Topics

پیغمبر او ر اولیاء اللہ کے آنے کے بعد بھی انسان ان کی تعلیمات سے دور کیوں ہو گیا؟

 

 

کچھ سوال ہمارے سامنے آئے اس میں منصور عالم صاحب نے یہ سوال کیا کے اللہ تعالیٰ نے انسان کی اصلاح کے لئے بے شمار پیغمبر کواس دنیا میں بھیجا اور محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد یہ سلسلہ بند ہو گیااور اولیاء اللہ کی صورت میں انسان کے ساتھ اصلاح نعمت ہے۔ مگر دیکھا گیا ہے کہ حضور ﷺ کے وصال کے بعد کچھ عرصہ تک تو مسلمان صحیح راستے پر چلے۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا مسلمان دوبارہ اسی دور میں داخل ہو رہا ہے۔ وہ حضور اکرم سے پہلے تعلق رکھتا ہے اور اس وقت جو دن بدن صورت حال بگڑی ہوئی ہے۔اس کی اصلاح سمجھ میں نہیں آتی اس کی اصلاح کیسے ہوگی۔ جب کہ اس دنیا میں کوئی پیغمبر پیدا نہیں ہو گا برائے کرم اس اصلاحی پروگرام کے لئے وضاحت فرمائیں۔

عظیمی صاحب :حضور ﷺکا ارشاد ہے کہ میں اپنے بعد اللہ کی کتاب چھوڑ کر جا رہا ہوں۔کچھ احادیث ایسی بھی ہوتی ہیں کہ جب حضورپاک کے ارشادات کو اقوال کو جو قرآن ساتھ قلم بند کر نا شروع کیا اورحضور کو پتا چلا میں جو بھی کچھ کرتا ہوں وہ اس کو قلم بند کر دیتا ہے تو اس حضور نے منع فرمایا اور یہ فرمایا کہ میں اپنی طرف سے دو کتابیں نہیں چھوڑ کر جا رہا ہوں یہ اگر احادیث صحیح ہے تو پھر یہ بات بالکل واضع طور پر سامنے آجاتی ہے کہ اصل کتاب جو ہے وہ قرآن ہے اور حضور پاک نے یہ ارشاد فرما یا کہ میں اپنے بعد اپنی کتاب چھوڑ کر جارہا ہوں۔ حضور پاک کا یہ بھی ارشاد ہے کہ میری کوئی بات اس کو آپ احادیث بھی کہے سکتے ہیں قرآن سے ٹکراؤ  ہو قرآن سے مطابق نہ ہو تو اسے چھوڑ دو اس کا مفہوم یہ ہوا حضور پاک کی ساری زندگی،حضور پاک کا سارا عمل،حضور پاک کی زندگی ساری جدوجہد اور کوشش،یہ قرآن پاک،کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے۔

جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا اسی مناسبت سے حضور پاک کی جوانوارتھے لوگوں کودلوں میں صحابہ اکرام کے دلوں میں،حضور پاک کے نور نبوت کے انوار صحابہ اکرام میں موجود رہے۔اور جیسے جیسے صحابہ اکرام کا وقت حضور سے دور ہوتا چلا گیا لوگ کہتے ہیں صحابہ اکرام کے بعد تابعین کا دور اور ان کے بعد تبع تابعین۔ مختصر یہ ہے کہ جیسے جیسے دور بڑھتے گئے حضور پاک کے دورسے مسلمان دور ہو تے چلے گئے اسی مناسبت سے نور نبوت سے بھی دور ہو گئے۔اور نورنبوت سے دوری کی جو بنیادی وجہ ہے تاریخ اسلام میں نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ فتوحات ہوئی بہت زیادہ، مسلمانوں پر ان فتوحات کی وجہ پربجائے اس کے رسول اللہ کی طرز زندگی کو رائج کیا جا تا ہے۔ وہ دولت کی لالچ میںاورہوس میں گرفتار ہو گئے اور نتیجے میں جیسے جیسے دنیا میں دولت میں مال و زر میں ان کی ہوس بڑھتی چلی گئی اسی مناسبت سے و ہ قرآنی تعلیمات سے دور ہو تے چلے گئے۔

