Topics

روزہ انسان کو روح کے قریب کر دیتا ہے۔(عید الفطر 09-01-00 )

 

 

اعوذبا اللہ من الشیطان الرجیم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

اللہ تعالیٰ نے یہ فر مایا کہ جب بندہ میرے لئے روزہ رکھتا ہے اور وہ تمام چیزیں اپنے اوپر بند کر لیتا ہے جو اللہ کا حکم ہے کہ تو اس کا اللہ کے ساتھ ایک تعلق اورربط قائم ہو جاتاہے۔روزے کے معنی پر اگر آپ غورو فکر کریں تو روزہ اصل میں مسلمانوں کو اللہ سے قریب کر دیتا ہے ہر مسلمان کی مرکزیت اللہ ہے جب آپ غور کریں گے تو رمضان المبارک کے ۲۴ گھنٹوں میں تو یہی بات آپ کی نظر میں آئے گی کہ ہر مسلمان وہ چوبیس گھنٹے میںوہ دین کے ذہن کے مطابق زندہ رہتا ہے۔ اور وہ ذہن مرکزیت عطا ہوتی ہے۔حالانکہ وقفہ سحر کے بعد جب ہم روزے کی نیت کرتے ہیں تو اس وقت ہمارے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ اب ہم آج سے نہ کچھ کھائیں گے،نہ پئیں گے، نہ جھوٹ بولیں گے،نہ بے ایمانی کریں گے،جو وقت ہمیں ملے گا عبادت کرینگے تو اس کا مطلب ہی یہ ہوا کہ سارے دن روزے دار اللہ کے لئے روزہ بھی رکھتا ہے۔

اللہ کو چاہتا بھی ہے،نمازوں میں مصروف ہو جا تا ہے۔جب افطار کا وقت آتا ہے اس سال میں آپ نے دیکھا ہو گا سب کے گھروں میں افطار ہوتا ہے تو دنیا بھر کی نعمتیں دستر خوان پر ہوتی ہیں۔ماشا اللہ اس مہینے کے روزے بہت اچھے گزرے موسم اچھا تھا۔گرمی کے موسم میںنقاہت اور شدید پیاس ہوتی ہے۔ گلاس پاس رکھا ہوا ہوتا ہے،پانی پاس رکھا ہوا ہوتا ہے لیکن آدمی کو اس بات کا انتظار ہوتا ہے کہ افطار سے پہلے وہ ایک گھونٹ بھی پانی کی حلق میں نہ ڈالے۔بڑا عجیب وہ منظر ہوتا ہے اور افطار کے وقت جو نیت ہوتی ہے روزے کو کھولنے کی واحد ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ پانی رکھا ہوا ہے، شربت رکھا ہوا ہے سامنے اگر ایک دو گھونٹ افطار سے پہلے پی لیا جائے تو ایسا نہیں ہو سکتا اس لئے نہیں ہوتا کہ روزے دار کے ذہن میں یہ بات ہوتی ہے کہ وہ ایک مرکزیت ہے اللہ کے لئے ایک مرکزیت ہے۔صبح صادق کے وقت سے غروب آفتاب تک نہ اسے کچھ کھا نا ہے،نہ پینا ہے،اللہ کے لئے بھوکا رہنا ہے۔

 روحانیت کاایک قانون ہے کہ جب کسی چیز پر انسان کی مرکزیت قائم ہو جاتی ہے یا کسی کام کی جلد ہوتی ہے یا کسی کا م میں من دھن کی بازی ہوتی ہے تو وہ کام ضرور پورا ہو جاتا ہے۔یہ ہمارا دنیا بھر کا طریقہ ہے اگر ہم کوئی کام کرنا چاہے تو ہماری کسی چیز پر انسان کی مرکزیت قائم ہو جاتی ہے یا کسی کام کی جلد ہوتی ہے یا کسی کامن دھن سے توجہ ہوتی ہے تو وہ کام ضرور پورا ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ کیام کر نا ہے تو اللہ کا احسان انعام ہے اللہ کی وجہ سے،تبلیغ سے سفارشوں سے محنت مزدوری سے یہ کام ہو جائے تو یہ ایک نظام زندگی ہے یہ جو ہماری مرکزیت ہے کسی چیز پر قائم ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہمارے لئے یہ کام آسان فر ما دے گا اور وہ کام ضرور ہوتا ہے۔صبح سے شام تک محض اس لئے سارے کام کرتا ہے کہ اللہ کے لئے تمام گنا ہو ں اور ان تمام برائیوں سے بچتا ہے جس کو اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ نے منع فر مایا ہے۔

