Topics
یہ
بات کئی مر تبہ زیر بحث آچکی ہے کہ آدم اور دو سری مخلوق میں اللہ تعالیٰ نے کو
ن سی امتیازی بات رکھی ہے جس کی وجہ سے انسان، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مخلوق سے
زیادہ عزیز ہے۔اور تمام مخلوقات سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی قربت کا تجربہ اسے عطا
ہوا۔اس بات کو قرآن پاک نے کئی کئی طرح بیان کیا ہے۔پہلے سپا رے سورۃ البقرہ میں
اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ میں نے سب کو اکٹھا کر کے کیونکہ اس میں جن کا بھی
تذکرہ آجا تا ہے کسی جن نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی عدم عدولی کی اور اللہ تعا لیٰ
تو یہ پتہ چلتا ہے جب اللہ تعالیٰ نے یہ بات فرما ئی میں زمین پر اپنا نائب اور
خلیفہ بنا نے بنانے والا ہوں یعنی ایک ایسی مخلوق میں نے پیدا کی ہے جس مخلوق میں
کچھ افراد میرے دئیے ہوئے اختیارات کو استعمال کریں گے۔نیا بت اور خلا فت کا مطلب
ہی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مر ضی اور منشا کے مطابق جب اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا
جنات اور فرشتوں کے سا منے زمین پر میں اپنا نائب اور خلیفہ بنانے والا ہوں، تو
فرشتوں نے فرمایا کہ صاحب یہ جو آپ نائب اور خلیفہ اس کو بنا رہے ہیں آدم کو اس
کے اندر جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں۔
یہ
جس جن عنا صر کے، جس عنا صر کے مجموعے سے، تر کیب سے اس کی تخلیق ہوئی ہے اس سے یہ
پتہ چلتا ہے کہ یہ تو بڑا زمین پر فساد بر پا کر دے گا۔خون خرابہ کر ے گا مرا د یہ
ہے کہ آپ جس کو خلیفہ بنا رہے ہیں یہ تو آپ کا جو ذہن ہے، آپ کی جوایک، اللہ
تعالیٰ کی بنا ئی ہوئی جو حکمت ہے جو کا ئنات میں قوانین کام کر رہے ہیں اس کے
خلاف زمین پرفساد کر ے گا۔آپ کے خلاف کام کر ے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی اس
بات کو یہ کہے کہ رد نہیں فرمایا کہ نہیں نہیں فساد نہیں کر ے گا بلکہ اللہ تعالیٰ
نے اس بات کو سرے سے بیان ہی نہیںکیا کہ فساد کر ے گا، نہیں کر ے گا بلکہ اس آیت
میں اللہ تعالیٰ نے طریقہ یہ اختیار کیا کہ آدم کو وہ علوم سیکھا دئیے جو علوم نہ
فرشتے جا نتے تھے اور نہ جنات جا نتے تھے۔یہ بات کیسے پتہ چلی کہ صاحب اللہ تعالیٰ
نے وہ علوم سیکھا دئیے جو فرشتے اور جنات نہیں جا نتے تھے۔
یہ
بھی انہیں آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو علم الاسماء
سیکھا یا …وعلما آدم الاسمائ…اور آدم سے یہ کہا کہ بھئی یہ جو ہم نے تمہیں علوم
سیکھائے ہیں تم یہ بیان کرو تو آدم نے وہ علوم بیان کر نا شروع کئے علم الاسماء
یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیقی صفات اللہ تعالیٰ کی وہ صفات کے علوم، جن صفات کی
بنیاد پر یہ کائنات تخلیق ہوئی اور جن صفات کی بنیاد پر کائنات چل رہی ہے دیکھئے
بات یہ ہے۔یہ بات جو ہے ہمیں سامنے رکھنی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرما رہے کہ
مخلوق بنا رہا ہوں میں ایک آدم بنا رہا ہوں نہیں اللہ تعالیٰ فرمار ہے ہیں میں
زمین پر اپنا نا ئب اور خلیفہ بنا رہا ہوں ایسی ہستی کو تخلیق کررہا ہے جو میرے
نیابت کے فرائض پو رے کر ے گی اور جب آدم نے اللہ تعالیٰ کے سیکھا ئے ہو ئے علوم
بیان کئے تو فرشتوں نے بر ملا اس بات کا اقرار کیا کہ کہ صاحب ہم تو اتنا ہی جانتے
ہیں جتنا آپ نے بتا دیا اور اس بنیاد پر آدم کو جو علوم اللہ تعالیٰ نے عطا کر
دئیے ہیں فرشتے ان سے نہ واقف ہیں اس بنیاد پرفرشتوں نے آدم کی حاکمیت کو قبول
کیا۔
سجدہ
کرلیا سجدے سے مرا د وہاںیہ نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ کہے رہے ہیں کہ بھئی یہ
آدم جو ہے میرا نائب خلیفہ ہے لہذا اسے سجدہ کر لو خدا مان لو۔ رب العالمین مان
لو مطلب یہ نہیں ہے سجدے سے مرادیہ ہے جھک جا ؤ ، جھکنے سے مرا د یہ ہے کہ اس کی
بڑا ئی کو اس کی فضلیت اس کی حیثیت اور اس کے اقتدار کو جوہم اسے دینا چا ہا رہے
ہیں اور ان اختیارات کو جن اختیارات کو ہم نے بحیثیت نائب اور خلیفہ کی حیثیت سے
منتقل کر دئیے۔ اس کے سامنے جھک جا ؤ
جھکنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی عظمت کو تسلیم کر و فرشتے نے ایسا ہی کیا
جنات نے بھی آدم کی حاکمیت کو قبول کر لیا لیکن جس جن نے یا جن جنات نے آدم کی
حاکمیت کو قبول نہیں کیا، قرآن میں ہے کہ جو اس نے کبر کیا وہ کافروں میں سے ہو
گیا اور اللہ تعالیٰ نے اسے نا پسند کیااوراس کو کہا کبر۔
اور اس سے کہا کہ بھئی کیونکہ حاکمیت کو قبول
نہیں کیا اس نے اس بات کی تسلیم ہی نہیںکی کہ آدم کو علم عطا کئے جو کائنات میں
کوئی بھی نہیں جا نتا تھا اللہ کے علاوہ تو یہ علم الاسماء جو ہے اصل اللہ تعالیٰ
کی صفات ہے، وہ صفات جن صفات سے یہ کائنات آدم سے پہلے بھی تھی اور آدم کے بعد
بھی ہے اب آپ یہ نہیں سمجھئے کہ آدم سے پہلے یہ کائنات نہیں تھی یا اللہ کی صفات
نہیں تھی یا اللہ کی صفا تی علوم کا عمل کہیں دخل نہیں تھا ایسا نہیں تھا کائنات
پو ری موجود تھی فرشتے بھی موجودتھے جنات بھی موجو د تھے اور آدم کی جو فضلیت
ثابت ہوتی ہے وہ اس بنیاد پر ثابت ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو وہ خصوصی
علوم سیکھا ئے جن علوم سے نہ فرشتے واقف ہیں نہ جنات واقف ہیں اور نہ کوئی مخلوق
واقف ہے۔اور جب آدم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی علوم منتقل کر دئیے سیکھا دئیے
یعنی تخلیقی اختیارات آدم کو منتقل کر دئیے دیکھئے تخلیقی اختیارات منتقل کرنے کا
مطلب یہ نہیں کہ وہ بندہ خالق ہو جاتا ہے خالق تو وہی رہے گا جس نے اختیارا ت
منتقل کردئیے اب اللہ تعالیٰ نے فرمایا احسن خلقین ’میں سب تخلیق کرنے والوں میں
بہترین خالق ہوں‘۔
اب اس کا مطلب یہ نہیں کہ دو سرے لوگ جو تخلیق
کر تے ہیں وہ بھی خدا ہو گے خدا تو رب العالمین تو وہ ہے جو قادر مطلق ہے اور اس
کے بنا ئے ہو ئے قانون اس کے دئیے ہو ئے علوم اور اس کے دیئے ہو ئے اختیارات سے اس
