Topics

شب برات کیا ہے؟اور اس رات میںکیا ہوتا ہے اور اس کی فضلیت کیا ہے؟

 

 

اعوذ با اللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

آج کی رات شب برات ہے اور اس را ت کی منا سبت سے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ارشاد فرما یا ہے رزق دیا جا تا ہے رزق سے مراد ہم لوگ رو ٹی کپڑا مکان نہیں کہتے رزق سے مراد امیر لوگ سمجھتے ہیں کہ بھئی کھانا کھا لیا گو شت کھا لیا پا نی پی لیا لیکن رزق جب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رزق سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ وسائل کا تذکرہ فرما تے ہیں کہ تواللہ تعالیٰ وسائل تخلیق کرتا ہے تو آج کی رات وسائل کی تخلیق کی رات ہے اور وسائل میں کھا نا پینا شا دی بیاہ اولاد عزت ذلت سب ہی کچھ چیزیں وسائل کے ضمرے میں آجا تی ہیں کارو بار ملا زمت صحت و تندرستی۔ اب میری طبیعت کل سے بہت خراب ہے میرا مطلب یہ ہے کہ آج کی رات ایسی رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں وسائل تقسیم کرتا ہے، اب یہ بات سمجھ میں نہیں آتی آج ہی کی رات کیوں وسائل کی رات، اللہ تعالیٰ نے کہی کہ وسائل تقسیم ہو تے ہیں وسائل تو سارے سال ہی تقسیم ہوتے رہتے ہیں اب سال میں کتنے ہو تے ہیں تین سو پیسنٹھ دن، تین سو پیسنٹھ دن میں کوئی دن ایسا نہیں ہوتا کہ جس دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے وسائل کی تقسیم نہ ہوتی ہو۔

 اصل میں یہ سمجھنے کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے کائناتی ایک سسٹم ہے اس کا ئناتی نظام پر جب غو رو فکر کرتے ہیں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ ہمارے نظام میں کوئی بھی خلاء نہیں ہے کوئی بھی نقص نہیں ہے مثلا ً سورج لا کھوں کروڑوں سال سے مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوب جا تا ہے تو لاکھوں کروڑوں سال کی تاریخ میں ایک دن بھی ایسا نہیں ہے کہ اگر سورج بجا ئے مشرق سے نکلنے کے مغرب سے نکل آیا ہو۔

سورج کا طلوع ہونا اور سورج کا غروب ہو نا ہمیں اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سورج جب غروب ہو جا تا ہے تو رات ہو جا تی ہے اور سورج جب طلوع ہوتا ہے تو دن ہو جا تا ہے دن کے بارے میں ہمارے یہ تصورات ہیں کہ انسان کے کا روبارے کے لئے دن بنایا اللہ تعالیٰ نے محنت کے لئے دن بنایا اور رات آرا م کے لئے نیند کے لئے اللہ تعالیٰ نے بنا ئی لیکن ساتھ ساتھ ہم جب رات اور دن کو قرآن کے نقطے نظر سے سمجھ لیں تو یقین کر تے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا نظام ہماری اس طرح سمجھ میں آتا ہے کہ نظام دو طرح کام کررہے ہیں ایک رو حانی نظام ہے اور ایک ما دی نظام ہے جب بھی رو حانی نظام کا تذکرہ آتا ہے تو اس میں رات کا تذکرہ ہے مثلاً شب برا ت لیلتہ القدر مثلا ً شب برات لیلتہ القدر کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ رات ہزار مہینوں سے زیادہ افضل ہے اور اس میں ملائکہ اور فرشتے سلامتی کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں اور لوگ ان کے لئے دعا کر تے ہیں اب یہ ہے کہ جو لوگ اچھے لوگ ہو تے ہیں جن کے اندر روحانی تعلیم ہوتی ہے وہ ان فرشتوںکو دیکھتے بھی ہیں ان فرشتوں سے مصافحہ بھی کر تے ہیں، فرشتے ان سے بات بھی کر تے ہیں اب یہ فرشتے جو بات کر تے ہیں یہ عام رات کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہر رات جو ہے یہ بات کر تے ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لیلتہ القد ر خیرمن …کہ لیلتہ القدر جو ہزار مہینوں سے افضل ہے ہزار مہینے میں تیس دن اور تیس رات تو ہے تو اگر رات کو ایک حواس شمار کر لیں اور دن کو ایک حواس شمار کر لیں حالانکہ دن میں جو لاکھوں حواس کام کر جاتے ہیں اگر آپ رات کو ایک ہی حواس مان لیں اور دن کو ایک ہی حواس تسلیم کر لیں تواس کا مطلب ایک ہزار مہینے کا یہ ہوتا ہے تیس ہزار را تیں اور تیس ہزار دن یعنی ایک مہینے میں ایک مہینے میں آدمی جتنا سفر کرتا ہے یعنی ایک رات میں جتنا آدمی سفر کرتا ہے ایک رات اور دن میں تو لیلتہ القدر میں انسان ساٹھ ہزار تو ساٹھ ہزار سفر کرتا ہے ساٹھ ہزار سے سفر کا مطلب یہ ہے کہ انسان کے اندر جو شعور کام کر رہا ہے اتنا طاقت و ر شعور، اگر آپ کی سامنے ہلکا سا کاغذ بھی رکھ دیا جا ئے شعور کہلا ئے گا اب لیلتہ القدر میں یہی شعور ساٹھ ہزار گناہ ہو گااور وہ شعور ساٹھ ہزار گناہ زیادہ ہو جاتا ہے توانسان کے اندر وہ صلاحیت بیدار ہو جا تی ہے جو صلاحیت فرشتوں کو، حضرت جبرا ئیل علیہ السلام کو دیکھتی بھی ہے ان سے مصافحہ بھی کرتی ہے، سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کاجب معراج کا جب تذکر ہ آتا ہے تو وہاں بھی راتوں رات اپنے بندوں کے لئے گیا مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور پھر آپ نے سارا معراج شریف کا قصہ بھی سنایا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گفتگو کر نااور اللہ تعالیٰ کو دیکھنا اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کر نااللہ تعالیٰ کے بنائے ہو ئے فرشتے ملائے اعلیٰ سے مصافحہ کرنا یہ ساری صلاحتیں رات میںبیدار ہوتی ہیں دن میں نہیں۔

 حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور چا لیس را توں میں پو را کر دیا وہاں بھی یہی ہے اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ موسیٰ سے تیس دنوں کا وعدہ کیا اور چا لیس دنوں میں پورا کر دیا وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے فرما یا رات ہی کا تزکرہ کیا ہے۔

 جب اللہ تعالیٰ وسائل کی تقسیم کا ذکر فرما تے ہیں تب بھی رات کو لیلتہ شب برات میں وسائل تقسیم کر تے ہیں علوم تقسیم کر تے ہیں تو اب ہمارے سامنے ایک ظاہری اعتبار سے ایک سسٹم نظر آتا ہے ظاہری اعتبارسے جو زندگی ہمارے سامنے ہے وہ یہ ہے کہ ہم دو حواسوں میں زندگی گزارتے ہیں ایک حواس وہ ہیں جو دن میں کا م کر تے ہیں اور ایک حواس وہ ہیں جو رات میں کام کر تے ہیں تو اب ہم یوںکہے گے دن کے حواس میں انسان شعوری اعتبارسے پا بند ہوتا ہے ٹائم اسپیس میں بند ہوتا ہے اس کی جو صلاحیت ہے وہ ایک گھنٹے میں تین میل کی، لیکن اگر وہی انسان اگر رات کے شعور میں داخل ہو جا ئے تو اس کی صلاحیت اتنی ہے کہ یہاں بیٹھ کر وہ تصور کرتا ہے اور عرش اس کے سامنے آجا تا ہے یہ صلاحیتوں کا جب بھی تذکرہ آپ قرآن پاک میں صلاحتوں میں پڑھیں گے حدیث شریف میں پڑھیںگے وہاں یہی تذکرہ ہو گا کہ رات کواللہ تعالیٰ نے روحانی صلاحیتوں کی بیدار ہو نے کا رات کا جو نظام بنایا ہے وہ یہ نظام ہے کہ رو حانی صلاحتیں بیدار ہوتی ہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ ہے وہ بھی رات کا حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کاکے خواب کا تذکرہ ہے وہ بھی رات کا ہے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی تلاش وہ بھی رات کی تلاش باطن سے متعارف کرتی ہے جو ر ات کی تلاش کر تے ہیں وہ بھی با طن تذکرہ ہے۔

پہلے ستا رے دیکھئے پھر چا ند دیکھا رات گزر گئی حضرت یوسف علیہ السلام کے قصے میں رات کو خواب دیکھا اپنے والد بزرگ سے کہتے ہیں میں نے رات خواب دیکھا، تو میںنے رات خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چا ندسورج مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔

