Topics

ٹیم ورک ۔ مارچ ۲۰۲۲ء

 

راہ نما مغرب کے وقت قرآن کریم کی تلاوت فرمارہے تھے۔ اس آیت پر پہنچ کر رک گئے۔

”ان میں سے موتی اور مونگا نکلتا ہے۔ تو اپنے رب کی کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟“

(الرحمٰن : ۲۲۔۲۳)

انہوں نے فرمایا ، اللہ تعریف کرتے ہیں، ہمیں بھی کرنی چاہیئے۔ کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیئے ۔ تم بھی تعریف کیا کرو۔ کبھی کسی کے گلے میں ہار بھی ڈال دیا کرو۔

جو بھائی بہن وہاں موجود تھے انہوں نے حکم کی تعمیل کا عزم کیا۔

کسی نے عرض کیا، حضور! نظر کرم کیجئے۔

فرمایا ، نظر تو ہوتی ہی کرم کی ہے۔

کچھ اور باتیں ہوئیں پھر محفل برخاست ہوگئی۔

میں نے سوچا کہ ہم انفرادی اور اجتماعی طور پر گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہیں۔ ہماری پہچان ایک ہے مگر اختلافات کا شکار ہو کر خود کو آفاقی فیض سے محروم کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے،

” اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، صبر سے کام لو۔ یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“  (الانفال : ۴۶)

تعریف اور حوصلہ افزائی سے انفرادیت اور اختلافات کا حصار ٹوٹتا ہے، ٹیم ورک کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور کام کرنے کی استعداد بڑھتی ہے۔

ایک نشست میں ہم سے فرمایا ، یہاں نمبروں کی دوڑ ہے۔ تھوڑا سا کام کر کے خواہش ہوتی ہے کہ نمبر مل جائیں جب کہ شاگرد کا کام یہ ہے کہ وہ سوچے وہ استاد کے لئے کیا کر سکتا ہے اور ابھی تک کیوں نہیں کیا۔

ایک اور موقع پر فرمایا ، قانون یہ ہے کہ کسی کام کو کرنے کے لئے ایک بندے کے پیچھے (بیک اپ کے لئے) 10 بندے تیار ہوتے ہیں۔ یہ فقیر کی آپ پر شفقت ہے کہ وہ آپ سے کوئی کام کروالے اور اس کے ذریعے آپ کے اندر خوابیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر دے۔ صلاحیتیں ہر فرد کے اندر ہوتی ہیں لیکن ہر فرد کو صلاحیتوں کے اظہار کا موقع نہیں ملتا۔

قدرت کا نظام ٹیم ورک ہے۔ آسمان ، زمین ، باد ، ہوا ، بارش ، سورج ، چاند ، ستارے ، موسم، پرندے ، درخت ، پھل ، پھول وغیرہ ٹیم ورک کی مثال ہیں۔ سب پر اجتماعی شعور غالب ہے اور ہر ایک کائناتی ٹیم کا فعال رکن ہے۔

خواب کی دنیا پر غور کریں تو وہاں اجتماعی شعور غالب ہےکیوں کہ ہم نیوٹرل ہوتے ہیں اور خیال میں اپنے معانی نہیں پہناتے۔ اس وقت ہم کائناتی ٹیم کا حصہ ہوتے ہیں ۔ اگر ہم بیداری میں بھی انہی حواس میں رہیں تو نیند کی دنیا کی صلاحیتیں بیداری میں منتقل ہو جائیں گی۔

ایک مرتبہ راہ نما نے ہدایت فرمائی کہ روزانہ ایک یا دو افراد کا کھانا کسی غریب یا مسافر کو دے دیا کرو۔ میں نے اس عمل کو معمول بنا لیا۔

ایک روز خواب میں خود کو گھر کی چھت پر کھڑے دیکھا۔ گھر سے دور کسی چھت پر مردانِ غیب کا جم غفیر نظر آیا ۔ وہ باتیں کر رہے تھے اور میں ان کی آواز سن سکتی تھی ۔ کہہ رہے تھے کہ ،

”فلاں مکان نمبر والے کہاں چلے گئے۔ ان کا ایک کام بہت مقبول تھا۔“

میں چونک گئی کہ یہ تو اس گھر کا پتہ ہے جسے ہم فروخت کر چکے تھے۔ ان میں سے ایک صاحب کے پاس سات سو پچاس روپے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ کھانا تقسیم کرنے کے عمل میں ان کا حصہ بھی ڈالا جائے۔ ان کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہی رقم میری ہتھیلی پر موجود تھی۔

نیند سے جاگنے کے بعد حیرت ہوئی کہ جب اللہ کی مخلوق کے لئے کچھ کیا جاتا ہے تو اس کام میں مردانِ غیب شامل ہو جاتے ہیں۔

