Topics

یقین کا سفر ۔ جون ۲۰۲۲ء

 

شہر کے مضافات میں خانقاہ تھی جہاں راہ نما کے بصیرت افروز کلمات سننے کا موقع ملا۔ اس وقت سوچتی تھی کہ چھوٹی جگہ میں بیٹھ کر ہم کتنی بڑی بڑی باتیں سنتے ہیں۔ اب معلوم ہوا کہ جگہ یا باتیں چھوٹی بڑی نہیں ہوتیں ، آدمی چھوٹا یا بڑا ہوتا ہے۔ بڑا آدمی چھوٹی جگہ پر موجود ہو تو اس کی برکت سے زمین کشادہ ہو جاتی ہے جب کہ بند ذہن آدمی کی موجودگی سے کشادہ جگہ تنگ ہو جاتی ہے۔ نقطہ چھوٹا نظر آتا ہے مگر جب فہم میں داخل یعنی روشن ہوتا ہے تو اتنا بڑا ہو جاتا ہے کہ اس کی حدود کا احاطہ ممکن نہیں۔

راہ نما نے لوگوں کے قلب میں اللہ کی محبت روشن کر کے برکت تقسیم کی ہے۔

مجھے وہ ابتدائی دن یاد ہیں جب مرکزی جامع مسجد میں ان کا خطاب سنا تھا۔ انہوں نے فرمایا ، ہر شے اندر ہے، اسے باہر سمجھنا مفروضہ ہے۔

وہ دورانِ خطاب حاضرین سے سوالات کرتے تاکہ بات فہم میں داخل ہو جائے۔

انہوں نے پوچھا، آپ کو بھوک اندر لگتی ہے یا باہر ؟ حاضرین نے بیک آواز کہا، اندر

پوچھا ، آپ کھانا اندر کھاتے ہیں یا باہر؟

سب نے کہا ، اندر۔

سورج اندر سے نکلتا ہے یا باہر سے؟

درمیانی صف سے آواز آئی ، باہر سے۔

شفقت سے فرمایا، بیٹا ! غور کرو، سورج اندر سے نکلتا ہے اور غروب بھی اندر میں ہوتا ہے۔ تقاضے اندر پیدا ہوتے ہیں، تسکین بھی اندر میں ہوتی ہے۔ سکون اندر میں ہوتا ہے یا باہر ؟

سب نے بلند آواز میں کہا، اندر۔

راہ نما نے فرمایا ، جب یہ طے پایا کہ باہر کچھ نہیں ، سب کچھ اندر میں ہے پھر یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ آپ باہر دیکھتے ہیں اور باہر کا ساز و سامان آپ کی زندگی ہے؟ خود کو پہچاننے ، اللہ سے قرب کے لیے آپ کو اندر میں دیکھنا ہوگا۔

یہ طرز ِ بیان میرے لئے نیا تھا۔ بات سادہ اور سچی تھی۔ دل میں اتر گئی۔ سمجھنے کے لئے ذہن نے آسان مثالیں تلاش کیں کہ سبزیاں زمین کے اندر سے نکلتی ہیں، آلو زمین کے اندر ہوتا ہے ، گاجر مولی اندر سے باہر آتی ہے ، فرد اندر میں پیدا ہوتا ہے اور اندر ہی مر تا ہے۔ آخر یہ اندر باہر کا کھیل کیا ہے؟

آج 25 سال بعد راہ نما کی توجہ سے ان باتوں کی معنویت مجھ پر آشکار ہوئی کہ اندر دیکھنا کس کو کہتے ہیں۔ زندگی میں کئی موڑ آئے جب میں نے سمجھا کہ زندگی باہر گزر رہی ہے لیکن لاشعور نے راہ نمائی کی کہ تمام تجربات و مشاہدات اندر میں ہوئے۔ لوگوں سے توقعات ٹوٹیں اور منفی رویوں نے زخمی کیا تو اندر میں بنے ہوئے بت پاش پاش ہو گئے ، کرچیاں بھی اندر میں گریں۔ بعض اوقات لگتا تھا کہ زلزلہ آگیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کبھی اندر میں درد بھرا۔۔درماں بھی اندر سے ملا۔

