Topics
سلطان
محمد عظیمی صاحب کا سوال ہے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی
راہ میں جو مارے جائیں گے انہوں مردہ مت کہوں بلکہ وہ شہد زندہ ہیں۔دوسری جگہ قرآ
ن میں تحریر ہے کہ اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی ڈر ہوتا ہے نہ ہی خوف اس کا مطلب یہ
ہوا اللہ کے نیک اور مومن بندے جب اس دنیاسے پردہ کر جاتے ہیں تو پردہ کر جانے کے
باوجود بھی زندہ ہیں تو آپ سے یہ پو چھنا ہے کہ شہدائے بزرگ ہستیاںکن خدوخال میں
زندہ ہیں۔ اس طرح جب روح جسم کاساتھ چھوڑ دیتی ہیں تو آٹھ گھنٹے کے بعد مادی جسم
گلنا شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن خواب میں جب روح جسم کا ساتھ چھوڑتی ہے تو جسم کیوں
نہیں گلتا؟اسی طرح ایک شخص ایک سال سے کومہ میں چلا گیا لیکن پھر بھی اس کا جسم
خراب نہیں ہوتا آخر ایسا کیوں ہے؟روحانی نقطہ نظر سے اس کی وضاحت مثالوں کے ساتھ
بیان کریں۔
عظیمی
صاحب:بسم اللہ…خواب اور بیداری کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔خواب اور بیداری کی زندگی
ہر شخص کے مشاہدے میں ہے اور ہر شخص زندگی کے دورُخوںمیں سفر کرتا ہے اور کر رہا
ہے۔ خواب کی زندگی ہمیں بتاتی ہے اس کے باوجود کے ہم دنیاوی معاملات سے اور دنیاوی
حالات سے دور ہو جاتے ہیں۔اور مادی دنیا اور مادی وسائل سے ہمارا تعلق ٹوٹ جاتا
ہے۔لیکن اس کے باوجود بھی ہمارا جسم خراب نہیں ہوتا کومے کی بھی یہ صورت ہے کومے
میں اور خواب میں یہ فرق ہے نیند چار گھنٹے کی ہوتی ہے اور دوسری یہ کہ نیندکی
حالت میںکوئی بھی طریقہ اختیار کر کے سونے والے آد می کو بیدار کیا جا سکتا
ہے۔لیکن اگر کوئی آدمی کومہ میں چلا گیا تو اس کو اس طرح بیدار نہیں کیا جا سکتا
جس طرح ایک سوئے ہو ئے آدمی کو بیدا ر کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ساتھ ہمارے سامنے یہ
بات بھی ہے کہ کو مہ سے جب مریض نکلتا ہے وہ بھی صورت یہی ہوتی ہے کہ جیسے کوئی
آدمی سو کر اٹھ گیا ہو۔
فرق یہ ہے کوئی چار گھنٹے سوتاہے کوئی آٹھ
گھنٹے سوتا ہے۔ کوئی چوبیس گھنٹوں کے لئے ہی کومہ میں چلے جاتا ہے۔ کوئی بیس سال
تک کومہ میں رہ کر یعنی خواب کی زندگی میں رہ کر بیس سال کے بعد دوبارہ آ تا ہے
روحانی علوم میں ایسی مشقیں بھی ہیں اوردنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اپنے ارادے
اختیار سے اپنے اوپر سو سال نیند طاری کر دیتے ہیں۔ہندویوں میں ان لوگوں میں جو
واحد ہیں سالیوں میں جوگیوںمیںایک اصلاحی نام موجود ہے۔کپالی چڑھا ناسے کہا جاتا
ہے۔کپالی چڑھانا کا مطلب یہی ہے کہ وہ اپنے ارادے اختیار سے مراقبے میں جاکرنیند پر
سو سال، پچاس سال،تیس سال،پچیس سال،نیند طاری کرے یعنی وہ اپنے ارادے اختیار سے
یعنی پچاس سال تک، سو سال تک سو تے رہے۔جب سو سال پورے ہو تے ہیں تو اسی طرح بیدار
ہو جاتے ہیں۔ جس طرح عام آدمی سونے کے بعد آٹھ گھنٹے میں،چار گھنٹے میں،بارہ
گھنٹے میںبیدا ہو جاتا ہے۔
ایسے بھی لوگ موجود ہیں جو چوبیس چوبیس گھنٹے سو
تے رہتے ہیں۔ا یسے بھی لوگ موجود ہیں جو چھتیس چھتیس گھنٹے سو تے رہتے ہیںاور ان
کی کمرہی نہیں دوکھتی۔یہ ساری مثالیں اور سارے تجربات اس طرف رہنمائی کر تے ہیں کہ
انسان کا شعور، انسان کااختیار،اس قابل ہے تووہ چاہے نیند کے وقفے کو زیادہ سے
زیادہ کر لے۔ اور وہ چاہے نیند کے وقفے کوکم سے کم کر لے۔حضرت عبدالقادرؓکا ارشاد
ہے کہ مومن کو دو گھنٹے ۴۵ منٹ سے زیادہ نہیں سو نا چاہئے۔ چوبیس گھنٹے میں اگر
کوئی آدمی دو گھنٹے ۴۵ منٹ سے زیادہ سو تا ہے تو وہ روحانی نقطہ نظر سے اپنے
اوپرظلم کرتا ہے اور اپنا بہت بڑا نقصان کرتا ہے۔جب کہ عام دنیا میں دو گھنٹے ۴۵
منٹ سوناایک نا ممکن صفات نظر آتی ہے۔ جب ہم روحانی لوگوں کو دیکھتے ہیں۔یہ
روحانی لوگوں کے حالات واقعات پڑھتے ہیں۔تو نظر آتا ہے وہ بندے دو گھنٹے ۴۵ منٹ
سے کم بھی سوتے ہیں اور ان کی نیند پوری ہو جاتی ہے۔
حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کے بارے میںیقینی طور
پر اس بات کو جانتا ہوں کچھ اسباق ایسے تھے جو انہوں نے پڑھے اس میںوہ دس دن اور
دس رات مسلسل جاگتے رہے پتا چلا کہ آدمی کے اندر اتنی صلاحیتیں موجود ہیں کہ اگر
وہ چاہے تو دس دن اور دس رات جاگ سکتا ہے۔یہی ہی صورت قرآن کے بیان کردہ حالات
حضرت موسیٰ علیہ السلام ہمارے سامنے ہے۔کہ چالیس دن چالیس راتیں کوہ طور پر رہے
اور چالیس دن چالیس انہوں نے جاگ کر یاخواب کی زندگی میںگزاری۔اللہ تعالیٰ نے
فرمایا ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور چالیس راتوں میں پورا کر دیا۔جہاںبھی
قرآن پاک میں رات کا تذکرہ آیا ہے۔وہاں خواب کا آغاز زیر بحث آتے ہیں اور جہاں
قرآن پاک میںلیل کے ساتھ نہار کا تذکرہ آیا ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ بیداری کے حواس
کا تذکرہ رکھتے ہیں۔ تو یہ بات تو ثابت ہو گئی کہ اگر آدمی سو رہا ہے اس کے سونے
کی حالت آٹھ گھنٹے کی ہو زیادہ وقفے کی ہو،بیس سال کی ہو اگروہ سو رہاہے تو اس
جسم خراب نہیں ہوتا۔
لیکن اگر وہ سو نہیں رہا اور سونے کے حوا س اس
