Topics
اعوذ
بااللہ من الشیطان الرجیم
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
تلاوت
سورۃ البلد…لا اقسم بھذالبلد…وانت ھل بھذا البلد
تلاوت
سورۃ الفاتحہ…الحمد اللہ رب العالمین …
ماکان
محمد …رسو ل اللہ…و خاتم النبیین…انا اللہ و ملائکتہ یصلون النبی…یا یھا الذین
…اللھم صلی محمد…انک حمید مجید…
معزیز
محترم،مہمانان گرامی،گرامی قدر، عزیز دوستوں،بہنوں، بھا ئیوں حاضر مجلس خواتین و
حضرات اس مبارک اور مصروف محفل میںجو کچھ ہم نے سنا اور اس نئے انداز میں وہ میرے
لئے یقینا نا صرف حیرت کا باعث ہے بلکہ خوشی کا بھی سبب ہے۔ میں اکثر محفل میں
میلاد النبی کی محفل میںیہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے یہا ں نعت یا اشعاربہت شوق سے
پڑی جا تی ہیں۔ کبھی پڑھنے والے بہت اچھا پڑھتے ہیں کبھی کوئی مقدس اور محترم کبھی
اس کے اندر گانے کا تاثر آ جا تا ہے۔ نعتیں پڑی جا تی ہیں قصیدے سنا ئے جا تے
ہیں۔رسول ا للہ کی بار گاہ میں عقیدت سے پیش کئے جا تے ہیں۔سلام درود ہوتا ہے
محفلیں خاص ہو جا تی ہیں۔یہ بلا شبہ بہت سعید اور مبارک بات ہے رسول اللہ کا ذکر
جس طرح بھی کیا جا ئے یہ اس لئے مقدس ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ پسند کر تے ہیں۔ اور
جہاںرسول اللہ کا ذکر خیر ہوتا ہے وہاں فرشتے کی ٹولیوں کی ٹولیوں آسمان سے اتر
تی ہیں۔
اور آدمی میں اس طرح گھل مل کر بیٹھ جا تی
ہیںجیسے ہم آپ کے دوسرے میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ ہمارے ساتھ
کتنے فرشتے اللہ کے بیٹھے ہوئے ہیںاس لئے اللہ کے محبوب کا ذکر خیر ہورہا ہے۔یہ
میری خواہش تھی کہ کوئی ایسا طریقہ کا ر ہے جس میں رسول اللہ کی زندگی کا بھر پور
تاثر قائم ہو۔جس میں سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کے بچپن سے جوانی تک اور
جوانی سے بعثت نبوت تک اور بعثت نبوت سے حجت الوداع کے خطبے تک رسول کی سیرت کا
احاطہ ہو جا ئے۔تو میرے مر شد حضور قلندر بابااولیائؒ نے ایک دفعہ مجھ سے فرما یا
کہ ساری کائنات یقین کے اوپر قائم ہے۔انسان جب کسی بات کا یقین کر لیتا ہے اور اس
یقین کو بار بار دوہراتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کے بنا ئے ہو ئے قانون کے مطا بق اس
یقین کا مظاہرہ لازماً ہوتا ہے۔ ہماری یہ جو زندگی ہے اس زندگی کو اگر آپ سمجھنا
چا ہیں۔
لوح
محفوظ کے قانون کے مطا بق ہم زندہ اس لئے ہیں کہ زندہ رہنے کا ہمارا یقین ہے۔اور
اس زندہ رہنے کے یقین کو ہم مسلسل متواتر شب و روز دوہرا رہے ہیں۔جس روز یہ یقین
متواتر ہو گا یا ہو جا تا ہے اور جس روز زندگی کی خواہش بدل کر فنا میں منتقل ہو
جا تی ہے اسی روز آدمی مر جا تا ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا جب آدمی بو ڑھا ہو جا تا
ہے تو مرنے کے دوران جب آخر وقت ہے دعا کروکہ اللہ وہاں بھی اچھی کر ے۔بھئی سب
کچھ دیکھ لیا اللہ نے سب کچھ دیکھا دیا اب کیا ہے؟ اب تو سفر شروع ہو گیا۔ تو بات
یہ ہے زندہ رہنے کا جو یقین ہے اس میں اب سوراخ آگیا ہے یہ بے یقینی شروع ہو گیا
ہے۔ تو قانون یہ ہے اگر آپ کسی بات کے اوپر جم جا ئیں اور اس بات کو اتنا
دوہرائیں، اتنا دوہرائیں،اتنا دوہرائیں کہ آپ کے شعورسے وہ بات نکل کر لا شعور
میں داخل ہو جا ئے تو لازم اس کا مظاہرہ ہو گا اور یہی اولیاء اللہ کے تصرف کا
طریقہ ہے۔
ان
کے اندر اللہ تعالیٰ ایسا یقین پیدا کر دیتا ہے کہ جب وہ کسی بات کے لئے کچھ کہتے
ہیں یا سوچتے ہیں تو لوح محفوظ کے قانون کے مطابق اس کامظاہرہ ہو جا تا ہے۔کیوں کہ
اس ادراس سے میرے ذہن میں یہ بات بار بار آتی تھی کہ رسول اللہ کی محفل میں ایک
محدود تو نہیں کہے سکتے لیکن ایک متعین طریقہ یہ بن گیا ہے کہ لوگ آئیں اور وہ جب
