Topics

کیا فرقہ پرستی صراط مستقیم سے ہٹا دیتی ہے؟

 

 

 بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

کائنات اللہ تعالیٰ کے علم کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جب اس کائنات کو تخلیق کرنے کا سوچا، تو ترتیب کے لحاظ اپنے نور سے سب سے پہلے جس مقام کو، ہستی کو، چیز کو تخلیق کی اس کو نور محمدی یا حقیقت محمدیہ کہاجاتا ہے۔ اس کے بعد تخلیق کا تمام پراسس شروع ہوا اور درجہ بدرجہ کائنات اللہ تعالیٰ کے ذہن کے مطابق تخلیق ہوتی چلی گئی۔ اب کائنات جو ہستی سب سے پہلے تخلیق ہوئی وہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔

 حضور پاک ﷺ کی ولادت اس کے بعد ہی مخلوق آئی اس سے پہلے تو تھی ہی نہیں اصل جو ہے وہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت ہی ہے خوشی کا دن ہے خوشی کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے مسرور ہو نے کا مقام ہے اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے بڑوں سے دعائیں اور اللہ کا شکر ادا کریںکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب بندے جس کو نا معلوم کب سے چھپا رکھا تھا اور اس چھپے ہو ئے محبوب کی تشریح کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے لاکھوں کروڑوں سال انتظار کرتے رہے کہ محبوب کی رونمائی کس طرح کروں اور اس محبوب کی رونمائی کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے نامعلوم کتنی کتابیں نازل کر دیں نا معلوم کتنے فرشتے نازل ہو گئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کو ماننے والے کروڑوں لاکھوں ایک ہی بات کا اعلان کرتے رہے کہ اللہ کا محبوب آنے والا ہے، اللہ کا محبوب آنے والا ہے انتظار کرو اللہ کا محبوب آنے والا ہے آپ غور کریں اور فر مائیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کروڑوں اربوں کی تعداد ہے اور رسول اللہ ﷺ کو ماننے والوں کی بھی لاکھوں اربوں تعداد ہے اور اگر آپ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کا حساب کتاب کیا جائے تو پھر ماننے والوں کو شمار کریں تو کوئی مشین ایسی نہیں ہے جو تعداد بتادے کہ اتنے اعداد ہیں کہ جن کے ذریعے اللہ نے اپنے محبوب کی آمد کا اعلان کر وایا تو کمپیوٹر تو وہی بتائے گا نہ جتنے تعداد ہو گی ورنہ آپ کے یہاں زیادہی سے زیادہ ارب دس ارب ارب ٹن ارب دس ٹن اس کے بعد آپ کی گنتی ختم ہو جاتی ہے۔

لیکن جب ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں کی شمار جب آپ نکالیں گے تو گنے گے اس کو تو آپ کے پاس شمارات ختم ہو جائے گے اور کوئی طریقہ کارآپ کے پاس نہیں ہے۔آپ یہ کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کی آمد کا اعلان اپنے بندوں سے کروایا ہے یہ وہ محبوب بندے ہیں جس کو حضور پاک ﷺنے فر مایا اول ماخلق اللہ …کہ جب اللہ تعالیٰ نے کائنات بنائی تو اس کائنات میں سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا اس کائنات کے اندر جو زندگیاں ہیں۔ حضور پاک ﷺ نے کہا اول ماخلق اللہ …کہ اللہ نے سب سے پہلے میرا نور تخلیق کیا اور اس نور سے ساری کائنات بنا ئی۔اب آپ غور فر مائیں اس میں کائنات کی کیا کیا چیزیں آئیں ہیں۔ کائنات میں آسمان ہیں،عرش ہے،فرشتے ہیں،تمام انبیاء ہیں،زمینیں ہیں،اللہ کے علاوہ ہر چیز یعنی اللہ کے علاوہ جو بھی کچھ ہے تو اس کی ولادت ہے ظاہر ہے یہ خوشی ہے محسوس کرنا بلا شبہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہاس بات کا اشارہ جو بھی ہے تم لوگ بڑے خوش نصیب ہو جو رسول کی امت ہو اور انہیںمانتے ہو۔

یہ خوشی کا دن تھا یہ ہر سال آتا ہے ہر سال لوگ جمع ہو تے ہیں نعت خوانی بھی ہوتی ہے۔رسول اللہ کے اوپر مقالے بھی پڑھوائے جاتے ہیں۔سیرت طیبہ کا تذکرہ بھی ہوتا ہے۔چودہ سو سال پہلے جو دور گزرا ہے اس کو برابر دوہرایا بھی جاتا ہے۔لیکن ان سب کے باوجود جب ہم اپنی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ سب زبانیں ہیں ان کے اندر کچھ نہیں۔چودہ سو سال سے ایک ہی بات بار بار دوہرائی جارہی ہے کہ رسول اللہ نے اس بات کا حکم دیا اس بات کا پرچار کیا اور حضور پاک کا یہ مشن ہے کہ سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں۔کوئی بڑا چھوٹا نہیں ہے۔بڑے کی بڑائی اور چھوٹے کی چھوٹائی کی نجات یہ ہے کہ کوئی مسلمان جتنا اللہ اور اللہ کے رسول اللہ کے احکامات پرعمل پیرا ہو جائے۔ جتنا بندہ اللہ اور اللہ کے رسول اللہ کے احکامات پرعمل کرتا ہیںاس کی مناسبت سے وہ بزرگ ہے،وہ متقی ہے،وہ بہتر ہے،وہ بڑا ہے ورنہ سب بھائی بھائی ہیںلیکن ہماری بد نصیبی یہ ہے کہ چودہ سوسال ہم نے ہزاروں تقریر یں سنی،لاکھوں نعتیں سنی ہو نگی۔