سے چھین لئے گئے ہیں۔تو جسم جو ہے چند گھنٹے کے بعد خراب ہو جا تا ہے اور سڑ گل
جاتا ہے۔جب کوئی آدمی اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے، اللہ تعالیٰ کے لئے،اللہ تعالیٰ
کے حکامات کو پھیلا نے کے لئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کر دیتا ہے۔تو اس کا مطلب یہ
ہوتا ہے کہ وہ سور ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آدمی نے اپنے جو حواس ہیں بیداری
کے، ان بیداری کے حواس کی نفی کر کے اپنے ارادے میں اختیار سے رات کے حواس میںداخل
ہو گیا ہے۔رات کے حواس کا جب قرآن پاک میں تذکرہ آتا ہے دراصل وہ سارا کا سارا
غیب کی دنیا کا تذکرہ ہے۔پھر آپ اس پر غور فرمائیں جب موسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ
آتا ہے تو وہاں بھی رات کاتذکرہ آتا ہے،سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے
معراج شریف کا جب واقعہ آتا ہے تو وہاں بھی رات کا تذکرہ آتا ہے،سالانہ بجٹ کا
جب تذکرہ آتا ہے اللہ میاں کے تو وہاں بھی رات ہی کاتذکرہ آتا ہے، شب برات جیسے
آپ کہتے ہے، غیب کی دنیا میں داخل ہو نے کا جب تذکرہ آتا ہے،حواس کے زیادہ ہونے
کا جب تذکرہ آتا ہے۔
حواس
کی رفتا ر بڑھنے کا جب تذکرہ آتا ہے، تو وہاں بھی رات کا تذکرہ آتا ہے۔ جس چیز
کو آپ لیلتہ القدر کہتے ہیں انا انزلنہ فی الیلتہ القدر…انسان کی زندگی دو رُخوں
پر چل رہی ہے۔ایک رُخ بیداری ہے۔اس کو اللہ تعالیٰ نے نہار کہا ہے اور ایک رُخ
خواب ہے۔یعنی ا س دنیا سے کٹ کر الگ ہو کر زندگی گزار نا اس کو اللہ تعالیٰ نے لیل
کہا ہے۔ خواب کہاہے لیل کہا ہے۔توخواب کی حالت میں ٹائم اسپیس کی گرفت ٹوٹ جاتی ہے
اور بیداری کی حالت میںٹائم اسپیس کی گرفت بندھ جاتی ہے۔تو شہدا ئے جو ہیں انہوںنے
اپنی زندگی میں اپنی مادی وجود میں رہتے ہو ئے دن کے حواس میں قائم رہتے ہو ئے دن
کے حواس کی نفی کر کے اللہ تعالیٰ کے لئے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔اس لئے ان کے
اوپر رات کے حواس غلبہ ہو گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا ایک شہید آدمی مرتا نہیں ہے۔
دراصل رات کے حواس میں منتقل ہو جاتا ہے۔
کیونکہ وہ مرتا نہیںہے رات کے حواس میں منتقل ہو
جاتا ہے تو تجربہ یہ ہے کہ رات کے حواس میں انسان کا جسم خراب نہیں ہوتا بلکہ ایک
انسانی جسم کو ایک خاص قسم کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ ایک آدمی دن بھر کام کرتا ہے وہ
تھک کے چور ہوجاتا ہے۔دوگھنٹے کے لئے سو جا تا ہے۔ سونے کے بعد جب اٹھتا ہے تو
اتنا فریش ہوتا ہے ایسا لگتا ہے اس نے کوئی کام ہی نہیں کیا۔تو اس کا صاف مطلب یہ
ہے دن کے کاموںمیں جو اس کی توانائی جل گئی یا جو انرجی اس کی ختم ہوئی، سونے کی
حالت میں دوبارہ وہ پروڈیس ہوگئی، پھر بحال ہو گئی۔اور انرجی جو ہے اس کا ذخیرہ ہو
گیا۔تو اس سے یہ بات بھی پتا چلی ہے کہ انسان کا جسم، جس کو مادی وجود ہم کہتے
ہیں۔ انسانی جسم مادی وجود جب دنیاوی معاملات میں مصروف ہو کر تھک جاتا ہے تو اس
تھکان کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے اس بندے کو سو لا دیا جائے۔ اب آپ دیکھئے میڈیکل
سائنس بھی یہی کرتی ہے۔
اب
ایک آدمی ذہنی طور پر پریشان ہے، اس کو غم ہو گیا کوئی پریشانی ہو گئی۔خدا نخوستہ
گھر میںکسی عزیز جو بہت ہی قریب ہے اس کا انتقال ہو گیا۔دماغ کے اوپر ایک عجیب قسم
کی بے چینی پریشانی، بے سکونی آدمی کے اوپر اس طرح طاری ہو جاتی ہے۔ کہ لگتا ہے
کہ اس آدمی کا ذہن اس طرف سے نہیں ہٹا یا گیا تو یہ پاگل بھی ہو سکتا ہے،بیمار
بھی ہو سکتا ہے، فالج بھی اس کے اوپر گر سکتا ہے، بلڈ پریشر میں مبتلا ہو سکتا ہے۔
میڈیکل سائنس اس کا علاج یہ نکالا ہے اس نے کہ اس آ دمی کو گو لیا ں کھیلا کر،
انجکشن لگا کر سولا دیا جائے۔اور جب وہ سو کر اٹھتا ہے تو اس کے اوپر وہ غم کی
کیفیت نہیںہوتی جو سونے سے پہلے ہوتی تھی۔اس بات سے بھی یہی ثابت ہوا کہ انسان کی
ذہنی تھکان اور انسان کا دماغی بوجھ انسان کے اوپر بیداری کے حواس میں جو
پریشانیاں مصیبتیں،بے سکو نی مسلط ہوتی ہے وہ سونے کے بعد ختم ہو جاتی ہے۔
یاان کا اثر اتنازیادہ کم ہو جا تا ہے کہ آدمی
پریشان نہیں رہتا پریشان نظر نہیں آتا۔شہداء جانتے بوجھتے اپنے اختیار استعمال
کرتے انسا ن کو سب سے زیادہ عزیز اپنی جان ہوتی ہے۔کوئی آدمی مر نا نہیں چاہتااور
جتنے بھی غم انسان کے ساتھ لگے ہو ئے ہیں۔پریشانیوں کے اگر اس کے بارے میں پوچھا
جائے کہ تم کیوں خوامخوہ صبح سے لیکر شام تک محنت مزدوری کر تے ہو، پریشان ہو تے
ہو تو آپ یہی کہے گے بھئی سب کچھ زندہ رہنے کے لئے کر تے ہیں۔ تو انسان زندہ رہنے
کے لئے رات دن جدو جہد کرتا ہے کوشش کرتا ہے۔جب زندہ رہنے کے لئے رات دن جدوجہد
اور کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ مرنانہیں چا ہتا۔ یعنی اپنے باطنی
وجود کو قائم رکھنے کے لئے مر نا نہیں چاہتا۔جب وہ مرنا نہیں چاہتا تو بات یہ ہے
وہ وجود کو قائم رکھنا چاہتاہے۔ جب باطنی وجود کو قائم رکھناچاہتا ہے تو اس کا
