئے تو ہم آپ کی عبادت کر رہے ہیں۔ آپ نے ہمیں حکم دیا کھڑے ہو جا ؤ ہم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے ہیں،آپ نے یہ چاہا
ہم آپ کو رکوع کرے آپ کے سامنے جھکے رہے ہم جھکے ہو ئے ہیں، آپ کی یہ خواہش ہے
کہ ہم سجدے میں گرے رہے تو ہم سجدے سے سر کی نہیںاٹھا سکتے،ہم آپ کی پاکی بیان کر
تے ہیں نحنل …اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا یہ سوال سنا …یہ نہیں کہا خاموش ہو جا
ؤ بس …جیسے کہ ہمارے یہاں دانشور ہیں وہ
کہتے ہیں بس خاموش ہو جا ؤ ،مجھے یاد ہے کوئی اب سے پچاس سال پہلے کی بات ہے میں
جامع مسجد ناظم آباد میں نماز پڑھنے گیا عصر کی نماز تھی۔
تو
وہاں ایک بزرگ تھے انہوں نے امام صاحب سے سوال کیا امام صاحب یہ جو مسئلہ ہے کہ یہ
بچوں کو جب جماعت ہو تو دائیں طرف کھڑے کرو بائیں طرف کھڑے مت کرو یہ کیوں بائیں
طرف کھڑے ہو نے میں کیا مسئلہ ہے تو حضور شریعت کا مسئلہ ہے۔ انہوںنے کہا شریعت کا
مسئلہ تو ٹھیک ہے۔ مجھے تو پتا ہے اس بات کا وہ ذرا کم بھی سنتے تھے۔
انہوں
نے کہا میںانہوں نے کہا میں یہ جا ننا چاہتا ہوں کیا اس میں کیا حکمت ہے کیا اللہ
تعالیٰ کا حکم ہے تو انہوں نے کہا آپ شریعت میں ہیںشریعت کے بارے میں حجت کر تے
ہیں کوئی شریعت میں حجت نہیں بس وہ کہتے ہیں، امام صاحب توروح کو ڈھل کر چلے گئے
اللہ تعالیٰ کہتے ہیں سوال کرو تفکرون …ذکر کروتفکرون …اللہ تعالیٰ کی آیا ت کو
دیکھو،غور کرو، ذکر کرو،دوہرا وبار بار دوہراو، جب تک سمجھ میں نہ آئے دوہراتے
چلے جاؤ ،دوہرا تے چلے جاؤ قرآن سمجھو
ولقد یسرنا…ہم نے قرآن کا سمجھنا آسان کر دیا اگر تمہاری سمجھ میں نہیں آتا پھر
سمجھو،پھر سمجھو،پھر سمجھو ہم وعدہ کر تے ہیں ہم قرآن تمہیں سمجھا دینگے ولقد
یسرنا القرآن…ہم نے ہر انسان کے لئے قرآن کو آسان کر دیا تو اللہ تعالیٰ نے
فرشتوں کے سوال کے بعد یہ نہیں فرمایا؛کہ خاموش ہو جا ؤ اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛قالا انی عالم مالم یعلم
…جو میں جا نتا ہوں وہ تم نہیں جانتے لیکن یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ صاف کردیا کہ
بھئی جاؤ درخواست ہوگئی جا ؤ بس ہم جو جا نتے ہیں تم نہیں جا نتے اللہ
تعالیٰ نے اس فرشتوں کے اطمینان کے لئے اور جنات کے اطمینان کے لئے آدم کو علوم
سیکھائے۔نیابت اور خلافت سے متعلق آدم کو علوم سیکھا ئے۔
ظاہر
ہے وہ علوم نہ فرشتے جا نتے تھے،نہ جنات جانتے تھے وعلما آدم الاسماء …ہم نے آدم
کو کائنات سے فارمولوں کا علم سیکھا دیا۔ڈسکیشن سیکھا دیا وعلما آدم لاسمائ…ثم
اردرنہ علی ملائکہ…پھر آدم کو علم سیکھا دیا آدم کی جو صلاحیت ہے اس کے بارے میں
آدم کا اطمینان کر دیا۔ اس کوزیور تعلیم سے آراستہ کر نا ہے فرشتو ں کے سامنے ثم
اردہ…اور کہا فقالا …آدم علیہ السلام نے جو اللہ تعالیٰ نے ان کو علوم سیکھا ئے
وہ بیان کئے فرشتوں نے وہ علو م سنے اور پھر اس نے اس بات کا اطراف کیا مثلا ً