آج کا دور بھی یہی ہے سب کہتے ہیں ہم حضور ﷺ کے امتی ہیں۔ ہم حضور پاک ﷺ کے عاشق ہیں،ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ چلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔چلنے کے لئے تیار ہیں۔لیکن فی الواقع حضور پاک کی زندگی کو ہماری آج کی زندگی سے قطع کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ اس میں حضور پاک کا رہن سہن جو بھی ہے ایک حجرہ تھا، اس میں حضور پاک تشریف فرما ہو تے تھے۔ اتنا بڑا تھا کہ جب تہجد کی نماز میں قائم فرماتے تھے تو حضرت بی بی عائشہ کے پیر لگتے تھے سجدے میں۔ جس طرح یہ ساری عمر حضور کے پاس چٹائی رہی کجھور کی، ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میںکجھور کے پتے تھے۔اس میں حضور سو یا کر تے تھے۔ حضرے بی بی عائشہ ؒ فرماتی ہیں کہ زندگی بھر میرے پاس سات برتن سے زیادہ آٹھواں برتن ہی نہیں تھا۔ تو مطلب یہ ہوا کہ حضور آپ یہ نہیں سمجھئے حضور کوئی بسترا بیچھا نہیں سکتے تھے، حضور محل تعمیر نہیں کر سکتے تھے، حضور کوئی بڑا گھر نہیں بنا سکتے۔

حضور کے لئے تو اللہ تعالیٰ نے ساری کائنات تخلیق کر دی۔ حضور نے سادہ زندگی گزار کر ایک مثال قائم کی ہے۔کہ اگر میرے امتی اگر سادہ زندگی بسر کریں گے۔میرے امتی اگر دنیا کو سب کچھ نہیں سمجھیں بہتر نہ سمجھیں تو وہ میری طرز فکرپر قائم رہیں گے۔اور جیسے ہی میری امت میں مال، دولت، حرص وہوس، لالچ یہ پیدا ہو جائے تو میری امتی نہیں ہے۔ اب حضور پاک ﷺکی زندگی اور قرآن پاک کی تعلیمات کا موازنہ کیا جاتا ہے تو قرآن یہ کہتا ہے جو لوگ سونا چاندی جمع کر تے ہیں اور اللہ کے لئے خرچ نہیں کرتے ان کے لئے آپ ﷺ عذاب علیم کی بشارت دے دیں۔ اب یہاں صورت حال ہے ہر آدمی جو ہے نہ اسے اللہ پر یقین ہے، نہ اللہ کے رسو ل اللہ پر یقین ہے، یقین ہے تو دولت پر یقین ہے۔ہر آدمی یقینا دولت لوٹ رہا ہے دولت جمع کر رہا ہے۔مکان بنا رہا ہے۔ اس میں بھی سودشامل کر رہا ہے، سود کا کام کر رہا ہے۔

 اب ایک آدمی بغیر سود کے مکان بنا لیتا، لیکن بغیر سود کے ظاہر ہے وہ سیدھا سادہ مکان بنے گا چھونپڑے بنے گے۔ہاوس بلڈنگ یا بنک سے آپ قرضہ لیں گے تو اس میں لا ئٹ ہاؤ س کی طرح آپ کا محل بن جائے گا جو بنوایا ہے۔دیکھئے بنیادی وجہ رسول اللہ کی طرز فکر سے دوری کی یہ ہے کہ ہم نے میٹر کو خدا بنا لیا ہم جھوٹے ہیں۔کبھی ہم کہتے ہیں خدا ہمارا ہے۔ ہمارا کسی کے اوپر خدا کے اوپر کسی آدمی کا یقین نہیں ہے۔ہمیں تو بس پیسے پر یقین ہے، دولت کے اوپر یقین ہے، جس مل میں، جس فیکٹری میں کام کر رہے ہیں، اس سیٹ پر یقین ہے۔جس ادارے میں کام کر رہے اس مالک کے اوپر یقین ہے۔ خدا پر یقین نہیں ہے کیونکہ خدا پریقین نہیں ہے کیوں کہ خدا پر یقین نہ رہا میٹر اور مادیت پر یقین ہوگیا ہے۔اس لئے مسلمان کا ضمیر خراب ہے اور جب تک مسلمان اس میٹر کی اور مادیت کی زندگی سے خود کو آزاد نہیں کر ے گا تو پریشان رہے گا۔

