Topics
زیادہ
تر لوگ عبادت گزار ہو تے ہیں یا اللہ کے راستے پر چلتے ہیں وہ پر یشان ہو تے ہیں اور
دنیا وی اعتبار سے جو لوگ بظا ہر اللہ سے دور ہوتے ہیں وہ خوشحال ہو تے ہیں۔ ظا ہر
ہے اسلاف میں تو یہی نظر آتا ہے کہ جو لوگ مثلا ً اسمگلر ہیں، ملا وٹ کرنے والے ہیں،
منشیات کا کاروبار کرنے والے ہیںیا ہیرا پہری کرنے والے ہیں وہ دنیاوی اعتبا ر سے خوشحال
ہو تے ہیں ان کے بڑے بڑے گھر ہو تے ہیں گاڑیاں ہوتی ہیں اور جو لوگ ایمانداری سے اپنی
زندگی گزارتے ہیں وہ بچارے نا خوش ہو تے ہیں ان کے پاس گھر اور گاڑی تو کیا کھانے کا
بھی نہیں رہتا ہے بات یہ سمجھنے کی ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟کیا واقعی ایسا ہے کہ جو
اللہ سے دو ستی کرے یا جو اللہ کے حکامات پر عمل کر ے اور اللہ اور اللہ کے رسول اللہ
ﷺ کے قوانین کے مطا بق زندگی گزار ے وہ دنیا میں پریشان رہتا ہے اور جو اللہ اور رسول
اللہ ﷺ کے قوانین کے خلاف زندگی گزار ے وہ خوشحال ہوتا ہے۔
یہ سوال ہے اس قسم کے سوالات ہر انسان کے ذہن میں
آتے ہیں جو بھی ذرا سا سمجھ دار ہے اس کے ذہن میں یہ بات آتی ہے یہ کیا بات ہے یہ
سوال جس طرح عام لوگو ں کے ذہن میں آتا ہے میرے ذہن میں بھی آیا اور میں نے اپنے
پیرومر شد حضور قلندر بابا اولیاء ؒ سے پو چھاکہ یہ جو دنیا کا ایک نظام ہے غریبی امیری
کا ایک طرف لوگ اتنے امیر ہیں انہیں یہ پتا ہی نہیں کہ ان کے پاس کتنا پیسہ ہے۔دوسری
طرف لوگ بچارے اتنے غریب ہیں کہ نہ وہ بچوں کو پیٹ بھر کے روٹی کھلا سکتے ہیں،نہ وہ
اپنے بچوں کو اچھا لباس پہنا سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنے بچوںکی تعلیم و تربیت کر سکتے
ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے جن لوگوں کے پاس پیسہ ہے وہ اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا
تے ہیں، اچھے اچھے اسکولوں میں پڑھاتے ہیں، با ہر بھیجتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے
کہ کیوں کہ وہ غریب کے بچوں سے ممتاز ہوتے ہیں علم میں، لہذا حکومت بھی ان کے ہاتھوں
میں چلی جا تی ہے تو جتنے بھی سلطنت گزری یا ہیں ان میں بھی ہم یہی دیکھتے ہیں کہ امیروں
کے بچے جو ہیں وہی ہر جگہ کے حکمرا نی کر تے ہیں اور وہ امیر سے امیر تر ہوتے چلے جا
تے ہیں اور غیریب غیریب تر ہوتا چلا جا تا ہے۔
یہ ایسا سسٹم ہے وہ پا کستان میں نہیں ساری دنیا
میں اور آج سے نہیں ہزاروں سال پہلے سے بنی اسرائیل کے زمانے میں جب حضرت موسیٰ علیہ
السلام کو جب اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں بھیجا۔
یہی صورت حال جو فلاحین جو حکومت تھی ایک خاندان
تھا مخصوص اب بادشاہ جو وہ حکمرانی فرماتے رہے اور مذہبی اعتبار سے ان کا تحفظ کرتے
رہے مذہبی ٹھیکے دار بادشاہوں کا تحفظ کرتے رہے اور بادشاہوں کے انعام اکرام سے آج
بھی یہی ہے مذہبی جو دانشور ہیں وہ حکومت کے ساتھ تعاون کر سکتے تھے اور حکومت ان کے
ساتھ تعاون کرتی ہے تو اب اس میںاسی بات تو ہے ہی نہیںصاحب اس میں ایسا ہوتا ہے ایسا
نہیں ہوتا ہے ایسا ہوتا ہے ساری دنیا میں ہو رہا ہے پا کستان میں بھی ہو رہا ہے،ہندوستان
میں بھی ہو رہا ہے امریکہ میں بھی ہو رہا ہے ہر جگہ ہے تو مجھے حضور قلندر بابااولیا
ء ؒ نے اس بات کا جواب یہ دیا کہ پہلی بات تو یہ ہے اللہ تعالیٰ کی یہاںوسائلی تقسیم
و مساوات جو ہیںجو مساوات دولت کی مساوات یہ نہیں ہے کہ امیر آدمی کو ایک لاکھ روپے
ملے گے تو غریب کوبھی لا زماً ایک لاکھ رو پے ملے گے بلکہ مساوات جو اللہ کے یہاں ہے
وہ ذہنی سکون ہے یہ ذہنی سکون جو ہے وہ اللہ تعالیٰ مساوانہ کر تے ہیں اب بظاہر طور
پر یہ نظر آتا ہے کہ بھئی یہ بہت امیر کبیر آدمی ہے اگر آپ انہیں اندر سے دیکھیں