تصور کر یں کہ آپ اپنے شعور کو تھوڑا سا یکسو ہوکر کے تصور کریں کہ بہت بڑا میدان
ہے آسمان میں یاآسمان ہے بہت بڑا وہاں کروڑوں فرشتے کروڑوں جنات ہیں،اللہ تعالیٰ
عرش پر بیٹھے ہو ئے ہیںاور اعلان فرما رہے ہیں اے فرشتوں اب میںاپنا ایک نائب بنا
نے والا ہوں یہاںیہ مسئلہ بھی غوروطلب ہے کہ نائب بنانے والا ہوں اس کا مطلب ہے
کائنات میں پہلے سے زمین موجود تھی زمین بھی موجود ہے انی جعلون فی الارض خلیفہ
…زمین میں نائب بنانے والا ہوں۔
زمین موجود ہے آدم سے پہلے زمین موجود ہے۔ زمین
کا انتظام و انتحاب بھی موجود ہے۔زمین کا ایڈمنسٹریشن بھی موجود ہے ضرورت پیش
آگئی کہ زمین کو فسادیوں بچانے کے لئے ایک نیا ایدمنسٹریشن قائم ہو۔ ایک نیا
ایڈمنسٹریشن بنا دیا جب فرشتوں نے یہ دیکھا کہ یہ تو آدم جو ہے یہ ان ہی عناصر سے
تخلیق ہوا ہے جن عناصر سے پہلی مخلوق تخلیق ہوئی وی ہے جو فساد بر پا کررہی ہے۔تو
یہ بھی فساد بر پا کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آدم کو ایک نئے علوم سیکھا ئے اور
فرشتوں کے سامنے جب آدم نے جب علوم کو بیان کیا تو فرشتوں نے کہاہم تو اللہ میاں
اتنا ہی جا نتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سیکھا دیا ہے قالو لا علما لا نا …ہم تو اتنا
ہی جانتے ہیں جتنا آپ نے ہمیں سیکھا دیا ہے باقی علم و لالحکیم تو آپ ہیں۔
فرشتوں نے سجدہ کیا اب سجدے کی بھی بات بڑی غوروطلب ہے۔
ا ب ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی تعلیمات
پراگر غور کیا جا ئے تواس کا خلاصہ صرف اور صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے علاوہ
کسی کی ربوبیت قبول نہیں کرتا وحدہ لا شریک ہے …اللہ بت پرستی کی اجازت نہیں
دیتا،کسی بھی حال میں چاہے وہ آگ ہو،چاہے وہ مٹی ہو،چاہے وہ بت ہو چاہے وہ درخت
ہو، چاہے وہ انسان ہو،چاہے اللہ تعالیٰ اس بات کو چاہے آپ پورا قرآن پڑھ لیں
تمام پیغمبروں کی ایک ہی تعلیمات ہے پرستش کے لائق واحدذات اللہ ہے۔ اللہ شرک کو
پسند نہیں کرتا اور جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے یہ کہا؛کہ آدم کو سجدہ کرواگر
سجدہ عبادت کا ہوتاتو پھر تو یہ بڑی عجیب بات ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ شرک کو پسند
نہیں کرتا سجدے سے مراد یہ ہے اللہ تعالیٰ نے فرشتے سے یہ کہا کہ اب جو
ایڈمنسٹریٹر زمین کا ہم نے بنایا ہے۔ اب اس کی حاکمیت کو تسلیم کرو، اب تم فرشتے
ہو محکوم ہو آدم حاکم ہے۔
جو
کچھ آدم چاہے گا وہ تمہیں کر نا ہے۔ تو سجدے کا مطلب کوئی یہ نہیں تھا کہ آدم نے
اللہ تعالیٰ کونااعوذ با اللہ استغفار کوئی اپنے ساتھ مقام بنا دیا کہ کہا اسے بھی
سجدہ کرو حاکمیت قبول کرو۔ اب جیسے ہمارے صدر ہیں وہ مشرف صاحب ہیںظاہر ہے وہ حاکم
ہیں ہم ان کے محکوم ہیں ہمیں ان کی حاکمیت کو بر حال تسلیم کر نا ہے۔ورنہ سارا
انتظام خراب ہو جا ئے گا، نظام ٹوٹ جا ئے گا اگر حاکمیت قبول نہیں کی گئی۔پھر آدم
علیہ ا لسلام سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا؛کہ اب تم دونوں یا آدم سکن …اے آدم اب تم
