Topics

سفر روحانیت ۔ اکتوبر ۲۰۲۰ء

 

روحانیت شہرِ عشق ہے۔ میں نے شہرِ عشق کے اصول اور قوانین پر تفکر کیا اور سمجھ میں آیا کہ ،

۱۔  استاد ایک ہے ، باقی سب شاگرد ہیں۔

۲۔ کسی سے متاثر نہ ہوں۔توجہ استاد پر مرکوز رکھیں۔

۳۔  شہرِ عشق کا قانون نرالا ہے۔ اس میں محبوب کے علاوہ کسی اور کی طلب ملاوٹ ہے۔

۴۔ شہرِ عشق میں مقصدِ حیات کثرت کی غلامی سے نجات حاصل کر کے ایک کا ہونا ہے ۔ یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ ہم کس کی تلاش میں آئے ہیں اور ہماری منزل کیا ہے۔

۵۔سر کشی کی گنجائش نہیں۔ تربیت کا آغاز اپنی نفی سے ہوتا ہے۔ اس راہ میں کتنے ہی سالوں کی مسافت طے ہو چکی ہو،”میں“ کا بت نہیں ٹوٹا تو آغاز ۔ آغاز رہے گا۔

۶۔ ادب کے مراحل طے نہ ہونا تربیت میں خلا رہنے کی علامت ہے۔

۷۔  اصلاح ان کی ہوتی ہے جو غلطی کرتے ہیں لیکن کتنی بار؟ ایک قدم آگے بڑھانے اور وہی قدم پیچھے لے جانے سے کیا سفر کا مقصد پورا ہوتا ہے؟

۸۔ اللہ والوں کی محفل میں ظاہری کان اور آنکھ بند کر کے دل کی سماعت سے سننا اور دیکھنا کامیابی کا نشان ہے۔

۹۔  تربیت ذلت و ستائش سے بے نیاز کر دیتی ہے۔ یہ بات آغاز سے سمجھ میں آجائے تو سفر آسان۔

۱۰۔ جس کا دل مرکز سے وابستہ ہو جائے وہ تغیرات کے طوفان میں استقامت کی چٹان بن جاتا ہے۔

۱۱۔  سیکھنے والے کے لئے وقت بھاگتا نہیں ، ٹھہر جاتا ہے ۔ ریاضت رائیگاں نہیں ہوتی۔

خبر ملی کہ وہ بزرگ جنہوں نے اپنی آمد سے شہر لاہور کو عزت ، برکت اور رونق بخشی ، جلد واپس کراچی

تشریف لے جائیں گے۔ دار المطالعہ گھر سے قریب لیکن کوسوں دور تھا۔ بہت مشکل سے اجازت ملی۔ چند اراکین سے سلام دعا ہو گئی تھی۔ ان کے ساتھ خضر صورت بزرگ سے ملاقات کے لیے خانقاہ جانا تھا۔ دارالمطالعہ سے خانقاہ کے لئے روانگی کا جو وقت مجھے بتایا گیا، میں خوشی خوشی معین وقت سے آدھا گھنٹہ قبل پہنچی۔ وہاں سناٹا اور بندے دروازے کے باہر سڑک پر پھولوں کی چند پتیاں دیکھ کر سر چکرا گیا ۔ سمجھ گئی کہ جانے والے روانہ ہو چکے ہیں۔

دل یقین کرنے کو تیار نہیں تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ اراکین مجھے ساتھ لے جانا بھول گئے تھے۔

شکستہ دل الٹے قدموں سے واپسی کے لیے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ آبادی کم ہونے کی وجہ سے سوسائٹی کے

بہت سے پلاٹوں میں خود روگھاس اگی ہوئی تھی۔ قریبی چوک پر پہنچ کر قدم رک گئے۔ دور دور تک کوئی نہیں تھا۔ آسمان دھواں دھواں تھا۔ میری آہ بھی اس میں شامل ہوگئی اور میں بلک بلک کر رونے لگی۔

دل نے پکارا ،               

”یا اللہ ! ہو سکتا ہے ان کی گنتی میں میرا شمار نہ ہو مگر میں آپ کی مخلوق ہوں ۔ مجھے کسی سے گلہ نہیں کیوں کہ

