Topics
وہ ایک خوب صورت صبح تھی۔ صحن میں
داخل ہوئی تودیکھا کہ راہ نما تلاوت کلام پاک اور تفکر کے بعد آنکھیں بند کئے قرآن
کریم کو سینے سے لگائے بیٹھے ہیں۔ خاموشی سے ایک طرف بیٹھ گئی۔ محبت و وابستگی کے
اس انداز کو دیکھ کر مجھ پر رقت طاری ہو گئی۔ راہ نما نے خاموش طرز عمل سے اس بات
کی تعلیم دی کہ الفاظ سے معانی کے سمندر میں اترنے والے کا جذبہ محبت اور ہوتا ہے۔
تقریباً پانچ منٹ بعد آنکھیں کھولیں
اور قرآن کریم میری طرف بڑھاتے ہوئے فرمایا ، یہ اللہ کی کتاب ہے ، اگر کوئی اس
رشتے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے کلامِ پاک پڑھے ، معانی کے سمندر میں اترے اور مقدس
کتاب سینے سے لگائے تو وجود میں وائبریشن (ارتعاش) پیدا ہوتی ہے اور انوار منتقل
ہوتے ہیں۔
خاتم النبیین حضور پاک ﷺ نے فرمایا
ہے ،
”آدمی اپنے دوست کے دین پر ہے۔“
اس قانون کے تحت دوست ، دوست کا
مزاج قبول کرتا ہے ۔ تجربہ ہے کہ جب فرد عزیز ، رشتے دار یا دوست سے گرم جوشی سے
مصافحہ کرتا ہے تو وائبریشن محسوس ہوتی ہے ۔ یہ محبت کی لہروں کا منتقل ہونا ہے۔
محبت یا تعلق ِ خاطر کی وجہ سے اس
کیفیت کا محسوس ہونا کیا ہے اور اس سے ذہن اور جسم پر کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں
؟ ماہرین نے اس سوال کو اپنی دانست میں سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔
شمالی کیرو لینا یونیورسٹی کی
تحقیق کے مطابق جب ہم والدین ، بہن بھائی ، رشتہ دار ، دوست یا ساتھی سے گرم جوشی
سے ملتے ہیں تو کرنٹ پیدا ہوتا ہے اور دماغ سے ایک ہارمون نکل کر جسم میں داخل
ہوتا ہے ۔ اس ہارمون کو انہوں نے Hormone
Oxytocin Cuddle کا نام دیا ہے۔ ان کے بقول یہ پریشانی کے ہارمون کو کم کر کے بلڈ پریشر کو
معمول (نارمل) پر رکھتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سکون کی کیفیت
میں دماغ سے جو ہارمون خارج ہوتے ہیں ، ان سے دل کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ ایک
ہارمون ڈوپا مائن خوشی کے جذبات غالب کرتا ہے اور سیر و ٹونن ہارمون ہاضمہ ، نیند
اور مزاج کو متوازن رکھتا ہے۔ ڈوپامائن یکسوئی میں مدد گار ہے ، یہ اس وقت خارج
ہوتا ہے جب ہم کسی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اس ہارمون کی کمی سے جسم میں مندرجہ ذیل
تبدیلیاں محسوس ہوتی ہیں۔
۱۔ تھکن غالب ہوتی ہے۔
۲۔ ذہنی مرکزیت کم ہوتی ہے۔
۳۔ نااُمیدی چھا جاتی ہے ۔
۴۔ بیماریاں حملہ آور ہوتی ہیں۔
ڈوپا مائن ہارمون جسم میں حرکت ،
