Topics

کائنات درسگاہ ہے۔جولائی ۔۲۰۲۱

 

احسن الخالقین اللہ بے نیاز اور محبت کا لامتناہی سمندر در سمندر ہے جب کہ ہم محبت کو وہاں تلاش کرتے ہیں جہاں شک اور توقعات ہیں اس لئے ہماری محبت میں ردّوبدل ہوتا ہے ۔ محبت کا روحانی سبق اللہ سے قریب ہے لیکن ہماری توقع مخلوقات کے گرد گھومتی ہے۔

مادیت کیا ہے ؟ کہا جاتا ہے کہ گھر میں آٹا ، چاول اور دال ہوگی تو ہم بھوکے نہیں مریں گے۔ روپیہ پیسہ اور سونا ہوگا تو مستقبل محفوظ ہے ۔ یہ درست ہے کہ غذا اور پیسہ زندگی کی ضرورت ہیں اور وسائل میں شمار ہوتے ہیں مگر یہ دونوں زندگی کے ضامن نہیں۔

یقین کیا ہے ؟ جو حضرت ابو بکر صدیق ؓ کا تھا کہ گھر کا سارا سامان لے آئے اور عرض کیا ، گھر والوں کے لئے اللہ اوراللہ کا رسول ﷺ کافی ہے۔

پہلے بڑے بوڑھے بچوں کو ایمان کی سلامتی کی دعا یاد کرواتے تھے، اب بڑا آدمی بننے کی دعا دی جاتی ہے ۔ بڑی آدمی سے ان کی مراد دولت مند آدمی ہے ۔ یہ مادیت پرستی ہے جب کہ بڑا وہ ہے جس نے رضائے الٰہی میں سر ِ تسلیم خم کر لیا ہے۔

مطلع ابر آلود ہو تو سورج کی شعاعیں چھپ جاتی ہیں اسی طرح شک کے بادل نگاہ اور قلب کے درمیان دھند بن جاتے ہیں اور حقیقت نظر نہیں آتی لہذا کسی پر شک ہو تو اپنے اندر میں شک دور کریں کیوں کہ ہم اندر میں دیکھنے کو دیکھتے ہیں۔

اپنی خوبی اور خامی سے آگاہ ہو کر اس جوہر سے واقفیت ملتی ہے جو قدرت نے ہمارے اندر رکھا ہے۔ ایسے میں حریف سے ہوشیار رہنا چاہئے کہ وہ ہمیں غافل دیکھ کر جال پھینک سکتا ہے۔

حریف کون ہے؟ حریف شیطان کا ہتھیار شک ہے جو ملکیت کا احساس پیدا کر کے عدم تحفظ میں مبتلا کرتا ہے ۔ شک ہماری خامی سے بخوبی آگاہ ہے اور اس کو سیڑھی بنا کر ہم پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ حریف پر غلبے کے لئے اپنی خامی اور خوبی کے علاوہ حریف کی صلاحیت کا بھی ادراک ہونا چاہئے۔

شک سے نجات کیاے ملے؟

نفسیات اور رویوں کا مطالعہ کیا جائے ۔

بشر کے مزاج میں شیطانی افکار کی آمیزش بشری کمزوری کہلاتی ہے جو نظر انداز کئے جانے پر اعلیٰ صفات کے مظاہرے کی راہ میں حائل ہو جاتی ہے۔ ہر اعلیٰ صفت کے مدِّ مقابل ایک صفت منفی ہے جیسے برداشت اور عدم برداشت ، توکل اور مایوسی ، سچ اور جھوٹ ، یقین اور بے یقینی وغیرہ ۔ بسا اوقات ہم بشری خامیوں کا سہارا لے کر پستی میں اتر جاتے ہیں اور اسے بلندی سمجھتے ہیں۔

ماہرین ِ نفسیات نے بشری کمزوریوں کی طویل فہرست مرتب کی ہے ۔ ان میں سے چند یہ ہیں۔

۱۔  مزاج کے خلاف بات برداشت نہ کرنا

۲۔  آج کا کام کل پر چھوڑنا

۳۔ ٹوہ میں رہنا               

۴۔  اپنی رائے کو درست سمجھنا

۵۔ دور اندیش نہ ہونا

۶۔  رعب جھاڑنا

۷۔ معمولی باتوں پر ردِ عمل ظاہر کرنا

صحیح اور غلط کی رسّہ کشی سے نکلنے کے لئے یقین اور ارادے کی قوت درکار ہے۔

ایک وقت تھا کہ عزازیل فرشتوں کا استاد اور مقرب بار گاہ تھا پھر اللہ کے حکم کی عدم تعمیل سے اس کے اندر شک پیدا ہوا ۔ شک نے احساس ِ برتری کو غالب کیا اور وہ ابلیس بن گیا ۔ ابلیس نے یہی شک بابا آدمؑ اور اماں حوا کو منتقل کیا۔ نتیجے میں وہ شجر ممنوعہ کے قریب چلے گئے۔ اس طرح جہاں ابلیس راندۂ درگاہ ہوا، وہاں نوعِ آدم کو بھی نافرمانی پر جنت سے نکلنا پڑا۔ راہ نما فرماتے ہیں۔

