Topics

اولیاء اللہ اور سائنسدانوں میں کیا فرق ہے؟ (ورکشاپ میں خطاب)

 

 

گر امی قدر،معزز طالبات اورطلباء رو حانی ورکشاپ کے اورگنائزیشن کمیٹی کے ممبران وقار یوسف عظیمی صاحب، اشرفی صاحبہ اللہ تعالیٰ آپ سب کو خوش رکھے اور اپنی رحمتوں سے نوازے السلام و علیکم جہاں تک ورکشاپ کے انقاد کا تعلق ہے ا ور ورکشاپ سے جو فوائد حاصل ہو تے ہیں اور ترقی کی را ہیں ہوتی ہیں وہ آپ سب پر آشکار ہیں۔ الحمد اللہ ہماری ورکشاپ بار با ر ہونے سے ہمارے ذہن میں یہ پیٹرن بن گیا ہے کہ اس قسم کی نشستیںاس قسم کی علمی تر قی کے لئے اور ہمارے علم میں اضافے کے لئے بھی ضروری ہے اورمفید بھی ہے اس ورکشاپ میں باباتا ج الدین ناگپوری ؒ کی ذات گرامی اور ان کی علمی فضلیت کو سامنے رکھتے ہو ئے ہم نے کتاب تذکر ہ بابا تاج الدین ناگپو ری ؒ کوسامنے رکھا ہے تاکہ ہمیں یہ علم ہو سکے کہ اولیا ء اللہ کی سو چ اور طرز فکر اس طرح کام کرتی ہے اور جب وہ گفتگو کر تے ہیں اس گفتگو میں سمجھنے والوں کے لئے،علم حاصل کرنے والوں کے لئے اور اللہ کا عرفان حاصل کرنے والے لوگوں کے لئے کیا کیا رموز او ر اسرار ہو تے ہیں۔

آپ تذکرہ تاج الدین باباؒ کے سلسلے میں جن سوالات کو پڑھیں گے اس کے اوپر سب لوگ اپنی اپنی ذہنی گہرائی کر یں گے اس میں آپ یہ دیکھیں گے کہ ایک ولی اللہ اور عام انسانوں میں ایک ولی اللہ اور سائنسٹسٹ کے ذہن میں کیا فرق ہوتا ہے۔ہرآدمی اس دور میں آ نکھیں کھول کر دیکھتا ہے اس کے سامنے یہ بات ہے کہ سائنس نے جتنی بھی تر قی کی اس ترقی کے پیچھے کہا تو یہی جاتا ہے نو ع انسانی کے لئے تر قی ہوئی،نوع انسانی کے لئے آرام و آسائش کے لئے ترقی ہوئی، بلاشبہ نو ع انسانی کو آرام و آسائش سے نظرآیا لیکن جب ہم نظریہ کو غیر جانبداری سے دیکھتے ہیں اور گہرا ئی میں جا کر تفکر کر تے ہیں تو ہمیں ایک ہی بات نظر آتی ہے اس کی کسی بھی طرح کی ترقی میں نوع انسانی کی تر قی ممکن نہیں ہے کہ سائنس کی ہر تر قی کے پیچھے دنیا وی منفیت کے علاوہ کچھ نہیں ہے ایک گروہ نے دنیا حاصل کرنے کے لئے، اقتدار حاصل کرنے کے لئے،نام وری کے لئے اور ساری دنیا کو غلام بنا نے کے لئے ایجادات کا سلسلہ شروع کیا۔

 یہ ایجا دات بلا شبہ ذہنی کا وش،ذہنی فکر ریسر چ اورتلاش کی مرہونے منت ہے لیکن ہم یہ دیکھتے ہیں ذہنی کاو ش ہو ریسرچ ہو یا کسی چیز کو کھوج لگاناہو تو وہ اسی وقت ممکن ہے جب انسان کے اندر وہ صلاحیتیں کام کرتی ہو جن صلاحیتوں سے ریسرچ ہوتی ہے۔ جب ہم صلاحیتوں کا تذکرہ کر تے ہیں تو زیر بحث دماغ آجا تا ہے،ذہن آجا تا ہے،حافظہ آجا تا ہے حافظہ دماغ اورذہن میں بارے میں جب بھی آپ غورو فکر کریں گے منصف ہو کر، غیب جا نب دار ہو کر وہ ایک ہی بات آپ کی سمجھ میں آئے گی یا تو دماغ ہو یا ذہن ہو حافظہ ہو ان سب کا تعلق براہ راست اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔اللہ تعالیٰ اگر دماغ نہ دیں، اللہ تعالیٰ اگر ذہن عطا نہ کریں،اللہ تعالیٰ انسان کے دما غ میں حافظے کا پٹرن نہ بنا ئیںتو یہاں نہ کوئی تر قی ممکن ہے،نہ یہاں کوئی آرام اورصحت کی نئی نئی چیز یں سامنے آنے کا بظاہر کوئی امکان ہے۔