تحریک اور یاد داشت پر کام کرتا ہے ۔ مختصر یہ کہ جب دو افراد ملتے ہیں تو ان کی
گفتگو کے ساتھ لہروں کا تبادلہ ہوتا ہے ۔ لہروں کی نوعیت کا تعلق آپس کے تعلقات پر
مبنی ہے۔
ذہن جس نقطے پر یکسو ہو ، خواص
منتقل ہوتے ہیں۔ اللہ نے قرآن کریم کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ لفظ
”ٹھہرنے “ کا مفہوم غورو فکر اور ہر طرف سے ذہن ہٹا کر یکسوئی کے ساتھ پڑھنا ہے جس
سے کلامِ الٰہی ذہن کی مرکزیت بن جاتا ہے ، صحیح اور غلط کی سمجھ بوجھ پیدا ہوتی
ہے اور نورانی لہریں منتقل ہوتی ہیں۔
رب العالمیں نے قرآن کو فرقان ،
ہدایت ، شفا، نصیحت ، رحمت ، نور ، حق اور دیگر صفاتی ناموں سے متعارف کروایا ہے۔
کتاب الٰہی کو سینے سے لگانے کا مطلب یہ ہے کہ طرز فکر قرآن کریم کی تعلیمات کے
مطابق ہو اور دل کا دیکھنا نگاہ بن جائے۔
” دل نے جو دیکھا ، جھوٹ نہیں
دیکھا ۔“
(النجم : ۱۱)
راہ نما نے وضاحت فرمائی کہ قرآن
کے فیوض و برکات حاصل کرنے کے لئے آیات کا ترجمہ معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ آیات
پڑھتے ہوئے ان کے معنی و مفہوم سے آگاہی ہو۔ جب کوئی بندہ قرآن پر لفظ بہ لفظ تفکر
کرتا ہے تو رحمت ِ خداوندی سے اس پر کائناتی اسرار منکشف ہوتے ہیں اور وہ اس راز
سے واقف ہو جاتا ہے کہ زندگی اللہ کی صفات پر قائم ہے۔ ایسا بندہ کلامِ پاک کو
سینے سے لگاتا ہے تو جو کیف منتقل ہوتا ہے ، وہی جانتا ہے۔
راہ نما فرماتے ہیں کہ جب بندے کے
قلب میں اللہ تعالیٰ کی محبت جوش مارتی ہے تو وہ قرآن کو سینے سے لگا لیتا ہے کیوں
کہ شعور لمس سے تسکین چاہتا ہے ۔ بندے کا ذہن ایک طرف اللہ پر مرکوز ہوتا ہے ،
دوسری طرف آیات کے مفاہیم کھلتے ہیں اور شعور علم کی گہرائی سے واقف ہوتا ہے۔
خواب دیکھا کہ مسند پر بیٹھی ہوں م
سنہری روشنی کی بارش ہو رہی ہے ۔ ہاتھ میں اللہ کی آخری کتاب قرآن کریم ہے جسے
والہانہ چومتے ہوئے سینے سے لگاتی ہوں ۔ دل سے ہوک اٹھتی ہے ۔ دوبارہ چومتے ہوئے
شدت سے سینے سے لگاتی ہوں۔ عمل کئی بار دہرایا ۔ آنکھیں بھیگ گئیں۔
تین دن بعد راہ نما کی طرف سے
پیغام ملا کہ ”قرآن کریم میں تفکر کریں ،
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ کتاب شک و شبے سے پاک ہے اور یقین کی راہ دکھاتی
ہے۔“
میں نے تفکر کی ابتدا اس آیت سے کی
،
”یہ وہ کتاب ہے جس میں شک نہیں۔
ہدایت ہے متقیوں کے لیے جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔“
( البقرۃ : ۲۔۳)
محسوس ہوا کہ جس آیت کو میں سر سری طور پر پڑھ
کر گزر جاتی تھی ، اس کے ہر لفظ کا مفہوم اس وقت میرے لئے حجاب ہے کیوں کہ میں
