Topics
یہ شہر جہاں میں پیدا ہوئی ، مجھے
اس سے انسیت تھی کہ ایک عمر یہاں گزاری ہے ، راہ نما کے یہاں سے روانہ ہوتے ہی یک
دم بے رونق اور ویران ہو گیا۔ دل بے قرار ۔ آنکھیں اشکوں سے تر تھیں ۔ وقت تھم گیا
تھا۔ راہ نما کو شہر سے گئے دو ماہ ہو چکے تھے۔ کیفیت کا عکس خواب میں منتقل ہوا
تو جواب ، خواب کے ذریعے ملا۔
حکم ہوا ۔ بھائی کے ساتھ آجاؤ۔
والد نے فراخ دلی سے جانے کی اجازت
دے دی ، اس بار والدہ کی طرف سے مخالفت ہوئی۔ بھائی بھی دید کا خواہاں تھا۔ ہم
دونوں بہن بھائیوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ۔ والد کو مطمئن دیکھ کر باآخر والدہ
مان گئیں۔ ہم نے اللہ کا شکر ادا کیا اور تیاری میں مصروف ہو گئے۔
راہ نما کا قیام جس شہر میں تھا ،
بچپن میں ایک بار وہاں جانا ہوا ۔ ہوٹل کی کھڑکی سے روشنیوں سے جگمگاتے ہوئے شہر
کو دیکھ کر ایسا لگا کہ ہم اپنے شہر سے بہت دور آگئے ہیں ۔ سوچا نہیں تھا کہ یہ
شہر کبھی دل میں بس جائے گا۔
ادب کا سفر مادی راستوں پر نہیں دل
میں طے ہوتا ہے ۔ راستے کی طوالت معانی نہیں رکھتی۔ آدمی مہینوں ہمسائے کے گھر
نہیں جاتا مگر عقیدت کی شاہراہ پر میلوں میل سفر کرتا ہے اور تھکتا نہیں ہر بار
نئے عزم سے ہمکنار ہوتا ہے ۔
فاصلے سمٹ گئے تھے ۔ محسوس ہوا کہ
جیسے ہی دروازہ کھلے گا ، منزلِ مقصود سامنے ہوگی۔
مقررہ روز ریل گاڑی میں سوار ہوئے۔
اپنے شہر سے راہ نما کے شہر کا راستہ عقیدت و احترام اور ادب میں گزرا۔ ادب و محبت
کا راستہ سیدھا چوکھٹ تک پہنچاتا ہے۔ نظر بھٹکتی ہے نہ خیال ۔ ہر سانس میں مہک اور
خیر و برکت شامل ہوتی ہے۔
میں نے راستوں کو مسکراتے اور
درختوں کو ہاتھ ہلاتے دیکھا۔ آگے بڑھتی ریل گاڑی اور پیچھے جاتے مناظر عجیب لطف دے
رہے تھے۔ دل کہہ رہا تھا کہ قیمت بے قیمت کرنے سے ہی گوہرِ مقصود حاصل ہوتا ہے۔
عجب آشفتہ سری (دیوانگی) تھی جو
خود سے بے خود کر رہی تھی۔ اندر کی کیفیت باہر کے مناظر پر طاری تھی ۔ لگتا تھا کہ
ان سے ملنے کی خوشی میں ریل گاڑی کی پٹری لپٹ رہی ہے۔
علم کا راستہ ، تسلیم و رضا کا
راستہ ہے ۔ میں نے سوچا کہ پتہ نہیں وہ کیا بات کریں گے ؟ دل نے فیصلہ کیا کہ وہ
جو کہیں ، سمجھ میں آئے یا نہ آئے ، ہمیں تعمیل کرنی ہے ۔ ریل گاڑی کی آواز اندر
کی صدا میں ڈھل گئی۔
سفر میں بعض مقامات پر مٹی اور ریت
کے ذرّات اٹھے ، کھڑکی کھلی تھی ، ہم بصد شوق کھلی کھڑکی کے پاس بیٹھے تھے ، چہرے
اور بال مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔کبھی کبھی حلق میں مٹی کا ذائقہ محسوس ہوتا۔احساس ہوا
کہ مٹی میں کوئی خاص ببات ہے جو لطف دیتی ہے۔
اپنی ڈائری کھولی ، لکھا تھا :
سر میں دھول چہرہ تاباں پر دھول
مہکتی ہوئی دھول کے لباس میں مستور
ہوں
یہ غبارِ خاک ہے یا غبارِ خاص ہے
اس رہِ یار کی مٹی میں مسرور ہوں