کی بنائی ہوئی چیزوںتصرف ہو، جو اس میں تصر ف کرتے ہیں، وہ اس کے نائب اورخلیفہ ہو
تے تو وہ اب دیکھئے کہ ایک آدمی کہتا ہے صاحب میں بجلی کا خالق ہوں۔وہ کہے سکتا
ہے کوئی بجلی کا خالق ہوں سوال یہ ہے کہ بجلی کا تعلق اگر پا نی سے ہے پا نی کے
تھا لے سے، تو اس کوجب چلا تے ہیں تو اس میں ہیٹ پیدا ہوتی ہے۔تو پانی بھی پہلے سے
اللہ نے پیدا کیا ہو ا ہے ٹربائین جو چیزیں ہیں مثلا ً لو ہا ہے میگنٹ ہے مثلا ً
تار ہے۔وہ بھی اللہ کی بنا ئی ہوئی ہے اب ایک تا رو ں کے بجا ئے اس میںکھمبے آ جا
تے ہیں کھمبے،ڈسٹربیویشن کے بجلی کے پھر اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے کم طاقت بناتے ہیں
پھر اسے تقسیم کر تے ہیں کہ بجلی کی طاقت کو کم کر تے ہیںپھر اسے تقسیم کر تے ہیں
پھر گھروں میں آپ دیکھتے ہیں کہ پہلے اسٹیشن بنتے ہیں۔
ٹرانسفرمر
کے بعد گھروں میں میٹر لگتے ہیں بلب لگتے ہیں رو شنیاں ہوتی ہیں اب ظاہر ہے جس
آدمی نے بجلی کو ایجاد کیا وہ یہ کہے سکتا ہے میں بجلی کا خالق ہو ں اورآپ سے
منع بھی نہیں کر سکتے۔لیکن سوال یہ ہے کہ بجلی کے خالق نے جو تخلیق کی بجلی، اس
تخلیق میں تو وہی ساری چیزیں کام کر رہی ہیں جواللہ تعالیٰ نے تخلیق کی۔اگر رب
العالمین پا نی پیدا نہ کر تے،لو ہا پیدا نہ کر تے، مگنیٹ پیدا نہ کر تے،ربڑ پیدا
نہ کر تے جو بجلی کے تار کے اوپر لپٹی جا تی ہے۔ تو انسان نے کیا پیدا کیا، اللہ
کے بنائے ہوئے وسائل کو ایک جگہ جمع کر کے اس سے ایک چیز تخلیق کی، خالق تو اسے
آپ کہے گے لیکن خالق تو بن گیا وہ خالق ہے۔خالق کا ئنات نہیں بنا خالق کا ئنات کا
نمائندہ تو آپ اسے کہے سکتے ہو۔ اب مثلا ًایک ما ں ہے اب ہم سب بیٹھے ہیں اپنی
ماؤ ں کے شہزادے ہیںاگر تجزیہ کیا جا ئے اولاد کا بچے کا خود اللہ تعالیٰ نے قرآن
پاک میں اس کی وضاحت کی ھوالذی …یہ بھی بتا یا پہلے کیا ہوتا ہے پھر علقمہ ہوتا ہے
پھر لوتھڑا ہوتا ہے، پھر گوشت ہوتا ہے پھر ہڈیاں ہوتی ہیں پھر یہ ہوتا ہے پھر وہ
ہو تاہے۔
سب
جانتے ہیں کہ ماں کا جو دودھ ہے وہ بچے کے لئے وسائل بنتا ہے۔ ماں کا خون یہی بچے
کا گو شت بنتا ہے ماں کا کچھ او ر خون مل کر ہڈیاں بن جا تی ہیں ماں کا خون بچے کے
بال بن جاتے ہیں یہی ہا تھ آنکھیں بن جا تی ہیں۔اگر ماں کا خون بچے کے اندر منتقل
نہ ہو ایک قاعدے ضابطے کے تحت نو مہینے تک منتقل نہ ہوتا رہے۔بچے کی پیدا ئش نہیں
ہو گی۔ اس لئے نہیں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ نے وہ ایک ذیلی تخلیق کے لئے قانون
بنایا۔ذیلی خالق بھی اللہ نے بنائی، خالق سے مراد وہ خالق نہیں جو اللہ ہے بلکہ
اللہ کے بنا ئے ہو ئے وسائل کواکٹھا کر کے جا ن بو جھ کر یا بغیر جانے بو جھے کوئی
چیز بنا لینا اس کو اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں کہ ہم احسن و خلقین… ہیں تخلیق کرنے
والوں میں بہترین خالق اللہ ہے۔خالق اول، خالق اعلیٰ خالق ہے ایسا خالق جو قادر
مطلق ہے جو چا ہے جب چاہے جس طرح چاہے الٹ کر دے پلٹ کر دے اب ماں کو ظاہر ہے خالق
کے علاوہ کچھ نہیں کہے سکتے، بلا شبہ ماں ہماری خالق ہے لیکن ہم ماں کو اللہ نہیں
کہے سکتے، نہ ماں کو رب کہے سکتے ہیں حالانکہ دیکھئے اس نے کام سارا وہی کیا۔
اب دیکھئے آپ اللہ تعالیٰ وسائل پید اکرتے
ہیںزمین میں بندوں کے لئے وسائل پیدا کرتا ہے اگر زمین نہ ہو، زمین میں ہمارے لئے
وسائل فراہم نہ کئے جا ئیں جو کام اللہ کر رہا ہے وہ کام اللہ ایک ماں سے لے رہا
ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ ہے ماں کے ذریعے اسے ہر وہ چیز میسر ہو رہی ہے جس سے
خوبصورت تصویر سامنے آئی اپنا ماں کا عمل داخل ہو گیا۔اب دودھ کیا ہے سب ہی کچھ
ہے دودھ ہمیں کہاں سے مل رہا ہے یہ سب کچھ یہ جو ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ کے
دئیے ہو ئے اختیارات انسان استعمال کر ے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت اب ماں کو
اللہ تعالیٰ نے تخلیقی اختیارات دئیے۔ اب بچے ماں سے اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے وہی
سارے احساسات اور جذبات منتقل کر دئیے جن جذبات اور احساسات کی ضرورت ہے بچے کو تو
یہ جو سوال ہے کہ صاحب علم الاسما ء اللہ تعالیٰ نے عطا فرما یا۔
جو
علوم آدم کو عطا کر دئیے ہیںجو علوم کا ئنات میں آدم سے پہلے کسی کوحاصل نہیں
تھے اب یہ ہے کہ آدم کے بعد کیا ہوتا ہے وہ علوم کسی اور کو منتقل ہو تے ہیں یا
پھر کوئی چوتھی مخلوق بنتی ہے اس بارے تو کوئی کچھ نہیں کہے سکتا اس لئے کہ اللہ
تعالیٰ نے خود اس میں پر دہ رکھا ہو اہے وہ ایک دعا حضور قلندر بابااولیا ء ؒ فرما
تے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا ہے یا اللہ تجھے تیرے ان ناموں کا واسطہ جو تو نے
مجھے سیکھا ئے، اے اللہ تعالیٰ تجھے تیرے ان ناموںکا واسطہ جومیرے بعد آنے والوں
کو سیکھائے۔ اب یہ بڑی غور طلب بات ہے نبوت ختم ہو گئی اور ان کی تکمیل ہو گئی پھر
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ فرمانا اے اللہ! تجھے تیرے ان ناموںکا واسطہ
جومیرے بعد آنے والوں کو سیکھائے یہ غور طلب بات ہے پھر یہ اسی دعا میں حضو ر
فرماتے ہیں یااللہ تعالیٰ تجھے تیرے ان ناموںکا واسطہ جو تو نے اپنے لئے محفوظ کر
ے۔
اب
یہ جو اللہ تعالیٰ کے نام ہیں ظا ہر ہے اللہ تعالیٰ کے علوم ہیںاب لاکھوں کھر بوں
اربوں سال سے دنیا چل رہی ہے پہلے جب آدم نہیں تھا جب بھی یہ دنیا تھی اب ہو سکتا
ہے آدم کے بعد اللہ تعالیٰ کے مزاج ہے تو اس کا پتا نہیں ہے کسی کو، اب اللہ
تعالیٰ کی مرضی ہے ہوسکتا ہے ایک پانچوی مخلوق بھی پیدا کر دے، کوئی مخلوق ہو اس
کا اللہ تعالیٰ کو پتا ہے اللہ تعالیٰ تجھے تیرے ان ناموںکا واسطہ جو تو نے اپنے
لئے محفو ظ کئے۔تو یہ ا نسان کا جو شرف ہے وہ اس بنیاد پر ہو اکہ انسان سے پہلے جو
علوم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اور جنات کو سیکھا دئیے تھے اس سے ہٹ کر نئے علوم
اللہ تعالیٰ نے آدم کو بھی سیکھائے اور ایسے علوم ہیںجو کا ئنات میں آدم کے
