Topics
کمرے میں کئی اقسام
کے عطر قرینے سے رکھے تھے۔ راہ نما نے ہمیں خوش بویات سے متعارف کروایا۔ عود ان کی
پسندیدہ خوش بو ہے۔ معلوم ہوا کہ بہترین سنگھار خوش بو ہے۔
خوش بو سے دوستی
پرانی ہے۔ جب میں چھوٹی تھی تو گھر میں لگے پھول سونگھ کر سر ہلاتی اور خوش ہوتی
تھی۔ عطر لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ رات کو چپکے سے موتیا کے پھول سرہانے رکھ کر یہ
سوچتے ہوئے سو جاتی کہ یا اللہ ! خوش بو آپ کی قربت کا احساس بڑھا دیتی ہے۔
لگتا تھا کہ خوش بو
باتیں کرتی ہے، کیا کہتی ہے ، سمجھ سے بالا تر تھا۔ جب پھولوں کا موسم چلا جاتا تو
میں اگر بتی سلگائے بغیر سر ہانے رکھ لیتی تھی۔
وسائل کی ترسیل کا
عجب نظام ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ گڑ خورے کو گڑ دیتا ہے ۔ جب میں آٹھویں جماعت میں
تھی تو کلاس میں نئی لڑکی داخل ہوئی ۔ اس کے والد شکار کے لئے جاتے تھے۔ وہ میرے
لئے کستوری لاتی تھی اور میرا تخیل اس خوش بو میں قرب کا نظارہ کرتا تھا۔
ہم چھوٹے تھے تو
والد صاحب ہمیں جنگلات کی سیر کے لئے لے جاتے تھے ۔ جنگلات کی سیر منفرد تجربہ ہے۔
حواس فطرت میں موجود بہت سی چیزوں سے ہم آغوش ہوتے ہیں اور لطافت عمر بھر احساس
میں بس جاتی ہے۔
والد صاحب ہم سے
کہتے تھے کہ آنکھیں بند کر کے بیٹھ جاؤ اور فضا میں مہک اور تازگی محسوس کرو ۔ ہم
سوکھی گیلی مٹی ، پھول ، پھل ، بیج ، لکڑی اور جنگلی پودوں کی خوش بو کے قدرتی مخلط×
(ملا ہوا ۔ جنگل کے حوالے سے بیان کی گئی چیزوں کی خوش بو کی آمیزش سے بننے والی
مہک ) سے مانوس ہو گئے۔
ہر درخت کی مخصوص
خوش بو ہے جیسے دراز قد چیڑ اور گندہ بیروزہ کی مرطوب خوش بو اندر کو بیدار کرنے
کے لئے دستک دیتی ہے۔
خوش بو اور آواز کا
ساتھ قدیم ہے ۔ کبھی والد صاحب دھیمی آواز میں کہتے کہ بچو! فطرت سے قریب ہو جاؤ
اور آنکھیں بند کر کے جھرنوں اور آبشار کی موسیقی سنو۔آج جب میں کہیں مصنوعی آبشار
کے پاس کھڑی ہوتی ہوں تو جنگل کا ماحول اور خوش بو کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔
اکثر ایسا ہوتا ہے
کہ خوش بو کسی فرد ، واقعہ یا تجربے سے وابستہ ہو جاتی ہے اور اس کی یاد دلاتی ہے۔
امی بتاتی ہیں کہ تمہارے ابو دوسرے شہر جاتے تو تمہارا چھوٹا فراک اور بھائی کا
کرتا ساتھ لے جاتے ۔ وہ کہتے تھے کہ کپڑوں سےبچوں کی خوش بو آتی ہے، میں خوش رہتا
ہوں اور بچوں سے دوری کا احساس نہیں ہوتا۔
بعض اوقات خوش بو
سے حواس پہ خمار طاری ہو جاتا ہے اور فرد کچھ دیر کے لئے خاکی وجود کے احساس سے بے
نیاز ہو جاتا ہے۔ علمِ روحانیت سیکھنے کے لئے یہ کیفت ضروری ہے۔ خوش بو شعور کی