یوں پہلا مرحلہ تمام ہوا اور شہر
کو سلام ہوا۔
ریلوے اسٹیشن سے منزلِ مقصود تک
سفر بھی یاد گار ہے۔ نظر بار بار آسمان کی طرف اٹھتی اور شکر بجا لاتی۔ گاڑی مختلف
علاقوں سے گزر رہی تھی اور میں اس شہر کو ایسے دیکھ رہی تھی جیسے پہلی بار کوئی
شہر دیکھا ہو۔ پھر دور سے قطار در قطار گہرے سبز درختوں کے بیچ سفید عمارت دکھائی
دی۔ جن راستوں سے گزر کر ہم آئے تھے ، ان میں یہ علاقہ منفرد تھا۔ سچ کہتے ہیں کہ
اللہ والے ویرانے آباد کر دیتے ہیں۔ وہ جہاں ہوتے ہیں ، اللہ کی محبت کی خوش بو
پھیلا دیتے ہیں ۔ مخلوق خوش بو کی کشش میں جوق در جوق آتی ہے اور جنگل میں منگل ہو
جاتا ہے۔
ٹیکسی مرکزی دروازے پر رکی جہاں
سنہری زنجیر کے ساتھ بڑی گھنٹی آویزاں تھی۔ زمانہ جدید میں قدیم یاد گار ۔۔دل کو
اچھی لگی۔ گھنٹی بجاتے ہی ٹن ٹن کی گونجار سے خاموش فضا میں جلترنگ ہوگئی۔ دروازہ
کھلا۔۔۔ نظر بڑی راہداری کے آخرمیں جالیوں تک گئی اور قدم رک گئے۔ بتایئے جب کوئی
خواب میں دیکھا ہوا مقام بیداری میں دیکھ لے تو کیفیت کیا ہوگی ۔۔؟
چپے چپے سے سرشاری جھلک رہی تھی۔
اپنائیت کا احساس تھا۔ پُرسکون ماحول ، تازگی اور نورانیت اس جگہ سے صدیوں کی
انسیت کا پتہ دیتی تھی۔ رنگ رنگ پھولوں سے بھرے گلستان نے ہمارا استقبال کیا۔ یہ
جگہ ہمیں۔۔اچھی لگی۔ ترتیب ، نفاست اور خوب صورتی شاہد تھی کہ گلستان کو بڑی محبت
سے آراستہ کیا گیا ہے۔
ہمارا قیام مہمان خانے میں تھا۔
سامان رکھا اور تازہ دم ہوئے۔ گھنٹے کی جلترنگ گونجی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کے ساتھ
جلترنگ کا تاثر ہمارے لئے نیا تھا۔ معلوم ہوا کہ کھانے کے لئے لنگر خانے میں آنے
کی اطلاع گھنٹے کے ذریعے دی جاتی ہے ۔ لنگر خانے گئے۔ یہ صاف ستھرا کشادہ کمرا تھا
، دریاں بچھی ہوئی تھیں اور دستر خوان پر ترتیب سے کھانا چنا گیا تھا۔ کھانے میں
روٹی سالان کے ساتھ اچار، چٹنی، سلاد اور میٹھے میں گڑ تھا۔ خوش بو سے بھوک بڑھ
گئی۔ بہت سنا تھا کہ لنگر میں شفا ہے۔ ہر نوالے کے ساتھ ایسا لگا کہ خوشیاں داخل
ہو رہی ہیں۔
نگاہیں راہ نما کو تلاش کر رہی
تھیں۔ محسوس ہوا کہ وہ آس پاس ہیں اور ہمیں دیکھ کر تبسم فرما رہے ہیں۔ سچ ہے کہ
ماحول پر ملکوتی مسکراہٹ محیط تھی اور یہی وہ مقناطیس تھا جس کی بنا پر یہاں آنے
والوں کو یکسوئی حاصل ہے۔
کھانے کے بعد ہم انتظامیہ کے آفس
گئے ۔
وہاں استفسار ہوا کہ آپ لوگ کام
کریں گے یا آرام کریں گے؟
ہم نے فوراً کہا ، جی ، کام کریں
گے۔
ہمیں ایک کمرے میں لے جایا گیا
جہاں بڑی میز پر خطوط کے ڈھیر (جو راہ نما کے نام تھے) کی جانب اشارہ کرتے ہوئے
ڈیوٹی دی گئی کہ خط کھول کر کاغذ سیدھا کریں اور جوابی لفافے کو کامن پن کی مدد سے
خط کے ساتھ منسلک کر دیں۔
یہ پریشان حال لوگوں کی جانب سے
مسائل اور الجھنوں سے متعلق خطوط تھے تاکہ اللہ کے دوست مسائل سے نکلنے کی راہ