علاوہ کسی کو نہیں پتا کیونکہ آدم کے علاوہ اس علوم کو کوئی نہیں جانتا تھا، جن
علوم کی بنیاد پر آدم کا شرف آدم افضل ہے۔
فرشتوں
سے آدم افضل ہے جنات سے، چونکہ مکلف مخلوق یا قابل تذکرہ مخلوق وہی ہے جنات اور
فرشتے جب ان سے ہی فضلیت حا صل ہو گئی تو آدم کو تو اب ساری کائنات پر آدم کو
فضلیت حاصل ہو جا ئے گی اس لئے کہ اور جو دو سری چیز ہے وہ بحیثیت وسائل کے
ہیںمثلاً پر ندے ہیں بکر یاں ہیں بھیڑ ہے گا ئیں ہیں،بھینس ہیں،زمین ہے، گیہوں ہے
درخت ہے، آسمان ہے،سورج ہے، ستا رے ہیںیہ سب کیا ہیں ان سب کے اوپر آپ غور کریں
گے تو ان کا سب منشاہ ہی یہ ہے کہ انسان کی خدمت گزاری میں لگے رہتے ہیں۔
اب اگر آسمان ہی نہ ہو تو بتا ئیے کا ئنات کا
کوئی نسخہ نہیں جس سے سورج بنتا ہے، سورج ہی نہ ہو چا ند ہی نہ ہو پھر آپ یہ
دیکھتے ہیں سورج کی جو تپش ہے سورج کی جو دھوپ ہے سورج کی جو رو شنی ہے اس کا
منشاہ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے کہ انسان کو اس سے فا ئدہ پہنچتا ہے یا ان
وسائل کو فا ئدہ پہنچتا ہے جو وسائل انسان کے قابل ہیں چاند ہے چاند کی ٹھنڈک سے
آپ لطف اندوز ہو تے ہیں لیکن وہی چاند کی جو چا ندنی ہے وہ آپ کے پھلوں میں مٹھا
س پیدا کرتی ہے آپ کے اجناس میں مٹھاس پیدا کرتا ہے چاند، ورنہ ہر چیز کڑ وی ہو
گی کھا نے کی، تو یہ ساری چیزیں جو ہیںانسان کو جو زمین پر ہیں نظر آرہی ہیں
انسان کی خدمت گزاری میں مصروف ہے اربو ں کھربو ں سال ہو گئے دیکھئے ایک نظام ہے
سورج مشرق سے نکلتا ہے مغرب میں چلے جاتا ہے چا ند رات کو ہی نکلتا ہے رات میں ہی
چاندنی ہوتی ہے اس کی، ایسا نہیں ہوا کہ دن کے بارہ بجے چا ند نکلے اور چا ندنی
ہو، اب ایسا بھی نہیں ہوا کہ رات کے بارہ بجے سورج چمکنے لگے ا ب دھوپ کی تپش
محسوس کرنے لگے ایک نظام ہے اس نظام کے تحت یہ ساری چیزیں کام کر رہی ہیں کیونکہ
یہ ساری چیزیں انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں۔
ایک
اس کا اصول بھی ہے ایک قاعدہ بھی ہے ایک ضابطہ بھی ہے اگر قاعدہ ضابطہ کوئی نہیں
ہوتا تو چا ند سورج سے ٹکڑا جاتا سورج چا ند سے ایسابھی نہیں ہوتا اب انسان کو
آدم کو جوعلوم حاصل ہیں جو فرشتوں کو حاصل نہیں ہیں تو اس کے علاوہ انسان کو وہ
علوم بھی حاصل ہیں جو چاند سورج ستا روں کو حاصل ہے یا چا ند سورج ستا رے جس بنیاد
پر اللہ تعالیٰ کے اس نظام عمل میںمصروف ہیں وہ نظام بھی آدم جانتا ہے اور سورج
کی گر دش بھی جا نتا ہے۔
انسان کا جو شرف ہے وہ اس بنیاد پر ہے کہ اللہ
تعالیٰ نے اس کو وہ علوم سیکھا دئیے ہیں وہ علوم کائنات میں دو سری مخلوق کو حاصل
نہیں ہے دوسرا یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے آدم کو اپنی امانت
دی، میں نے علم الاسماء سیکھا یا، جب علم الاسماء سیکھا یا وہاں فرشتے زیر بحث
آتے ہیں جو میں نے جو تجھے علوم سیکھا ئے تو بیان کر اب جہاں امانت کا اللہ
تعالیٰ نے تذکر ہ فرما یا ہے، اللہ تعالیٰ نے جب اپنی امانت پیش کی زمین اور
سموات، سموات سے کہا بھئی یہ ہماری امانت ہے تو زمین نے انکا ر کردیا اب دیکھئے جب
زمین نے انکار کر دیا کہ آسمان میں بھی سموات تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کے
علاوہ آسمانوں میں جتنی بھی مخلوق ہے سب نے یہ کہے دیا کہ صاحب …والارض…زمین کے
اندر زمین کے اوپر زمین کی فضاء میں جتنی بھی مخلوق ہے۔و اشفق…ہم تو بالکل ریزہ ر
یزہ ہو جا ئیںہمارا تو وجود ہی ختم ہوجائیگا۔
اور
انسان نے اس کو قبول کر لیا اب یہ بڑی عجیب بات ہے اس میں ہم اپنے اندراتنی سکت
دیکھتے ہی نہیں ہیںاور پہاڑ اور زمین نے کہا جو ہم کچھ سمجھ رہے ہیں وہ یہ ہے کہ
ہم نے اس کو اپنالیا تو پھٹ جا ئیں گے ریزہ ر یزہ ہو جا ئیں گے ہمارے وجود ہی ختم
ہوجائے گا تو انسان نے اس کو قبول کر لیا انا ھو کان۔اب یہ بڑی عجیب بات ہے اس میں
کہ ایک طرف تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے وہ نعمت عطا کر دی ہے جو کا ئنات میں انسان
نے اس کو اٹھا لیا دو سری طرف یہ بات پہاڑوں اور زمیں نے انکار کردیا۔ اور جب زمین
اور آسمانوں نے تو انکا ر کیا، بجا ئے خود اس بات کی دلیل ہے کہ زمین او ر آسمان
کے اندر اتنا شعور ہے کہ وہ کسی چیز کو در کر سکے یا کسی چیز کو قبول کر سکے۔ زمین
میں تو سب ہی چیزیں ہیں تو اس کا مطلب ہے جس طرح آسمانوں میں اور زمین میں ایک
شعور ہے اسی طرح پہاڑوں کے اندر بھی شعور ہے ہم یہ کہتے ہیں پہاڑ بے جان ہیں جمے
ہوئے ہیں پہاڑ کے اندر بھی سوچنے سمجھنے قبول کرنے یا رد کرنے کی صلاحیت اسی طرح
موجود ہے۔
جس طرح انسان کے اندر ہے تو یہ بھی پتا چلا ہم
جس چیز کو بے شعور سمجھتے ہیں وہ بھی با شعور ہیںبالکل وہ ایک طر ح سے جو انسان کا
شعور ہے اس سے زیادہ عقلمند ہے تو اس لئے کہ انہوں نے جب اس بات کو رد کر دیا تو
اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ نہیںفرمایا یہ بڑے بدنصیب ہیں قبول نہیںکیا، بلکہ انسان
نے جب امانت اس کو اٹھا لیا تو کہنے لگے یہ تو بڑا جا ہل اور ظالم ہے۔ تو اب امانت
کیا چیز ہے بات یہ سمجھ میں آتی ہے امانت ہے کیا چیز؟، پہلے تو علم الاسماء کوآپ
نے سمجھیںعلم الاسماء کیا ہے؟علم الاسماء وہ علوم ہیں اللہ تعالیٰ کے جو اللہ
تعالیٰ کی صفات سے متعلق ہیں اور اللہ تعالیٰ کی صفات جو ہے وہ تخلیقی فارمولے کا
علم ہے۔ ایک تو وہ علم ہوا ہے ایک علم کو استعمال کرنا مثلا ً ایک آدمی وکالت پڑھ
لیتا ہے او ر ان لوگوں سے وہ افضل بھی ہو گیا جن لوگوں کو وکالت کا علم حاصل نہیں
ہے۔
دیکھئے اب اس کی کوئی حیثیت وہ نہیں ہے اب وہی
وکیل ان علوم کی بنیاد پر جج بن گیا اور جج بنے کے بعد اس نے فیصلے کرنے شروع کر
دئیے جس کو چا ہے پھا نسی دے دی جس کو چا ہئے معاف کر دیا۔جس کو چا ہے سزا دے دی
تو اب یہ دو پو زیشن ہیں۔ سوال ہے آپ کے ایک بحیثیت علم کے علم جاننا اور ایک علم
کے ساتھ ساتھ بحیثیت اختیارات کے کسی آدمی کی حیثیت کا جاننا۔ تو جب اللہ تعالیٰ