ٹھہر ٹھہر کر نہیں پڑھتی۔ جب معانی کی دنیا روشن نہیں ہوئی تو میں پرشان ہو گئی ۔
دن رات آیت کو ذہن میں دہرانا شروع کیا اور اللہ کی رحمت سے ذہن نئی کیفیت میں
داخل ہوا۔
ہم جس کیفیت میں ہوتے ہیں ، جسم اس
کے زیر اثر آجاتا ہے ۔ جسم باادب غلام کی طرح ذہن کا مطیع (اطاعت کرنے والا) ہے۔
ذہن اس کو خیر و شر کے راستے میں سے ایک پر لگا دیتا ہے ۔ خیر کے راستے میں شر کا
خیال نہیں آتا البتہ شر کے راستے پر چلنے والے کو خیر کی اطلاع ملتی رہتی ہے تاکہ
وہ درست روش اختیار کرے اور اشیا کا ظاہری رخ اس کے لئے ثانوی ہو جائے۔
لاشعور نے خواب کے ذریعے قرآن کریم
پر تفکر کی جانب متوجہ کیا تھا ۔ میں خواب کی زبان سے ناواقف ہوں لہذا تین روز بعد
بن کہے استاد محترم کی طرف سے پیغام کی صورت میں خواب کی تعبیر دی گئی۔ دل شکر کے
جذبات سے معمور ہوگیا اور آنسو تشکر بن کر بہنے لگے۔
احساس ہوا کہ قرآن کو سمجھنے کی
راہ میں شک حائل ہے۔ جس کتاب میں شک نہیں، اس کے رموز شک سے متاثر ذہن پر نہیں
کھلیں گے ۔ لاشعور نے راہ نمائی کی کہ شک سے نکلنے کا قفل یقین ہے۔ ذہن میں آیت
روشن ہوئی ،
”اس کو وہی ہاتھ لگاتے ہیں جو پاک
ہیں۔“ ( الواقعہ : ۷۹)
راہ نما کی بات یاد آئی کہ قرآن کو
قرآن کی زبان میں سمجھنا چاہئے یعنی عربی زبان سیکھنا لازمی ہے۔ کلامِ الٰہی جس
زبان میں نازل ہوا ہے ، اس زبان میں سمجھنے کی کوشش سے ذہن یکسو ہوتا ہے ۔
عربی الفاظ پر توجہ مرکوز کر کے
قرآن کریم پڑھا تو انسپائریشن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اندر میں آواز نے کہا، سورہ
واقعہ کی آیت کو اورۃ بقرۃ کی آیت کے تناظر میں سمجھو۔
لاشعور نے بتایا کہ پاک لوگوں سے
مراد جن میں شک نہیں ، جو صاحبِ یقین ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اس کے معانی
سمجھتے ہیں۔
یوں مسئلہ حل ہو گیا کہ جن ذہنوں
میں شک ہے وہ قرآن کو نہیں سمجھ سکتے کیوں کہ کلام پاک کو سمجھنے کی راہ میں حائل
ہے۔ معاشرے میں اس قدر شک ہے کہ جب فرد یقین کی طرف پلٹنا چاہتا ہے تو ساڑھے سات
ارب خواتین وحجرات کا شعور مزاحمت کرتا ہے۔
سورہ الناس میں وسوسہ ڈالنے والے
سے پناہ مانگی گئی ہے ۔ شیاطین جنات کے علاوہ اس صفت کے حامل آدمیوں سے بھی پناہ
مانگی گئی ہے۔ جب کوئی کسی کی حوصلہ شکی کرتا ہے کہ تم فلاں کام نہیں کر سکے یا یہ
کیسے ہوگا تو وہ ”شک“ کے قائم مقام بن جاتا ہے ۔ شک دل کو بیمار کر کے یقین کو
دبیز پردوں میں چھپا دیتا ہے۔
راہ نما فرماتے ہیں کہ ہر اطلاع