اشعار پڑھیں قصیدہ پڑھیں تو ان کا گلہ پھول جائیں، اتنی موٹی موٹی رگیں ہو جائیں،
منہ لال ہو جا ئے،سر گھومنے لگے اور اس کے بعد جب ختم ہو تو کچھ بھی نہیں ہے۔پتا
چلا اثرہی قائم نہیں ہے تو میرا یقین کہتا تھا کہ اس محفل میلاد میں کوئی ایسی
جدیت پیدا ہو کوئی ایسا طریقہ کا ر سامنے آئے کہ جب آدمی محفل سے اٹھے تو رسول
اللہ کی زندگی کے اعمال اور اخلاق حسنہ کا تاثر لیکر اٹھے۔
الحمد اللہ آج یہ میری خواہش اللہ نے پوری کی
میں بہت خوش ہوںکہ ایک ایسا طریقہ ہمارے سامنے آیا کہ حضور پاک کی پیدائش سے لیکر
اور وصال تک پور ی histry ہماری سامنے آتی ہے یعنی ہم نے رسول اللہ کی ۶۳ سال کی
زندگی کا مطالعہ کر لیا ۶۳ سال کی زندگی کا presentation ہمارے سامنے اس طرح آگیا
جیسے ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہوں یہ بات بڑی خوش حال بات ہے اور اس سے ایک بات میرے
ذہن میں یہ آتی ہے انشا اللہ اب اس میں نئے نئے اور راستے کھولیں گے اس لئے کہ
اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ بندے جب میرے لئے جدوجہد کر تے ہیں میرے مشن کے لئے
دماغ استعمال کر تے ہیں ہر پل یاد رکھتے ہیں الذین جھدو فینا…پھر میں اپنے اوپر
لازم کر لیتا ہوں کہ اس بندے کے اوپر ہدایت کے راستے ہوایک راستہ نہیں سو راستے
ہوں۔اس بندے کے اوپر بیشمار ہدایت کے راستے کھول جا تے ہیں۔الحمد اللہ آج آپ نے
محفل میلاد میں ایک نئے ارادے سے ایک نئے انداز سے ایک نئے طریقے سے رسول اللہ کی
سیرت طیبہ کا مطالعہ کیا۔
بچیوںنے
بروقت نعتیں پڑھی سلام پیش کیا ا بہت اچھے سے اشعار پڑھے وہ کارکن جو اس کام میں
شامل تھے انہوں نے بہت اچھے لہجے میں بہت ہی موثر طریقے پر تحریر کی مجھے تو ایسا
لگ رہا تھا کہ کتاب محمد رسول کا پرpresentationہو رہا ہے۔اس سلسلے میں جتنے بھی
ارکان ہیں جنہوں نے یہ کوشش کی وہ قابل مبارک باد کے مستحق ہے۔ خصوصاً وقار یوسف
صاحب نے شب روز محنت کرکے ایک اچھا نیا Getupپسند کیا جو ایک طریقہ پیش کیا یعنی
اللہ تعالیٰ انہیں مزید ہمت اور توفیق دے کہ اس قسم کے اور بہت سارے پروگرام ہمارے
سامنے آئیں یہ پروگرام میںنے سنا پھر اپنی جو اس سلسلے میں رائے ہے وہ یہ ہے کہ
اس قسم کے پروگرام انسان کے شعور میں ہل چل پیدا کر دیتا ہے۔غار حرا کا تذکرہ آیا
غار حراکا تصور بن گیا۔کعبے شریف میں اوجڑی کا تذکرہ آیا تو جسم کے رونگٹے کھڑے
ہوگئے، رسول اللہ ﷺ کا سفرطائف کا تذکرہ آیا ایک تصویر سامنے آگئی کہ اللہ کا
دوست جو کوئی غرض نہیں رکھتا اس کو دولت کا لالچ نہیں ہے صرف اللہ کے لئے اور
لوگوںکو دوزخ سے بچانے کے لئے کسی کسی تکالیفیں اور ظلم برداشت کرتا ہے اور پھر
اللہ تعالیٰ نے اس کا نتیجہ بھی سامنے ہے کہ آج الحمداللہ امت مسلمہ جیسی بھی ہے
ایک ارب کے قریب مسلمان ہے۔
یہ
میں آپ سے عرض کر رہا تھایہ جو پروگرام ہے۔اس سلسلے میں جتنے بھی بچوں نے محنت کی
ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس محنت کو قبول فرمائے اور رسول اللہ ﷺ کے دربار
اقدس میں محفل میلاد کا یہ طریقہ اللہ کرے حضور پاکﷺ اس کو قبول فرمائے اور اس میں
بر کت ہو۔
بسم
اللہ …عزیزان گرامی قدر آپ نے رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے تقریباً تمام شعبوں کو
احاطہ کرنے والا پروگرام دیکھا بہت کچھ آپ کے سامنے آگیا حضور کا بچپن بھی سامنے
آگیا، جوانی بھی سامنے آگئی،حضور پاک ﷺ کی حیات زندگی بھی سامنے آئی،حضور پاکﷺ
بحیثیت وارث کے آپ کے سامنے آگئے رسول اللہ ﷺ نے نوع انسانی کو جو قانون دیا وہ
بھی آپ کے سامنے آگیا جو انقلاب بر پا فر ما دیا اس سے بھی ہم واقف ہوئے اب کہنے