نے علم الاسماء سیکھا دیئے تو آدم کی حیثیت ثا بت ہو گئی علم کے اعتبار سے اور جب
اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی نیا بت یعنی انتظامی امو ر سے متعلق اختیارات منتقل کر
دئیے اب اس کی حیثیت جو ہے اللہ کے نائب کی ہے یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ نے کہا ٓدم
کو اپنا نائب بنانا چاہتا ہوں۔اب کائنات میں دو قسم کے نظام کام کررہے ہیں۔ احادیث
سے بھی ثابت ہے قرآن پاک سے بھی ثابت ہے دو قسم کے نظام ہیں وہ ہمارے سامنے ہیں
ایک نظام کی حیثیت علمی ہے اب مثلا ً اس طرح ہم پاک ہونگے،اس طرح نا پاک ہونگے،
اللہ تعالیٰ کے لئے فلاں فلاں امور جو ہیں وہ پسندیدہ ہیں،فلاں فلاںامور جو ہیں وہ
نا پسندیدہ ہیں اگر ہم اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ باتوں پر عمل کر یں گے تو ہمیں جنت
ملے گی،اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ باتوں پر عمل نہیں کر یں گے توہم جنت سے محروم ہو
جا ئیں گے۔
ابھی
ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ جنت کیا ہے؟دوزخ کیا ہے؟صلہ کیا ملے گا؟مثلا ً آپ نے سنا ہو
گا ثواب، اب اگر انسان اپنی زندگی میں گنے لگے تو اربوں کھر بوںکی تعدادمیں ثواب
ملے گا۔ حج کو ہی آپ چلے جائیں ایک نماز پڑھ لیجئے تیس ہزار ثواب ملے گے۔ اگر آپ
اس کو گنتی کر یںتو میرا خیال ہے کمپیو ٹر بھی جواب دے جا ئے گا لیکن ان نیکیوں کا
ان ثواب کا آپ وزن محسوس نہیں کریںگے۔ اللہ چاہے تو نماز قبول کرے گا۔ اگر اللہ
نے قبول کرلی تو جنت میں لیں جا ئیں گے اور اللہ نے قبول نہیں کی تو یہ نماز ہمارے
منہ پر مار دی جا ئے گی۔ منہ پر مار دئیے جا نے کاکوئی اثر ہوتا ہے حالانکہ آپ
دیکھتے ہیں ہوا چلتی ہے ہوا نظر نہیں آتی لیکن ہوا جب تیز چلتی ہے ایسے تھپڑے
پڑتے ہیں آدمی کے آدمی ہل جا تا ہے اڑ جا تا ہے آدمی چوٹ محسوس کرتا ہے کیا آپ
نے ہوا کی چوٹ محسو س نہیں کی کھلی ہوا ہوتی ہے معلو م ہوتا ہے جسم کے اندر سے
نکلتی ہوئی چلی گئی۔
ہوا
کا کام اثر ہوتا ہے اب آج گر می پڑ رہی ہے مثلا ً آپ ذرا ایک گھنٹے دھوپ میں
کھڑے تو ہو جا ئیے پھر دیکھئے ذرا پھر جا ئیے سائے میں پھر پتا چلے گا پتا چلتا ہے
تو ہر چیز کو ہم محسوس کر رہے ہیںہوا کو محسوس کر رہے ہیں،گر می کو محسوس کر رہے
ہیں،سردی کو محسوس کر رہے ہیں،خوشبو کومحسوس کر رہے ہیں،بدبو کو محسوس کر رہے ہیں،
آواز کڑک آواز کو محسوس کر رہے ہیں،نیچی آواز کو محسوس کر رہے ہیں،اب گدھا
بولتا ہے اب گدھے کا جوو بو لنے کا ردعمل ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے اب کو ئل کو
کتی ہے اب کوئل کی کوک کا جو آپ کے اوپر اثر ہوتا ہے وہ بھی آپ کے سامنے ہے ہر
آدمی یہ کہتا ہے کو ئل کوک رہی ہے اب دیکھیں آواز کا جو ردعمل ہے یا اتار چڑھا
ؤ ہے اس سے اب پیا ر محبت آپ کسی سے بات
کرتے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے،آپ اگر آپ کڑک آواز سے بات کر تے ہیں غصے سے
بات کر تے ہیں اس کا بھی اثر ہوتا ہے اب انتہاء یہ ہے کہ آپ اگر کسی آدمی کو
نفرت و حقارت سے صرف دیکھتے ہیں زبان سے کچھ نہیںکہتے تو اس کا بھی آدمی کو پتا
ہے آپ صرف نیچی نظروں سے آدمی کو دیکھتے ہیں نہ اس سے بات کر تے ہیں نہ اس کی
خیر یت پو چھتے ہیں نہ نام پو چھتے ہیں صرف میٹھی نظروں سے آپ اسے دیکھتے ہیں آپ
مصروف ہو جا تے ہیں یا درکھئے آپ کیا چا ہتے ہیں اب کس پیا ری بھری نظرو ں سے
کوئی کیا سمجھ لے۔
اس
کا مطلب یہ ہے یہ جو نظر کی جو لہریں ہیںنظر کا جو توجہ ہے مرکزیت ہے اس کا بھی
اثر ہوتا ہے لیکن جب ہم کہتے ہیں ایسا ثواب محسوس کیا اس کے اندر ہے اس کا کوئی
وزن ہے ہی نہیں یا ہے تو بھئی بتا ؤ اب بھئی اتنی نیکیاں ہوتی ہے کسی نے اس کا وزن
محسوس کیا ہے تو اس کا مطلب ہے یہ ایک علم ہے لیکن نیکی ہے اب ہم یہ تو نہیں کہے
سکتے کہ کہ نیکی کا کوئی وجود نہیں نیکی کوئی چیز نہیں اگر نیکی کوئی چیز نہیں تو
برائی بھی کوئی چیز نہیں ہو گی اگر برائی بھی کوئی چیز نہیں ہو گی تو تو پھر شیطان
رحمان کاسا را مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ اب مثلاً نیکی کا بھی وجود ہے بدی کا بھی
وجود ہے لیکن اس میں ہم علمی حیثیت میں ابھی آنکھ نہیںکھلی مشاہدہ نہیں ہوا علمی
حیثیت میں ہمیں پتا ہے کہ بھئی ایک آدمی نماز پڑھتا ہے اب یہ تو اللہ جا نے وہ
قبول ہوتی یا نہیں ہوتی بہرحال اس کے کام کو آپ یہ تو نہیں کہے سکتے بہت برا کام
کر رہا ہے۔
اب
ایک آدمی شراب پی رہاہے اب وہ اس کا معاملہ اللہ کا معاملہ ہے وہ جانے ابھی میں
رو حانی دائجسٹ کا وہ لکھ رہا تھااس مہینے کا صدا ئے جر س اس میں پڑھا تو نور نبی
اس میں ایک حدیث تھی ایک صحابی اس کو شراب پینے کی عادت تھی تو حضور نے کئی دفعہ
ایک دفعہ دو دفعہ تین دفعہ چار دفعہ بلا یا منع کیا ڈانٹا تو حضور نے پھر ڈانٹ ڈپٹ
کی تو ایک صاحب وہاں بیٹھے تھے انہوں نے کہا لعنت ہے اتنی دفعہ حضور کے پاس آیا
اس کو اپنی تو بہ پر قائم نہیں ہے تو حضورپاک ﷺ نے فرمایا نہیں نہیں اس کے اوپر
لعنت نہیں کرو یہ وہ بندہ ہے جو اللہ سے اس کے رسول اللہ ﷺسے محبت کرتا ہے بظاہر
یہ ہے کہ اس شراب پینے کے عمل کو آپ تو کسی بھی طرح جا ئز تو کہے ہی نہیں سکتے تو
رسول اللہ ﷺ فرما تے ہیں ٹھیک ہے کمزور ہے اس سے بار بار غلطی ہو گئی ہے۔بار بار
معافی مانگنے بھی آجا تا ہے میرے پاس اسے برا نہیں کہو اب کتنی عجیب بات ہو گئی
اب کوئی آدمی شراب اس لئے نہیں پئے گا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ صاحب کوئی محبت
کرتا ہے اس کے ساتھ تو برا مت کرو نہ کہو۔
تو ایک چیز ہوئی علمی حیثیت اور ایک چیز ہوئی اس
علم کی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس علم کو آپ استعمال کر یں اپنے لئے کریں نوع انسانی
کے لئے کریں اللہ کے لئے کر یں کہ یہ جو علم الاسماء جو ہے یہ تو وہ علوم ہیں جو
اللہ تعالیٰ کی نیابت اور خلافت میں کام کرنے والے قاعدے ہے۔ قاعدے ضابطے تو اسے
آگئے لیکن اب ان قاعدوں ضابطوں کے استعمال کرنے کااسے اختیار بھی دے دیا گیا تو