کئی بار محسوس ہوا کہ جیسے میرے اندر کچھ مر گیا ہے۔ دوبارہ زندگی کا احساس ہونے پر خود کو پہلے سے مختلف اور طاقتور پایا۔ زندگی کو دیکھنے کا زاویہ بدلنے لگا اور سوچ میں وسعت پیدا ہوئی۔ حالات چاہے جیسے رہے ، اللہ سے شکوہ شکایت کا حوصلہ نہ ہوا ۔۔ شکوہ اس لئے نہیں کیا کہ اندر میں اللہ کی محبت غالب تھی۔ راسخ عقیدہ تھا کہ اللہ جو چاہتا ہے ، وہی ہوتا ہے ۔ ڈر تھا کہ شکوے شکایات مجھے اللہ سے دور نہ کر دیں۔

تربیت کے لئے حالات کی سختی ضروری ہے۔ یہ آدمی کو بہت کچھ سکھاتی اور دکھاتی ہے، وہ بھی جو وہ نہیں دیکھنا چاہتا مگر دیکھنا ضروری ہے۔

ہم زبانی کلامی پرچار کرتے ہیں کہ اللہ کے حکم کے بغیر پتا نہیں ہلتا لیکن اپنی زندگی کا جائزہ لیں تو عمل کا میدان خالی ہے۔ میں تکلیف دہ تجربات سے سیکھنے کی کوشش کرتی ہوں کیوں کہ نفع بخش علم انہی میں چھپا ہوا ہے ورنہ تصویر کے حقیقی رخ کا ادراک نہ ہو۔

بعض پریشانیاں مبارک ہوتی ہیں ۔ اکثر چھوٹا نقصان بڑے خسارے سے بچا لیتا ہے۔ قدرت حالات کی سختی سے گزارنے کی مشق اس لئے کرواتی ہے کہ ہم اللہ کے نظام کوسمجھیں اور اس کی روشنی میں اعمال و افعال درست کریں۔

بسا اوقات ہم کسی کی تکلیف کا باعث بنتے ہیں تو غلطی کا اعتراف نہیں کرتے ، معافی نہیں مانگتے اور توبہ نہیں کرتے ۔ اعتراف کرنے سے رویے میں نکھار پیدا ہوتا ہے۔

خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کے لئے مبعوث کیا گیا ہوں۔

آپ ﷺ کی تربیت سے خون کے پیاسے لوگ ایک دوسرے کی عزت اور مال و جان کے محافظ بن گئے ۔ یہ وہ انقلاب ہے جس کی مثال نہیں۔

مثبت طرزِ فکر یہ ہے کہ تمام نوعِ انسانی ایک جسم کی مانند ہے کیوں کہ بنیادی تقاضے مشترک ہیں اور سب کی زندگی گروہی نظام کی پابند ہے۔ انسان اس لئے ممتاز ہے کہ اسے نظام کا سب سے کارآمد رکن بنایا گیا ہے۔

باہمی تعلقات میں احترام پہلا اصول ہے۔ روحانی استاد اپنے شاگردوں کے رویوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ آہستہ آہستہ شاگرد ایسے نقطے پر پہنچ جاتا ہے کہ اس کے پیشِ نظر اپنی اصلاح رہ جاتی ہے اور دوسروں کے رویے نظر انداز ہو جاتے ہیں ۔ یہی وہ مقام ہے جب ذہن یکسو ہوتا ہے اور اندر میں دیکھنے کی ابتدا ہوتی ہے۔

مراقبہ میں دیکھا کہ گھر کے لاؤنج میں فرش پر مٹی کا پتلا رکھا ہے۔ قریب کھڑی پتلے کو بغور دیکھتی ہوں جو کسی مجسمہ ساز کا شاہکار معلوم ہوتا ہے۔۔چہرے پہ دلنشیں مسکراہٹ ہے اور کاجل سے بھری بڑی بڑی آنکھیں بند ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہ میرا پتلا ہے حالاں کہ شکل مختلف تھی۔ پتلے سے خاکی لباس اترنے کے بعد بھی سماعت ، بصارت ، فہم ، شامہ، تکلم اور باقی حواس موجود رہتے ہیں۔ میں نے خود کو جس لباس میں دیکھا، وہ روشن تھا۔ یکایک کھڑکی سے کوئی اندر آتا ہے اور پتلے کو لباس کی طرح پہن کر اپنا کردار ادا کرتا ہے پھر لباس کو یہاں چھوڑ کر دوسری کھڑکی سے نکل جاتا ہے۔ میری نگاہ بار بار دوسری کھڑکی کی طرف جاتی ہے اس خیال سے کہ میں بآسانی باہر جا سکتی ہوں۔