مطلب یہ ہے کہ دنیا میں رہنا چاہتا ہے۔
جب دنیا میں رہناچاہتا ہے تو اس کا مطلب ہے دنیا
میں جتنے وسائل ہیں ضروریات ہیں ان کو حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر وہ زندہ نہ
رہناچاہے تو زمین کے اوپر وسائل وہ ہی زیر بحث نہیں آئے گے۔ زمین کے اوپر جتنے
وسائل ہیںمثلا ً کھیتی باڑی ہے،مثلاً پھل ہیں، فروٹ ہیں،مثلا ً ہوا ہے، گھروں کا
بنا نا ہے،شادی ہے،بیاہ ہے،بچے ہیں والدین ہیں،دوست احباب ہیں، یہ سب دراصل زندگی
کی ایک ضروریات ہے۔اگر یہ سب نہ ہو تو زندگی بے کار ہے۔ایک آدمی ایسا نکلتا ہے
ہزاروں لاکھوں کروڑوں جو ہیں کہ وہ اپنے باطنی وجود کا اقرار کر کے اپنے ارادے
اختیار سے اس ظاہر ئی وجود کی نفی کرتا ہے۔ ظاہرئی وجود کی نفی ایک تو اپنے ارادے
اختیار سے ہوتی ہے۔لیکن جب ہم سوتے ہیںاس وقت بھی ہمارے ظاہری وجود ظاہر جو ہے جس
کو ہم نفی کر دیتے ہیں۔اگر آپ نے دیکھا ہے اگر کسی انسان کاذہن دنیاوی معاملات سے
آزاد نہ ہو۔
جس کا تعلق جسم کو بحال رکھنے سے ہے۔تو آدمی کو
تو نیند ہی نہیں آتی۔نیند آنے کا مطلب ہی یہ ہے ظاہرئی وجود سے انسا ن کا ذہن
الگ ہو جاتا ہے۔جب جسمانی وجود سے گوشت پوست کے وجود سے انسان کا ذہن الگ ہوتا
ہے۔جتنی دیر کے لئے بھی الگ ہوتا ہے اسی وقت اسے نیند آتی ہے۔اگر وہ جسمانی وجود
کے ساتھ چپکا رہے یا جسمانی وجود کے جو حواس ہیںان کی گرفت زیادہ ہوہ جائے تو
انسان سو نہیںسکتا اس کی نینداڑ جا تی ہے۔ اس نے کہا نیند اڑ گئی بھئی نیند کیوں
اڑ گئی کہ دماغ میں سکون نہیں ہے، دماغ منتشر ہے،دماغ میں ہزاروں لاکھوںخیالات ہیں
جو کسی صورت سے دماغ کو نیند کی صورت کی طرف،خواب کی طرف،ٹائم اسپیس کی آزادی کی
طرف توجہ نہیں ہو رہی ہے۔ اس لئے نیند نہیں آرہی ہے۔اب ہر آدمی آپ اس کیفیت میں
چلے جائیں سونے سے پہلے یہ کیفیت آدمی کے اوپر ہوتی ہے کہ اس کا مطالعہ کیا جائے
تو پہلی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ جسم کو ٹوٹاہوا محسو س کرتا ہے، وہ جسم تھکا ہوا
محسوس کرتا ہے۔
یہ
محسوس کرتا ہے کہ اب میرے جسم کو آرام کی ضرورت ہے۔آرام کی ضرورت کے ساتھ ساتھ
اس کے اندر جو اس کے دماغ میں جو تقاضہ پیدا ہوتا ہے، وہ یہ ہوتا ہے مادی جسم سے
متعلق جو خیالات دماغ میں ہیں۔ان سے آزاد ہو کر ان سے یکسو ہو کر میں نیند کی
حالت میں چلاجاؤ ں جب یہ صورت حال ہوتی ہے توآدمی سوتا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ
یہ صورت حال واقع نہ ہوتو آدمی سو نہیں سکتا پھر آپ اس پر غورکریں۔ایک آدمی
ذہنی طور پر پریشان ہے، اسے خوف ہے، اسے غم ہے۔ کسی چیز کا تو اس غم اورخوف میں
اسے نیند نہیںآتی۔ لیکن اگر وہی آدمی خوف اور غم سے نجات حاصل کر کے ذہنی طور پر
یکسو ہو جاتا ہے تو اسے نیند آجاتی ہے۔ نیند کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا جو ظاہری
جسم ہے۔ اس ظاہری جسم کو سنبھالنے کے لئے جتنے بھی خیالات ہیں ان سے آپ کو ذہنی
آزادی حاصل ہو۔اگر ذہنی آزادی حاصل نہیں ہو گی آپ سو نہیں سکتے۔
آپ
یہ کوشش کر تے ہیں ذہنی آزادی حاصل ہو تاکہ آپ کے جسم کے اوپر جو تھکان غالب
آگئی ہے۔ آپ کے آرام میں جو کھنچاؤ
پیدا ہو گیا ہے،آپ کے دماغ میں جو انتشار پیدا ہو گیا ہے تھکان پیداہو گئی
ہے وہ دور ہو جائے۔ آپ سب چاہتے ہیں لیکن اگر آپ کے اندر یہ بات یقینی بن جائے
جیسے میں سوئیوں گا میں دوبارہ نہیںاٹھوں گا۔ ما شا اللہ اتنے سارے لوگ بیٹھے ہیں
ایک آدمی بتائیے کیا ہم سو سکتے ہیں۔اگر ہمارے اندر یہ یقین پیدا ہو جائے کہ
آنکھیںبند کرنے کے بعد میں جیسے ہی سو جاؤ ں گا نیند میرے اوپر غالب آجائے گی
میں مر جاؤ ں گا۔ پھراٹھ نہیں سکتا تو اس کا مطلب ہوا کہ کوئی آدمی کبھی سو نہیں
سکتا۔ کیوں نہیں سو سکتا؟ اس لئے کہ وہ مرنا نہیںچاہتا۔وہ نیند کی حالت میں جاکر
مادی وجود کو آرام تو دینا چاہتا ہے وہ نیند جس کو آدھی موت کہا جا تا ہے۔ آدھی
موت میں منتقل ہو کر دماغ کو آرام دیناچاہتاہے لیکن مر نا نہیں چاہتا۔
حالانکہ وہ جب یہ کہتا ہے مجھے سو نا ہے۔ مجھے
خواب میں جانا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مادی زندگی سے خود کو آزاد کر رہاہے
اور خود کو دور کر رہا ہے۔ اور اس کے برعکس ایک آدمی ایک کروڑ آدمی ایک ارب
آدمی آدھی موت میں منتقل ہوتا ہے۔حضور پاک ﷺ نے نیند کو آدھی موت سے تشکیل کیا
ہے۔ایک ارب آدمی یا پانچ ارب آدمی ایک آدمی بھی آپ کو ایسا نہیں مل سکتا جو
اپنے ارا دے اختیار سے آدھی موت کو گلے لگا لیتا ہے۔جب وہ نیند میں ہوتا ہے۔ لیکن
اس آدھی موت کو اس لئے گلے لگا رہا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اگر میں نے اس
آدھی موت کو اپنے گلے نہیں لگا یا یا میں آدھی موت میںداخل نہیں ہو ا تومزید میں
زندہ نہیں رہ سکتا میرے اعصاب ٹوٹ جائیں گے بکھر جائیں گے۔ ایک آدمی وہ اپنے مادی
حواس کو جان بوچھ کر اپنے ارادے اختیار سے اللہ کے لئے ختم ہو جائے۔یعنی شہید کا
مطلب یہ ہے کہ وہ چاہتا ہی یہ ہے کہ مادی حواس سے خود کوآزاد کر کے ان حواس میں
داخل ہو نا جن حواس سے آدمی غیب کی دنیا سے سفر کرتا ہے اور جب حواس سے انسان کا
