Topics
کہتے ہیں کہ جو وطن سے دور ہوتا ہے ، اسے مٹی کی
یاد آتی ہے لیکن جسے وطن میں رہ کر مٹی کی یاد آئے ، اس کا کیا ہو؟
بہت دنوں سے مٹی اپنی جانب کھینچ رہی
تھی۔ ایک دن خیال نے شدت اختیار کی تو قریبی پارک گئی ، جوتے اتارے اور ننگے پیر
مٹی میں کھڑی ہوگئی۔ اندر میں کسی نے انسپائر
کیا کہ بیٹھ جاؤ اور ہتھیلیاں مٹی پہ رکھ دو۔
میں نے ایسا ہی کیا۔
یوں لگا جیسے صدیوں کی پیاس بجھ رہی
ہو۔
مٹی کے اندر میں توانائی اپنی جانب
کھینچ رہی تھی ۔ جسم مٹی سے بنا تھا ، اسی سے اس کا خمیر اٹھا تھا۔ جب جز کُل سے
قریب ہوا تو اس کی کشش کی تاب نہ لا سکا۔
آج میں مٹی کے بلاوے پر آئی تھی۔ اس نے
دیدہ و دل فرش ِ راہ کر کے میرا استقبال کیا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے میرا
استقبال کیا۔ میں نے آنکھیں بند کر کے خود کو مٹی کے لمس کے سپرد کر دیا۔ کچھ دیر
گزری تھی کہ زمین اینٹی کلاک وائز × ( کلاک وائز میں شعور قدم در قدم اسپیس کا پابند ہے جب کہ اینٹی
کلاک وائز میں اسپیس سمٹ جاتی ہے) گھومتی محسوس ہوئی۔ حیرت اس بات پر ہوئی کہ خاکی
جسم زمین سے تخلیق ہوا ہے ، زمین کی حرکت اینٹی کلاک وائز ہے تو کیا مٹی کا جسم
بھی اسی رخ پر گردش کر رہا ہے؟
(لاشعور نے کہا ۔۔ مٹی کے ذرّات جس ذہن
سے وابستہ ہوتے ہیں، اس کے مطابق گردش کرتے ہیں ۔ زمین اپنے خالق کا ذکر کرتی ہے
اسی لئے زمین کی گردش اینٹی کلاک وائز ہے۔ جب زمین میں سے کچھ ذرّات تمہارے جسم کے
لئے مخصوص ہوئے تو اب ان کی حرکت تمہارے ذہن کی حرکت کے تابع ہے۔
مٹی میں بیٹھنے سے ذہن یکسو ہوا تو
ٹرانپسیرنٹ رنگ کی روشنیوں کی بارش ہو گئی۔ بوندیں تیزی سے جسم سے گزر کر زمین میں
جذب (ارتھ) ہونے لگیں اور روح مسرور ہوگئی۔ اس لمحے ذہن زمین و آسمان دونوں سے بیک
وقت ربط میں تھا۔ ایک دائرہ بن گیا تھا۔ میں جس کی رو میں بہہ رہی تھی۔ کیسی ستم
ظریفی ہے کہ ہماری بے وفائی کی سرشت مٹی کی مہربانیوں کو پیروں تلے روند دیتی ہے۔
اس کا لمس محسوس کر کے غور نہیں کرتی کہ مٹی کیا کہتی ہے۔
کہتی ہے یہ مٹی بھی بہت سی باتیں
باتوں میں گزر گئی ہیں اکثر راتیں
مٹی کے یہ ذرات کبھی انسان تھے
تھی ان کی کبھی شیخ و برہمن ذاتیں
واقفِ اسرار کُن فیکون ۔۔حضور قلندر
بابا اولیاؒ کی رباعیات کی کشش یہ ہے کہ پڑھنے والا دنیا کی چپک سے آزاد ہو جاتا
ہے۔ اکثر رباعیات میں مٹی اور جامِ معرفت کا ذکر ہے۔ مٹی اس لئے اہم ہے کہ اس خاک داں میں آدمی کا وجودِ خاکی نہ ہو تو
جامِ معرفت پینا اور پلانا بے معنی ہو جاتا ہے۔ فانی پیالے (جسم ِ خاکی) کو
