Topics
لمحات کے ہر ٹکڑے میں وقت کا امام موجود
ہے۔ ٹکڑوں کو جوڑنے سے اسپیس سمٹتی ہے اور وقت کی صفات کا ادراک ہوتا ہے۔ وقت حرکت
ہے اور حرکت کی ابتدا اللہ کے حکم کُن سے ہوئی ہے۔ قرآن کریم میں ہے، ”کیا انسان
پر زمانے میں ایک وقت ایسا نہیں گزرا جب وہ ناقابلِ تذکرہ شے تھا؟“ (الدّھر : ۱) اللہ کے دوستوں نے آدمی کے
اندر موجود اصل انسان کو دیکھنے کے لیے وقت اور اسپیس کو اہم بتایا ہے۔ اسپیس
فاصلے کو ظاہر کرتی ہے جبکہ وقت فاصلے پر محیط حرکت کا مظاہرہ ہے۔ وقت سے ذہن کی
رفتار تیز ہوتی ہے اور فاصلہ اس رفتار کو مدہم کر دیتا ہے، لیکن اگر فاصلے کو
ثانوی حیثیت دے کر وقت کو زاویۂ نگاہ بنا دیا جائے تو دو لمحات کے درمیان لاعلمی
کا خلا علم سے پُر ہو جاتا ہے۔ وقت اور فاصلے کی تفہیم ان خواتین و حضرات کے در سے
حاصل ہوتی ہے جن کو اللہ نے اپنا دوست فرمایا ہے۔
”وہ جس نے آسمانوں اور زمین اور ان کے
درمیان کی سب چیزوں کو چھ ایام میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر مستوی ہوا۔ وہ رحمٰن ہے۔
تو اس کے بارے میں کسی خبردار سے پوچھ۔“ (الفرقان : ۵۹)
ایک بار استادِ محترم نے اپنے مونسِ انس
و جان مرشدِ کریم کے بارے میں فرمایا، ”امامِ سلسلۂ عظیمیہ ابدالِ حق قلندر بابا
اولیاؒ حسنِ اخریٰ کا فیضِ عام ہے۔ جتنا چاہو، دامنِ مراد بھر لو۔“ قلندر باباؒ کے
نامِ نامی اسمِ گرامی کی تاثیر ہے کہ اس کی نسبت سے جاں پارہ، منتشر الوجود فرد سکون
سے آشنا ہو جاتا ہے۔ برسوں پہلے لاہور کی خانقاہ کی تقریب میں ایک مہمان تشریف
لائے۔ بزرگ استاد کے چہرے کی شادابی اور مسکراہٹ مہمان سے قلبی وابستگی کو ظاہر کر
رہی تھی۔ ہر کوئی متجسس تھا کہ مہمانِ گرامی میں ایسی کیا خاص بات ہے۔ مہمان جب
سامعین سے مخاطب ہوئے تو گفتگو کے آغاز میں اپنا تعارف یوں پیش کیا:
”میں عالمِ جوانی میں شدید بیمار ہو گیا۔
کوئی علاج کارگر نہ ہوا تو امامِ سلسلہ عظیمیہ حضور قلندر بابا اولیاؒ کے در پہ
حاضر ہوا۔ ابدالِ حق بہت شفقت و محبت سے پیش آئے اور فرمایا، 'آپ خواجہ صاحب کے
پاس اندر تشریف لے جائیے'، میں نے دیکھا کہ ایک نو عمر لڑکا بیٹھا ہے۔ مایوس ہو
گیا کہ یہ میرے درد کا کیا درماں کرے گا؟ خواجہ صاحب مریضوں کو دم کر کے بیمار
لہریں زمین میں ارتھ کر رہے تھے۔ مریضوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ارتھ کرنے سے آپ
کا دایاں ہاتھ سوج گیا تھا۔ جوں ہی خواجہ صاحب نے مجھے دم کر کے لہریں ارتھ کیں،
میرا درد رفع ہو گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، دوبارہ درد نہیں اٹھا۔“ جب تقریب کے
مہمانِ خصوصی نے خواجہ صاحب سے مصافحہ کیا تو انہوں نے سینے سے لگایا اور آنکھوں
کو بوسہ دیتے ہوئے فرمایا، ”جن آنکھوں نے محبوب کو دیکھا ہے، وہ آنکھیں مبارک
ہیں۔“
ایک روز مراقبہ میں ابدالِ حق کی آنکھوں
کی زیارت ہوئی۔ دل نے کہا،
آنکھیں ہیں کہ قندیل میں
جلتا ہے چراغ
میں نے اس چراغ میں اپنا عکس دیکھا
دوست کی آنکھ میں وقت کا عکس ہے۔ آنکھ کی
پُتلی جب سکڑتی ہے تو زمانۂ ازل کی یاد دلاتی ہے اور جب پھیلتی ہے تو کئی ادوار
عکس ریز ہوتے ہیں۔ محسوس ہوا کہ ان آنکھوں کی حرکت سے میری زندگی کے لمحات گردش
میں ہیں۔ پہلے ذہن کسی سے وابستگی کو قبول کرتا ہے پھر وابستگی کا ظہور ہوتا ہے۔
قلندر باباؒ کی تعلیمات پر عمل سے سالک کی فکر و عمل میں انقلاب آتا ہے۔ سالک جب
ابدالِ حق کی نسبت سے خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے دربار میں حاضری چاہتا ہے اور
کثرت سے درودِ شریف پڑھتا ہے تو آنکھ ہر طرف کائناتی علوم کی لہریں موجزن دیکھتی
ہے۔
کائناتی علوم نوعِ آدم کی میراث ہیں جو
اسے اوجِ کمال عطا کرتے ہیں۔ علم کا مفہوم صفت اور صلاحیت ہے کیونکہ ہر علم کسی
صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ علم سے کردار تعمیر ہوتا ہے۔ اگر کوئی فرد اپنے اندر میں
صلاحیت کو خالق کے حکم سے جدا سمجھتا ہے تو وہ کرداری قوت سے محروم ہے۔ لوگ شکوہ
کرتے ہیں کہ حالات ہماری منشا سے تبدیل نہیں ہوتے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کی منشا
سے واقف نہیں ہیں اور نہ واقف ہونے کے لیے محنت کرتے ہیں۔ ہر فرد اپنی خواہش کو
جائز سمجھتا ہے۔ عزازیل نے بھی ایسا ہی سمجھا اور راندۂ درگاہ ہو گیا۔ خواہش اللہ
کی پسند کے مطابق نہ ہو تو آدمی بے سکون ہو جاتا ہے۔ کیا بے سکونی، سکون سے بے دخل
ہونا نہیں ہے؟ بالفاظِ دیگر راندۂ درگاہ ہونا نہیں ہے؟ شکوہ ناشکری ہے۔ شکر ادا
کریں کہ اللہ کی مشیت کیسی کیسی نوازشات کرتی ہے۔
آئینہ اور پانی میں قدرِ مشترک ہے، دونوں
میں عکس نظر آتا ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ آئینہ اور پانی کے معانی کس قدر وسیع ہیں۔
محترم استاد یہ شعر پڑھتے ہیں،
دل کے آئینے میں ہے تصویرِ یار
جب ذرا گردن جھکائی، دیکھ لی
آئینہ قلب میں محبوب کا جمال جلوہ گر ہو
تو فہم و ادراک یک در سفر کرتے ہیں۔ بزرگ راہ نما کی لکھی ہوئی کیفیات میں پڑھا،
”چودھویں کی رات تھی، دیکھا کہ چاند میں قلندر بابا اولیاؒ کی شبیہ روشن ہے۔ چاند
قلب میں اتر آیا اور جسم روشن ہو گیا۔“ ایک شب مراقبہ کے دوران آواز سنائی دی،
”قلندر باباؒ، شاگردِ رشید کو محبوب رکھتے ہیں۔“ شاگرد باادب ہو جاتا ہے تو مرشد
کا التفات بڑھ جاتا ہے۔ وہ اسے فنا فی الرسول ﷺ اور فنا فی اللہ کے درجے تک لے
جاتا ہے۔
خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا فیضانِ نبوت
یعنی روحانی علوم کا ورثہ اولیا اللہ کو منتقل ہوتا ہے۔ سلاسلِ طریقت روحانی ورثے
کے محافظ ہیں اور اس کی تبلیغ کے فرائض انجام دیتے ہیں تاکہ دنیا کا ہر باسی ان
علوم کی تفہیم سے محروم نہ رہے۔ نبی مکرم ﷺ کے روحانی علوم کا ایک شعبہ تخلیقِ
کائنات کے فارمولے ہیں۔ قرآن کریم میں ان کو علمِ لدنی کہا گیا ہے۔ ان علوم کی بنا
پر انسان مسجودِ ملائک ٹھہرا۔ بزرگ استاد فرماتے ہیں، ”علم دو طرح سے منتقل ہوتا
ہے۔ ایک خاندانی ورثے کے طور پہ مادی وسائل (کتاب، قلم) کے بغیر۔۔ اس کی مثال
مادری زبان ہے، دوسرا ماحول اور معاشرے سے منتقل ہوتا ہے۔“
پیغمبرانِ کرام علیہم السلام کا ورثہ
رحمانی طرزِ فکر ہے اس لیے ان کی طرزِ فکر یعنی علم، یقین اور ثابت قدمی بطورِ
ورثہ منتقل ہوتی ہے۔ اسی طرح شک، نافرمانی، جھوٹ، غیبت اور حسد بھی ورثہ ہے جو
شیطنت سے منتقل ہوتا ہے۔ اس کے برعکس سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل کرنے والا فرد محبت اور
یقین کے ورثے سے آراستہ ہے۔ باطنی علوم ادب کا درس دیتے ہیں۔ جب مرید، مرشد کے
قدموں کو نشانِ منزل بناتا ہے تو کامیاب و کامران ہو جاتا ہے۔ ایک موقع پر استادِ
محترم نے فرمایا، ”مرید جب مرشد کے ذہن کو قبول کرتا ہے تو مرشد کا عکس بن جاتا
ہے۔ ایک نیگیٹو ہے، ایک پوزیٹو ہے۔ پوزیٹو کی اصل نیگیٹو ہے۔“
میں نے اس بات پر بہت غور کیا۔ ہم جس کی
پیروی کرتے ہیں، اس کی صفات منتقل ہوتی ہیں۔ اللہ کے دوستوں سے دوستی کرتے ہیں تو
اللہ کے دوستوں کو خوف اور غم نہیں ہوتا، صحیح معنوں میں پیروی سے ہم خوف و غم سے
دور ہو جاتے ہیں۔ مرید جب اپنی نفی کر کے مرشد کے ذہن کا اثبات کرتا ہے تو مرشد کی
طرزِ فکر منتقل ہو جاتی ہے اور مرشد کی طرزِ فکر سیرتِ طیبہ ﷺ کی پیروی ہے۔ استادِ
محترم نے ایک صاحب کو دوسرے بچے کی پیدائش پر فرمایا، ”اللہ تعالیٰ نے آپ کے گھر
کو اولاد کی نعمت سے نوازا ہے۔ سلسلہ کی تعلیمات کے مطابق ان کی تربیت کیجیے۔ آپ
نے ایسا کر دیا تو دونوں جہاں میں اللہ رسول ﷺ کی قربت نصیب ہو گی، انشاءاللہ۔“