تعلق اللہ سے ہوتا ہے۔
ذرا بات باریک ہے لیکن غور کریں گے تو سمجھ میں
آئے گی۔ جب ایک آدمی آدھی موت کواس لئے گلے لگا تا ہے کہ مجھے دوبارہ زندہ ہو
نا ہے۔ مجھے اس دنیامیں زندہ رہنا ہے اور اس کو موت نصیب ہو جا تی ہے اور اس مو ت
کا حال یہ ہے۔جب وہ اٹھتا ہے تو اس کا جسم خراب نہیں ہوتا۔اب ایک آدمی اپنے ارادے
اختیار سے اپنی موت کو پوری طرح گلے لگا لیتا ہے یاموت سے مل لیتا ہے۔موت سے ملنے
کا مطلب یہ ہیں کہ رات کے حواس سے غیب کے حواس سے اپنے ارادے اختیار سے داخل ہو نے
کے لئے مادی وجود کی نفی اس لئے کر دیتا ہے۔کہ گردن کٹا دیتا ہے تو اس بندے کا جسم
نہیں سڑ تا ہے۔جب پھر آپ غور کریں حضور پاک نیند کو آدھی موت سے تسلیم دیا
ہے۔قرآن پاک میں بھی ہے ہم تمہارے اوپر موت وارد کر دیتے ہیں پھر تمہیں زندہ
کردیتے ہیں۔سونا موت سے قریب ترین حالت ہے فرق یہ ہے سونے میں جسم کا رشتہ روح سے
اس طرح قائم رہتا ہے کہ سانس کا آنا جانارہتا ہے۔
لیکن
سو نے میں اور موت میں کوئی فرق نہیں ہوتا اب گہری نیند میں آپ سو رہے ہیں کچھ
بھئی آپ کو پتا ہی نہیں چلتا اگر گہری نیند ہو آپ کو پتا ہی نہیںچلتا گھر میں
کیا ہوگیا کیا نہیں ہوا اگر گہری نیند اتنی زیادہ ہو جائے اس نیند سے آپ کو
بیداری میں لا نا مشکل عمل ہواس کو آپ بے ہوش ہو نا کہتے ہیں۔ایسی بہوشی آپ کے
اوپر طاری ہو جائے کہ آپ دوا داروسے اس کو آپ ہوش میں نے لا سکیں۔ سانس آرہا ہے
لیکن آپ بے ہو ش ہیں ایسی بے ہوشی جس کی کوئی لمیٹ نہ ہو اسکو آپ کومہ کہتے
ہیں۔بندہ کومہ میں چلاگیا۔ لیکن بات وہی ہے انسان اپنے ارادے سے موت میں اور زندگی
میں درعمل رہتا ہے۔اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ ہم موت سے زندگی نکالتے ہیں اور
زندگی سے موت نکالتے ہیں۔اب ایک آدمی سو گیا سونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ موت سے
قریب ترین زندگی میں چلا گیا۔سونے کے بعد بیدار ہو گیا۔
اس کا مطلب ہے موت قریب تر ہو کر واپس زندہ ہو
گیا۔کہ موت زندگی سے بھی چل رہی ہے۔ زندگی موت سے بھی چل رہی ہے۔شہید کا جسم اس
لئے خراب نہیں ہو تاکہ پیغمبران علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جسم اس لئے خراب نہیں
ہوتا کہ ان کی جو زندگی ہے اس زندگی میںموت کی زندگی کو زیادہ اہمیت حاصل ہے۔موت
بھی ایک زندگی ہے۔یہ ہم جو موت سے ڈرتے ہیں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم موت کو
زندگی نہیں مانتے اب آپ یہ دیکھئے آپ عالم ارواح میں پیدا ہوئے سب علوم جانتے
ہیں کہ بھئی اللہ تعالیٰ نے کن کہا اور کائنات بن گئی۔ا ب کچھ پتا نہیں وہاں کہا ں
سے چلے، کہاں گئے، کہاں گزر تے، گزرتے گزرتے یہاں اس دنیا میں آگئے۔یعنی روح اس
دنیا میں آگئی تو جب اس دنیامیں روح آگئی تو اس کا صاف مطلب ہے یہا ںآنے سے
پہلے جہاں ہم تھے وہاں ہم پر موت وارد تھی یہاںآنے سے پہلے جہاں ہم تھے وہاں ہم
پر موت وارد نہ ہوتی تو ہم یہاں پیدا ہی نہیں ہوتے۔
اسی
صورت سے جب یہاںہمارے اوپر موت وارد ہوتی ہے تو ہم کہیں اور چلے جائیں کسی دوسرے
عالم میں چلے گئے۔ توایک ردوبدل ہے۔ ایک ردوبدل ہے ساری کائنات ہر وقت اس میں یہ
متعین ہو رہا ہے کہیں سے آدمی جا رہا ہے کہیں سے آرہاہے۔ ایک آنا جانا جو ہے وہ
پابندی کا آنا جانا ہے۔دیکھئے مرنا سب کو لیکن جب ایک آدمی مر نا ہی نہیں چاہتا
جو آدمی مرنا ہی نہیں چاہتا تو اسے ملائکہ الموت گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔لیکن ایک
آدمی موت اور زندگی کی حقیقت سے واقف ہے وہ تو خوشی خوشی جائے گا۔ اب جیسے ہم
یہاں سے جاتے ہیں۔جس کو ہم مر نا کہتے ہیں ایک تو مرنا جو ہے وہ فنا ہو نا نہیں
ہوتا۔ مرنا ایک الگ امر ہو نا یعنی قائم ہو جانا عربی کی طرف آپ آئیں تو انتقال
ہو نا …یعنی اس دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہو جانا۔ مرنے کا مطلب یہ ہے اس دنیا
سے دوسری دنیا میں منتقل ہو جا نا۔ یعنی انتقال ہو ناختم ہو نا نہیں ہے فنا ہو نا
نہیں ہے۔
نیست
و نابود ہو نا نہیں ہے۔منتقل ہو نا انتقال ہو گیا۔صاحب فلاں صاحب کا انتقال ہوگیا
وہ عالم اعراف میں منتقل ہوگئے۔ تو آد می جو ہے برابر اوپر سے آرہا ہے رو ز نزول
کر رہا ہے روزنزول سے اوپر جا رہا ہے صعود کر رہاہے حضور پاک نے بھی فرمایاکہ مومن
کی نشانی یہ ہے کہ اسے اس زندگی میں رہتے ہو ئے مرنے کی بعد کی زندگی سے واقف ہو
جانا چاہئے۔اس زندگی میں رہتے ہو ئے ہر مسلمان مرد اور عورت پر یہ فرض ہے کہ وہ اس
دنیا میں رہتے ہو ئے مرنے کے بعد کی زندگی کا مشاہدہ کر لے۔اس دنیا میں رہتے ہو ئے
اسے اس بات کا علم ہو کہ جب میرے جسمانی وجود پر موت وارد ہو گی تو یہ موت یہ نہیں
ہے کہ میں فنا ہو گیا بلکہ یہ موت یہ ہے کہ میں کہیں اور منتقل ہو گیا۔اب آپ یہاں
سے لندن جاتے ہیں۔ لندن میں برف پڑ رہی ہے۔سردی ہے یہاں گرمی ہے۔یہاں آپ ململ کا
لباس پہن رہے ہیں یا کوئی معمولی موٹا لباس پہناتو اگر ہم اس جسم کو سمجھنے کے لئے
مثال کھال مثال ہے۔
اس
کو ہم روح سمجھتے ہیں۔جسم ہمارا جو ہے روح ہے اور یہ روح جو ہے یہ اپنے آرام کے
