Topics

عالمِ رویا ۔ستمبر ۲۰۲۴ء

 

اللہ تعالیٰ کے دوست جن کو قرآنِ کریم میں اولیاء اللہ کہا گیا ہے، خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کے روحانی علوم کے وارث ہیں۔ اولیاء اللہ کی حیات انبیاء کرام علیہم السلام کی اطاعت ہے اور اسی کی تلقین وہ عوام کو کرتے ہیں۔ اطاعت گفتگو کا جوہر ہے اور گفتگو میں حواس ایک مرکز کے گرد گھومتے ہیں۔ ایسے میں تعمیلِ حکم جنون بن جاتی ہے۔ اگر اپنی طرزِ فکر جاننی ہے تو رات دن کے اعمال دیکھئے؛ یہ ذہن میں بننے والی تصویروں کا عکس ہیں۔ ارادہ کرتے ہی دماغ کے آئینے پر تصویر بنتی ہے، پھر تصور میں رنگ بھرتے ہیں جس کو عمل کرنا کہتے ہیں۔

تصوف کا نصاب راست طرزِ فکر ہے۔ پیر و مرشد سے عشق کی لہریں مرید کے اندر طرزِ فکر کا تانا بانا ہیں اور افکار و اعمال اس کا مظاہرہ ہیں۔ ایک مرتبہ بزرگ دوست نے فرمایا: ”مصلحتیں استعمال کرنے سے طرزِ فکر میں الوژن (فریبِ نظر) پیدا ہوتا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ میں سے ایک مثال بھی سامنے نہیں آتی جب ذاتی مصلحت مقصد کے مقابل آئی ہو، بلکہ ذہنِ محمدی ﷺ ذاتِ باری تعالیٰ کے احکام کی تعمیل ہے۔ ”وہ اپنی خواہشِ نفس سے نہیں بولتے، یہ وحی ہے جو ان پر نازل کی جاتی ہے۔“ (النجم : ۳۔۴)

اللہ کے دوست فنا فی الرسول ﷺ ہوتے ہیں۔ ان کے وجودِ جہاں بہار سے رسول اللہ ﷺ کی طرزِ فکر کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ وہ قول و فعل سے قوم کی اصلاح کر کے علم کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ اولیاء اللہ خواتین و حضرات نے ہر دور میں حوصلے اور جرات کے ساتھ صبر آزما حالات کا سامنا کیا ہے اور رحمۃ للعالمین ﷺ کے لیے جان و مال کے نذرانے پیش کرنا باعثِ سعادت اور خوشی سمجھا ہے۔ اسی وابستگی کی بنیاد پر انہیں اللہ اور رسول ﷺ سے محبت کی نسبت عطا ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”یہ پیغمبر ﷺ آپ کو جو دیں، وہ لے لو اور جس سے منع فرمائیں، اس سے رک جاؤ۔“ (الحشر : ۷)

خاتم النبیین ﷺ کے ہر حکم میں رحمت ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ کی محبت میں کوئی عمل کیا جاتا ہے تو باطن میں عقیدت کے انوار بیدار ہونے سے لطائف رنگین ہو جاتے ہیں اور کلامِ الٰہی کو سمجھنے کی فہم حاصل ہوتی ہے۔ یہ فہم ایک طرف غورو فکر کی صلاحیت پر محیط ہوتی ہے تو دوسری طرف ایک نقطہ میں سمٹ کر نگاہ کا نور بن جاتی ہے۔ نور ۔۔ تجلی سے سرفراز ہوتا ہے۔ اولیاء کرام کو حضوری کے آداب حضورِ پاک ﷺ سے منتقل ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے قلندر بابا اولیاءؒ نے ایک شعر میں فرمایا ہے:

دستِ ادب آموز بڑھا حرمتِ ساقی

مستی میں گرا جاتا ہے پیمانہ کسی کا

اللہ کے دوستوں سے وابستہ لوگوں کے حالات بدل جاتے ہیں اور وہ اصلاحِ حال کو اہمیت دیتے ہیں۔ ایک عزیزہ کے ماموں یورپ جا رہے تھے۔ جانے سے پہلے کچھ رقم صدقہ کرنے کے لیے بھانجی کو دی جسے وہ الماری میں رکھ کر بھول گئیں۔ ایک روز صفائی کے دوران انہیں ۵۰۰ کے نوٹ نظر آئے تو صدقے کی رقم یاد آئی اور وہ گھبرا گئیں کہ اتنا عرصہ کسی کی امانت ان کے پاس رہی۔ کیا اس دوران گزرے ہوئے شب و روز کوتاہی میں شمار ہوں گے۔۔؟ غفلت پہ شرمندگی ہوئی۔ خشیّت کے ساتھ اللہ سے معافی طلب کی اور مسلسل درودِ شریف کا ورد کیا۔ صدقے کے پیسوں میں اپنا حصہ ڈال کر ایک مسافر خانے میں دے دیے۔ خاتون بتاتی ہیں کہ امانت دار کو پہنچائی اور درودِ شریف کا ورد جاری رکھا۔ درودِ شریف کی برکت سے خواب میں آواز سنی۔ کسی نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے درودِ شریف کی برکت سے آپ کا عمل قبول فرما لیا ہے۔“