کو تو کوئی بات ایسی ہے نہیںکہ جو آپ کو بتائی جا ئے لیکن اللہ کے رسول کا ایسا
تذکرہ ہے کہ اس کو جتنا بھی اس کا ذکر کریں۔ سمندر ہیں کبھی ختم ہونے والا نہیں
ہے۔رسول اللہﷺ کی زندگی کی زندگی کا جو سب سے زیادہ درخشاں کام قائم ہے وہ یہ ہے
کہ رسول اللہ ﷺ کی وحدنیت کا پر چار کیا اور اللہ کی وحدنیت کا پر چار کرنے کے لئے
ہر قسم کی تکلیف بر داشت کی ہے۔اور ہر قسم کی دلی آسائش ولالچ کو نظر انداز کیا
ہے۔
جب
سے یہ دنیا بنی ہے اس وقت سے اب تک شعور اور لاشعورکے دائرے میں پوری نوع انسان
سفر کر رہی ہیں۔آدم سے لیکر اب تک اگر مختصر تعریف کا تذکرہ کیا جا ئے تو وہ یہ
ہے کہ آدم سے لیکر کر اب تک یا جب تک یہ دنیا رہے گی کائنات کامطلب یہ ہے کہ وہ
ارتقاء پذیر ہے ارتقاء پذیر کا مطلب یہ ہے کہ کائنات مسلسل حرکت میں ہے۔ پھیل رہی
ہے ایک نقطہ ہے جو پھیل رہاہے اور اتنا پھیل رہا ہے کہ اس کی منصب کاکوئی بھی کسی
بھی طرح اندازہ نہیں لگا سکتا یعنی کا ئنات کا مقصد ہی پھیلنا ہے۔کائنات کا مقصد
ہی حرکت کر نا ہے تو ہمیں یہ ہدایت ملتی ہے جب انسان کے اندر پھیلاؤ گم جا تا ہے تو انسان مر جاتا ہے۔جب کسی قوم کے
اندر جمود طاری ہوجا تا ہے وہ قوم بجائے چلتی پھرتی نظر آتی ہے لیکن وہ قوم مر
جاتی ہے۔مردہ ہو جا تی ہے اور اس کی حیثیت جانوروں سے بھی بدتر ہوجا تی ہے۔ اسلام
کابنیادی فلسفہ یہ ہے کہ کائنات مسلسل حرکت پر ہے۔
اور کائنات کو حرکت میںرکھنے کے لئے اللہ تعالیٰ
نے جونظام قائم کیا ہے۔یہ نظام یہ ہے کائنات کو قائم رکھنے کے لئے، کائنات کو
متحرک کرنے کے لئے،کائنات میں اللہ تعالیٰ کا ایڈمنسٹریشن چلانے کے لئے،اگر اللہ
تعالیٰ نے کسی کا انتخاب کیا ہے تو وہ انسان کا انتخاب کیا ہے۔زمین پہلے تھی آدم
سے پہلے جو زمین تھی اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فر ماتے ہیں کہ میں زمین میں اپنا
نائب اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔زمین میں اپنا خلیفہ بنا نے والاہوں اس سے ظاہر ہے
زمین پہلے سے موجود تھی۔ فرشتوںنے کہا یہ خون خرابہ اور فساد کر ے گا۔آدم تو اس
کامطلب یہ ہوا کہ آدم سے پہلے فرشتے موجود تھے۔آدم کو سجدہ کرنے میں ابلیس نے
بغاوت کی اس کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے پہلے جنات بھی موجود تھے۔ آدم سے پہلے علوم
بھی موجود تھے فرشتوں نے یہ کس بنیاد پر کہا کہ آدم خون خرابہ اور فساد کر ے گا۔
انہیں یہ علم تھا کہ آد م کو جن عناصر سے تخلیق
کیا گیا ہے اس میں فساد ہے جب ابلیس نے کہا خلق النار …تو میری تخلیق تو آپ سے
نہیں ہوئی تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جنات بھی اس بات کاعلم رکھتے ہیں کہ تخلیق کس
طرح ہوتی ہے۔وہ اس تخلیق اور اس راز سے تخلیقی مشن سے واقف تھے بات یہ بنی کہ آدم
علیہ السلام کووجود میں آنے سے پہلے زمین بھی موجود تھی، سموات بھی موجود
تھے،فرشتے بھی موجود تھے،جنات بھی موجود تھے اور علوم بھی موجود تھے فرشتوں
کااعتراض دور کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہاکہ ہم نے تجھے علم سیکھا دئیے
ہیں۔وہ فرشتوں کے سامنے بیان کریں…ثم عرضہیم علیٰ الملائکتہ …فرشتون کے سامنے بیان
کر آدم علیہ السلا م نے جب وہ علوم فرشتوں کے سامنے جو بیان کئے تو فرشتو ں نے اس
بات کا اطراف کیا قالو لاعلم لنا الا ما علمتنا …انک انت العلیم الحکیم …للہ
تعالیٰ ہمیں تو اتنا ہی علم آتا ہے جو آپ نے ہمیںسیکھا دیا ہے آد م کو تو ہم سے
زیادہ علم ہے اور نتیجے میں آدم کی حاکمیت کو قبول کر کے آدم کے سامنے فرشتے جھک
گئے۔
آدم
علیہ السلام سے یہ علم انبیاء کو منتقل ہوا اور وہ انہیںجو آدم کوان کی اولاد سے
منتقل ہو رہا تھا لاکھوں کروڑوں سال میں ارتقاء پذیر ہوتا ہوا آج سائنسی نام سے