آدم جو ہے اسے ایک علماالاسماء کی حیثیت سے فضلیت ثابت اور دو سری طرف علوم کی
بنیاد پر تخلیقی قانون کی بنیاد پر تخلیقی فا رمولوں کی بنیاد پر اس کو اللہ تعالیٰ
نے اپنے ایڈمنسٹریٹریشن میںشریک کیا احادیث میں بھی قرآن پاک میں بھی۔ اب حضرت
خضر اب کا نام لیا جا تا ہے کہیں اس کا تذکرہ تو ہے ہی نہیں …موسیٰ علیہ السلام نے
ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا، ان بندوں میں سے ایک بندہ پا یا نام نہیں رکھا
لیکن مو سیٰ علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ نام لے رہے ہیں تواس میں بہت سے بندوں میں
سے ایک بندے سے ملوایا حضرت موسیٰ علیہ اسلام سے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت
خاص سے یعنی وہ خصوصی علم عطا کیا۔
اب سوال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام پیغمبر
ایک جلیل و قدر پیغمبر ہیں کسی بھی طرح ان کی شان میں کوئی گستاخی بھی نہیں آسکتی
کسی بھی طور سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام چھوٹے اوربندہ بڑا
ہے، بندہ پیغمبر نہیں ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام پیغمبر ہیں اب وہ دونوں ساتھ ساتھ
چلتے ہیںالسلام و علیکم،وعلیکم السلام آپ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے علم عطا
کئے ہیں تو حضرت مو سیٰ علیہ السلام نے فرمایا وہ میں سیکھنا چا ہتا ہوں آپ سے،
اب آپ غور فرما ئیں ایک پیغمبر ایک عام بندے کے پاس جا رہا ہے علم سیکھنے کے لئے
اس میں کوئی ایسی بات نہیں ہے نہ اس سے پیغمبر کی کوئی کمی ہوتی یا خدا نخواستہ
کوئی تذلیل ہوتی نہ وہ بندہ پیغمبر نہیں ہے لیکن موسیٰ علیہ السلام اس کے پاس جا
رہے ہیں۔ لیکن پیغمبر ہیںاس بندے سے افضل ہے۔ لیکن بات یہ سامنے آئی اللہ تعالیٰ
نے علم سیکھا یا تواس بندے نے کہا صاحب بات یہ ہے کہ آپ بڑے لوگ ہیں پیغمبر ہیںیہ
جو علوم اللہ تعالیٰ نے مجھے سیکھا دئیے ہیں یہ آپ سیکھ نہیں سکتے آپ سے بر دا
شت نہ ہو گی، کہا میں تو اتنا سفر کر کے آیا ہوں آپ کے پاس، خیر بات طے ہوئی کہ
صاحب جو کچھ میں جا نتا ہوں یا جو کچھ میں کرو ں اس میں آپ کو سوال نہیں کر نا
انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔
وہاں سے وہ د ونوں چلے ایک سمند ر کے کنارے ایک
گاؤ ں تھا وہاں چلے آئے اور جا کر کشتی میں بیٹھ گئے وہ لوگ جا نتے تھے کہ بھئی
یہ بزرگ آدمی ہے ا نہوں نے جناب ان سے کرا یہ نہیں لیا کشتی میں بیٹھا لیا جیسے
کوئی جان پہچان میں اب جیسے میں کسی بس میں بیٹھ جا ؤ ں وہاں میرا بھا ئی کوئی کنڈکٹر ہو یا ڈئیوار
ہو، ظاہر ہے مجھ سے کرایہ نہیں لے گا وہ، اب پھر وہ کرایہ نہیں لیا خیر بیٹھے رہے
باتیں کر تے رہے انہوں نے دیکھا اس بندے نے موقعہ دیکھا اور اس نے کشتی کا ایک
تختہ اکھاڑ دیا، ظا ہر ہے پانی اس میں بھر نا تھا، انہوں نے نیچے اتر کے دو سری
کشتی میں چلے گئے اب جب وہ اتر گئے توموسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ عجیب آد می
ہیںاس نے آپ کواتنی عزت دی آپ سے کرا یہ بھی نہیں لیا آپ نے اس کی کشتی میں
سوراخ کر دیا یہ کیا بات ہوئی یہ تو بڑی عجیب و غریب بات ہے شرمندگی بات نہیں
ہوئی۔
تو اس بندے نے کہا دیکھئے ہمارا اور آپ کا
فیصلہ تھا آپ سوال نہیں کرئنگے، تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ٹھیک ہے،کشتی سے اتر کر
کسی ایک گاؤ ں میں چلے گئے وہاں گا ؤ ں میں ایک گھر دیکھا کنڈی بجائی اندر سے ایک
پتلا سا آدمی آیا بولا کیا ہے کہنے لگے بھئی مسافر ہے رات کاٹنی ہے تو اس بندے
نے بہت اچھی میزبانی کی اتنا اچھا بسترا دیا اتنا اچھا کھا نا دیا اب بعد میں جب
سب سو گئے وہ بندہ اٹھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی اٹھا یا اور ان کاایک
بچہ تھا بڑا خوبصورت سامار دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا یہ آپ نے کیا عجیب حرکت
کی ہے قتل کر دیا جو معافی نہیں، قتل کابدلہ تو قتل ہی ہے آپ نے قتل کر دیا تو
انہوں نے کہا بات سنو اب یہاں سے بھا گ چلو، یہ تو بعد کی بات ہو گی قتل کر دیا یہ
پکڑے جا ئیں گے یہاں سے بھاگو۔ پھر کہنے لگے اس نے ہمیں اپنے گھر بلا یا کھا نا
کھلا یا سو لا یا پو چھا بھی نہیں تم کون ہو ہم نے اس کے احسان کا یہ بدلہ دیا۔
اس نے کہا مارا لیکن ہمارا سوال یہ ہے کہ آپ نے
کہا تھا آپ کوآپ سوال نہیں کریں گے کہنے لگے ہاں اب میں سوال نہیں کروں گا اگر
اب میں سوال کروں تو اب میں یعنی تیسری بار سوال کروں پھر میرے اور آپ کی جدا ئی
ہے اور ہم دونوں الگ الگ۔ اب وہ کسی اور گاؤ ں میں گئے وہاں با رش ہو رہی تھی
بھوکے تھے وہاں جا کر کہا یہ کس کا گھر ہے کہنے لگے فلاں صاحب کا گھر ہے، کہنے لگے
آپ چا ہئے تو ہم دیوار بنا دیتے، اس نے کہاآپ کی مر ضی آپ یہ بنا ؤ ں یا نہ
بناؤ ، وہ جناب انہوں نے دیوار بنا دی نہ اس کی کوئی اُجرت لی نہ پیسے لئے انہوںنے
کہا لو تم عجیب آدمی ہو بھوکے ہیں اس سے پیسے ہی لے لیتے ہم رو ٹیا ں ہی لے،
اُجرت لے لیتے کہ بھئی تم ہمیں کھانا ہی کھلا دیتے تو اس بندے نے کہا میں کوئی بات
نہیں کہے رہا ہومیں ابھی فرما یا ہے آپ نے میاں کوئی سوال کرو ں تو میرے اور آپ
کے درمیان جدا ئی ہے، لہذا لسلام و علیکم…موسیٰ علیہ السلام کو بڑا افسوس ہوا، تو
اس بندے نے کہا کہ اب میں آپ کو اس بات کی تشریح بھی کر دیتا ہوں کہ میں نے کیا
کیا؟
۔پہلی
بات یہ ہے میں نے جو بھی کچھ کیا اس میں میری مر ضی قطعََ شامل نہیں اور اللہ کے
چا ہنے سے کیا، اللہ کی مر ضی سے کیا، وہ جو کشتی تھی، جس میں جو سو ر اخ کیا وہ
یتیموں اور بیوہ کشتی تھی بادشا ہ کا حکم تھا کہ جو اچھی کشتی ہو اس کو اٹھا کرلے
آئے، اب یہ کشتی نئی تھی اوراس کشتی کے اوپر اس خادم کی نظر پڑ جاتی تو وہ یتیموں
کا سہارا اب ظاہر ہے کہ کے بادشاہ کے خادم آئیں گے تو وہ تختہ نہیں ہے تو چھوڑ
جائیں گے۔جب وہ چھوڑ جا ئیں گے وہ پھر دو کیل مار کر تختہ ٹھوک لیں گے۔
اور کشتی اس کی بچ جا ئے گی اور رزق کا جو
