Topics
خیال کا دوسرا رخ بے خیال ہونا ہے۔
بے خیالی اپنی اور ماحول کی نفی ہے جس میں کہنے اور سننے والے کے درمیان میں اسپیس
غیر محسوس ہو جاتی ہے ۔ پہلے خیال کو عرف عام میں ضمیر کی آواز کہا جاتا ہے ۔ یہ
صراط ِ مستقیم کی تفسیر ہے ، ان لوگوں کا راستہ جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے۔
ضمیر کی آوا زکو رد کرنے اور ظلمت کے اندھروں میں گم ہونے سے خیال کی اصل چھپ جاتی
ہے اور بندہ خود کو انعام سے دور کر لیتا ہے۔ راہ نما نے متنبہ کیا،
”کسی کام کو کرتے ہوئے مجرمانہ
احساس ہو تو اس کام کو ترک کر دو ۔ بظاہر وہ کام کتنا اچھا کیوں نہ ہو ، وہیں
شیطان ہے۔ اس سے دور بھاگو، جتنا بھاگ سکتی ہو۔ اور اگر کوئی کام کرتے ہوئے ضمیر
مطمئن ہے تو ضرور کرو۔“
سمجھ میں آیا کہ جس کام میں اللہ
کی رضا ہے وہ اچھا ہے، جس میں رضا نہیں ، ضمیر اسے قبول نہیں کرتا اور بے چین ہو
جاتا ہے۔
آواز یا خیال قلب سے وابستہ ہے اور
ضمیر قلب میں مقیم ہے۔ حرکت ِ قلب معطل ہونے سے آواز رک جاتی ہے۔ ہمارا اپنے وجود
اور کائنات سے رشتہ آواز کے ذریعے قائم ہے۔ جب تک آواز آتی ہے ، دماغ حرکت کرتا ہے
، آواز رکتی ہے، دماغ سن ہو جاتا ہے ۔ بیداری کے علاوہ نیند میں بھی زندگی کی یہی
طرز ہے۔
ہر خیال علم ہے اور ذہن کا کائناتی
تاروں سے جوڑ دیتا ہے۔ فکر اگر خیال کے تصویر خانوں میں داخل ہو جائے تو جو کچھ لکھ
کر قلم خشک ہو چکا ہے، دیکھ لیتی ہے۔ کنوئیں میں پانی آنا ، زمین میں پانی کی
موجودگی کا ثبوت ہے۔ خیال جس مقام سے آتا ہے ، علم کا بحرِ ذخار ہے۔
کم و بیش ہر شخص کا تجربہ ہے کہ
کوئی خیال آیا اور وہ ہو گیا۔ ہم اسے اتفاق کہتے ہیں ۔ اتفاق کے معانی امر کا
ارادے کے بغیر واقع ہونا ہے جب کہ مظاہرے کا قانون اٹل ہے ۔ اللہ جب کسی شے کو
ظاہر کرنا چاہتا ہے تو کہتا ہے ہو ، وہ ظاہر ہو جاتی ہے ۔ بالفاظ دیگر
اتفاق کا وجود نہیں ، ہر شے اللہ کے ارادے سے وابستہ ہے۔
ایک مرتبہ خیال نے متوجہ کیا کہ
غور کرو کتنی مرتبہ لاشعور کی راہ نمائی پر تم حادثات سے محفوظ رہیں۔ ذہن کے تاریک
پردوں میں سے ماضی کا منظر روشن ہوا۔ ہم سیر و تفریح کے لیے ناران گئے تھے۔ ناران
سے دریائے کنہار گزرتا ہے ۔ ہم دریائے کنہار اور جھیل سیف الملوک کے قریب ایک
چھوٹے گلیشیر پر رکے ۔ گھر والے گاڑی کے پاس کھڑے تھے جب کہ میں گلیشیر کی جانب
بڑھ رہی چکی تھی۔لاشعور نے متنبہ کیا کہ اس جگہ سے فوراً ہٹ جاؤ ۔ تیزی سے پیچھے
ہٹی اور دوڑ لگا دی۔ جونہی سڑک پر قدم رکھا ، پورا گلیشیر پانی میں گر گیا۔
ضمیر کی آواز پر عمل کرنے سے کئی
بار حادثات سے محفوظ رہی۔ نظر انداز کر کے نقصان اٹھایا۔ نقصان سے بندہ سیکھتا ہے
، میں نے بھی سیکھا اور غلطی کو دہرانے سے گریز کیا۔