لئے، اپنے تحافظ کے لئے،بیماریوں سے بچنے کے لئے،لباس پہنتے ہیں۔مثلا ً آپ یہاں
لندن والا لباس پہن لیں گرمی میں آپ بیمار ہو جائیں گے۔ آپ کے جسم پر دانے دانے
ہو جائیں گے۔لندن میں جا نے کے بعد آپ یہ لباس پہن لیں تو آپ کو نمونیہ ہو جائے
گا بیمار ہو جائیں گے اس گوشت پوست کے جسم کو ہم یوں سمجھ لیں تو اس کا مطلب یہ ہے
کہ یہ گرمی میں سوتی کپڑے پہن رہے ہیںجب آپ لندن جائیں گے تو کپڑے وہ یہاں اتار
کر جائیںگے۔لندن تو بعد میں جائیں گے پہلے تو یہی اتار کر پھینک دیں گے۔ بولیں گے
بھئی ٹھیک ہے تھوڑا سا پسینہ آجائیے گرمی ہو جائے وہاں نمونیہ نہ ہو۔ یہاں سے پہن
کر جائیں گے کپڑے تو یہ جو روح ہے یہ اپنے آپ کو ظاہر کرنے کے لئے نئے نئے لباس
بنا تی ہے۔مثلا ً جب ہم یہاں پیدا نہیں ہوئے تھے تو ہم وہاں کہیں تھے وہاں بھی
لباس پہنتے تھے کیسا لباس پہنتے تھے روشنیوں کا لباس پہنتے تھے اور جب ہم یہاں
آگئے یہاں سے ہم لندن جاتے ہیں ظاہر ہے یہاںکا لباس اتار کر پھینک دیتے ہیں لندن
میںلندن کا لباس پہنتے ہیں۔
یہاں
مرنے کے بعد روح عالم اعراف میں جاتی ہے۔جہاں ہم مرنے کے بعد رہتے ہیں۔تو یہ لباس
اتار کرہم وہاں کا لباس پہنتے ہیں۔ تو یہ جو مادی دنیا کا لباس ہے یہ گوشت پوشت کا
لباس ہے کھال ایک صورت یہ ہے کہ وہ روح اس جسم کو اتار کر پھینک دیتی ہے۔ بالکل
پھینک دیتی ہے۔اس سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا اور دوسری صورت یہ ہے کہ روح نے
جولباس اس دنیا میں بنا یا تھا اس لباس سے اس لباس کو اپنے ارادے اور اختیار سے اس
جسم کو اللہ کے اوپر ایثار کرتی ہے۔جب جسم کو اللہ کے اوپر ایثار کر دیا ہے تو روح
کے لئے سب سے خوشی کی بات یہی ایثار ہے۔تو روح اس جسم کو خراب نہیں ہو نے دیتی یہی
شہدا ء کاحال ہے،یہی انبیاء علیہ الصلوٰۃو السلام اب انبیاء اکرام کی زندگی کو آپ
دیکھیں تو اس کا ہر سانس ا س کی زندگی کا ہر قدم آپ جتنا بھی غور کریں گے۔اللہ کی
طرف پھر اللہ تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ ان کا ہر کام ہمارے لئے ہوتا ہے۔
جب
وہ کرتے ہیںہم کرتے ہیں ہمارے ہاتھ سے پکڑ تے ہیں ہماری زبان سے بولتے ہیں۔انبیاء
کی طرز فکرہی یہ ہے کہ ان کی زندگی میں اپنی ذات ہوتی ہی نہیں ہے۔انبیاء کی طرز
فکر پر غور کرتے ہیں تو انبیاء کی طرز فکر یہ ہے کہ وہ ہر بات میں اللہ کو سامنے
رکھتے ہیں۔یعنی ایک عام آدمی خود سوچتا ہو میں نے ایسا کیا، میں نے ایسا کیا،میں
ایسا کر رہا ہوں،میری ساتھ نسلیں ایسا کر یں گی۔انبیاء کی طرزفکر کے بالکل بر عکس
ہے۔ انبیاء کہتے ہیں میرے اللہ نے چاہا توایسا ہوا،میرے اللہ نے مجھے کھا نا
کھلایا،میرے اللہ نے مجھے پانی پلا یا، میرے اللہ نے مجھے زندگی عطاکی،میرے اللہ
نے اپنے لئے مجھے منتخب کر کے اپناکام مجھ سے لیا، جبکہ عام طرزفکر ہے کہ میں نے
کیا ہم نے یہ کر دیا، ہم نے وہ کر دیا، ہم نے وہ کر دیا،ہمارا کاروبار،ہمارا گھر،
ہمارا بیٹا، ہماری ماں،ہمارا باپ ہماری اولاد،ہماری دولت،حالانکہ سب غلط چیز ہے
اگر آپ کی دولت ہے تو آپ اسے چھوڑ کیسے دیتے ہیں۔
اگر اولاد آپ کی ہے تو مرنے کے وقت اولاد کیوں
آپ کو نہیں روک لیتی،جب اولاد مر جاتی ہے آپ کی اولاد ہے تو آپ اسے مرنے کیوں
دیتے ہیں؟کچھ آپ یہاں دنیا میں کر لیں لیکن جب آپ کا سفر ختم ہو جائے گا۔اور اس
دنیا سے دوسری دنیا میں منتقل ہو گا تو جتنی بھی چیزیں ایسی ہیں جو آپ اپنا کہے
رہے ہیں۔اس میں سے ایک بھی آپ کی چیز نہیں ہے۔آپ یکتہ و تنہا ہر چیز چھوڑ جاتے
ہیں کچھ نہیں لے جاتے بھئی جب آپ کی چیز ہوئی تو آپ اسے کیسے چھوڑ دیتے ہیں۔تو
اسکا مطلب ہے آپ کا کچھ نہیں نہ آپ کی بیوی ہے۔ بیوی آپ سے بہت محبت کرتی ہے تو
اسے نہیں روک سکتے۔شوہر بیوی سے بہت محبت کرتا ہے بیوی مرجاتی ہے وہ اسے نہیں روک
سکتا،سب سے زیادہ اولاد کی محبت ہوتی ہے اولاد کے لئے تو آدمی اپنی آخرت بھی
خراب کر لیتا ہے۔ دین بھی خراب دنیا میں خراب اولاد کے لئے کتنی بے ایمانیاں،
پریشانیاں اللہ سے بغاوت وہ دیکھیں اس میں زیادہ تر عقل مندبچے نہیں ہوتے۔
بچوں کے لئے آدمی سب کچھ کر لیتا ہے۔لیکن جن
بچوں کے لئے سب کچھ کرتا ہے۔ جب آدمی مرتا ہے وہ بچہ کچھ بھی نہیں کر سکتا۔آپ ہر
ہر چیز پر محتاج ہیں۔اللہ آپ کو کان نہ دے آپ سن نہیں سکتے،اللہ آپ کو زبان نہ
دے آپ نے دیکھا ہے نہ گونگے لوگ ہو تے ہیں بچار ے وہ بول ہی نہیں سکتے،بہرے لوگ
ہو تے ہیں پیدا ئشی وہ سن ہی نہیں سکتے،پیدائشی اندھے ہو تے ہیں وہ دیکھ ہی نہیں
سکتے،کیا مطلب ہوا اس کا جب آپ دیکھ رہے ہیں تو ایک پیدا ئشی اندھا کیوں نہیں
دیکھ سکتا؟تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ یہ چاہتا ہے جب آپ دیکھیں آپ کی آنکھیں
دیکھیں گیں۔اللہ یہ چاہتا ہے آپ کے کان سنیں تب آپ کے کان آواز سن سکتے ہیں،
اللہ اگریہ چاہے گا آپ زمین پر پھریں تو آپ کے اندر حرکت پیدا ہو گی، اگر اللہ
نہ چاہے کہ آپ زمین پر چلیں پھریں تو آپ نے فالج والے لوگ نہیں دیکھے،کیا آپ نے
ایسے بچے نہیں دیکھے جن کے اندرعقل نہیں ہوتی۔
