Topics
ایک نشست میں حاضرین میں سے کسی نے
نسبت سے متعلق سوال کیا تو راہ نما کے جواب سے دریا کوزے میں بند ہو گیا۔
” کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ راہ نما کو
کیا پتہ ، ہم مگرب اور وہ مشرق میں ہیں جب کہ بوقتِ ضرورت ہتھیلی آئینہ بن جاتی
ہے۔“
نسبت طرز ِ فکر کی منتقلی ہے۔ جس
مناسبت سے طرز ِ فکر تبدیل ہوتی ہے ، ذہنی سکت بڑھ جاتی ہے ۔ اگر روحانی استاد کی
قوت ِ پرواز ساٹھ ہزار گنا سے زیادہ ہے تو نسبت منتقل ہو نے پر شاگرد کی صلاحیت
میں اضافہ ہوتا ہے ۔ نسبت حاصل ہونے کے بعد شاگرد کوئی ایسا خیال قبول نہیں کرتا
جو نظامِ فطرت کے خلاف ہو۔
راہ نما فرماتے ہیں ،
”ہر بیج کے اندر ایک جال چھپا ہوتا ہے
۔ پودا اور درخت اسی میں موجود ہوتے ہیں۔ جوں جوں یہ جال کھلتا اور پھیلتا ہے،
درخت شاخ در شاخ بنتا ہے۔ بیج کو مٹی میں ڈالتے وقت مٹی جتنی زرخیز ہوگی ، درخت
اتنا مضبوط اور خوب صورت ہوگا ۔ اس سے نہایت شیریں ، لذیذ ، رس بھرے اور صحت بخش
پھل حاصل ہوں گے اور اس درخت سے بہت سے لوگ فیض یاب ہوں گے۔ لیکن بیج کتنا ہی
اعلیٰ نسل اور عمدہ کیوں نہ ہو ، اگر زمین تیار نہ ہو تو وہ پھل نہیں دے گا یا پھل
ناقص ہوگا۔ بیج اور مٹی میں نسبت ہے۔ زر خیز مٹی میں بیج خوب جڑ پکڑے گا۔ اگر مٹی
زرخیز نہیں تو بیج کی جڑ کمزور رہے گی۔ وہ مٹی سے طاقت حاصل کرنے سے قاصر رہے گی ۔
اگر درخت بن گیا تو پھل نہیں آئے گا اور بالفرض آیا بھی تو شیریں اور رس بھرا نہیں
ہوگا اور نہ بلوغت سے گزرے گا۔“
روحانی استاد کی نسبت شفاف چشمہ کی
مانند ہے جس سے پانی بہتا ہے اور گزر گاہوں کو سیراب کرتا ہوا دریا اور سمندر بن جاتا ہے۔
آپ نے کمہار کو برتن بناتے دیکھا ہے؟
وہ مٹی گول پلیٹ یا دائرے پر رکھتا ہے جس کے نیچے چرخی ہوتی ہے ۔ جب چرخی چلتی ہے
اور گول پلیٹ تیزی سے گھومتی ہے تو کمہار دونوں ہاتھوں سے مٹی کو مخصوص دباؤ کے
ساتھ خاص شکل دیتا ہوا اوپر اٹھاتا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ شکل بن جاتی ہے جو کمہار
کے ذہن میں ہے ۔ شاگرد کو استاد سے وہی نسبت ہے جو مٹی سے بنے شاہکار کو کمہار سے
ہے۔
ایک دوپہرراہ نما سے ان کے مرشد نے
فرمایا کہ کیا خوب رات ہے ۔
شاگرد نے سیاہ رات میں آسمان پہ ستاروں
کو دیکھ کر فرمایا ، جی ہاں! بہت سہانی رات ہے۔
شاگرد نے وہ دیکھا جو استاد نے فرمایا۔
یہ نسبت ہے۔
روحانی علوم نسبت سے منتقل ہوتے ہیں ۔
سوچتی تھی کہ اگر راہ نما نے یہ سوال کبھی مجھ سے کیا تو میرا کیا جواب ہوگا ؟
معمہ حل کرنے کے لئے میں ہر روز دوپہر میں رات تلاش کرتی لیکن کوئی نتیجہ مرتب
نہیں ہوا۔ 365 دن رات تفکر کے بعد روزن کھلا کہ دن میں رات اور رات میں دن دیکھنے
کی کیفیت دن رات کی نفی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
دنیا کی رونق اور آفاقی نظام کے نفاذ
کے لیے لازم ہے کہ ہر شے کے دو رخ ہیں۔ پھول دیکھ کر باغ کا خیال آتا ہے ۔ باغ میں