یہ بھی خواب رات کے حواس میں انہوںنے خواب دیکھا اور حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرما یا کہ جو تم نے خواب دیکھا ہے اسی طرح ہو گا اور اللہ تعالیٰ تجھے عزیز کر ے گا اور مر تبہ عطا فرما ئے گا اور جو پیغمبری جو تھی یہاں بھی رات کا ہی تذکرہ ہے حضرت یعقوب علیہ السلام کا جب تذکرہ آتا ہے تو پو ری بائبل بھر ی ہے وہ بھی رات کا تذکرہ تو جب روحانی سسٹم کا تذکرہ آئے گا تو وہاں را ت کا تذکرہ ہو گا اور جو روحانی سسٹم سے ہٹ کر دن کا تذکرہ آئے گا یعنی مادیت کا تذکرہ آئے گا ساتھیوں کا تذکرہ آئے گا محدودیت کا تذکرہ آئے گا تو دن کا تذکرہ آئے گا دن میں ہر آدمی محدودیت ہے ویسے بھی آپ تجر باتی طور پر دیکھ لیجئے دن میں آپ جب چلتے ہیں پھر تے ہیں کام کر تے ہیںآپ محدودیت کے بغیر دن میں کوئی کام کرہی نہیں سکتے گھنٹوں میں منٹوںمیں دنوں میں ہفتوں میں مہینوں میں بہر حال آپ محدودیت کے علاوہ دن میں سفر نہیں کر سکتے لیکن جب آپ رات کو سوجا تے ہیں اب سونے کے بعدآپ خواب دیکھتے ہیں خواب میں کبھی آپ دیکھتے ہیں کہ آسمان میں پرواز کر رہے ہیں کبھی آپ دیکھ رہے ہیں دا تا صاحب کے یہاں پہنچ گئے کبھی آپ دیکھتے ہیں سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی زیارت سے مشرف ہو گے ہیںکبھی آپ کچھ دیکھتے ہیں کبھی آپ کچھ دیکھتے ہیں لیکن رات کا جناب ٹائم اینڈ اسپیس میں بند نہیں ہے۔

 بند کر دیکھنا ٹائم اسپیس کے بغیر تو اب یہ بات سمجھ میں آگئی کہ اللہ تعالیٰ کے وہ معاملات جو روحانیت سے متعلق ہے وہ سب کا سب رات ہے اور زندگی کے وہ معاملات جو انسان کو اللہ تعالیٰ سے دور کرتے ہیں وہ انسان کو محدود دا ئرے میں متعین کر تے ہیں وہ سب کے سب دن کے حواس ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس رات میں میں وسائل تقسیم کرتا ہوں،رزق تقسیم کرتا ہوںوسائل اللہ نے آپ کو بتا دئیے وسائل میں سب چیزیں ہیں گا ڑی بھی ہے گھر بھی ہے شادی بھی ہے بچے بھی ہیں والدین بھی ہے کھا نا، پینا، پہنا، اوڑنا بچھونا گھر بار، سفر، دولت عزت، بے عزتی، غربت امارت سب یہ رزق کے دا ئرے میں آتے ہیں وسائل کے دائرے میں آتے ہیں تو جب اللہ تعالیٰ یہ فرما تے ہیں کہ اس رات میں میں وسائل یا روح تقسیم کرتا ہوں تو اس طرف ہمیں توجہ کرنی ہے کہ اس رات کے بارے میں ہی کیوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ کیوں کہ وسائل تو ہمیں ہر وقت ملتے رہتے ہیں اب ہوا ہے، ہوا بھی زندگی کا ایک وسیلہ ہے۔

 اب ہوا یہ کوئی رات ہی کو چلتی ہے دن کو نہیں چلتی پا نی ہے پا نی بھی زندگی کے لئے وسیلہ ہے اب یہ نہیں کہے سکتے کہ پا نی رات کو ہوتا ہے دن کو نہیں ہوتا۔ اسی صورت سے ہمارا چلنا ہمارا پھر نا ہمارا سانس آنا جسم کے اندر دوران خو ن جسم کے اندر جتنے اعضاء ہیں ان کا متحرک ہونا یہ رات دن میں مقرر نہیں ہے یہ رات کو بھی اسی طرح چلتے ہیں دن کو بھی اسی طرح چلتے ہیں لیکن اگر وسائل موجود نہ ہو تودنیامیں آپ نہ دن میں حرکت کر سکتے ہیں نہ رات میں حرکت کر سکتے ہیںوسائل ہو نگے تو آپ دن میں حر کت کر یں گے اور وسائل ہو نگے تو آپ رات میں حرکت کریں گے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کا جو سسٹم ہے یعنی مادی دنیا کو چلانے کے لئے جو سسٹم اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے اس کا تعلق رات کے حواس سے ہے۔ اللہ تعالیٰ وسائل رات کو جو تقسیم کرتے ہیں اس سے دن کاتعلق ہے اور اسی کا تعلق رات سے ہے۔