پیغمبران علیہم الصلوٰۃ والسلام کی طرز فکر پر
جب آپ غور کریں گے توان کی ایک ہی طرز ہے تمام انبیاء اور انبیاء کے بعد تمام
اولیاء اللہ کی کہ وہ کسی چیز کو اپنی ملکیت قرار نہیں دیتے۔ دیکھئے نہ حضور ﷺ نے
فرمایا کہ انبیاء کا کوئی ورثہ ہی نہیں ہے۔انبیاء جائیداد ہی نہیں چھوڑتے، آپ نے
کبھی پڑھا۔حضرت موسیٰ نے اتنی بلڈنگ چھوڑ دیں،حضرت عیسیٰ نے اتنی فیکٹر یاں چھوڑ
دیں،حضور پاک ﷺ نے اتنی جائیداد چھوڑ دی کہیں پڑھا کہیں سناہے۔تو انبیاء کا کوئی
ورثہ ہی نہیں ہوتا ورثہ کیوں نہیں ہوتا؟انبیاء کا ورثہ اس لئے نہیں ہوتا کہ انبیاء
کا یہ پتا ہے کہ کوئی بھی آدمی اس زمین پر ملکیت کا دعویٰ ہی نہیں کر سکتا۔زمین
اللہ کی ہے۔ آپ کیسے ملکیت کا دعویٰ کر سکتے ہیں۔اس زمین پر جو گھر بناتے ہیں ہم
لو گ اس میں بتائیے کتنے پیسے اللہ کو دیتے ہیں۔ اب بھئی یہ تو گورنمنٹ پیسے لیتی
ہے۔
کہ
جی ہم تمہیں پانی دینگے ہم تمہیں سڑک بنا کر دینگے،وہ ہی لیتی ہے اللہ کو تو کچھ
نہیں پہنچتا اتنی اللہ تعالیٰ نے زمین کو فرصت دی۔ا س زمین کے اندر وسائل اللہ
تعالیٰ نے آپ کے لئے نکالے،سو نااب سونے سے آپ کا سا را کاروبار چل رہاہے۔ساری
دنیا چل رہی ہے۔اللہ کو آپ نے کتنے پیسے دئے سونا نکالنے کے۔ آپ کے اندر ساری
مشینیں بھی چل رہی ہیں دیکھئے نہ دل بھی چل رہا ہے، پھیپھڑے بھی ہر چیز چل رہی ہے
آپ کے اندرتو آپ یہی کہے گا نہ اللہ چلا رہا ہے۔اللہ میاں کو آپ نے کیا دے دیا
ہے تو کس بنیاد پر آپ یہ کہے سکتے ہے کہ صاحب یہ دنیا میری ملکیت ہے۔کس بنیاد پر
آپ یہ کہے سکتے ہیں کہ یہ مکان میری ملکیت ہے۔آپ یہ کہے سکتے ہیں کہ عارضی طور
پر استعمال کے لئے کوئی چیز آپ کو دے دی گئی ہے لیکن آپ ملکیت کا دعویٰ نہیں کر
سکتے۔حضرت ابراہیم بن ادھم کا بہت مشہور قصہ ہے کہ دربار میں بیٹھے تھے ایک صاحب
تشریف لائے۔
ننگے
پیر گردو غبار سے کپڑے بھرے ہو ئے آکر دربار میں کھڑے ہو گئے کہا صاحب مجھے
بادشاہ سے ملنا ہے۔ایک تو بڑی عجیب بات یہ ہوئی دربار میں ایک ایسی دہشت طاری ہوئی
وہ دربار میں روک نہیں سکے اس بندے کو حضرت ابراہیم بن ادھم نے کہا بھئی کو ن ہو
تم؟کہا مسافر ہوںتو کہا بھئی مسافر ہو تو سرائے میں ٹہرو۔تو کہنے لگے بھئی سہرائے
تو ملی نہیں۔انہوں نے کہا بہت سہرائیں ہیں اچھا کہنے لگے یہ بھی تو سہرا ہے۔انہوں
نے کہا یہ سر ائے ا نہیں یہ بادشاہ کا دربار ہے آدب سے بات کرو۔اس بندے نے پوچھا
حضرت ابراہیم بن ادھم سے بادشاہ اپنے زمانے میں کہ اس دربار میں تم سے پہلے کون
تھا؟انہوں نے کہا صاحب میرے باپ تھے۔اس سے پہلے کون تھے؟انہو ں نے کہامیرے داد ا
تھے اس سے پہلے کون تھا؟جس سے ہم نے حکومت لی وہ تھا وہ کہنے لگا وہ سرائے کیا
ہوتی ہیں۔سرائے کااور مطلب کیا ہے بھئی سرائے میں بھی لوگ آتے ہیں ٹہرتے ہیں چلے
جاتے ہیں۔
تمہارے
یہاں بھئی پہلے تمہارے داد ا آئے وہ ٹہرکر چلے گئے۔ تمہارے آبا آئے وہ ٹہرکر
چلے گئے۔اب تم آگئے تم ٹہرکر چلے جاؤ گے۔
اس بات پر حضرت ابراھیم بن ادھم نے بادشاہت چھوڑی تمہاری کیسے سچی بات ہے بھئی میں
اس کو کہے رہاہوں دربار ہے اب میں مر جاؤ ں گا میں بھی چھوڑ کر چلا جاؤ ں گا کل کو
میری اولاد آجائے گی تو جتنا بھی آپ غور کریں گے اپنی زندگی کے بارے میں اپنی
اولاد کے بارے میں، وسائل کے بارے میں، اپنے جائیداد کے بارے میں،اپنے کاروبار کے
معاملے میں، اگر آپ صحیح معنو ں میں غور کریں عقل پر تو آپ کی سمجھ میں ایک ہی
بات آئے گی۔یہاں انسان کی کوئی چیز بھی نہیں ہے ملکیت کا اگرکسی کو حق پہنچتا ہے
تو وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کو، اقتدار اعلیٰ اگر کسی کے پاس ہے تو اللہ تعالیٰ کے
پاس جب کوئی بندہ اس طرز فکر کا حامل ہو جا تا ہے کہ ہر چیز اللہ کی ہے تو ظاہر ہے
اس کے ذہن میں یہ بات بھی آئے گی یہ جسم بھی اللہ کا ہے۔
یہ
گوشت پوست کا جسم پیدائش کے عمل کو دیکھتا ہے وہاں بے بس نظرآتا ہے ماں کے پیٹ
میں کیا ہے وہاں کچھ پتا نہیں ہے،پیدا کہاںہو رہا ہے اسے یہ پتا نہیں ہے،بھنگی کی
یہاں پیدا ہو رہا ہے، چمار کی یہاں پیدا ہو رہا ہے، پٹھان کی یہاں پیدا ہو رہا ہے،
سید کی یہاں پیدا ہو رہا ہے، غلام کی یہاں پیدا ہو رہا ہے، بادشاہ کی یہاں پیدا ہو
رہا ہے،بے بس کوئی اختیار نہیں اگر اختیار ہے تو بتائیں جہا ںپیدا اللہ نے کر نا
ہے وہاںہی پیدا ہوا۔اس بات پر اختیار نہیںکہ غذافراہم ہو،ماں کے دل میں اللہ محبت
نہ ڈالے،ماں کے سینے کو اللہ دودھ سے نہ بھر دے،بچہ مر جائے گا یا زندہ رہے گا۔اگر
ماں کے دل میں چھوٹے بچوں کی اللہ محبت نہ ڈالے ممتا نہ ڈالے تو وہ بچہ زندہ رہے
سکتا ہے۔تو اس کا مطلب ہے اللہ نے جب زندہ رکھنا چاہا توماں کے دل میں محبت ڈال
دی۔پھر وہ بڑا ہو،ا بڑے ہو نے میں بھی توازن کے ساتھ اس کے ہاتھ پیر بھی بڑے دماغ
بھی بڑا ایسے بھی لوگ ہیں جو بالکل پاگل ہوتے ہیں عقل و شعور نہیں ہوتا یہاں بھی
اللہ کا معاملہ ہے اللہ نے عقل وشعور دیا،پھر عقل و شعور دینے کے بعدعقل وشعور کا
استعمال بھی سیکھا یا اگر دنیا کے وسائل ہی نہ ہوتے آپ عقل و شعور کہاں استعمال
کرتے۔
بھئی