تو بلاشبہ وہ ہم غریبوں سے بہت زیادہ پریشان ہیںبہت زیادہ ٹوٹے پھو ٹے ہیں نہ ان کے
اندر یقین ہے نہ ان کے اندر کوئی خلو ص ہے عجیب ان کی صورت حال ہے ڈرے ہو ئے سمے ہو
ئے خوف زدہ ان کی زندگی گزرتی ہے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے میرا جو یہ تجربہ ہے اور سالہ
سال ہو گئے تو میں اپنے غریب بھا ئیوں کے پاس جا تا ہوںغریب بھا ئی بھی میرے پاس آتے
ہیںامیروں کو بھی میں نے قریب سے دیکھا ہے ان کے اندونی حالات بھی میں نے دیکھے ہیںابھی
میں آپ ایک واقعہ سناؤ ایک صاحب ایک بہت بڑے
مل کے مالک تھے وہ میرے پاس آئے اور بڑے ناراض، میں نے کہا کیا ہو گیا، وہ کہنے لگے
بھائی بڑے خراب ہیں بڑے بے وفا ہیںمیں نے چھوٹے بھا ئیوں کو اپنے سینے پر بیٹھا کر
پالا پرورش کی تعلیم و تربیت دی ایسا ہے ویسا ہے بہت انہوں نے برا ئی کی، ان سے میں
نے پوچھا با ت کیا ہوئی تو انہوں نے کہا بھئی ایک ہمارا ابا کا گھر ہے اس گھر میں کمرہ
ہم نے توڑا تھا اس میں سے ایک دروازہ نکلا تو، میں دو سرا کمرہ بنا رہا تھا تو میں
نے بھا ئیوں سے کہا یہ میں دو سرا کمرہ بنا رہا ہوںیہ دروازہ میں وہا ںلگا لیتا ہوںتو
بھائیوں نے کہا یہ تو ابا کا بنایا ہوا گھر تھا اس میں تو سب کا ورثہ ہے تم اپنا حصہ
لے لواور دروازہ لے جا ؤ ، انہوں نے کہا کیسا حصہ بھئی، انہوں نے کہا یہ باپ کا بنایا
ہوا ہے،ہر چیز باپ کی ہے اس میںکیل بھی مشترک ہے سب بہن بھا ئی حصے دار ہے تو ا س میں،
ان کی آپس میں بہت لڑائی ہوئی، بھا ئی نے برا بھلا کہا انہوں نے کہا برے بھلے کی با
ت ہی نہیں ہے شریعت میں جو ہے اس دروازے میں ساری شریعت آگئی خیر پھر میں نے کہا ہوا
کیا یہ تو بتا ؤ ، وہ کہنے لگے بھی میں کیا کرتا میں نے وہ دروازہ لے لیا اور بھا ئیوں
کو میں نے پیسے دے دئیے تو میں نے کہا یار تم بڑے بے غیرت آدمی ہو دروازہ چھوڑ دیتے
کہنے لگے اگر میں چھوڑ دیتا تو میرا حصہ بھی جا تا، میل اونر ہے بڑی بڑی بلڈنگیں نام
میں لینا نہیں چاہتاپردہ رکھنا چا ہئے اتنی بلڈنگیں ایسی ہیںجن میں ان کے ہسپتال ہیں
صدر میں روٹ پر اور پتہ نہیںکہاں کہاں،حال ان کا یہ ہے کہ چار بھا ئی پانچ بہنیںایک
دروازے کے سب نے پیسے لے لئے بڑے بھائی سے اور بڑے بھائی نے چھوٹے بھائیوں پر دروازہ
اس لئے نہیں چھوڑا ان کاحصہ مانگا جا رہا تھا۔
اب آپ اندازہ لگا ئیں ایک غریب آدمی کا ایک امیر
آدمی کا بھئی آپ سب لوگ بیٹھے ہو ئے ہیں ماشااللہ خوشی ہوتی ہے بڑے بھا ئی کو خوشی
ہوتی ہے چھوٹے بھا ئی کہ کام چیز آجا ئے،چھوٹے بھا ئیوں کے یہ خوشی ہوتی ہے ہمارے
بڑے بھا ئی کے یہ چیز کام آجا ئے لیکن وہاں ایک دروازے پر بھی حصہ ہوتا ہے اب اس سے
اندازہ لگا ئیے ان کے یہاں دو لت کا کیا معیار ہے اور جہاں دو لت کا یہ معیار ہو اہمیت
ہو وہاں سکون نہیں ہوتا۔ ایک میں نے یہ دیکھا کہ انہیں صرف ایک بات کا ڈر رہتا تھا
ہے کہ اگر ہمارے پاس دو ولت نہیں رہی تو ہم بے عزت ہو جائیں گے اور یہ واقعہ ہے کہ
دو لتمند کو آدمی اس کی دو لت کے لئے سلام کر تاہے سلام کرتا ہے تو اسے بھی پتہ سلام
دولت کے لیے اور جب وہ غریب ہو جا تاتو اسے کوئی سلام بھی نہیں کرتا۔
آپ کے سامنے شہنشاہ ایران کی مثال ہے ڈھا ئی ہزار
سال تک اس نے حکومت کی دنیا کا امیر ترین آدمی لیکن دولت جب اس سے روٹھ گئی سلطنت
ختم ہو گئی تو وہ مارا مارا پھیرا وہ ملک جو ا س کی میزبانی کو سعادت سمجھتے تھے اس
کی مہمانی کرتے تھے اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے تھے کسی ایک ملک نے بھی اسے
اپنے یہاں مہمان ٹھہرانا اسے ایک وقت کی روٹی کھلا نا گوارہ نہیں سمجھا ابھی ہوا نتیجہ
اس کا یہ نکلا کہ جہاز میں اڑتے اڑتے کینسر کا بیمار ہو گیا جہاز میں ہی مر گیا اور
اس کو اپنے ملک میں قبر تک نصیب نہیں ہوئی یہ آپ کے سامنے ہے اگر دولت مندی کا یہ
