Topics

کیا انسان فرشتوں سے افضل ہے؟

 

 

ایک تو یہ جب آپ نے یہ کہے دیا جب اللہ تعالیٰ نے آدم کو بنایا تو اس وقت جنات نہیں تھے آپ کی معلومات ہی ناقص ہے، غلط ہے، آدم سے پہلے بھی یہ زمین اسی طرح موجود تھی اور زمین کے اوپر جنات کی آبادیاں تھی جس طرح انسان اس دنیا میں رہتا ہے زمین پر کاشت کرتا ہے یہ ہوتا ہے وہ ہوتا ہے سائنسی ایجادات کرتا ہے اسی طرح جنات بھی ایک پو ری مکمل مخلوق ہے اس کے یہاں مذاہب بھی ہو تے ہیں جنات کے یہاں سائنسی ایجادات بھی ہوتی ہیں، جنات کے یہاںبادہشات لڑائیاں بھی ہوتی ہیں،جنات کے یہاں اولادیں بھی ہوتی ہیں، جنات کا اپنا ایک برادری ہے، ایک سسٹم ہے ایک خاندان ہے تو جب آدم کو اللہ نے بنایا تو اس سے پہلے جنات اور فرشتے دونوں موجودتھے۔ فرشتے اور جنات دو مخلوق ہو ئے اور ان دو مخلوقات کے اوپر تیسری مخلوق آدم کو بنایا۔

 اب یہ کہ آدم کو اللہ تعالیٰ نے خلیفہ بناکر یہ کہا کہ صاحب آدم کو سجدہ کرو سجدے سے مراد یہ ہے کہ آدم کی حاکمیت کر قبول کرو، آدم کی حاکمیت کو کیوں قبول کرو اس کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جب فرشتوں نے یہ کہا کہ یہ خون خرابہ اور فساد کر ے گا تو آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے علوم سیکھائے اپنے ذاتی علوم سیکھا ئے اور فرشتوں سے کہاتم یہ علوم جانتے ہو جو ہم نے آدم کو سیکھائے ہیں تو تم بیان کر وتو خاموش ہو گئے تو پھر آدم سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا بھئی ہم نے جو تجھے علوم سیکھا ئیں ہیںتو بیان کر تو جب آدم نے وہ علوم ظا ہر کئے، تو فرشتوں نے یہ کہا صاحب واقعی بات یہ ہے کہ ہم یہ علوم نہیں جا نتے اور جو آپ کچھ جا نتے ہیں آپ بڑے ہیں آپ نے تو جتنا ہمیں سیکھا دیا ہے ہم اُتنا ہی جا نتے ہیںتو اس بنیاد پر آدم کو وہ علوم حاصل ہو گئے جو فرشتے نہیں جاتے تھے اور اب بھی نہیں جا نتے، تو ان علوم کی بنیاد پر آدم کی حاکمیت قائم ہو گئی اور فرشتوں نے وہ حاکمیت آدم کی قبول کرلی ظاہر ہے وہ فرشتوں کو علوم حاصل نہیں تو جنات کو حاصل نہیں تھے۔

 اب یہ بہکا نا جو ہے بہکا نا کسی طرح سے آتا ہی نہیں ہے کہ فرشتے کو اللہ تعالیٰ نے جب یہ حکم دیا کہ سجدہ کرو آدم کو تو انہوں نے کہا صاحب یہ خون خرا بہ فساد کرے گاتو اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں کہا کہ بس جو میں کہے رہا ہوں وہ تم کرو میں تمہارا حاکم ہوں،میں تمہارا خالق ہوں بس میں کہتا ہوں سجدہ کرو، نہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا نہیں کہا اللہ تعالیٰ نے ان فرشتوں کو سمجھایا اللہ تعالیٰ نے فرشتوںکو یہ بات بتا ئی کہ میں آدم کو اس لئے سجدہ کر وا رہا ہوںآدم کو وہ علوم حاصل ہے جو تم نے سیکھے ہی نہیں ہیں۔تمہیں معلوم ہی نہیں ہیں آدم کی جو فضلیت تھی وہ ثابت ہو گئی اس نے جس طرح فرشتوں پر آدم کی فضلیت ثابت ہو گئی اس طرح ایک شیطان پر بھی آدم کی فضلیت ثابت ہوگئی۔