کائنات کے نظام میں بارش ، دھوپ ، زمین کی گردش ، موسموں کا تغیر سب ٹیم ورک ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ بارش صرف شمال سے آنے والی ہواؤں کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے سے حضرت امام غذالی ؒ نے اپنا ایک مشاہدہ لکھا ہے۔

”مشرقی ہوا بادلوں کو اوپر کی طرف لے جاتی ہے ۔ شمالی ہوا بادلوں کے ٹکڑوں کو یکجا کرتی ہے۔ جنوبی ہوا بادلوں کو ٹپکنے کے قابل بناتی ہے اور مغربی ہوا قطرات کو بارش میں تبدیل کر کے زمین کو سیراب کرتی ہے۔“

زمین کائناتی نظام کی ہم قدم ہے ، ایک انچ انحراف نہیں کرتی ورنہ موسموں کی بیلٹ یکایک تبدیل ہونے اور دیگر نتائج سے وہ حشر برپا ہو گا کہ زمین اور اس پر رہنے والوں کا وجود مٹ جائے گا۔ نظامِ کائنات میں اجتماعیت ہے اور ٹیم ورک اجتماعیت کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔

خانقاہی نظام کا مقصد نوعِ انسانی کو اپنے اندر روحانی صلاحیتوں سے واقف کروا کر خالقِ کائنات کا قرب حاصل کرنا ہے۔

خانقاہ میں ٹیم ورک کی صورت میں کام کرنے کی وجہ سے تربیت کے بھر پور مواقع میسر آتے ہیں۔ مثلاً غصے پر قابو پانا ، معاف کرنا، باہم انحصار، رواداری ، فرماں برداری ، خلوص ، ایثار اور محاسبہ۔

بڑی ٹیم کا حصہ بننے کے لئے حو صلہ اور ظرف بھی بڑا ہونا چاہیے کیوں کہ بڑے مقصد کے لئے بڑی قربانی دینی پڑتی ہے۔ قربانی سے دریغ نہ کرنے والا کامیاب ہوتا ہے۔

ایک بار فرمایا ، کوئی تمہیں اچھا نہ سمجھے تو اس کی پرواہ نہیں کرنا ، اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں لگی رہنا۔ میں نے یہ بات لکھ لی۔

اصل میں لوگ الوژن میں مبتلا نہیں کرتے، ہم خود الوژن میں پھنس جاتے ہیں ۔ جب نظر سے فریب کا پردہ ہٹتا ہے تو مطلع صاف ہو جاتا ہے۔ راہ نما کے الفاظ طاقت بن جاتے ہیں۔ میں انہیں بار بار پڑھتی ہوں۔

تربیت کے حوالے سے ان کا اعجاز ہے کہ وہ ذمہ داری سونپ کر شخصیت کو تراشتے ہیں اور سوچ کو نکھار کر باطن آشکار کر دیتے ہیں ۔ یہی مقصدِ حیات ہے۔ بات کو یوں سمجھیے کہ دو افراد خانقاہ میں آئے اور خود کو خدمت کے لئے پیش کیا۔ ایک کو جوتے ترتیب سے رکھنے کی ذمہ داری سونپی گئی اور دوسرے کو دفتری امور انجام دینے کے لیے میز کرسی دی گئی۔ اب اگر جوتے سیدھے کرنے والا شکوے شکایات کے بغیر ڈیوٹی پوری کرتا ہے تو باطنی بالیدگی کا سفر جاری رہتا ہے۔ دوسرا فرد زعم میں مبتلا ہو جائے کہ مجھے میز کرسی دی گئی ہے تو راستہ کھوٹا ہو جائے گا۔

راہ نما لنگر خانے کی طرف جا رہے تھے ۔ سامنے سے کسی ڈیوٹی پر مامور ایک بھائی آ رہے تھے۔

ان سے پوچھا، آج آپ یہاں کتنی مرتبہ گزرے ہیں؟

عرض کیا ، جی دو تین مرتبہ۔

ایک پودے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قدرے خفگی سے فرمایا ، کیا آپ کو آتے جاتے یہ پودا نظر نہیں ایا؟

عرض کیا، جی آیا تھا۔

فرمایا، پھر آپ کو یہ خیال نہیں آیا کہ پودا خشک ہو رہا ہے ، اسے پانی کی ضرورت ہے؟ وہ بھائی خاموشی سے نظریں جھکائے کھڑے رہے۔

فرمایا ، آپ نے عقاب دیکھا ہے کتنی بلندی پر اڑتا ہے لیکن شکار نظر آتا ہے تو اس پر جپٹ پڑتا ہے ۔ آپ لوگ بھی عقاب بن جائیں ۔ جب کوئی کام نظر آئے ، اسے کرنے میں پہل کریں۔

انہوں نے لطیف پیرائے میں نشاندہی فرمائی کہ جو کام کر سکتے ہو ، اسے اس بنیاد پر مت چھوڑو کہ یہ میرا کام نہیں ، فلاں صاحب یا صاحبہ کا ہے ۔ یہ سوچ روحانی سفر میں رکاوٹ ہے۔