 کروڑوں ہا کروڑوں بار رسول اللہ پر درودشریف بھیجا پڑھا ہے لیکن حضور پاک کا یہ حکم حضور پاک کا یہ مشن کہ سب مسلمان بھا ئی بھا ئی ہیں۔تمام مسلمان کی پہچان ہی یہ ہے کہ ہم جب تک تفرقہ نہیںکرینگے جب تک ہم ذاتی تفرقہ نہیں کریںگے مسلمانوں کی شناخت نہیں ہوئے گی۔ رسول اللہ اس کے اتنے خلاف ہیں کہ جس کی کوئی مثال نہیں ہوتی۔ہم ہماری مثال یہ ہے کہ ہم دیوبندی ہیں،ہماری شناخت یہ ہے کہ ہم سنی ہیں۔ ہماری شناخت یہ ہے کہ ہم اہل حدیث ہیں۔غیر مسلم ہیں،وہابی ہیں،پتا نہیںکیا کیا ہیںاور میں مسلمان ہو اس لئے میں نے رسول اللہ کا جو حکم ہے …کہ تمام مسلمان پھر آپس میں بھائی بھا ئی ہیں۔تو جو گھر گھر میلاد بھی ہوتے ہیںلوگ شریک ہوتے ہیں رسول اللہ پر درود سلام بھی بھیجا جاتا ہے۔چودہ سو سال میں ایسا کوئی گروہوں پیدا نہیںہوا کہ جنہوں نے یہ کوشش کی ہو کہ بھئی مسلمان جو ہے وہ مسلمان ہے بس اور کچھ نہیں تفرقوں میں قوم بٹ گئی ہے اور ان تفرقوں میںبٹ کر قوم کا اردہ منتقل ہو گیا ہے جب کہ ہم رسول اللہ کی جو تعلیمات ہیں۔

رسول اللہ کاجو مشن ہیں۔ رسول اللہ نے مسلمانوں کے لئے انفرادی اور اجتماعی پروگرام مرتب فرمائے ان میں سوائے اجتماعی عمل کے کوئی چیز نظر نہیں آتی، روزہ یہ ایک اجتماعی عمل ہے، حج یہ ایک اجتماعی عمل ہے، نماز باجماعت یہ ایک اجتماعی عمل ہے،معاشرے کو صاف ستھرا رکھنا،بے ایمانی نہیں کرنا، اپنے بھائیوں کے حقوق غضب نہیں کرنا،سب اجتماعی ہے لیکن جب سے یہ تفرقے بازی ہمارے اندر پیدا ہو گئی ہے شیطان ہمارے مزاجوں میں داخل ہو گیا ہے۔اس وقت ہم ذکر بہت کرتے ہیں،قرآن بھی پڑھتے ہیں،نمازبھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، حج بھی بہت کرتے ہیں۔لیکن یہ حج کرنا،نماز پڑھنا،روزے رکھنا اگر رسول اللہ کے پیش کردہ مشن کا حصہ نہ ہوتا تو بتائیے یہ عمل ہے لیکن یہ عمل نہیں ہے تو اس اجتماع میں ہم نے تھوڑی سی ایک اور ایک دو ہو تے ہیں۔ایک اور ایک گیا رہ ہو تے ہیںگیارہ اور گیارہ بائیس ہو تے ہیں ہم تھوڑے سے ہی سہی ہم یہاں تھوڑی دیرہی سہی اگر آج کی مجلس میں یہ بھی طے کر لیں یہ جو ہمارا شوق ہے زبانی اس ذوق شوق کے ساتھ ساتھ ہم عملی زندگی گزاریںاور عملی قدم بڑھائیں گے جو رسول اللہ کا مشن ہے اور جس کے لیے رسول اللہ نے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں بڑی بڑی یریشانیا ں اٹھائیں،وہاں راستے میں کانٹے بچھائے گئے۔