تو اس کے اوپر ایک مرکزیت قائم ہو جاتی ہے۔اور جب وہ مرکزیت پوری ہو جاتی ہے تو اللہ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔اللہ کا جو تصور ہے خیال ہے رسول اللہ ﷺ نے جو اللہ سے قربت بتائی ہے قرآن میں جو قربت بتائی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فر مایا میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں۔بندے کا تعلق اللہ کے ساتھ وابستہ قائم ہو جاتا ہے۔یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے دراصل یہ ایک تجزیہ کا مہینہ ہے، ایک پاکیزگی کا مہینہ ہے کہ انسان جیسے نہا دھو کر پاک صاف ہو جاتا ہے اس طرح روزے رکھ کر اس کی ساری جسمانی کثافتیں دور ہو جاتیں ہیں اور وہ اپنی روح سے قریب ہو جاتا ہے بس روزے رکھنے کے بعداس کے اندر ایسی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس صلاحیت سے وہ غیب کی دنیا کے قریب ہو جاتا ہے اور غیب کی دنیا کا مشاہدہ کرتا ہے۔رسول اللہ نے ارشاد فر مایا ہے کہ لیلتہ القد ر کیا ہے؟ لیلتہ القد اللہ کی تجلی کے دیدار کا پرگرام ہے، اللہ کی تجلی کی رات ہے۔

 لیلتہ القداللہ کے دیدارکی رات ہے۔لیلتہ القدرمیں فرشتے اترتے ہیں۔فرشتے اترنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی انسان کو لیلتہ القدرحاصل ہو جائے تو اسے فرشتے نظر آجاتے ہیں۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے بندوں سے مصافحہ کرتے ہیں۔ توبیس روزے رکھنے کے بعد ہمارے اندر یہ صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے کہ ہم غیب کی دنیا کو دیکھ سکیں یا غیب کی دنیا میں داخل ہو کر فرشتوں کو حضرت جبرائیل علیہ السلام کو اور آسمانی مخلوق کو دیکھ سکیں۔آسمانی مخلوق کو دیکھا، فرشتوں کودیکھا، حضرت جبرائیل علیہ السلام کودیکھنا اس بات کی ضمانت اور صداقت ہے کہ روزے دار غیب کی دنیا میں داخل ہو گیا تو اللہ بھی غیب ہے اللہ کو آسانی سے اگر ہم نہیں دیکھ سکتے تو اپنے اندر زیادہ سے زیادہ اس کو محسوس کر لیتے ہیں یہ اللہ کو محسوس کرنا اس سے قربت ہے۔ رمضان المبارک میں بیس روزے تک اس کی پرکٹس کی جاتی ہے۔

اور آخری عشرے میں جو طاق راتیں ہیں اکیس تئیں پچیس ستائیس اس میں شب بیداری کی جاتی ہے۔شب بیداری کا مطلب ابھی آپ کو بڑی آسانی سے سمجھ میں آجائے گا۔انسان اپنی زندگی میںیا تو سوتا ہے یا بیدار ہوتا ہے اور دو اس کے عمل ہو تے ہیںیا وہ سوئے گا یا بیدار رہے گا۔پھر بیداری کے حصے میں کھانا،پینا،پہنا،محنت مزدوری کرنا،بچوں کے حقوق پورے کرنا،والدین کے حقوق پورے کرنا،بیوی کے حقوق پورے کرنا، شوہرکے حقوق پورے کرنا،ملک وقوم کے حقوق پورے کرنا یہ سب بیداری کی زندگی میں ہوتا ہے۔دوسرا رخ یہ ہے کہ کوئی بھی انسان جب پیدا ہوتا ہے آدم سے لیکر اب تک ایسا ممکن نہیں ہوا کہ کوئی انسان پورے سال بیدار رہا ہو یا کوئی انسان پورے سال سوتا رہا ہو۔جب آدمی سو جاتا ہے تو سونے کی حالت میں یہ ہے کہ انسان کا بیداری سے عارضی طور پر منقطع ہو جاتا ہے۔آپ نے سنا ہو گا نا بڑے بزرگ کہتے ہیں سویا مرابرابر۔