آپ کے سامنے ہے۔ یہ سائنس ایسے نہیں بنتی کہ علم آگیا آدم علیہ السلام سے شعوری
استعداد شروع ہوئی شعور بڑھتا چلا گیا، بڑھتا چلا گیا،بڑھتا چلا گیااسپیس آگیا،
اس کے بعدغار کا زمانہ آگیاغاروں کے زمانے سے نکلا آدم درختوں میں بسیرا کیا،
کھا نے پینے میں کوئی تمیز نہیں تھی۔ آگ کا استعمال ہواشروع ہوا کھا نا پکنا شروع
ہوگیا اس کے بعد بجلی ایجاد ہوئی تو یہ جو بجلی آپ کے سامنے ایجاد ہے بتایا جا تا
ہے کہ یہ دو سو دو سو سال پہلے کی ایجاد نہیں ہے ڈیرھ دو سو وسال پہلے کی ایجاد
نہیں ہے یہ آدم کے زمانے سے سلسلہ چل رہا ہے۔
ارتقاء
کا اور لاکھوں سال میں جا کر یہ سائنسی علوم ہمارے سامنے آئے ہیںلیکن سوال یہ ہے
کہ یہ سائنسی علوم ہو،دنیا وی علوم ہو،روحانی علوم ہو،الہیٰ علوم ہو،ان علوم کا
نفاذ مادی جسم پر اس وقت ہوتا ہے کہ جب آدمی کے اندر روح موجود ہو مثلاًبڑے سے
بڑا سائنٹسٹ ابھی مر جا ئے اس کی ساری جائیدار ختم ہو گئی دنیا اور تاریخ میں
سائنسدان کہتے ہیں تین ارب سال کوئی کہتا ہے کروڑوں سال کی عمر ہے کروڑوں سال کی
اس دنیا میںایک مثال ایسی نہیں ہے کہ کبھی کسی مردہ آدمی نے ارتقاء کیا ہو، کبھی
کسی مردہ آدمی نے کوئی علم یاد کیا ہو، کوئی مردہ جسم فلسفہ ہوا ہو متقی ہو ا ہو،
جو بھی اس دنیا میں آیا وہ اسی وقت آیا جب جسم کے اندر روح موجود ہوئی جتنے
انبیاء اکرام علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لا ئے ہر پیغمبر نے اس بات کا احاطہ
کیاکہ اللہ تعالیٰ نے اس جسم کے اندر، اس خول کے اندر،اس مٹکے کے اندر، اس ڈبے کے
اندر، اس لفافے کے اندر اپنی روح ڈال دی۔
اور جب اس خول کے اندر خلا کے اندر اللہ نے روح
ڈال دی تو یہ خلا بولنے بھی لگا یہ خلا سنے بھی لگا، یہ خلا اترنے بھی لگا،کھود نے
بھی لگا،کھا نے بھی لگا،پینے بھی لگا،اس کے بچے بھی ہو نے لگے، تاریخ انسانی میں
ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی مردہ ماں نے بچے کو جنم دیا ہو، تاریخ انسانی میں
ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی مردہ ماں نے اپنے بچے کو دودھ پلا یا ہو،تاریخ
انسانی میں ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی مردہ شوہر نے شادی کی ہو،تاریخ انسانی
میں ایک مثال ایسی نہیں ملتی کہ کسی dead body نے کھانا کھا یا ہو، حرکت کی ہواللہ
تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے انسان کو سڑے ہوئے گاڑے سے بنایا پھٹکی سے بنایا خلاسے
بنایا اور اس خلا میں اپنی روح ڈال دی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ سے
قلومن امر ر بھم …وہ لوگ آپ سے روح کے بارے میں سوال کر تے ہیںاے پیغمبر ﷺ آپ
فرما دیجئے روح میرے رب کے عمل سے ہے۔ اللہ نے انسان کو علم تو دیا ہے مگر تھوڑا
دیا ہے۔
قرآن
پاک کی اس آیت کے سیاق و اسباق کو دیکھتے ہو ئے اس بات کا یقینی درجہ حاصل ہو جا
تا ہے لیکن انسان کے علم میںاللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے میں نے روح کا علم دیا ہے
لیکن تھوڑا دیا ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی پوری زندگی کا اگر مطالعہ
کریں گے تو رسول اللہ ﷺ کی زندگی روحانی زیادہ ہے جسمانی کم ہے یعنی رسول اللہ ﷺ
نے جو زندگی گزاری اس زندگی میں نور کے تقاضے شامل ہیں۔روح کا تقاضہ کیا ہے روح اس
بات کو جانتی ہے کہ اللہ واحد ہے لاشریک ہے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں روح
کیوں جا نتی ہے کس لئے جا نتی ہے ہمیں رسول اللہﷺ نے خود بتایا ہے کہ جب اللہ
تعالیٰ نے کن کہا تو ساری کائنات تخلیق ہو گئی لیکن ابھی تخلیق کے مراحل شروع نہیں