نقصان اٹھانے پر اکثر لوگ کہتے ہیں
خیال آیا تھا کہ دودھ ابل جائے گا ، آنچ بند کر دو لیکن میں نے سوچا کہ پانچ منٹ
تاخیر ہو سکتی ہے ۔ کوئی کہتا ہے چھٹی حس نے خبر دار کیا تھا گاڑی کا ٹائر تبدیل
کر لو مگر میں نے سوچا کل کر لوں گا۔ کسی کو رشتہ دار کی خیریت معلوم کرنے کا خیال
آیا، سستی کا مظاہرہ کیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ بیمار ہے۔
خیال کی ہم پر کتنی گہری نظر ہے ۔
وہ نہ صرف ہم سے باخبر ہے بلکہ ہم سے وابستہ ہر شخص کی خبر رکھتا ہے اور راہ نمائی
کرتا ہے کہ فلاں سے یہ کہو، وہ کہنے سے گریز کرو ، یہاں مت جاؤ ، وہاں چلے جاؤ ۔
دن رات پر تفکر نے بتایا کہ بیداری اور نیند دونوں آواز کے حصار میں ہیں۔
یاد ہے وہ لمحہ جب خیال نے کہا تھا
کہ کھانا تقسیم کر دو ۔ نہ جانے کیوں اہمیت نہیں دی۔ تھوڑی دیر میں پڑوس سے پلاؤ
آیا اور میں اپنا رکھا ہوا سالن بھول گئی ۔ باہر پڑے رہنے سے صبح سالن میں سے بدبو
آرہی تھی۔ سخت ندامت ہوئی۔ ضائع ہونے والی غذا پر کسی اور کا نام لکھا ہوا تھا ،
میں نے خود کھایا اور نہ اس تک پہنچنے دیا ۔ معافی تلافی کی تب جا کر دل کو سکون
ہوا۔
فکشن شعور کتنا بے شعور ہے کہ ذرا
دباؤ قبول نہیں کرتا ، تسکین سے عارضی طور پر مطمئن ہوتا ہے اسی لئے بے قراری کو
قرار نہیں آتا ۔ ہونا یہ چاہیئے کہ قرار حاصل کرنے کے لئے شعور ، لاشعور کی پناہ
میں ائے اور ان کناروں کی مانند ہو جائے جہاں زمین و آسمان ملتے ہیں ۔ مگر شعور
خلاف توقع کام ہونے پر فوراً غصے کا اظہار کر دیتا ہے ، کوئی بات معلوم ہو جائے ،
جب تک کسی کو بتا نہ دے ، سکون نہیں ملتا ، راز میں لوگوں کو ہم راز بنا کر سمجھتا
ہے کہ راز محفوظ ہو گیا۔ ایسا شخص امانت کا متحمل نہیں ، راز کھولنے کو نجات
سمجھتا ہے۔
ہم نے خود کو عادت کا قیدی بنا لیا
۔ اگر ہماری نیند دس گھنٹے ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ دس گھنٹے سونا ضروری ہے ۔ غیبت
کی عادت ہے ،ضمیر کے منع کرنے کے باوجود غیبت سے باز نہیں آتے ۔ فطرت میں غصہ نہیں
لیکن فرد غصے کا غلام ہے۔
خیال نے مجھے ان ساری باتوں کی طرف
متوجہ کیا جنہیں فکشن شعور نے عادت بنا لیا تھا۔ رب کے کرم سے ایسی عادات کی اسیری
سے نکل رہی ہوں جو فکشن اور حقیقت کے درمیان میں حائل ہیں۔
ہر شخص اپنے ذہن کے لینس سے دنیا
دیکھتا ہے اور اس کو حقیقت سمجھتا ہے ۔ بعض لوگ محض بیوی بچوں سے غرض رکھتے ہیں۔
انہیں ماں باپ ، بہن بھائی ، پڑوسی ، رشتہ دار اور سماجی حقوق سے سروکار نہیں ۔
بیوی بچوں کا خیال رکھ کر سمجھتے ہیں کہ زمہ داری پوری ہوگئی۔ حقوق العباد کا خیال
ان کو آتا ہے مگر طرز فکر کے مخصوص پیٹرن کی وجہ سے وہ انفرادیت میں محدود ہو جاتے
ہیں ۔
لاشعور کو لاشعور کی طرز میں قبول