امتِ محمدیہ ﷺ کے صاحبِ اخلاص خواتین و حضرات کے ایسے بہت واقعات ہیں کہ حالات نے بے بس و مجبور کیا مگر وہ سنتِ رسولﷺ کی پیروی کرتے ہوئے ثابت قدم رہے اور انعام و اکرام سے نوازے گئے۔ جب بندہ دشواری اور آسانی دونوں حالات میں سیرتِ طیبہ ﷺ پر عمل کرتے ہوئے صبر اور شکر کی ردا اوڑھے رہتا ہے تو وہ سرد و گرم میں مستقیم (سیدھا) رہتا ہے۔

ایک صاحبہ کی روداد ان کی زبانی سنیے: وہ کہتی ہیں کہ مجھے ہر پل فکر رہتی ہے کہ میرا کوئی عمل اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کا سبب نہ بنے۔ احتیاط کے پیشِ نظر پسند کے بہت سے کام چھوڑ دیتی ہوں تاکہ ضمیر مطمئن ہو۔ ایسا کرتے ہوئے پہلے پہل خود کو روکنے میں مشکل ہوئی لیکن جب طبیعت ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کی خوگر ہوئی تو زندگی کے معاملات آسان ہو گئے۔ ایک رات عالمِ رویا میں عجیب منظر دیکھا: ”حدِ نظر تک کھیت ہیں۔ چاند کی روشنی میں آدھا کھیت گہرا سبز اور آدھا ہلکا سبز ہے۔ میرے لباس میں بھی یہی دو رنگ ہیں۔ دائیں بائیں انہی رنگوں کے پر لگے ہوئے تھے۔ میں حیرت و استعجاب کی تصویر بنی اس ہوش رُبا منظر کو دیکھتی رہی، پھر تتلی کی طرح اڑ گئی۔ پرواز کے دوران ایک جگہ لوگوں کا گروہ دیکھا جو آپس میں باتیں کر رہے تھے، ازراہِ تجسس پر سمیٹتے ہوئے زمین پر اتری اور ہجوم کے آخر میں کھڑی ہو گئی۔ ایک شخص باقی لوگوں کو بتا رہا تھا کہ یہ خاتون درودِ شریف کا ورد کرتی ہیں، ان کا نام آسمان پر نورانی حروف میں لکھا ہوا ہے۔ یہ سن کر بے قرار ہو گئی اور چاہا کہ نورانی روشنی سے اپنا نام لکھا ہوا دیکھوں۔ اگلے لمحے منظر سامنے آ گیا۔ آسمان کے خلا میں اپنا نام لکھا ہوا دیکھا۔“

محبوبِ رب العالمین ﷺ سے نسبت مستحکم کرنے کے لیے اللہ کے دوست بتاتے ہیں: ”ہر رات سونے سے پہلے اوّل و آخر درودِ شریف پڑھ کر سیرتِ طیبہ ﷺ کا مطالعہ کریں اور تفکر کرتے ہوئے سو جائیں۔“ ۱۸ سال پہلے ایک صاحب نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت سے مشرف ہونے کے لیے بزرگ دوست سے دعا کی درخواست کی۔ محترم دوست نے بتایا: ”آپ اوّل و آخر درودِ شریف پڑھ کر کتاب 'خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ'، جلد اوّل، کا پانچ مرتبہ مطالعہ کریں۔ ان شاء اللہ، زیارت اور قدم بوسی کی سعادت حاصل ہو گی۔“ اللہ کے دوست، حضورِ پاک ﷺ سے روحانی تعلق قائم کرنے کے لیے رات کو سونے سے پہلے غسل کر کے خوبصورت لباس زیبِ تن کرنے، عمدہ خوشبو لگانے اور ۳۱۳ مرتبہ درودِ خضری پڑھنے کی تلقین کرتے ہیں۔

حال ہی میں ایک بھائی نے زیارتِ نبوی ﷺ کی سعادت حاصل کرنے کا عمل دریافت کیا تو بزرگ دوست نے انہیں کتاب ”خاتم النبیین محمد رسول اللہ ﷺ، جلد اوّل“ ۵۰ مرتبہ پڑھنے کی تلقین کی۔ ۱۸ سال پہلے پانچ مرتبہ اور ۱۸ سال بعد ۵۰ مرتبہ سیرتِ پاک ﷺ کے مطالعے کی تلقین۔۔؟ بات ذہن میں آئی کہ دورِ حاضر میں روحانی اور اخلاقی قدروں کے فقدان کی وجہ سے مادیت پرستی اور زر پرستی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ ایسے میں تزکیۂ نفس کی قوت زیادہ سے زیادہ سیرتِ طیبہ ﷺ کے مطالعے اور اس پر عمل سے پوری ہو گی۔ سیرتِ طیبہ ﷺ میں قرآنِ کریم پر تفکر بھی شامل ہے۔ حضرت عائشہؓ سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟“

ایک رات طبیعت بہت بے چین تھی۔ بار بار صحن میں جا کر آسمان کو دیکھتی۔۔ چاند نہ جانے کہاں تھا، بادلوں نے اسے چھپا دیا تھا۔ محوِ خواب ہوئی تو دیکھا: ”ایک صاحب تشریف لائے اور فرمایا، رسول اللہ ﷺ نے آپ کے لیے تحائف بھجوائے ہیں۔ اللّٰھم صل علیٰ محمد“

سیرتِ نبوی ﷺ میں ایسے واقعات موجود ہیں جن میں خاتم النبیین رسولِ کریم ﷺ کے ارشادات اور تحائف عطا فرمانے کی تحریریں موجود ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رسولِ پاک ﷺ کے فیض سے مستفیض فرمائے، آمین۔

 

 


 

Topics