 حضور پاک کی طرز فکر کو کبھی بھی وہ حاصل نہیں کر سکتا۔تو یہ جوکہتے ہیں صاحب کیسے ہو گا، کیا ہو گا کبھی تو حالات ایسے نظر آتے ہیں کچھ دن میں قوم تباہ برباد ہو جائے گی۔جس طرح دوسری قومیں ہو گئی ہیں۔اس لئے کہ کہیںیہ نظر نہیںآتا کوئی مسلمان اس بات کی کوشش کر رہاہوکہ ہم نے حضور کی طر ز زندگی کو اختیار کرنا ہے۔جس طرح حضور رہتے تھے اس طرح ہمیں رہنا ہے،جس طرح حضور محبت کرتے تھے اس طرح محبت کر نا ہے،اور وہ تسلیم بات جس کو حضور نے آخری خطبے میں تعصب سے منع فرمایا آپ اپنے بھائیوں کی طرح رہنا ہے، کوئی گورا ہے، کوئی کالا ہے،نہ عجمی ہے،نہ عربی ہے اگرکچھ ہے تو وہ یہ ہے کہ وہ متقی ہے اور اللہ اسے جانتا ہے اور وہ اللہ کو جانتا ہے اور اللہ کا دیا ہوا ہے آدمی کااتنا بڑا گھر ہے کیسے اس کے پاس گاڑی ہے کیسے اس کے وسائل ہیں۔ اس کے حساب سے سب جانتے ہیں۔تو اب بظاہر تو یہ نظر آرہا ہے اس سے یہ قوم نہیں نکل سکتی۔

اس لئے کہ جن لوگوں پر ذمہ داری ہے سمجھانے کی وہی اس سلسلے میں تشکیل نہیں کر رہے۔ اب دیکھئے نا، سود ہے ہمارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ سود لیتے ہیں اور جو لوگ سود دیتے ہیںوہ میرے ساتھ کھلی دشمنی کر رہے ہیں وہ میرے دشمن ہیں، کھلے دشمن ہیں اب ایک مجبوری ہے، ہم سود کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے۔ لیکن اگر ہمارے علماء اکرام وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں۔دیوبندی ہو ں،بریلوی ہوں،وہابی ہوں،اہل حدیث ہوں،ہمارے دانشور ہمارے پیران پیر جن کے پاس بڑی بڑی گدیاں ہیں جن کے لاکھوں مرید ہیں۔ ہمارے مطابق جو اپنی ایک حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر یہ سب ایک پلٹ فارم پر اسی لئے جمع ہو گئے کہ بھئی ہمارا تو مسئلہ سیاسی نہیں ہے وہ یہ ہے کہ اللہ نے ہمیں دشمن کہا تو اللہ سے دشمنی کس طرح ختم ہو تو ظاہر ہے اگر سر جوڑ کر بیٹھیں گے ایسا تو نہیں ہے کہ کچھ نہیں ہوگا۔ ایسے ملک ابھی یہاں موجود ہو جیسے چائنہ کے ملک میں مشہور ہے وہاں سودی نظام ہی نہیں ہے۔

 تو اب ایسی صورت جب ہم بیٹھیں گے سر جوڑ کر تو ہمارے ذہن میں نہ سیاست ہو گی۔ نہ ہمارے ذہن میں حکومت کا اقتدار ہو گا۔اب یہ ہمارے پاس بھی یہی منشاہ ہے کہ کس طرح حکومت مل جائے کس طرح ہر قبضہ کر لیا جائے،کس طرح گزارہ مل جائے، کس طرح حکومت مل جائے کس طرح مقصد یہ ہے کہ وہ سارے جمع ہوں سیاست کو الگ ذہن سے نکال کر صرف اس بات کے لئے متحد ہو جائیںکہ اللہ یہ جو ہمیں دشمن کہے رہا ہے اس سے ہم نکلنا ہے۔ ہم تکلیف اٹھالیںگے تھوڑی سی، اپنا ایک نظام بنائیں گے۔ پاکستان میں اللہ نے کیا کچھ نہیں دیا۔پیڑ یہاں ہیں، معدنیات یہاں ہیں ہر چیز موجود ہے۔اگر یہاں ایسا نظام سسٹم قائم ہو یہ جو اللہ کہے رہا ہے تم میرے دشمن ہو ہمیں یہ ثابت کرناکہ ہم اللہ کے دشمن نہیں ہیں۔ تو سود کی بات یہاں ختم ہوئی۔ کوئی آواز آج تک نہ آپ نے سنی نہ ہم نے سنی یہ اتنے بڑے بڑے جماعتیں ہیں۔مذہبی جماعتیں بھی ہیں،سیاسی جماعتیں بھی ہیں بڑے بڑے مدرسے بھی ہیں۔