ایک لکڑی پیدا نہ کرتا اللہ تعالیٰ آپ فرنیچر کہاں سے بنا تے، اللہ تعالیٰ روئی
پیدا نہ کرتا آپ کپڑے کہاں سے بنا تے،اللہ تعالیٰ مٹی پیدا نہ کرتا آپ گھر
کہاںسے بنا تے یعنی جتنا بھی آپ غور کریں گے ایک ہی بات آپ کی سمجھ میں آئے گی
کہ انسان کا جسم ایک عارضی شئے ہے اور اس عارضی شئے کو اللہ تعالیٰ نے سہارا دیا
ہوا ہے۔جب تک اللہ سہارا دئے رکھتا ہے آدمی زندہ رہتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ
سہارا ختم کر لیتا ہے اس دنیا سے یہاں مر جاتا ہے اور دوسری دنیا میں پیدا ہو جا
تا ہے۔تو انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلا م کی طرز فکر بھی یہی ہے کہ وہ ہر کام کو
اللہ کی طرف لیجاتے ہیں۔ہر معاملے میں کیرآ ف اللہ سو چتے ہیں۔ جو بھی وہ کام
کرتے ہیں پہلے اللہ ذہن میں آتا ہے پھر کام پو را ہوتا ہے۔مثلاً ہمیں رزق اللہ نے
دیا،اولاد ہمیں اللہ نے دی،،بیوی ہمیں اللہ نے دی، گھرہمیں اللہ نے دیا،ہم یہ کہتے
ہیں گھر ہم نے بنایا لیکن تو نے کیسے بنا یا تیرا تو اپنا وجود ہی جو وہ مسئلہ بنا
ہوا ہے تو کہاں سے آگیا بھئی تو کیسے پیدا ہو گیا۔
جب
کوئی آدمی اپنی مرضی سے پیدا نہیں ہوتا تو وہ اپنی مرضی سے دنیا میں رہے کیسے
سکتا ہے۔اچھا اپنی مرضی سے وہ رہے بھی نہیں سکتا۔ تو دنیا کی زندگی اپنی مر ضی سے
کیسے گزار سکتا ہے۔جب لوگوں کی یہ طرزفکر ہو جاتی ہے انبیاء علیہ الصلوٰۃو السلام
کے مطابق پھر ان کا ذہن مادیت میں رہتے ہوئے مادیت سے آزاد ہوتا ہے۔ اب جب ذہن
مادیت میں رہتے ہو ئے مادیت سے آزاد ہوگیا تو یہ مادی جسم جو ہے اس کی طرف ذہن
رہا ہی نہیں اور اس مادی وجودکا سارا تعلق اللہ کے ساتھ قائم ہو گیا۔تو جس چیز کا
اللہ کے ساتھ براہ راست تعلق قائم ہو گیا وہ چیز قائم ہو جائے گی۔ شہداء میں
انبیاء میں اور سارے اولیاء اللہ نے اولیاء اللہ ایسے ہیں۔اولیاء اللہ کی تو بہت
ساری قسمیں ہیں۔وہ اولیاء اللہ جن کا ذہن حضور پاک کے ساتھ وابستہ ہے۔وہ اولیاء
اللہ جو اسطرح سوچتے ہیں جس طرح انبیاء اکرام علیہ الصلوٰ ۃ والسلام سوچتے ہیں۔
اب
دوسری بات تو یہ کہے رہے ہیں صاحب کہ آدمی سو تا رہتا ہے جسم خراب نہیں ہوتا لیکن
اگر آدمی مر جا ئے تو چند گھنٹوںمیں جسم خراب ہو جا تا ہے اس کی وجہ بھی ہے اس کی
وجہ یہ ہے کہ جب تک آدمی سوتا رہتا ہے روح اس جسم کی حفاظت کرتی ہے اور جب آدمی
مرجا تا ہے تو روح جسم کو چھوڑ دیتی ہے۔اس لئے انسان نے اس مادی وجود میں مادی جسم
میں اتنا زیادہ روح کو پریشان کر دیا ہوتا ہے کہ روح آدھی سو جا تی ہے۔تو وہ جیسے
ہی آدمی مر تا ہے وہ اللہ کی طرف سے ایک نظام ہے اس نظام میں اس کو چھوٹ مل گئی
ہے تو وہ اس سڑان سے اس تعفن سے جان چھوڑانے کی کوشش کرتی ہے۔جیسے ہی وہ اس تعفن
سے جان چھوڑانے کی کوشش کرتی ہے وہ تعفن بکھر جا تا ہے لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ نے
یہ فرما دیا ہ ومستکرون وماتعون …اے وقت معین تک آدمی کو زندہ رہنا ہے زمین کے
اندرتو روح اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے۔
حضور قلندر باباا ولیاء ؒ نے مجھے ایک واقعہ
سنایا حضرت بہاؤ دین زکریا ملتانی ؒکا وہ
بیمار ہو گئے کسی طرح ٹھیک نہیں ہو ئے ملائکتہ الموت میں داخل ہو گئے تو سب پریشان
تھے بچے ان کے دروازے پر دستک ہوئی ایک بزرگ آئے انہوں نے ایک لفافہ دیا کہ بھئی
اپنے والد صاحب کو یہ دے دو،انہوںنے وہ خط پڑھا خط پڑھنے کے بعد اپنے بیٹے سے کہا
کہ ان کو میراسلام عرض کریں اور کہے آدھے گھنٹے کے بعد آپ تشریف لائیں۔اس آدھے
گھنٹے میں انہوں نے اپنا جو نصیحت کر نی تھی،امانتیں واپس کر نی تھیں،توبہ استغفار
کر نا تھا نماز میں جو بھی کر نا تھا انہیں آدھے گھنٹے میں کر نا تھاانہوں نے
پورا کر لیا اور ان کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔انتقال ہو گیا قبر میں ان کورکھ
دیا گیا۔واپس آئے واپس آکر بڑے بیٹے کو خیال آیا ایک بزرگ آئے تھے وہ کون تھے
ابا نے کہا بھئی آدھے گھنٹے بعد واپس آجاؤ
وہ خط پڑ ھ کر تکے کے نیچے رکھ دیا تھابڑے صاحب زادے نے تکیہ اٹھا یا تووہ
پرچہ وہاں موجود تھا انہوں نے اس کو پڑھا اس میں لکھا تھا کہ میں اللہ کی طرف سے
آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔
اللہ
تعالیٰ نے آپ کو یاد فرمایا ہے آپ کیا کہتے ہیں آپ کا کیا حکم ہے۔ان کو پتا ہے
وہ ملائکہ الموت ہے انہوں نے حضرت بہاؤ
دین زکریا ملتانیؒ نے خط پڑھا اور کہا کے بھئی آدھے گھنٹے کے بعد آنا وہ
آدھے گھنٹے کے بعد اب دیکھئے جسمانی وجود ہم سب میں ہیں ہمیں ملائکہ الموت گھسیٹ
کے لیجاتا ہے۔ہم جانا نہیں چاہتے وہ ہمیں گھسیٹ کے لیجاتا ہے۔لیکن اولیاء اللہ اس
انتظار میں رہتے ہیں کب اس قید سے جان چھوٹے وہاں ملاکہ الموت بھی آتا ہے تو حکم
کا انتظار کرتا ہے کہ ان کی اجازت سے لیکر جاؤ ںبات کیا ہے حضرت بہاؤ دین زکریا
ملتانیؒمیں انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرز فکر کام کر رہی ہے۔تو جس بندے کے
لئے بھی ملائکہ الموت کا طلب گار ہو اس کا اللہ سے کتنا تعلق ہوگا اور اس کا جسم