تجویز کریں۔
ہمیں حیرت ہوئی کہ جن خطوط کو
کھولنے کے لئے کئی لوگ ہیں ، راہ نما تنہا ان کو پڑھ کر جواب کیسے دیتے ہیں۔
دو تین بار جی چاہا کہ خطوط پڑھ
لوں مگر یہ سوچ کر توجہ تبدیل کی کہ ہمارا کام لفافہ کھولنا ہے ، پڑھنا نہیں، پڑھ
لیا تو خیانت ہوگی۔
ڈیوٹی پر موجود بہن بھائیوں نے
بتایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ راہ نما نے اپنے نام آنے والا کوئی خط نہ پڑھا ہو
۔ یہ سن کر دل نے کہا، جو لوگ اللہ کی رضا کی خاطر خود کو خدمت کے لئے وقف کر دیتے
ہیں ، ان کے در سے سائل خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔
معلوم ہوا کہ بزرگ بیرونِ ملک دورے
پر گئے ہوئے ہیں۔ ہمیں یقین نہیں آیا۔ وجہ یہاں ان کی موجودگی کے احساس میں شدت
تھی۔
ہمارے چہرے پر بے یقینی کے تاثرات
دیکھ کر جب کہا گیا کہ آپ کو آنے سے پہلے معلوم کر لینا چاہیئے تھا تو مزید حیرت
ہوئی کیوں کہ اجازت سے ہی آنے کی راہ ہموار ہوئی تھی۔ ہم یہاں کے اصول و ضوابط سے
واقف نہ تھے۔ ایڈریس کی پرچی لے کر گھر سے تین دن کی اجازت کا پروانہ لیا اور عازم
سفر ہوئے۔
ذہن تاریکی میں ڈوبتا محسوس ہوا۔
بھائی نے مجھے اور میں نے بھائی کو دیکھتے ہوئے سوچا کہ اگر ہم ملاقات سے محروم رہ
گئے تو کیا ہوگا؟ بہرحال خدشات کے باوجود دل کو یقین تھا کہ ملاقات طے ہے۔ آنکھیں
بند کر کے اور قلب میں اتر کر رحیم و کریم اللہ سے دعا کی۔ قسمت نے یاوری کی اور
اسی شام راہ نما تشریف لے آئے۔ اچانک آمد پر سب کے اندر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
ان کے کمرے کے باہر تخت کے سامنے
لوگوں کے بیٹھنے کے لئے بڑی چٹائی بچھا دی گئی۔ چہرے خوشی سے دمک اٹھے۔ گاڑی
دروازے پر پہنچی تو سب کے ساتھ میرا بھائی بھی مرکزی دروازے کی طرف گیا۔۔ ایک میں
تھی کہ خطوط کے ساتھ بیٹھی رہی۔ ذہن خالی تھا ۔ کسی نے کہا بہن! شام ہو گئی ہے ،
کام روک دیں۔ بزرگ تشریف لے آئے ہیں۔ آپ باہر آجایئے۔
بعض اوقات ہم خود سے لا علمی کی
بنا پر اپنے آپ کو سمجھنے میں غلطی کرتے ہیں۔ اس لمحے مجھ پر انکشاف ہوا کہ میں
اپنے آپ سے آگاہ نہ تھی۔کہاں اتنا یقین اور اب بے یقینی کی کیفیت۔ اگر اتنے لوگوں
میں انہوں نے نہیں پہچانا پھر؟ خوف کا دباؤ بڑھنے سے سانسیں رکی ہوئی محسوس ہوئیں۔
ٹوٹے پھوٹے قدموں سے باہر آئی اور
پہلی نظر میں بے یقینی دور ہوگئی۔ انہوں نے سر پر دست شفقت رکھا اور دعا دی۔ نہ
صرف پہچان لیا بلکہ نام بھی یاد تھا۔ بس پھر کیا تھا ، عید ہو گئی۔
ایک بھائی کو ہمارے قیام کے بارے
میں استفسار کے لئے طلب کیا۔
میں نے عرض کیا، رہائش کا انتظام
ہو گیا ہے۔
سر کو ہلکا سا خم دیتے ہوئے
مسکرائے اور فرمایا، ٹھیک ہے، گھومو پھرو ، کھاؤ پیو ، خوش رہو۔
بات سنتے ہی ذہن میں آیت گونجی:
”اور ہم نے آدم سے کہا ، اے آدم!