میرا معاملہ آپ کے ساتھ ہے۔

وہ بندۂ خاص آپ کا عاشق ہے اور میں آپ کی پرستار ۔ وہ آشنائے رمز ہے اور میں یکسر بے خبر۔

میرے مالک ! علم دوست ہستی کی محفل عطا کر ۔ میں وہ جاننا چاہتی ہوں جو میں نہیں جانتی۔

میں اس بھرے شہر میں گم نام اور آپ کے نیک بندے کے حلقے میں بے نام ہوں۔ میری سفارش صرف آپ

ہیں۔آنے جانے کی محتاجی سے نجات بخش دیں۔ جب وہ اس شہر میں تشریف لائیں ، ایسا کوئی انتظام ہو کہ میرا وہاں قیام ہو جائے۔

اے میرے اللہ ! میں آپ سے واقف ہونا چاہتی ہوں ۔ مجھے اپنے دوستوں کی قربت عطا فرما تا کہ روشنی کا علم حاصل ہو ، آمین۔

عرض پیش کر آئی تھی جس کے پورا ہونے کے بظاہر آثار نہیں تھے لیکن آسمانوں کو بغیر ستون کے بلند کرنے

والی ہستی اللہ تعالیٰ قادر و قدیر ہے۔ دعا کے دوران ِ یقین پیدا ہوا کہ دعا قبول ہو جائے گی۔ گھر آ کر ” راست کی دعا“ کو نظم میں قلم بند کیا۔

        قرب والے تفکر کی ضیا دے یا رب!

        خادمِ ادنیٰ اسی در کی بنا دے یا رب!

        گرمی ِ دہر ہے رستے میں کھڑی روتی ہوں

        جو مجھے روند چلے ان کو دعا دیتی ہوں

        بارشِ نور کو آغوش بنا دے یا رب!

        سنگِ راہ نہ بنا ، چوکھٹ پہ لگا دے یارب !

        قرب والے تفکر کی ضیا دے یا رب !

        لامکاں والے تیری سمت سفر کرتی ہوں

        زیر افلاک سرا سیمہ پھرا کرتی ہوں

        ذرّۂ ریت ہوں ہاتھوں پہ اٹھا لے یا رب!

        اسی درگاہ کے ماتھے پہ سجا دے یا رب!

        تیری بندی ، تیرے روبرو رہتی ہوں

فاصلےباندھ کے میں ایک طرف رکھتی ہوں

مرحلے عشق کے آسان بنا دے یا رب

آستانے کی مٹی سے شفا دے یا رب

قرب والے تفکر کی ضیا دے یا رب

قبولیت کی سند سکون ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ دعا کی صورت میں اندر کا خلوص کائنات میں نقوش پر منعکس ہو گیا ہے اور ہر شے سفارش پر آمادہ ، صاحبِ دعا بن گئی ہے۔ ایسے میں دستگیر و مدد گار ہستی خالقِ کائنات نے آسودگی سے ہمکنار کر دیا۔

اللہ تعالیٰ کے بے شمار احسانات میں یہ نوازش بھی شامل حال ہو گئی کہ جب بزرگ اگلی مرتبہ لاہور تشریف لائے تو میں وہاں موجود تھی اور جب تک وہ لاہور آتے رہے ، ناچیز کو روشنی کا علم ملتا رہا ۔ یوں 12 سال گزر گئے مگر زندگی ان سعید لمحوں میں گم ہو گئی اور ان کی شفقت حیات پر محیط ہو گئی ۔

بات ابھی ختم نہیں ہوئی۔ ایک مرتبہ دار المطالعہ کی انچارج دن ڈھلے اپنے شوہر کے ہمراہ ہمارے گھر آئیں اور مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ بابا جان نے آپ کو سلام بھیجا ہے۔

فضا میں ہر طرف مدھر سر بجنے لگے۔

الحمد للہ ! صاحبِ راز ہر بات سے آگاہ ہیں۔

پہلی ملاقات کے بعد جب وہ دوسری مرتبہ لاہور تشریف لائے تو ان سے رخصت ہونے کے چند روز بعد خواب دیکھا کہ ،