گھٹن سے بہت آگے ، لاشعور کی حد میں قدم رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
سہیلی سے ملنے گئی
تو اس کی گلی عطر کی دکان محسوس ہوئی۔ ہوائیں خوش بو کا فیض نہ جانے کہاں کہاں
پہنچانے میں مصروف تھیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ کہاں سے آرہی ہے؟
ذہن میں اس رباعی
کی تکرار ہو گئی۔
یہ جانتی ہے کیوں
ہیں فرشتے روپوش
یہ جانتی ہے کیا ہے
فرشتوں کا جوش
یہ جانتی ہے ضرور
قدرت کے راز
سوسن ہے زباں دراز
پھر ہے خاموش
راہ نما اعلیٰ خوشبو
یات استعمال کرتے ہیں۔ عطر لگاتے وقت کوئی موجود ہو تو اسے بھی شریکِ عطر کرتے
ہیں۔ عطر تبرک کے طور پر خانقاہی نظام کی روایات میں شامل ہے۔
ایک مرتبہ ایسا ہوا
کہ میں بزرگ سہیلی کے ہمراہ خانقاہ کے باغیچے میں بیٹھی دھیمی آواز میں بار بار یہ
شعر پڑھ رہی تھی۔
بوئے گل نالۂ دل
دور چراغ محفل
جو تیری بزم سے
نکلا سو پریشاں نکلا
میرے ساتھ سہیلی کا
دوپٹا بھی اشکوں سے تر تھا ۔ نگاہیں بار بار راہ نما کے کمرے کی جانب چلی جاتیں۔
پھر ہوا یہ کہ وہ اچانک باہر تشریف لائے اور منتظر شاگردوں کو ملاقات کا شرف بخشا۔
میڈیکل سائنس کے
مطابق ہمارے اندر سونگھنے کی حس ”فیکٹری سینسری نیورانز “ کی وجہ سے ہے۔ یہ خاص
سینسری سیلز ہیں ۔ ماحول میں موجود خوش بو یا بدبو سے مائیکرو اسکوپک مالیکولز
خارج ہوتے ہیں۔ فیکٹری سینسری نیو رانز ان کا سراغ لگا کر اطلاع دماغ کو بھیجتے
ہیں، اس طرح خوش بو اور بد بو کی شناخت ہوتی ہے۔
ایک مرتبہ زیورات
سے لدی امیر کبیر پریشان چہرہ خاتون حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ مجھے ہر طرف بدبو
آتی ہے ۔۔ اِدھر سے ، اُدھر سے، لوگوں سے ، بازاروں میں ، بدبو ہی بدبو ہے۔
انہوں نے فرمایا ،
اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ شمار کریں کہ آپ نے زندگی میں خوش بو زیادہ سونگھی ہے
یا بدبو ؟ خاتون سوچ میں ڈوب گئیں۔
فرمایا ، شمار کرنے
سے معلوم ہوگا کہ آپ نے خوش بو زیادہ سونگھی ہے۔ خوش بو کی طرف توجہ دینا شروع
کریں ، بدبو غائب ہو جائے گی۔
تھوڑی دیر بعد
خاتون کے چہرے پر نرمی آئی جیسے وہ پُرسکون ہوگئی ہوں۔
آدمی کی طرح
جانوروں اور حشرات میں بھی خوش بو اور بدبو کی اہمیت ہے۔ لیونڈر ، روز میری اور
کئی پھول پودے ایسے ہیں کہ گھر میں لگائے جائیں تو خوش بو سے کیڑے مکوڑے بھاگ جاتے
ہیں ۔ گلِ داؤدی کی پتیوں کو جلد پر مسلا جائے تو اس کی خوش بو سے موذی کیڑے قریب
نہیں آتے۔ بعض جانور اور حشرات ساتھی کو راغب کرنے کے لئے ایسی خوش بو خارج کرتے
ہیں جو ملاپ کا باعث بنتی ہے۔
بد بو کی بات کی
جائے تو میڈیکل سائنس کے مطابق پسینے میں بد بو نہیں ہوتی تاہم جلد پر پہلے سے
موجود بیکٹیریا جب پسینے سے ملتے ہیں تو وہ جلد میں موجود پروٹین مالیکیولز کو