کرنے سے شعور لاشعور میں پیوست ہوتا ہے ۔ شعور کیا ہے؟ آواز جو حواس میں داخل ہو
جائے ، شعور ہے ورنہ لاشعور میں رہتی ہے ۔ ہم خیال میں شک کی ملاوٹ کرتے ہیں۔ شک
شامل نہ کرنے سے لاشعوری طرز فکر غالب ہوتی ہے ۔ بعض اوقات ایک خیال پر ذہن دو
رخوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ جانتے ہوئے کہ کون سا راستہ درست ہے ، قبول کرنا طبیعت
پر گراں گزرتا ہے ۔ جب میرے ساتھ ایسا ہوا تو اس لمحے اندر میں آواز نے خبردار
کیا،
” اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور
اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جاؤ گے ۔“
(الانفال : ۲۴)
راہ نما چاہتے ہیں کہ ہم کیئر آف
اللہ طرز فکر اختیار کریں۔ سانس اللہ کی طرف سے آتا ہے ، اللہ کی طرف لوٹ جاتا ہے
۔ خیالسانس کے ساتھ آتا ہے اور عکس منعکس کر کے لوٹ جاتا ہے ۔ خیال کا رخ اللہ کی
طرف ہو جائے تو بندگی زندگی بن جاتی ہے ۔ راہ نما بارہا تلقین فرماتے ہیں کہ آپ
”اللہ اکبر“ کہہ کر صلوٰۃ کا آغاز کرتے ہیں، اس کے بعد دنیاوی خیالات کی یلغار ہو
جاتی ہے ۔ اللہ سب بڑا ہے ، اقرار کر کے دوسرے خیالات میں مشغول ہونا ۔۔ کیا بے
ادبی نہیں؟
یہ کہنا کہ ہم خیالات کے آگے بے بس
ہیں ، درست نہیں ۔ توجہ یا ارتکاز خیالات میں توازن قائم رکھنا سکھاتا ہے۔ راہ نما
نے اطلاع کی سائنس سمجھائی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں ،
”خیال کی زندگی 15 سیکنڈ ہے۔ مزید
15 سیکنڈ کے لیے روکا جائے تو فوٹو کاپی مشین کی طرح خیال کی کاپیاں بنتی ہیں اور
خیال کی عمر بڑھ جاتی ہے۔“
روحانی استاد ، شاگرد سے واقف ہے
اور خیال کے ذریعے اصلاح کرتا ہے۔ ایک بار کسی نے عرض کیا کہ ڈر لگتا ہے ، زندگی
ضائع ہو رہی ہے۔ وقت کم ہے اور سفر طویل ۔
انہوں نے اصلاح کی ۔۔ پہلی سے
سولہویں جماعت تک پڑھتے ہوئے خیال نہیں آیا کہ وقت ضائع ہو رہا ہے، تعلیمی سفر
طویل ہے؟ اکتسابی تعلیم میں 16 سال لگا دیتا ہیں اور روحانی تعلیم میں چھ سال کے
بعد کہتے ہیں کہ سفر طویل سال لگا دیئے ، اسے پڑھتے ہوئے خیال نہیں آیا کہ 16 سال
میں جو پڑھا اسے دیکھنے کے لئے نگاہ بیدار نہیں ہوئی؟ روحانیت میں وقت ضائع نہیں
ہوتا ، کار آمد ہوتا ہے۔
اندر میں تلاش کر رہی تھی کہ میں
کون ہوں ۔کیا میں خیال ہوں؟
لیکن خیال کہیں اور سے آتا ہے ۔
پھر میں کون ہوں ؟
کیا میں خیال قبول کرنے والی
ایجنسی ہوں؟
جسے اپنا آپ سمجھ رہی ہوں ، وہ خلا
ہے اور خلا میں اپنے ہونے کا میرا شعور فکشن ہے۔ فکشن سے حقیقت تک پہنچنے کی
شاہراہ خیال ہے ۔
خیال اپنی بقا کے لئے ہدف چاہتا ہے
تاکہ شکل و صورت مسخ نہ ہو۔ وہم ، خیال اور تصور کو ہدف بنالیا جائے تو فکشن شعور
کی دیوار گر جاتی ہے ۔
(قسط : ۹)