”صاف ستھری کلاس ہے جس کی دیواریں سفید رنگ ہیں۔ سائیں بائیں کرسیوں پر سہیلیاں بیٹھی ہیں۔ سامنے استاد کی کرسی خالی ہے۔ استادِ محترم کلاس میں تشریف لاتے ہیں۔ ان کے وجود سے نکلنے والی دودھیا چمک دار روشنی سے کمرا بقعہ نور ہے۔ میں ادب سے کھڑی ہوتی ہوں جب کہ دائیں بائیں سہیلیوں پر گہری نیند طاری ہے ۔ میں گھبراہٹ کے عالم میں کسی کہ کہنی اور کسی کو پاؤں کی ہلکی ضرب سے جگانے کی کوشش کرتی ہوں مگر کوئی نہیں جاگتا ۔ استادِ محترم کرسی پر تشریف فرما ہو کر مجھے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہیں ۔ ان کے ہاتھ میں قرآن کا تیسواں پارہ ہے۔ فرماتے ہیں سورۃ الناس سناؤ۔ میں نے سورۃ الناس مع ترجمہ سنائی۔ ان کے تبسم فرماتے ہی میری آنکھ کھل گئی۔“

یہ خواب میں پہلی مرتبہ راہ نما کا دیدار تھا ۔ خوشی کا ٹھکانا نہیں تھا ۔ روشنی نگاہوں کو خیرہ کر رہی تھی۔ دل اس روشنی کو ظاہر میں دیکھنے کا متمنی تھا ۔ محسوس ہوا کہ ادب پہلے سے زیادہ ہو گیا ہے۔ ادب عشق ہے اور آتشِ عشق سے سانسوں میں حرارت ہے۔

جاگنے کے بعد میں نے سوچا کہ کیا وہ چلے گئے ؟

جواب ملا ۔ نہیں! وہ اپنا آپ وہیں چھوڑ جاتے ہیں ، اپنے ہر ساتھی کے پاس ، ہر اس دوست کے پاس جو علم حاصل کرنا چاہتا ہے۔

عجیب طلسم ہے !

اندر میں کوئی کہتا کہ نہیں! یہ طلسم نہیں ، حقیقت ہے کیوں کہ طلسم ٹوٹ جاتا ہے ، حقیقت باقی رہتی ہے۔

اس روز خواب کی اہمیت کا پتہ چلا۔ دل چاہتا تھا کہ خواب بیداری بن جائے یا میں خواب میں داخل ہو جاؤں۔ خواب اور بیداری کی سرحدیں جیسے قریب آگئی تھیں ۔ خیال میں شدت پیدا ہوتی تو بیداری خواب میں تبدیل ہو جاتی اور خواب کا احساس بیداری میں منتقل ہو جاتا ۔ اب نہ نیند خواب تھی نہ بیداری ہوش تھا۔ نیند اور بیداری گلے ملتے تو جھماکا ہوتا اور آنکھوں سے موتی چھلک جاتے ۔

میں سوچتی تھی کہ وہ جہاں ہوتے ہیں ، ماحول ان کی لہروں میں ڈھل جاتا ہے۔

محبت کرنے والوں کی ساری زندگی تلاش ہے۔میری بیداری اس خواب کی تلاش میں سرگرداں ہو گئی اور خواب بیداری کی تلاش میں۔

اصل کیا ہے؟ انکشاف ہوا کہ نیند اور بیداری نظر کا دھوکا ہیں کیوں کہ یہ ردّو بدل کے نظام پر قائم ہیں ۔ اصل ایک ہے اور ایک جگہ قائم ہے۔