توڑتے ہیں، نتیجے میں بدبو پیدا ہوتی ہے۔
پسینے کی بد بو ایک
جیسی نہیں ہوتی ، اس کا تعلق ہماری غذا سے ہے ۔ مرغن غذائیں ، لہسن ، پیاز ، مسالے
دار غذا اور مچھلی ×
(آپ بھی تجربہ کیجیئے ۔ مچھلی زیادہ کھانے سے جسم میں سے مچھلی کی بو آتی ہے) کھائیں، یہ پسینے میں بدبو پیدا کرتی ہیں۔ جیسے
ہی کھانا ہضم ہوتا ہے ، غذا کے اثرات مساموں سے خارج ہوتے ہیں اور ناگوار بو آتی
ہے۔ جسم میں جو چیز جاتیہے ، معدہ اس کو پیستا ہے، اس کی بو خون میں شامل ہوتی ہے
اور پسینے میں سے آتی ہے۔
زیادہ میٹھا کھانے
والے افراد کے پسینے میں بھی بدبو ہوتی ہے ۔ میٹھا زیادہ کھانے سے جسم میں ضرورت
سے زیادہ خمیر پیدا ہوتا ہے جو شوگر کو الکحل میں تبدیل کر دیتا ہے۔
راہ نما نے فرمایا
، لوگ لباس پر پرفیوم چھڑکتے ہیں لیکن اپنے اندر کی بدبو دور نہیں کرتے۔
مفہوم یہ ہے کہ
منفی طرز ِ فکر اور متفعن سوچ سے پیدا ہونے والی بدبو آدمی کو خوش بو سے دور کر
دیتی ہے ۔ مصنوعی خوش بو کا اثر عارضی ہے مگر اندر کی خوش بو کا اثر باقی رہتا ہے۔
وہ شیور مرغی اور
اس کا انڈا کھانے سے منع کرتے ہیں کیوں کہ پسینے سے بد بو آنے لگتی ہے۔ انہوں نے
بتایا ، ایک بزرگ تھے۔ وہ لونگ بہت چباتے تھے۔ جہاں جاتے تھے ، لونگ کی خوش بو
پھیل جاتی تھی۔
میں نے دل میں سوچا
کہ کیا میں گلاب کے پھول کھانا شروع کر دوں۔
انہوں نے مسکراتے
ہوئے میری جانب دیکھا اور فرمایا ، آپ دودھ میں عرقِ گلاب ڈال کر پی لیا کریں ،
پسینے میں گلاب کی خوش بو آجائے گی۔
ہر شے کی طرح خوش
بو میں بھی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ کب عطر کے قطرے آنسو بنے ، آدمی یہ دیکھنے
سے محروم رہا۔
چند روز قبل مراقبہ
میں دیکھا کہ میری ٹھوڑی کے نیچے چھوٹی تھیلی ہے ، اس میں عطر کی شیشی ہے۔ اس وقت
خیال آیا کہ جو باتیں ہمیں اللہ سے نزدیک کرتی ہیں ، وہ خوش بو ہوتی ہیں۔ مجھے صرف
وہی باتیں کرنی چاہییں۔
۱۷ اپریل ۲۰۲۲ ء کا
ذکر ہے ، مراقبہ کر رہی تھی۔محسوس ہوا کہ بزرگ تشریف فرما ہیں۔ اپنی ناک تیزی سے
اینٹی کلاک وائز گردش کرتی محسوس ہوئی۔ یوں لگا کہ ناک لٹّو ہے جو تیزی سے گھوم
رہا ہے ۔ اس کو روکنا میرے اختیار میں نہیں۔ پھر ناک پر دباؤ محسوس ہوا جو مراقبہ
کے دو تین گھنٹے بعد تک قائم رہا جیسے سونگھنے کی حس جس بنیاد پر قائم ہے ، وہاں
ارتعاش ہوا ہو۔
نفرت بدبو اور محبت
خوش بو ہے۔
ایک مرتبہ راہ نما
نے فرمایا تھا کہ
”نظر لگنے سے حواس
کی مقداروں میں بے ترتیبی آجاتی ہے ، نظر اتارنے سے مقداریں درست ہو جاتی ہیں اور
صلاحیتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔“
ایک اور موقع پر
فرمایا،
”محبت کی نظر زیادہ