تم اور تمہاری زوج جنت میں رہو اور جہاں سے جی چاہے خوش ہو کر کھاؤ پیو۔“ (البقرۃ : ۳۵)
کویل کی کوک سے آنکھ کھلی ۔ مہمان
خانے سے وضو خانے کا رخ کیا۔ نظر آسمان کی طرف گئی۔ دیکھا کہ چاند بہت دور آسمان
پر ہے لیکن زمین پر کرنوں کی چادر ہے۔ یہ دوری ہے یا قربت یا قربت دوری بن گئی ہے؟
کویل کی سریلی کوک دوبارہ سنائی دی
۔ تلاش کرنے پر قریب موجود درخت پر بیٹھی ہوئی نظر آگئی۔خوش الحان پرندے کی قسمت
پر رشک آیا کہ اس کا مسکن یہ گلستان ہے جہاں اللہ کے ایک دوست مخلوق کو علم ، امن
، احترام انسانیت اور اللہ سے محبت کا درس دیتے ہیں۔
آگے بڑھی تو رات کی رانی اور
چنبیلی کی گہری خوش بو ، پُر کیف ہوا اور لطیف فضا نے وجدانی کیفیت طاری کر دی۔
سپیدہ سحر سے قبل خمار آلود اندھیرے میں راہ نما کا کمرا سچے موتی کی طرح چمک رہا
تھا۔ باغ میں مخملی گھاس پر غنودگی طاری تھی۔ محسوس ہوا کہ پھول ، پتّے ، پودے اور
درخت مراقب ہیں جب کہ رات جاگ رہی ہے۔
میں رات کے آخری پہر کی مدہم روشنی
میں بیٹھ گئی اور رات کو مخاطب کیا :
اے خانقاہ کی حسین رات !
کیا تو بتائے گی تیرے اندر کون کون
سے اسرار چھپے ہوئے ہیں؟ تو خوش نصیب ہے کہ فقیر کے در پر رہتی ہے۔ اس کے ساتھ حمد
و ثنا کرتی ہے ، خوش رہتی ہے اور ہر دکھ سے آزاد ہے ۔ تجھے کیا بتاؤں کہ یہاں سے
باہر کی راتیں عذاب ہیں ۔
اے خانقاہ کی مہربان رات !
تجھے ایک راز کی بات بتاتی ہوں کہ
تیرا اندھیرا ، اندھیرا نہیں ، روشنی ہے ۔ میری طرح تجھے بھی اپنا تشخص روشنی سے
ملا۔ رات کے راہی جب دل کی گلیوں میں راستہ تلاش کرتے ہیں تو آشنائے راز کا مسکن
درست سمت کی نشان دہی کرتا ہے۔ منزل کے نشان آستانے کی چوکھٹ سے ملتے ہیں۔
اے خانقاہ کی پُر نور رات !
تیرے سکوت میں صوتِ سرمدی کو سننے
کی حس بیدار ہوتی ہے ، وعدہ الست کی یاد تڑپ بن جاتی ہے ، خالق کائنات اللہ کی
بندگی اور محبت کی کشش جسم و جان سے بے نیاز کرنے لگتی ہے۔
اے نقطے میں بند سیاہ رات!
تیری آغوش میں ہزار رنگ پھولوں کی
طرح ہمارے رنگ روپ ، نقش و نگار ، نسل اور افتاد ِ طبع الگ الگ ہے مگر اندر میں ہم
ایک ہیں۔ تو ہماری شماریات سے زیادہ نفوس کو اپنی آغوش میں سمیٹ کر اپنا ہم رنگ کر
دیتی ہے ۔
اے یادِ الٰہی میں بیدار مقدس رات!
تیرا تشخص محبوب کے وصل سے ہے۔
جاگتی ہوئی رات تُو گراں قدر ہے۔ ہزار راتیں نظروں سے اوجھل ہوتی ہیں تو شبِ وصال
مسکراتی ہے۔
اے وصل کی تڑپ بڑھانے والی رات!
تیرا ذکر تو کلام پاک میں ہے۔ اللہ
نے رات میں عبادت کی فضیلت بیان کر کے تجھے معرفت کے حصول کا ذریعہ بنایا ہے۔ تیرے
ساتھ جاگ کر بندہ تاریکی سے روشنی میں داخل ہوتا ہے۔
اے وجد میں ڈوبی ہوئی رات!
تیرا اندھیرا اندر باہر کے بت توڑ
دیتا ہے ۔ کوئی شے چھوٹی یا بڑی نہیں رہتی۔ نقش و نگار معدوم ہو جاتے ہیں۔ صرف حس
باقی رہتی ہے جو خدائے واحد کی محبت کو محسوس کرتی ہے۔
اے خانقاہ کی حسین رات !
قدرت مجھے فقیر کے در پر لائی ہے
جو میرے حواس کو تیرے حواس سے ہم آغوش کر کے لاشعور کے راستے کھولے گا اور میری
ویران راتوں کو اللہ کی یاد سے آباد کر دے گا۔
یہ سن کر رات شبنم بنی اور شبنم
ماحول کے پیراہن میں جذب ہو گئی۔
(قسط : ۴)