”شک کی وجہ سے آدم ؑ سے نافرمانی ہوئی اور وہ جنت چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اولادِ آدم اسی خطا کو دہرا کر دنیا میں آتی ہے ۔ آدمی شک کی نفی کر دے تو یقین کی عملداری قائم ہو جاتی ہے۔“

روحانیت کا پہلا سبق شک سے دوری ہے یعنی باادب با نصیب ، بے ادب بے نصیب۔

شک کی ایک وجہ غیر مستقل مزاجی ہے جس سے ارادہ کمزور ہوتا ہے ، بنے ہوئے کام بگڑ جاتے ہیں اور حالات کا رخ بدل جاتا ہے ۔ مثلاً شادی میں تاخیر یا شادی نہ ہونے کی ایک وجہ شک ہے۔ یہ نہ ہو جائے وہ نہ وجائے کہ خوف کی وجہ سے شک پیدا ہوا اور فرد نے ارادے کی قوت کو اپنے خلاف استعمال کیا۔ اولاد نہ ہونے میں بھی شک رکاوٹ بن جاتا ہے ۔ امتحان میں محنت کی لیکن شک کی وجہ سے نتیجہ محنت کے مطابق نہ رہا۔

ایک صاحب کو بیٹے کی شدید خواہش تھی مگر ہر بار بیٹی پیدا ہوتی ۔ وہ صاحب ِ نظر کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوئے۔ انہوں نے فرمایا،

”بیٹی اللہ کی رحمت ہے۔ جس گھر میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہاں رحمت کے دروازے کھلتے ہیں۔ بیٹیوں سے محبت اور نرمی سے پیش آئیں ، ان کو تعلیم دلائیں اور اچھی تربیت کریں۔ آپ کی قسمت میں بیٹا تھا اور ہے لیکن شک رکاوٹ بن رہا ہے۔“

یقین اصل شعور ہے جس سے اسپیس سمٹ جاتی ہے ۔ جب کسی بات کی تصدیق کرنے کا خیال نہ آئے تو یہ یقین ہے۔ یقین احسنِ تقویم انسان کی بنیادی صفت ہے جو حقیقت اور فریبِ نظر کے درمیان سے پردہ ہٹا دیتی ہے۔ یقین بینائی ہے ، اثبات ہے ، انسانیت کا شعور اور کُن کی گونج ہے۔

قرآن فہمی کے لئے یقین کی قوت درکار ہے جو شک کی وجہ سے دھندلی ہو جاتی ہے ۔ قرآن کے رموز تغیر سے پاک غیر جانب دار ذہن پر کھلتے ہیں ۔ صاحب ِ یقین کے لئے ہر راز ۔ آشکار ، غیب ۔ ظاہر اور لاموجود ۔ موجود ہے۔

ایک نشست میں راہ نما نے فرمایا،

” کام کی تکمیل یقین کی کار فرمائی ہے۔ دوا کھانے سے ہم ٹھیک ہو جاتے ہیں کہ دوا پر یقین ہے ۔“

یقین کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ نیند پر یقین ہے، یقین سے نیند سے آجاتی ۔ بیداری پر یقین ہے، یقین سونے کے بعد بیدار کر دیتا ہے ۔ زندگی کے دائرے میں جتنے مظاہر ہیں ، سب پر یقین کا فارمولا محیط ہے ۔ اس کے بغیر ہم کسی شے کو دیکھ سکتے ہیں اور نہ کوئی ہمیں دیکھ سکتا ہے۔

ہر بچہ صاحبِ یقین پیدا ہوتا ہے لیکن ماں باپ کی تربیت اور ماحول کے رنگ سے اس کے اندر شک پیدا ہوتا ہے یعنی ایک حالت میں موجود ذہن کی توجہ تقسیم ہو گئی ۔ یہ دنیا شعور کی تقسیم کا نتیجہ ہے ۔ اصل شعور ایک ہے جس کا تعلق جنت کی اسپسی سے ہے ۔ جب توجہ جنت کی اسپیس سے ہٹ گئی ذہن ایک مرکز پر قائم نہیں رہا اور تغیر پیدا ہوگیا۔ اگر ہم تغیر سے نکل گئے تو جنت کی اسپیس میں داخل ہو جائیں گے۔

منزل پر پہنچنے کا یقین ہو تو منزل آجاتی ہے۔

کسی لڑکی کی بینائی چلی گئی۔ گھر والوں پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ وہ بیٹی کو لے کر صاحب ِ یقین ہستی کے پاس آئے ۔ بچی کو تکلیف میں دیکھ کر بزرگ کو تکلیف پہنچی اور اللہ سے بینائی لوٹ آنے کی دعا کی۔ دعا قبول ہوئی اور آنکھوں کو بصارت مل گئی ۔