راہِ طریقت میں راہ نما ایسا سائیبان ہے جو سالک کی زہنی سطح کو دیکھ کر رفتہ رفتہ رازِ حیات سے پردہ اٹھاتا ہے۔ خبر دار کرتا ہے کہ الوژن کے پھندے میں پھنس کر سچائی کی راہ سے بھٹک نہ جانا۔ سچائی کا راستہ صاف اور ہموار جبکہ الوژن دھندلا راستہ ہے۔ دھند جو دلکش نظر آتی ہے ریت کی دیوار ہے۔ ہاتھ رکھیں تو سہارا نہیں ملتا ، مٹھی میں لینے کی کوشش کریں ، مٹھی خالی رہ جاتی ہے۔ جب ہم خانقاہی نظام میں داخل ہوتے ہیں تو راہ نما چاہتا ہے کہ ہم حقیقت کے ہم مزاج ہو جائیں اور اندر کی روشنی کی راہ نمائی میں سفر کا آغاز کریں۔

سب کچھ وہی تھا لیکن میرے لئے ہر شے کے معنی اور مفہوم بدل گئے۔ پسند ناپسند کا معیار تبدیل ہو گیا ۔ محسوس کیا کہ ہلکے رنگوں کے بجائے طبیعت گہرے اور شوخ رنگوں کو پسند کرنے لگی ہے۔ سفید سوتی چولا اتر گیا ۔ میری ماں کوش ہو گئیں۔ ہر عید یا دوسرے تہوار پر میں سفید رنگ کی فرمائش کرتی تو وہ پریشان ہو کر کہتیں بیٹی ! مجھے خوف آتا ہے۔

جب میں نے امی سے سرخ جورے کا تقاضا کیا اور وہ بھی سرخ سلک ، تو وہ اسی روز بازار گئیں اور سرخ جوڑا خرید لائیں۔ شام تک جوڑا سلا اور میں رات کو پہن کر سکون سے سوئی۔

صبح سامنے اور برابر والے ہمسائے خاص طور سے مجھے دیکھنے آئے کہ معلوم ہوا ہے تم نے رنگین جوڑا پہنا ہے ۔ پھر اس کے بعد ہرا، نیلا ، زرد ، نارنجی ، جامنی ، تربوزی غرض سارے رنگ پہنے اور یوں ماں کے ارماں پورے ہوئے۔

وہ اکثر کہتی تھیں کہ رنگ تم نے میرے کہنے پر نہیں پہنے ، کسی نے پہنائے تو تم نے پہن لیے۔ معلوم ہوا کہ لباس کے رنگوں کی طرح میں بھی رنگین ہوگئی ہوں اور مزاج میں تبدیلی آگئی ہے۔

لگتا تھا کہ زندگی کا آغاز نئے سرے سے ہوا ہے۔ راہ نما کیا ملے کہ کائنات کتاب بن گئی ۔ ذرّے میں پہاڑ اور پہاڑ میں ذرّہ نظر آنے لگا۔ جو چیز کبھی اہم تھی ، اس کی قدر بے قدر ہو گئی اور بظاہر حقیر دکھائی دینے والی چیزیں دلکش ہو گئیں ۔ معلوم ہوا کہ ہر شے اہم ہے اور جدا گانہ حیثیت رکھتی ہے ۔ گو کہ یہاں کچھ بھی اہم نہیں۔

دل چاہتا تھا کہ چیزوں کو ویسا دیکھوں جیسا راہ نما دیکھتے ہیں۔ کوئی معاملہ در پیش ہوتا تو ذہن اندر میں آواز کی طرف متوجہ ہوتا ۔ یوں ذہن دیکھنے کی نئی اور انوکھی طرزوں سے واقف ہوا۔ ایسا بھی ہوا کہ جن اشیا کی طرف میں نے کبھی دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی ، میرے لئے پُرکشش ہو گئیں اور جن کو میں خوب صورت سمجھتی تھی ، ان سے توجہ ہٹ گئی۔

مختلف تجربات و مشاہدات سے سبق اچھی طرح یاد ہو گیا کہ ظاہری خوب صورتی اور ظاہری بد صورتی کی اہمیت نہیں۔ بعض لوگ معصوم اور خوب صورت دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے اندر کا تعفن چند ساعت میں اعصاب کو بوجھل کر دیتا ہے ۔ جب کہ ایسے لوگ ہیں جن کی لہریں لطیف ہوتی ہیں اور ہم خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرتے ہیں۔

(قسط : ۳)

 

 


 

Topics