 قرآن پاک میں اور آپ کو تصوف کی کتا بوں میںبھی ملے گا، قلندر بابا اولیائؒ نے کہا تھا وہ یہ ہے کہ دنیا کا جونظام وہ پو را کا پوراآسمانی نظام کا چربہ ہے یہاں کچھ ہوتا ہی نہیں ہے جب تک کہ آسمانی نظام نہ ہو اب مثلا ً میںہاتھ ہلا رہا ہوں میں یہ ہاتھ اس وقت تک نہیں ہلا سکتا جب تک کہ آسمانوں میں یا لوح محفوظ میں یانظام میں اس کے ہلانے کا عمل نہ ہو۔ اورویسے بھی آپ یہ دیکھیں کہ ہر انسان اس بات کا تجر بہ رکھتا ہے کہ زندگی کا کوئی عمل اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک اس عمل کے بارے میں آپ کے دماغ میں خیال کے بارے میںنہ ہو خیال کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہاں سے آتا ہے خیال کے بارے میں یہ علم ہے ہی نہیں کہاں سے آتا ہیء ہمیں تو یہ بھی علم نہیں ہے کہ خیال ہے کیا خیال آیا مر کزی مراقبہ ہال چلو، ہاں چلو خیال آیا گھر چلنا چا ہئے، آپ گھر کی طرف روانہ ہوگئے، گھر میں بیٹھے ہو ئے ہیں باہر نکلنے کا خیال ہی نہ آئے آپ اتنے سارے لوگ بیٹھے ہو ئے ہیںآپ بتائیے کوئی آدمی گھر سے با ہر نکل سکتا ہے؟

 بھئی گھر میںبیٹھے ہو ئے ہیں ایک ہفتے تک آپ کو یہ خیال نہ آئے کہ دروازے سے با ہر جا ناہے کیا آپ دروازے سے با ہر نکل سکتے ہیں ایک ہفتے تک آپ کو یہ خیال نہ آئے کہ رو ٹی کھا نی ہے تو کیا آپ رو ٹی کھا سکتے ہیں؟ چا ر دن تک آپ کو یہ خیال ہی نہ آئے کہ سو نا ہے کیا آپ سو سکتے ہیں؟ سونے کے بعد آپ کو یہ خیال نہ آئے کہ بیدار ہو کہ چا ر پا ئی سے اٹھنا ہے تو کیا آپ چارپائی سے اٹھ سکتے ہیں؟ آپ کو شا دی کا خیال نہ آئے تو کیا شادی بغیر خیال کے ہوجائے گی؟ آپ کو اولاد کا خیال نہ آئے تو آپ کیا اولاد ہو جا ئے گی؟۔

جتنا بھی آپ اپنی زندگی کے بارے میں جتنا بھی اسپیس میں چلے جا ئیں آپ کے سامنے ایک ہی جواب ہو گا تو انسان کا کوئی عمل کوئی جذبہ کوئی تقاضہ خیالات کے بغیر نہیںہو سکتا صبح کو آپ اٹھیں دفتر جا نے کا خیال ہے دفتر چلے جا ئیں گے دفتر جا نے کا خیال نہیںہے آپ جا ئیں گے ہی نہیں اب تسلسل اتنا زیادہ ہے اب آپ سوچ رہے ہیں یہ ہم کر رہے ہیں لیکن وہی آپ وہی بات ہے آپ کو اگر خیال نہ آئے آپ کیا کر یں گے اب خیال جہاں سے آرہا ہے وہ کہاں سے آرہا ہے وہ بہت بڑی بات ہے لیکن مختصر بات یہ ہے کہ روح اب وہ آپ کو خیال دے رہی ہے کہ تم زندہ ہو یا آپ کو خیال منتقل کر رہی ہے یہ تمہا ری رو ح ہے روح کو خیال منتقل کر رہی ہے یہ تمہا را شوہر ہے اگر جسم انسانی سے رو ح اپنا رشتہ منقطع کر لے تو اس کے بعد کی کیا پو زیشن ہو گی؟