اور تمہاری بیوی یا آدم سکن انتا زوج کا جنہ… اے آدم تو اور تمہاری بیوی دونوں
اب تم جنت میں رہو تم حاکم ہو کائنات کی حاکمیت ہم نے منتقل کر دی تمہیں اپنی
اختیارات منتقل کرکے۔اپنے اختیارات دے کر حاکم کے اعلیٰ تو ہم ہی ہیں لیکن ہمارے
گورنر تم ہو۔ ہمارے نائب تم ہو اب تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو۔
اب
ایک بڑا عجیب آپ نے سنا ہوگاہم نے تو یہی پڑھا کتابوں میں کہ آدم جنت میں تھے
بڑے اداس ہو گئے، بڑے پریشان ہو گئے، پھر انہوں نے حوروں کو دیکھا بر حال وہ جنس
مخالف ہیں مردان بات کو تو بہت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا میرے ساتھ اللہ تعالیٰ
ایسا کر مجھے بھی کوئی ساتھی عطافرما، اللہ میاں نے ساتھی اب جنت میں بھی جائیں
آدم یا آدم سکن زوجہ جنتہ…اے آدم تو اور تیری بیوی جنت میں رہو۔اس کا مطلب ہے
آدم اور حوا کی تخلیق یکساں ہوئی۔ آدم اورحوا کو جس طرح نیابت اور خلافت آدم کو
ملی نیابت اور خلافت کی جو صلاحیت اللہ تعالیٰ آدم کو منتقل کی اس کا حصہ حوا کو
بھی منتقل ہوا۔ ایسا نہیں ہے اگر آدم حاکمیت اور حوا بچاری کچھ نہیں۔
تیسری بات اس میں بہت غور طلب یہ ہے میں خواتین
سے خاص طور سے ہماری طرف متوجہ ہو ں اس پر غور فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
کہ ہم نے سڑھی ہوئی گوندھی ہوئی مٹی سے گاڑے سے آد م کا پتلا تخلیق کیا ایک جگہ
یہ ہے کہ…عربی آیت …کہ ہم نے بجری مٹی یعنی خلاء سے آدم کا پتلا تخلیق کیا
…ونفخت فیہ من روحیہ…پھر ہم نے اس میں اپنی جان ڈال دی بلکہ اس کا ترجمہ یہ ہے
ونفخت فیہ من روحیہ…اپنی روح میں سے روح ڈال دی،جان میں سے جان ڈال دی وہاں کوئی
پتلے میں تخصیص نہیں ہے عورت میں ڈال دی یا مر دمیں تو اب اس کا کیا مطلب ہوا آدم
اور حوا دونوں اللہ تعالیٰ کے علوم کے عامل ہیں۔ دونوںمیں ایک روح ہے۔وہ جنت میں
رہے، غلطی ہوئی،شیطان نے بہکا یا، وسوسہ ڈٖالا، اس درخت کے قریب پھسلا کر، بہکا
کر،اور بہکایا کیا حضور قلندر بابااولیاء ؒ کے ارشاد کے مطابق؛کیا بہکایاشیطان نے
کہا کچھ پتا بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے منع کیا ہے
اس کی وجہ یہ ہے جب اس درخت کا راز کسی کو معلوم ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے
قانون کے مطابق وہ جنت سے با ہر نہیں جاتے۔
اللہ تعالیٰ تمہیں جنت سے نکالنا چاہتے ہیںتو
اگر تم نے اس در خت کے قریب نہیں گئے اس درخت کاراز معلوم نہیں کیا تو تم پتا
نہیںکب جنت سے نکا ل دئیے جا ؤ گے اور اگر
تم نے اس درخت کاراز معلوم کر لیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں نہیں نکا لیں گے، انہوں نے
اپنا بنایا ہوا قانون ہے ایسا دھو کا دیا انہو ں نے انہوں نے کہا بھئی ٹھیک ہے ہم
تو جنت میں سے نکلنا ہی نہیں چا ہتے۔ اس وسوسے نے آدم علیہ السلام شجر ممنوعہ کے
قریب چلے گئے۔ لیکن جیسے ہی وہ شجر ممنوعہ کے قریب گئے ان کے اندر یہ احساس پیدا
