Topics
کئی سال پہلے کی بات ہے کہ ایک تقریب
میں راہ نما نے مردانِ غیب کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ مفہوم تھا کہ جو بندہ
یقین کے ساتھ اللہ کو پکارتا ہے ، اللہ کے حکم سے مرداِ غیب حرکت میں آتے ہیں اور
مدد کرتے ہیں۔
غیبی مدد ایک نظام ہے جو یقین کی بنا
پر حرکت میں آتا ہے۔ اردو لغت کی رُو سے مردانِ غیب کا مطلب عالمِ غیب کی وہ مخفی
ہستیاں ہیں جو خالقِ کائنات اللہ تعالیٰ کے حکم سے زمین پر مخلوقات کی مدد کرتی
ہیں۔
رحمٰن و رحیم اللہ نے مخلوقات کو بے
حساب وسائل عطا کئے ہیں اور وسائل کی تقسیم کے لئے امدادی نیٹ ورک قائم کیا ہے۔
دیکھا جائے تو ہر مخلوق اس نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ بارش کے ذریعے وسائل نازل ہوتے ہیں
، زمین ان کو قبول کر کے رنگ روپ میں ظاہر کرتی ہے۔ حشرات اور حیوانات بھی بار
برداری کا کام کرتے ہیں۔ ہوا وسائل سے زرخیز ذرّات کو ایک خطے سے کسی اور خطے میں
لے جاتی ہے ۔ پانی پہاڑ کی تہوں سے معدنیات لے کر اونچی نیچی زمینوں کو سیراب کرتے
ہوئے سمندروں تک پہنتا ہے۔ غرض وسائل کی ترسیل کا نیٹ ورک جس کا ہر مخلوق کسی نہ
کسی طرح سے فعال حصہ ہے۔
زندگی کی راہوں کو متعین کرنے والے
وسائل میں سے ایک آدمی کے اعمال ہیں ۔ عالمِ اسباب میں آدمی جب اپنے بد اعمال کی
گرفت میں آتا ہے یا اچھے اعمال انجام دیتا ہے تو عاجزی کی تصویر بن کر اعلیٰ و
ارفع ذات میں یکسو ہو جاتا ہے۔ یکسوئی بڑھنے سے روشنی کی کرن ظاہر ہوتی ہے اور طلب
کا حصول ممکن ہو جاتا ہے۔
تقریب کے بعد اور اپنے شہر روانگی سے
پہلے راہ نما سے ملاقات ہوئی تو میں نے پُرجوش انداز میں عرض کیا، استاد ِ محترم!
گزشتہ شب آپ کا خطاب سن کر لطیف کیفیات کا غلبہ رہا۔ مردانِ غیب سے متعلق امداد کا
قانون معلوم ہوا ۔ جو سنا ، اس کی گونج جاری ہے۔ کیا میری طرح عام فرد بھی غیبی
مدد سے مستفیض ہو سکتا ہے؟
فرمایا ، ہو سکتا ہے۔
خانقاہ سے رخصت ہوئے۔ اسٹیشن پہنچنے
میں تاخیر ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ ریل گاڑی روانہ ہو چکی ہے۔ سب پریشان ہو گئے۔
ہمارے پاس اتنے پیسے تھے کہ واپسی کے سفر میں کھانے پینے کا خرچ پورا ہو جاتا
ہوتا۔
حالات دیکھتے ہوئے گروپ لیڈر نے کہا کہ
خانقاہ جا کر کسی سے ادھار لے لیتے ہیں ، کراچی سے لاہور پہنچتے ہی واپس کر دیں
گے۔
میں اب تک خاموش تھی ، ساتھیوں کو تسلی
دیتے ہوئے کہا، یقین بے یقینی ہو تو آدمی تکلیف اٹھاتا ہے اور بھٹکتا ہے۔
بات کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ میں یقین
کی زمین پر کھڑی ہوں ۔ ساتھیوں کی تکلیف پر رنج لیکن دل مسرور تھا کہ اج مشاہدہ ہو
گا۔
کس کا مشاہدہ؟ یقین کا ۔ غیبی مدد کا۔
تجربہ ہے کہ راہ نما سے ملاقات کے بعد
خانقاہ سے لوٹتے ہی آزمائش کا آغاز ہو جاتا ہے ۔ میں نے سب کو رات کے خطاب کی طرف
متوجہ کیا جس میں صاحب ِ مشاہدہ نے فرمایا تھا،
”صاحب ِ یقین اور متوکل بندے کو
غیبی مدد حاصل ہوتی ہے۔“
لگ بھگ 40 منٹ بعد ریلوے پلیٹ فارم پر
خاتون آئیں جو ہماری ایک ساتھی کی سہیلی تھیں۔ وہ کسی عزیز کو اسٹیشن چھوڑنے اور