پھول نہ ہوں تو کہتے ہیں کہ باغ ویران ہے۔ پھول کو باغ اور باغ کو پھول سے نسبت ہے
۔ ایک رخ غائب ہوا ہو تو؟
ہر شے اور فرد نسبتوں کے بندھن میں ہے ۔ نسبت
فکشن سے ہوتی ہے اور حقیقت سے بھی ۔ ایسے فرد سے نسبت قائم ہو جس کی طرز فکر صراطِ
مستقیم ( سیدھا راستہ) ہے تو آدمی شک اور فریب سے آزاد ہو جاتا ہے۔ صراطِ مستقیم
کیا ہے؟ نسبت ہے جس کی تعلیم ہر نبی نے دی ہے ۔ یہ سکھاتی ہے کہ ” اللہ کی رسّی کو
مضبوط پکڑو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔“
راہ نما کی نسبت صراطِ مستقیم ہے جس کا
اللہ اور خاتم النبیین رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا ہے ۔ وہ شاگردوں کی اسی طرز پر
تربیت کرتے ہیں۔
نسبت کا دائرہ زندگی کے تمام اعمال و
افعال پر محیط ہے۔ یہ سکھاتی ہے کہ کوئی کام کرتے وقت اس ہستی کی ہیئت کو پیش ِ
نظر رکھیں جس کی نسبت حاصل کرنا مقصود ہے۔
وباؤں ، بلاؤں اور انتشار کے اس دور
میں پُر سکون رہنے کا ایک طریقہ ہے کہ ہم صراطِ مستقیم پر عمل کریں۔
جب Covid 19 کی وبا پھیلی تو راہ نما نے پیغام کو عام کیا کہ مرتبہ احسان کا
مراقبہ کریں ۔ یکسو ہو کر یہ تصور کرنا کہ ہم اللہ کو دیکھ رہے ہیں یا اللہ ہمیں
دیکھ رہا ہے ۔ جو اللہ سے نسبت قائم کرتا ہے ، اسے امان ہے۔ ایسے بندے کو کائناتی
شعور حاصل ہو جاتا ہے۔ جب لوگوں نے یہ مشق کی ، ان کے اوپر اللہ کا فضل ہوا ۔
آشنائے راز نے سمجھایا کہ جو نسبت ِ
حقیقی سے واقف نہیں ، ہر ذرّہ اس کے لئے حجاب ہے ، لا علمی اسے illusion میں مبتلا کر دیتی ہے۔
نسبت کے دو رخ ہیں۔
ظاہری نسبت کی مثال کسی ادارے مین
داخلہ لینے کی ہے جب کہ باطنی نسبت قواعد و ضوابط اور اغراض و مقاصد پر عمل کرنے
بالفاظ دیگر ذہن قبول کرنے سے ملتی ہے۔ یہ نسبت قوی ہے اور اس کے حامل خواتین و
حضرات دین اور دنیا دونوں نعمتوں سے مالا مال ہوتے ہیں اور ہر نعمت کو من جانب
اللہ سمجھتے ہیں۔
”علم میں راسخ لوگ کہتے ہیں کہ ہمارا
اس بات پر ایمان ہے کہ ہر شے ہمارے رب کی طرف سے ہے۔“
(آل عمران : ۷)
کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ بعض شاگرد
اپنے استاد ، راہ نما اور مرشد کا قرب پانے کے باوجود دور کیوں ہوتے ہیں؟ یہ سوال
میں نے بھی کیا تو انہوں نے چند مثالوں سے مجھے سمجھایا۔
۱۔ ایسے لوگوں کی نسبت مستحکم نہیں
ہوتی۔
۲۔
اگر کسی کو ایک ساتھ بہت سارے روپے مل جائیں تو وہ بازار کا رخ کرے گا۔
۳۔ کسی کے پاس بہت سے لباس ہیں ۔ وہ
خود استعمال کرتا ہے نہ کسی کو دینے کا حوصلہ ہے۔ اس کا ظرف آہستہ آہستہ بنایا
جاتا ہے۔ کبھی ایک جوڑا دے دیا پھر ایک وقت آتا ہے کہ تھان دے دیتا ہے۔ عام طور سے
دیکھا گیا ہے کہ خواتین اپنے کپڑے تقسیم کرتی ہیں لیکن کسی کو دوپٹہ دیتی ہیں اور
کسی کو کڑھائی کیا ہوا کرتا۔ پورا لباس نہیں دیتیں۔
۴۔ ایک مرتبہ بڑے پیر صاحب کے پاس
شیطان آیا اور کہا ، اے عبد القادر ! میں تمہارا رب ہوں ، تم سے خوش ہوں ۔ آج سے