 لیکن سائنٹسٹ کو جب ہم دیکھتے ہیں تو وہاں ایک ہی بات نظر آتی ہے وہ دماغ کو بھی اپنا دماغ کہتا ہے،حافظہ کو بھی اپنا حافظہ کہتا ہے اور ذہن کو بھی اپنا ذہن کہتا ہے۔حالانکہ یہ ظاہر ہے کہ اگر کسی سائنٹسٹ کو کسی چیز کو ایجا د کرنے کا خیال نہ آئے یا اسے اس کی انفارمیشن نہ ملے،تو وہ کوئی بھی چیز ایجا د نہیں کر سکتا۔ ایک ولی میں، ایک سائنٹسٹ میں،ایک دنیا دارفلسفہ میں یہی بنیادی فرق ہے ایک ولی کی سوچThinkingیااس کا اظہا ر خیال یا اس کا تفکر اللہ تعالیٰ کی ذات کے گر د گھومتا ہے وہ اس بات کو بر ملا اعلان بھی کرتا ہے اس کی زندگی عملی ثبوت بھی فراہم کرتی ہے کہ یہاں اللہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اللہ اگر خیال نہ ڈالے تو یہاں کچھ بھی نہیں ہوتا۔ کھا نا ہم کھاتے ہیں یہ خیال کا مرہو منت ہے،پانی ہم پیتے ہیں اس کے پیچھے خیال کار فرما ہے آپ غور فرمائیں اگر کسی آدمی کوپیاس نہ لگے یعنی پا نی پینے کا خیال نہ آئے تو زندگی بھر پا نی نہیں پی سکتا اسی صورت سے دو سری بات جو بہت زیادہ اہم ہے اور یہ آپ کے ورکشاپ میں سوال جواب میں کام آئے گی یہ کا ئناتی سسٹم ہے یہ وسائل پرقائم ہے کوئی بھی کام جب اس دنیا میں ہوتا ہے پہلے سے وسائل موجود نہ ہوںتو وہ کام نہیں ہو سکتا۔

 مثلا ً لوہے کے بارے میں آپ غور کریں کہ لو ہا ایک ایسی ضروری چیزہے سائنسی ایجادات میں کہ اس کے داخل سے کسی بھی طرح کوئی بھی طرح کوئی بھی آدمی انکار نہیں کر سکتا اب مثلا ً آپ کہے پلاسٹک کا جوبر تن ہے اس میں لو ہے کا کوئی عمل داخل نہیں ہو سکتا اس میں تو لو ہا نہیں ہے لیکن آپ دیکھیں پلاسٹک کے بر تن کے اندر لوہے کی مشین نہ ہو تو پلاسٹک کا بر تن بن کر آپ کے سامنے نہیں آسکتا۔آپ جب اپنی زندگی کا مطا لعہ کر یں گے تو پیدائش سے لیکر موت تک اورجو کچھ موت کے بعد کی جو زندگی کے علوم ہمیں پیغمبروں سے ملیں ہیںان پر جب آپ غور کر یں گے تو ایک ہی بات آپ کی سمجھ میں آئے گی کہ وسائل پہلے ہو نگے تو کچھ ہو گا۔ مثلا ً ایک آدمی ہے ایک عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطا بق وہ جنت میں جا تا ہے تونیکی جو ہے اس کے لئے پہلے سے وسیلہ موجود ہے ایک آدمی برا ئی کرتا ہے وہ دوزخ میں جا تا ہے۔

 سیدھی سی بات ہے، برا ئی کرنے کا جو عملی نتیجہ مر اتب ہو گا اس کے لئے دو زخ کا وسیلہ موجودہے۔ زمین کو آپ دیکھئے۔زمین نہ ہو تو نہ پھل ہو گا نہ فروٹ ہو گا، نہ درخت ہو نگے کچھ بھی نہیں ہو گا آسمان نہ ہو بارش نہ ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیںومن سمائے …کہ دیکھو آسمان کی طرف کہ ہم نے کیسے اس کو بلند کر دیا۔

