Topics
ہر نوع معین مقداروں کے مطابق زمان و
مکان میں ظاہر ہوتی ہے۔ زمان وقت ہے اور مکان وقت کا مظاہرہ ہے۔ ہر تخلیق زمان و
مکان کی حد میں ہے۔ ہاتھی کی عمر اس کے حجم کی مناسبت سے ہے اور آدمی کی زندگی کا
دورانیہ مقداروں کے مطابق ہے۔
زندگی وقت ہے جو حواس کے ذریعے ہم پر
آشکار ہوتی ہے۔ حواس کی تقسیم کے ذریعے ہم پر آشکار ہوتی ہے ۔ حواس کی تقسیم سے
ظاہری دنیا کا نظام رواں ہے اور اسی کے سبب آدمی خود کو آزاد اور خود مختار سمجھتا
ہے جب کہ وہ خود مختار نہیں۔ حواس کو الگ الگ سمجھنا ذہن کی کیفیت ہے ورنہ دماغ کو
ملنے والی اطلاع ایک ہے جس میں سماعت و بصارت اور گویائی یکجا ہوتی ہے۔ ان کو ایک
نہ سمجھنے کی وجہ سے قوت ِ ارادی اور صلاحیتیں متا ثر ہوتی ہیں اور آدمی اپنی
کوتاہیوں کا ذمہ دار دوسروں کو ٹھہراتا ہے۔ ناکامی ہونے پر کہتا ہے کہ ” وقت نے وفا نہیں کی۔“ جب کہ خاتم النبیین
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے ،
لی مع اللہ وقت
اللہ نے وقت کو خود سے منسوب کر کے اس کی
اہمیت بیان فرمائی ہے اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم میں وقت کی قسم کھائی ہے۔
” قسم ہے عصر کی۔ بے شک انسان خسارے
میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے اور ایک دوسرے کو
حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔“
(العصر :۱۔۳)
وقت اللہ کی تخلیق ہے۔ وقت دیکھتا ہے ،
سنتا ہے ، محسوس کرتا ہے ، بولتا ہے ، مخلوقات کے اعمال ریکارڈ کرتا ہے ، ظاہر
کرتا ہے ، چھپاتا ہے اور ہر عمل میں غیر جانب دار ہے۔
اللہ کے دوست وقت سے واقف ہو کر ہر کام
Care of Allah کرتے ہیں ۔ جب لوگ ان کی
ناقدری کرتے ہیں تو ایسی بستیوں سے اللہ کے دوستوں کا گزر بہت دیر بعد ہوتا ہے اور
۔۔ ایسا ہونے سے اللہ کے بنائے ہوئے قوانین کے تحت بستی میں انتشار اور پریشانی کا
دَور ہو جاتا ہے۔
وقت کی تقسیم کو شعور کہتے ہیں۔ جس زون
میں وقت تقسیم نہیں ہوتا ، وہ لاشعور ہے اور لاشعور میں ازل سے ابد تک کی اسپیس
ایک ہے ۔ شعور کی طرح لاشعور کے بھی مدارج ہیں ۔ ارشاد ہے ،
”رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم
، آدھی رات یا اس سے کچھ کم کر لو یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو اور قرآن خوب ٹھہر
ٹھہر کر پڑھو۔“ (المزمل : ۲۔۳)
ابتدائی جماعتوں میں سنا تھا کہ گھڑی سب
سے پہلے ملک روم میں ایجاد ہوئی اور یہ کھانے کا صحیح وقت بتاتی تھی ۔ میں نے یقین
کر لیا ۔ ایک روز محسوس ہوا کہ میرے اندر بڑا گھڑیال نصب ہے جو سونے کا وقت ،
جاگنے کا وقت ، کھانے کا وقت ، بولنے کا وقت ، خاموش رہنے کا وقت ، ہنسنے کا وقت
غرض صبح سے رات تک جس کام کا وقت ہوتا ہے ، گھنتی بجا دیتا ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ موت کا وقت دستک دیئے بغیر آتا ہے۔
دراصل دنیا میں مگن لوگ موت سے غافل ہوتے ہیں لہذا اس کی تیاری اور آہٹ کو محسوس
نہیں کرتے۔
خواب دیکھا کہ جس روز نفسیات کے مضمون
کا پرچہ ہوگا ، میرے عزیز القدر نانا اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔
ٹھیک اسی روز ان کا انتقال ہوا۔
