Topics
اعوذبا
اللہ من الشیطان الرجیم
بسم
اللہ الرحمٰن الرحیم
تلاوت
قرآن شریف سورۃ …
اسلام
ایک ایسا مکمل مذہب اور ضابطہ حیات ہے کہ اس میں زندگی کے کسی بھی شعبے کے بارے
میں آپ اپنے لئے ہدایت اور روشن راستے ناصرف یہ کہ تلاش کر سکتے ہیں۔بلکہ چودہ سو
سال ہو گئے اس بات کو کہ آج تک کوئی آدمی یہ نہیں کہے سکاکہ رسول اللہ ﷺ کی سیرت
طیبہ میں سیرت میں اور اسلام میں کوئی ایسی بات سامنے نہیں آئی کہ کہیں ضرورت پیش
آئی ہو،کہیں اس میں کیا ہماری راہنمائی ہوسکتی ہے، والدین کے حقوق میں،پڑسیوں کے
حقوق، کاروبار کس طرح کریں؟،رہن سہن ہمارا کیسا ہو؟،ہماری کیا ذمہ داریاں ہیں؟۔یہ
کسی بھی شعبے میں اسلام آپ کو مایوس نہیں کرتا اور اس کی جو بنیاد ہے وہ یہ ہے کہ
اسلام میں اس بات کی انسان کے اندر صلاحتیں اجاگر کر دی ہیں یہ جو نظام کائنات ہے
سارا کا سارا یہ ایک ہستی کے ہاتھ میں ہے۔
اسلام جو ہے وہ توحید کی دعوت دیتا ہے کہ ایک
ہستی ایسی ہے کہ جس نے یہ کائنات بنا ئی جس نے اس کائنات کو سنبھالنے کے لئے وسائل
پیدا کئے جس نے اچھائی اور برائی کہ تصور کو اُجاگر کرنے کے لئے ایک لاکھ چوبیس
ہزار پیغمبر بھیجے،جس ہستی نے اپنے محبوب بندہ رسول اللہ ﷺ کو دنیا میں بھیجا اور
صرف یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کہا یہ میرا دوست ہے اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہو یہ
کتنی صلاحیتوں سے واقف ہے بلکہ یہ کہا کہ ہمارا بندہ ایسا ہے کہ ہم نے اس کو جتنی
نعمتیں ہوسکتیں تھیں وہ سب اس بندے کو عطا کردی ہیں۔
اور
ہمارے پیغمبرنے جو کچھ ہمارا پیغام لوگوں تک انسانوں تک پہنچایا اس دین کے لئے
اللہ تعالیٰ نے تکمیل کردی الامااکمل دین…دین کی تکمیل کر دی اور اپنی محنت سے
پوری ترقی کی اب غور کریں جب دین کی تکمیل کے بارے میں خود اللہ تعالیٰ کاجو ارشاد
ہے کہ ہم نے دین کی تکمیل اور اس دین پر کسی قسم کا کوئی دخلہ کسی قسم کی کوئی
ترقی کسی قسم کی اس میں کوئی اضافہ واقع نہیں ہو سکتا اللہ تعالیٰ نے کہہ دیا آج
کے دن انسان صرف میری طرف دیکھیں تو اس دین کی جو بنیادی ضررویات ہیںاس کو بھی
اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کے ذریعے اپنے پیغمبروں کے ذریعے مشاہدہ نوع انسانوں
کو کردیا تاکہ کوئی یہ نہ کہے سکے کہ صاحب یہ تو ایسی باتیں ہیں یہ تو انہونی ہے
ہو ہی نہیں سکتی۔ تو اللہ تعالیٰ نے عام بندوں کی طرح اپنے بندے پیدا کئے۔ ان کو
مثال کے طور پر مخلوق کے سامنے پیش کیا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ جس کی
یاد میں ہم سارے لوگ مل کر قربانیاں کرتے ہیں، تو وہاں پرآخری عمر میں جب کہ
اولاد کا کوئی تصورہی نہیں میڈیکل سائنس کے حساب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد عطا فر
مائی اور جب وہ اولاد چلنے پھرنے کے قابل ہوئی، جینے کے قابل ہوئی، تو اللہ تعالیٰ
نے حضرت ابراہم علیہ السلام کو خواب دیکھا دیا۔
خواب
میں اللہ تعالیٰ نے تمہاری جو عزیز شے ہے وہ تم اللہ کے لئے قربان کر دو تو عزیز
ترین شے ہے، ویسے بھی آدمی کے لئے اگر غور کریں تو عزیز ترین شے اس کی اولاد ہی
ہو گی۔اورآدمی جس کے لئے محنت کرتا ہے مزدوری کرتا ہے مثال یہ کہ اپنی آخرت بھی