تمہاری سب نمازیں معاف۔ انہوں نے سوچا کہ نماز تو پیغمبروں کو بھی معاف نہیں ۔
شیطان نے دوسرا حملہ کیا اور کہا، تجھے
تیرے علم نے بچالیا ۔ انہوں نے نے فرمایا ، میرے علم نے نہیں ، میرے رب نے
بچا لیا ۔ یہ سن کر شیطان غائب ہو گیا۔
۵۔
ایک شخص کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ بزرگ کی ٹانگ پر پٹی
بندھی ہوئی ہے ۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ٹناگ میں درد ہے۔ مسافرت کرکے جب وہ بزرگ
کے مرید کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ مرید کی ٹانگ میں بھی پٹی بندھی ہوئی ہے ۔ مرید
نے بھی بتایا کہ ٹانگ میں درد ہے۔
کتاب ” اسم اعظم “ میں تحریر ہے۔
” ایسے بے شمار واقعات تاریخ کے صفحات
پر موجود ہیں کہ مراد کے سر میں درد ہوا تو مرید نے بھی اسی طرح درد کی کسک محسوس
کی اور پٹی باندھ لی۔ مراد کو بخار ہوا تو مرید بھی بخار میں تپنے لگا جب کہ مرید
اور مراد کے درمیان فاصلہ سینکڑوں میل تھا۔ جب تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دونوں
ایک ہی وقت میں بخار میں مبتلا ہوئے۔ اگر مرید کے اندر جذبہ صادق ہے اور مراد سے
عشق کے درجے میں محبت کرتا ہے، اپنی ذات کی نفی کر کے سب کچھ مراد کو سمجھتا ہے تو
پھر دور دراز کے فاصلے معدوم ہو جاتے ہیں اور مرید ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی اپنے
مراد اور پیر و مرشد سے فیض یاب ہو سکتا ہے۔ایسا علم حضوری کی صورت میں ہوتا ہے ۔
یہ علم منتقل ہوتا ہے ، سکھایا نہیں جاتا ۔ علم حضوری ور علم حصولی میں یہی بنیادی
فرق ہے۔
استاد قاعدہ پڑھاتے ہیں تو شاگرد کو
کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ قاعدے میں کیا لکھا ہے۔وہ استاد کے بتائے ہوئے سبق کی نقل
کرتا ہے ۔ استاد اگر الف کو لکیر l کہے
تو شاگرد بھی لکیر کہے گا۔ لکیر کو لٹا کر نیچے تین نقطے بنا دیں تو شاگرد اسے پے
کہے گا ۔ اسی طرح دو سو زبانیں بولی اور لکھی جاتی ہیں۔
راہ نما نے ایک صاحب سے فرمایا تھا،
”واشنگ مشین چل رہی ہے ۔ دھلائی ہو رہی
ہے۔ بہت سے لوگ بھاگ جائیں گے اور جو باقی بچیں گے ، وہ چٹان ہوں گے۔ خواہ کتنے
طوفان آئیں ، وہ اپنی جگہ سے نہیں ہلیں گے۔“
اس میں نسبت کی طرف اشارہ ہے۔
ایک روز آہ بھرتے ہوئے فرمایا،
”کوئی بیج بوتا ہے، پودا نکلتا ہے ۔ وہ
پودے کو گرمی ، سردی ، دھوپ ، بارش اور تیز ہواؤں سے بچاتا ہے، حفاظت و نگہداشت
کرتا ہے۔ جب پودا درخت بنتا ہے اور پھل دینے کا وقت آتا ہے مگر درخت کی جڑیں اکھڑ
جائے تو پھر ؟“
نسبت عطیہ ہے۔ نسبتِ حقیقی سے ناآشنا
فرد کی فکر علوم کے خزانوں سے خالی ہوتی ہے۔
کبھی کبھار یہ شعر سناتے ہیں،
یک مو اگر ٹل جائے پاؤں
پھر کہیں ٹھوڑ نہ ٹھاؤں
ایک بھائی نے مراقبہ کی کیفیت بیان کی۔
”دیکھا کہ میرا سینہ آئینے کی طرح شفاف
ہے۔ اللہ کے دوست نے چمک دار سیاہ روشنائی سے لکھی ہوئی کتاب اس میں رکھ دی ہے۔ جب
وہ کتاب محفوظ ہوگئی یعنی نسبت قائم ہو گئی تو یک جان دو قالب کی مثال قائم ہوئی۔“