ہو ئے۔کائنات کو کچھ پتا نہیں تھا یہ کون ہے کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کائنات کے جمود
کو توڑنے کے لئے انسان کو مسلسل حرکت سے آشنا کرنے کے لئے انسان کو، انسان کی
روحو ں کو اپنی طرف متوجہ فرمایا اور فرمایا الست بربکم …مخاطب کر کے فرمایا الست
بربکم …کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟
جب
اللہ کی آواز روحوں کے کانوں سے ٹکرائی جیسے ہی آواز کا وارئبریشن کانوں کے
پردوں سے ٹکرا یا اس میں ایک سلسلہ شروع ہوا وہ یہ ہے کہ اللہ کی آواز کو الست
بربکم …آواز کی گونج کو اس کی وائبریشن کو اس کی حرکت کو جب روح نے محسوس کیا تو
اپنے کانوں کے اندر انہوںنے سنا شروع کر دیا۔اسی بات کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ
میری سماعت سے سنتے ہو اگر اللہ تعالیٰ الست بربکم نہ فرماتے تو کان آواز سے
آشنا نہ ہو تے ساری کائنات کی ہر مخلوق بہری ہوتی،کائنا ت کے کانوں میں انسان کے
کانوں میں جب سرسراہٹ ہوئی تو کائنات اورکان اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے کہ آواز
کس نے دی جب اس کی طرف متوجہ ہوا انسان یا انسان کی روح تو ایک تجسس اس کے اندر
پیدا ہوا احساس پیدا ہوا کسی چیز کو سمجھنے کا،پکڑنے کا،دیکھنے کا،محسوس کرنے
کا،قبول کرنے کایا رد کرنے کا ادراک پیدا ہو ا۔اس ادراک میں جب آواز بولنے والی
کی طرف توجہ کی تو وہاں اللہ تعالیٰ کو دیکھا جیسے ہی اللہ تعالیٰ کو دیکھا نظر
کھل گئی۔
نظر
نے کام کرنا شروع کر دیا جب نظر نے اللہ تعالیٰ کو دیکھ لیا تو یہ بھی بات ہے یا
اللہ تعالیٰ کا انکار کریں یا اقرار کریں تو روحوں نے اللہ کو دیکھ کر ربوبیت کا
اقرار کیا …اور کچھ روحوں نے شک شبہ میں اقرار نہیں کیا خاموش رہی وہ سب شقی ہو
گئیں۔تو جتنے لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان رکھتے ہیںجتنے لوگ رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا
محبوب مانتے ہیں۔وہ سب سعید روحیں ہیں۔کیوں کہ ہم اللہ کے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ
پر ایمان رکھتے ہیں یقین رکھتے ہیں تو ہم سعید روحیں ہیں۔سعید روحوں سے مراد یہ ہے
پھر رسول اللہ ﷺ کو ماننے والے جاننے والے عشق کرنے والے جتنے بھی بندے ہیں وہ
خواتین ہوں یا حضرات ہوں ان کی روحیں سعید ہیں۔اور سعید روحیں کی علامت کی پہچان
یہ ہے کہ سعید روح اللہ کی آواز سن چکی ہے۔روح کی آنکھوں سے اللہ کو دیکھ چکی
ہے۔اور زبان سے اللہ کی ربوبیت کا اقرار کر چکی ہے رسول اللہ ﷺ کے جو علوم ان کی
امت کو منتقل ہوئے ہیں جو پوری نوع انسانی کو منتقل ہو ئے ہیں اس پر اگر غوروفکر
اور تفکرکیا جا ئے وہ یہ ہے کہ ایک علم مادیت سے متعلق ہے۔
لیکن
دوسرا علم مادیت کو برقرار رکھنے سے متعلق اگر روح آدمی کے اندر نہ ہو تو مادیت
ختم ہو جا ئے گی رسول اللہ ﷺ کے امتی پر یہ فرض لاحق ہوتا ہے کہ وہ مادی علوم
سیکھنے کے ساتھ ساتھ اس روح کا علم بھی حاصل کر یں جس روح نے ازل میں اللہ کی
آواز سنی ہے، جس روح نے ازل میں اللہ کو دیکھا ہے اورجس روح نے ازل میں اللہ کو
دیکھ کر اللہ کی ربوبیت کا اقرار کیا ہے۔صحابہ اکرام کی مثالیں آپ کے سامنے ہے
حضرت بلال حبشی کی کیسی کیسی اذیتیں اور تکالیف ان کو دی گئی لیکن وہ ٹس سے مس
نہیں ہو ئے کیوں؟ اس لئے کہ بلال حبشی اپنے جسم کے ساتھ ساتھ اپنی روح سے بھی واقف
ہو گئے رسول اللہ ﷺ کی قربت میں رہنے والے صحابہ اکرام اور صحابیات کیوں کہ نور
نبوت سے ہمہ وقت مستفیض ہو تے رہتے ہیں۔
اپنی روح سے بھی واقف تھے جیسے جیسے یہ دور
گزرتا چلا گیا بادہشات آتی رہی لو گوں کے اندر دنیا طلبی زیادہ ہو گئی اسی مناسبت
سے آدمی سے مادی جسم میں زیادہ پیوست ہو گیا اور جتنااسی مناسبت سے روح کا تعلق