 دوسری بات غور طلب ہے کہ جب ہم سوتے ہیں تو خواب دیکھتے ہیں کوئی بھی بندہ ایسا نہیں ہو گا جس نے کبھی خواب نہ دیکھا ہو۔ خواب کی حالت میںیہ عمل ہوتا ہے کہ انسان اٹھتا ہے۔کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے مثلاً یہ ہے کہ کوئی آدمی مکہ پہنچ جاتا ہے کوئی آدمی مدینے پہنچ جاتا ہے، امریکہ پہنچ جاتا ہے یا کسی اپنے عزیز رشتے داروں میں پہنچ جاتا ہے ان سے ملاقات بھی ہوئی باتیں بھی ہوئی۔کھانا پینا بھی ہوا کوئی یہ بھی ہوتا ہے کوئی دحشت ناک منظردیکھا تو دل کی دھڑکن اس طرح تیز ہوگئی جس طرح بیداری میں ہوتا ہے خواب کی حالت میں کسی باغ میںآپ چلے گئے وہاں بہترین پھول ہیں، بہترین باغیچے،بہترین فواریے جس طرح بیداری میں مسرت شادمانی اور اطمینان اور سکون اگر اس باغ میں جاکر کرکے جس طرح آپ کو خواب میں نظر آرہے ہیں اور جب آپ بیدار ہوتے ہیں تو بہت خوش ہو تے ہیں بہت اچھا خواب دیکھا ہے جس میں باغ،پھول تھے جس میں فوارے تھے ساری طرف کیاریاں تھیں۔

تو اس کا مطلب یہ ہوا جب ہم خواب دیکھتے ہیں تو خواب کا منظر یہی ہوتا ہے انسان کا ایک رخ بیدار ی میں عمل کر لیتا ہے دوسرا خواب میں عمل کر لیتا ہے۔بس جب ہم لیلتہ القدر کا جب تذکرہ کرتے ہیں تو اس میں ہمیں یہی سبق دیا گیا ہے کہ بیس روزے رکھنے کے بعد ہمارے اندر اتنی صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ اگر ہم رمضان المبارک کی آخری عشرے میں جو طاق راتیں ہو تیں ہیں شب بیداری کریں اور دن میںکم ازکم سوئیں تو ہمارے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ جو چیز خواب میں ہم دیکھتے ہیں وہی چیز ہم شب بیداری میں دیکھ رہے ہیں۔لیلتہ القدر کا مطلب رات اور رات کا مطلب ہوتا ہے کہ آرام آدمی سوئے تو یہ جو رمضان المبارک کا پورے روزوں کاپروگرام ہے یہ دراصل اس بات کا پروگرام ہے کہ انسان روزے دار انسان جب وہ روزہ رکھتا ہے تو اللہ کے قریب ہو جاتاہے جب وہ قریب ہو جاتا ہے تو اللہ کا عرفان بندہ کو حاصل ہو جائے۔

اگر بندہ اللہ کی تجلی کا دیدار کرلے،اگر بندہ غیب کی دنیا میں داخل ہوجائے،اگر بندہ رمضان المبارک کی طاق راتوں میں آسمان کا مشاہدہ کر لے ر مضان کی طاق راتوں میں اللہ کی تجلی کا دیدار کر کے، عرش کا مشاہدہ کر لے تو ایک تو یہ پروگرام ہے دراصل یہ شکر کا پروگرام ہے ایک مہینے اللہ کی تلاش میں،اللہ کی محبت میں رسول اللہ کے بتائے ہو ئے راستے پرزندگی گزاریں اللہ کو ڈھونڈا، اللہ کو تلاش کیا اور شب قدر میں ہمارے اوپر احساس ہوا کہ ہم اللہ کے قریب ہیں۔اللہ ہم سے قریب ہے یا اللہ کے فضل و کرم سے اگر کامیابی مل جائے۔ شب بیدارری میں فرشتوں کو دیکھ لیا،حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ملاقات ہو جائے۔ تو یہ ساری جو سعادتیں ہیں غیب کی دنیا میں داخل ہو نے کی اس کی خوشی کے طور پر یہ اللہ تعالیٰ نے عید کی نماز فرض کی ہے۔ عید کا مطلب ہی خوشی ہوتا ہے۔عید کا مطلب یہ ہے کہ اجتماعی پر پورے اسلام میں ایک جگہ جمع ہو کراللہ کی قربت کا جو پروگرام کیا گیا ہے۔