اس کیفیت کے بعد اندر میں دیکھنے اور اندر کو سمجھنے کی طرف دلچسپی ہوگئی۔

راہ نما فرماتے ہیں کہ لاشعور سے آنے والے ہر خیال میں حکمت ہے۔ سمجھ میں آیا کہ بچپن میں آئینہ دیکھ کر مجھے اپنا آپ اجنبی کیوں لگتا تھا۔ بہت لوگوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے کہ اندر میں یہ خبر آتی ہے کہ تم یہ نہیں ہو جیسا خود کو دیکھ رہے ہو ، جسم کے فریب میں مت آنا، یہ محض لباس ہے جو شناخت کے لئے بنا ہے۔

میں نے لاشعور سے پوچھا ، مجھے لباس کی ضرورت کیوں ہے؟ کیا میری شناخت اصل کے ذریعے نہیں ہو سکتی کہ لباس عطا کیا گیا؟

خاموشی تھی ۔ جواب نہیں آیا۔

خیالات کی بازگشت تیزی سے جاری تھی جب کہ میں ہر خیال کو ٹھہر کر غور سے سننا چاہتی تھی۔ سورج اور میرے پیدا ہونے کا طریقہ ایک ہے۔ سورج بھی ایک خول ہے اور حقیقت کچھ اور پھر ہم دونوں کا اصل تشخص کیا ہے؟

سوچ میں گم دستر خوان پہ بیٹھی تو خیال آیا کہ میں جو چاہوں ، کھا سکتی ہوں۔

اندر میں سے آواز آئی ، صرف تم نہیں، بکری بھی جو چاہتی ہے ، کھاتی ہے ۔ بکری اگر گھاس کھاتی ہے تو گھاس کی اقسام ہیں۔ تم تخلیقی نظام سے ناواقف ہو اس لئے کہتی ہو کہ بکری گھاس کھاتی ہے ۔ درحقیقت اسے گھاس میں سے جو پسند ہے ، وہ کھاتی ہے۔

میں نے تجربے کے طور پر پرندوں کے لئے چاول اور باجرہ رکھا ۔ روزانہ یہ ہوتا کہ پرندے اپنی پسند کا کھانا کھاتے تھے۔

راہ نما نے ہمیں تجربات کرنے سکھائے ۔ جب وہ لاہور میں تھے تو اکثر چھوٹے بڑے تجربات کروایا کرتے تھے جن کے نتائج میں غیر معمولی سبق ہوتے تھے۔

ایک روز فرمایا ، آدمی سے زیادہ عقل چیونٹیوں اور حشرات میں ہے۔ ان کو معلوم ہے کہ مضر صحت غذائیں کون سی ہیں۔ یہ ہمیشہ صحت بخش غذا کھاتے ہیں۔ پھر مسکراتے ہوئے فرمایا ، آدمی چاہے تو اپنی غذا ان سے ٹیسٹ کروا سکتا ہے کہ کون سی چیز نقصان دہ ہے۔ تجربہ کر کے دیکھ لو۔ جاؤ مصنوعی چینی سے بنی کوئی چیز لے کر آؤ اور ایک چمچ یہاں ڈال دو۔ اگر وہ صحت کے لئے اچھی ہوئی تو چینوٹیاں کھا لیں گی۔

مجھے جس جگہ چیونٹیوں کا ہجوم نظر آیا میں نے وہاں مصنوعی چینی ڈال دی۔ یہ چیونٹیوں کی بستی کا داخلی راستہ تھا۔ کچھ دیر میں چیونٹیاں وہاں سے غائب ہو گئیں اور مضر صحت مصنوعی چینی جوں کی توں رہ گئی۔

راہ نما نے بتایا کہ زندگی کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ میں مخلوق فنا ہوتی ہے اور دوسرے رخ میں بقا سے گزرتی ہے، ایک دنیا سے نکل کر دوسری دنیا میں قیام کرتی ہے۔ جس رخ کو فنا ہے وہ چھپنے اور ظاہر ہونے پر قائم ہے اور جس رخ کو بقاہے، اس میں تغیر نہیں اور یہی ہماری اصل ہے ، جہاں سے ہم آئے ہیں اور جہاں لوٹ کر جانا ہے۔

انہوں نے فرمایا کہ قرآن پڑھا کرو اور اس پر ٹھہر ٹھہر کر غور کیا کرو۔ قرآن کریم میں حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ ہے کہ انہوں نے ستاروں ، چاند اور سورج پر غور کر کے رب کو کس طرح پہچانا۔ انہیں مشاہدہ ہوا کہ چھپنے اور غائب ہونے ، طلوع اور غروب ہونے والا رب نہیں ہو سکتا۔ رب وہ ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہی اول ہے اور آخر بھی ، ظاہر ہے اور باطن بھی ، وہ ہر شے کا علم رکھتا ہے اور ہر شے پر محیط ہے۔