کیابیوی آپ کی بیوی ہے، کیا شو ہر آپ کا شو ہر ہے، بچے آپ کے بچے ہیں کیا آپ پا نی کا ایک گھونٹ پی سکتے ہیں، آپ کو سردی لگ سکتی ہے، گر می لگ سکتی ہے، آپ کا پو سٹ ماٹم کر کے آپ کی ہر چیز نکال لی جا ئے اور آپ احتجاج نہیں کر تے بھئی اگر آپ کا جسم ہی سب کچھ ہے یعنی اس کا مطلب ہے رو ح جو ہے وہ اصل چیز ہے اورروح کے ذریعے آپ کو خیالا ت منتقل ہو رہے ہیںروح ہے تو خیا لا ت ہیں روح نہیں ہے تو خیالات نہیں ہے، روح ہے تو آپ زندہ ہیں روح نہیں ہے تو آپ زندہ نہیں ہے، روح ہے توآپ کے اندر حر کت ہے رو ح نہیں ہے تو آپ اندر حرکت نہیں ہے، اب جب خیال کے بغیر آپ کی زندگی کا کوئی عمل ہوتا ہی نہیں ہے تو آپ خیال کے علاوہ کیا ہو ئے؟اب خیال کہاں سے آتا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ خیال روح کو کہاں سے ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے بیان کر دہ قانون کے تحت قرآن شریف میں بھی خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے روح کو خیال لوح محفوظ سے منتقل ہوتا ہے اب اس کا مطلب یہ ہے کہ جو خود لوح محفوظ میں ہیں وہی دنیا میں ہے اور جو لوح محفوظ میں نہیں ہے، وہ نہیں ہے۔

 بس یہ بات طے پا گئی ہے قرآن کے ارشاد کے مطا بق پیغمبروںکے فرمان کے مطا بق کہ یہاں لوح محفو ظ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے جو چیز لو ح محفوظ میں ہے وہ دنیا میں ہے اور جو چیز لو ح محفوظ میں نہیں ہے وہ دنیا میں نہیں ہے۔ اب اس سے یہ پتا چلا لوح محفوظ ایک ایسا دائرے عمل ہے ایک ایسا طریقہ کار ہے یا ایک ایسا اللہ تعالیٰ کاہیڈ آفس ہے جب تک وہاں منظوری نہ ہو جا ئے جب تک لوح محفوظ پر عمل درآمد نہ ہو جا ئے یہاں کوئی عمل نہیں ہو سکتا، اب اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک سسٹم ہے اور ایک نظام ہے اور وہ نظام وابسطہ ہے لو ح محفوظ سے لوح محفوظ سے کچھ ہو گا تو وہ یہاں ہو گا مثلا ً لو ح محفوظ میں خیال آئے گا تو رو ح میں بھی آپ کا خیال آئیگا، جسم میں اب اگر روح نکل جا ئے تب بھی جسم بے جان ہے اگر رو ح کو لوح محفوظ سے خیال نہ آئے تب بھی آپ کے جسم پر کوئی خیال وارد نہیں ہو گا تو اب یہ طے ہو گیا ہے اللہ تعالیٰ کا نظام ہے ایک سسٹم ہے اور جو لو ح محفوظ کا نظام ہے سسٹم ہے پوراکا پو را عمل پیراہے اس زمین پر۔

 اب زمین میں آپ دیکھتے ہیں یہاں آفس ہیںزمین میں آپ دیکھتے ہیں یہاں کا رو بار ہے فیکٹریا ں لگی ہوئی ہیںانسان پیدا ہو رہے ہیں جوان ہو رہے ہیں بو ڑھے ہو رہے ہیں پیدا ہو رہے ہیں پھر مررہے ہیں پھر جوا ن ہو رہے ہیں یہ سب کیا ہے یہ لوح محفوظ کے علاوہ کچھ نہیں ہے سب کچھ لوح محفو ظ سے ہے تو وسائل کی جب تقسیم ہو گی تو پہلے لوح محفوظ پر عمل درا مد ہو ہوگا پھر اس دنیا میں وسائل بھی تقسیم ہو نگے اور لوح محفوظ رات کے حواس کا نام ہے،لوح محفوظ دن کے حواس کا نام نہیں ہے لوح محفوظ ایک تختی ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے سارا کا ئناتی نظام سیٹ کر دیاہے، کمپیوٹر ایسا کمپیوٹر جس میں پو را نظام اللہ تعالیٰ نے تقسیم کر دیا ان کمپیوٹر کو چلا نے والے لوگ کو ن ہیں کمپیوٹر کو چلا نے والے لوگ بھی تو ہونے چا ہئے اس کمپیوٹر کو چلا نے والے لوگ انسان ہیں اور یہ بات قرآن سے ثابت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا میں زمین میں اپنا نائب اور خلیفہ بنا نے والا ہوں نا ئب اور خلا فت کا مطلب ہی یہ ہے کہ ایسی تخلیق کر رہا ہوں جو میرے اختیارات کو استعمال کر ے خلییفہ کا مطلب نا ئب کا مطلب جیسے نا ئب صدر نائب وزیر اعظم مقصد وہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان فرمایا ہے کہ میں نے آدم کو زمین میں اپنی نیابت اور خلا فت کے اختیا رات منتقل کر دئیے اور وہ نیا بت ا ور خلا فت کے اختیارات منتقل کرنے کے بعد فرشتوں سے آدم کی حاکمیت قبول کرنے کا عہد بھی لے لیا یعنی آدم کو جب فرشتوںنے سجدہ کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدم کو فرشتوں نے خدا مان لیا رب ما ن لیا، اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم کی حاکمیت کو بحیثیت محکوم ہونے کے فرشتوں نے قبول کر لیا اب دو باتیں آپ کے سامنے ہے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جو نظام ہے وہ سا را کا سارا لو ح محفو ظ پر متحرک ہے اس نظام کو چلا نے والے انسان ہیں اور ان انسانوں کے آگے عمل درا مد کرنے والے کون ہیں جب آدم کوفرشتوں نے سجدہ کر لیا توآدم حا کم ہو گیا فرشتے محکوم ہوگئے تو یہ تکوینی نظام کہلا تا ہے قرآن میں بھی ایک نظام تو یہ ہے کہ جو دنیا میں نظام قائم ہے ایک نظام وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے بندے لوح محفوظ پر چلاتے ہیں یا لوح محفو ظ کے نظام کو چلا نے کے پو رے پورے اختیارا ت اللہ تعا لیٰ نے ان بندوں کو عطاکئے ہیں توکا ئناتی جو نظام ہے اس نظام میں دنیا وی نظام کی طرح تیس سال کا پرو گرام ہے چا ہے بچہ ایک دن میں مر جا ئے بھئی آج پیداہوا آج ہی مر جا ئے بس اس کا جو پرو گرام ہے وہ تیس سال کا بنتا ہے اگر کوئی ساٹھ سال کا ہے، اس کا بھی تیس سال کا بنتا ہے بس بنے گا تیس سال کایعنی پروگرام تیس سال کا ہی بنے گا چا ہے وہ وہ دس سال کا ہو کر مر جا ئے پندرہ سال کا ہو کر مر جائے سو سا ل کا ہو کر مر جا ئے اگر وہ سو سال کا ہو کر مر گیاتو اس کے چا رپرو گرام ہو جا ئیں گے، لیکن تیس سال کا پرو گرام وہ تیس سال کا پروگرام پھر دس سال میں تقسیم ہوتا ہے دس سال کے بعد پانچ سال میںاور پا نچ سال کے بعد ہر سال اس پروگرام تجزیہ ہوتا ہے تو یہ شب برات کا پرو گرام یہ ہے کہ ہر اس بندے کا سالانہ پروگرام تجدید ہو گا جو اس دنیا میں موجود ہیں اور یہ سا را جو سسٹم ہے یہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے ہا تھ میں دیا یعنی انسانوں کے ہا تھ میں ہے سب کاسب، تو یہ شب برا ت آج کی جو رات ہے اس میں سالانہ پرو گرام کس کو کتنا دینا ہے کس کو کتنا لینا ہے کس کو عزت ملنی ہے، کس کو اللہ تعالیٰ حفط و امان میں رکھے ذلت ملنی ہے، کون غریب ہو نا ہے کون امیر ہو نا ہے کس نے پیدا ہو نا ہے کس نے مر نا ہے کون سعید ہے کون بد بخت ہے یہ سب آج کی رات میں فیصلہ ہو جا ئے گا۔

 اچھا اب یہ فیصلہ کس طرح ہو نا ہے یہ بات سمجھنے کی ہے اب آپ نے کہا فیصلہ ہوتا ہے، فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک نظام بنایا ہے کہ بھئی اللہ کے لئے جو آدمی خلوص نیت ساری عمر اللہ کے لئے ایک رو پیہ دے گا تو ایک رو پیہ دینے کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں سے اس کودس رو پے، دس رو پے نہیں دس گنادنیا میں ملے گا اور ستر گنا آخرت میں ملے گا لیکن اگر اس نے اللہ کے لئے ایک رو پیہ خرچ کر نا ضروری تھا اور اس نے ایک رو پیہ خرچ نہیں کیا تو دس گنا دنیا سے کا ٹ کر ستر گنا آخرت میں دینا ہوگا، جو دینا لینا جو کچھ ہے دونوں ساتھ ساتھ ہوتا رہتا ہے اب اس کی مثال حضور قلندربابااولیا ء ؒ نے یہ فرما ئی جیسے میں آپ کے گھر گیا اب میرے ذہن میں یہ بات آئی میں آپ کے گھر آیا ہوںآپ مجھے چائے پلا ئیں گے عزت سے بیٹھا ئیںگے چائے پیلا ئیں گے پا نی پیلائیں گے، میرے ذہن میں یہ بات ہے کہ آپ میرے اوپر ایک رو پیہ خرچ کر یں گے آپ نے ایک رو پیہ خرچ نہیں کیا نہ مجھے گھر میں بیٹھا یا نہ مجھے پا نی کا پو چھا نہ مجھے چا ئے پلا ئی میں آپ کے گھر سے آگیا آپ نے کچھ نہیں کیا اب یہ دیکھئے کچھ نہیں ہوا، اب حساب کتاب کچھ نہیں ہے اب آپ میرے گھر آگئے جب آپ میرے گھر آگئے اگر میں نے آپ کے اوپر ایک رو پیہ خرچ نہیں کیا تو میرے خانے میں سے دس نیکیاں دنیا میں سے تو ختم ستر گنا آخرت سے کم، کیوں کہ اس لئے کہ میں نے آپ کے ساتھ ایک رو پیہ خرچ کرنے کی توقع وابستہ رکھی آپ نے تو توقع نہیں کی تھی، وہ آئے گا تو میں ایک رو پے کی چا ئے پلاؤ ںگا میں نے کر لی تو اس طرح سارے سال کا حساب ہوتا ہے سارے سال کاحساب ہوتا ہے کہ آپ نے کتنا اللہ کے لئے خرچ کیا کتنا آپ نے اللہ کے نام پر تو خرچ کیا لیکن وہ اللہ کا نام ہی نام تھا، اس میں دیکھاوا تھا، تو اس دیکھاوے کے جتنے ہی وسائل آپ کے کٹ گئے،اس لئے آپ کے پیسے بھی کٹ جا ئیں گے، اس میں آپ کی صحت بھی کٹ جا ئے گی اس میں آپ کی عزت بھی کٹ جا ئے گی،ہر وہ چیز کٹ جا ئے گی جس کے آپ مستحق ہوسکتے ہیں اگر آپ نے اللہ کے لئے دیا اس میں دیکھا وا نہیں ہے تو آپ کے حساب میں دس گنا یہا ں اضافہ ہو جا ئے گا اور ستر گنا وہاں آخرت میں اضافہ ہو جا ئے گا۔

آج کی رات میں یہ سارا کا سارا حساب کتاب کھاتے بن کے چلے جا تے ہیں اور یہ اللہ کے بندھے نیک بندے جو اللہ تعالیٰ نے اپنا نا ئب اور خلیفہ کہا وہ اس کو دستخط کرتے ہیں پاس کر تے ہیں اب یہ دیکھئے یہ بڑی عجیب بات ہے کہ اربوں کھر بوں سنکھوں مخلوق اس مخلوق میں آپ یہ نہیں سمجھیں کہ یہ انسان کا ہی سارا حساب کتاب ہوتا ہے، چیونٹی کابھی ہوتا ہے مچھر کا بھی ہوتا ہے مکھی کا بھی ہوتا ہے پر ندے کا بھی ہوتا ہے چرندہ درندہ یعنی زمین میں جو بھی کچھ ہے سب کا ہوتا ہے اور سب کے لئے اللہ تعالیٰ وسائل قائم کر دیتے ہیں اس کو اتنا کھا نے کو ملے گا اس کو اتنا پہنے کو ملے گا اس کو نہیںملے گااس کوملے گا لیکن ایک بات کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے کہ رو زی جس نفع، نقصان دینے کی چیز ہے، کھا نا پینا پہننا،گھر، یہ اللہ تعالیٰ نے کہا یہ میںنے اپنے اوپر لے لیا ہے تو یہ آدمی کو یہ فقیر ہو سخی ہو کوئی بھی ہو میں اسے دیتا ہوں لیکن اب یہ ہے نہ کہ آپ کو روٹی ملتی رہے کھانے کو، کپڑے ملتے رہے پہنے کو، آٹھ دس فٹ کا کمرہ مل جا ئے رہنے کو اب یہ بھی تو وسائل ہی ہیں روکھی سو کھی مل جائے، چٹنی سے اب یہ بھی وسائل ہیں آپ کابہت اچھا گھر ہو بڑا سارابہت سارے کمرے ہوں اس میں آسائش و آرام کا سارا سامان ہو آپ کے دستر خوان پر دس بیس آدمی کھا نا کھا ئیں، آپ کے پاس اچھی گاڑی ہو آپ کے پاس بہترین لباس ہو، تو گزراہ تو دنوںکا ہو رہا ہے جس کے پاس ایک کوٹھری ہے اس کا بھی گزارہ ہو رہا ہے جس کے پاس دو جو ڑے کپڑے ہیں اس کا بھی گزارہ ہو رہا ہے جس کے پاس بہت کپڑے اس کا بھی گزارہ ہو رہا ہے تو یہ جو درجہ بندی ہے اس درجہ بندی کا تعین ہے اس بات کا کہ اس بندے نے خلوص نیت کے ساتھ اللہ کے ساتھ کیا کام کیا، اللہ کے راستوں میں اس نے کیا خرچ کیا، اللہ کے لئے اس نے کتنی عبادت کیں، کتنی ریاضت کی،کتنی نما زیں پڑھیں، کتنے رو زے رکھے،نماز رو زہ زکوٰ ۃ سب اس میں آجا تے ہیں اور اللہ کے لئے اس نے کیا کیا، کیا نہیں کیا۔