ہوگیاکہ ہم ظالم ہیں ہمارا لباس اتر گیا۔ لباس سے مراد کپڑے نہیں ہیںلباس سے مراد
ہر انسان کی ایک مکمل طرز فکر ہے۔ جنت کی طرز فکر میں دراڑ پڑ گئی۔یہ تو برا ہو
گیا بھئی اللہ تعالیٰ کی اتنے انعامات کے ہمیں حاکم بنا دیا پوری کا ئنات کا اور
ہم اللہ تعالیٰ کا اتنا سا کہنا نہیں مان سکے یہ تو ہم سے بھول ہو گئی،یہ تو ہم سے
نا فر مانی ہو گئی اور اب اللہ تعالیٰ ہم سے کیسے خوش رہے گے جب ہم سے نا فرمانی
ہو گئی۔
جیسے
ہی یہ بات ذہن میں آئی لا تقربا ھذی شجر…اللہ نے خود کہا تھا اگر اس درخت کے قریب
چلے گئے تو پھر تم اپنے اوپر ظلم کرو گے اور اپنے آپ کو ظالم قرار دو گے۔ خود ہی
وتکون من الظلمین…تو آدم علیہ السلام نے اور حوا نے اماں حوا نے محسوس کیا یہ ہم
سے بہت بڑا ظلم ہو گیا۔بھول ہو گئی سہو ہو گیا۔اللہ تعالیٰ کی نا فرما نی ہو گئی
اور دو نوں کو ابھی میں نے کہا نہ جنت سے اتر جا ؤ تو وہ جنت سے زمین پر آگئے وہاں بھی آپ یہ
دیکھتے ہیں ایسا نہیں ہوا اگر آدم شجر ممنوعہ کے قریب گئے تھے تو حوا نے کوئی
قصور نہیں کیا تھا تو انہیں کیوں نکا لا اور اگر اماں حوا شجر ممنوعہ کے قریب گئی
تھی تو حضرت آدم نے کوئی قصور نہیں کیا تھا۔بھئی ایک بیوی کرتی ہے کیا شوہر کو
بھی سزا ملتی ہے یا شوہر چوری کرتا ہے میاں بیوی دونوں کو جیل میں ڈال دینگے
کیا۔اللہ تعالیٰ نے بار بار قرآن میں اس چیز کا انصاف کر تاہے اس کا مطلب ہے
دونوں کی طرز فکر میںخرابی پیداہوئی۔
ابہام
پیدا ہوا، شک پیدا ہوا، اوردونوں کو زمین پر پھینک دیا گیا اب زمین پرآنے کے بعد
بھی یہ بہت رو ئے دھوئے آدم علیہ السلام اللہ تعالیٰ سے معافی تلافی بھی کر لی
اور یہ فرما یا ٹھیک ہے غلطی ہو گئی اب اس کی تلافی یہ ہے کہ جو لباس اتر گیا جنت
کا اس کی جو طرزفکر تم سے دور ہو گئی اس طرز فکر کو دو بارہ حاصل کرو جب تم دو
بارہ حاصل کرو گے ہم تمہیں جنت میں بھیج دیں گے۔اس طرز فکر کو حاصل کرنے کے لئے
اور اس طرز فکر سے حصول کے ذرائع بتا نے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اہتمام کیا۔اس لئے
اللہ تعالیٰ رحم وکریم ہے۔ستار العیوب ہے غفار والذنوب ہے اپنے بندوں سے بہت محبت
کرتا ہے بہت محبت اتنی محبت کر تے ہیں کوئی الفاظ نہیں بتا نے کے لئے ایک لاکھ
چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے اور کوئی ایسی بڑی بات بھی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہتے ہیں
بھئی جھوٹ نہ بولو،اللہ تعالیٰ کہتے ہیں شرک نہ کرو اللہ تعالیٰ کہتے ہیں حقوق
العباد پو رے کرو،اللہ تعالیٰ کہتے ہیں کم نہ تولے، جتنے پیسے دئے ہیں اتنی چیزوں
دو،اللہ تعالیٰ کہتے ہیں ذخیرہ اندوزی نہ کرو،تو جتنے احکامات کی الہٰی ہیں آپ
لوگ غور سے سنیں جتنی احکامات الہٰی ہیں اس میں کہیں بھی اللہ کا کوئی فائدہ نہیں
ہوتا۔
ذخیرہ
اندوزی آپ کر تے ہیں آپ کے بھائیوں کو پریشانی ہوتی ہے۔ ملاوٹ آپ کرتے ہیں آپ
کے بھا ئی بیمار ہو تے ہیں۔ آپ حق تلفی کرتے ہیں کوئی آپکی حق تلفی کرے گا،آپ
