Topics

انسان اللہ کا دوست کس طرح بن سکتا ہے

 

(ورکشاپ سے خطاب)

معزز کو ڈینٹر اور طالبات طلبا ء اور ارکان کمیٹی کے نگران ہم ان سب کو دل سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں آپ سب لوگ جس مقصد کے لئے دور دا ز کا سفر کر کے یہاں تشریف لا ئے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس میں کامیابی عطا کر ے۔جہاں تک ورکشاپ کا تعلق ہے اس کا موضوع آپ کے سامنے ہے خدمت خلق او ر سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات ہم یہ بات جا نتے ہیں اور ہمارا ایمان اور یقین بھی ہے کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام آخری نبی ہیں اور آ خری نبی ﷺ ہو نے کی جو دلیل ہے وہ یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ میں نے اپنے محبوب محمد ﷺ پر نعمتوں کی تکمیل کر دی ہے۔اور دین پر مکمل کر دیا ہے۔ دین کو مکمل کر نا اور د ین نعمتوں کی تکمیل ہو جا نے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں اپنے محبوب بندے محمد ﷺ سے راضی ہوگیا، یعنی اللہ تعالیٰ نے کا ئنات کو جس مقصد کے تحت بنایاتخلیق کیا وہ مقصد جا نتے ہیں۔

بار بار اس بارے میںبات کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی تخلیق اس لئے فرما ئی کہ اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں بندے مجھ سے قربت حاصل کر ے اور مجھے پہنچانے کا حق ادا کر یں۔جتناان کو صلاحیت عطا کر دی گئی ہے سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام پر دین کی تکمیل کی اور اللہ تعالیٰ کورا ضی کرنااس بات کی تصدیق کرتاہے یہ اللہ تعالیٰ کے اس مقصد کو محمد ﷺ نے پو را کر دیا۔سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کو خاتم النبیین جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا تو اس کا مطلب یہ ہوا حضور ﷺ سے پہلے جتنے بھی انبیا ء اکرا م اس دنیا میں تشریف لا ئے انہوں نے الہی مشن کے لئے جو جدو جہد کی، مشرکین میںجس طرح اللہ کی وحدنیت کا پر چار کیا اس میں بہت سارے پیغمبر قتل کردیا، شہید کردئیے گئے۔ شہر بدر کر دئے گئے ان کا با ئیکا ٹ کر دیا گیا انہیں طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔

لیکن ان کی زندگی کی رو ش یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کی ہر تکلیف کو بر دا شت کر کے واحدنیت کے چراغ کو گم ہو نے نہیں دیا۔اگراسلا ف کی آندھی اورطو فان نے اس چراغ کو بھجانا چا ہا تو اس سے پہلے وہ ٹمٹماتا دیابھج جاتا اس نے اس کو بھجنے نہیں دیا، پیغمبروں نے اس ر وشنی کو پھیلانے کے لئے انہیں طرح طرح کی تکلیفیں برداشت کر نی پڑی۔اور پڑھ اپنے رب کے نام سے جس نے تجھے تخلیق کیا، اپنے رب کے حکم سے، جس نے تجھے تخلیق کیا، علم کی تکمیل ہوئی نعمتوں کا اہتمام ہوا اس ذات مقدس کی زندگی کا آغاز علم سے ہوا۔ علم کا آغاز کہاں سے ہوا؟علم کا آغاز وہاں سے ہواجہاں دو سرے پیغمبر آدم اپنا کام کر کے ثابت یہ ہو ا کہ اللہ کی قربت حاصل کرنے کے لئے اللہ کے عرفان حاصل کرنے کے لئے، اللہ کا دو ست بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کے نعمتوں کے حصول کے لئے علم بنیادہے۔سلسلہ عظیمیہ کابنیاد ی مقصد یہی ہے کہ پیغمبرا ن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرز فکر حاصل کر کے ان کی نقوش پر چل کر ان کی زندگی کو سامنے رکھ کر ہم وہ علم سیکھیں جو پیغمبروں کی طرز فکر کو حاصل تھا۔

 وہ علوم حا صل کر لئے جس علوم کے ذریعے سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام پر اللہ کی نعمتوں کی با رش بر سی اور جن علوم کی بنیا دپر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے حضرت محمد ﷺ سے راضی ہو گئی اور راضی ہو نے کا منشا ء یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ د یا کہ راضی ہوجا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو قربت عطا ہو …میرا اور میرے بندے کے درمیان دو کمان کا فا صلہ رہ گیا یا اس سے بھی قریب کا مطلب اقرب بالکل قریب تر ین فاصلہ جس کو آپ الفاظ میں کسی طرح بیان نہ کر سکتے ہوں تو اللہ تعالیٰ سے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قربت کا اللہ تعالیٰ اس فاصلہ کی خود نفی فرما تا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم نے اپنے بندے سے راز و نیاز کیا، ایسی با تیں کی اپنے بندے سے جو اب تک ہم نے بحیثیت خالق کے کی مخلوق سے نہیں کی تھی۔