ایران آپ کے سامنے پیش آیا جہاں شاہ با دشاہ کے ساتھ پیش آیا، مصر کے فاروق با دشاہ
کے ساتھ پیش آیا اور ہمارے ملکوں میں بھی جب یہ حکمران ہو ئے یہ سارے جو ہیں ان کے
ساتھ پیش آیااس سے تو ایک سنجیدہ آدمی اللہ سے توبہ استغفا رہی کرے گا یہ کہے گا
سے دولت نہیں چاہئے کہ جس میں انسان اتناذلیل ہو جا ئے کہ اپنے ملک میں اس کو قبر بھی
نصیب نہ ہوتو اب دیکھئے اب آپ غریب آدمی کا اور امیر آدمی کا سکون ایک جگہ رکھیں
اس میں آپ کو یہ برابری ملے گی کہ اس کو قدرت نے بے شمار وسائل دے دئیے لیکن اس سے
سکون چھین لیااور غریب آدمیوں کے پاس وسائل کم ہیں لیکن ان کو امیر آدمیوں کے مقابلے
میں سکون زیادہ ہے ایک تو یہ انہوں نے بتایا جو بات سمجھ میں آئی میں نے ذاتی طور
پر اس معاملے پر جو غور کیا اس کی وجہ میری سمجھ میں یہ آئی کہ غربت جو ہے غربت اللہ
کی طرف سے کسی کو نہیں ملتی آدھے خود ہی غریب ہو تے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہ جو زمین
ہے اس زمین میں کو اپنا دسترخوان بنایااو ر اس زمین کو فری تقسیم کر دیا ایسا نہیں
ہے اللہ تعالیٰ نے امیر کو مفت دے دی ہو غریب کو مفت نہ دی ہو یہ امیروں نے اپنا تسلسل
قائم کر کے غریبوںپران کو عزیت اور تکلیف پہنچا ئی لیکن جب بھی غریب آدمی امیروں کے
خلا ف منظم اور متحد ہو گئے تو کچھ بھی نہیں ہوا شہنشاہ ایران جیسے آدمی ہے ذلیل و
خوار ہو کر مر گئے تو اب اللہ ایک دستر خوان بچھا ہوا ہے یہاں سے وہاں تک ہر چیز ہے
امرود بھی پڑا ہو اہے سیب بھی پڑا ہوا ہے آم بھی کیلا بھی پڑا ہوا ہے ہر چیز پڑی ہوئی
ہے اب آپ اس کو اٹھا تے ہی نہیں ہیں آپ اس کو استعمال ہی نہیں کرتے تو اس میں اللہ
میاں کا کیا قصور اللہ میاں نے آپ کو کیوں غریب کر دیا بھئی … ایک سرمایہ دار کی زندگی
کا جب آپ مطالعہ کریں گے تو اس کی زندگی میں سوائے محنت محنت، محنت،محنت کے علاوہ
آپ کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔
بس اس کے ذہن میں ایک ہی بات ہے امیر بننا ہے مل
لگانا ہے،فیکٹری لگا نی ہے،کاروبار کر نا ہے ایمانی بے ایمانی مکا ری دنگا با زی کسی
بھی صورت سے مجھے دولت حاصل کر نی ہے اور وہ اس محنت میں لگے رہتا ہے اس کے برعکس ہم
راج مزدور کو دیکھتے ہیںان کے گھر والے بھی آتے ہیں ہمارے پاس گھر میں اگر آٹا ہے
تو وہ محنت مزدوری کے لئے با ہرہی نہیں نکالتے بھئی جب شور مچتا ہے گھر میں کھا نے
کو روٹی نہیں تب وہ کندھے پر رومال ڈال کر مزدوری کے لئے نکل لتے ہیںآٹھ دس دن مزدوری
کرتے ہیں پھر آپ نے دیکھا ہوگا یہ جتنے رنگ کرنے والے آٹھ دن کا کام ہو گادو مہینے
میں یہ پورا کر تے ہیں کسی کار پینٹر کو لے لیجئے آپ اس کے پیچھے پیچھے ہی پھر تے
رہے گے وہ آپ کا فرنیچرز نہیں پو را کر ے گاجب اس کو پیسوں کی ضرورت ہو گی جب ہی آئے
گاتو یہ جو دنیا ہے اس دنیا کا حصول جو ہے اس کا تعلق اس بات سے ہے آپ اس دنیا کے
لئے کتنی جدو جہد کر تے ہیں کتنی کوشش کر تے ہیں جتنی جدوجہدکو شش آپ کر تے ہیں اسی
کے حساب سے آپ کو نتیجہ نکال آتا ہے اب آپ یہ کہے گے صاحب غریب کے بچے بیکار ہیں
انہیں نوکر ی نہیں ملتی امیروں کو نوکریاں مل جا تی ہیں اس میں بھی آپ یہ دیکھئے اب
ایک بچے نے انجیر نگ پڑھ لی اس کی شان کے خلا ف ہے کہ وہ جو تا بنا ئے اس کی شان کے
خلاف ہے کہ وہ مزدوری کرے اس لئے وہ سمجھتا ہے میں نے انجییئر کی ڈگری لے لیاب میں
میرا کام تھوڑی ہے کہ میںزمین کھودوں یا میراکام تھوڑی ہے میں کوئی انڈسٹری لگا لوں
یا میرا کام تھوڑی ہے میں کھڑے ہو کر صفائی کروںنتیجے میں وہ پر یشان رہتا ہے لیکن
اب ہم دو سرے ممالک میں دیکھتے ہیںمثلا ً امریکہ میں دیکھیں،فرانس میں دیکھیں،یورپ