بھئی کیسے خراب ہوسکتا ہے۔جسم کا خراب ہونے کا معاملہ جو ہے وہ یہ ہے کہ انسان کے
اندر انبیاء کی طرز فکر کا عمل ہو۔
شہداء
کیا چیز ہے شہداء کے بارے میں آپ دیکھئے نہ وہ جانتے ہو ئے ہنستے کھلتے ہو ئے
اپنی جان کا نظرانہ پیش کر دیتے ہیں۔ خالص انبیاء کی طرف سے انبیاء علیہ الصلوٰۃ
والسلام نے یہ بتایا کہ اللہ نے پیدا کیا اللہ ہی کے لئے تم زندہ ہو اللہ کے لئے
ہی مر نا چاہئے وہ جسم بھی اللہ نے بنا یا اور جو اللہ کے لئے اپنے ارادے اختیار
سے اپنے آپ کا قربان کر دیتا ہے۔وہ اللہ کا دوست بن جا تاہے اور اس کے اوپر موت
وارد ہوتی ہے۔مطلب یہ ہے کہ حواس کی جو دورُخ جدا ہے۔ بیداری کے حواس،خواب کے
حواس،ٹائم اسپیس کے حواس،آزاد حواس، محدود حواس،اب جب وہ آزاد ہو جا تا ہے حواس
کی ساری کار فرمائی ہے یہ جسم کی محدودیت یا یہ جسم آزاد ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ
ہم سب کو انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرز فکر پر عمل کرنے کی توفیق عطا
فرمائے۔
اب
صورت حال یہ ہے کہ انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو طرز فکر ہے یہ تو آپ کو پتا
چل گیا کہ انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرزفکر کیا ہیں سیدھی سچی طرز فکر یہ ہے
یہ کہتے ہیں کہ یہاں وہاں ساری کائنات میںاللہ کے علاوہ کچھ نہیں اب آپ جب زندہ
رہے کھا نا کھائیں تو کھا نا تو آپ ہی کھا رہے ہیں آپ یہ سوچ لیںکہ اللہ نے ہمیں
کھانا کھلا یا ہے تو کیا فرق ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پیاس لگا ئی آپ نے پانی
پیا آپ یہ سوچ لیں کہ اللہ کتنا اچھا ہے کہ وہ ٹھنڈا پانی پلاتا ہے۔پانی تو آپ
نے ہی پیا سیراب تو آپ ہی ہو ئے اللہ کوپانی بھی نہیں چلا گیا۔اللہ نے اولاد دی
آپ کو آپ خوش ہو ئے یہ بھی اللہ کتنا اچھا ہے کہ مجھے کھلونے دے دئے مجھے اولاد
عطا کر دی۔اولاد کی تربیت کر یں اس لئے اولاد کی تربیت کریں اللہ نے آپ کے دل میں
ان کی تربیت فرض کر دی اولاد کی اس لئے پرورش نہ کریں کہ وہ بوڑھاپے میںآپ کے کام
آئے گی۔
اولاد
کی پرورش اس بنیاد پر نہ کریں کہ وہ بوڑھاپے میں آپ کی لاٹھی بنے گی۔ کوئی اولاد
لاٹھی نہیں ہوتی لیکن اگر ہم نے اپنے اولاد کی پر ورش اللہ کے لئے کر دی تو وہ
اولاد آپ کے کام آئے گی۔ اس لئے کام آئے گی وہ اولاد بھی یہ سوچے گی مجھے اللہ
نے کیسا اچھا باپ دیا۔جب آپ کے ذہن میں یہ ہو گا اللہ نے مجھے اولاد دی اور مجھے
اس کی تربیت اس لئے کر نی چاہئے کہ اللہ نے میری ڈیوٹی لگا دی کہ میں اس کو انسا ن
بناؤ ں ظاہر ہے آپ اسے انسان بنا دیں گے۔تو وہ اولاد آپ کی انسان بن جائے گی تو
کتنا بڑا ہے میرا اللہ ہے رحم کریم ہے ایسا اچھا باپ دیا توآپ کی خدمت کریں ہم
بھی اس کی خدمت کر تے ہیں۔ انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرزفکر کو اپنانے کے
لئے آپ کچھ بھی کریں کچھ بھی کریں اس کا رخ اللہ کی طرف ہو یہ پریکٹس ہے ایک مشق
ہے جیسے جیسے یہ پریکٹس اور مشق بڑھتی چلی جاتی ہے اس کی مناسبت سے آدمی کے اندر
انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرزفکر منتقل ہو جاتی ہے۔
اور
انبیاء جتنی کسی کے اندر صلاحیت تو ہوئی نہیں سکتی انبیاء تو انبیاء ہی ہے لیکن
جتنی زیادہ زیادہ انبیاء کی طرز فکر منتقل ہوتی ہے اسی مناسبت سے اس کا ذہن مادیت
سے آزاد ہو جا تا ہے اور جیسے جیسے ا س کا ذہن مادیت سے آزاد ہو جا تا ہے۔ اسی
مناسبت سے اس کو اس روح سے قربت حاصل ہو جاتی ہے۔اپنی روح سے قربت حاصل ہو جاتی
ہے،اب ظاہر ہے روح نہ سڑتی ہے، نہ گلتی ہے،نہ کھا تی ہے، نہ پیتی ہے،تو انسان کے
اندر وہ حواس پیدا ہو جاتے ہیں جو حواس اس کو انسان کی زندگی میں زندہ رکھتے
ہیں۔دیکھئے خواب کی زندگی میں آپ چوبیس گھنٹے سوتے رہتے ہیں۔نہ آپ کو پانی
پینا،نہ آپ کو کھا نا کھا نا،مطلب چوبیس گھنٹوں کے بعد آپ اٹھو گے آپ کو بہت
بھوک لگے گی۔لیکن اگر آپ چوبیس گھنٹے بیدار رہیں تو چوبیس گھنٹوں میں کتنی دفعہ
آپ کو بھوک لگے گی شاید ہی آپ بتا پائیں۔بات کیا ہے خواب کی زندگی میں آپ روح
سے قریب ہو گئے ہیں۔
اب
روح کھا تی پیتی نہیں ہے بغیر کھا ئے زندہ رہتی ہے۔تھکتی بھی نہیں ہے،بیمار بھی
نہیں ہوتی،کبھی آپ نے کسی کو دیکھا ہے کوئی آدمی سوتے ہوئے بیمار ہوا ہو۔اب جب
آپ بیداری میں آجاتے ہیں تو ظاہر ہے آپ روح سے دور ہو جاتے ہیں اور جیسے جیسے
آپ کی روح سے دوری واقع ہو گی تو اسی حسا ب سے آپ کو پریشانیاں بھی ہو نگی۔ آپ
بیمار بھی ہو نگے۔آپ کو دماغی خلفشار بھی ہو گا۔انبیاء کی طرزفکر حاصل ہو نے کے
بعد جو جوہر پیدا ہو جاتا ہے جو وصف پیدا ہو جاتا ہے وہ یہ ہوتا ہے کہ وہ مادی
وجود میں رہتے ہو ئے سارے کام کرتا ہے کھا تا بھی ہے،پیتا بھی ہے،کاروبار بھی کرتا
ہے،کھیتی باڑی بھی کرتا ہے،شادی بھی کرتا ہے،لیکن اس کا ذہن مادی وجود میں منہمک
نہیں ہوتا اس کا ذہن اللہ کی طرف وابستہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا
فرمائے ہم رسول اللہﷺکے طرز فکر پر چلتے ہو ئے اپنی زندگی کو روح سے قریب لائیں۔
شکریہ