ہے کہ روح نے اللہ کو دیکھ لیا ہے وہ مختلف زون سے گزر کر اس دنیا میں آئی اس نے
اپنا ایک یہ لباس بنایا لیکن اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق رسول اللہ ﷺ کے فرمان
کے مطابق کل نفس ذائقہ الموت …کہ جو بندہ یہاں پیدا ہو گیا بر حال اسے یہ جسم
چھوڑنا ہے۔بر حال اس جسم کو ایک دو گز کے گڈے میں دفن ہونا ہے۔تو جب اس دو گز کے جسم
کو گڈے میں دفن ہو نا ہے اس سے کسی قسم کی رشتہ داری ہی نہیں ہے حضور قلندر
بابااولیاء فرما یا کر تے تھے کہ انسان سب سے زیادہ ہے موت سے ڈرتا ہے بھئی جو چیز
یقینی ہے اس سے ڈرنا کیا؟یہ تو ہو سکتا ہے آپ دس سال بعد مرے میں دس سال پہلے مر
جا ؤ ں۔
لیکن
مرنے سے کسی کو معائی نہیں ہے وہ فرمایا کر تے تھے سب سے بڑا محافظ انسان کاملائکہ
المو ت ہے اسلئے کہ ملائکہ الموت کے پاس جو ڈیپارٹمنٹ جو ہے وہ علم شعبہ کا ہے جب
تک پاسپورٹ پر ویزہ نہیں لگے گا بندہ اس دنیاسے اس دنیا میں نہیں جا سکتا اب اللہ
تعالیٰ نے فرمادیا ومستقرومتاعون الیٰ حین …ایک مقررہ وقت کے لئے آپ کو یہاں
بھیجا گیا ہے آپ کا ویزہ لگا ہے، کسی کاساٹھ سال کا ویزہ لگ گیا کسی کا اسّی سال
کا ویزہ لگ گیا،کسی کا پچاس سال کا ویزہ لگ گیا،کسی کا چھ مہینے کا ویزہ لگا اب
دیکھئے نہ چھ مہینے کے بچے بھی چلے جا تے ہیں جوانی میں آدمی مر جا تا ہے جتنا
ویزہ لگ گیا اللہ کی طرف سے اب کسی فرشتے کی، کسی طاقت کی، کسی قانون کی یہ ہمت
نہیں ہے کہ اس ویزے میں تبدیلی پیدا کی جائے تو لہذا فرشتو ں کی یہ ڈیوٹی ہے کہ جب
تک ویزہ ختم نہ ہواس وقت تک یہ بندہ اس دنیاسے اس دنیا میں نہیں جا سکتا ہم
خوامخواہ ڈر رہے ہیں خوف ذدہ ہو رہے ہیں اگر ہم ایک دن بھی پہلے چلے گئے تو وہاں
تو ملا ئکہ الموت سے جواب طلبی ہو جا ئے گی۔
ایک
جیلر ہے کسی آدمی کو جیل ہو گئی دو مہینے دس دن کی وہ جیلر جو ہے وہ دو مہینے
آٹھ دن میں اس کو چھوڑ دیتا ہے تو کیا ہو گا بھئی …؟کیا ہو گا اس کی نوکری چلی جا
ئے گی۔ وہ یہ نہیں پو چھے گا وہ تو کہے گا میں نے رحم کیا تھا دو دن کا انہوںنے
کہا نہیں قانون کے خلاف ورزی ہو گئی تو حضور پاک ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ مومن
کی پہچان ہی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی موت کو یاد کرتا ہے۔مومن کی علامت ہی یہ ہے کہ
وہ اس دنیا کے بعد دوسری دنیا کے حساب کتاب کو ذہن میں رکھتا ہے فمن یعمل مثقال
ذرۃ خیرایرا…ومن یعمل مثقال ذرۃ شریرا۔۔اگر آپ نے ایک ذرے کے برابر نیک کام کیا
ہے توآپ کو اس کااجر ملے گا اور اگر آپ نے ایک ذرے کے برابر شر کیا ہے فساد کیا
ہے تو ا س کی سزا ملے گی بس اوپر والا معاف کر دے یہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی جتنی بھی تعلیمات ہیں رسول اللہ ﷺ کی اپنی جو ذاتی زندگی ہے ۶۳ سال
کی جب ہم اس پر غور کرتے ہیں اس کو پڑھتے ہیں اس پر مطالعہ کر تے ہیں سیرت طیبہ کا
تو ہمارے سامنے ایک ہی بات آتی ہے۔
کہ
رسول اللہﷺ کی جب ہم اس پر غور کرتے ہیں جب پڑھتے ہیں مطالعہ کر تے ہیں سیرت طیبہ
کا تو ہمارے سامنے ایک ہی بات آتی ہے کہ رسول اللہﷺ کی ۶۳ سال کی زندگی میں ایک
منٹ کا ایک منٹ کا جمود نہیں ہے آج کا مسلمان ذلیل اور خوار ہے اس کی بنیادی وجہ
ہی یہ ہے کہ مسلمان کے ا ندر جمود پیدا ہو گیا ہے۔دوسری قومیں کے عروج کا راز یہ
ہے کہ ان قوموںمیں جمود کے بجائے مسلسل حرکت موجود ہے۔ ٓپ دیکھتے نہیں ہیں ہر
دوسرے تیسرے مہینے کوئی نئی چیز ایجاد ہو جا تی ہے۔کبھی ٹیلیفون ایجاد ہو گیا کبھی
ریڈیو ایجاد ہو گیا کبھی ٹی وی ایجاد ہو گیا،کبھی کمپوٹر ایجاد ہو گیا،کبھی موبائل
ایجاد ہو گیا،کبھی کچھ ایجاد ہو گیا، کبھی کچھ ایجاد ہو گیا، کبھی کچھ ایجاد ہو