اللہ کی قربت کی جو کوشش کی گئی ہے اس کے نتیجے میں بہت ساری کامیابی ہوئی،بہت سارے لوگ کامیاب ہو ئے اور ہم سارے لوگوں میں یہ صلاحیت پیدا ہو گئی یہ ساری جو جدوجہد اور کوششیں کی ہیںاگلے سال دوبارہ کوشش کر یں گے کہ ہمارے اندر مزید صلاحیت پیدا ہوا۔یہ خوشی منا نے کا ایک پروگرام ہے جس کو ہم عید کہتے ہیں۔ عید میںجس طرح رمضان المبارک میں رسول اللہ کا ارشاد ہے کہ غریب بھائیوں کا خیال کرو،زکوۃ ادا کرو،لوگوں کی اسی طرح عید سے پہلے حکم ہے کہ اگر ہر شخص کا فطرانہ ادا کیا جائے، کوئی بچہ عید پر یا عیدسے پہلے پیدا ہو گیا تو اس کا بھی فطرہ دینا ہوتا ہے۔ فطرانے کا مطلب ہی یہی ہے کہ دولت مندی اور غریب بھا ئیوں کو قوم سے غربت ہیں ان کو ایسی رات مل جائے جس سے وہ دین کی خوشی میں براہ راست شریک ہو جائیں۔ رسول اللہ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ عید کی نماز میں صاف ستھرے کپڑے پہنو، غسل کرو،خوشبو لگاؤ  اور عید کے بعداپنے بھا ئیوں سے آپس میںگلے ملو۔

 مصافحہ کرو اب اس لئے کہ اسلام کا بڑا اعجاز ہے رسول اللہ نے فر مایا کہ ہر مسلمان کو سلام میں پہل کرنا چاہئے آپ انتظار نہیںکریں گے کہ میں اسے سلام کروتو وہ مجھے سلام کرے رسول اللہ نے فرمایا کہ پہل کرنی چاہئے سلام کا مطلب ہے اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ …اسلام وعلیکم آپ میرے بھا ئی آپ کے اوپر سلامتی نازل ہو،اے میرے بھا ئی تو خوش رہے،اے میرے بھائی تجھے اللہ اپنا حفظ وامان میں رکھے ورحمتہ اللہ …اور تیرے اوپر اللہ کی رحمتیں بارش کی طرح برستیں رہیں تو جب ہم سلام کرتے ہیں تو پہلے ہم اس کو دعا دے رہے ہیں وعلیکم السلام اے میرے بھا ئی تیرے اوپر بھی سلامتی ہو، تیرے اوپر بھی اللہ کی نعمتیں نازل ہوں۔عید کی موقعے پر یہ حکم دیا گیا ہے کہ گلے ملیں تو جب ہم آپ سب گلے ملتے ہیںاب گلے ملنے میں ایک تو رسی باندھ لیں کہ بھئی ہی گلے ملتے چلتے آرہے ہیں بچپن سے سے لیکر بوڑھاپے تک مل رہے ہیں۔

بس عید کا ایک موقعہ ہے لیکن سوال یہ ہے کہ رسول اللہ نے اس بات کا حکم دیا یہ بات حکمت سے خالی کیسے ہو سکتی ہے جس طرح سلام میں حکمت ہے اسلام وعلیکم ورحمتہ اللہ …میرے بھا ئی تیرے اوپر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں تیرے اوپر نازل ہوں وہ بھا ئی بھی آپ کے لئے دعا کہے گا وعلیکم السلام …میرے بھائی تیرے اوپر بھی سلامتی ہو اللہ تجھے بھی اپنے حفط وا مان میں رکھے۔اور تیرے اوپر بھی رحمتیں نازل ہوں۔ تو سلام کا مطلب ہے اپنے بھا ئی کے لئے دعا کرنا اور اپنے بھا ئی کے لئے وہ چاہتاجو آپ اپنے لئے چاہتے ہیں۔ظاہر ہے کوئی آدمی اپنے لئے نہیں کہے گا مجھے سلامتی چاہئے،مجھے ذلت چاہئے، مجھے سکون چاہئے،مجھے آسمانی دنیا چاہئے،مجھے برکت چاہئے،مجھے رحمت چاہئے،تو اب جب آپ سلام کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے بھا ئی کو وہ کچھ پہنچا رہے ہیں جو آپ اپنے لئے چا ہا رہے ہیں۔