ایک سفر یاد آیا جب میں ملاقات کے لئے حاضر ہونا چاہتی تھی۔ ریل گاڑی ایک کے بعد ایک اسٹیشن سے گزر رہی تھی۔ مجھے نیند آگئی۔ شعور کے اس پار لاشعور میں دیکھا کہ کسی قوت نے مجھے دنیا کی چار دیواری سے باہر پھینک دیا ہے۔ عالمِ ناسوت کی دیوار کے قریب دیدہ زیب شفاف سڑکیں ہیں۔ خاموشی اور تنہائی کا عالم ہے۔ پہلے تو میں خوش ہوئی کیوں کہ شور و غل سے گھبراتی ہوں۔ پھر خیال آیا کہ رشتہ دار، دوست احباب و دیگر لوگ دیوار کے پار رہ گئے ہیں ، میں یہاں اکیلی کیسے رہوں گی؟

آواز آئی ، تم اکیلی نہیں ہو۔۔۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے ۔ یہ سن کر میں خوش ہوگئی۔

بیدار ہونے پر ٹرین کی چھک چھک چھک سنائی دی تو میں اداس ہو گئی ۔ خود کو سمجھایا کہ یہ جہاں ہو یا وہ جہاں ، اللہ ہر جگہ اور ہر وقت ساتھ ہے۔ اگر میں ذہن میں وہ اسپیس ختم کردوں جو میں نے اپنے اور ربِ کائنات اللہ کے درمیان قائم کر لی ہے تو مشاہدہ ہوگا کہ اللہ ہماری شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔

اسپیس کیسے ظاہر اور حذف ہوتی ہے؟

راہ نما فرماتے ہیں،

” اس دنیا کے الوژن سے نکلنا بے حد ضروری ہے ورنہ آگے بھی الوژن میں پھنس جاؤگے ۔“

اسپیس سے الوژن پیدا ہوتا ہے ۔ جب وہ افراد اپنے درمیان خلا دیکھتے ہیں لیکن خلا میں موجود دنیا نہیں دیکھتے یا وہ روشنی نظر نہیں آتی جس نے فرد کو فرد سے ربط میں رکھا ہے تو انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ہم الگ الگ ہیں اور ہمارے درمیان چند فٹ یا سینکڑوں میل کا فاصلہ ہے جب کہ خلا کی دنیا بتاتی ہے کہ فاصلہ نہیں ہے، فاصلے پر روشنی محیط ہے۔

دو افراد میں شک سے اسپیس پیدا ہوتی ہے اور یقین سے اسپیس حذف ہو جاتی ہے۔

الحمد للہ۔۔ میں باقاعدگی سے مراقبہ کرتی ہوں کہ یہ اندر کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔

گزشتہ ماہ مراقبہ میں روحانی ملاقات ہوئی۔ صاحبِ یقین ہست نے میرا نام لے کر کسی سے فرمایا، وہ اپنے یقین کی کنجی لینے خود آئے۔ حکم ملتے ہی میں حاضر ہو گئی اور ادب سے کنجی لی۔

نقرئی (silver) رنگ کی چابی ، نقرئی رنگ کے گول ڈبّے میں تھی۔ ہاتھ میں لیتے ہی چابی بری ہونے لگی اور بہت بڑی ہوگئی۔ اس کی چمک بجلی کی طرح تھی پھر وہ چھوٹی ہوئی اور روشن نقطے کی مانند قلب میں جذب ہو گئی اور اس کا عکس میری پیشانی میں داخل ہو گیا۔۔ یوں دلو دماغ کو یقین منتقل ہوا۔

انکشاف ہوا کہ دنیا میں ایک گروہ ان لوگوں کا ہے جن کے دل و دماغ ایک سطح پر کام کرتے ہیں۔ اگر دماغ کچھ اور کہے اور دل کا تقاضا کچھ اور ہو تو ابہام یا شک پیدا ہوتا ہے۔

خلاصہ:  شعور اور لاشعور کے درمیان آدمی کی قائم کی ہوئی خود ساختہ اسپیس کی وجہ سے الوژن پیدا ہوتا ہے ۔ بصورت دیگر شعور لاشعور سے من و عن یقین کی طرزیں قبول کرتا ہے۔

 

 


 

Topics