خراب کر لے تو اولاد ہمیں عزیز ترین شے ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت
اسماعیل علیہ السلام سے جو خواب میں آئے تھے حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی جو
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے تھے انہوں نے کہا صاحب جو آپ نے خواب دیکھا آپ
اس کو پورا کر دیں آپ یہ ثابت کریںبالکل جو کچھ اللہ تعالیٰ نے کہا ہے آپ ایسے
پورا کردیںحضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب کی دیکھی ہوئی بات کو پورا فر مادیا۔
اگر ہم حضرت ابراہیم کے عمل پر ہم غورو فکر کریں تو انہوں نے اللہ کے حکم کو پورا
کر دیا۔چھری چلا دی۔ اب یہ کہ اللہ کا انعام ہے بیٹے کی جگہ دُنبہ آگیا۔
اسی صورت سے رسول اللہ ﷺکی زندگی پر جب غور کرتے
ہیں تو آپ دیکھئے کہ نبوت کے بعد جو علوم رسول اللہ نے اسلام میں پھیلا نے کے لئے
توحید عام کرنے کے لئے جوتکالیف برادشت کئے اور اس سے اندزہ ہوتا ہے کہ تصور میں
یہ باتیں آتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو عام کرنے کے لئے رسول اللہ نے ساری
تکلیفیں برداشت کی۔رسول اللہ کے ساتھ اللہ کا پیغام پہچایا اللہ تعالیٰ نے رسول
اللہ سے پہلے اپنے پیغمبروں کے لئے جو پیغام پہنچایا اس میں تصدیق کرتے رہے اور
اور اس کے لئے حقوق بھی ساتھ ہی ساتھ فرماتے رہے۔اب یہ قربانی جو ہم لوگ کرتے ہیں
یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور رسول اللہ نے فر مایا کہ جیسے میرے باپ
ابراہیم نے اللہ تعالیٰ پر نثا ر کیا اور قربان کیا اپنے عزیز ترین شے کو اللہ کے
لئے قربان کر دیا۔اس لئے ہمارے اوپر بھی یہ ذمہ داری ہے اس لئے ہم بھی توحید پرست
ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اسی مذہب کو دین کو
fellow کریں لہذاہماری بھی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی عزیز چیز کی قربانی دیں۔حضرت
حاجرہ علیہ السلام خاتون، دیکھئے مرد حضرات اور خواتین حضرات دونوں کو اللہ تعالیٰ
نے مثال بنا کر ثابت کر دیا ہے جو بھی حج کے لیے آئے وہ صفاو مروہ کے چکر لگائے،
اللہ تعالیٰ کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ وہ حج کا حصہ ہو گیا۔ صفا و مروہ یعنی
سعی اداکریں تو حج بھی پورا ہے۔تو یہ جو اللہ تعالیٰ کا نظام ہے اس مکمل نظام کی
تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ہمارے پیغمبر نے اوپر کی ذمہ داری عطا کی ہم ان پر عمل
کریں میں ایک بات حضرات آپ سے کہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اسلام کا بنیادی فلسفہ جو ہے
وہ محبت ہے۔ اسلام کا بنیادی فلسفہ آپس میں میل جوڑ ہے،تعلق ہے تفرقہ نہیں ہے۔اب
دیکھیں پانچ وقت کی نماز اس میں بھی اجتماعیت ہے،جمعہ کی نماز میں بھی اجتماعیت
ہے،عید کی نماز میں بھی اجتماعیت ہے،روزہ رکھنے میں بھی اجتماعیت ہے۔
آپ
نے ٹی وی پر دیکھا ہو گاکیا وہ منظر تھا حج کا،بیس لاکھ آدمی بتاتے ہیں کہ بیس
لاکھ آدمی سعادت حاصل کر رہے ہیں اس میں بھی اجتماعیت ہے ایک ہی دن ہے ایک ہی وقت
ہے بیس لاکھ آدمی توحید پرستی کا ایسا مظاہرہ کر رہے ہیں کہ ایک وقت میں، ہر
آدمی ایک ہی کام کر رہاہے۔تو اسلام کی جو بنیادی اسلام کا جو بنیادی فلسفہ
ہے۔السلام کی جو روح ہے وہ آپ غور کریں تو اس میںاجتماعیت کے علاوہ کچھ نہیںہے