 اس کے بعد یہ گلے ملنا ہے مصافحہ کرنا ہے تین دفعہ اب اس کی مثال یوں سمجھیں کہ آپ کا ایک چھوٹا سا بچہ ہے آپ چار پائی پر لیٹے ہوئے ہیں۔بچہ ہے سال بھر کا یا دو سال کا آپ اس بچے کو اپنے سینے پرلیٹادیتے ہیں آپ ذراتصور کریں غور کریں اس بچے کو آپ سینے پر لٹا لیتے ہیں آپ یاد کریںاور آپ کو یاد آجائے گا تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کو ایک راحت ملتی ہے۔کئی دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بچے کے اندر سے لہریں نکل کر آپ کے اندر جذب ہو جاتیں ہیں اب وہ لہریں باز دفعہ اتنی زیادہ ہو جاتیں ہیں کہ آدمی خود بھی سو جاتا ہے اور سینے پر بچہ بھی سوجاتا ہے۔ان لہروں میں شعور اتنا متاثر ہوتا ہے کہ اس کے اوپر ایک نشے جیسی کیفیت چھاجاتی ہے۔اسی صورت سے جب آپ کسی اپنے دوست سے جو بہت پرانا دوست ہے اور آپ اسے یاد کر رہے ہو ں وہ ایک دم آپ کے سامنے آجائے آپ اس سے کھڑے ہو جاتے ہیں اختیاری طور پر اور اس کو گلے سے لگاتے ہیں۔

 آپ ذرا تصور کریں اس وقت بھی آپ کے ذہن میں یہ بات آتی ہے کہ نہیں آتی ہے محسوس کرتے ہیں آپ کہ اس کے اندر سے لہریں نکل کر آپ کے اند ر جذب ہوجاتی ہیں۔ظاہر ہے جب اس کے اندر بھی آپ لہریں آپ کے اندر کی جو روشنی ہے، آپ کے اندر جو نور ہے،آپ کے اندر جو الیکٹرک سٹی جوکام کر رہی ہے آپ کے اندر جو لہریں ہیں وہ اس کے اندر بھی محسوس کر رہا ہے۔،اس بات سے ایک ماں ایک بھا ئی کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جب معصوم بچے کو جب سینے پر لٹاتے ہیں تو ہمارے اندر لہروں کا تبادلہ ہوتا ہے اور لہروں کا تبادلہ اس طرح ہوتا ہے اور اس سے باپ بھی خوش ہوتا ہے ماں بھی خوش ہوتی ہے بہن بھی خوش ہوتی ہے اسی قانون کے تحت جب ہم عید ملتے تو جب تک ہمارے اندر ایک مہینے تک ہم نے عبادت کرکے روزہ رکھ کے اللہ اور اللہ کے رسول حکم کی پابندی کر کے، تذکیہ نفس کیا کم کھا یا ہے،کم پیا ہے،کم سوئے ہیں،زیادہ سے زیادہ عبادت کی ہے کچھ لوگ اعتکاف میں بیٹھے ہیں،کچھ لوگوں نے قرآن کی تلاوت کی ہے یعنی کسی نہ کسی عنوان سے اور بھی کچھ کسی نے روزہ نہیں رکھا انہیں اس بات کی شرم ہی نہیں ہے کہ یار میں روزے دار نہیں ہوںکتنی بری بات ہے۔

تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس ساری چیزیں آپ نے تذکہ نفس کے لئے ہے اس کے پیچھے اس کا مقصداللہ کے علاوہ اور اللہ کے رسول کے علاوہ کچھ نہیں، تو اس پورے مہینے اخوت کی بھا ئی چارے کی، اجتماعیت کی،سلام کی جو روشنیاں ہیں وہ ہمارے اندر منتقل ہو رہی ہیں اس سے یہ ہوتا ہے آدمی چارج ہو جاتا ہے جس طرح سے بیٹری چارج ہو جاتی ہے۔تو یہ اللہ تعالیٰ کا بڑا انعام ہے کہ اللہ نے ہمیں رمضان المبارک کے مہینے دیکھنے کی توفیق عطا فر مائے اور دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آئندہ مزید اہتمام کے ساتھ مزید آداب کے ساتھ،مزیداللہ اور اللہ کے رسول کے احکامات کے ساتھ عمل کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق عطا فر مائے۔اور بیس روزے رکھنے کے بعد اس بات کی بھی توفیق عطا فرمائے اور رسول اللہ کے ارشاد کے مطابق ہم رمضان کی آخری طاق راتوں میں اللہ تعالیٰ کو ڈھوندے اور تلاش کریں اور جدوجہدکریں تاکہ ہر مسلمان کے اندر ہر روزے دار کے اندر زیادہ سے زیادہ روشنیوں کا ذخیرہ ہو اور جب ہم عید کو گلے ملیں گے تو روشنیوں کا تبادلہ ہو اور ہرآدمی اللہ اور اللہ کے رسول سے قریب ہو اور ایک دوسرے سے شئرکریں۔

 

 

 

 

 

Topics