میں دیکھیںوہاں محنت مزدوری کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے وہاں لوگوں کو سب کو کام مل جا
تا ہے تو اس میں اللہ کی طرف سے غریبی امیرہی نہیں ہے آپ یہ نہ سمجھیں اللہ میاں نے
ایک مخصوص طبقہ بنا دیا ہے کہ صاحب وہ طبقہ غریب ہی رہے گاوہ طبقہ امیرہی رہے گا اللہ
تعالیٰ کی ایک زمین ہے جس طرح فری زمین ایک امیر آدمی کو ملتی ہے اس طرح فری زمین
ایک غریب آدمی کو ملتی ہے، جس طرح ہوا مفت امیر لوگوں کو ملتی ہے اسی طرح ہوا غریبوں
کو بھی ملتی ہے،دھوپ ہوا کون سی ایسی چیز ہے جو اللہ کی طرف سے نازل ہورہی ہے اور اللہ
تعالیٰ غریبوں سے پیسہ لے رہا ہے اور امیروں کو مفت دے رہا ہے۔
بات
یہ ہے کہ غریب جو ہے اپنے آپ کو احساس کم تری میں مبتلا کر لیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے
ہیں ہم کچھ نہیں ہیں وہ کچھ نہیں ہو جا تے اب آپ دیکھئے یہ ایک روایت ہے اپنے بزرگوں
سے سنا ہے اور دیکھا بھی ہے ایک آدمی امیر ہو جائے وہ سب کا رشتہ داراور بچارے غریب
ہیں چھوٹا بھا ئی بھی ہو گا تو اس سے کہے گے ہاں ہمارے رشتہ دار ہیںتو اس کا مطلب یہ
ہوا غریب خود امیر کو اہمیت دے رہا ہے دولت کی بنیاد پر اور اس کی وجہ سے وہ احساس
محرومی میں مبتلا ہے اللہ تعالیٰ کا ایک نظام ہے اللہ تعالیٰ نے جو ایک سسٹم بنایاہوا
ہے ہر چیز جس طرح امیر کے لئے مختصر ہو رہی ہے کائنات میں غریب کے لئے بھی مختصر ہو
رہی ہے بعد صرف محنت کی ہے آپ محنت کر ے آپ کو ہر چیز حاصل ہو جا ئے گی۔
ایک مذہبی گروہوںہے،طبقہ ہے اس کا م ہی یہ ہے کہ
وہ انسانیت سے نکل کر فرشتے بننا چا ہتے ہیںاب ایک آدمی صبح کو تہجد میں اٹھا نا بہت
اچھی بات ہے تہجد میں اٹھا اس نے جناب نفلیں پڑھیی صبح تک وظیفہ پڑھااس کے بعد جناب
فجر کی نماز پڑھی پھر اشراق کی نفلیں پڑھی اشراق کے بعدچاشت کی نفلیں پڑھی چاشت کی
نفلوں کے بعدظہر کا وقت آگیاظہر کی جنا ب نماز پڑھی ظہر جناب ابھی ختم ہی کیا تھا
اور ٹائم کا وقت ہی پتا نہیں چلا اور پھر اللہ و اکبر عصر کی آذا ن ہو گئی مسجد میں
چلے گئے ابھی وہاں سے چائے پی کر فارغ ہی ہو رہے تھے مغرب کی آذان ہو گئی مسجدمیں
چلے گے مغرب کے بعد ابھی کھا نا بھی پو ری طرح سے نہیں کھایا تھا پھر مولانا جی نے
آذان دے دی عشاء کی آذان ہو گئی اب سونے کا وقت آنے لگا اب جب اس کی نیند ہی نہیں
پو ری ہو گی وہ دنیا میں کیاکام کرے گاجہاں بھی جا ئے گا اونگتا رہے گا بیٹھا ہوا میں
نے دیکھیں ہیں ایسے لوگ جو ہروقت پڑھتے رہتے ہیں اور جمائیاں لیتے رہتے ہیںتھوڑے دن
میں مالک کہتا ہے جی اپنے گھر جاؤ تو اب عبادت
کر یں گے تو اتنی کریں گے کہ وہ دنیا وی معاملات جو ہیں وہ اس دن مس فٹ رہے سکتے ہیں
نہ محنت کر تے ہیںنہ مزدوری کرتے ہیں۔
زیادہ پڑھنا لوگ کہتے ہیں صاحب بہت اچھا ہے لیکن
جس چیز میں پڑھنے میں طاقت ہو گی مثلاً آپ اللہ کا نام لیتے ہیں اللہ کا کلام پڑھتے
ہیںظاہر ہے اس کی ایک روشنی ہے ایک طاقت ہے تو اس کے لیے ایک سکت بھی ہونی چا ہئے تو
آپ اتنا زیادہ پڑھ لیتے ہیں کہ اس کے انوار اور رو شنیوں سے آپ کا شعور اور دماغ
معطل ہو جا تا ہے آپ کسی کام کے قابل نہیں ہو تے تو ظا ہرہے آپ کسی کام کے قابل ہی
نہیں رہے گے تو آپ کیا کام کر یں گے آپ تو سوتے ہی رہے گے، تو ایک سسٹم ہے اگر اس
سسٹم میں آپ دا خل ہو گئے تو آپ کے لئے اللہ کا نظام پورا صاف ستھرا میدان پڑا ہوا
ہے آپ جتنا چا ہئیں دوڑیں جتنا چاہئے بھا گیں جتنا چاہئیں چلے تو اگر آپ نے تو پھر
ٹھیک ہے اللہ میاں نے روٹی دینے کا وعدہ کیا ہے تو رو ٹی تو آپ کو ملتی رہے گی بھوکاکوئی
نہیں رہے گا، کھانا بھی ملے گا، کپڑا بھی ملے گا، گھر بھی ملے گا، اب یہ ہے کہ آپ
آسائش اگر مہیا کر نا چا ہتے ہیںتو آسائش کے لئے تو ضروری ہے کہ بھئی یہاں سے وہاں