کسی روز ٹوٹنا ہے۔ ایک مرتبہ یہ پیالہ
جامِ معرفت سے آشنا ہو جائے تو امر کا عکس بن جاتا ہے اور مٹی کا خلا اس کی
خوش بو سے بھر جاتا ہے۔ قلندر بابا : کی ہستی ” ہر آن حیات ساز ،ہر نفس (سانس)
وصال“ کے مصداق ہے۔
ہمارے پڑوس میں ایک بچی تھی۔ والد نے
اس خیال سے کہ بیٹی بڑی ہو گئی ہے ، سارے کھلونے کسی کو دے دیئے۔ رات ہوئی تو اس
نے رو رو کر آسمان سر پہ اٹھا لیا۔ مجبورا! اس کے ابا گڑیا کی تلاش میں بازار گئے
اور بھدا سا گڈا لے آئے۔ جوں ہی بچی کو گڈا ملا ، اس نے اسے تھپک تھپک کر اللہ
اللہ کی تکرار کی اور دیکھتے دیکھتے نیند کی وادی میں چلی گئی۔
میں نے سوچا کہ بچی نے تھپکی دے کر کسے
سلانے کی کوشش کی؟
بظاہر وہ گڈے کو تھپکی دے رہی تھی جب
کہ ہو یہ رہا تھا کہ وہ اللہ اللہ کہتے ہوئے خود کو تھپکی دے کر سلا رہی تھی۔ اللہ
کی تکرار سے سکون کی لہریں دَور کرنے لگیں اور وہ سو گئی۔
سوچتی ہوں کہ وہ بچے کتنے خوش قسمت ہیں
جن کے ماں باپ بچپن سے ان کو اللہ کے ذکر سے روشناس کرتے ہیں اور اللہ اللہ کی
تکرار لاشعور میں نقش ہو جاتی ہے جس کا اثر یقیناً ان کے شعور پر مرتب ہوتا ہے۔ جس
گھر میں ماں باپ اور بڑے بزرگ نماز پڑھتے اور ذکر کرتے ہیں ، وہاں بچے خواہ جتنے
بڑے ہو جائیں ، انہیں یہ خیال رہتا ہے کہ روح اللہ اللہ پکار رہی ہے۔
یہ بھی سوچتی ہوں کہ بچی نے گڑیا یا
گڈے کا سہارا لے کر خود کو اللہ کے قریب کیا جس کی وجہ سے بچپن سے اس کے ذہن میں
ایک پردہ رہا ۔ کبھی گڈے گڑیا کے روپ میں اور کبھی خود اپنی شکل میں ۔ یہ الوژن کی
لہریں ہیں جو آباؤ اجداد سے منتقل ہوئی ہیں اور ہم نے ان کو قبول کر کے آگے بڑھایا
ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر پردہ ہٹ جائے گا تو کیا باقی رہے گا؟
یہ خیال بھی آتا ہے کہ جب ہم ڈھونڈنے
کے باوجود خود کو نہیں پاتے تو پھر ہم ہیں کہاں ؟ ہیں بھی یا نہیں؟ ہمارا ہر لمحہ
کہیں سے آتا ہے پھر اپنی خبر کیسے ملے؟ سرگوشی ہوئی۔۔ خود کو پانا ہے تو اسے تلاش
کرو جس نے تمہیں بنایا ہے۔
جس جس پہ تیری نظر اے سلطان ہو گئی
مٹی حریمِ نفس کی عرفان ہوگئی
ہمارے دن رات مٹی میں گزرتے ہیں اور
مٹی میں چھپ جاتے ہیں ۔ مٹی کی نفی سے غیب ظاہر ہوتا ہے اور اس کے اثبات سے غیب
چھپ جاتا ہے۔ مٹی کیا ہے؟
مادی دنیا میں فرد جس چیز کی طرف بڑھتا
ہے ، وہ اس سے گریز کر لیتی ہے۔ تجربہ بتاتا ہے کہ زمین کے حواس نے کسی سے وفا
نہیں کی ۔ یہاں خواہشات کے پیچھے بھاگنا بے کار ہے۔
بچے کو جب تک پیروں کا ادراک نہیں