 لیکن شیطان نے غرور کیا وہ اس چکر میں پڑ گیاMatter کے چکر میں پڑ گئے کہ صاحب مجھے تو آگ سے بنایا اس کو تو آپ نے مٹی سے بنایا، تو اس شیطان نے دراصل محدود طرز کا مظاہرہ کیا آگ ہو، مٹی ہو، دو نوں میں Matter ہے لیکن مسئلہ Matterتو زیر بحث ہے ہی نہیں، نہ آدم کے ساتھ زیر بحث نہیں ہے، نہ فرشتوںکے ساتھ زیر بحث ہے،اللہ تعالیٰ یہ نہیں کہے رہے اس کو میں نے مٹی سے بنایا تو اس کو سجدہ کرو اللہ تعالیٰ فضلیت ثابت کررہے ہیں علوم سے اور وہ علوم بھی وہ علوم ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ذاتی علوم ہیں۔ تخلیقی فا رمولوں کے علوم ہیں تو شیطان نے سجدہ نہ کر کے اپنی محدودیت کا اظہار کیا۔ وہ Matter میں ہی گھسا رہا صاحب یہ تو مٹی سے بنا ہے میں آگ سے بناہوں بات یہ ہوئی شیطان کی گمراہی اس بات پرہوئی شیطان میں محدودذہن استعمال کر کے، وہ لا محدود ذہن چھوڑ دیا جو محدود ذہن انوار کو دیکھتا ہے،روشنیوں کو دیکھتا ہے اور جو لا محدودیت ذہن انوار کو دیکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کر لیتا ہے۔

 کیوں کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے براہ راست تو نہیں، بلا واسطہ اللہ تعالیٰ کی قربت سے انکار کر دیا، دیکھئے کوئی محدود ذہن اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھ سکتاہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایالا تدر…کہ اللہ کو کوئی آنکھ نہیں دیکھ سکتی اللہ اس آنکھ کے اوپرایک اورآنکھ فٹ کر دیتا ہے نور کی، روشنی کی، نور کی آنکھ ہے وہ نور کی آنکھ اللہ کو دیکھتی ہے، تو شیطان اس لئے آدم کو سجدہ نہیں کیا، کیونکہ وہ محدود ذہن میں چلا گیا تھا۔ لوگ یہ غلط کہتے ہیں کہ صاحب شیطا ن سب سے بڑا واحد ہے اس نے کہا صاحب جب میں خدا کو سجدہ کر لیا تو میں دوسرے کو دیکھتا کہاں کروں؟ کیوں کرو؟یہ تو شرک ہے ایسی بات نہیں ہے شیطان اس لئے رجم ہے، رندہ درگاہ ہے شیطان نے لا محدود ذہن کو چھوڑ کر محدود ذہن استعمال کیا اور اس کوجو سجدہ کرنا ہے وہ آدم کو تھوڑی کرنا ہے سجدہ تو دراصل سجدہ تو آدم کے ان علوم کوان فضلیت کو کر نا ہے جو اللہ تعالیٰ نے آدم کو علوم عطا کر دئیے کسی کو بھی نہیں سیکھا ئے اس میں فرشتے بھی شامل ہیںتوجب شیطان نے سجدے سے انکار کیا تو اس کے معنی یہ ہوئے شیطان نے اللہ تعالیٰ کے ان علوم کا انکار کر دیا جو اللہ تعالیٰ نے خصوصیت کے ساتھ آدم کو سیکھا ئے۔

 تو یہ سراسر نا شکری، بے ادبی اور نا فرمانی اور نافرمانی کی بھی شیطان کو کسی نے نہیں بہکا یا، شیطان انسانوں کی طرح ہے، انسان کے اندر بھی دو شعور کام کر رہے ہیں ایک شعور مادی شعور ہے جیسے ہم سب لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں۔مادی شعور میں ہر ہر قدم پر محتاج رہتا ہے انسان کے اندر دوسرا ایک لاشعور ہے، اس کو روح کہتے ہیں روح آزاد ہے اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے انوار کام کر رہے ہیں، جب ہم لا شعوری زندگی میں داخل ہو تے ہیں تو سارا Matterجو ہے ہو جا تا ہے ایک کیفیت ایک لطافت کی ایک نور کی رو شنی سے ہو جا تی ہے تو شیطان کو کسی نے بہکا یا نہیں ہے شیطان نے غلطی یہ کی کہ اس نے اللہ کے معاملات میں محدود ذہن استعمال کیا، مادی ذہن کو استعمال کیاMatter کو استعمال کیا کیوں کہMatter کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ لیکن جب اللہ سے عرفان حاصل ہوتا ہے جب بندہ اللہ کے قریب ہوتا ہے تو اسے Matterکی زندگی سے نکل کر نور رو شنی کی زندگی میں داخل ہو نا پڑ ھتا ہے تو شیطان نے کیوں کہ نور اور روشنی کی زندگی میں داخل ہو نے سے انکار کر دیا تو اس کا ووجود ہے وہ ا س بات کو جانتا تھا اس لئے وہ رندہ درگا ہ قرار پا یا اور یہی اس کی سزا کا سبب بنا۔

اختتام

 

Topics