لڑکی کے والد نے ہمیں روتے ہوئے بتایا کہ جب میں راہ نما کے پاس دعا کے لئے حاضر ہوا تو انہوں نے ان الفاظ میں تسلی دی ،

”آپ فکر مت کیجئے ۔ میں نے دعا کی ہے ، اللہ کے فضل و کرم سے بیٹی کی بینائی لوٹ آئے گی ۔ آپ بھی یقین کے ساتھ اللہ سے دعا کیجئے ۔“

ان کے الفاظ خون میں یقین بن کر گردش کرتے رہے پھر جس لمحے کا انتظار تھا ، وہ روشن ہو گیا۔

کائنات درس گاہ ہے۔ روحانی علوم کی اہمیت اکتسابی علوم سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ اکتسابی علوم کا دائرہ فانی حیات تک محدود ہے جب کہ روحانی علوم کا دائرہ ازل سے ابد تک ہے۔

راہ نما فرماتے ہیں :

”روح تعلیم یافتہ اور مادی شعور لا علم ہے ۔“

روح کے ذریعے مادی شعور کو تعلیم سے آراستہ کرنا روحانیت ہے اور روحانیت کے لئے یقین کی روشنی کا شعور میں داخل ہو نا ضروری ہے۔

جب میں نے خواب میں ملنے والی ہدایت کے مطابق قرآن کریم میں تفکر کیا تو خیالات کی سمت تبدیل ہوگئی ۔ نظر میں گہرائی پیدا ہوئی اور وہ چیزیں جن کو میں برسوں سے دیکھتی آئی تھی ، ان کا چہرہ بدل گیا ۔ یہ کیا ہوا؟ کیا تفکر سے چیزیں بدل جاتی ہیں یا ماحول میں یہ تبدیلی صرف میں نے محسوس کی ؟ ادراک ہوا کہ میں پہلے بھی ذہن کے دیکھنے کو دیکھ رہی تھی اور اب بھی ذہن کے دیکھنے کو دیکھ رہی ہوں۔ نگاہ چہرے پر لگی ہوئی دو آنکھیں نہیں ، ذہن ہے۔ ذہن بدلتا ہے ، منظر بدل جاتا ہے ۔ پھر کیا ہمارا دیکھنا مستند ہوا؟ ہو سکتا ہے تفکر میں گہرائی پیداہو تو منظر پھر بدل جائے ۔ ذہن میں آیت آئی،

” اس کتاب میں شک نہیں ، ہدایت دیتی ہے متقیوں کو جو غیب پر ایمان لاتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں اور جو رزق ہم نے دیا ہے ، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“    (البقرۃ : ۲۔۳)

جواب مل گیا تھا ۔ جب ذہن شک سے پاک ہوتا ہے تو دیکھنا مستند ہو جاتا ہے۔

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جو بات ہمارے ذہن میں ہو ، راہ نما اس کا جواب دے دیتے ہیں۔ اپنی ایک ضعیف سہیلی کے ساتھ ان سے ملاقات کے لئے جا رہی تھی ۔ ریل گاڑی کا سفر تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میرے مرحوم بھائی خواب میں آ کر کہتے ہیں ، جوڑا دو۔

میں نے کہا ، باجی جوڑا خرید کر ایصال ِ ثواب کر دیں ۔ آپ کے بھائی منتظر ہیں۔

سہیلی کہنے لگیں ، یاد رہا تو کر دوں گی۔ پھر انہوں نے یہ کہہ کر ارادہ بدل لیا کہ میرے مرحوم بھائی بھی راہ نما کے شاگرد تھے۔ شاگرد جانیں اور ان کے استاد جانیں۔

اس بات کو سال گزر گیا۔

ہم دونوں ایک بار پھر ریل گاڑی میں بیٹھے تھے اور منزل ایک تھی۔ خاتون نے کہا، کل پھر خواب دیکھا ہے۔ بھائی دروازے پر کھڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ جوڑا دو۔ میں (راقم الحروف) نے ایصالِ ثواب پر اصرسر کیا تو وہ جھنجھلا کر کہنے لگیں ، جوڑا ضروری ہوا تو راہ نما کو خبر ہوگی۔ اب وہی جانیں ۔

خاتون کا رویہ میری سمجھ سے باہر تھا۔

خانقاہ پہنچنے پر جب راہ نما سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے ہمیں دیکھتے ہی ایک مرید سے فرمایا ، بغیر سلا ہوا اچھا سا جوڑا لائیں۔

وہ جوڑا لے آئے تو راہ نما نے جوڑا خاتون کی طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا ، لیں بھئی یہ آپ کے مرحوم بھائی ڈاکٹر کے لئے ہے۔ میری طرف سے ان کو ایصالِ ثواب کر دیں۔

خاتون رونے لگیں اور ایصالِ ثواب میں کوتاہی پر غلطی کا احساس ہوا۔

 

 


 

Topics