ہوتا، وہ پاؤں پاؤں نہیں چلتا اور جب ادراک ہو جاتا ہے ، اس کے پیر زمین سے لپٹنے
لگتے ہیں۔
جنت میں شجرِ ممنوعہ ہے جب کہ اس دنیا
میں مٹی آزمائش ہے۔ جب آدمی نے نافرمانی کی تو وہ آزاد دنیا سے نکل کر مٹی کی دنیا
میں آگیا۔
وہ کس ذہن سے یہاں آیا؟
نافرمانی کے ذہن کے ساتھ۔
مٹی میں خمیر اور تعفن ضرور ہے لیکن
خود مٹی نافرمان نہیں ، ہر لمحے اللہ کے حکم پر کاربند ہے اور خود پر آباد مخلوقات
کے لئے ایثار کر رہی ہے ۔ آدمی جس ذہن سے اس دنیا میں آیا ہے ، اس کے اندر وہ
ذہن کام کر رہا ہے۔ × (اس جملے کو خالی الذہن ہو کر تین سے پانچ مرتبہ پڑھئے)
ہر فرد کے باطن میں اللہ کی محبت کا
دیا روشن ہے ۔ اس روشنی میں داخل ہونا معرفت ہے۔ مٹی کی دنیا میں ہمارا واسطہ مٹی
سے پڑتا ہے۔ بجائے اس کے ہ ہم محبت کا دیا تلاش کریں ،مٹی کے نقش و نگار دیکھنے
میں یکسو ہیں۔
ہر منفی چیز کا ساتھ مٹی کے حواس تک ہے
۔ جہاں مٹی کی گرفت ٹوٹتی ہے ، نافرمانی کا رنگ اتر جاتا ہے ۔ جنت میں شجرِ ممنوعہ
کی طرف جانے کا ارادہ کرتے ہی ہمارے ذہن یا حواس نے نافرمانی کے رنگوں کو قبول کر
لیا تھا۔ ایسے میں جب ہم نے شجر ِ ممنوعہ کو دیکھا تو ذہن میں موجود بدلتے رنگوں
کا عکس شجرِ ممنوعہ پر پڑا اور ہم سمجھے کہ درخت کا رنگ بدل رہا ہے۔
رنگ بدلنا یہ ہے کہ خیال ایک رَو میں
نہیں رہتا ، وسوسے کا شکار ہو جاتا ہے اور آدمی ایک خیال کو ہزاروں روپ میں دیکھتا
ہے۔
جس طرح بدلتے رنگوں کا دماغ پہ اثر
ہوتا ہے اسی طرح بصارت بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب کوئی چیز پے در پے رنگ بدلتی ہے تو
راہ نما تجویز فرماتے ہیں کہ اندر میں دیکھنے کی مشق کرو۔ مراقبہ میں یکسوئی سے
مٹی کے حواس کی گرفت کمزور ہو جاتی ہے ۔ راہ نما فرماتے ہیں،
”دنیا میں مٹی کے حواس کا غلبہ ہو سکتا
ہے اور جنت کا بھی۔ ہم مٹی کے حواس کو چھوڑتے ہیں تو کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ
ہمیں کسی چیز کے بارے میں خیال آتا ہے اور وہ حاضر ہو جاتی ہے یعنی اس وقت انتہائی
مختصر وقت کے لئے ہم پر جنت کے حواس کا غلبہ ہو جاتا ہے۔“
ہو لو گرام (Hologram) ٹیکنا لوجی پر غور کریں ۔
اس میں لیزر روشنی کے ذریعے کسی شے کے خدو خال کو سہ جہتی (3D) شکل میں پیش کیا جاتا ہے۔
اگر ہولو گرام ٹیکنا لوجی کے تحت آبشار کے نقش و نگار دکھائے جائیں تو فرد اپنی
اکائی یا انفرادیت قائم رکھتے ہوئے آبشار میں سے گزر جاتا ہے یعنی وہ کسی اور شے
میں داخل ہو کر اس کا اثر قبول نہیں کرتا بلکہ اپنے آپ میں رہتے ہوئے اس سے گزر
جاتا ہے۔