لگتی ہے۔ ماشا ء اللہ یا چشم بددور کہنا چاہیے۔“
یہ سن کر میں تجربہ
کیا۔
۱۔ ہر شخص جانتا ہے
کہ نظر لگتی ہے اور وہ نظراتارنے کے طریقوں سے بھی واقف ہے۔ خود سمیت گھر میں
موجود چار افراد کی نظر اتارنے کا عمل کیا۔فلیتہ ×
(نظر کا تعویذ) ان کے سر پر رکھا پھر جلا دیا اور سونگھنے کی حس پر توجہ مرکوز کی۔
دو افراد کو نظر نہیں لگی تھی۔۔ کیسے معلوم ہوا؟ ان کا فلیتہ جلنے سے محض کاغذ کی
بو پھیلی جب کہ باقی دو فلیتے جلنے سے خوش بو سب نے محسوس کی۔
نظر اتارنے والا
تجربہ بہت سے افراد پر کیا جس کے حیرت انگیز نتائج سامنے آئے۔ کسی فلیتے سے پلاسٹک
جلنے کی ، کسی سے صابن، کسی سے ڈیٹول اور کسی سے بارود کی بو پھیل گئی۔ تجربے میں
اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے فلیتے سے عطر ، گلاب ، صندل اور مختلف قسم کی خوش بو
فضا میں پھیلی۔
۲۔ راہ نما فرماتے
ہیں کہ استاد ماں ہے اور باپ بھی۔ ایک بھائی نے بتایا کہ انہوں نے مراقبہ میں توجہ
روحانی باپ پر مرکوز کی۔ یکسوئی قائم ہوتے ہی مسحور کُن خوش بو سے حواس معمور ہو
گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔
ہم مرکزی خانقاہ
میں موجود تھے۔ راہ نما نے بخور دان میں کوئلہ سلگا کر خوش بو کی ٹکیہ رکھی۔ کچھ
دیر میں فضا عود اور بخور سے مہک اٹھی۔ پھر انہوں نے ورد کرایا اور سب کو باطن سے
واقف ہونے کی تلقین کی۔ ماورائی ماحول میں سب نے باقاعدہ طور پر محسوس کیا کہ
کثافت کی پرتیں اتر رہی ہیں۔ خوش بو کی ٹکیہ اور کوئلہ ختم ہونے کو تھا۔ راہ نما
نے چمٹے کی مدد سے کوئلے کا ٹکڑا اٹھاتے ہوئے فرمایا ، میں خوش بو سے زیادہ کوئلے
کو اہمیت دیتا ہوں۔
ایسی انوکھی بات
میں نے کبھی نہیں سنی تھی۔
کئی دن اس پر غور
کیا ، ہر بار نیا زاویہ سامنے آیا ۔ راہ نما نے ہمیں خوش بو سے متعارف کروایا اور
خود کوئلے کو اہمیت دیتے ہیں۔ بات یہ سمجھ میں آئی کہ کوئلہ ہوگا تو خوش بو مہکے
گی۔ کوئلہ جلتا ہے اور خوش بو پھیلتی ہے۔ فرد خوش بو سے لطف اندوز ہوتا ہے، کوئلے
کی طرف توجہ نہیں جاتی جب کہ صاحبِ بصیرت کی نظر کوئلے پر ہے۔ یہ بجھ گیا تو خوش
بو غائب ہو جائے گی۔
کوئلے کےایثار پہ
خود بو قربان ہوتی ہے اور ہم ہیں کہ ایثار و قربانی سے بے خبر خوش بو کے محول میں
کہیں اور چلے جاتے ہیں۔
فقیر اپنی ذات میں
خوش بو ہوتا ہے۔ اس کی طرز فکر بھی خوش بو ہے جو خطۂ ارض میں پھیل جاتی ہے اور قلوب
و اذہان کو معطر کرتی ہے۔ خوش بو عین فطرت ہے، اس سے قریب ہو کر فرد فطرت سے ہم
آہنگ ہو جاتا ہے۔
بات سالک کی ہو تو
وہ تمام عمر اُس خوش بو کو ہر سو تلاش اور محسوس کرتا ہے جس کا پودا فقیر اس کے دل
میں بو دیتا ہے اور یہ اللہ سے محبت کی خوش بو ہے۔۔