معاملہ ہے وہ چلتا رہے گا، اب رہے گیا ہے صاحب وہ بچہ جو میں نے گلہ گھونٹ دیا مار
دیا اسے ختم کر دیا تو اس کے باپ کو تو آپ نے دیکھ لیا کتنا مہمان نواز کتنا سخی
کتنا نیک اور مسافرنواز، ہم نے جا کر آواز دی اور ا س نے یہ بھی نہیں پوچھا کہ
آپ کہاں سے آئے ہو کو ن ہو کیا ہو، اپنے گھر میں ٹھہرا یا اچھا سو لا یا تو یہ
بچہ جو ہے یہ اس کی آگے چل کر بہت پریشانیاں کرتا بہت تکلیف ہو گی اس کو اس کی
شرافت جو ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کی نیکی کو سامنے رکھا، اس کی سخاوت کو سامنے رکھا،
اس کی بڑا ئی کو سامنے رکھا، اس کی میزبانی کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ فرمایا یہ
بچہ اٹھا لیتے ہیں اور اسے نیا بچہ دیں گے جو بہت اچھا ہو گا اور اس کے مزاج مطا
بق اس نیکی کہ بدلے میں اللہ تعالیٰ اسے ایک اچھی اولاد عطا فرماتے ہیںاور بھئی وہ
جو دیوار کا مسئلہ ہے دیوار کی صورت یہ ہے کہ اس دیوار کے نیچے خزانہ تھااور وہ
یتیموں کا ہے اوران کا باپ بہت نیک تھا وہ اللہ میاں نے اس کو محفوظ کر دیا اب با
رش ہوئی اب آپ نے دیکھا کہ دیوار گر گئی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ با رش ہوتی سب سامنے
آجاتا خزانہ تو لوٹ ما ر پڑ جاتی بچے چھوٹے چھوٹے ہیں اس قابل ہی نہیں کہ اپناحق
قبول کر سکیں تو اللہ تعالیٰ نے کہا یہ دیوار اس وقت گر ے جب بچے اس قابل ہو جا
ئیں کہ اس کو سنبھال سکے، لہذا ہم نے دیوار بنا دی اب جب ہو گا بچے بڑے ہونگے جوان
ہو نگے پھر با رش ہو گی یا جو بھی صورت ہو دیوار گرے گی اور وہ خزانہ بچوں کو مل
جا ئے گا اور اس کے باپ کی جو نیکی ہے اس نیکی کا بدلہ اللہ تعالیٰ اسے دے گا۔اور
جہاں تک میرے اور آپ کے علوم کا تعلق ہے تواس نے اشا رہ کیا دیکھو وہ چڑیا بیٹھی
ہے کہنے لگے جی بیٹھی ہے تو انہوں نے کہا دیکھو اس نے ابھی چونچ میں دا نہ اٹھا یا
تو کہنے لگے بھئی اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایسا ہے اللہ تعالیٰ کے علوم جو ہیں وہ
سمندروں سے بھی کئی زیا دہ ہیںاور میری اور آپ کی حیثیت اتنی ہے جتنی اس چڑیا کی
چونچ میں پانی۔
تو آپ کا علم آپ کا ہے میرا علم میرا ہے، آپ
کا علم میں نہیںجا نتا میرا علم آپ نہیں جا نتے تو آپ اس میں نہ رہیں کہ مجھے یہ
علم نہیں آتا لیکن اب آپ تو پیغمبر ہیں میں تو پیغمبر نہیں اب دیکھئے۔ یہ جو
پیغمبر ہے حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کا پیغام یہ آتا ہے کہ تصوف سے انسان کو
تمام حیوانات سے نکال کر ممتاز کر رہے ہیںاللہ اور اللہ کے بنائے ہوئے قاعدے
ضابطے۔ لیکن وہ بندہ جو ہے وہ امین ہے امانت کا یعنی اللہ تعالیٰ کا جوایڈمنسٹر
یٹرہے، تکوین ہے۔ اس میں اس میں وہ بندہ ہے اور اس ایڈمنسٹریشن میں اس بندے کی
اپنی ایک حیثیت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بھی علوم ہے اور اس بندے کے علوم
ہے۔ کیونکہ دو نوںعلوم الگ الگ ہیں۔ کیونکہ مو سیٰ علیہ السلام اسے برداشت نہ کر
سکے، لیکن اس بندے نے صاف صاف بتا بھی دیا علم اس کی حثیت اتنی ہے، جتنی چڑیا نے
ایک قطرہ منہ میں ڈالا ہے اس کے برابر ہے با قی علم اللہ کا ہے۔
تو امانت سے مرا د یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے جو
کا ئناتی نظام ہیں ایڈمنسٹریرشن ہے اس میں اس بندے کا عمل داخل ہوتا ہے، اللہ
تعالیٰ کی دے ہو ئے اختیار کے مطا بق عمل کرتا ہے۔ رسول اللہﷺ کے اوپر جب یہ آیت
نا زل ہوئی تو حضور ﷺ نے فرمایا میرے بھا ئی حضرت موسیٰ علیہ السلام کچھ اور دیر
صبر کر تے تو اللہ تعالیٰ کی نشانیا ں کچھ اور ظاہر ہوجاتی۔ حضور ﷺ کی بنیاد پر
انسان کو تمام مخلوقات پر فضلیت حاصل ہے شرف حاصل ہے اور امانت کی بنیاد پر انسان
اللہ تعالیٰ کے ایڈمنسٹریشن میں نائب ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق دے، اللہ تعالیٰ
ہمیں دنوں علوم کی روشنی حاصل ہو ایک علو م شریعت کے علوم ہیں اور ایک علوم تکوین
کے علوم ہیں۔ دونوں علوم جو ہیں ایسا نہیں ہے دونوں الگ الگ ہیں تکوین کا آدمی
کتنا بھی بڑا ہو اس کو بہر حال پیغمبر نے علم منتقل کر نا ہے اور پیغمبر جو ہے
تکوین کے آدمی ہے۔
لہذا یہ تو ہوتا ہے پیغمبر خود تکوین کا آدمی
ہوتا ہے اب ایک رسول ہے ایک پیغمبر ہے اور ایک نبی۔اور رسول اور پیغمبر ایک ہے نبی
رسول اور نبی رسول جو ہے وہ ان علوم کا حامل ہوتا ہے جو علوم شریعت کہلا تے ہیں
یعنی انسان حیوانات سے الگ ہو کر کس طرح زندگی گزارے اور اللہ اور اللہ کے رسول
اللہ ﷺ کے مطابق اور نبی جو ہے وہ ایڈمنسٹریٹر بھی ہے ایسا کم ہوتا ہے جب وہ آدمی
نبی ہوتا ہے۔ اب یہ رسول اللہ ﷺ کی شا ن اقدس کا حال یہ ہے کہ حضور تمام پیغمبروں
کے بھی ہیڈ ہیں اور تمام ایڈمنسٹریٹر تمام کے بھی ہیڈ ہیں۔ نبی بھی ہیں اور رسول
اللہ ﷺ بھی ہیں اور کسی نے کہا نا بعداز خد بزرگ توہی، تو رسول اللہ ﷺ اللہ کے بعد
کائنات میں پیغمبر کی حیثیت سے یا تکوین کی حیثیت سے یا نبی کی حیثیت سے اللہ کے
نائب ہیں،اور آپ کا جو مقام ہے اسی کو مقام محمود کہا جا تا ہے، مقام محمود
کامطلب یہ ہے کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے پسند کر دیا۔
تو یہ ساری جو کا ئنات ہے یہ ڈائریکٹ نہیں چل
رہی اب جیسے آپ بجلی بنا تے ہیں پا ور اسٹیشن سے ڈائریکٹ نہیں آتی ڈائریکٹ آئی
ہی نہیں سکتی، تو ظاہر ہے اس کے لئے کتنی ہائی ٹینشن اور کتنی فلاں تو کتنی صورتیں
ہوتی ہیں تو اسی صورت سے یہ جو کائنات کا ایڈمنیسٹریشن کا جو طریقہ ہے، وہ سارا کا
سارا پہلے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نکلتا ہے اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اللہ ﷺ کے ذہن
میں آتا ہے اور رسول ا للہ ﷺ کے ذہن سے یہ پو ری کائنات میں پھیلتا ہے اسی با ت
پر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے کہ الحمد اللہ رب العالمین …کہ میں
عالمین کے لئے وسائل پیدا کرتا ہوں وما ارسلنا ک …اور میںنے محمد رسول اللہﷺ کو ان