 پھر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ یہ خواب خیال نہیں ہے نوع انسانی کواللہ تعالیٰ نے یہ بتا یا کہ یہ نہ سمجھا جائے کہ حضور پاک ﷺ نے کوئی خواب دیکھ لیا ہے یا خیالی طور پر ان کو اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل ہو گئی ہے ’’جو کچھ دیکھا دل نے جھوٹ نہیں دیکھا‘‘ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی بھی تصدیق فرما ئی کہ ہمارے بندے محمد رسول اللہ ﷺ سے جو ہمیں قربت عطا کی جو ہم نے ان سے را ز ونیاز کی با تیں کیں جو خواب و خیال کی بات ہے ہم اس بات کی تصدیق کر تے ہیں۔ ایک ایسی ملاقات ہوئی جس میں قربت بھی عطا ہوئی اور حضور سے اللہ تعالیٰ نے باتیں بھی کی۔لیکن یہ قربت اللہ تعالیٰ کا با تیں کر نااللہ تعالیٰ کا تصدیق کر نا سب علم کے دا ئرے میں ہے۔پہلی وحی جب حضورپاک ﷺ پر نازل ہوئی، کہ پڑھ اپنے رب کے حکم سے تو یہ پڑھنا اپنے رب کے حکم سے زیادہ اور اتنا زیادہ علم میں اضافہ کر گیا کہ حضور پاک ﷺ سے قربت حاصل ہو گئی۔

سلسلہ عظیمیہ کا بنیا دی مقصد یہی ہے کہ نو ع انسانی علوم کو حاصل کر یں۔جو علوم پیغمبران علیہ اسلام کے مطابق ہو ں اور جن علوم کی بنیا د پر انسان کو اللہ تعالیٰ کی قربت بھی حاصل ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عرض معروضات بھی پیش کرتا ہو اور لبیک کہے تو متعلق سن بھی سکتے ہیں۔یہ سلسلہ عظیمیہ کا بنیادی مقصد ہے اس مقصد کے حصول کے لئے امام سلسلہ عظیمیہ حضور قلندر بابا اولیا ء ؒ نے ایک آسان ترین کام بنایا وہ یہ ہے کہ ہر انسان اس بندے سے زیادہ قریب ہوجاتا ہے اس بندے پر اعتبار کرتے، عادات کو دلچسپیوں کوپسند کر تے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی کا ئنات میں جب بھی آپ غور کریںگے۔آپ کو ایک ہی بات نظر آئے گی اللہ تعالیٰ نے اس کا ئنات میں انسانی ضروریات کے لئے انسانی تقاضے کو پو را کرنے کے لئے جتنے بھی وسائل پیدا کئے ہو ئے ہیں چا ند ہیں سورج ہیں، پا نی ہے،ہوا ہے، آکسیجن ہے، زمین ہے،شجر وحجر ہے،نباتات ہے جب بھی آپ غور کریں گے تو آپ کو ایک ہی بات نظر آئے گی کہ زمین کے اوپر تمام وسائل انسان کی خدمت گزاری میںمصروف رہے اور اللہ تعالیٰ نے کا ئنات کو پا بند کر دیا ہے انسان کی خدمت کی جا ئے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا برا ہ را ست مخلوق کی خدمت میں مصروف رہے۔سلسلہ عظیمیہ کا مشن یہ ہے۔کہ پیغمبراں طرز فکر حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ وہ عادات و اطوار اختیار کئے۔ جو اللہ کی ہے پسندیدہ اور نا فذ عمل ہے اور وہ اللہ کی عادت جو ہے وہ مخلوق کی خدمت کر یں آپ سب حضرات ایک پلیٹ فا رم پر ان تعلیمات کو سیکھنا ہے جن تعلیمات کی بنیا دپر انسان اللہ کادو ست بن جاتا ہے اور اللہ کا دو ست بن جا تا ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطا بق …اللہ اولیاء خوف …کہ اس کی زندگی میں سکون کے علاوہ کچھ نہیں آئے گا۔جو آدمی اللہ کا دو ست بن جا تا ہے اس کی زندگی میں سکون کے علاوہ کچھ نہیں ہے کوئی چیز با قی نہیں رہتی میری دعا ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو صراط مستقیم پر قائم رکھے اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام کی علمی رو حانی مشن کو اور حضور الصلوٰ ۃ والسلام کی تعلیمات کو دنیا میں جا ری رکھنے کے لئے سلسلہ عظیمیہ کی تعلیمات پر کے ایک پلیٹ فا رم پر اللہ کی مخلوق کی خدمت کر کے وہ علوم حاصل کریں کہ ان علوم کی بنیاد پر شرف حاصل ہو۔

اختتام

 

 

 

 

 

 


 

Topics