کسی کو قتل کر دیں کل کو کوئی آپ کو قتل کر دے گا۔اس میں اللہ تعالیٰ کا کیا فا
ئدہ جتنی اچھا ئیاں ہیں ان سب کا فائدہ انسان کو ہے یااللہ کو کوئی فائدہ نہیں۔ اب
آپ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں، فرشتے بھی نماز پڑھتے ہیں تو اللہ میاں کا
کوئی محتاج ہے نہیں نماز اس لئے پڑھا ئی جاتی ہے کہ نماز اللہ اتعالیٰ سے رابطے
اور قربت کا ایک ذریعہ ہے۔ اگر اس ذریعے سے آپ اللہ تعالیٰ کے قریب نہیں ہو تے
پھر پتا ہے آپ کو قرآن کیا کہتافویل لمسلین…اگر نمازی اپنی نمازوں سے بے خبر
ہیں۔ اگر نماز میں حضور قلب نہیں ہوتا،اگر نماز وسوسوں کا شکار ہو جا تی ہے، وہ
نماز نمازی کے لئے دوزخ ہو جا تی ہے، فویل لمسلین… آپ کہے گے صاحب نماز میں تو
خیالات بھی آتے ہیں۔
کیا
کریں نہیں غلط کہتے ہیں، آپ اکاؤ نٹ ہیںجب حساب کرنے بیٹھتے ہیں جس طرح آپ کو
نماز اور خیالات میں وسوسے آتے ہیں اگر حسا ب کرنے میں لا ئیں تو آپ کی نوکری
کتنے دن چلے گی۔ ایک خاتون کھا ناہے وہ کھانا پکا تی ہے مسلسل خیال ہے کیا وہ
کھانا وہ اچھا پکا لے گئی۔ایک بچہ ہے وہ امتحان کی تیاری کرتا ہے وسوسوں کا شکار
ہو جاتا ہے کیا وہ امتحان میں پاس ہو جا ئے گا۔ ایک انجینئر ہے وہ نقشہ بناتا ہے
ذہنی انتشار ہے۔کیا وہ کمرے غسل خانے ورانڈے صحیح خطوط سے نقشہ بنا دے گا آپ کھا
نا کھاتے ہیں کھا نا کا لقمہ آدمی نے بجا ئے منہ کے ناک میں ڈالا ہے۔جھوٹ بولتے
ہیں۔ نماز میں انتشار خیال ہوتا ہے دنیا کے ہر کام میں یکسوئی ہے کوئی آدمی اب
کھا نا منہ کے بجا ئے ناک میں نہیں ڈالتا۔یہ آپ اپنے آپ سے جھوٹ بول رہے ہیں۔
ومکرون ومکرولاللہ…اللہ کو دھو کا دیا اللہ کے ساتھ مزاق کیا اللہ سے باتیں بنا ئی
اللہ خیرو …اللہ بہت اچھی تقدیریں جا نتا ہے۔
اگر
کوئی انسان یہ کہتا ہے مجھے نماز میں یکسوئی نہیں ہوتی خیالات آتے ہیں۔شیطانی
وسوسے آتے ہیں،تو حساب کر تے ہو ئے خیالا ت نہیں آتے، امتحان میں خیالات کیوں
نہیں آتے امتحان کی تیاری کرنے میں خیالا ت کیوں نہیں آتے،کھا نا پکاتے وقت
منتشر خیالی کیوں نہیں ہوتی ڈرائیونگ کرتے وقت وسوسے میں آپ ذرا ڈرائیونگ تو کریں
ہاتھ پیر چھوٹتے نہیں چھوٹتے یہاں سے آپ پشاور چلے جا ئیں ڈرائیونگ کر تے وقت
ہاتھ بھی، پیر بھی،دماغ بھی،آنکھ بھی،کان بھی ہر چیز بالکل ہر چیز alert یکسوئی
کے ساتھ کا م کرے گی۔یہاں سے پشاور تک آپ اگر،چھتیس گھنٹے میں پہنچتے ہیں تو
چھتیس گھنٹے آپ کے ذہن میں یکسوئی رہتی ہے پانچ منٹ نماز میں آپ کا ذہن یکسوں
نہیں رہتا یہ fraudہے، جھوٹ ہے،اپنی جان کے ساتھ دھو کاہے۔سوال یہ کیوں نماز میں
یکسوئی نہیں ہوتی؟نماز میں یکسوئی اس لئے نہیں ہوتی کہ جب آپ گاڑی چلا تے ہیں تو
آپ کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے اگر ذرا سا بھی خیال اِدھر اُدھر ہوگیا ہمارا
Accidentہو جائے گا ہمیں مر ناہی مر نا ہے کوئی مر ے یا نہ مر ے ہمیں تو مر نا ہی
مر نا ہے۔
کھا