گیا،کبھی کچھ ایجاد ہو گیا،تو یہ ایجاد ہو نا یہ جمود ہے یا حرکت ہے اور مسلمان
لوگ ہیں یہاں اگر کوئی عمل ہے وہ اس لئے کہ کوئی چیز ایجاد ہی نہیں ہوتی کیوں
ایجاد نہیں ہوتی کہ مسلمانوں کے اندر جمود پیدا ہو گیا ہے۔
مسلمانوں
نے اپنے اسلاف کا جو طریقہ کا ر ہے اس کو چھوڑ دیا ہے رسول اللہ ﷺ کی محفل
منعقدکرنے کا یہی فائدہ ہے کہ لوگ جمع ہوں رسول اللہ کی سیرت طیبہ کا بار بار
تذکرہ ہو لوگ آئیں مقالے پڑھیں نعتیں پڑھیں رسول اللہ کی زندگی کی جو اہم باتیں
ہیں وہ بار بار ہم سنیں سنائیں اس کا فائدہ یہ ہو گا ہمارے اندر سے جمود نکل جا ئے
گا،جب ہم قرآن پڑھیں گے تو ہمارے اندر تفکر پیدا ہو گااللہ تعالیٰ فر ماتے ہیں جو
لوگ تفکر نہیں کرتے وہ بر باد ہو جا تے ہیں ہلاک کر دئے جا تے ہیں۔قومیں کے عروج و
زوال کی دستان کے پیچھے یہی ایک نقطہ ہے کہ جو قوم جمود کی طرف جا تی ہے وہ تباہ
بر باد ہو جاتی ہے۔انا اللہ یغد رو …اور جو قومیں جمود اختیار نہیں کرتی مسلسل
تفکر کرتی ہے مسلسل ریسرچ کرتی ہیں محنت کرتی ہیں ان قوموں کو اللہ تعالیٰ عروج
عطا فرماتا ہے۔اپنے اسلاف کی تاریخ آپ دیکھیں ہمارے اسلاف میں کہیں جمود نہیں ہے
غزوات دیکھ لیجئے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہو ئے حضرت عمر کے زمانے میں دیکھ
لیجئے لاکھو ں لاکھوں میل پر اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔
اور
جب سے مسلمانوں کے اندر جمود پیدا ہوا۔جمود کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نے اپنے آپ کو
سمیٹ لیا،سوکیڑ لیا، محدود کر لیا، جہاں جمود ہو گا وہاں تفرقہ ہو گا اور جہاں
جمود نہیں ہو گا وہاں تفرقہ نہیں ہو گا۔جب انسان اپنی ذات کے اند ر محدود ہو جا تا
ہے تو ا س کو جمود کہتے ہیں اور جب انسان اپنی ذات کے اندر اپنی قوم کے بارے
میں،اپنے ملک کے بارے میں اپنے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں، اپنے اللہ کے بارے میں
سوچتا ہے تو اس کو تفکر کہتے ہیں اس کو ریسرچ کہتے ہیں۔یہ پیغام تمام اولیا ء اللہ
کا بھی ہے۔بڑے بڑے اولیاء اللہ آپ کے سامنے گزرے انہوں نے اللہ کے اور اللہ کے
رسول کے اس علم کو جس علم کو روحانی علوم کہا جاتا ہے اس کو سیکھنے کے لئے اپنی
زندگی کئیر آف اللہ کر دی ہے۔اب دیکھیں حضرت پیران پیر دستگیربڑے پیر صاحب۱یک بچے
نکلے گھر سے علم سیکھنے کے لئے واپس گھر گئے ہی نہیں علم ہی سیکھتے رہے۔
غزالی
جب علم سیکھنے کے لئے نکلے تو انتہائی ذلت کام بھی انہوںنے انجام دیا لیکن روحانی
علم سیکھ کر پلٹے۔خواجہ غریب نوا ز کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ بائیس سال شب روز
اپنے پیرومرشد کی خدمت میں حاضر رہے خانقاہ کا پانی بھرتے رہے۔ اپنے بچوںکو
سمجھانے کے لئے حساب کتاب ہم کر رہے تھے کہ بھئی بائیس سال چوبیس گھنٹے رہے تو اس
کا مطلب تب یہ ہوا کہ خواجہ غریب نواز نے تین شفٹیں روز کام کیا یعنی کہ وہ باہر
رہتے اٹھتے بیٹھتے روز لگا تے تو وہ کتنے پیسے کماتے تو جب ہم نے حساب پھیلا یا تو
ہمیں حساب میں یہ پتا چلا کہ خواجہ غریب نوازبائیس سال تک دنیا میں تین شفٹوں میں
کام کر تے رہتے تو اس کی مزدوری بیالیس لا کھ روپیہ بنتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا
خواجہ غریب نوازنے محنت مزدوری سے جو بیالیس لاکھ روپیہ کما سکتے تھے وہ اللہ کا
اور اللہ کے رسول کا علم سیکھنے کے لئے وقف کر دی۔
ہماری صورت یہ ہے کہ دنیا کہ ہر کام میں ہمارا
دل لگتا ہے، دنیا کہ ہر کام ہم اس طرح جھک جا تے ہیں جس طرح کوہلو کا بیل ہوتا ہے۔
لیکن جب نماز پڑھنے کا وقت آتا ہے ایک تو نماز پڑھنے کو دل ہی نہیں چا ہتا اور