ہے اب ایک میل پربکر ی کا گو شت رکھا ہوا ہے دوسرے میل پر دال رکھی ہوئی ہے تو آپ
دال بھی کھا سکتے ہیں بکر ی کا گوشت بھی کھاسکتے ہیں اللہ نے تو نہیں منع کیا، اللہ
نے بکری آپ کے لئے پیدا کی ہے امیر کے لئے بھی پیدا کی ہے۔
اب
و ہاں غریب کہہ بکری گوشت کو ن کھائے، دال پرہی گزارہ کر لووہ امیر کہتا ہے نہیں ایک
میل جا نا ہے بکر ی کا گوشت کھانا ہے دال پر کیوں گزار ہ کیا جا ئے۔ تو یہ سسٹم جو
ہے اس سسٹم میں کوئی خرابی نہیں ہے ہماری سوچ میں خرابی ہے ہماری محنت کرنے میںخرابی
ہے۔ ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو ہمارا محکوم بنادیا آدم کوسجدے کا حکم
دیا گیا فرشتوں کو سجدے کا حکم دیا اور فرشتوں نے سجدہ کیا۔ سب جا نتے ہیںابلیس نے
سجدہ نہیں کیااس کو اللہ تعالیٰ نے لعنتی کہا، تو آپ یہ بتا ئیں انسان افضل ہے یا
فرشتہ افضل ہے اگر فرشتے افضل ہوتے تو انسان کو کہاآدم کو کہا جا تا کہ فرشتوں کو
سجدہ کرووہاں آدم کو افضل بنا کر فرشتوں کو حکم دیا گیا ہے کہ تم سجدہ کرو تو ہم رات
دن تسبحیاں پڑھ پڑھ کر فرشتوں کو بھیج رہے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے جو ہمیں شرف دیا
ہے اس شرف کو ہم کھو کر اس کی ناقدری کر کے، نا شکری کر کے کفران ِ نعمت کر کے، فرشتے
بننا چا ہارہے ہیں۔
اچھا جب آپ فرشتے بنناچا ہا رہے ہیں بھئی فرشتے
تو کپڑے بھی نہیں پہنتے،فرشتے تو روٹی بھی نہیں کھا تے، فرشتے تو شادی بھی نہیں کر
تے، انسان فرشتے ہی بن گئے تو ظاہر ہے دنیا آپ سے روٹھ جائے گی اسی لئے مذہب میں پا
نچ وقت کی نماز ہے فرض کر دی ہے اور اس میں بھی یہ نہیں ہے صاحب آپ نمازمیں ہی پڑے
رہے میں نے سنا فجر کی اگر آپ نماز شروع کر یں تو دوپہر ہو جائے ظہر کی نماز پڑھیں
تو عصر ہو جا ئے اس کا بھی ایک وقت ہے تعین ہے اب فجر کی نماز سے آپ پڑھنے فجر کی
اوراس کے بعددیکھیں ظہرتک کتنا وقت ہے مسلسل وقت ہے کا رو بار کا کہ آدمی کا رو با
ر کر سکے لیکن آپ کاروبار کی طرف توجہ نہ کریںغریبوںکی طرف توجہ کر یں تو ظا ہر ہے
دنیا کیسے کام کر ے گی میرے پاس ایک صاحب آئے وہاں مطب میں جب میں بیٹھا کرتا تھاکہ
صاحب میں بڑا پریشان ہوں۔کیا پریشانی ہو گئی؟کہ صاحب میں جو کاروبار کرتا ہوں مجھے
نقصان ہی ہوتا ہے بھئی کیوں نقصان ہو جا تا ہے؟
کہاصاحب وہ میں یہ کرتا ہوں وہ کرتا ہوں اور میں
دو ستوں کو پیسہ دیتا ہوں وہ کا روبار کر تے ہیںواپس نہیں کر تے، بھئی تم خود کیوں
نہیں کر تے؟کہنے لگے خود میں کر نہیں سکتامیں کسی فلاں کمپنی میں ملازم ہو ںاس زمانے
میں یہ کوئی دس با رہ سال پرا نی بات ہے انہوں نے کہا مجھے بیا لیس ہزار روپے تنخواہ
ملتی ہے اور کمیشن الگ ملتا ہے تو میں نے کہا یہ سیدھی سی بات ہے تمہاری اتنی بھا ری
آمدنی ہے روپیہ تم سے رکھا نہیں جا تا تم دوستوں کو دیتے ہوں وہ کھا جا تے ہیں وہ
تمہیں کیوں کما کردیں۔تو اس نے کہا چھوڑیں یہ تو ہو جائے گا مجھے آپ وظیفہ بتا دیںتو
میں نے اس سے پو چھا تم کسی کمپنی میں ملا زم ہو؟جی ہاں جی جر منی کی ایک کمپنی ہے
اس میں ملازم ہوںمیں نے پو چھا اس سے تمہاری طرح اور بھی ملازم ہوں گے؟کہنے لگے ہاں
میری طرح اور بھی ہیںاور بھی ملازم ہیں تو میں نے کہا بھئی وہ تمہارا مالک ہے وہ کون
ہے؟
کہنے لگے یہودی ہے تو میں نے کہا وہ وظیفہ پڑھو جو
یہودی پڑھ رہا ہے تاکہ تم بھی رکھ سکو اتنے آدمی۔ تو بات یہ ہے کہ یہ مذہبی لوگ جو
ہیں یہ اعتدال سے ہار جا تے ہیںاسلام جو ہے وہ اعتدال کا سبق دیتا ہے۔ اعتدال سے جو
بندہ جہاں بھی ہٹے گا نقصان ہو جائے گا آپ کی خوراک ہے دورو ٹی آپ چار روٹی کھائیں
تودو چار دن آپ دیکھئے آپ کا پیٹ خراب ہو جا ئے گا۔ آپ کو سونا چا ہئے آٹھ گھنٹے
آپ دو گھنٹے سوئے آپ کی صحت خراب ہو جا ئے گی،آپ کی انرجی ہے کام کرنے کی چھ گھنٹے