اور غیر مسلموں کی سازش سے جب سے اسلام میں تفرقے پیدا ہو گئے ہے جب سے اسلام
کمزور ہوتا چلا گیا اور جب تک اسلام میں تفرقے نہیں رہے، سب جانتے ہیں پڑھے لکھے
لوگ ہیں وہ ہم یہ جانتے ہیں جو آج امریکہ کی جو پوزیشن ہے ساری دنیا میں یہ ظاہر
تھا کہ مسلمان ساری دنیا کے حکمران ہیں تمام دنیا کے سارے علاقوں کے حکمران
ہیں۔ساری دنیا کے حکمران ہیں۔اس وقت کیا بات تھی، اس وقت ان کے اندر تفرقہ نہیں
تھا۔
ٹکڑوںمیں باٹے ہو ئے نہیں تھے اب جیسے جیسے
سازشیں ہوئی مسلمانوں میںتفرقے کھڑے ہو ئے اور یہ بنتے چلے گئے اسی مناسبت سے
مسلمانوں کی جو طاقت ہے وہ ٹوٹ گئی ہے اور مسلمان قوم دنیا میں سب سے بدترین شمار
ہوتی ہے۔تو اسلام کا فلسفہ حیات جو ہے وہ قربانیوں دو،عید الاضحی ہو، عید الفطر
ہو،پانچ وقت کی نمازیں،روزہ،حج،زکوٰۃ،جہاد اس میںآپ دیکھیں سب میں اجتماعی ہے تو
اسلام اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ مسلمان مٹھی کی طرح بند ہے تو جب تک یہ مٹھی بند
رہے گی تو ساری اجتماعیت رہے گی جب یہ مٹھی کھل جائے گی تو آپس میں جھگڑے تفرقے
ایک آدمی کوآپ ایک جھاڑو کے تنکے کی طرح ماریں گے سو جھاڑو کے تنکے لیں ایک ایک
کر کر ماریں تو چوٹ نہیں لگے گی۔ وہی جھاڑو کے سو تنکے کو لیکر جمع کر کے رسی سے
باندھ کر ماریںتو بہت چوٹ لگے گی۔ہماری صورت حال جو بد قسمتی ہے ہمارے آپس میں
ٹکڑے ٹکڑے کر دئے گئے۔
جبکہ اللہ تعالیٰ نے بالکل واضع طور پر فر مایا
ہے …قرآن پاک کی آیت ہے اللہ کی رسی کو مضبوط ہو کر پکڑ لو اِدھر کی اُدھر مت
پکڑ، بس آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔یہ قربانی آپ دیکھیں اس میں بھی اجتماعیت ہے۔ہم
جب قربانی کر تے ہیں ایک تو یہ اجتماعیت ہے پانچ ہزار سال سے ایک ہی کام کو کرتے
چلے آرہے ہیں اس میں اجتماعیت ہے اللہ نے ہمارے یہاں احباب دوست رشتہ دار سب گلے
ملتے ہیں۔گوشت تقسیم ہوتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ کا منشاہ یہ ہے کہ یہ تمام اسلامی
ارکان سے کہ ہم متحد ہو کر رہے،ایک دوسرے کے کام آئیں اور آپس میں تفرقے بازی کو
کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نا پسند کیا ہے۔ تفرقے بازی سے سے دور رہے اور میں نے بھی
اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فر مائے کہ ہم اسلام کی
جو روح ہے۔اسلام کا جو مقصد حیات ہے اسے سمجھنے کی کوشش کریں۔مختصر یہ ہی ہے کہ
اللہ تعالیٰ ایک ذات ہے۔
واحد
ذات ان جیسا کوئی نہیںہے۔انہوںنے اس کائنات کو بنا یا بنا نے کے لئے وسائل پیدا
کئے اور ایک باپ کی حیثیت سے،بزرگ کی حیثیت سے،خالق کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ یہ
چاہتے ہیں کہ ساری مخلوق مل جل کر رہے۔ خوش ہو کر رہے جو باتیں اللہ تعالیٰ کو
پسند ہیں وہ سب مل کر خوشی خوشی پورا کریںاور جو تفرقے اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں
وہ اللہ تعالیٰ نے تمام پیغمبروں کے ذریعے بتادی گئیں ہیں۔حضرت داؤ د علیہ السلام
کے ذریعے،حضرے اسماعیل کی مثال کے ذریعے حضور پاک ﷺ کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں تو
فیق عطا فر مائے یہ تفرقوں کی جو بیماری انسانوں کے اندر پیدا ہو گئی ہے اس سے
ہمیںنجات مل جائے۔آمین اختتام