روشنی کی معین مقدار ہے۔ جب شک کی مقداریں صفر ہوتی ہیں تو یقین کا پہلا درجہ حاصل
ہوتا ہے۔
شک کیا ہے اور کیسے نشو نما پاتا
ہے ؟
شک علمی سطح پر ہوتا ہے ، مشاہدے
کی حدود میں ختم ہو جاتا ہے۔ کسی چیز کی معنویت سمجھنے کے لئے اس کے دونوں رخ کا
مچالعہ کرنا ضروری ہے۔ ذہن میں سوال آیا وہ کون سی چیز ہے جس سے خلل واقع ہوتا ہے
؟
جواب اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ شک
ہے جس کے مختلف نام ہیں جیسے وہم ، احتمال ، ظن ، ابہام ، اشتباہ ، وسوسہ ، اندیشہ
، خوف ، گمان اور شیطان۔
یقین کیا ہے؟ یقین حقیقت ہے ، اس
میں تغیر، ٹوٹ پھوٹ اور گھٹنا بڑھنا نہیں ۔ یقین ایک حالت میں قائم رہنا ہے۔ یقین
روح کا نور ہے ، قلب کی آنکھ ہے اور اللہ کا امر ہے۔
16 مارچ 2013ء کو چند سائنس دان
کسی شے کے میکانزم کو سمجھنے کے لئے حاضر ہوئے۔
راہ نما نے ان صاحبان سے فرمایا ،
آپ میرے پاس کیوں آئے ہیں ، میں پڑھا ہوا نہیں ہوں، آپ تو ماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم
یافتہ ہیں۔
اس پر سائنس دان اصرار کرتے رہے کہ
آپ جانتے ہیں، ہماری راہ نمائی فرمائیے۔
راہ نما نے شفیق انداز میں فرمایا
، میرے پاس حقیقت ہے اور آپ کے پاس فکشن ہے۔ آپ لوگ کوئی نظریہ قائم کرتے ہیں ،
کچھ وقت یا چند سالوں بعد اس کی تردید کر دیتے ہیں اور نیا نظریہ قائم کرتے ہیں
پھر تردید کرتے ہیں۔ آپ کے پاس جو علم ہے وہ میرے پاس نہیں اور جو علم میرے پاس ہے
، ابھی آپ اسے نہیں جانتے۔
اس کے بعد راہ نما نے ان کے سولاوں
کے تفصیل سے جواب دیئے۔
یقین کی کیفت پر غور کرتے ہوئے میں
ماضی میں داخل ہوئی جب میں پانچ یا چھ سال کی تھی۔ خوش خطی کے لئے تختی لکھوائی
جاتی تھی ۔ ایک شام درست لفظ نہ لکھنے پر پٹائی ہوئی۔ روتے روتے ہچکی بندھ گئی۔
پانی پینے کا حکم ملا۔
پانی پینے اٹھی ، جسم میں جان نہیں
تھی۔ پانی پینا مشکل ہو گیا۔ نجانے کیوں وضو کرنے کا خیال آیا۔ وضو کرتے ہوئے کلی
کرنے کے لئے پانی منہ میں ڈالا تو نگاہ آسمان کی طرف اٹھی اور محسوس ہوا کہ آسمان
مسکرا رہا ہے۔ سرگوشی ہوئی ”مت رو“۔
میں ہنس دی ، ہچکی رک گئی حالاں کہ
عام حالات میں ہچکی رکنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے ۔ سرگوشی سن کر غم تحلیل ہوگیا
۔ وہ لمحہ یقین تھا۔
آج غور کیا تہ نکتہ کھلا۔ غیر مادی
آواز غیر مادی حواس نے سنی ۔ یقین کی کیفیت اتنی طاقت ور تھی کہ مادی حواس مغلوب
ہو گئے۔ یقین کے نور کی تاثیر سے غم خوشی بن گیا ۔ یہ سب اتنی سرعت سے ہوا کہ غم
کی اسپیس سمٹی اور خوشی کی اسپیس پھیل گئی۔
(قسط : ۱۱)