خواب یاد ایا اور میں نے سوچا کہ اندر
میں گھڑی کو نانا کے جانے کا صحیح وقت کس نے بتایا؟
نانا رقیق القلب تھے۔ قرآن کی تلاوت
کرتے تو ہچکیاں بندھ جاتیں۔ اللہ رسولﷺ سے محبت کرنے والے تھے۔ اکثر یہ شعر پڑھتے
تھے،
اگر کج رو ہیں انجم ، آسماں تیرا ہے یا
میرا
مجھے فکر جہاں کیوں ہو ، جہاں تیرا ہے
یا میرا
نانا کی میت سامنے رکھی تھی۔ زندگی مین
پہلی مرتبہ انتقال کرنے والے کسی شخص کا چہرہ دیکھا۔ معصوم چہرے پر گہری مسکراہٹ
کی چھاپ دیکھ کر میں روتے روتے مسکرا دی۔
جس روز بیعت ہوئی۔ خود کو مبارک باد پر
مابارک باد دے رہی تھی۔ میرے بعد جس شخص نے مجھے مباراک باد دی۔ وہ مرحوم نانا
تھے۔ انہوں نے خواب میں مبارک باد دی۔
حیرت تھی کہ انہیں خبر کیسے ہوئی؟
ہر لمحے کا بھر پور اور مثبت استعمال
وقت کا احترام ہے۔ ایک سفر کے دوران دھند کی وجہ سے موٹر وے کچھ وقت کے لئے بند کر
دی گئی۔ قطار در قطار گاڑیاں دھند چھٹنے کی منتظر تھیں۔ انتظار کے دوران خیال آیا
کہ وقت کی شاہراہ سیدھی ہے ، خواہ کتنی دیر رکے رہیں، ایک روز آگے بڑھنا ہے۔ سفر
میں ہوتا یہ ہے کہ جب ہم اپنے اندر متوجہ نہیں ہوتے تو باہر کی دنیا اثر انداز ہو
جاتی ہے ۔ مثلاً نظر راستے سے ہٹ کر دائیں بائیں متوجہ ہوتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ
درخت پہ سانپ چڑھ رہا ہے ، ایک طرف اگ جل رہی ہے ، کسی کے چہرے پر کوفت ہے ، کوئی
گاڑی سے اتر کر یہاں وہاں چل پھر رہا ہے ، اکثر لوگ باتوں میں وقت گزار دیتے ہیں ۔
ہم سب ایک شاہراہ پر کھڑے ہو کر مختلف اسپیس میں داخل ہو جاتے ہیں جب کہ راستہ ایک
ہے۔
میں پُرسکون اور غورو فکر میں مگن تھی
جس سے وقت کے ٹھہرنے اور گزرنے کا احساس نہیں ہوا۔ بعض لوگ گاڑیوں سے نکل ائے تھے
اور ہیجانی کیفیت میں مبتلا دکھائی دیئے۔ بنیادی طور پر صورت حال ایک تھی مگر ہر
گاڑی کے اندر وقت گزرنے کا احساس مختلف تھا۔ وقت نے سکھایا ہے کہ جو وقت پریشانی
کے بجائے اندر باہر تفکر میں گزرتا ہے ، وہی بہترین ہے۔
ذہن جب کسی خیال میں قید ہو جائے تو
عمرِ عزیز کے لمحات ادبار بن جاتے ہیں ۔ اس کو کہتے ہیں کہ ہم وقت نہیں گزارتے
بلکہ وقت ہمیں گزارتا ہے۔ ایک روز راہ نما نے فرمایا،
”میں سوچتا ہوں کہ لوگ وقت بہت ضائع
کرتے ہیں۔ وقت سواری ہے، چاہے رحمانی طرزوں میں گزار لو یا۔۔؟ رحمانی طرزوں می وقت سمٹ جاتا ہے۔“
وقت اللہ کی امانت ہے۔ ہر وقت مبارک ہے
مگر شک میں مبتلا ہو کر ہم اسے کھو دیتے ہیں۔ آزمودہ نسخہ ہے کہ جب پریشانی ، غم
یا تکلیف محسوس ہو تو خوش بو لگائیے یا خوش بو سلگا کر بے فکر ہو جائیے اور
دیکھئے کہ نتیجہ کیا ظاہر ہوتا ہے۔
میں نے یہ سمجھا کہ روح کو خوش بو اور
عطر بیز فضا پسند ہے۔ خوش بو جب خوش بو سے ملتی ہے تو حواس پر سکوت طاری ہو جاتا
ہے۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد نتیجہ ظاہر ہوتا ہے تو ذہن میں مخصوص خوش بو ماحول کو
مہکا دیتی ہے اور تجربہ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔
ایک صاحب اپنی کوتاہیوں کا اقرار کر کے
معافی کے طلب گار ہوئے تو مہربان راہ نما نے کندھا تھپتھپاتے ہوئے فرمایا،
”بیٹا ! ماضی کی غلطیوں کو یاد کر کے