سجدے کی حالت میں اونٹ کی اوج گردن پر رکھ دی۔مدینے منورہ جانے کے لئے مکہ چھوڑنا پڑا،لڑیاں لڑنی پڑی،یہ جتنی تکلیفیں اور وہ ساری تکلیفیں رسول اللہ نے اس لئے اٹھا ئیں کہ وہ امت کے لئے یہ اعلان چھوڑ کر جارہے تھے کہ مسلمان ایک ہیں ایک سو مسلمان ہیں، ایک لاکھ مسلمان بھی، ایک کروڑ مسلمان بھی ایک تو آج کی اس نشست میں آپ لوگ تشریف لائے آپ کی اللہ تعالیٰ شرکت قبول فر مائے۔یہ عمل ہے کہ ہم تفرقے بازی میں نہ پڑے ہم کوشش کریں جتنی ہم سے ہو سکے یہ تفرقے بازی ختم ہو بس ایک امت حضور کے ہیں۔رسول اللہ کو مانتے ہیں،اللہ کو مانتے ہیں،اللہ کی کتاب کو مانتے ہیں۔ لیکن سب ایک ہے یہ تفرقے کہاں سے آگئے ان تفر قوں کی بنیاد پر ظاہر ہے کوئی آدمی نہ رسول اللہ کو خوش کر سکتا ہے نہ اس کی رسوائی اللہ تک ہو سکتی ہے۔اور نہ وہ کسی بھی حال میں جنت میں جاسکتا ہے۔

 اس لئے کہ وہ رسول اللہ کا وعدے ارشاد ہے …جو بندہ میری امت کا جو بندہ تعصب میں گیا وہ میری صفت سے نہیں اور اس کو میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی اس طرح قرآن پاک میں یہ عمل ہے کہ اللہ کے رسول اللہ،فرقے اور رسول اللہ کا ارشاد ہے: جو آدمی تعصب میں گیا اس نے اپنے بھائی کا بھائی نہ سمجھا اس کے اندر اب دیکھئے تفرقے میں بنیادی خرابی ہے کہ دیوبندی صاحبان کہتے ہیں کہ ہم سیدھے راستے پر ہیں تو ہمیں جنت ملے گی۔،بریلوی حضرات کہتے ہیں صاحب ہم سیدھے راستے پر ہیں ہمیں جنت ملے گی،اہل حدیث صاحبان کہتے ہیں نہیں نہیں ہمیں سیدھے راستے پر ہیں ہمیں جنت ملے گی۔

پتا چلے گا مرنے کے بعد، مرنے کے بعد بھی کہاں پتا چلتا ہے حشر نشر میں پتا چلتا ہے کہ کون جنتی ہے کون دوزخی تو جب ہم یہ کہتے ہیں ہم جنتی ہیں تو یابر ملا شیطان ہمارے ذہن میں وسوسہ اور خناس ڈال دیتا ہے کہ ہم کہتے نہیں ہیں لیکن جب ہم اپنے آپ کو جنتی قرار دیتے ہیں تو اس کا یہ مفہوم نکلتا ہے اور شیطانی وسوسہ ہمیں اس طرف لیجاتا ہے کہ یہ لوگ جو ہیں تو ایک آدمی جو کلمہ پڑھ رہا ہے،اللہ کی توحید کا اقرار کر رہا ہے تو رسول اللہ پر کلمہ پڑھ رہا ہے، قرآن پاک کی تلاوت کرہا ہے،نماز بھی پڑھ رہا ہے،روزہ بھی رکھ رہاہے،حج بھی کر رہا ہے،وہ اجتماعی طور پر یہی صحیح اس کو آدمی یہ سوچے اور سمجھے کہ ساری جنت بھی یہی ہے،دوزخ بھی یہی ہے،اس سے بڑی برائی ختم ہو جاتی ہے۔تو یہ تفرقہ بازی جو ہے جو بنیادی طور پر ہے صراط مستقیم سے آدمی کو دور کر دیتی ہے۔وہ بندہ جو تفرقے میں گرتا ہے وہ شیطان کا دوست ہے۔

اللہ کا نہیں اور جو شیطان کا دوست نہیں ہے، وہ اللہ کا دوست ہے۔ رسول اللہ کے مشن پر عمل پیرا ہونے کے لے آپ خود معاف کریںتو آپ کومعافی ملے گی۔ رسول ا للہ کے اندر معافی تھی ہر آدمی کو رسول اللہ نے معاف فر ما دیا۔ رسول اللہ نے ہمیشہ یہی کہا کہ سارے مسلمان بھا ئی بھا ئی بن کر رہیں،آپ اپنے گھر میں لڑیں نہ،ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیار کریں۔ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہو ں یہی مشن ہے۔ رسول اللہ جب ان کے برعکس شیطان کامشن پر ہم غور کرتے ہیں تو شیطان کا مشن یہی ہے کہ آپس میںلڑادو،فساد پھیلا دو،خون خرابہ کر دو، بھا ئی کو بھائی سے لڑا دویہ شطان کا مشن ہے۔تو اگر آپ ایسے مشن میں زندگی گزار رہے ہیں تو اگر آپ ایسے راستے پر چل پڑے گے جس راستے میںنفرت ہے، جس راستے میں تعصب ہے،جس راستے میںتفرقہ ہے تو یہ شیطانی مشن ہے۔اللہ کا مشن کبھی نہیں ہو سکتا۔

 اللہ کا مشن ہے توحید، وہ توحید کی دعوت دیتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ امت مسلمہ کو یہ حکم دیتا ہے کہ جس طرح تم فضل مانگتے ہو اسی طرح ساری مسلمان قوم کے لیے بھی فضل اور معافی مانگوہے۔

 

Topics