نہ اس میں کوئی دڑاڑ ہے،نہ اس میں کوئی ستون ہے، نہ اس میں کوئی پیلر ہے، نہ اس میں کوئی دیوار ہے ومن سمائے کیفہ…یعنی بلندی کے بار ے میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے انسان کے لئے ایک رفعت حاصل کرنے کے لئے بھی ایک وسیلہ بنا یا ہوا ہے ومن سمائے…کہ جب انسان اس وسیلے کی تلاش کرتا ہے جدوجہد کرتا ہے جو رفعت اور بلندی سے متعلق ہے تو وہاں اسے نظر آتا ہے ایک ایسی چیز موجود ہے جس میں نہ کوئی ستون ہے،نہ کوئی دیوار ہے،نہ کوئی کیل ٹھونکی ہوئی ہے ایک چیز اس طرح کھڑی ہوئی ہے جو انسان کے شعور سے با لکل ماورا ہے واللہ …اور دیکھوہم نے زمین کو کس طرح پھیلا دیا ہے …اور دیکھو ہم نے پہاڑوں کو زمین کے اندرمیخیں بنا کر کس طرح گاڑ کر دیا ہے یہ سارا تذکر ہ اس بات سے متعلق ہے اللہ تعالیٰ کا تخلیقی فارمولا تخلیقی سسٹم اس طرح قائم کیا ہے کہ اگر وسائل موجود نہیں ہو نگے تو انسان نہ کوئی تر قی کر سکتا ہے، انسان نہ کوئی کھانا کھا سکتاہے، انسان نہ کوئی کاروبار کر سکتا ہے، انسان نہ خود اولاد ہو سکتا ہے اور انسان نہ خود باپ ہو سکتا ہے۔

یہ سارا سسٹم ہے وسائل پر اور وسائل کی تخلیق کا درمداراللہ کے ہاتھ میں ہے خود اللہ تعالیٰ نے فرما یا ہے احسن خا لقین…کہ میں تخلیق کرنے والوں میں بہترین خالق ہوں اس کا مطلب یہ ہوا انسان بھی تخلیق کرتا ہے لیکن انسان اللہ کے بنا ئے ہو ئے وسائل کے ساتھ تخلیق کرتا ہے وسائل اگرنہیں ہو نگے تو انسان تخلیق نہیں کر پا ئے گا۔یہ ایک طرز فکر ہے جو انبیا ء کی ہے، انبیاء کے وارثین اولیا ء اللہ کی ہے اور دوسرے طرز فکر یہ ہے کہ انسان باوجود کہ بہت بڑی بڑی تر قی کر لیتا ہے بہت بڑی چیزیں ایجاد کر لیتا ہے لیکن ذہنی پسمندگی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی ذات سے اپنے خول سے با ہر نہیں نکلتا کتاب تذکر ہ بابا تاج الدین ناگپوری ؒ کی زندگی پر ایک چھوٹی سی کتاب ہے۔ اس کو آپ کہے لیں اس کا انتخاب ورکشاپ کے لئے اس لئے کہا گیا ہے تاکہ ہمارے سامنے یہ بات آجائے۔کہ اللہ والے،اللہ کے دوست، اللہ کے بندے اور اللہ کی رحمتوں اور نعمتوں سے مستفیض لو گ کس طرح سوچتے ہیں اور ان کی طرز فکر کیا ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں اس کتاب کو سمجھنے کی اور باباتاج الدین ناگپو ری ؒ کے جو علو م ہیںاور ان علوم کے پیچھے اسرار رموز ہیں ان علوم میں گہرائی میں جا کر تفکر کرنے کی تو فیق عطا فرما ئے اور اللہ تعالیٰ ہمیں ہمت اور تو فیق عطا فرمائے کہ ہم زیادہ سے زیادہ علمی اور اخلا قی اور معاشرتی سب قدرو ں کی حفاظت کر تے ہوئے زیادہ سے زیادہ انبیا ء اور اولیا ء اللہ کی طرز فکر حاصل کرنے کی جدو جہد کر یں اور کو شش کریں اللہ تعالیٰ آپ کا حامی اور ناصر ہو السلام و علیکم ورحمتہ …اختتام

 

 

 


 

Topics