کیآپ کچھ عرصہ بارہ گھنٹے چو دہ گھنٹے سولہ گھنٹے کام کر یں آپ کے اعصاب بالکل ٹوٹ
جا ئیں گے آپ گر جا ئیں گے ٹینشن میں آپ مبتلا ہو کر بیمار ہو جا ئیں گے۔ انتہا ئی
بلیڈ پر یشر ہو جا ئے گا تویہ جوقدرت کا ایک نظام ہے ایک سسٹم ہے اعتدال جو لوگ اعتدال
میں رہے کر زندگی گزارتے ہیں، وہ خوش رہتے ہیں، امیر آدمی اس لئے خوش نہیں رہتے ہیںوہ
اعتدال کوتوڑ کر انہیں صرف اور صرف دولت چا ہئے۔
ایک دفعہ میں حضور قلندر با با اولیا ء ؒپاس گیاایک
مجلس تھی بہت بڑی وہاںبڑے بڑے امیر لوگ بیٹھے ہوئے تھے میں بھی پہنچ گیا۔ جب کھا نے
کا وقت ہوا تو بہت ہی خوبصورت ٹرے اس میں سفید کپڑا اس میںایک ڈبیہ بڑے خوبصورت چمکدار
اسٹیل کی ڈبیہ تھی وہ سب لوگوں کے پاس آئی سب نے ایک ایک گو لی ایک گھونٹ پانی سے
لے لی میرے پاس بھی وہ ڈبیہ آئی میں نے کہا یہ کیسی گو لی ہے؟ کیا ہے؟ کیوں کھا ئیں؟
وہ کہنے لگے اس سے بھوک لگتی ہے اب بھئی کھائے، میں نے کہا مجھے تو ویسے ہی بھوک لگ
رہی ہے مجھے گولی کھانے کی عادت نہیں ہے میں نے وہ گولی نہیں کھا ئی صاحب وہ بیس منٹ
بعدپندرہ منٹ بعد میں نے بھا ئی میں نے وقت نہیں دیکھا وہ گھنٹی بجی بیل ہوئی بھئی
یہ کیا ہوا؟ کہنے لگے یہ گو لی نے کام کر دیا اب روٹی کھاؤ سب میز پر جا کر بیٹھ گئے بڑا پر تکلف دستر خوان
تھاسب نے کھا یا تو ہم نے بھی کھاناکھا یا، اس کے بعد کھا نا کھا کر ابھی پا نی ونی
پی کر اٹھے نہیں تھے پھر وہ ایک ٹرے آگئی پھر وہ گو لی سب نے ایک ایک دو دو کھالی
بھئی یہ کیا ہے؟
کہنے
لگے یہ کھانا ہضم کرتی ہے۔ اب بتائیے اللہ و اکبر یہ کوئی کھا نا ہوا اچھا رات کو دو
گولیاں کھا کر سوئیں گے، بغیرگولی کے نیند ہی نہیں آتی۔ گولیاں کھا کے سو جا ؤ میرا ایک دوست ہے دوست تو خیر نہیں ہے امیر تو دوست
ہوتا ہی نہیں ہے کسی کا، دوست تو نہیں کہنا چا ہئے جا ننے والے تھے وہ ان کی بیوی آئی
رات کو ایک دفعہ رو تے ہوئے بڑی رو رہی تھی کیا ہوا بھئی؟کہنے لگی وہ نیند کی بیس گو
لیاں کھا گیامیرا شوہر لیکن نیندنہیں آرہی، بھئی کیا ہوا میں گیاصاحب مجھے رو تے ہو
ئے بولے بھئی کیا مصیبت کیا ہے؟ اس نے کہا کہ میری نو کروڑ روپے کی جائیداد ہے اور
یہ بیوی میری جا ئیداد کھا جائے گی مجھے زہر دینا چاہا رہی ہے۔ایک اور واقعہ میں ایک
امیر کا سنا ؤ آپ کو وہ جناب اس نے ایک آدمی
رکھا ہوا تھاوہ مجھے سولا دے اوپر ڈیریپ لگی ہوئی ہے نیند کی وہ جناب فزیو تھراپی والا
ڈبا رہا ہے بس اس نے خراٹہ… لیاوہ وہاں سے بھا گا پھر وہ سارے دن بیٹھا رہا۔
ایک اور صاحب تھے وہ ساری رات گھر میں چکر لگا تے
رہتے تھے بھئی کیا مصیبت ہے؟ کہنے لگے مجھے یہی ڈر لگے رہتا ہے کوئی آکر مار دے گا۔
تو یہ دو لت آپ ان چیزوں سے واقف نہیں ہے اس لئے ہم یہ سمجھتے ہیں ٹھاٹھ واٹھ کچھ
بھی نہیں ہے اندر سے بالکل یہ دیمک کی طرح ہو تے ہیں۔ جیسے دیمک لکڑی کو کھا جاتی ہے
نہ اس طرح دولت ا نسان کو کھا جا تی ہے۔ایک صاحب میرے پاس آئے بڑے عجیب عجیب قصے آئے
ہیںکہ صاحب وہ میرے پاس پتا نہیں کتنے لاکھ رو پے ہیں تو میں یہ چاہتا ہوں وہ اللہ
کے لئے خرچ کر نا چا ہتا ہوں مجھے آپ سے اچھا کوئی آدمی نظر نہیں آیا آپ اسے خرچ
کر دیں۔ میں نے کہا بھئی کس طرح خرچ کر یں؟ کہا کسی بھی طرح اس زمانے میں میمن تھے
وہ اس زمانے میں ملت گجراتی قائم نہیں تھی بھئی میں نے کہا ایسا کر تے ہیں ملت میں
اشتہار دیتے ہیں کہ بھئی جو غریب لوگ ہیں جن کی بچیوں کی شادیاں نہیں ہوتی وہ ہم سے
رجوع کر یں۔
کہاہاں
جی بالکل بڑی اچھی بات ہے۔میں نے صاحب اپنے کالم میں لکھ دیا بھئی اس طرح اس طرح ایک
صاحب ہیں وہ شادیاں کروائیں گے اور ایڈیٹر سے مل کراس لئے کہ بھئی میں نے کہا کوئی
غلط آدمی نہ آجا ئے۔ مختصر یہ ہے کہ دوآدمی آئے بڑے معصوم چہرے سے سلجھے ہو ئے