وسائل کا تقسیم کا بندہ قرار دے دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسول اللہﷺ کے نقش
وقدم پر چلنے کی تو فیق عطا فرمائے اور ہمیں جو ہمارا شرف ہے آدم کا جو شرف علم
الاسماء کا اور آدم کا جو شرف ہے امانت کا تو اس کی تلاش کی طرف اس کی طرف جدو
جہد کی جائے۔
یہ
سوال ہے کہ جس طرح دنیا میں ایک حکومت ہوتی ہے انتظامی امو ر پا ئے جا تے ہیںاسی
طرح اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی انتظامی امور ہو تے ہیں وہ انتظامی امور انسان چلا تے
ہیںاور ان کے ماتحت فرشتے ہو تے ہیں۔حدیث میں اس کا بہت تذکر ہ ہے۔قرآن پاک میں
بھی اللہ تعالیٰ نے اس کا تذکر ہ فرما یا ہے۔مثلاًحضرت آدم علیہ السلام کی پیدا
ئش کے وقت فرشتوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں زمین میں اپنا نا ئب اور خلیفہ
بنا نے والا ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے نیا بت اور خلافت کے علوم آدم کومنتقل
کئے۔نیا بت اور خلافت کے علوم منتقل کرنے کے بعد یعنی علم الاسماء سیکھا نے کے بعد
فرشتوں سے کہا کہ تم آدم کی حاکمیت قبول کر و فرشتوں نے آدم کی حاکمیت کو قبول
کیا۔ جنات نے آدم کی حاکمیت کو قبول کیا اور جس گروہوں نے آدم کی حاکمیت کو قبول
نہیں کیا وہ اللہ تعالیٰ کا نافرمان اور با غی گروہوں نا فرمان ہوا۔
آج بھی یہی صورت حال ہے آپ جس ملک میں رہتے
ہیں کسی بھی ملک میں رہتے ہوں وہاں کا ایک قانون ہے ا س قانو ن کے مطا بق وہاں لوگ
ملک پر حکمرانی کرتے ہیں۔لیکن کچھ لوگ اگر اس قانون کی پا بندی نہ کریں۔ تو سزا کے
مستحق ٹھہرا ئے جا تے ہیں اور اگر لوگ قانون کو ما ننے سے انکار کریں انحراف کر
یں۔ وہ لوگ ملک اور قوم کے باغی کہلا تے ہیں اس کی وجہ یہ ہے اگر ملک کے قانون میں
رخنہ پڑ جائے لوگ اس پر عمل نہ کر یں تو ساری ملک میںبغاوت پھیل جا ئے گی اور امن
و امان کا مسئلہ پیدا ہو جا ئے گا لوگ ایک دوسرے سے محفوظ نہیں رہے گے۔اسی طرح
اللہ کے معاملات ہیں اللہ تعالیٰ کے ایڈمنسٹریشن میں کوئی رخنہ پڑ جا ئے یا اللہ
تعالیٰ کے ایڈمنسٹریشن کو چلا نے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے اور اللہ تعالیٰ
کی حکمت کے اللہ تعالیٰ کے بنا ئے ہو ئے قوانین کے پا بند نہ ہوں تو وہاں بھی بہت
بڑی خرابی پیدا ہوسکتی ہے مثلا ً چا ند اور سورج کا ایک نظام ہے لاکھوں کروڑوں سال
سے چا ند اور سورج جس اقتدار پر چل رہے ہیں جس طرح سورج غروب ہو رہا ہے طلوع ہو
رہا ہے اسی طرح چا ند طلوع ہو رہا ہے غروب ہو رہا ہے۔
اگر
اس میں رخنہ پڑ جا ئے تو کائنات میں افرا تفری پھیل جا ئے گی۔ لاکھوں سال سے ایک
ہی طریقے پر یعنی مشرق سے نکل کر مغرب میں غروب ہو نا اس بات کی علامت ہے کہ کوئی
بہت بڑی ہستی ہے جس ہستی کے نظام میں چا ند اور سورج کا نظام قائم ہے، زمین کا
نظام قائم ہے ز مین کے اوپر پیدا ہو نے والی مخلوق کا نظام قائم ہے۔مثلا ً جب ہم
پیدا ئش کی دنیا میں جاتے ہیں جہاں ہماری پیدا ئش واقع ہوتی ہے ابتدا ئی دور میں
ہم یہ دیکھتے ہیں پیدائش کے دور میں ایک اصول ہے ایک قاعدہ ہے ایک ضابطہ ہے۔ جہاں
تک پیدا ئش کا تعلق ہے۔اس کا طریقہ ایک ہی ہے جہا ں تک نشو ونما کا تعلق ہے اس کا
تعلق ایک ہی ہے۔جہاں تک ماں باپ کا تعلق ہے وہ بھی ایک ہی طریقہ ہے لیکن جب ہم
مقداروں کے اوپر غور کر تے ہیں تو ہمیں یہ نظر آتا ہے کہ تا ریخ انسانی میں کبھی
بھی ایسا نہیں ہوا کہ بکر ی سے بھیڑ پیدا ہو گئی ہو یا بھیڑ سے کبوتر پیدا ہو گیا
ہو یا کبوتر سے چیل پیدا ہو گئی ہو اربوں کھربوں سال بھی اگر اس زمین کی عمر ہے اس
اربوں کھربوں سال میں ایک بھی مثال ہمارے سامنے نہیں ہے کسی بلی نے چوزے کو جنم
دیا ہو کسی مرغی نے بلی کو جنم دیا ہو۔
اس سے یہ پتا چلتا ہے ایک کا ئناتی نظام ہے ایک
سسٹم ہے، وہ سسٹم پو ری طرح قائم بھی ہے اور متحرک بھی ہے اس میں کسی بھی طرح کوئی
نہ تبدیلی ہوتی ہے نہ اس میں کوئی تعطل واقع ہوتا ہے۔ نوع انسانی میں اس وقت آبا
دی پا نچ ارب کی آبادی ہے۔ہر آدمی ایک ہی طرح پیدا ہوتا ہے ماں بھی ایک ہوتی ہے
با پ بھی ایک ہوتا ہے ایک ماں باپ کے پانچ چھ دس اولادیں ہوتی ہیں۔لیکن اس نظام کا
کمال دیکھیں کہ ایک ماں سے آٹھ بیٹے پیدا ہونے والے اس میں ہر بیٹا الگ ہے، ہر
بیٹے کی شکل و صورت الگ ہے حالانکہ آنکھ، ناک، کان،دماغ ہا تھ پیر چہرہ سب کچھ
ایک جیسا ہی ہے لیکن وہ آٹھ کے آٹھ بیٹے بالکل مختلف ہوتے ہیں جسامت میں مختلف
ہوں گے شکل و صورت میں بھی مختلف ہوں گے۔ ان کی سوچ اور طرز فکر بھی مختلف ہو
گی۔کوئی غصے والا ہو گا، کوئی نرم دل ہو گا، کوئی کا لے رنگ کا ہو گا، کوئی گورے
رنگ کا ہو گا، کوئی بہت ہی گورے رنگ کا ہو گا، کوئی ضدی ہو گا، کوئی با اخلاق ہو
گا کوئی بد اخلاق ہو گا۔
پا نچ ارب آبادی کا جب ہم تذکرہ کر تے ہیں تو
پا نچ ارب آبادی کی انگوٹھے کا نشان الگ ہے حالانکہ ہاتھ سب کا ایک ہی ہے پا نچ
انگلیاں ہیں تو یہ جو اتنا بڑا سسٹم ہے اتنا بڑا نظا م ہے یہ بغیر کسی قاعدے کے
بغیر کسی ضا بطے کے یہ جو ہماری عام زندگی ہوئی اب آپ دیکھیں ہر آدمی کے اندر
ایک عجیب و غریب سسٹم ہے۔ آٹومیٹک نظام ہے سارا کا سارا دل بھی حر کت کر رہا ہے
پھپپھڑے بھی حرکت کر رہے ہیں گر دے بھی حرکت کر رہے ہیں، آدمی کے آنتیں بھی پیٹ
میں، آنکھ کی طرف جائیے تو پلک بھی جھپک رہی ہے۔اور یہ سب عمل جو ہے اس طرح آٹومیٹک
ہو رہا ہے جس طرح یہ پتا نہیں چلتا کہ یہ بر قی نظام کیسے ہے کہاں سے بجلی کے تار
ہے اور یہ بھی ایک نظام کا حصہ ہے کہ تارجو بر قی ختم ہو جا تا ہے تو انسان میں
حرکت موجود نہیں ہوتی بالکل حرکت نہیں ہوتی نہ معدے کا نظام کام کر رہا ہے نہ
آنتوں کا۔
جتنا بھی آپ کا ئنات پر غور کر یں گے تو ایک
بات آپ کو وہاں نظر آئے گی کہ یہ ایک میڈیکل نظام ایسا سسٹم میڈیکل نظام جس میں
انسان کو اپنا کوئی ذاتی عمل نہیں۔ مثلاًآپ دھوپ کی طرف غور کریں، تو اس دھوپ کے
اوپر انسان کا کوئی اختیار نہیں ہے سورج نکلتا ہے تو دھوپ ہے پا نی پانی کے بارے
میں آپ جتنا بھی غور کر تے چلے جا ئیں گے تو آپ کے سامنے یہ بات آئے گی کہ