اگر اللہ نے کسی جو توفیق بھی دی وہ نماز کی نیت باندھ لیتا ہے تو سوائے وسوسوں کے
اورخیالات کے اللہ کی طرف کبھی اس کا ذہن نہیں، ڈھونڈرہی نہ کیوں اس لئے کہ اللہ
کے اللہ کے رسول کا جو علم ہے ہم نے اس کی وہ قیمت نہیں لگا ئی۔محفل کا یہی پتا ہے
کہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف میں اشعار پڑھیںجا ئیں سنے جا ئیں برکت حاصل کر لی جائے
گھر جا کر کچھ بھی نہ کروتو، یہ جمود ہے۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کا تذکرہ
ہو اور آدمی کے اوپر اثر نہ ہواور جمود نہ ٹوٹے میرے حساب سے یہ ہم اپنے ساتھ
بددیانتی کر رہے ہیں اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے
مطالعے کے بعد ہمیں جو راستہ ملتا ہے وہ یہی ہے کہ حضور پاک ﷺنے فرمایا کہ انسان
کو ازل کا دن یاد رکھنا چاہئے…کیوں نہیں کر تے؟
کیوں
نہیں کر تے آپ بتا ئیں سوچیں اس لئے ہم اللہ کو نہیں دیکھ پاتے کہ ہماری جو اصل
روح ہے ہم اس سے ڈرنے لگے ہیں۔ روح کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہماری روح نکل گئی تو ہم
مر جا ئیں گے۔روح نکلنے سے کوئی نہیں مرتا وہ تو آپ کی روز نکلتی ہے اللہ تعالیٰ
فرماتے ہیں نیند کے بارے میں ہم تمہیں روز مار دیتے ہیں روز زندہ کر دیتے ہیں۔ جب
ہم سو تے ہیں تو ہمارے جسم پر ایک موت کی کیفیت وارد ہو جا تی ہے صبح کو ہم پھر
زندہ ہو جا تے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوا نہ کہ ہم چوبیس گھنٹے میں آٹھ گھنٹے
یادس گھنٹے موت کے منہ میں چلے جا تے ہیں آٹھ دس گھنٹے کے بعد پھر باہر آجاتے
ہیں تو بھا ئی یہ تو ہماری پریکٹس میںداخل ہو گیا مر حلہ تو اللہ کی ربوبیت کا جو
ازل میںاقرار کیا ہے۔ اس کا ایک ہی طریقہ ہے اس روح کو ٹٹولو، اس روح کوڈھونڈو،اس
روح کوتلاش کرو،جو آپ کے اندر موجود ہے جس روح کی وجہ سے آپ زند ہ ہیں جس روح کی
وجہ سے آپ کھا نا کھا تے ہیں،جس روح کی وجہ سے آپ سونے کے بعد بیدار ہو تے
ہیں،جس روح کی وجہ سے آپ کاروبار کرتے ہیں۔
آپ
نے کسی نے مردہ جسم کو کاروبارکرتے دیکھا دوکان پر بیٹھے ہو ئے دیکھا۔ کتنی آسان
بات ہے جب ہمارا یہ یقین کامل ہو گیا کہ ہم روح کے بغیر کوئی حرکت نہیں کر سکتے،
تو بات کتنی سی رہے گئی بات اتنی سی رہے گئی کہ اس روح کو ہم ڈھونڈلیں۔رسول اللہ ﷺ
نے فرمایا…من عرفہ نفسہ…جس نے اپنی روح کو پہچان لیا اس نے اپنے رب کو پہچان
لیا۔وہ اس لئے روح تو پہلے ہی رب کو دیکھ چکی ہے۔رب کی آواز سن چکی ہے۔اللہ
تعالیٰ کہیں دور نہیں ہیں اللہ تعالیٰ ہمارے اندر ہیں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وفی
انفسکم افلا تبصرون … میں تمہارے اندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں ہو اندر کیا
ہے روح ہے۔جس روز ہم اپنی روح کا ادراک کر لیں گے جس روز ہم اپنی روح کو دیکھ لیں
گے اسی روز رسول اللہﷺ کی سیرت طیبہ کا عکس بن جا ئیں گے۔اسی روز ہم اللہ کے عارف
بن جا ئیں گے۔کام بہت لمبا بڑا نہیں ہے صرف کھوج لگا نا ہے اندر دیکھنا ہے۔
اور
اس دیکھنے کے طریقے کو پیغمبروں نے یہ مراقبے کے ذریعے شروعات کی،اس کی اور اولیاء
اللہ نے بھی مراقبے کے ذریعے اپنی روح کو تلاش کیا ہے۔ اور مراقبے کی کامیابی کی
نتیجے میں رسول اللہ ﷺ سے قربت حاصل کی ہے ان کی زیارت سے مشرف ہو ئے ہیں اور اللہ
تعالیٰ کا عرفان بھی انہیں نصیب ہوا ہے۔آپ سب حضرات دور دراز سے تشریف لائے اس
محفل میں بہت اچھی اچھی باتیںسنی گئیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ان سب باتوں پر عمل
کرنے کی توفیق عطا فرما ئے۔ اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ کے مطابق زندگی
گزرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔اختتام