Topics
میزبان
صاحب؛ معزیز سامعین جو ہمارے اسٹوڈیو میں تشریف رکھتے ہیں خواجہ شمس الدین عظیمی
صاحب کے تعارف کے مطابق آپ نے نفساتی، روحانی موضوعات پر بہت سی کتابیں لکھیں ان
کا تعلق نیوکراچی سے ہیں۔پاکستان ٹیلی ویژن میں دوبارہ آپ سے ملاقات کے لئے
بلوایا گیا ہے اس کے لئے بے شمار خطوط آئے ہیں سوالوں کا سلسلہ ہم تھوڑی دیر میں
شروع کریں گے اورساتھ ساتھ میں یہ بھی بتادوں کہ خواجہ صاحب روحانی ڈائجسٹ کراچی
اور روحانی ڈائجسٹ انٹرنشنل کے ایڈیٹر بھی رہے ہیں۔ان کی کچھ کتابیں جو ابھی
پروگرام میں دیکھائی تھیں میں یہ چاہوں گی کہ کچھ اور کتابیں آپ کو دیکھاؤ ں اور
باقی کی کتابوں کا تعارف میں ساتھ ساتھ کرواتی جاتی ہوں اور رنگ و روشنی کا علاج
اور یہ ہے محمد رسول للہ ﷺ جلد اول، محمدرسول اللہ ﷺ جلد دوئم، محمد رسول اللہ
ﷺجلد سوئم،یہ ہے تجلیات،اور یہ جو کتاب ہے یہ عربی میں لکھی ہوئی ہے،اور یہ ہے
نظریہ رنگ و نور،شہرہ آفاق لوح و قلم یہ ہماری آخری کتاب ہے جو کہ عربی میں لکھی
گئی ہے۔اس کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہے عربی میں ہے اردو میں ہے اور انگلش میں ہے
اور یہ بھی عربی میں ہی ہے۔ان کی کتابیں جن کا میں نے تھوڑا سا آپ سے ذکر کیا
میزبان
صاحبہ؛جی سب سے پہلے تو میں آپ سے یہ پوچھنا چاہوں گی کہ اسلام میں روحانیت کے
حوالے سے مسلمان جو نفساتی،معاشرتی،معاشی وسائل سے دو چار ہیں ان کی وجوہات کیا
ہیں اور ان کے حل کے لئے کوئی تدابیر آپ پیش کریں؟
خواجہ
شمس الدین عظیمی صاحب بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ جب ہم پیغمبروں کی تعلیمات پر غور
کرتے ہیں تو پیغمبروں نے ہمیں دو علوم سے آشنا کیا ہے۔ایک ظاہری علوم ہے اور ایک
روحانی علوم ہے۔مثلاً پیغمبروں کی تعلیمات کا نچوڑ یہ ہے کہ انسان دنیا میں رہے کر
تھوڑی جدوجہد کوشش کر کے دنیا کے جتنے بھی وسائل ہیں اسے استعمال کریں اور انر کے
دائرے میں رہتے ہوئے جو شریعت نے متعین کر دیں ہیں ساتھ ساتھ وہ اپنے نفس سے بھی
واقف ہوں اور انر کے بعد وہ اللہ سے بھی متعارف ہوں اللہ سے متعارف ہو نے کے بعد
اس سے آدمی اس سے بھی واقف ہوں جواس کے اندر روح ہے اصل میں ہم جو کچھ سمجھتے ہیں
وہ اپنے فیگر کو سمجھتے ہیں یہ ہی سب کچھ ہے۔ جبکہ یہ فیگر باڈی ہماری اصل نہیں ہے
اصل ہماری روح ہے۔ جب تک ہمارے اندر روح ہے تو ہر قسم کے تقاضے موجود ہیں اور جب
روح نکل جاتی ہے توجسم موجود رہتا ہے لیکن کوئی تقاضہ موجود نہیں ہوتا مثلاًایک
مردہ جسم ہے اس کا جسم تو ٹھیک ہے لیکن اسے نہ بھوک لگتی ہے،نہ پیاس لگتی ہے نہ اس
کے اندر کسی قسم کا کوئی جذبہ پیدا ہوتا ہے نہ اس کے اندر کوئی احساس اجاگر ہوتا
ہے۔
اور جب تک روح ہے تو انگوٹھے میں پیر کے انگوٹھے
میں آپ سوئی چبھ جائے تو دماغ کو محسوس ہو گی لیکن ایک مردہ جسم کا جب پوسٹ ماٹم
کرتے ہیں اسے کچھ پتا نہیں چلتا وہ ہر چیز کاٹ دیتے ہیں تو انسان کی اصل چیز جو ہے
وہ روح ہے اور روحانی علوم سے بے خبری یا روحانی علوم سے دوری وہ مسلمان کو اور پو
ری نوع انسانی کو غیب سے دور کر دیتی ہے اور ردحانی تعلق ہی انسان کو غیب کی دنیا
سے تعلق رکھتا ہے وہ بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ تو مسلمانوں کی زبوحالی،پریشان
حالی،ذلت اور رسوائی جو ہے اس کی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے اسلاف کو چھوڑ کر روحانی
علوم کی طرف سے توجہ ہٹا لی اور اپنی تمام جو توجہ ہے دنیاوی علوم کی طرف کر دی۔
اس کا حل یہ ہے کہ ہم جدید علوم سیکھتے ہو ئے بھی اللہ اور اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے
مطابق قرآن کریم تفکر اور غور کریں اور اس میںسے روحانی علوم کو تلاش کریں۔
جیسے
ہی ہم کامیاب ہو جائیں گے تو ہمارے اوپر سے یہ شک بھی ختم ہو جائے گا اور ہمارے
اوپر جو ذلت اور رسوائی ہے ساری دنیا میں ہم اس سے بھی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔حضور
پاک ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے اپنی روح کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کوپہچان لیا۔تو
اس کا مطلب یہ ہوا کہ جس نے اپنے رب کو پہچان لیا اس نے ساری کائنات کو پہچان لیا۔
ہم اس بات پر غور نہیں کر تے لیکن یہ جو بھی ترقی ہے اس دنیا میں موجود ہے، موجودہ
سائنس ہے یہ بھی اگر کہاجائے تو ایک طرح یہ فلسفہ ہے،فکر ہے،غیب ہے جب انہوں نے
سائنسدانوں نے اس پر ریسرچ کی، تلاش کیا تو موجود ہے،مسلمانوںکے اندر سے تفکر نکل
گیا،ریسرچ نکل گی،غوروفکر نکل گیا،وہ اس طرح سے جوبھکاری بن گیا ہے مسلمان۔ غیر
مسلم ہر نئی ایجاد کرلتے ہیں، جہاز بنا لیتے ہیں تو جب ہم ان کے محروم ہو گئے ہیں
اور ان کے جو مجبور ہو گئے تو ظاہر ہے ہمیشہ دنیا میں جو علوم کی اور ریسرچ کی
ایجادات کی حکمرانی رہی ہے۔
ہمارا
منشاہ اس سے نکل گیا ہے ہم تو بے حال ہو گئے تو اس طرح واحد کام یہ مسلمان اللہ
اور اللہ کے رسول کے احکامات کی تکمیل کریں اور قرآن پاک میں غوروفکر کر کے اپنی
ذات کو اپنے انر کو اپنی روح کو تلاش کریں۔
میزبان
صاحبہ:عظیمی صاحب نماز قائم کرنے کا حکم قرآن میں بار بار آتا ہے اور نماز جو ہے
اسلام کے جو ارکان ہیںان میں سب سے زیادہ اہم رکن ہیںتو آپ ہمیں نماز کے روحانی
اور جسمانی فائدوں سے متعلق بتائیں؟
عظیمی
صاحب :نماز ایک اسلام میں ایسا رکن ہے کہ اور ایسا فرض ہے کہ اس کو کسی بھی حال
میں چھوڑا نہیں جاسکتا اگر وہ قضابھی ہو جائے تو اس کا حکم ہے وہ بعد میں ادا کیا
جائے۔نماز کے جسمانی اور روحانی دونوں فائدے ہیں۔نماز کے جسمانی فائدے یہ ہیں ایک
تو انسان کے اندر وقت کی پابندی پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً وہ جب پانچ وقت کی نماز پڑے
گا تو پتا ہے کہ فجر کی نماز اس وقت ہوتی ہے ظہر کی اس وقت ہوتی ہے۔دوسری یہ کے
نماز کے لئے ضروری ہے کہ آپ پاکیز ہ ہو، صاف ستھرے کپڑے پہنے تو آپ کے اندر
پاکزگی اور طہارت پیدا ہو جائیے گی۔ دوسری یہ کے اجتماعیت بھی ہے آپ جب مسجد میں
جائیں گے تو اپنے محلے والوں سے ملاقات کریں گے۔ تیسری یہ ہے کہ نماز میں تو اگر
آپ غور کریں نما زکے ارکان پر تو یہ ایک مکمل ورزش ہے ایک ایکسرسائز ہے۔
اگر
اس ایکسر سائز کو پورا کردیں یعنی نماز کو صحیح طریقے سے ادا کرلیں تو جسمانی بیماریاں
آپ کی ساری دور ہو جاتی ہیں مثلاً پیٹ کے امراض نمازی لوگوں کو بہت کم ہو گی مثلا
ً یہ کمر کی تکلیف بہت کم ہو گی،مثلا ً یہ کہ مرگی کے دورے سے آدمی نجات پا لے گا
اور یہ جو وہ کیا کہتے ہیں ذہنی خلفشار،پریشانی یہ وہ آدمی دیکھیں جتنے بھی دل کے
مرئض ہو تے ہیں،شوگر کے مرئض ہو تے ہیںان کو ڈاکٹر یہ کہتے ہیں صبح شام ٹہلو سیر کرو۔سیراور
ٹہلنے ہے جو فزیکل ہماری ایکسرسائز ہوتی ہے ہمارے جسم دوران خون تیز ہوتا ہے۔ہمارے
اجسام میں چربی پیدا ہوتی ہے تو جب آپ نماز پڑھتے ہیں تو نماز کے ارکان پورے کرتے
ہیں تو اس میں جسم کے ہر ہر عضو جو ہے وہ متحرک ہو جاتا ہے اور دوران خون تیز ہو جاتا
ہے۔کیونکہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب آدمی نماز کی نیت باندھتا ہے وہ یہ کہتا ہے اللہ
واکبرتو اس طرح یہ ہوتا ہے کہ اس میں دنیا کی ہر چیز کی نفی کر کے واحد ذات اللہ کو
بڑا مان لیا ہے یعنی اس کی جو شعور ی استطاعت ہے وہ لاشعور میں منتقل ہو جاتی ہے اور
لاشعوری استطاعت جو ہے وہ یہ ہے جوانسان کو شعوری طور پر ایکٹیو رکھتی ہے۔
اگر
لاشعوری استطاعت کسی کی کم ہو جائے تو وہ آدمی اتنا سمجھدار اور عقل مند نہیں ہوتا۔عقل
مند اور سمجھدار آدمی وہ ہوتا ہے جو اپنی لاشعوری تحرکات کو شعور میں اس کی پورے معنی
اور مفہوم کے ساتھ قبول کر لیتی ہے۔ تو نماز پڑھنے سے لاشعور ی کیفیات جو ہے بہت اچھی
ہو جاتی ہے شعور طاقت ور ہو جاتا ہے۔اب صبح سویرے سویرے آپ اٹھتے ہیں اب صبح کی سیر
اس میں توفیق جناب آپ کو زیادہ ملتی ہے آپ گھر سے جاکر مسجد میں نماز پڑھ لیں یا
خواتیں گھر میں ہی نماز پڑھتی ہیںاٹھتی ہیں کھلی ہوا ہوتی ہے۔ تازہ تازہ ہوتی ہے جب
انہیں ملتی ہے تو اس سے ان کے پھیپھڑے زیادہ طاقت ور ہو تے ہیں۔ سانس کی نالیان ان
کی زیادہ کھولتی ہیں۔ناک کی بیماریاں بہت زیادہ ختم ہو جاتی ہیں۔اسی طرح وضو کر نا
بھی بہت ضروری ہے۔نماز سے پہلے اب جب آپ وضو کرتے ہے تو آپ کی آنکھیں صاف ہوتی ہیں
منہ صاف ہوتا ہے چہرہ صاف ہوتا ہے۔
اب
دیکھیں آپ جتنا تھکے ہو ئے ہوں آپ منہ دھولیں ایک دم آپ کو فریش ہو جائیں گے۔تو
آپ پانچ دفعہ فریش ہو جاتے ہیں وضو کرنے سے اچھا اس میں آپ یہ دیکھیں کہ صاحب کہیںمنہ
دھونا ہے۔کہیں کہنیاں دھونا ہے پھر سر کو بھی ٹھنڈا کرنا ہے گردن کا بھی مسحہ کر نا
ہے تو پیر بھی دھونے ہیںتو تقریبا ً آدھا غسل ہو جاتا ہے۔ توپانچ وقت آپ نماز کے
پابند ہو جائیں تو پانچ وقت تو آپ روزانہ آدھا غسل کر رہے ہیں۔اب اس غسل کی جو دوسری
پا کیز گی ہے کہ ہم پاکیزگی کے لئے وضو کر رہے ہیں تاکہ ہم اللہ کے دربار میں حاضر
ہو سکیں۔اور اس میں اس جسمانی فوائد کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو بڑی تفصیل
کے ساتھ بیان کیا گیا ہے تو یہاں تو وقت تھوڑا سا ہے۔
تو
نماز کا روحانی فائدہ یہ ہے کہ حضور پاک ﷺ نے فرمایا الصلوٰے المراج المومنیین …کہ
نماز جو ہے مومن کے لئے معراج ہے، معراج جو ہے اس کا مطلب اگر کوئی آدمی صحیح
طریقے سے ادا کر لے تو اس کا تعلق غیب کی دنیا سے ہو جاتا ہے۔فرشتوں سے ہو جاتا
ہے، جنات سے ہو جا تا ہے، اللہ سے ہو جاتا ہے،اللہ کے آسمانوں سے ہو جاتا ہے، یہ
وہ عجائبات سماوئی اور عجائبات ارضی نمازی کے سامنے آجاتے ہیں الصلوٰۃ معراج…پھر
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فر مایا کہ ’’ اگر صحیح طریقے سے نماز ادا کر لی
جائے تو انسان کو نماز تمام برائیوں سے خوہشات سے روکتی‘‘ اس کے علاوہ جب آپ اپنے
انر سے واقف ہو جائے گے تو انر سے آپکا رشتہ قائم ہو جائے گا تو آپ کے اندر ایک
فکری صلاحیت پیدا ہو جائے گی آپ ذہین یکسو ہو جائے گے،آپ کے دماغ میں حکمت آنی
شروع ہو جائیں گی اللہ تعالیٰ کی آپ کو خواب سچے نظر آئیں گے۔ آپ مستقیل آپ کے
اندر صلاحیت پیدا ہو نی شروع ہو جائے گی آپ کے چہرے پر ایک نور آجائے گا۔جو
نمازی ہوتے ہیں دیکھا وے کی نماز نہ پڑی جائے تو ان کے چہرے پر کوئی نور ہوتا ہے
بڑے خوبصورت لگتے ہے۔
آنکھوں