اپنا آنے والا وقت خراب نہیں کرتے ۔ ان سے سبق سیکھو اور آگے بڑھو۔“
در اصل تکلیف دہ لمحات یاد کر کے ہم
ایک ہی وقت کو بار بار دہراتے ہیں اور تکرار سے پھر وہی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔
راہ نما نے کسی صاحب سے فرمایا،
”ابھی تم جوان ہو ۔ جو وقت ضائع کر
دیا ہے ، وہ دوڑ کر پورا کر لو ۔“
لڑکپن کے دنوں میں شام ہوتے ہی مجھ پر
انجانا خوف طاری ہوجاتا تھا۔ اکثر محسوس ہوتا کہ اج رات کچھ ہوگا اور میں ڈر جاؤں
گی۔ میں امی سے لپٹ کر سو جاتی۔ رات آکر گزر جاتی ۔ جب کچھ نہیں ہوا تو امی کو
پریشان کرنا چھوڑ دیا۔
ایک رات دیکھا کہ بہت لمبی چھڑی تیزی
سے چلتی ہوئی میرے قریب آئی اور مجھ پر جھکی، غصے سے میری مٹھیاں بند ہو گئیں ۔
اچانک اندر میں گھڑی نے ”لا الٰہ الا اللہ “ کا ورد شروع کیا۔ چھڑی تیزی سے سیدھی
ہوئی اور الٹے پاؤں بھاگ گئی۔ اس طرح خوف کو مات ہوئی۔ میں نے سیکھا کہ ”لا الٰہ
الا اللہ“ پر صدقِ دل سے ایمان رکھنے والا خوف سے آزاد ہو جاتا ہے۔
خواب میں اطلاع ملی کہ ہماری ایک رشتہ
دار جن کا انتقال ہو چکا ہے ، ان کی اعراف (دوسری دنیا) میں شادی ہے ۔ میں فوراً
شرکت کے لئے پہنچی۔ دلہا دلہن سے ملاقات ہوئی۔ واپس آتے ہوئے دیکھا کہ بری بڑی
دیگوں اور لگن میں پلاؤ تیار ہو رہا ہے اور نادیدہ ہاتھ برے بڑے کف گیر چلا رہے
ہیں ۔ میں قریب جا کر کھڑی ہو گئی۔ خیال آیا کہ سہیلیوں کا حصہ لے کر جانا چاہیئے۔
یہ سوچتے ہی کھانے کے پیکٹ تیار ہو گئے جنہیں لے کر اڑتی ہوئی فرداً فرداً سہیلیوں
کے گھر اتری اور کھانا رکھ کر اپنے گھر آگئی۔ جب میں نیند سے بیدار ہوئی تو کمرے
میں بہترین پلاؤ کی خوش بو پھیلی ہوئی تھی۔
غور کرنے سے بات یہ سمجھ میں آئی کہ
روح کے بغیر خیال کی پرواز نہیں ہوتی۔۔ فضا میں عناصر مادی جسم پر اثر انداز ہوتے
ہیں لیکن اندر میں لہروں کے لئے ہر رکاوٹ ، رکاوٹ نہیں۔
کون جانے کہ جب اس دنیا میں دو منٹ گزرتے ہیں تو
نیند کی دنیا میں کتنی مسافت طے ہو جاتی ہے ۔ یہ بھی فکر طلب ہے کہ خواب میں ہم
بعض اوقات کئی برس آگے کا وقت یا اپنا بڑھاپا بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن جاگنے کے بعد
بال سفید نہیں ہوتے اور نہ جسم پر وقت گزرنے کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں جب کہ جاگنے
کے بعد ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ نیند کی دنیا میں وقت گزارنے والے ہم ہی
تھے۔ زہن اب اس کھوج میں ہے کہ کسی طرح نیند کی دنیا میں وقت کے پیمانوں سے واقف
ہو جائے۔
کُن سے فیکون تک تمام زمانوں کا ریکارڈ
اندر میں ہے۔ زمین پر نائب ہونے کی حیثیت سے انسان کا شرف یہ ہے کہ وہ وقت کی کسی بھی اسپیس میں آ جا سکتا ہے۔
وقت سے واقف ہونے کا ایک طریقہ یہ ہے
کہ اس بات کو تسلیم کر لیا جائے کہ ہم خود مختار نہیں ہیں۔ بار بار کے تجربات و
مشاہدات سے جب یقین ہو جاتا ہے کہ ہم آزاد اور خود مختار نہیں ہیں تو خود سپردگی
پیدا ہوتی ہے اور بندہ ہر شے میں اللہ کو محیط محسوس کرتا ہے۔
اللہ کو محیط محسوس کرنا لمحۂ حقیق کا
ادراک ہے جس سے ”وقت“ کو یکجا دیکھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے۔