انسان پا نی پئے گا لیکن یہ بات آپ کے سامنے کبھی بھی نہیں آئے گی کہ پا نی کے
اوپر آپ کا کوئی اختیار نہیں توبا رش اوپر سے پہاڑوں سے پا نی نہ آئے، جب بھی نالوں
دریاؤ ں میں آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے زمین کے اندر اللہ تعالیٰ پا نی کی نہریں نہ
جا ری کر دے آپ کچھ نہیںکر سکتے کچھ نہیں کر سکتے جب پانی کا پینے کا تذکرہ آتا
ہے تو وہاں بھی انسان کو اختیار حاصل نہیں ہے۔ جب تک اللہ تعالیٰ اسے زندہ رکھنا
چا ہتے ہیں تو وہ کب کیسے زندہ رہتا ہے۔
کم پؤ
زیادہ پؤ لیکن تاریخ انسانی میں کوئی ایک فرد ایساپیدا نہیں ہو اکہ جس نے
پا نی نہیں پیا ہو اور وہ زندہ ہو۔یعنی اگر انسان کو زندہ رہنا ہے تو اس کی مجبوری
ہے کہ اسے پا نی پینا ہے وہ پا نی پئے گا اب اگر ہم یہ کہے کہ انسان تو یہ بھی
نظام کا ایک حصہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، کس طرح پیدا کیا؟ کس طرح
ماں کے پیٹ میںنشو ونما ہوئی؟ پیدا ئش کے بعد کس طرح اس کو وسائل فراہم کئے گئے۔یہ
سب اگر کوئی انتظام نہ ہو۔ توکا ئنات کو چلانے کے لئے جو سسٹم ہے اس سسٹم کو
روحانیت میں تکوین کہتے ہیں۔ جس طرح پا کستان میں ایک ہمارا Lawہے، ایک قانون ہے
اور ہر پا کستانی کو ایک لاء ایک قانون پر عمل کر نا ہے اس لئے کہ وہ پا کستانی ہے
اور عمل نہ کرنے والے لوگ اس ملک سے با غی ہو گئے۔اب غور یہ کر یں کہ ایک ملک بغیر
آڈر کے لاء کے نہیں چلتا، تو اتنا بڑا تخلیقی نظام اللہ تعالیٰ کا کیسے ہے بغیر
انتظام کے کیسے ہے۔
جیسے
آپ کے ہاں ڈپٹی کمشنر ہیں،کمشنر ہیں،پولیس ہے،سیکٹری ہے، ڈپٹی سیکٹری ہے،صدر ہے
وزیر اعظم ہیں پو را ایک نظام ہے کڑی در کڑی انتظامیہ امور چلانے والے یہ چھوٹے
امور میں جس طرح نظام ہے اسی طرح اللہ کا ایک نظام ہے جو کا ئنات میں پھیلا ہے جو
کا ئناتی نظام کو لوگ کنڑول کرتے ہیں انہیںصاحب خدمت اہل تکوین بھی کہا جا تا ہے۔
منصور صاحب نے یہ سوال کیا ہے کہ اہل تکوین کون ہو تے ہیں؟ اور اہل تکوین کیا کام
کر تے ہیں؟ اور ان کے سپر د کیا کیا کام ہیں؟ تو قرآن پاک کی اس آیت کی طرف ہم
غور کر تے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں نے زمین پر اپنا نائب اور خلیفہ بنا
دیا خلیفہ سے مرا دنا ئب ہے ایسا نا ئب جو اس کی نیا بت کرے اس کے اختیار استعمال
کر ے جس نے اس کو نائب اور خلیفہ بنایا ہے۔تو یہ تکوینی نظام جو ہے ایڈ منسٹریشن
کا تو یہ سب آدم حوا کی اولاد چلاتی ہے اورمعاملات جو ہے انسان بھی کر تے ہیں اور
انسانوں کے ساتھ فرشتے بھی کر تے ہیں۔
قرآن پاک میں اس تذکرہ وضاحت جو ہے وہ حضرت مو
سیٰ علیہ السلام کے قصے میں بیان کی گئی ہے۔
بتا یا جا تا ہے کہ حضرت مو سیٰ علیہ السلام بہت
بڑے علم قدر پیغمبر تو تھے ہی جیسے سب جا نتے ہیں ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ
کیا مجھ سے بھی زیادہ کوئی علم جانتا ہے جو علوم مجھے اللہ تعالیٰ نے عطا کر دئیے
ہیں کیا اس کے علاوہ بھی کوئی علم ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام سے
فرمایا کہ تم اس بندے کو تلاش کرو تو تمہیں علم نظر آئے گا حضرت موسیٰ علیہ
السلام اس بندے کی تلاش میں نکلے واقعی با لاخر وہ بندہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو
مل گیا جس کو روحانی لوگ خضر کا نام دیتے ہیں لیکن قرآن نے قرآن پاک فرماتا ہے
کہ ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پا ئے گا، کا مطلب یہ ہے کہ وہ بندہ ہمیشہ رہے گا
یعنی وہ بندہ نظام کا ئنات سے اس کا ایک عمل بن جا ئے گا یہ تسلسل کہ اس کا نا م
خضر رکھا قرآن میں ہے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ کہ موسیٰ علیہ السلام کی جب
ملاقات ہوئی اس بندے سے تو انہوں نے کہا جو صاحب آپ کو اللہ تعالیٰ نے جو علوم
عطا کئے ہیں وہ میں سیکھنا چا ہتا ہوں تواس بندے نے یہ کہا کہ آپ وہ علوم نہیں
سیکھ سیکھتے اس لئے کہ جو علوم مجھے اللہ تعالیٰ نے سیکھا ئے ایڈمنسٹریشن کہ ہیں
یہ بہت بڑی بات ہے کہ یہ ایک بڑا پڑھا لکھا پروفیسر ہے وہ اگر یہ کہے صاحب میں
کمشنری چلا لوں گا تو کر سی چلا لوں گا تو یہ نہیں کر سکتا اس لئے پڑھنا پروفیسر
ہو نا یہ الگ بات ہے، کمشنر کا کام، کمشنر کا عہدہ، کمشنرکی تعلیم، کمشنر کو جس
قانون جاننا ضروری ہے۔
تو
اب اس کا مطلب یہ ہے کہ دوعلوم یہاں اس کا ئنات میں جاری و ساری ہے ایک علوم جو ہے
وہ پیغمبروں کا علم ہے جس میں انسانی فلاح و بہبود انسانی زندگی اور معاشرے کی
تمام عمل اس کے اندر موجود ہے کس طرح انسان کھا ئے کس طرح پئے۔کس طرح پاک ہو کس
طرح نا پاک رہتا ہے کس راستہ پر چل کر وہ اللہ تعالیٰ تک اس کی رسائی ہوتی ہے کس
راستہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہو جا تا ہے یہ ایک صورت ہے دوسری صورت یہ ہے کہ
وہ ایک بندے جو ہیںوہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ اللہ کے حکم سے کر رہے ہیں اب دیکھئے
آپ کے سامنے ہے یہ قرآن کا قصہ ہے قرآن کا فیصلہ ہے حضور پاک ﷺ اوپر جب وحی
نازل ہوئی یہ پو ری آیتیں ہیں حضرت جبرائیل جب تشریف لا ئے تو حضور پاک ﷺ نے یہ
فرمایا کہ میرے بھا ئی موسیٰ علیہ السلام کچھ اور صبر کر تے کچھ اور اللہ تعالیٰ
کے معاملات کھلتے تو ایڈ منسٹریشن تخلیقی نظام جو ہے وہ بھی انسان ہی انجام دیتے
ہیں آدم کی اولاد بھی انجام دیتی ہے پو را ایک بہت بڑا ڈیپاٹمنٹ کے الگ الگ عہدے
ہیں۔
آذان
ہو گئی ورنہ مزید بات ہوتی، تو ایڈمنشین نظام کے عہدے ہو تے ہیں اور ان سب کے جو
سربراہ ہیں اس وقت کائنات میں وہ سیدناحضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام ہے حضور پاک ﷺ
کا اعجاز ہے حضور ﷺ پر اللہ تعالیٰ کی جو رحمت خاص ہے کہ حضور پاک ﷺ شریعت کے بھی
رہنما ہیں شریعت کے بھی حاکم ہیں اعلیٰ ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کا جو یہ نظام چل رہا
ہے ایڈمنسٹریشن کا یعنی کائنات پر حاکمیت حضور پاک ﷺ اس کے بھی سربراہ اور رہنما
ہیں۔اختتام