میں ایک قسم کی چمک آجاتی ہے ایک خاص قسم کی ایٹرکشن پیدا ہو جاتی ہے نمازی میں،
تو نماز کے روحانی اور جسمانی فوائد بے شمار ہیں۔بد قسمتی یہ ہے ہمارے یہاں نماز
کے بارے میں سب سے زیادہ کہا جاتا ہے۔بولا جاتا ہے۔تقریریں بھی ہو تیں ہیں لیکن
نماز کی طرف لوگ متوجہ تو ہوتے ہیں نماز قائم بھی کر تے ہیں،ادا بھی کرتے ہیں۔
لیکن نماز کی حکمت پرغور نہیں کرتے۔اگر نماز کی حکمت پر جو روحانی اور جسمانی
فوائد ہیں ان پر غور کیا جائے تو نماز ایک مکمل صابطہ حیات ہے۔
میزبان
صاحبہ:اچھا یہ سوال جو ہے ہمیںکربلا کے ٹرسٹ سے موصول ہو ئے ہیں اور یہ جاوید
اقبال صاحب نے بھیجا ہے وہ پوچھتے ہیں پروردگار سے نزدیک ہو نے کے لئے کس طرح دل
جمی اور توجہ سے عبادت کرنا چاہئے وہ کون سے اسم کا ورد کرنا چاہئے؟
عظیمی
صاحب :یہ بات ہم سب لوگ جانتے ہیں کہ ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے۔ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے
اس بات سے ہر مسلمان واقف ہے کہ ہمیں اللہ دیکھ رہا ہے لیکن یہ بات ابھی ہمارے
یقین میں شامل نہیں ہے کہ ا للہ ہمیں دیکھ رہاہے اب دیکھئے اگر ہمیں یقین ہوجائے
کہ اللہ ہمیں دیکھ رہا ہے تو ہم بہت ساری برائیوں سے محفوظ رہے گے بہت ساری
برائیاں نہیں کریں گے تو اللہ کی جو رسائی حاصل کرنے کاایک تو یہ نماز کا ہی
پروگرام ہے۔نماز اگر آپ صحیح طریقے سے قائم کرلیں تو اللہ سے آپ کا رشتہ قائم ہو
جائے گا۔اللہ تعالیٰ سے اور قربت کے لئے اللہ تعالیٰ کے کسی اسم کاورد کریں مثلاً
یا حیی یا قیوم کا ورد کریں اللہ ھو لا الہ اللہ …کا ورد کریں۔بات یہ ہے کہ اسلام
کے ارکان پر عمل کیا جائے اور ارکان پر عمل کرکے پھر کوئی ورد کیا جاتا ہے تو اس
کا فائدہ ہوتا ہے۔اب اس کے لئے یاحیی یا قیوم پڑھنا بہت مفید عمل ہے۔
میزبان
صاحبہ:اچھا عظیمی صاحب پچھلے پروگرام میں آپ سے بات ہوئی تھی مراقبہ کے بارے میں
تو آپ یہ بتائیں مراقبہ کس وقت کرنا چاہئے اور کس طرح سے کرنا چاہئے؟
عظیمی
صاحب :اصل میں مراقبے کی تکنیک معلوم ہو نی چاہئے تھوڑی سی تو وہ یہ ہے کہ مراقبے
کا مطلب یہ ہے کسی چیز پر اپنے ذہن کو مرکوز کرنا۔قانون یہ ہے کہ دنیاوی اعتبار سے
یا دینی اعتبار سے جب تک آپ کی یہ مرکوزیت قائم نہیں ہو گی، آپ کو کامیابی حاصل
نہیں ہو گی اب مثلا ً آج کل امتحان کا زمانہ ہے بچے امتحان گاہ میں جائیں ان کے
ذہن میںمر کزیت نہ ہو تو کوئی بھی بچہ پاس نہیں ہو ئے گا۔اسی صورت سے آپ کسی گھر
میں ملازم ہیں اوروہاں آپ ذہنی خلفاشارمیں مبتلا ہو جائے تو وہ آپ کو تھوڑی دیر
میں کہیں گا جی جاؤ چھٹی کرو۔تو کوئی بھی
کام جب تک اس میں مرکزیت نہیں ہو گی اس میںکامیابی نہیں ہو گی تو مراقبہ کا مطلب
ہے ذہنی مرکزیت کے حصول کی کی کوشش کی جائے ذہنی مرکزیت حاصل کرنا۔تو مراقبہ ایک
ذہنی مرکزیت حاصل کرنے کا عمل ہے جو نہایت متاثر ہے اور اسکاطریقہ یہ ہے کہ آپ
عارضی طور پر اپنے شعوری خیالات کے ساتھ آزاد ہو کر کسی ایک نقطے پر ذہن کو مرکوز
کریں۔
مطلب
یہی ہے آپ آنکھیں بند کر کے یہ تصور کریں کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے،مجھے اللہ
دیکھ رہا ہے،مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔اللہ تو سب کو دیکھ رہا ہے لیکن میرے یقین میں
یہ بات نہیں ہے کہ یعنی میں اللہ کے دیکھنے کو دیکھ رہا ہوں تو جب ہم بار بار اس
طرف متوجہ ہوں گے تو مجھے اللہ دیکھ رہا ہے،مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تو یقیناایک وقت
ایسا آجائے گا میں یہ دیکھوں گا مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تو میں نے یہ دیکھا کہ
مجھے اللہ دیکھ رہا ہے تو کائنات کا جو حاکم ہے خالق ہے مالک ہے،قادر مطلق ہے۔ جب
آپ نے اس کو دیکھ لیا اس سے آپ کا تعارف حاصل ہو گیا۔اس سے آپ کو قربت ہو گئی
تو اب آپ یہ اندازہ کیجئے آپ کے ذہنی صلاحیت کتنی ہونگی اتنی زیادہ صلاحیت ہو
نگی کہ آپ ضرور دیکھ لیں گے آپ کہکشانی نظام میں داخل ہو جائے گے ۱ور وہاں سے
حکمت تلاش کر چکے ہیں تو مراقبے کا مطلب ہے ذہنی یکسوئی کے ساتھ تفکر کرنا۔
اس کے اوقات ہیں تو بہت اچھے اوقات عشاء کے بعد
سونے سے پہلے وضو کر کے آنکھیں بند کر کے بیٹھ جائیں اور اس تصور کریں کے آسمان
سے نیلی روشنی آرہی ہے اور اس میں بیٹھے ہو ئے ہیں دوسرا وقت ہے صبح بیدار ہو نے
کے بعد مراقبہ کا جو ٹائم ہے وقفہ ہے۔وہ پندرہ سے بیس منٹ تک ہوتا ہے۔اورا س میں
کامیابی میں تھوڑ اوقت لگتا ہے لیکن ہمارا تجربہ یہ ہے کہ تین مہینے کے مسلسل عمل
سے انسان اپنی اندورنی صلاحیت سے واقف ہو جاتا ہے۔اور اس کے اندر سکون داخل ہو
جاتا ہے اگر وہ روتا ہے تو ہنسے لگتا ہے۔اگر وہ پریشان حال ہے تو کہتا ہے نہیں سب
ٹھیک ہو جائے گا۔اللہ سب ٹھیک کر دے گا اس کے اندر ایک یقین پیدا ہو جاتا ہے تو
مراقبہ ایک ایسا عمل ہے جو مسلسل کرنے سے انسانی جسمانی صحت بھی اچھی ہوتی
ہے۔انسان کا حافظہ بھی روشن ہوتا ہے۔ انسان کا ذہن بھی وسیع ہوتا ہے۔ دماغ بھی اس
کا کھل جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اس کے اس دنیا کے بعد کی جو دنیا ہے اسے سے بھی
واقفیت حاصل کر لیتا ہے۔
بات یہ ہے پابندی سے اسے کئے جاؤ اور پابند ی کی بات یہ ہے کہآپ کا بچہ کبھی
اسکول جائے کبھی نہ جائے تو وہ اگلی کلاس میں جائے گا۔
تو
اسی طرح مراقبے کا بھی ہے تو یہ کورس ہے جس میں بسم اللہ …پڑھ کر بیٹھ جائے پاک
صاف ہو کروضو کر کے سو دفعہ دورد شریف پڑھیں۔سو دفعہ یا حیی یا قیوم پڑھیں آنکھیں
بند کر کے تصور کریں کہ آسمان سے نیلی روشنی آرہی ہے میںاس میں بیٹھا ہوا ہوں۔
بیٹھتے وقت ریلکس ہو نا چاہئے جسم جو ہے ڈھیلا ہو نا چاہئے نشست ایسی ہو نی چاہئے
جس کو بار بار آپ تبدیل نہ کریں۔ ماحول ایسا ہونا چاہئے جس میں شور نہ ہو۔ممکن ہو
تو آپ خوشبو لگا لیں اس لئے خوشبو لگانے سے بھی آدمی کا ماحول لطیف ہو جاتا ہے۔
میزبان
صاحبہ :اچھا عظیمی صاحب ایک اور سوال ہمارے پاس آیا ہے۔طارق محمود صاحب نے
برطانیہ سے پوچھا ہے کہ خوشبو اور بدبو کا انسانی شعور سے کیا تعلق ہے؟
عظیمی
صاحب:انسانی شعور کے واسطے سے یہ ہم بتانا چاہے گے آپ کو نوعی شعور جہاں آجائے
گا وہاں ٹائم اسپیس ضرور زیر بحث آجاتا ہے۔شعور کا مطلب ہی اسپیس ہے اور ٹائم کی
پابندی حد بندی ہے تو یہ دو چیزیں ہیں خوشبو بد بوکوئی دو چیزیں نہیں ہیں۔یک ہی
چیز ہے اس کا نام بو ہے۔ اصل چیز بو اب کا نام بدبو رکھ دیں گے تو اس کا نا گوار
اگر کوئی چیز آپ کو ناگوار گزار رہی ہے اس کا نام بدبو رکھ دیا ہے اور اگر وہی بو
آپ کو اچھی لگ رہی ہے اس کا نام خوشبو رکھ دیا جائے گا۔تو جب شعور میں بھا ری پن
پیدا ہو گا تو ہمیشہ بدبو آرہی ہو گی اور جب اس کا شعور لطیف ہو گا تو اس کو
خوشبو محسوس زیادہ ہو گی۔اب اس کے اندر یہ نہیں کہ اس کا شعور لطیف ہے اسے بدبو
آتی ہی نہیںہے۔ مقصد یہ ہے کہ بدبو اور خوشبو میں ناگواری کے احساسات اور خوش
گواری کے احساسات پائے جاتے ہیں۔بدبوشعور کے اندر نا گواری کے احساسات پیدا کرتی
ہے اور خوشبو شعور کے اندر خوش گواری کے احساسات پیدا کرتی ہے۔اب یہی وجہ ہے کہ
خوشبو پرفیوم سے ہوتی ہے۔ عطر سے ہوتی ہے۔اصل میں یہ احساسات کی درجہ بندی ہے طارق
محمود صاحب نے یہ بڑے غور سے سوال کیا ہے یہ اتنا بڑا سوال ہے کہ کم وقت میںاس کی
تشریح مشکل ہے بس بات یہی ہے کہ بدبو جو ہے ناگوار احساسات پیدا کرتی ہے اور خوشبو
جو ہے وہ خوش گوار احساسات پیدا کرتی ہے۔
میزبان
صاحبہ:Thank you آپ
سے ہماری بہت اچھی گفتگو رہی اور بہت سارے ناظرین نے یقینا بہت ساری معلومات ان کو
ملی ہو نگیں بہت سارے حوالوں سے کیونکہ پروگرام کا ٹائم کم ہے اور گفتگو کا سلسلہ
ایسا ہے بہت دیر تک بات ہوتی رہی وہ بھی کم ہے برحال بہت شکریہ آپ ہمارے اسٹوڈیو
میں آئے۔شکریہ بہت بہت شکریہ۔اختتام