نا پکا تے وقت خاتون اس لئے یکسوں رہتی ہیں اسے پتا ہے اگر میں یکسوں نہ رہی
تویقینامیرا ہاتھ جل جا ئے گا۔ ہاتھ جل گیا اب کیا ہوا بھئی،میں بے خیالی ہو گئی
تھی ہاتھ جل گیا۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ ہر آن،ہر لمحہ معاف ہی کرتا رہتا
ہے۔ معاف ہی کرتا رہتا ہے ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی معافی کے لا پیدا کنار سمندر سے
فیض یاب ہوتے ہوتے گستاخیاں کرتے ہیں۔
کوئی
بچہ گستاخ ہو جا تا ہے ماں با پ زیادہ پیار کر تے ہیں دیکھیں اللہ تعالیٰ پھر بھی
کتنے آپ گستاخ ہو جائیں اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے وہ کہتا ہے پھر آن یعنی درگا
ئے آن درگا ئے امید میں ہزار بار توبہ مانگو میری درگاہ ناامید ہو نے کی درگا ہ
نہیں ہے اگر تو اپنی تو بہ کو ایک ہزار مر تبہ بھی تو ڑتا ہے، فکر نہیں کر میرے
پاس آجا دس ہزار با ر اگر توبہ کرنے سے بار بارتوبہ چھوڑ میرے پاس آ آ تو سہی
یہ اگر بات وسیع ہے میں رحمت ہوں رحمت قل ہوں اے انسان میں نے تیرے لئے یہ زمین
بنا ئی اس زمین کے اندر محفوظ رہے میں تو ایک بھی نہیں بناتا مجھے تو کوئی food کی
بھی ضرورت نہیں ہے،مجھے تو سائے کی بھی ضرورت نہیں ہے، میں نے تو زمین پر درخت اگا
ئے میں نے تیرے لئے پانی پیدا کیا، زمین کے اندر بھی پیدا کیا، آسمان سے بھی بارش
بر سائی اس لئے کہ تو خوش رہے تیرا پیٹ بھر جائے،میں نے تجھے نو مہینے بند کو ٹری
میںغذادی میرا کیا فا ئدہ اس میں آپ بتائیں …؟ہم اتنے سارے لو گ ماں کے پیٹ سے
پیدا ہو ئے ہیں ہمارے پیدا ہو نے سے اللہ کوکیا فا ئدہ ہو گیا؟
بتائیں کیا فا ئدہ ہو ا اللہ کو …؟ابھی تو پیدا
بھی نہیں ہوا ابھی تو نے دنیا میں قد م بھی نہیں رکھا ہمیں تیری روزی کی فکر ہے۔
ہم نے تجھے ماں کے پیٹ میں بھی روزی دی۔ اب تو کیونکہ ماں کے پیٹ سے باہر آیا
روزی کا جو طریقہ کار ہے وہ سب تبدیل ہو گیا۔ ہم نے تیری پیدا ئش سے پہلے تیری ماں
کے سینے کو دودھ سے بھر دیا، دسترخوان بنا دیا،تو بیٹھ نہیں سکتا تھا،تو لیٹ نہیں
سکتا تھا،تو اٹھ نہیں سکتا تھا، تو مکھی بھی نہیں اڑا سکتا تھا،ماں کے دل میں تیری
لئے ممتا ڈال دی ماں کے دل میں شفقت ڈال دی،ماں نے نچوڑ نچوڑ کر اپنا خون دودھ کی
شکل میں انڈیل دیا اور کبھی یہ نہیں سو چا میں اپنا خون اس بچے کے اندر انڈیل رہی
ہوں۔تو بڑا ہوا تجھے عقل دی،شعور عطا کیا، ہاتھ پیر مضبوط کئے،کمر مضبوط کی وہ کمر
جو ہل نہیں سکتی تھی،کروٹ نہیں بدل سکتی تھی، اس کمر کو اتنی طاقت بخش دی کہ وہ جب
مزدوری کر ے تو ڈھائی من کی بوری اٹھا کر اِدھر سے اُدھر کر دے۔
یہ
آپ تصور تو کریں ایک نوزیدہ بچے کو سامنے رکھیں ہم سب نو زیدہ بچے ہیں کوئی بڑا
نہیں پیدا ہوا آپ ہم اس طاقت میں چل رہے ہیں،پھر رہے ہیں،ایک نو زیدہ بچے کے بارے
میں تصور کر کے ذرا سو چیں یہ اللہ تعالیٰ کا انعام نہیں ہے اور اس انعام سے اللہ
بچتا ہے۔ میں تو یہی سوچتا رپتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کو کیا فا ئدہ سورج بنایا دھوپ