اٹھتے بیٹھتے سوچتی تھی کہ اپنے محلے میں لوگوں کی خدمت کے لیے کیا کر سکتی ہوں ۔ ایک روز خیال آیا کہ ٹھنڈے میٹھے پانی کی سبیل لگانی چاہیے ۔ یہ چھوٹا سا کام تھا لیکن میرے ذہن نے مٹکے سے قطار قطار لوگوں کے پانی پینے کی تصویری شکل دیکھ کر قلبی خوشی حاصل کی تھی۔ جب گھر میں تذکرہ کیا تو سب نے مخالفت کی کہ سوسائٹی کے ہر گھر میں پانی ہے جو بغیر تعطل کے مل رہا ہے پھر یہ پانی کون پیئے گا؟ البتہ والدہ نے ساتھ دیا ۔ ان کے ساتھ جا کر بازار سے بڑا مٹکا خریدا ۔ اسے دھو کر گھر کے سامنے خالی پلاٹ میں ایک درخت کے نیچے رکھا۔

وہ دن یاد ہے جب گلی میں جس نے سنا ، گھر سے نکلا اور حیرت کا اظہار کیا کہ آپ بے کار میں خود کو تھکا رہی ہیں ۔ یہ پانی کوئی نہیں پیئے گا۔

جواب میں ایک جملہ کہا ، ہر شخص اپنی خوشی کے لئے کام کرتا ہے ، نتیجہ نہیں دیکھتا ۔ میں اپنی خوشی کے لئے کر رہی ہوں ۔

پانی کا مٹکا دیکھ کر البتہ بچے بہت خوش ہوئے اور تالیاں بجائیں۔ مٹکا پانی سے بھر گیا تو میں نے بہن کے ساتھ مل کر اس پر پھولوں کا ہار ڈالا اور دو گلاس زنجیر کے ساتھ باندھ کر رکھے ۔ مٹکے میں سے مٹی کی سوندھی سوندھی خوش بو آرہی تھی۔ دیکھ دیکھ کر دل نہیں بھرتا تھا۔

مغرب ہونے کو تھی کہ والد صاحب نے باہر آکر مسکراتے ہوئے کہا، بیٹیو! اب گھر آجاؤ! کہیں مٹکے کی پوجا نہ شروع کر دینا۔

اگلے چند روز میں آئس کریم والے اور سبزی فروش گلی سے گزرتے ہوئے مٹکے کے پاس رکنے لگے اور پانی پیتے۔ ہم چھپ چھپ کر دیکھتے تھے۔ خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ گاڑیاں بھی مٹکے کے پاس رکنے لگیں ۔ قصہ مختصر ۔ دوپہر کو مٹکا خالی ہو جاتا تھا ۔ ہم مزید پانی ڈالتے تھے۔

جب میں مٹکے میں پانی بھرتی تھی تو میلے کا سماں ہوتا تھا۔ وہ ہمسائے جنہوں نے مخالفت کی تھی ، آتے اور اصرار کرتے کہ دیکھو تمہاری مہربانی ہو گی ، نیکی کا کام اکیلے نہیں کیا جاتا ، ہمارا حصہ بھی ڈال لو۔ طے ہوا کہ مٹکے میں پانی صبح میں ڈالوں گی، دوپہر کو سامنے والے اور شام میں برابر والے۔ اس طرح یہ ٹیم ورک ہو گیا ۔ میں نے اس کا نام خوشیوں کا مٹکا رکھا۔

سوچتی تھی کہ چند آنسوؤں کا خراج دے کر اتنی خوشیاں حاصل کر لیں۔ یہ خوشیاں گلی کے سارے گھروں میں پھیل گئیں۔ لگتا تھا کہ لوگ اس میں پانی کی جگہ خلوص انڈیل رہے ہیں ۔

یہ سلسلہ تقریباً ڈیڑھ سال جاری رہا۔

ایک روز گلی سے بچہ بھاگا بھاگا آیا اور اطلاع دی کہ کچھ لوگ مٹکا ریڑھی پر رکھ کر لے جا رہے ہیں۔ توقف کے بعد میں نے بچے سے کہا، ہماری خوشیوں کا مٹکا چوری نہیں ہوا، اڑ کر مشک بن گیا ہے، اب اس میں سے بادل بنیں گے، یہاں وہاں تیریں گے اور برسات ہوگی۔

مطلب یہ تھا کہ ہم نے خوشی کا راز پا لیا ہے جسے ہم اب ترک نہیں کریں گے ۔ خوشیوں کے مٹکے نے ہمیں ایک ٹیم بنا دیا تھا۔

ایک روز درخت کٹ گیا۔ صبح پانی ڈالنے کے لئے نکلی تو دیکھا کہ خالی پلاٹ پر اینٹیں رکھ دی گئی ہیں اور نیا مکان بننے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اس عمل نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ۔


 

Topics