بڑے بڑے دانشور بھی ہیں۔بڑے بڑے ایسے مقرر بھی ہیں کہ جب وہ تقریریں کر تے ہیں تو آدمی جو ہے جو چاہے ان سے کروائے۔لیکن کبھی ایسی آواز نہیں اٹھی یہ اللہ نے جب ہمیں دشمن کہا تو ہم کون سی اسی تدبیر کریں کہ اللہ ہمیں دشمن نہ کہے۔ تودوسری غور طلب بات یہ ہے جب اللہ نے آپ کو دشمن کہے دیا تو آپ کو سکون کیسے مل سکتا ہے۔ آپ کو حضور کیسے ملے؟ آپ اقتدار اعلیٰ پر کیسے قابض ہونگے۔ اللہ تو آپ کو دشمن کہے دیا اور یہ سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اللہ آپ کو دشمن کہہ رہا ہے آپ نمازیں پڑھ رہے ہیں۔ تو اللہ کے دشمن کی نماز کیسے قبول ہو سکتی ہے، اللہ آپ کو دشمن کہہ رہا ہے آپ حج کر رہے ہیں تو اللہ کے دشمن کا حج قبول ہو گا؟ بھئی بحیثیت نماز روزہ یہ سب دوستی کی باتیں ہیں کہ اللہ کا دوست ہے۔ جو نماز پڑھتا ہے نماز قائم کرتا ہے تو وہ دوست دوست کو خوش کر رہا ہے۔ اللہ تو آپ کو دوست مان ہی نہیں رہا ہے۔

 اللہ تو آپ کو دشمن کہے رہا ہے۔ اور کسی آدمی کو یہ لگتا ہے اللہ کا کہنا جو قرآن میں ہے اس میں سے اعتبارہی اٹھ جائے اللہ میاں تو کہتے رہتے ہیںبڑے میاں بوڑھے ہو گئے لاکھوں سال ان کی عمر ہو گئی کہنے دو دشمن کہہ رہے ہیں تو کہنے دو۔ جب یہ قرآن کہہ رہا ہے سود کی لین دین کرنے والے لوگ میرے دشمن ہیں۔تو کیسے کیا ہے اصلاح تو اصلاح کا طریقہ ایک ہی ہے کہ یہ جو دشمنی کا ٹھاپہ لگ گیا ہے ہمارے اوپر ہم اس سے نکلیں تو جب تک ہم اللہ کی دشمنی سے نہیں نکلیں گے۔ اصلاح کہاں ہو گی اب دیکھئے ساری دنیا میں ایسا لگتا ہے کہ مسلمان چارا بنے ہو ئے ہیں جس کا دل چاہتا ہے مار جاتا ہے جس کا دل چاہتا ہے مار جاتا ہے۔ ایران میں کیا ہوا ہر جگہ جس جگہ دیکھو مسلمان ہی مر رہا ہے مسلمان ہی مٹ رہا ہے۔مسلمان ہی ذلیل و خوار ہو رہا ہے۔ ایک ارب کی آبادی ہے وسائل کی بھی کمی نہیں ہے، وسائل بھرے پڑے ہیںلیکن وسائل بھی اِدھر کے وہاں جاکر جمع ہو جاتے ہیں جو مسلمانوں کے دشمن ہیں۔

 تو میری سمجھ میں ایک بات آتی ہے میں نے دو چارہاؤ س میں ایسی تقریریں ہو ئیں جہاں علماء بھی موجود تھے وہاں بھی یہ بات کہ بھئی نماز روزہ حج زکوٰۃ ہے قوم لڑنے کو بھی تیار ہے۔ لیکن سوال یہ ہے ہم نماز پڑھتے ہیں ہمارا دل کیوں نہیں لگتا ہم اللہ کو پکارتے ہیں تو اللہ جواب میں لبیک کیوں نہیں کہتا جبکہ ہم اللہ و اکبر کہتے تو اللہ کہتا ہے ہاں میرے بندے میں دیکھ رہا ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تمہیں دشمن کہے رہا ہے۔ اب جب دشمن ہو گئے ہم تو بھئی رسول اللہ ﷺ رحمت العالمین ہیں اللہ کے محبوب ہیں۔اللہ نے ساری کائنات بنا ئی۔ ان کی خیرات ہمیں پڑی ہوئی ہے اس لئے ہماری شکل قائم ہیں، ورنہ اللہ سے میرا خیال ہے سب کے سب بھولے ہو ئے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق، اللہ تعالیٰ ایک وقت تک چھوٹ دیتا ہے۔ کب تک اللہ تعالیٰ چھوٹ دے گا۔مسلمانوں کی سلطنت چھوٹ گئی مسلمانوں کا اقتدار ختم ہو گیا۔