الوداع کہنے آئیں تھیں۔ صورتِ حال سے آگاہی کے بعد بیگ سے رقم نکالی اور کہا، ہدیہ
قبول فرمائیں۔
یہ غیبی مدد ہے۔
دل اللہ کے حضور سر شار ہو گیا۔
اگلے 25 منٹ میں لاہور جانے والی گاڑی
میں 35 افراد کے ٹکٹ بک ہو چکے تھے۔ اس تعداد میں سیٹوں کا فوری دستیاب ہونا آسان
نہ تھا۔
یہ غیبی مدد کا ایک اور مشاہدہ تھا۔
خاتون ہمارے لئے فرشتہ ثابت ہوئیں۔ ان
کا یہاں آنا اتفاق نہیں تھا۔ وہ اپنے عزیز کو اسٹیشن کے گیٹ پر چھوڑ کر روانہ ہو
سکتی تھیں لیکن قدرت نے ان کے دل میں ریلوے پلیٹ فارم تک آنے کا خیال بھیجا جسے
انہوں نے قبول کیا اور ہماری مدد کر کے لوٹ گئیں۔
راضی برضا رہنے والے بندے ہنگامی حالات
میں بھی پُر سکون رہتے ہیں ۔ انعام ہو یا افتاد ، صبر و رضا کے نور سے وابستہ ہوتے
ہیں۔
ایک بھائی صاحب اپنے معمر والد کی
جائیداد کا تنازعہ سلجھانے کے لئے گھر سے نکلے۔ والد کی خواہش تھی کہ دنیا سے رخصت
ہونے سے پہلے مالی معاملات سے عہدہ بر آہوجائیں۔
بھائی صاحب سارے راستے سرخروئی کی دعا
کرتے رہے۔ ضلع بکھر (پنجاب) میں داخل ہونے سے پہلے انہیں سڑک کنارے ہینڈ پمپ
دکھائی دیا۔ خیال آیا کہ صلوٰۃ قائم کر کے آگے بڑھیں۔ وضو کے لئے گاڑی سے اترے۔
دور دور تک آبادی کا نام و نشان نہیں تھا۔
اتنے میں ایک بندہ آیا جس نے دھوپ کی
تمازت سے محفوظ رہنے کے لئے سر اور چہرے کو بڑے رومال سے ڈھانپا ہوا تھا۔ اس نے
آگے بڑھ کر میکانکی انداز میں ہینڈ پمپ چلانا شروع کیا اور بھائی نے وضو کیا۔ دونوں
میں کوئی بات نہیں ہوئی۔
وہ بتاتے ہیں کہ اجنبی کی شخصیت میں
وقار اور رعب تھا۔ وضو کے بعد مڑ کر دیکھا تو وہاں پر کوئی نہیں تھا۔ دور دور تک
سڑک ویران تھی۔ یقین ہے کہ وہ مردانِ غیب میں سے تھا۔ نامعلوم مقام سے اس کا آنا
اور وضو میں مدد کرنا جسم و قلب کی طہارت کا انتظام تھا۔
بھائی صاحب گاؤں پہنچے، پنچایت میں
بیٹھے اور دیرینہ مسئلہ آدھے گھنٹے میں حل ہوگیا۔
اچھی نیت کے ساتھ اور لالچ کے بغیر کام
کیا جائے تو غیب الغیب سے مدد ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف نیت میں کھوٹ سے آدمی گرداب
میں پھنس جاتا ہے اور ساری عمر اسی میں رہتا ہے۔
ایک صاحب اپنا احوال بتاتے ہیں کہ میں
حالات کے نشیب و فراز سے کبھی نہیں گھبرایا۔ یقین ہے کہ ہر شے من جانب اللہ ہے۔
آزمائش میں ڈالنے والا ہمیں آزمائش سے نکالتا ہے۔ بارہا ایسے مشاہدات ہوئے کہ
تکلیف آئی اور حل ہوگئی۔ رنج کی جگہ راحت نے لے لی۔ بے سکونی نے سکون کا لباس پہن
لیا۔
ایک روز دفتر میں بیٹھا تھا۔ جیب خالی
تھی۔ گھر جانے کا کرایہ نہ تھا۔ ادھار مانگنا مزاج کے خلاف تھا۔ شام تک اس امید پر
ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھا رہا کہ دیکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ غیب سے کیا ظاہر فرماتے
ہیں۔
مغرب کے قریب ایک صاحب میرے دفتر میں
داخل ہوئے۔ 50 ہزار کی رقم دیتے ہوئے کہا کہ آپ سے قرض لیا تھا ، لوٹانے آیا ہوں۔
میں نے کہا کہ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے،
یہ میری رقم نہیں ہے کیوں کہ اس سے پہلے ہماری کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔
ان صاحب نے میرا نام اور پتہ بتاتے
ہوئے کہا بھائی ۔۔ آپ دے کر بھول گئے لیکن ہم نہیں بھولے، اور میز پر رقم رکھ کر
ایسے غائب ہوئے کہ پتہ نہیں زمین کھا گئی کہ آسمان! مجھے یقین ہے کہ وہ مردانِ غیب
میں سے تھے۔
حلال رزق کمانے والے کا ذہن فطرت پر
قائم ہو جاتا ہے ۔ جب اسے دشواری کا سامنا ہوتا ہے ، فطرت اس کی رفیق بن جاتی ہے۔
ایک بہن کا جواں سال بیٹا نشہ کی عادت
میں مبتلا ہو گیا۔ ہر چند کو شش کی ، علاج کروایا کہ وہ اس لعنت سے نجات پالے مگر
لاحاصل۔ نشے کے ساتھ دیگر اخلاقی برائیاں بھی آگئیں۔ ماں نے تھک ہار کر چپ سادھ لی
اور بیٹے کے لئے گڑ گڑا کر اللہ سے دعا کی۔
ماں کی پکار آسمانوں پر پہنچی تو اللہ
نے غیب سے مدد کا انتظام فرمایا۔ بہن کا ایک رشتہ دار دور سے ملنے آیا اور علاج کے
ارادے سے لڑکے کو اپنے ساتھ لے گیا۔ جس ماحول میں لڑکا بری عادتوں میں مبتلا ہوا
تھا ، اس ماحول کی لہروں سے آزاد ہوا اور نشہ ترک کر دیا۔
دعا دوا ہے۔
اللہ اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ
محبت کرتا ہے۔ وہ اپنے بندے سے دور نہیں ، رگ ِ جان سے زیادہ قریب ہے۔ یہ بندہ ہے
جو شک کو قبول کر کے خود کو اللہ سے دور کر لیتا ہے۔ یقین کے مسافر جس راستے پر
چلتے ہیں ، راستے کا ہر منظر ان کا مدد گار بن جاتا ہے۔
ایک عزیزہ سودا لینے گھر سے نکلیں تو
پیسے راستے میں گر گئے۔ پریشان ہوئیں کہ اب کیا کریں۔ خالی ہاتھ گھر سے کیسے جائیں
اور کھانے میں کیا پکائیں ۔ شوہر ، تنک مزاج تھے۔ خاتون خوفزدہ تھیں۔ رب کو پکارا
کہ یااللہ! آپ میرا سہارا ہیں، مجھے شوہر کی ڈانٹ سے بچا لیں۔
اگلے لمحے کوئی آدمی آیا اور کہا ، بہن
! پریشان نہ ہوں ، یہ لیں ۔ پیسے دے کر وہ غائب ہو گیا۔ خوشی کی انتہا نہ رہی، سودا خریدا اور گھر
آگئیں۔
آدمی لہروں سے بنا ہے کائنات کا قیام
بھی لہروں پر ہے۔ انفرادی لہریں جب کائنات کی اجتماعی لہروں سے گلے ملتی ہیں تو
غیبی مدد کا نظام حرکت میں آتا ہے۔۔۔نظام میں شامل ہر تخلیق چاہے دور ہو یا قریب ،
مدد گار بن جاتی ہے۔
عام مشاہدہ ہے کہ خیر پر مشتمل کاموں
کے لئے جن میں مخلوق کی فلاح ہوتی ہے، وسائل بطور خاص دستیاب ہو جاتے ہیں۔
معرکۂ بدر کے آغاز سے قبل خاتم النبیین
ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجود ہو کر دعا فرمائی۔
” الٰہی! یہ قریش ہیں ، کبرو نخوت سے
جن کی گردنیں اکڑی ہوئی ہیں ۔ تیرے نافرمان ہیں اور تیرے رسولﷺ سے امادہ جنگ ہیں۔
الٰہی! نصرت اور مدد کی ضرورت ہے جس کا تو نے وعدہ فرمایا ہے۔ اے اللہ! تجھ پہ
ایمان لانے والے قلیل ہیں۔ اگر آج یہ بھی نہ رہے تو روئےزمین پر تیری عبادت کرنے
والا کوئی نہ رہے گا۔“
حضور پاکﷺ نے دعا میں طویل سجدہ کیا۔
اسی دوران اہلِ ایمان کو اونگھ آگئی۔ جب آنکھ کھلی تو دونوں اطراف کے سپاہیوں کے
دیکھنے کا زاویہ تبدیل ہو گیا تھا۔ کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد ایک
تہائی یعنی 313 تھی۔ مسلمانوں کو کفار کی تعداد کم نظر آئی جب کہ دشمن فوج نے
مسلمانوں کو غالب دیکھا۔ مردانِ غیب کا ظہور ہوا جس سے میدانِ جنگ کا نقشہ بدل
گیا۔ مسلمانوں کو فتحِ مبین حاصل ہوئی۔