شریف لوگ تھے میں نے اس سے کہا جی وہ صاحب وہ چلے گئے تو ان دو میں سے میں نے ایک کے
بارے میں میرایہ خیال ہوا کہ یہ مجھے شادی میں ضرور بلائے گا بچی کی میں جا ؤ ں یا
نہ جا ؤ ں، صاحب وہ مجھے کارڈ نہیں بھیجا بلا یا نہیں میں پریشان یہ کیسے ہو سکتا ہے
میرا اندازہ غلط ہو گیا ہے یہ کیسے ہو سکتا ہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے،قصہ مختصر یہ ہے
کہ دو ڈھائی مہینے گزر گئے، دوڈھا ئی مہینے کے بعد وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا
جی اس کے پاس کسی کوبھیجنا بھی نہیں دو ڈھائی مہینے سے کبھی کہتا ہے شام کو آجا ؤ کبھی کہتا ہے صبح آجاؤ کبھی کہتا ہے دو ڈھا ئی مہینے اس نے مجھے بھا گیا
اورآکر کہتا ہے جی میں تو ڈھا ئی سو رو پے دے سکتا ہوں۔
خیر صاحب بڑا نا گوار گزار، بڑا غصہ آیا کچھ دن
کے بعدوہ پھر آگئے صاحب وہ جب آگئے تو میں تو غصے سے بھرا ہوا ہی تھامیں نے اس کو
گھر سے با ہرہی نکال دیا کمبخت، بے ایمان آدمی تو نے مجھے کیوں پریشان کیا، کہا جی
معافی تلا فی پیر پکڑے اللہ کے واسطے مجھے معاف کردویہ کر دو تو میں نے اس سے پوچھا
بھئی بات کیا ہے، بات تو بتا ؤ وہ کہنے لگے
میں نے وہ زکوٰۃ کے پیسے بینک میں جمع کر وائے تھے اس خیال سے جب اکٹھے پیسے ہونگے
تو کوئی بڑا کام کروں گا۔غریبوں کی یوں خدمت کریں گے ہسپتال کھول دینگے،مسافر خانہ
کھول دیں گے، بس وہ پیسے جمع ہو تے رہے جمع ہو تے رہے اب وہ چھ سات لا کھ روپے ہو گئے
ہیں۔ اب میں جب وہ چیک کاٹنا چاہتا ہوں تو میرے ذہن میں یہ بات آتی ہے اتنا انٹرسٹ
کم ہو جا ئے گا نکالوں گا تو زکوٰۃ کے پیسے، تو صاحب اس کا پھر یہ حال ہوا وہ ایک دفعہ
پھر میرے پاس آئے بڑے روئے دھوئے صاحب مجھے کیاہوا بھئی کہ صاحب دل میں بیٹری لگے
گی دو پسلیاں مصنوعی لگی ہوئی ہیں یہاں ٹانگ میں راڈ لگی ہوئی تھی ایک عجیب اس کاحال
میں نے کہایہ تمہیں کیا ہو گا؟
بھئی
مجھے ہارٹ اٹیک ہو اڈاکٹر نے بیٹری ڈال دی،دو پسلی نکال کر دو سری ڈال دی، گر دے کا
پتا نہیں کیا، ایک گر دہ نکل گیاتو میں نے کہا یار تم ز ندہ کیسے ہو؟ کہنے لگے ہاں
جی میں زندہ ہوں بھئی تم کیوں آئے بھئی…؟ کہنے لگے ایک درخواست ہے آپ قبول کر لیں
میں نے کہا میں تو تجھ سے بات ہی نہیں کرتا تو بہت خراب آدمی ہو۔وہی جی پھر رونے لگا
باقاعدہ آنسوں سے تو میں نے کہا تو بتا تو سہی، کہنے لگے بس میری ایک خواہش ہے کہ
یہ بندو کباب والا ہے اس کے پاس چلو اور میرے ساتھ کباب کھا لو، تو میں نے کہا بھئی
یہ کباب کا کیا بھئی بیچ میں تعلق آگیا۔میرا بڑا حیران ہوا کباب کا کیا تعلق آگیا
تو وہ چلے گئے تو میں نے یہ سو چا اللہ میاں نے مجھے بندوکے کباب کھلانے ہونگے اس کے
دل میں ڈال دیا تو اب بات بتائیے، کوئی زندگی بعد میں پتا چلا اس کی بیوی امریکہ چلی
گئی بچے بھی بھا گ گئے سب بھاگ گئے وہ اکیلا گھر پر ہے یہ میں آپ کو بتا رہا ہوں جن
لوگوںکے بارے میں ہماری یہ تصورات ہیں کہ یہ بڑے خوش ہیں ان کا اندر کا یہ حال ہے سب
کا ہی تقریباً یہ حال ہے تو ہم جو غریب لوگ ہیں آپ یقین کر یں ہم امیروں سے بہت اچھے
ہیں۔
ہم کھا نا بھی زیادہ کھاتے ہیں ہمیں نیند بھی زیادہ
آتی ہے،ہماری رشتہ داریاں بھی زیادہ اچھی ہیں ہماری اولاد بھی سعادت مند ہے امیر آدمی
کی اولاد یہ چاہتی رہتی ہے باپ جلدی سے مر ے اور غریب باپ کے بچے یہ چاہتے ہیں باپ
مرے ہی نہیں ااور اگر مرے تو اس کو سوکھا کر رکھ لیں میری والدہ اللہ انہیں غرق رحمت
کرے کہا کرتی تھی بھئی یہ مجھے مر نے نہیں دے گا اگر میں مر بھی جاؤ ں گی تو یہ سوکھا
کر رکھے گا، تو یہ جو سوال کیا ہے صاحب یہ جو دنیا دار جو ہے یہ وہ بہت مطمئن ہوتے
ہیں مطمئن نہیں ہو تے دولت تو ان کے پاس ہوتی ہے لیکن اطمینان قلب نہیں ہوتا غریبوں