 مسلمان پہلے حاکم تھے اب غلام بن گئے۔ ذلیل وخوار ہو گئے۔ اب کل کیا ہو اللہ کو پتا ہے۔ساراملک یہ کہہ رہا ہے یا اللہ یہ کر، یا اللہ یہ کر، یا اللہ یہ کر، یا اللہ یہ کرو عمل کچھ بھی نہیں تو بغیر عمل تو کچھ نہیں ہوتا۔ بھئی حضور قلندر بابا اولیاء ؒ فرمایا کرتے تھے بغیر عمل کے دعا قبول نہیں ہوتی۔ اگر بغیر عمل کی دعا ہوتی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جہاد کرنے کی توفیق نہ ہوتی۔ ۳۱۳آدمی جمع کر کے لے گئے میدان میں اور وہاں جا کر کہا یا اللہ اتنے ہی آدمی ملیں ہیں۔اب تو دین کی حفاظت فرما او ران کی مدد کر، فرشتے نازل کر، مسجد میں بیٹھ کر دعا نہیں کی میدان میں جاکر دعا کی، کہ یا اللہ میں آگیا ہوں لڑنے لیکن یہ بہت کم ہیں، بہت مختصر تو اللہ نے اس عمل کے نتیجے میں اپنے پیغمبر کی دعا قبول کی اور آپ دیکھئے شروعات ہوئی تو ہماری صورت یہ ہے کہ بھئی ایک اور مسئلہ کھڑ اہواہے۔

فلاں آدمی کو بلاؤ  وہ بہت اچھی دعا کر اتا ہے۔ بہت اچھی دعا کیا مطلب اس میں کوئی شعر پڑھے گاکچھ گائے گا لمبی کرے گاپندرہ منٹ بیس منٹ اب وہ ایسے بھی میں نے سنا ہے لوگ دعا کرانے کے پیسے لیتے ہیں۔ہمارے یہاں خاتون آتی ہیں وہ دعا کرواتی ہیں ان کی دعا بڑی ہوتی ہے ساڑے سات سو روپے فیس لیتی ہیں اب آپ غور تو کریں ہم کھڑے کہاں ہیں۔بھئی آپ عمل کریں اب نماز ہے، نماز میں کیا چیز نہیں ہے۔نماز میں اللہ کے ساتھ بھی ہوتے ہیں نماز میں دعا بھی ہے، نماز میں حمد بھی ہے، نما ز میں درود بھی ہے، نماز میں نعت بھی ہے،کون سی ایسی چیز ہے جو نماز میں نہیںہے لیکن نمازیں پڑھتے ہیں اس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلتا نتیجہ تو بعد کی بات ہے دل ہی نہیں لگتا۔اگر عشاء کی آپ سترہ رکعت نماز پڑھتے ہیں تو سترہ رکعت میں چونتیس سجدے ہو تے ہیںتو ایک سجدہ بھی ایسا نہیں ہو گا جس کوہم نے کہا یا اللہ تیرا شکر ہے کہ سجدہ کرنے سے ہمارا ضمیر مطمئن ہوا ہو۔

 ہو گا بھی کیسے مہینوں گزر گئے سالوں گزر گئے نماز بھی پڑھ رہے ہیں روزے بھی رکھ رہے ہیں لیکن اللہ سے کوئی رابطہ اور تعلق نہیں ہے۔اس کی وجہ یہ ہے ہم حضور پاک ﷺ کی سیرت طیبہ پڑھتے ہیں اخباروں میں رسالوں میں کتابوں پڑھتے بھی ہیں خوش بھی ہو تے ہیںآداب و احترام بھی کرتے ہیں۔ لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو عمل نہیں ہوتا زبانی جمع خرچ ہے لیکن زبانی جمع خرچ سے نکل کر آپ اپنے اند ر کے جو حوا س ہیں اس کو نہیںجاگائیں اس کو نہیں بیدار کریں تو اس وقت یہ خلاف حکم رہے گا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ہم ما شا اللہ اتنے سارے لو گ ہیں کم از کم ایک چیز بھول کر بھی غلط چیز کو غلط نہیں کہتے ہیں،اب سود ہے، اب تو اس کو برائی نہیں سمجھتا بھئی اس کوبرا سمجھے گے تو اس کے لئے کچھ تو صلاح ہو گی۔آئندہ کوئی ایسی تبلیغ سمجھ میں آئے گی اللہ تعالیٰ کی دشمنی سے ہم کس طرح نکلیں تو یہ جو آپ نے لکھا ہے کہ صاحب یہ کیوں ہو رہا ہے یہ اس لئے ہو رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بنا ئے ہو ئے قوانین پر عمل نہیں کر رہے اور حضور پاک ﷺ نے جو ہمیں طرز فکر عطا کی ہے اس سے ہم بہت دور ہو رہے ہیں اور دعویٰ یہ کر رہے ہیں کہ امتی ہیں تو یہ تو جھوٹ اور منافقت ہے۔

اختتام

 

 

 

 

 

Topics