نکل رہی ہے،اب سورج نہ نکلے یہاں کیڑوں مکوڑوں کے سوائے کچھ ہو گا سب کھا جا ئیں
گے، چاند بنایا،ستارے بنا ئے۔ ستاروں سے قرآن پاک میں ہے ستاروں سے لوگ راستہ
دیکھتے ہیں۔ یہ ساری جو کائنات بنی آپ کی جو باڈی ہے اس میں دل رکھ دیا اندراس
میں پھیپھڑے رکھ دئیے اندر۔اب آکسیجن کے بغیر گزارہ نہیں ہے، ایک نہیں ساڑے ساتھ
ہزار کاسلنڈر آتا ہے اور چھتیس گھنٹے سے چلتا ہے اور اس کی تکلیف الگ ہے وہ ایک
دفعہ جہاں رکھ دیا نہ وہ سانس آرام سے نہیں آتا اس سے تو یہ جو آپ آکسیجن
کھارہے ہیں مفت کی اللہ میاں کو کیا فائدہ ہے۔
آپ کو جو تندرستی توانائی،انر جی عطا کی ہے۔
آپ تو اس ساری توانائی کو نہ صرف کہ مخالفت میں خرچ کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی
توانائی کو آپ اللہ کی مخالفت میں خرچ کر رہے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی
مطابق استعمال کر رہے ہیں۔سب بو لیں… اگرآپ اس توانائی کو اللہ تعالیٰ کے لئے
استعمال کر یں تو ا س میں اللہ کا کیا فائدہ ہے؟ فائدہ کس کاہے …؟تو اللہ تعالیٰ
نے یہ جو نظام کا ئنات اور جب اللہ تعالیٰ کا پروگرام پو را ہو ا جو کچھ اللہ
تعالیٰ نوع انسانی کی شعوری سکت کے مطا بق اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا …الیوم اکملت
…لکم دینکم …کہ آج کے دن دین کی تکمیل ہو گئی۔ نوع انسانی کا جتنا شعور ہے اس کے
مطا بق اس کا ہمیں بتا نا تھا محمد ﷺ کا ہم نے بتا دیا۔ جب وہ بتا دیا تو مزید
پیغمبر آنے کی گنجا ئش نہیں ہے۔ تووقت کا اختتام ہو گیا کیوں ہو گیا …؟ دین کی
تکمیل ہو گئی یعنی اللہ تعالیٰ نے شعوری ساکت کے مطا بق جو کچھ انسان کو سمجھا نا
چا ہا وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت ہے۔
اب
جس انسان کو رہنمائی حاصل کر نی ہے وہ میرے محبوب رسول اللہ ﷺ کی رہنما ئی قبول
کرے اور رسول اللہ ﷺ پر نا زل ہو نے والی کتاب قرآن کریم پر تفکر کریں اگر وہ یہ
نہیں کرتا تو اس کے لئے دین کی تکمیل نہیں ہوئی،یہ بہت سو چنے کی بات ہے۔دین کی
تکمیل ہو گئی کس پر ہوئی حضور پاک پر حضور پاک پر دین کی تکمیل ہو گئی۔اب اگر حضور
پاک کی سیرت طیبہ پر عمل ہوتا ہے تو دین کی تکمیل ہو گئی۔ اگر رسول اللہ کی سیرت
طیبہ پر عمل نہیں ہوتا ہے تو دین کی تکمیل نہیں ہو گئی۔اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت
طیبہ سارا کا سارا قرآن ہے یحبولاللہ…میرے محبوب بندے ﷺ سے جتنی کوئی محبت کرتا
میں اس سے محبت کرتا ہے میں اس سے کئی زیادہ محبت کرتا ہوں تو آدم اور حوا کا یہ
جو قصہ ہے اس کا اختتام اس کالب الباب یہ ہے اللہ تعالیٰ نے جو کا ئنات کا نظام
بنا یا ہے اس نظام کے کچھ قاعدے اور ضابطے بنائے تاکہ نظام میں کوئی فساد برپا نہ
ہو۔
کوئی خرابی نہ ہواور وہ سارا کا سار نظام حضور
پاک نے قرآن کی صورت میں اپنی امت کے سامنے رکھ دیا ہے۔اگر وہ قرآنی نظام آپ
سمجھ لیتے اگر رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا آپ مطا لعہ کر لیتے تو آپ کامیاب