 اب ایک بات کی میں اصطلاح کر نا چا ہتا ہوں جو بہت ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اس رات میں لوگ عبادت کر تے ہیں اور سمجھا یہ جا تا ہے کہ اس رات میں ہی سب کچھ ہو جا ئے گا حالانکہ وہ تو پورے سال کا حساب کتاب ہے تو اس سال کی عبادت کے ساتھ ساتھ آدمی کے اوپر یہ لازم ہے کہ سارے سال اس بات کا انتظار کر ے اور اس رات کے حساب کتاب کو سمجھے ایسا نہیںکہ سارے سال آپ آپ بے ایمانیاں کر تے رہے سارے سال تو آپ اللہ تعالیٰ کی نا فرما نیاں کر تے رہے سارے سال آپ نے بد دیانتی کی سارے سال آپ نے فضول خرچیاں کیں اور اس رات کو آپ عبادت کر لیں اور ایسا نہیں کہ اس رات کی عبادت کا ثواب بھی ملے گا اس رات کی عبادت کی دعا بھی قبول ہو گی لیکن تبدیلی اسی صورت میں ہو گی جب پورے سال آپ اس رات کے حساب کا انتظار کر یں اور اپنے آپ کو تیار کر یں کہ شب برات بھی آنی ہے ہمارا حساب کتاب ہو گا اس رات میں جتنی بھی دعا ئیں کی جا تی ہیں اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے، اس رات میں جتنی بھی عبادت کی جا تی ہے،اس کا اجر بھی بہت ملتا ہے اس لئے کہ جب حسا ب کتاب ہوتا ہے تو فرشتے اس بات کو دیکھتے ہیں کہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو رہے ہیںعبادت کر رہے ہیں درود شریف پڑھ رہے ہیں سورۃ القدر پڑھ رہے ہیں سورہ کوثر پڑھ رہے ہیں سورہ فا تحہ پڑھ رہے ہیںلیکن یہ جو ہمارا ایک طریقہ کاربڑی رات ہے، بس ساری رات جا گ لیاب سارے سال کچھ بھی کر تے رہے، نہیں یہ طریقہ صحیح نہیں ہے یہ ایسی بات ہے سارے سال آپ بینک سے پیسے نکالواتے رہیں اور سال کے جو آخری دن ہوتا ہے اس دن آپ یہ سمجھیں جی ہمارا بھی بھر جا ئے گا بھئی کیسے بھر جا ئے گا وہ تو بھئی جتنا نکا لو گے جتنا جمع کرو گے وہ ڈیل ہوتا رہے گا تو اس بات کا ضرور خیال رکھنا کہ اس رات کی جو بر کت اور فضلیت ہے اس رات میں جو آپ عبادت کریںاس رات میں جو آپ اللہ کو یاد کر یں وسائل کی تقسیم کی رات میں اللہ تعالیٰ سے آپ کا جتنا بھی رجوع ہو گا ظاہرہے آپ کو ترقی ہو گی لیکن اگر آپ نے اس رات کے بعدمثلاً ایک دن پر گڑ بڑ شروع کر دی تو وہ بینک جس میں آپ کا اکانٹ کھلا ہوا ہے بند ہو جا ئے گا میرا خیال ہے کا فی ہے۔

اختتام

 

Topics