کو زیادہ اطمینان قلب ہوتا ہے امیروں کے حساب سے اب یہ ہے کہ زیادہ غربت جو ہے اس کا
آدمی خود ذمہ دار ہے، وہ محنت نہیں کرتا اور جتنی دنیا وی وسائل کو حاصل کرنے کے لئے،
جدوجہد کرنے چاہئے اور یہ میں سمجھتا ہوں اللہ تعالیٰ کی نا شکر ی ہے کہ آپ دستر خوان
پر بیٹھے ہوئے ہیں ہر چیز آپ اس میں سے کھا سکتے ہیں اور آپ چٹنی ہی کھا ئیں بھئی
دستر خوان بچھا ہوا ہے اللہ نے کہا آپ چٹنی بھی کھائیں مرغی بھی کھا ئیں سب کچھ کھائیں۔
حضور
قلندربابااولیا ء ؒ کہتے ہیں یہ دنیا اللہ نے اس لئے نہیں بنا ئی کہ آپ دنیا میں بیزار
ہو جائیں موٹا چھوٹا کپڑا پہنے، کیوںہر با پ اپنے بچے کو اچھی سے اچھی خوارک کھلا تا
ہے۔ ہر باپ کی باپ کی خواہش ہوتی ہے اس کے بچے اچھے سے اچھالباس پہنے، ہر باپ کی خواہش
ہوتی ہے اس کے بچے اچھی سے اچھی صحت ہو،توجو ستر ماؤ ں سے زیادہ محبت کرتا ہے وہ یہ
چاہئے گاکہ ہم سوکھی کھا ئیں کیوں؟کیوں کھائیںمر غی اب بھئی اللہ میاں نے جس طرح آپ
کے اللہ میاں اس طرح کسی اور کے بھی ہیں امیر اگر دسترخوان دو میل بچھا ہوامرغی ہے
تو وہ دو میل چلا جا ئے گا کھا نے کے لئے اور غریب آدمی کہتا ہے جس کے اوپر کم ہمت
طاری ہو جا تی وہ کہتا ہے چھوڑو جی دال پرہی گزارہ کر لیتے ہیں۔
ہمارے ایک ڈاکٹر صاحب تھے وہ سنا یا کر تے تھے ایک
زمانے میں دال مفت ملتی تھی روٹی پیسوں کی ملتی تھی تو ایک صاحب گئے ہوٹل میں وہ کہنے
لگے ہاں بھئی کیا ہے تو اس نے کہا بھی روٹی ہے پیسے کی دال مفت کی تو پھر انہوںنے کہا
آج دال پرہی گزارہ کر لیں گے، تو یہ سوال جو ہیں یہ اللہ تعالیٰ کسی کو غریب نہیں
دیکھ رہا لیکن یہ بات بھی ہے اللہ تعالیٰ کسی کو دولت پرست بھی نہیں دیکھ رہا اللہ
تعالیٰ یہ چاہتا ہے جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اس کو کھا ؤ پیو اس سے استفادہ کر و، لیکن یہ ذہن میں رکھو یہ
دل لگانے کی جگہ نہیں ہے جو بھی کچھ آپ بڑے سے بڑا گھر بنالیں چھوڑنا پڑے گا، بہترین
لباس پہن لیں، کفن آپ کولٹھے کا ہی بنے گا، آپ اپنے گھر میں ماربل لگا لیں اوپر سے
نیچے تک سونا آپ کو قبر میں ہی پڑے گا کچی مٹی، لیکن اللہ تعالیٰ یہ بھی نہیں چا ہتے
اللہ کی دی ہوئی نعمتوں کو کفران کر یں۔ لیکن ایک بات ہے وہ گھر میں پھل بھی لا تا
ہے گھر میں اچھی اچھی چیزیں بھی لا تا ہے بچے نہیں کھائیں گے تو باپ خوش ہو گا۔
باپ کا دل رو رہاہوں گا لڑے گا بچوں کو ڈانٹے گا
یہی صورت اللہ کی بھی ہے اللہ یہ چاہتا ہے کہ ا س کی نعمتوں کا فا ئدہ اٹھائیںلیکن
نعمتوں سے فا ئدہ اٹھا نے کے لئے ہمیں جدوجہد بھی کر نی پڑے گی کو شش بھی کر نی پڑے
گی اب ہر وقت ہم تسبیحاں ہی پڑھتے رہے گے۔تو ظا ہر ہے ہمارے اندر وہ جدوجہداور کوشش
ہی نکل جائے گی۔
پھر یہ کہ زیادہ ہی انوار اپنے اندر جمع کرلیں گے
تو ہمارے اندر فرشتوں کی خصوصیات آجا ئے گی جب فرشتے کی خصوصیات آجا ئیں گی تو ہمارا
دل کپڑے سے بھی ہٹ جا ئے گا،کھا نے سے بھی ہٹ جا ئے گا،بیوی سے بھی ہٹ جا ئے گا،بچوں
سے بھی ہٹ جائے گا، تو اللہ تعالیٰ نہیں چا ہتے یہ سب ہو اللہ تعالیٰ کے نظام میں کوئی
ایسا سلسلہ ہے اللہ تعالیٰ ضرور یہ چا ہتے ہیںایک آدمی کو بھوکا رکھا جا ئے کچھ نہیں
بس اللہ تعالیٰ کا ایک دستر خوان ہے وسیع ہے دھوپ جیسے میں نے آپ سب سے کہا دھوپ فری،آکسیجن
فری، بارش فری اللہ تعالیٰ یہ چاہتے ہیں کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں پیدا
کردی ہے وہ تمام مخلوق ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو اختیارات بھی دئیے ہیں اب جو
بندے اپنے اختیارات استعمال کر تے ہیں وہ وسائل سے زیادہ سے زیادہ فا ئدہ اٹھا لیتے
ہیں اور جو بندے کم ہمت ہو تے ہیں جمودان کے اوپر طاری ہوتا ہے وہ وسائل سے فا ئدہ
نہیں اٹھا تے ہیں۔اختتام