ہیں۔ اور اگر اس کے خلاف زندگی گزر رہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے خود فر مایا …خسرت
دنیا ولاخرہ…دنیا میں بھی گھا ٹا آخرت میں بھی گھا ٹاذلک …یہ تو ہے ہی گھاٹے میں
جتنے اولیا ء اللہ ہیں ان کی تعلیمات ہیں جو انبیاء ہیں۔ جتنے مسلمین ہیں ان کی
بھی یہی تعلیمات ہے۔جو انبیاء علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ
ہم لو گ مادی دنیا میں اتنا زیادہ مگن کہ ہمیں اللہ اور اللہ کے رسول کے قانون کا
احسا س ہی نہ رہا۔ہم اللہ کے رسول کی زبانی محبت کا دعوی ٰ تو کر سکتے ہیں لیکن جب
رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا معاملہ آتا ہے وہاں ہمیں کہیں ہم دوسروں کو تو بہت
نصیحت کر تے ہیں۔
اپنے
گریبان میں جھا نک کر کبھی نہیں دیکھتے ہر آدمی اس کی فکر میں ہے کہ میں اس کی
اصلاح کر و۔ہر آدمی اس بات میں بڑے ذو ق وشوق میں کہ میں اس کی اصلاح کر دو ں،میں
اس کو اچھا کر دوں، میں اس کو یہ مشورہ دے دوں۔جب تک انسان کی اپنی اصلاح نہیں ہو
گی وہ دوسرے کی اصلاح کا اگر دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنی ذات کو دھو کا دیتا ہے۔
حضرت عمر کا بڑا مشہو ر واقعہ ہے اس میں میں ختم کرتا ہوں دیر بہت ہو گئی ایک
خاتون حضرت عمر کی خدمت میں ایک بچے کو لیکر آئی اس نے کہا یاامیرو المومینین
میرا بچہ گڑ بہت کھاتاہے۔ آپ نے سنا ہوگا میرابچہ گڑ بہت کھا تا ہے اور میرے
حالات ایسے نہیں ہیں یہ اتنا گڑ کھلاسکو ہے میں اس کو اتنا گڑ فراہم کروں حضرت عمر
نے یہ سنا اور سنے کے بعد فرمایا اایک ہفتے کے بعد لیکر آنا۔ ایک ہفتے کے بعد پھر
لیکر آئی تو حضرت عمر نے اس سے کہا بیٹا تمہاری اماں پریشان ہوتی ہیںگڑکم کھا یا
کر وہ ان کو پریشانی نہ ہو جب وہ خاتون چلیں گئیں۔
دوسرے
جو وہاں صاحبان بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے پو چھا یاامیرالمومینین یہ بات کہنے کے
لئے آپ نے ایک ہفتہ انتظار کر وایا یہ تو اسی دن کہے دیتے، آپ نے جواب دیا بات
یہ ہے کہ مجھے خود گڑ کھا نے کا بہت شوق تھاتو میں نے ایک ہفتے پریکٹس کی ہے میںگڑ
نہ کھاؤ ں اب میری بات کاا س کے اوپر اثر ہو گا۔اگر میں پہلے دن کہے دیتا تو اس کے
اوپر اثر نہ ہوتا تو ہماری صورت یہ ہے کہ ہم اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہیں کر تے ہر
آدمی دوسرے آدمی کی اصلاح میں لگا ہوا ہے۔اب میں تھک گیا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب
کو خوش رکھے اور اس مبارک محفل میں آپ سب حضرات کی تشریف آوری کا بہت شکریہ،
انتظامیہ مراقبہ ہال کا بہت شکریہ، اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے اپنے سے ہم نے جو کچھ
سنا اس کو سمجھیں اور اس پر عمل رک نے کی ہمیں توفیق عطا فرما ئے اور رسول اللہﷺ
کی نسبت سے اولیا ء اللہ سے ہمیں محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین یارب
العالمین۔
اختتام